Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Episode 6

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 6

–**–**–

سیلاب دریا کی حدود میں داخل ہوا تو دریا بپھر گیا۔ اس انجان پانی کو اس کی اجازت کے بغیر ، اچانک اس کے گھر میں داخل ہونے کی جرات کیسے ہوئی؟ شاید یہی غصہ تھا جو دریا نے نکالا اور سینکڑوں دیہات اس کے غضب کا نشانہ بن گئے۔
وجاہت آباد دریا سے ذرا ہٹ کر واقع تھا اس لئے محفوظ رہا تاہم سب سے زیادہ نقصان جس گاؤں میں ہوا وہ عزیز کوٹ تھا۔ گاؤں کا گاؤں پانی میں ڈوب کر رہ گیا۔ درجنوں لوگ سیلاب کے ریلے میں بہہ گئے۔ کچے مکانوں کا وجود یوں مٹ گیا جیسے وہ کبھی موجود ہی نہ تھے۔ سیلاب رات کے پچھلے پہر اچانک ہی عزیز کوٹ والوں پر ٹوٹ پڑا تھا۔ نیند میں گم لوگ جب تک ہوش میں آتے، غرقابی ان کا مقدر بن چکی تھی۔ بچے، عورتیں ، بوڑھی، درجنوں لوگ سیلاب کی نذر ہو گئے۔ لاشوں کی تلاش اور گھرے ہوئے زندہ افراد کو بچانے کا کام اب بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر جاری تھا۔
وجاہت آباد والوں نے دن رات عزیز کوٹ والوں کے لئے وقف کر دئیے۔ لوگوں کو ان کے پانی میں گھرے مکانوں سے نکالنے سے لے کر ان کے لئے رہائش اور خور و نوش کا وافر انتظام کرنے تک وجاہت پور والوں نے حکومتی مشینری کا ایسا بے مثال ساتھ دیا کہ ہر طرف واہ واہ ہو گئی۔
عزیز کوٹ اور وجاہت آباد کا درمیانی فاصلہ تقریباً چھ کلو میٹر تھا مگر وجاہت آباد والوں نے اپنے تعاون اور محبت سے اس فاصلے کو چھ فٹ میں بدل دیا۔ پانی اترنے تک انہوں نے بچے کھچے عزیز کوٹ والوں کو اپنے ہاں سنبھالے رکھا۔ پھر جب حکومت نے امدادی کیمپ تشکیل دے لئے تب ان لوگوں کو وہاں سے جانے دیا۔ عزیز کوٹ کے باشندے دھیرے دھیرے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے تھے۔ مکانوں کو دوبارہ تعمیر کر رہے تھے۔ سیلاب جو کیچڑ اور گارا اپنے پیچھے چھوڑ گیا تھا، اس کی صفائی کا کام بھی ساتھ ساتھ جاری تھا۔ اب بھی وجاہت آباد کے درجنوں لوگ امدادی سرگرمیوں میں فوج اور سول انتظامیہ کا ہاتھ بٹانے کے لئے متاثرہ علاقے میں موجود تھے۔
عزیز کوٹ کو ڈبو کر سیلابی پانی نے جب اپنا راستہ بدلا تو نور پور کے قریب سے یوں گزر گیا جیسے اس علاقے میں اسے سر اٹھا کر چلنے کی بھی اجازت نہ ہو۔ نور پور ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جس کے نفوس کی تعداد بمشکل تین ہزار تھے۔ سیلاب، گاؤں کے باہر باہر سے اپنا راستہ بنا کر خوش خرامی کے ساتھ بہتا ہوا نکل گیا تاہم ابھی تک اس پانی کا زور کم نہ ہوا تھا۔
حافظ عبداللہ چھوٹے موٹے دریا کا منظر پیش کرتے ہوئے سیلابی کٹاؤ کے کنارے ایک اونچے ٹبے پر بیٹھا نجانے کس سوچ میں گم تھا۔ وہ حافظ قرآن تھا۔ دنیا بھر میں اکیلا اور اس وقت زندگی کے پچیسویں سال میں تھا۔ نور کوٹ گاؤں کی ایک بے آباد چھوٹی سی مسجد کو آج سے سات سال پہلے آ کر اس نے آباد کیا تو گاؤں والوں نے اس کی دو وقت کی روٹی اور ضروری اخراجات کو ہنس کر اپنے ذمے لے لیا۔ اس نے اس سے زیادہ کا مطالبہ بھی نہ کیا۔ گاؤں کے بچوں کو نماز فجر کے بعد قرآن پڑھانا اس کے معمولات میں شامل تھا۔ گاؤں کے چوہدری حسن دین کے گھر سے اسے خاص تعلق تھا۔ اس نے چوہدری حسن دین کے تین بیٹوں رفاقت، عنایت، لطافت اور ایک بیٹی نادرہ کو قرآن پاک پڑھایا تھا۔ اس نسبت سے یہ گھرانا اس کی بڑی عزت کرتا اور اسے اپنے گھر ہی کا ایک فرد خیال کرتا تھا۔ اس کا ماہانہ خرچہ بھی چوہدری حسن دین کی حویلی سے آتا جس کے لئے اسے خود کبھی حویلی نہ جانا پڑا تھا۔ ادھر مہینے کی پہلی تاریخ آئی، ادھر اس کا پہلوٹھی کا شاگرد رفاقت اس کا مشاہرہ اور دوسرا ضروری سامان لے کر مسجد میں اس کے حجرے کے دروازے پر آ دستک دیتا۔ گاؤں والے اس کے علاوہ اس کی جو خدمت کرنا چاہتی، وہ اکثر اس سے انکار کر دیتا۔ اکیلی جان تھی، اس کی ضروریات محدود سی تھیں۔ لالچ اور جمع کرنا اس کی فطرت ہی میں نہ تھا، اس لئے بھی گاؤں والے اس کے کردار سے بیحد متاثر تھی۔ تاہم وہ جو لے آتی، اسے واپس لے جانا انہیں اپنی توہین لگتا، اس لئے اصرار کرتے تو حافظ عبداللہ کو ان کا نذرانہ قبول کرنا پڑتا۔ پھر جب اس نے دیکھا کہ اجناس اور روپوں کی آمد اس کی ضرورت سے زیادہ ہے تو اس نے مسجد کے صحن میں بائیں ہاتھ بنے، اپنے حجرے کے دو کمروں کے اوپر چوہدری حسن دین سے کہہ کر ایک بڑا ہال کمرہ ڈلوا لیا۔ اس مہمان خانے کا راستہ مسجد کے باہر ہی سے رکھا گیا تاکہ اسے اور نمازیوں کو دقت نہ ہو۔ یہ کمرہ اجنبی مسافروں اور بے آسرا مہمانوں کی خدمت کے لئے وقف کر دیا گیا۔ یوں اس کی زائد آمدنی کے خرچ کا ایک راستہ نکل آیا۔ اب وہ بھی خوش تھا اور گاؤں والے بھی۔
اس کا ایک عرصے سے معمول تھا کہ روزانہ عصر کے بعد نور پور سے چار فرلانگ دور مشرق میں واقع ایک خانقاہ سے تقریباً ڈیڑھ سو گز دور، ایک اونچے ٹبے پر اُگے پیپل کے درخت کے نیچے آ بیٹھتا اور قرآن حکیم کی دہرائی شروع کر دیتا۔ جب سورج، شفق کی لالی سے دامن چھڑانے لگتا، تب وہ قرآن پاک کو چوم کر سینے سے لگاتا۔ اٹھتا۔ درخت کو تھپکی دیتا، جیسے اس سے رخصت ہو رہا ہو اور مسجد کو چل دیتا جہاں اسے پانچ وقت اذان بھی خود ہی دینا ہوتی تھی۔
یہ خانقاہ کسی بابا شاہ مقیم نامی بزرگ کے مزار اور دو شکستہ سے کمروں پر مشتمل تھی۔ مزار کے وسیع صحن میں ایک طرف چھوٹا سا سٹور نما کمرہ تھا جس میں لوگوں کے نذرانوں کی اشیا، اجناس، دری چادریں اور دوسرا سامان بھرا رہتا تھا۔ یہاں ابھی تک بجلی کا کنکشن نہ پہنچا تھا۔ نور پور والوں نے واپڈا کو درخواست دے رکھی تھی اور امید تھی کہ جلد ہی وہاں بجلی لگ جائے گی۔ مزار سے تھوڑی دور دریا بہتا تھا جس کے پار مظفر آباد کی آبادی کا اختتام ہوتا تھا۔
مزار کی دیکھ بھال ایک ایسا شخص کرتا تھا، جس کے بارے میں کوئی نہ جانتا تھا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ ملگجے کپڑوں میں ملبوس وہ حال مست درویش خانقاہ کی صفائی کرتا۔ اِدھر اُدھر سے خود رَو پھول اکٹھے کر کے بابا شاہ مقیم کے مزار پر لا ڈالتا۔ وہاں موجود چھوٹی سی کھوئی سے پانی نکالتا۔ خانقاہ اور اس سے ملحقہ کمروں کو دھوتا اور اگر بتیاں سلگا کر پھر اپنے کمرے میں گھس جاتا۔ یہ اس کا روزانہ کا معمول تھا۔ اسے گاؤں والوں نے نہ کبھی کسی سے عام طور پر بات چیت کرتے سنا، نہ وہ کسی سے کوئی چیز لیتا۔ اگر کسی نے زیادہ نیاز مندی دکھانے کی کوشش کی تو وہ اسے یوں گھورتا کہ نیازمند کو بھاگتے ہی بنتی۔ اس کے کھانے پینے کا انتظام کیسے ہوتا تھا؟ یہ بات کسی کے علم میں تھی نہ کسی نے ا س کا کھوج لگانے کی کوشش کی۔ اس کا سبب درویش کا رویہ تھا، جس کے باعث مزار پر فاتحہ کے لئے آنے والے افراد بھی اس سے کتراتے تھے۔ اس کا حال پوچھ کر وہ ایسے ایسے جواب بھگت چکے تھے جن کے بعد اب کسی کا حوصلہ نہ پڑتا تھا کہ وہ اس سے راہ و رسم پیدا کرنے کی سوچے۔ ہاں ، حافظ عبداللہ کا معاملہ الگ تھا۔ وہ جب بھی مزار پر فاتحہ کے لئے جاتا، درویش اپنے کمرے سے نکل آتا۔ اس کے جانے تک مزار کے باہر کھڑا رہتا۔ جاتے ہوئے اس سے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملاتا۔ چمکدار نظروں سے اسے دیکھتا۔ ہولے سے مسکراتا اور واپس اپنے کمرے میں چلا جاتا۔ حافظ عبداللہ نے بھی اس سے زیادہ اسے کبھی تنگ نہیں کیا تھا۔ ہاں اگر کبھی وہ اسے نہ ملتا، تو وہ اس کے کمرے میں ضرور جھانک لیتا مگر اسے وہاں موجود نہ پاتا۔ اس سے حافظ عبداللہ نے سمجھ لیا کہ درویش سے ا س کی ملاقات تبھی نہیں ہوتی، جب وہ وہاں نہیں ہوتا۔ وہ کہاں جاتا ہے؟ کب لوٹتا ہے؟ حافظ عبداللہ نے کبھی ان سوالوں کا جواب جاننے کی سعی نہ کی۔
آج اس کا دل کچھ عجیب سا ہو رہا تھا۔ منزل کرنے کو جی مائل نہ تھا۔ اس کے دادا قاری بشیر احمد مرحوم کا کہنا تھا کہ زبردستی قرآن پاک پڑھنا چاہئے نہ اس پر غور کرنا چاہئے، بلکہ جب قرآن خود اجازت دے، تب اسے کھولا جائے۔ اور اس کی طرف سے اجازت کی نشانی یہ تھی کہ بندے کا دل خود قرآن پڑھنے کو چاہے۔ سو آج بڑی مدت کے بعد جب حافظ عبداللہ کا دل دہرائی کو نہ چاہا تو وہ سمجھ گیا کہ آج قرآن پاک کی طرف سے اسے منزل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لئے وہ قرآن حکیم کا نسخہ اپنے ساتھ ہی نہ لایا۔ مقررہ وقت پر ٹبے پر پہنچا اور سیلاب کی دھیرے دھیرے بہتی لہروں پر نظریں جما کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ سوچوں کے گرداب میں ایسا گم ہوا کہ خود سے بے خبر ہو گیا۔ وقت گزرنے کا احساس ناپید ہو گیا۔ پھر جب سورج کی ٹکیہ اپنے آخری مقام کو چھونے لگی تو اسے ہوش آیا۔
ایک طویل سانس لے کر اس نے حدِ نظر تک پھیلی سیلابی چادر پر ایک نگاہ ڈالی اور اٹھ گیا۔ پھر ایک دم چونک پڑا۔
اس کی نظریں پانی میں بہتے آ رہے درخت کے ایک تنے پر جم گئیں جس کے ساتھ کوئی انسانی جسم چمٹا ہوا تھا۔ اس نے غور سے دیکھا۔ وہ کوئی عورت تھی، کیونکہ دور سے بھی اس کے پھولدار کپڑوں کی جھلک نمایاں تھی۔
حافظ عبداللہ نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ خانقاہ کی جانب نظر دوڑائی مگر درویش کو آواز دینے کا اسے حوصلہ نہ ہوا۔ چاہا کہ گاؤں سے کسی کو مدد کے لئے بلائے مگر اتنا وقت نہ تھا۔ جب تک وہ کسی کو مدد کے لئے بلاتا، اندھیرا مزید بڑھ جاتا۔ پھر وہ دریا میں بہتی اس عورت کو بچا پاتا، اس کا اسے یقین نہ تھا۔ اس نے زیادہ تردد میں پڑنے کے بجائے کندھوں سے گرم چادر اور سرسے ٹوپی اتار کر درخت کے نیچے رکھتے ہوئے پاؤں سے چپل بھی نکال دی۔ پھر آستینیں اُڑستے ہوئے ٹھنڈے یخ پانی میں چھلانگ لگا دی۔
اس کا خیال درست تھا۔ درخت کے تنے کے قریب پہنچا تو پتہ چلا کہ اس سے چمٹی ہوئی وہ ایک جواں سال لڑکی ہی تھی جو بیچاری نجانے کہاں سے سیلاب کے ریلے میں بہتی چلی آ رہی تھی۔ اس نے بڑی مضبوطی سے درخت کی چھوٹی چھوٹی شاخوں کو اپنے ہاتھوں سے جکڑ رکھا تھا۔ آنکھیں بند تھیں اور بیہوش تھی۔ سردی اور سرد پانی کے باعث اس کے ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے۔
حافظ عبداللہ نے اس کے جسم سے چپکے ہوئے کپڑوں سے بری طرح جھانکتے اس کے پُر شباب جسم سے نظریں چراتے ہوئے درخت کے تنے کو پیروں کی جانب سے کنارے کی طرف دھکیلنا شروع کیا اور بڑی مشقت سے تقریباً پندرہ منٹ بعد ٹبے کے قریب لانے میں کامیاب ہو گیا۔
کنارے کی کچی زمین پر ایک چوتھائی درخت کو کھینچ لینے کے بعد اس نے آنکھیں بند کر کے جگہ جگہ سے پھٹ جانے والے کپڑوں سے جھانکتے لڑکی کے نیم برہنہ اکڑے ہوئے جسم کو اس پر سے اتارا۔ اس کی مدھم سی چلتی ہوئی سانس کو محسوس کیا۔ ٹبے سے اپنی چادر اٹھائی۔ اس میں لڑکی کو لپیٹا۔ ٹوپی سر پر رکھی۔ پاؤں میں چپل ڈالی۔ درخت کو حسبِ معمول تھپکی دی اور ٹبے سے اتر آیا۔ پھر لاحول پڑھ کر شیطانی خیالات کو دور بھگاتے ہوئے آنکھیں بند کر کے لڑکی کا چادر میں لپٹا جسم کندھے پر ڈالا۔ اس کے اپنے گیلے کپڑے جسم سے چپکے ہونے کی وجہ سے سردی ہڈیوں میں گھسی جا رہی تھی۔
اسی وقت خانقاہ سے “ا للہ اکبر” کی صدا بلند ہوئی۔ وہ ایک پل کو حیران ہوا۔ درویش خانقاہ کے باہر ایک اونچی جگہ کھڑا اذان دے رہا تھا۔ وہ لڑکی کا جسم کندھے پر لئے حتی الامکان تیز قدموں سے خانقاہ کی جانب چل دیا۔
٭
جب تک وہ خانقاہ کے قریب پہنچا، درویش اذان دے کر اندر جا چکا تھا۔ اس نے ایک لمحے کو خانقاہ سے باہر کھڑے رہ کر کچھ سوچا، پھر اللہ کا نام لے کر اندر داخل ہو گیا۔
پہلے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ وہ ایک پل کو اس کے باہر رکا۔ اندر سے کسی کے ہلکی آواز میں قرات کرنے کی آواز ا رہی تھی۔ شاید درویش نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے دوسرے کمرے کا رخ کیا جس کا دروازہ کھلا تھا۔ باہر ہلکا ہلکا اندھیرا پھیل چکا تھا۔ کمرے کی واحد کھڑکی سے آتی ہوئی ملگجی سی روشنی کمرے کا اندھیرا دور کرنے کی اپنی سی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کمرے کے ماحول کو محسوس کیا۔ چند لمحے بُت بنا کھڑا رہا۔ پھر جب اس کی آنکھیں نیم اندھیرے میں دیکھنے لگیں تو وہ قدم قدم آگے بڑھا۔ کمرے کی بائیں دیوار کے ساتھ بچھی بان کی چارپائی پر لڑکی کو ڈالا اور دو قدم پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کا سانس اعتدال پر آتے آتے دو تین منٹ گزر گئے۔ لڑکی پر ایک طائرانہ نظر ڈال کروہ آہستہ سے پلٹا۔ اس کا ارادہ تھا کہ درویش سے جا کر ملے اور اسے ساری بات بتا کر اس صورتحال میں اس سے مدد مانگے۔
ابھی وہ دو ہی قدم چلا تھا کہ رک گیا۔ کمرے میں اچانک ہی روشنی کی ایک لہر در آئی تھی۔ اس نے ٹھٹک کر دیکھا۔ درویش کمرے کے دروازے میں جلتا ہوا چراغ ہاتھ پر رکھے کھڑا اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
” بابا۔ آپ۔۔۔ ” حافظ عبداللہ نے اسے دیکھ کر کہنا چاہا۔
“شش۔۔۔ ” درویش نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے بولنے سے روک دیا اور آگے بڑھ آیا۔ ” خاموش۔ ” وہ دبی آواز سے بولا۔ ” کمرہ امتحان میں بولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ”
“کمرہ امتحان؟” حافظ عبداللہ نے حیرت سے کہا۔
“ہاں۔ ” درویش نے چراغ اسے تھما دیا۔ ” یہ لے۔ اسے طاق میں رکھ دے۔ ”
“بابا۔ ” حافظ عبداللہ نے چراغ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ وہ اب بھی حیرت زدہ تھا۔ “کیسا امتحان؟ ”
“یہ۔۔۔ ” درویش نے چارپائی بے سدھ پر پڑی لڑکی کی جانب اشارہ کیا۔ ” یہ امتحان ہی تو ہے جس میں تو نے خود کو ڈال لیا ہے۔ ”
“یہ۔۔۔ یہ تو۔۔۔ سیلاب کے پانی میں بہتی چلی آ رہی تھی۔۔۔ میں تو اسے بچا کر یہاں اٹھا لایا ہوں۔ ” حافظ عبداللہ نے اسے بتایا۔
“اچھا کیا۔ بہت اچھا کیا۔ ” درویش نے ایک کونے میں پڑا کمبل اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا کہ لڑکی کو اوڑھا دے۔ ” نیکی کی ہے ناں۔ اب بھگت۔ نیکی کرنا اتنا آسان ہوتا تو ساری دنیا کرتی پھر تی۔ نیکی کرنا اس کی مشیت کے تابع ہونا ہے حافظ۔ تابعدار ہونا چاہا ہے ناں تو نے؟ ایک بار سوچ لے۔ اچھی طرح۔ ابھی وقت ہے کہ تو آزمائش میں پڑے بغیر نکڑ کی گلی سے نکل جائے۔ کچھ دیر اور گزر گئی تو یہ راستہ بند ہو جائے گا۔ پھر تو چاہے نہ چاہے، تجھے امتحان دینا پڑے گا۔ نتیجہ کیا نکلے گا؟ نہ تو جانتا ہے نہ میں۔ بس وہ جانتا ہے۔” درویش نے چھت کی جانب انگلی اٹھا دی۔ ” وہ۔۔۔ جو سب جانتا ہے اور کچھ نہیں بتاتا۔ جسے بتاتا ہے اسے گونگا بہرہ کر دیتا ہے۔ اندھا بنا دیتا ہے۔ ابھی وقت ہے۔ سوچ لے۔ سوچ لے۔ ” درویش نے اپنی بے پناہ چمک دیتی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا۔
“بابا۔ ” حافظ نے چراغ طاق میں پڑے قرآن پاک کے چند بوسیدہ نسخوں کے پاس رکھا اور کمبل میں لڑکی کا بدن خوب اچھی طرح لپیٹ کر درویش کی جانب پلٹا۔ “میں کچھ نہیں سمجھا۔ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ ”
“کھل کر سمجھاؤں تجھے؟” اچانک درویش کا لہجہ جھڑکی دینے کا سا ہو گیا۔ ” تو سُن۔ جا۔ اس کو وہیں سیلاب کے پانی میں پھینک آ۔ نیکی ہے ناں۔ اسے اسی دریا میں ڈال آ، جہاں سے نکال کر لایا ہے۔ نیک نہ بن۔ خطا کار بنا رہ۔ جان بچی رہے گی۔ نیک بنے گا تو امتحان میں ڈال دے گا تجھے۔۔۔ ” اس نے سسکی لی۔ “بڑا ڈاہڈا ہے وہ۔ رعایتی نمبر آسانی سے نہیں دیتا۔۔۔ ” پھر جیسے وہ جھلا گیا۔ “مگر میں تجھے یہ سب کیوں سمجھا رہا ہوں ؟ کیوں تیرا اور اپنا وقت خراب کر رہا ہوں ؟ جو تیرے جی میں آئے کر میاں۔ ” اس نے حافظ کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے۔ ” کل کو تو اس کے سامنے میرے خلاف گواہی دے دے گا کہ میں نے تجھے نیکی کرنے سے روکا تھا۔ نہ بابا نہ۔ تو اپنی مرضی کر۔ تو جانے اور وہ۔ مجھے معاف رکھ۔ ” وہ بڑبڑاتا ہوا جانے کے لئے پلٹا۔
“بابا۔ ” حافظ عبداللہ لپک کر اس کے راستے میں آ گیا۔ ” مجھے کس الجھن میں ڈال کر جا رہے ہیں آپ؟ میں۔۔۔ میں۔۔۔ اس کا کیا کروں ؟” اس نے بازو دراز کر کے لڑکی کی جانب اشارہ کیا جو ہولے سے کسمسائی تھی۔
درویش ایک بار ساری جان سے لرز گیا۔ پھر اس نے بڑی اجنبی نظروں سے حافظ عبداللہ کی جانب دیکھا۔ حافظ ان نظروں سے گھبرا کر رہ گیا۔ عجیب سی سردمہری تھی ان میں۔
“میں نے کہا تھا کہ وقت گزر گیا تو امتحان شروع ہو جائے گا تیرا۔ ” درویش نے بڑے گمبھیر لہجے میں کہا۔ ” گھنٹی بج چکی۔ پرچہ حل کرنے کا وقت شروع ہو گیا۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ تو نے باتوں میں وہ سارا وقت گزار دیا جو تجھے بھاگ جانے کے لئے دیا گیا تھا۔ نکڑ کی گلی بند ہو گئی۔ اب تو جس دروازے سے کمرہ امتحان میں داخل ہوا تھا اسی سے باہر جائے گا مگر اس وقت جب پرچہ حل کر لے گا۔ خالی کاغذ دے کر جانا چاہے گا تو میں نہیں جانے دوں گا۔ ” درویش نے کسمسا کر کراہتی لڑکی کی جانب اشارہ کیا۔ “یہ پرچہ تجھے ہی حل کرنا ہے۔ میں دعا کروں گا کہ تجھے اس میں زیادہ سے زیادہ رعایت دی جائے۔ اب وہ مانے یا نہ مانے، یہ اس کی مرضی۔ ” وہ چل دیا۔
“بابا۔ ” حافظ اس کے پیچھے لپکا۔ ” مجھے مسجدجانا ہے۔ وہاں کسی کو پتہ نہیں کہ میں کہاں ہوں اور کس کام میں الجھ گیا ہوں۔۔۔ ا س کے وارثوں کا بھی کوئی پتہ نہیں۔ یہ کون ہے؟ کہاں سے بہتی آئی ہے؟ اسے یوں کیسے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں ہم؟”
“ہم نہیں۔ ” درویش نے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوک دیا۔ “تم۔۔۔ صرف تم۔ میرا اس سے کیا تعلق؟ ” وہ بد لحاظی سے بولا۔
“مگر بابا۔ رات بھر میں اس کے ساتھ کیسے۔۔۔ یہاں۔۔۔ اکیلا۔ ” حافظ ہکلا کر رہ گیا۔
“یہی تو میں تجھے سمجھا رہا تھا اس وقت۔ ” درویش ملامت کے سے انداز میں بولا۔ ” اسی لئے تو میں نے کہا تھا کہ اسے جہاں سے لایا ہے وہیں ڈال آ۔ خواہ مخواہ مصیبت میں نہ پڑ۔۔۔ مگر ۔۔۔ ”
“تمہارا مطلب ہے بابا۔ میں اسے واپس سیلاب کے پانی میں پھینک آتا؟” حافظ عبداللہ نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا۔
“ہاں۔ ” درویش سر جھٹک کر بولا۔ ” یہی مطلب تھا میرا۔ مگر تو نے کج بحثی میں سارا وقت گنوا دیا۔ اب بھگت۔ ”
” بابا۔ تم جانتے ہو اس سے کیا ہوتا؟” حافظ عبداللہ اب بھی حیران تھا۔
“کیا ہوتا؟” درویش نے لاپرواہی سے پوچھا۔
“یہ مر جاتی۔ ”
“بچانے والے کی کیا مرضی ہے، یہ تو کیسے جانتا ہے؟ اگر اسے بچانا ہوتا تو وہ اسے تیرے واپس پانی میں پھینکنے پر بھی بچا لیتا۔ ”
“بالکل ٹھیک۔ ” حافظ کا لہجہ اچانک بدل گیا۔ “مگر بابا۔ پھر میں اسے کیا منہ دکھاتا۔ اپنے اس ظلم کا کیا جواز پیش کرتا اس کے سامنے، جو میں اس مظلوم کی جان پر کرتا۔ ”
“تو نہ پیش کر جواز۔ اب بھگت۔ اس اندھیری رات میں ، اس کے ساتھ اکیلا رہ اور اس کی دیکھ بھال کر۔ اس کی خدمت کر۔ اسے زندہ رکھنے کی کوشش کر۔ آزمائش کے کمرے میں بیٹھ کر پرچہ حل کر۔ اگر صبح تک تو اپنے آپ سے بچ گیا تو میں تجھ سے آن ملوں گا ورنہ۔۔۔ ” اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
” آپ کہاں جا رہے ہیں بابا؟” حافظ نے گھبرا کر پوچھا۔
“پتہ نہیں۔ مگر یہاں بہرحال نہیں رہوں گا۔ ” درویش اس کی جانب دیکھ کر عجیب سے انداز میں بولا۔ ” یہاں رہا تو تجھے میرا آسرا رہے گا۔ حوصلہ رہے گا کہ تو اکیلا نہیں ہے۔ میں تیرے آس پاس ہوں۔ تجھے میرے یہاں ہونے کی شرم مارے گی۔ تو جو کرنا چاہے گا، اس میں میرے یہاں ہونے کا خیال رکاوٹ بن جائے گا۔ پھر تو موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ اور میں تیرے کسی بھی فعل میں اگر مدد نہیں کرنا چاہتا تو تیرے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں حائل ہونے کا بھی مجھے کیا حق ہے؟”
“بابا۔ ” حافظ نے کہا اور چراغ کی مدھم سی روشنی میں گردن گھما کر لڑکی کی جانب دیکھا جو ایک بار پھر بالکل بے سدھ ہو گئی تھی۔ شاید کمبل کی گرمی نے اسے سکون پہنچایا تھا۔ پھر وہ درویش کی جانب متوجہ ہوا۔ “اب جو ہو سو ہو۔ اب مجھے مجبوراً یہاں رکنا پڑے گا۔ ”
“تو رک۔ میں کب نکال رہا ہوں تجھی۔ ہاں ایک پل ٹھہر۔ ” درویش کمرے سے نکل گیا۔ ذرا دیر بعد وہ لوٹا تو اس کے ایک ہاتھ میں چنگیر اور دوسرے ہاتھ میں ایک کھیس اور تکیہ دبا ہوا تھا۔ ” یہ لے۔ اس میں تیرے اور اس کے لئے کھانا ہے اور یہ تیرا رات گزارنے کا سامان ہے۔ اکڑ کر مر گیا تو میں اسے کیا جواب دوں گا؟”
حافظ عبداللہ نے اس کے ہاتھ سے دونوں چیزیں لے لیں۔
“جا رہا ہوں۔ اب تیرے اور اس کے سوا یہاں اور کوئی نہیں ہے۔ “’
“ہے بابا۔ ” حافظ عبداللہ مسکرایا اور کھیس اور تکیہ دیوار کے ساتھ فرش پر ڈال دیا۔
“جس کی تو بات کر رہا ہے، میں اس کی بات نہیں کر رہا۔ وہ تو ہر کہیں ہے۔ بس ہمیں اس کا یقین نہیں آتا۔ ” درویش پلٹ گیا۔ “صبح ملاقات ہو گی۔ ”
“انشاءاللہ۔ ” حافظ کے لہجے میں نجانے کیا تھا کہ درویش نے مڑ کر اس کی جانب دیکھا۔
“انشاءاللہ۔ ” ہولے سے اس نے کہا اور دروازے سے نکل گیا۔
خالی دروازے کو چند لمحوں تک دیکھتے رہنے کے بعد حافظ عبداللہ آہستہ سے لڑکی کی جانب پلٹا۔ چراغ کی زرد اور تھرتھراتی روشنی میں اس نے دیکھا کہ وہ چارپائی پر بالکل چت پڑی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ اس کے ہونٹوں کی سرخی لوٹ رہی تھی۔ گیلے بالوں کی لٹیں چہرے پر بکھری ہوئی تھیں اور کمبل میں مستور سینے کا زیر و بم طوفان اٹھا رہا تھا۔
حافظ عبداللہ نے گھبرا کر اس کی طرف سے نگاہیں پھیر لیں۔ شیطانی خیالات سے نجات پانے کے لئے تین بار لاحول پڑھ کر سینے پر پھونک ماری اور آگے بڑھ کر چنگیر اس الماری نما کھڈے میں رکھ دی جو طاق کے ساتھ بنا ہوا تھا۔
کھیس اور تکیہ اٹھاتے ہوئے اچانک ہی اسے سردی کا احساس ہوا۔ اس نے کچھ سوچا۔ پھر دونوں چیزیں اینٹوں کے فرش پر ڈال کر کمرے سے نکل آیا۔ دونوں کمرے خالی تھی۔ درویش واقعی کہیں جا چکا تھا۔ مزار سے باہر ایک طرف لگے ہینڈ پمپ کی طرف جاتے ہوئے اس نے آسمان پر نگاہ دوڑائی۔ تارے نکل رہے تھے۔ دل ہی دل میں اس نے چاند کی تاریخ کا حساب لگایا۔ گزشتہ دن میں ربیع الاول کی گیارہ تاریخ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بارہ ربیع الاول کی شب شروع ہو چکی تھی۔ آسمان صاف تھا اور چاند ابھرنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔
انہی خیالات میں ڈوبا وہ ہینڈ پمپ پر پہنچا۔ گیلا کُرتا اور بنیان اتار کر اچھی طرح نچوڑ کر دوبارہ پہننے کے بعد اس نے ایک نظر مزار کے اندرونی دروازے پر ڈالی۔ پھر وہاں سے ہٹ گیا۔ مزار کے پیچھے جا کر اس نے جلدی سے شلوار اتاری۔ خوب اچھی طرح نچوڑ کر پانی نکالا اور جھاڑ کر پہن لی۔ ہولے ہولے چلتا ہوا ہینڈ پمپ پر آیا۔ ہتھی کو چھوا تو جسم میں کپکپی سی دوڑ گئی۔ تاہم اس نے حوصلے سے کام لیا اور ہتھی پر زور ڈال دیا۔ تھوڑی دیر تک پانی نکلنے دیا۔ پھر دوسرا ہاتھ نکلتے ہوئے پانی کے نیچے کیا تو پانی کم ٹھنڈا محسوس ہوا۔ تھوڑا پانی اور نکالنے کے بعد اس نے “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” کہہ کر وضو شروع کر دیا۔ فارغ ہوا تو اس کے دانت بج رہے تھے۔ گیلی ٹوپی کو سر پر جماتے ہوئے وہ کانپتا ہوا اندر کو چلا۔ کمرے میں داخل ہوا تو لڑکی بدستور اسی حالت میں چت پڑی سو رہی تھی، جیسے وہ چھوڑ گیا تھا۔ اس نے اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور جوتی دروازے میں اتار کر کونے میں کھڑی کھجور کی چٹائی کی طرف بڑھا۔ اسے کھولا۔ جھاڑا اور چارپائی کے مقابل دیوار کے ساتھ فرش پر بچھا دیا۔ پھر کھیس اٹھایا اور کس کر اس کی بکل مار لی۔ اسی وقت کھلے دروازے سے ہوا کا ہلکا سا جھونکا اندر داخل ہوا۔ ٹھنڈک کو کمرے کے ماحول کے سپرد کیا اور ناپید ہو گیا۔ پلٹ کر حافظ عبداللہ نے دروازہ بھیڑ دیا۔ فوراً ہی اسے کمرے کی یخ بستگی میں کمی کا احساس ہوا۔ یہ شاید اس کے محسوس کرنے کا اعجاز تھا، ورنہ اتنی جلدی سردی کا کم ہو جانا ممکن نہ تھا۔
وہ پاؤں جھاڑ کر صف پر کھڑا ہوا۔ ایک بار نظر گھما کر سارے کمرے کا جائزہ لیا۔ پھر قبلہ رخ ہو کر اس نے نماز کی نیت کی اور ہاتھ بلند کر دئیے۔
“اللہ اکبر۔ ” حافظ عبداللہ کے ہونٹوں سے سرگوشی بر آمد ہوئی اور سارا ماحول عجیب سے سکون میں ڈوبتا چلا گیا۔ اس نے ہاتھ ناف پر باندھے اور آنکھیں سجدے کی جگہ پر جما کر اتنی آہستہ آواز میں قرات شروع کر دی جسے وہ خود سن سکتا تھا یا پھر اس کا معبود، جو پہاڑ کی چوٹی پر چیونٹی کے رینگنے کی آواز سننے پر بھی قادر تھا۔ چراغ کی لو نے تھرتھرانا بند کر دیا۔ شاید وہ بھی حافظ عبداللہ کی قرات سننے میں محو ہو گئی تھی۔
*
رات کا کھانا عشاء کے فوراً بعد کھا لیا گیا۔ پھر دوبارہ سے صفیہ کو تو عورتوں نے گھیر لیا اور طاہر، ملک کے ساتھ چوپال میں چلا گیا۔
چوپال گاؤں کے مغربی کنارے پر قبرستان کے ساتھ ایک ایسی بے درو دیوار کی چھت کے نیچے نشست کی جگہ تھی، جو آٹھ مدور ستونوں پر قائم تھی اور اس کے نیچے تقریباً پانچ سو آدمیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ اس کے مشرقی گوشے میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کے باہر چولہا بنا ہوا تھا۔ اس پر وہاں خدمت گار بابا شمسو روزانہ شام ہوتے ہی چائے کا بڑا سا پتیلا چڑھا دیتا جو گاؤں والوں اور اجنبی مہمانوں کی سیوا کے لئے لذتِ کام و دہن کا سبب بنتا۔ بید کے موڑھے اور بڑی بڑی چارپائیاں چوپال میں پڑی رہتیں ، جن پر رات کو گاؤں والوں کی بلا ناغہ محفل جمتی۔
سفید شلوار قمیض اور سیاہ گرم واسکٹ میں ملبوس، پاؤں میں زرتار کھسہ پہنے طاہر، بلال ملک کی معیت میں وہاں پہنچا تو گاؤں کے پچیس تیس بڑے بوڑھے اور جوان آدمی بیٹھے حقے گڑگڑا تے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔
طاہر کی آمد پر سب لوگ ایک بار کھڑے ہوئی، پھر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ وہ ان کے نیم دائرے میں ایک موڑھے پر بیٹھ گیا اور فرداً فرداً سب کا حال چال پوچھنے لگا۔ ہوتے ہوتے باتوں کا موضوع گاؤں کے سکول ماسٹر شیخ محسن کی بیٹی پر آ کر رک ساگیا۔
“ماسٹر کی بیٹی زبیدہ نے اپنے لئے آیا ہوا اپنی برادری کے ایک چالیس سالہ شخص نثار شیخ کا رشتہ صاف ٹھکرا دیا جی۔ ” ملک کہہ رہا تھا۔
“زبیدہ کی اپنی عمر کتنی ہے؟” طاہر نے دلچسپی سے پوچھا۔
“بیس اکیس سال ہو گی جی۔ ”
“پھر تو اس نے ٹھیک کیا۔ ” طاہر نے تائید کی۔ ” دگنی عمر کے بندے سے وہ کیوں شادی کرے؟”
“وہ تو ٹھیک ہے جی مگر ۔۔۔ ” ملک نے دوسرے لوگوں کی طرف دیکھا۔ کسی نے بھی اس کی نظر کا ساتھ نہ دیا اور یوں ظاہر کیا جیسے وہ سب اس بات سے ناواقف ہوں۔
“مگر کیا ملک۔ بات پوری کیا کرو۔ ادھار کی رقم کی آدھی واپسی کی طرح درمیان میں وقفہ نہ ڈالا کرو۔ ”
“ایسی بات نہیں ہے چھوٹے مالک۔ ” ملک کھسیانا سا ہو گیا۔ ” میں یہ کہہ رہا تھا کہ بات اس آدمی کی زیادہ عمر ہی کی نہیں تھی۔ بات کچھ اور بھی تھی۔ ”
“وہ کیا؟”
“زبیدہ کسی اور کو پسند کرتی تھی جی۔ ” ملک نے کہا اور اس کے سر سے جیسے بہت بڑا بوجھ اتر گیا۔
” تو۔۔۔۔ ؟” طاہر نے اس کے چہرے پر جما دیں۔
“ماسٹر محسن نے اس بات کا علم ہونے پر زبیدہ کی وہ دھنائی کی کہ اللہ دے اور ؂ے۔ ”
“کیا مطلب ؟” طاہر بری طرح چونکا۔
“ظاہر ہے جی۔ جوان بیٹی جب منہ سے بر مانگ لے تو غیرت مند باپ تو اسے جان سے ہی مار دے گا۔ ” ملک نے گردن اکڑا کر کہا۔ ” وہ تو شکر ہے کہ زبیدہ کی ماں نے اسے بچا لیا ورنہ ماسٹر محسن تو شاید اس کی گردن اتار دیتا۔ ”
“اس کے بعد کیا ہوا؟” طاہر نے اضطراب سے پوچھا۔
” ہونا کیا تھا چھوٹے مالک۔ ” ملک بلال نے لاپروائی سے کہا۔ ” یہ پندرہ دن پہلے کی بات ہے۔ زبیدہ کا رشتہ ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ ماسٹر نے اسے مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ اب وہ چارپائی پر پڑی ہے۔ ”
“اور جس سے وہ خود شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔ ”
“وہ۔۔۔ وہ بے غیرت کا بچہ گھر میں منہ چھپائے بیٹھا ہے۔ ”
“کون ہے وہ؟” طاہر کا اضطراب اب بھی باقی تھا۔
“لالو تیلی کا بیٹا عادل۔ ”
“عادل۔ ” طاہر پھر چونکا۔ “وہی عادل، جس نے پچھلے سال وظیفے کے امتحان میں ٹاپ کیا تھا اور جو آج کل محکمہ زراعت میں نوکری کر رہا ہے۔ ”
“وہی جی۔ وہی بے غیرت عادل۔ ” ملک نے نفرت سے کہا۔
“اس نے اس معاملے میں کچھ نہیں کیا؟” طاہر نے سر جھکائے، پاؤں سے زمین کریدتے اور غیر محسوس آواز میں حقے گڑگڑاتے ان مٹی کے مادھوؤوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جن کی غیرت اور بے غیرتی کا اپنا ہی معیار تھا۔
“کیا تھا جی۔ اس نے اپنے ماں باپ کو ماسٹر کے ہاں زبیدہ کے رشتے کے لئے بھیجا تھا۔ جواب میں ماسٹر نے انہیں بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا اور ایک بار پھر بیٹی کی خوب دھلائی کی۔ ”
“لاحول ولا قوة۔ ” بے اختیار طاہر کے لبوں سے نکلا۔ پھر اس نے بڑی کڑی نظروں سے ملک کو دیکھا۔ “میرا خیال تھا کہ تعلیم اور بدلتے ماحول نے وجاہت آباد کے لوگوں کو فراخ دل اور وسیع النظر بنا دیا ہے مگر لگتا ہے اس کے لئے ابھی وقت لگے گا۔ ”
“کیا مطلب چھوٹے مالک۔ ” بلال ملک نے گھبرا کر اس کی جانب دیکھا۔ باقی سب لوگوں نے بھی چونک کر سر اٹھائے اور طاہر کی طرف متوجہ ہو گئے۔
“اس کا جواب میں تھوڑی دیر بعد دوں گا۔ تم فوری طور پر ماسٹر محسن، لالو اور عادل کو یہاں بلاؤ۔ ”
” آپ کیا کرنا چاہتے ہیں چھوٹے مالک؟” ملک باقاعدہ گھبرا گیا۔
“جو کروں گا تم سب دیکھ ہی لو گے۔ فی الحال جو کہا ہے اس پر عمل کرو۔ ان تینوں کو بلاؤ یہاں۔ ابھی۔ ” طاہر کا لہجہ سخت ہو گیا۔
“جی چھوٹے مالک۔ ” ملک نے بیچارگی سے یوں کہا جیسے خود کو ماں بہن کی گالی دے رہا ہو کہ اس نے طاہر کے سامنے یہ بات کی ہی کیوں ؟ پھر اس نے بائیں ہاتھ چارپائی پر بیٹھے ایک ادھیڑ عمر آدمی کو ہاتھ کے اشارے سے اٹھ جانے کو کہا۔
“اوئے شکورے۔ جا۔ لالو، ماسٹر محسن اور عادل کو بلا کر لا۔ کہنا چھوٹے مالک نے بلایا ہے۔ ”
“جی ملک صاحب۔ ” شکورا اٹھا اور چل پڑا۔
“اور سن۔ ” ملک نے اسے روکا۔ ” تینوں کو اکٹھا نہ کر لینا۔ کہیں یہاں پہنچنے سے پہلے خون خرابہ کر بیٹھیں۔ لالو کا گھر پہلے ہے۔ اسے جاتے ہوئے پیغام دے جا۔ پھر ماسٹر کے گھر جانا۔ اور دونوں میں سے کسی کو نہ بتانا کہ دونوں کو یہاں اکٹھے بلایا گیا ہے۔ ”
“جی ملک صاحب۔ ” شکورا سر ہلا کر چل دیا۔
“تم اچھے بھلے عقلمند آدمی ہو ملک۔ ” طاہر نے اس کی بات سے متاثر ہو کر کہا۔ “مگر میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ روایتی معاملوں میں تمہاری عقل کس جنگل میں گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔ ”
“یہ غیرت کے معاملے میں کسی کے قابو نہیں آتے چھوٹے مالک۔ ” ملک خجل ہو گیا۔ “میں نے ان دونوں خاندانوں کو بہت سمجھایا مگر سب بے سود۔ ”
” آئندہ یاد رکھنا۔ ایسا کوئی بھی معاملہ ہو، اگر تمہارے قابو میں نہ آئے تو مجھے فوراً خبر کرنا۔ میں گاؤں میں کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتا۔ ”
“جی چھوٹے مالک۔ ” ملک نے سر جھکا لیا۔
اسی وقت موبائل گنگنا اٹھا۔ طاہر نے سائڈ کی جیب سے سیٹ نکالا۔ سکرین پر صفیہ کا نام دیکھ کراس نے یس کا بٹن دبا دیا۔
“ہیلو۔ ” اس نے موبائل کان سے لگا لیا۔ “کیا بات ہے؟”
” آپ کب تک لوٹیں گے؟” صفیہ نے پوچھا۔
“خیریت؟”
“جی ہاں۔ بالکل خیریت ہے۔ ایک ضروری معاملہ آپ کے گوش گزار کرنا تھا۔ ”
“کوئی ایمرجنسی ہے کیا؟” طاہر نے چونک کر پوچھا۔
“ایسی ایمرجنسی بھی نہیں مگر میں چاہتی تھی کہ یہ بات آپ کے علم میں جتنی جلدی آ جائے، اس کا کوئی حل نکل آئے گا۔ ”
“میں بھی یہاں ایک خاص معاملے میں الجھا ہوا ہوں۔ اس وقت آٹھ بجے ہیں۔ نو بجے تک لوٹوں گا۔ کیا اتنی دیر۔۔۔ ”
“یہ کوئی دیر نہیں۔ ” صفیہ نے جلدی سے کہا۔ ” میں نے بتایا ناں کہ بہت زیادہ ایمرجنسی کی بات نہیں ہے۔ آپ نو بجے تک آ جائیے گا۔ پھر بات کریں گے۔ ”
“اگر معاملہ زیادہ سیریس ہے تو۔۔۔ ”
“جی نہیں۔ موبائل پر کرنے کی بات نہیں ہے۔ آپ گھر آ جائے۔ تسلی سے بات کریں گے۔ ”
“او کے۔ میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا۔ اللہ حافظ۔ ”
“اللہ حافظ۔ ” صفیہ نے رابطہ کاٹ دیا۔
“خیریت ہے چھوٹے مالک۔ ” ملک، ہونے والی گفتگو سے کچھ اندازہ نہ لگا پایا تو پوچھا۔
“ہاں۔ حویلی جاؤں گا تو پتہ چلے گا۔ ویسے خیریت ہی ہو گی۔ ورنہ تمہاری مالکن مجھے فوراً آنے کو کہتی۔ ”
ملک جواب میں محض سر ہلا کر رہ گیا۔ چوپال میں خاموشی چھا گئی۔ کبھی کبھی حقے کی گُڑ گُڑ اس میں ارتعاش پیدا کر دیتی اور بس۔
٭

نماز سے فارغ ہو کر حافظ عبداللہ کچھ دیر چٹائی پر سر جھکائے بیٹھا رہا۔ وہ اب تک کی صورتحال پر غور کر رہا تھا۔ درویش کی باتیں اس کے دل و دماغ میں بھونچال سا پیدا کر رہی تھیں۔ اس کی کئی باتوں کا مفہوم اسے اب سمجھ آ رہا تھا۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ پھر وہ اس وقت چونکا جب لڑکی کے ادھ کھلے ہونٹوں سے ایک ہلکی سی کراہ خارج ہوئی۔ وہ آہستہ سے اٹھا اور چارپائی کے پاس چلا آیا۔ لڑکی غنودگی ہی کے عالم میں کراہی تھی۔ ابھی تک اس کے ہوش میں آنے کے آثار واضح نہیں تھے۔ اس نے تو اب تک کروٹ بھی نہ لی تھی۔ چت پڑی تھی۔
حافظ عبداللہ نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں۔ وہ اچھی خاصی قبول صورت تھی۔ عمر بیس بائیس سے زیادہ نہ ہو گی۔ شادی شدہ بھی نہ لگتی تھی۔ کانوں میں سونے کی بالیاں تھیں۔ ناک میں لونگ نے اس کی کشش کو بڑھا دیا تھا۔ اس کے ہونٹوں کی نیلاہٹ اب تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ کمبل میں مستور اس کے بدن کا گداز حافظ عبداللہ کو یاد آیا تو وہ تھرا کر رہ گیا۔ “استغفر اللہ” کہہ کر اس نے لڑکی کی چہرے سے نظریں ہٹانا چاہیں ، مگر چونک کر رک گیا۔ نجانے کیوں اسے لگا کہ لڑکی بڑا کھینچ کر سانس لے رہی ہے اور اس کے چہرے پر نمایاں ہوتی ہوئی تمتماہٹ کمرے کے ماحول یا کمبل کی گرمی کی وجہ سے نہیں ہے۔ اپنا شک دور کرنے کے لئے اس نے اپنا ہاتھ لڑکی کے صبیح ماتھے پر رکھا اور گھبرا کر واپس کھینچ لیا۔ ماتھا تو آگ کی طرح تپ رہا تھا۔ اپنے اندیشے کی تصدیق کیلئے اس نے ذرا سا کمبل سرکایا اور لڑکی کا پہلو میں پڑا ہاتھ چھو کر دیکھا۔ ہاتھ بھی انگارہ بنا ہوا تھا۔
“کہیں اس پر نمونیہ کا حملہ تو نہیں ہو گیا؟” اس کے ذہن میں ایک خیال سرسرایا۔
یہ ناممکن بھی نہیں تھا۔ وہ نجانے کب سے سیلاب کے یخ پانی میں بہ رہی تھی۔ پانی سرد، اوپر سے سردی کا موسم۔ اس کا اکڑا ہوا بدن تو اب نرمی پکڑ رہا تھا مگر سردی یقیناً اس پر اپنا اثر دکھا چکی تھی۔
لڑکی کا ہاتھ کمبل کے اندر کر کے وہ سیدھا ہو گیا۔ اس وقت، اس جگہ وہ اس کی کوئی بھی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ دوا کے نام پر وہاں پھانکنے کو دھول تک نہ تھی۔ اور اس صورتحال میں وہ اس کے لئے کیا احتیاطی اور طبی تدبیر کرتا، اس سے وہ نابلد تھا۔
کچھ سوچ کر وہ باہر نکلا، دروازہ بھیڑ دیا اور ساتھ والے کمرے میں چلا آیا۔ یہ وہ کمرہ تھا جس کے اندر سے اسے درویش کے نماز میں قرات کرنے کی آواز سنائی دی تھی۔ کمرے کے قبلہ رخ طاق میں چراغ جل رہا تھا۔ مغربی دیوار کے پاس آگے پیچھے دو چٹائیاں بچھی تھیں۔ آگے والی چٹائی پر عین درمیان میں رحل پر سبز جزدان میں ملفوف قرآنِ حکیم دھرا تھا۔ اس کے علاوہ کمرے میں اور کوئی سامان نہ تھا۔
وہ چاروں طرف نظر دوڑا کر باہر نکل آیا۔ اب اس کا رخ مزار کی جانب تھا۔ مزار کے باہر چپل اتار کر اس نے سبز دروازہ وا کیا اور اندر داخل ہو گیا۔ صحن کے پار سامنے سبزمنقش چادروں اور پھولوں سے ڈھکی بابا شاہ مقیم کی قبر پر چند اگر بتیاں سلگ رہی تھیں ، جن کی بھینی بھینی خوشبو سے وہاں کا ماحول اس اکیلی رات میں عجیب پُراسرار سا ہو گیا تھا۔ صحن کے بائیں ہاتھ بنے کمرے کو دیکھتا ہوا وہ بابا شاہ مقیم کے گنبد میں داخل ہو گیا۔
گنبد کے اندر شمالی جانب ایک لکڑی کی الماری میں اَن گنت قرآن پاک کے نسخے، سیپارے اور دوسری وظائف کی کتب پڑی تھیں۔ چھت کے درمیان کسی چاہنے والے نے قندیل لٹکا دی تھی۔ دیواروں پر پھولدار ٹائلیں جڑی تھیں۔ قبر کے ارد گرد دیواروں تک کی تقریباً چار چار فٹ کی جگہ پر کھجور کی صفیں ترتیب سے بچھی تھیں۔ مشرقی سمت میں ایک بڑی کھڑکی تھی جو اس وقت بند تھی۔ قبلہ رخ محراب بنی تھی تاکہ اگر کوئی وہاں نوافل وغیرہ پڑھنا چاہتا تو اسے دقت نہ ہوتی۔
حافظ عبداللہ آہستہ قدموں سے چلتا ہوا بابا شاہ مقیم کے چہرے کی جانب آیا اور دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔ بے اختیار اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ سر جھک گیا اور ہاتھ گود میں آ پڑے۔ کچھ دیر اسی عالم میں گزری تو غیرمحسوس انداز میں اس کے دل کی دھڑکن مدھم سی ہو گئی اور وہ ارد گرد سے بے خبر ہو گیا۔
بڑی آہستگی سے ایک انجانی سی مہک کا ایک جھونکا جاگا اور حافظ عبداللہ کے گرد ہالہ سا تن گیا۔ مہک نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ اسے لگا، اس کے بالوں میں بڑی نرمی سے کوئی اپنی انگلیاں پھیر رہا ہے۔ اسے دلاسہ دے رہا ہے۔ تشفی دے رہا ہے۔ پیار کر رہا ہے۔ ہمت بندھا رہا ہے اس کی۔ حوصلہ دے رہا ہے اسی۔
کتنی دیر گزری، اسے پتہ نہ چلا۔ جب یہ احساس مدھم پڑا تو دھیرے سے اس نے سر اٹھایا، تب اسے علم ہوا کہ اس کی داڑھی آنسووں سے تر تھی۔ شبنم، اس کے گود میں دھرے ہاتھوں پر قطرہ قطرہ گر رہی تھی۔ گریبان بھیگا ہوا تھا اور اندر جیسے دھُل سا گیا تھا۔
آہستہ سے اس نے ہاتھ چہرے پر پھیرے۔ اشک سارے چہرے پر ملتے ہوئے لگا جیسے اس نے وضو کر لیا ہو۔
“بابا۔ ” اس کے نہاں خانہ دل سے بے اختیار ایک سرگوشی ایک بار پھر آنسوؤں کی برسات لئے نکلی اور ماحول میں رچی مہک کے ساتھ ہو لی۔ ہچکیاں لیتے ہوئے اس نے قبر کے تعویذ پر سر ٹیک دیا۔
وہ کیوں رو رہا تھا؟ اسے خود معلوم نہ تھا لیکن اسے تو سب معلوم تھا جو اسے رُلا رہا تھا۔ نہیں۔ رُلا نہیں رہا تھا، اسے پاکیزگی کا غسل دے رہا تھا۔ اس پانی سے وضو کرا رہا تھا جو ہر ایک کے اندر تو ہوتا ہے، باہر نصیب والوں ہی کے آتا ہے۔
٭
ماسٹر محسن، لالو تیلی اور اس کا بیٹا عادل، تینوں آ چکے تھے۔
ماسٹر محسن ان دونوں کو بار بار بڑی کینہ توز نظروں سے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ باپ بیٹا سر جھکائے بیٹھے تھے۔
ماحول پر ایک تناؤ سا طاری تھا۔ طاہر نے ملک کی جانب دیکھا۔ اس نے اس کا عندیہ جان کر چاچا شمسو کو ہاتھ اٹھا کر دور ہی سے اشارہ کیا۔ اسی وقت دو تین آدمی اپنی جگہوں سے اٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد وہ آدمی چاچا شمسو کے ساتھ سب لوگوں کو چائے کے پیالے تھما رہے تھے۔
ملک نے طاہر کے بائیں ہاتھ موڑھے پر بیٹھے لالو اور عادل اور دائیں ہاتھ بیٹھے ماسٹر محسن کو خود چائے کے پیالے پیش کئے، جو خاموشی سے لے لئے گئے۔ طاہر اور ملک نے سب سے آخر میں چائے لی اور ہولے ہولے چسکیاں لینے لگے۔
پھر جب لالو اور ماسٹر محسن نے خالی پیالے زمین پر رکھے تو طاہر نے بھی اپنا پیالہ ملک کے حوالے کر دیا۔ پہلو بدلا۔ سنبھل کر بیٹھا اور ماسٹر محسن کی طرف متوجہ ہوا۔
“ماسٹر صاحب۔ میں نے آپ کو جس مقصد سے یہاں بلایا ہے، وہ تو آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ ” اس نے بڑے ناپ تول کر الفاظ زبان سے نکالے۔
“جی۔ ” ماسٹر محسن نے اس کی جانب نظریں اٹھائیں۔ ” پھر بھی میں آپ کی زبان سے سننا چاہوں گا۔ ” اس کی آواز بالکل سپاٹ تھی۔
“میں آپ سے عمر میں بھی چھوٹا ہوں اور منصب میں بھی ماسٹرصاحب۔ آپ خیر بانٹتے ہیں۔ علم کی آبیاری کرتے ہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ میری کسی بات سے آپ کی دل آزاری نہ ہو اور اگر ایسا ہو جائے تو وہ سہواً ہو گا۔ پھر بھی اس کے لئے میں پیشگی آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔ ” طاہر کے لہجے میں جو ادب تھا اس نے ماسٹر محسن کی پیشانی پر ٹوٹی ٹھیکریوں میں نمایاں کمی کر دی۔ کچھ دیر رک کر اس نے پھر زبان کھولی۔
“میں اس جھگڑے کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا جو ہو چکا ہے۔ صرف یہ چاہوں گا کہ اس جھگڑے کے اثرات مٹ جائیں۔ ”
“کیسے؟” ماسٹر محسن کا لہجہ بڑا تلخ تھا۔
“اس کا حل تو موجود ہے ماسٹر صاحب مگر اس کے لئے آپ کی رضامندی بنیادی شرط ہے۔ ” طاہر نے اس کڑواہٹ کو نظر انداز کر دیا۔
“اور اگر میں اس پر راضی نہ ہوں تو؟” ماسٹر نے بڑے ضبط سے کہا۔
“میں پھر بھی کوشش ضرور کروں گا ماسٹر صاحب۔ یہ میرا حق ہے اور مجھ پر فرض بھی۔ اپنے والد کے بعد گاؤں کے دُکھ سُکھ کی ذمہ داری مجھ پر سب سے پہلے اور سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے۔ ”
“کیا مجھے کھل کر کچھ کہنے کی اجازت ہے چھوٹے مالک؟” اچانک ماسٹر محسن کا پیمانہ صبر جیسے لبریز ہو گیا۔ اس کے لہجے میں ٹیس سی محسوس کر کے طاہر کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔
” آپ جو کہنا چاہیں ، جیسے کہنا چاہیں ، آپ کو اس کے لئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ماسٹر صاحب۔ یہاں آپ کی کسی بات کا برا منانے والا میرے سمیت کوئی ایک فرد بھی موجود نہیں ہے۔ ”
“تو مجھے صرف یہ بتائیے کہ اگر میری جگہ۔۔۔ ” ماسٹر محسن ایک ثانئے کو رکا، طاہر کی جانب دیکھا اور انگلی اس کی طرف اٹھا دی۔ ” آپ ہوتے تو۔۔۔ ”
“ماسٹر۔۔۔ ” بلال ملک نے تیزی سے کہنا چاہا۔ باقی کے سب لوگ بھی ہکا بکا رہ گئے۔ ماسٹر سے اتنی بڑی بات کی توقع کسی کو بھی نہ تھی۔ لالو اور عادل بھی پہلو بدل کر رہ گئے۔
“ملک۔ ” طاہر نے ہاتھ اٹھا کر اس کی بات کاٹ دی اور مزید کچھ کہنے سے تحکمانہ اشارے سے روک بھی دیا۔ ملک با دلِ نخواستہ واپس اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ تاہم اس کے انداز سے ناراضگی واضح تھی۔
” آپ گھبرائیے نہیں ماسٹر صاحب۔ ” طاہر کا لہجہ پھر نرم ہو گیا۔ ” میں نے کہا ناں ، آپ کو جو کہنا ہے اور جس طرح کہنا ہے، کہئے۔ میں نے آپ کا دُکھ سننے ہی کے لئے آپ کو یہاں بلایا ہے۔ ”
“مجھے زیادہ نہیں کہنا۔ ” ماسٹر محسن کا لہجہ شکستگی سے کٹ گیا۔ ہاتھ نیچے ہو گیا۔ “صرف یہ پوچھنا ہے کہ اگر میری جگہ آپ ہوتے تو کیا کرتے؟” اس کا سر جھک گیا۔
“ماسٹر صاحب۔ ” طاہر نے اس کے چہرے پر نگاہیں جما دیں۔ ” آپ کے سوال کا جواب میرے ان چند چھوٹے چھوٹے سوالوں میں پوشیدہ ہے جو میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں ، اگر آپ کو برا نہ لگے تو۔۔۔ ”
“جی۔ پوچھئے۔ ” ماسٹر محسن نے دونوں بازو سینے پر باندھ لئے اور خاک آلود اینٹوں کے فرش کو گھورنے لگا۔
“اتنا تو آپ بھی جانتے ہیں ماسٹر صاحب کہ ہمارے مذہب نے شادی میں پسند اور ناپسند کے جو حقوق مرد کو دیے ہیں وہی عورت کو بھی حاصل ہیں۔ ”
“جی۔ ” ماسٹر نے مختصر سا جواب دیا۔
“زبیدہ نے نثار کے رشتہ سے کیوں انکار کیا؟” طاہر نے ہولے سے پوچھا۔
“وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ ” ماسٹر محسن مضطرب سا ہوا۔
“مجھے معلوم ہے کہ اس نے انکار کیوں کیا ماسٹر صاحب اور یہی بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم بیٹے کو اس کی پسند کے بارے میں پوچھ کر، کبھی کبھار اسے لڑکی دکھا کر بھی شادی کے بارے میں اس کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں تو زندگی کے اس سب سے بڑے فیصلے کے بارے میں بیٹی کو زبان کھولنے کی اجازت کیوں نہیں دیتی، جبکہ ہمارا دین اس کے لئے بیٹی کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی پسند سے آگاہ کر سکتی ہے۔ جس سے اس کا نکاح کیا جا رہا ہے، اسے نکاح سے پہلے دیکھ سکتی ہے اور ہاں یا نہ کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ جب زبیدہ نے آپ کے مجوزہ رشتے سے انکار کرتے ہوئے آپ کو اپنی پسند سے آگاہ کیا تو آپ نے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے اس کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا۔ اسے مارا پیٹا۔ کیوں ؟” طاہر کی آواز بلند ہو گئی۔ ” آپ کو یہ حق تو ہے کہ اگر اس کے لئے عادل کا رشتہ موزوں نہ تھا تو اس کی اونچ نیچ سے زبیدہ کو آگاہ کرتی۔ اسے سمجھاتے۔ مگر اس پر ہاتھ اٹھانا کیا مناسب تھا؟دوسرے جب عادل کے گھر والے اس کا رشتہ لے کر آپ کے دروازے پر پہنچے تو آپ کو پورا حق تھا کہ آپ اس رشتے سے انکار کر دیتے، جیسا کہ آپ نے کیا بھی لیکن اس کے بعد آپ نے ایک بار پھر زبیدہ ہی کو کیوں پیٹا؟”
” باتیں کرنا بہت آسان ہیں چھوٹے مالک۔ ” ایک دم ماسٹر محسن کی زبان کا تالا کھلا۔ “سمجھانے کے نام پر نصیحتیں کرنا بھی کوئی مشکل کا م نہیں۔ مجھے علم کی روشنی تقسیم کرنے والا خیال کر کے میری اس جاہلانہ حرکت پر مجھ سے جواب طلبی بھی کی جا سکتی ہے لیکن خاندان اور گاؤں والوں کی باتوں کے زہریلے نشتر، ان کے طعنوں کا پگھلا ہوا سیسہ قطرہ قطرہ کانوں میں اتارنا کتنا مشکل ہے، اس کا آپ کو علم نہیں ہے۔ اس کیفیت سے گزر کر دیکھئے چھوٹے مالک، جس سے قسمت نے مجھے دوچار کر دیا ہے۔ پھر آپ کو احساس ہو گا کہ جس پھول سی بیٹی کو میں نے کبھی جھڑکی نہیں دی، اس پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے میرے دل کے کتنے ٹکڑے ہوئے ہوں گی۔ ” ماسٹر محسن کی آواز بھرا گئی۔ ” میں ایک عام سا، کمزور آدمی ہوں چھوٹے مالک، جس کے سر پر استاد ہونے کا تاج ہے تو دامن میں صرف عزت کے چند ٹکڑے، جن کے چھن جانے کے احساس نے مجھے اپنی بیٹی کے ساتھ قصائیوں کا سا سلوک کرنے پر مجبور کر دیا۔ میں دین کے بارے میں وہ بھی جانتا ہوں جو اس چوپال میں بیٹھے سب لوگوں کے لئے شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے مگر مجھے انہی کے درمیان رہنا ہے۔ انہی کے ساتھ رشتے اور تعلقات نبھانے ہیں۔ نثار کا رشتہ میں نے کیوں قبول کیا، اس کے پیچھے میری صرف ایک مجبوری تھی۔ میرے پورے خاندان میں زبیدہ کے لئے ایسا کوئی لڑکا موجود نہیں ہے جس کے ساتھ میں اس کی شادی کر سکوں۔ لڑکے اَن پڑھ ہیں یا زبیدہ سے عمر میں چھوٹے ہیں۔ میری بیٹی ایف اے پاس ہے۔ میں دل کا مریض ہوں چھوٹے مالک۔ کب زندگی کی شام ہو جائے، نہیں جانتا۔ مجھے دور دور تک اس کے لئے جب مناسب رشتہ نظر نہ آیا تو دل پر جبر کر کے میں نے نثار کے رشتے کے لئے ہاں کہہ دی۔ ”
“ایک منٹ ماسٹر صاحب۔ ” طاہر نے اس کی بات روک دی۔ ” یہاں تک میں آپ کی ہر بات سے پوری طرح متفق ہوں۔ آپ نے جو کیا، درست کیا لیکن جب زبیدہ نے انکار کیا اور اس کے بعد عادل کا رشتہ بھی اس کے لئے آیا تب آپ نے خدا کا شکر ادا کرنے کے بجائے انکار اور مار پیٹ کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ میرا خیال ہے عادل، ہر طرح سے زبیدہ کے لئے موزوں ہے۔ ”
“مگر وہ ہماری برادری سے نہیں ہے چھوٹے مالک۔ ”
“لاحول ولا قوة۔ ” بے اختیار طاہر کی زبان سے نکلا۔ ” ماسٹر صاحب۔ اب آپ کی سوچ پر مجھے افسوس نہ ہو تو یہ میری اپنے ساتھ زیادتی ہو گی۔ آپ پڑھے لکھے ہو کر بھی ذات برادری کے چکر میں غوطے کھا رہے ہیں ؟ ”
“یہ معمولی بات نہیں ہے چھوٹے مالک۔ ” ماسٹر محسن نے سر اٹھایا۔ ” میں نے شروع میں پوچھا تھا کہ اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتی؟ اس سوال کا جواب دینے کا یہ بہت اچھا موقع ہے۔ آپ نے بھی تو ابھی ابھی شادی کی ہے۔ آپ نے خاندان، ذات برادری دیکھ کر ہی تو نکاح کیا ہو گا؟”
طاہر کے ہونٹوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ نے ہلکورا لیا۔
“ماسٹر صاحب۔ اگر میرے جواب نے ذات برادری کی نفی کر دی تو؟” اس نے ماسٹر محسن کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔
“تو میں وعدہ کرتا ہوں چھوٹے مالک کہ مجھے آپ کا۔۔۔ ” ماسٹر صاحب نے پورے عزم سے کہا۔ ” ہر فیصلہ منظور ہو گا۔ ”
“سوچنے کی مہلت نہیں دوں گا میں آپ کو۔ ” طاہر نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔
“میں ایک سیکنڈ کا وقت نہیں مانگوں گا۔ ” وہ بھی آخری داؤ کھیلنے کے سے انداز میں بولے۔
“تو سنئے ماسٹر صاحب۔ میری بیوی اور آپ کی چھوٹی مالکن نہ تو میرے خاندان سے ہے، نہ میری ذات برادری سے اور نہ ہی کسی کروڑ پتی گھرانے سے۔ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک یتیم لڑکی ہے جس کی شرافت اور خوب سیرتی نے مجھے اسیر کر لیا اور اس اسیری کی بھی وضاحت کر دوں۔ میں نے اسے شادی سے پہلے دیکھا تک نہ تھا۔ آپ کی بڑی مالکن نے اسے پسند کیا اور ہم دونوں کو نکاح کے بندھن میں باندھ دیا۔ اب کہئے کیا کہتے ہیں آپ؟”
ماسٹر محسن منہ کھولے طاہر کو دیکھے جا رہا تھا۔ وہاں موجود گاؤں والوں کو بھی اس حقیقت کا شاید آج ہی علم ہوا تھا، اس لئے وہ بھی حیران حیران سے تھے۔
“میں آپ کی حیرت ختم ہونے کا منتظر ہوں ماسٹر صاحب۔ ” کتنی ہی دیر بعد طاہر نے ماسٹر محسن کو مخاطب کیا تو وہ دھیرے سے چونکے۔
“جی۔۔۔ ” ماسٹر صاحب نے پلکیں جھپکیں تو نمی رخساروں پر ڈھلک آئی۔ ” میں حیران کم اور شرمندہ زیادہ ہوں چھوٹے مالک۔ ” انہوں نے چشمہ اتار کر آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا۔
” آپ کو شرمندہ کرنا میرا مقصد نہیں تھا ماسٹر صاحب۔ ” طاہر نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہلکے سے دبایا۔ “میں تو اس مسئلے کا حل چاہتا ہوں جس نے آپ جیسے ذی علم انسان کو کانٹوں کے بستر پر لا پھینکا۔ ”
“اب کوئی چبھن نہیں چھوٹے مالک۔ ” ماسٹر محسن نے چشمہ دوبارہ آنکھوں پر چڑھا لیا۔ “میرا دل مطمئن ہے۔ آپ جو فیصلہ کریں گے مجھے منظور ہے۔ ”
“نہیں ماسٹر صاحب۔ ” طاہر نے اس کے کندھے سے ہاتھ اٹھا لیا۔ “فیصلہ اب بھی آپ ہی کا ہے۔ میں تو صرف مشورہ دے سکتا ہوں۔ ”
“میرے لئے وہ بھی حکم ہو گا چھوٹے مالک۔ آپ فرمائیے۔ ” ماسٹر محسن کا لہجہ بیحد پُرسکون تھا۔
“عادل بہت اچھا لڑکا ہے ماسٹر صاحب۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔ ” طاہر نے آہستہ سے کہا اور ہونٹ کاٹتے لالو کی جانب دیکھا جو کسی بھی لمحے رو دینے کو تھا۔ عادل سر جھکائے فرش کو گھور رہا تھا۔
” آپ تاریخ مقرر کر دیجئے چھوٹے مالک۔ میری طرف سے کوئی دیر نہیں ہے۔ ” ماسٹر محسن سب کچھ نبٹا دینے پر تلے بیٹھے تھے۔
“کیوں لالو چاچا؟” طاہر نے اس کی جانب دیکھا اور ایک دم لالو کندھے پر پڑے رومال کے کونے میں منہ چھپا کر بلک پڑا۔ اس کی ہچکی سی بندھ گئی۔ وہ بچوں کی طرح روئے جا رہا تھا۔
ملک نے ایک دم اٹھ کر اس کی طرف بڑھنا چاہا مگر طاہر نے اسے روک دیا اور ماسٹر محسن کی جانب دیکھا۔ ایک دم ماسٹر صاحب اٹھے اور دو قدم بڑھ کر لالو کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔
“لالو۔ ” ان کے ہونٹوں سے نکلا اور لالو نے ان کے دونوں ہاتھ تھام کر برستی آنکھوں سے لگا لئے۔ ماسٹرصاحب نے چند لمحے انتظار کیا۔ پھر ہاتھ اس کی گرفت سے نکال کر اسے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔
کتنی ہی آنکھیں نم نظر آ رہی تھیں۔ ملک ہنسا تو اس کے ہونٹوں کے گوشے لرز رہے تھے۔ رہا طاہر۔۔۔ تو وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے ان دونوں کو ایسی فتح مندانہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہا تھا جس میں گاؤں کا بڑا ہونے کا غرور چھلکا پڑ رہا تھا۔
* * *

رات آدھی سے زیادہ جا چکی تھی۔
حافظ عبداللہ چٹائی پر بیٹھا تھا۔ جو قرآن پاک رحل پر اس کے سامنے کھلا رکھا تھا، یہ وہی تھا جو اسے دوسرے کمرے میں ملا تھا۔ مزار سے نکل کر جب وہ لڑکی والے کمرے میں آیا تو لڑکی ابھی تک بے سدھ تھی۔ تاہم مزار سے واپسی پر جب اس نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر حرارت کی شدت جاننا چاہی تو حیرت انگیز طور پر اس میں نمایاں کمی آ چکی تھی۔ اس کا دل تشکر اور ممنونیت سے لبالب ہو گیا۔ یہ صاحبِ مزار کی کرامت ہی تو تھی جو اللہ کے فضل سے ظاہر ہوئی تھی۔
اس نے لڑکی کو ہوش میں لانے کا خیال ترک کر دیا۔ ساتھ والے کمرے میں گیا اور وہاں سے قرآن پاک اور رحل اٹھا لایا۔ کمرے کا دروازہ بھیڑ دیا۔ کھیس کی بکل ماری۔ طاق میں رکھے چراغ کے قریب، چٹائی پر دو زانو بیٹھ کر قرآن پاک کو بوسہ دیا۔ کھولا اور منزل کرنے میں لگ گیا۔
کبھی کبھی وہ آہستہ سے گردن گھما کر لڑکی کا طائرانہ سا جائزہ لے لیتا اور دوبارہ دہرائی میں محو ہو جاتا۔
وقت گزرنے کا اسے احساس تو ہو رہا تھا مگر کتنا گزر گیا، یہ اسے علم نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جلد سے جلد صبح ہو جائے تاکہ وہ گاؤں جا سکے۔ گاؤں کا خیال آیا تو اس کا دھیان مسجد کی جانب چلا گیا۔ مغرب اور عشاء کے وقت وہ وہاں موجود نہ تھا۔ نمازیوں کو بڑی دقت ہوئی ہو گی اور ساتھ ہی وہ فکرمند بھی ہوئے ہوں گے کہ آج حافظ کہاں چلا گیا؟ کسی کو بھی پتہ نہ تھا کہ وہ عصر کے بعد روزانہ کہاں جاتا ہے؟ ورنہ اب تک اسے کوئی نہ کوئی تلاش کرتا یہاں تک آ ہی چکا ہوتا۔
قرآن پاک کے الفاظ زبان سے ادا ہو رہے تھے اور دماغ ایسی ہی ادھر ادھر کی سوچوں میں بار بار الجھ رہا تھا۔ ایک آیت ختم کرتے ہوئے اس نے لڑکی کا جائزہ لینے کے لئے آہستہ سے گردن گھمائی اور الفاظ لڑکھڑا گئی۔ وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی۔ شاید اسے پیاس لگی تھی۔
لڑکی کی پیاس کا خیال جب تک حافظ عبداللہ کے دل میں آتا، تب تک برانگیختہ کر دینے والی کتنے ہی سوچیں اس پر یلغار کر چکی تھیں۔ لڑکی کا لبوں پر زبان پھیرنے کا انداز اتنا دلفریب تھا کہ حافظ عبداللہ کا دل بے قابو ہو گیا۔
“پانی۔۔۔ ” اسی وقت لڑکی کے لبوں سے بڑی مہین سی آواز نکلی۔
حافظ عبداللہ چونک کر اپنی دگرگوں کیفیت سے باہر آیا۔ کھیس کو بدن سے الگ کیا۔ چنگیر کے پاس پڑا مٹی کا پیالہ اٹھا یا اور کمرے سے نکل گیا۔ چند لمحے بعد لوٹا تو پیالے میں پانی تھا۔ ساتھ ہی اس کے چہرے پر وضو کے اثرات نمایاں تھے۔ سرد پانی نے اسے اپنی غیر ہوتی ہوئی حالت کو سنبھالنے میں بڑی مدد دی تھی۔
وہ چارپائی کے قریب آ کھڑا ہوا۔ لڑکی کے پپوٹے لرز رہے تھے۔ اب بھی وہ ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی اور “پانی۔۔۔ پانی” کے الفاظ وقفے وقفے سے ادا کرتے ہوئے آہستہ آہستہ سر کو دائیں بائیں حرکت دے رہی تھی۔
“لیجئے۔ پانی پی لیجئے۔ ” حافظ عبداللہ نے اسے پکارا۔
لڑکی نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہ تھی۔ حافظ عبداللہ نے اسے چار پانچ بار پکارا مگر وہ تو نیم بیہوشی کے عالم میں پانی مانگ اور سر دائیں بائیں مار رہی تھی۔
حافظ عبداللہ تھوڑی دیر پیالہ ہاتھ میں لئے کچھ سوچتا رہا پھر اس نے جیسے کوئی فیصلہ کر لیا۔ پانی کا پیالہ دائیں ہاتھ میں لے کر اس نے دل کڑا کیا اور بایاں ہاتھ لڑکی کی گردن میں ڈال دیا۔ پھر اسے اوپر اٹھاتے ہوئے ذرا سا جھکا اور جگہ بنتے ہی چارپائی کی پٹی پر ٹک گیا۔ اب لڑکی کے جسم کا سارا بوجھ اس کے سینے پر آ رہا۔ جسم کی کپکپی پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے پیالہ لڑکی کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ چھوٹے چھوٹے تین چار گھونٹ بھر نے کے بعد لڑکی نے منہ ہٹا لیا تو حافظ عبداللہ نے اٹھتے ہوئے اسے واپس چارپائی پر لٹا دیا اور خود پھولے ہوئے سانس کے ساتھ پرے ہٹ گیا۔
سردی کی رات میں ابھی چند منٹ پہلے وہ یخ پانی سے وضو کر کے آیا تھا۔ اس کے باوجود اس کی پیشانی پسینے کے گرم قطروں سے یوں بھیگ چکی تھی جیسے وہ اب تک دہکتے تندور پر جھکا رہا ہو۔ لڑکی اب اتنی بے سدھ نہ تھی۔ حافظ عبداللہ کو لگا، تھوڑی دیر میں وہ ہوش میں آ جائے گی کیونکہ اس کی آنکھوں پر جھکے پپوٹے ہولے ہولے پھڑک رہے تھے اور وہ بار بار گلا تر کرنے کے انداز میں تھوک بھی نگل رہی تھی۔
حافظ عبداللہ کی حالت بڑی مشکل سے سنبھلی۔ ایک خوبصورت، جوان اور مدافعت کے ناقابل لڑکی کے جسم کا اس کے ساتھ لگنا ایک ایسی کیفیت کا حامل عمل تھا، جس کے اثرات سے اس کا جسم اب تک جھنجھنا رہا تھا۔
پیالے میں ابھی کچھ پانی باقی تھا۔ حافظ عبداللہ نے چاہا کہ پانی پی لے تاکہ اس کے حواس میں بھڑکتی آگ میں کچھ تو کمی آئے۔ پھر نجانے کیا سوچ کر رک گیا۔ اس نے پیالہ چارپائی کے سرہانے فرش پر رکھا اور کمرے سے نکل گیا۔ ہینڈ پمپ پر جا کر اس نے ایک بار پھر چہرے پر سرد پانی کے چھینٹے ماری۔ اوک میں لے کر حلق تک پانی پیا۔ پھر کرتے کے دامن سے چہرہ اور ہاتھ خشک کرتا ہوا واپس لوٹ آیا۔
کمرے میں داخل ہوا تو چونک پڑا۔
لڑکی ہوش میں آ چکی تھی۔ اس نے کمبل ایک طرف ڈال دیا تھا اور لرزتی کانپتی چارپائی سے اتر چکی تھی۔ حافظ عبداللہ پر نظر پڑی تو وہ ٹھٹکی۔ گھبرا کر اس نے کمبل سے اپنے نیم برہنہ جسم کو چھپا یا اور دیوار کی طرف الٹے پاؤں سرکتے ہوئے متوحش ہرنی کی طرح اسے دیکھنے لگی۔
“گھبرائیے نہیں۔ ” حافظ عبداللہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید پیچھے ہٹنے سے روک دیا۔ “مجھ سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں۔ ” اس نے دروازے کے اندر آتے ہی اپنے قدم روک لئے۔ اتنی دیر میں وہ دیوار کے بالکل ساتھ جا لگی۔
“میں اس وقت کہاں ہوں ؟” کچھ دیر تک حافظ کو بغور گھورتے رہنے کے بعد اس نے آہستہ سے پوچھا۔
“نور پور گاؤں یہاں سے کچھ ہی دور ہے۔ ” حافظ عبداللہ نے جواب دیا اور ایک قدم آگے بڑھ آیا۔
“نور پور؟” حیرت سے اس کا منہ کھل گیا۔
“جی ہاں۔ ” حافظ عبداللہ نے چٹائی پر پڑا کھیس اٹھا کر اپنے جسم کے گرد لپیٹتے ہوئے کہا۔ ” میں نور پور کی اکلوتی مسجد کا امام ہوں۔ یہ جگہ بھی نور پور ہی کی حد میں آتی ہے۔ بابا شاہ مقیم کے مزار کا ایک کمرہ ہے جہاں آپ اس وقت موجود ہیں۔ ”
“بابا شاہ مقیم۔ ” لڑکی بڑبڑائی۔ ” مگر میں اتنی دور۔۔۔ ”
” آپ ایک درخت کے ساتھ چمٹی ہوئی سیلابی ریلے میں بہتی جا رہی تھیں۔ میں اتفاق سے وہاں ٹبے پر موجود تھا۔ اللہ نے ہمت دی اور میں آپ کو پانی سے نکال لایا۔ ”
“یہ کب کی بات ہے؟”لڑکی اب بھی پریشان تھی۔
” آج شام کے قریب کا وقت تھا۔ تب سے آپ بیہوش پڑی تھیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے پانی مانگا تو میں نے چند گھونٹ آپ کو پلائے۔ پھر میں۔۔۔ ” حافظ عبداللہ کہتے کہتے رک گیا۔ ایک پل کو اس کے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔ پھر وہ نظر اس کے سراپے سے ہٹا کر بولا۔ “وضو کرنے چلا گیا۔ واپس آیا تو آپ شاید بھاگنے کی تیاری میں تھیں۔ ” ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر کھیلنے لگی۔
“نن۔۔۔ نہیں۔ بھاگنے کی نہیں۔ ” وہ گڑبڑا گئی اور ہونٹوں پر زبان پھیر کر حافظ عبداللہ کی طرف دیکھا۔
“میں آپ کی کیفیت سمجھ سکتا ہوں۔ ” حافظ عبداللہ نے کہا۔ ” اس صورتحال میں آپ کا کوئی بھی اقدام اپنی حفاظت اور مجھ پر بد گمانی کے لئے جائز ہے۔ ” اس نے دروازہ آدھا بھیڑ دیا۔
“یہ دروازہ کیوں بند کر دیا آپ نے؟” وہ جلدی سے دو قدم آگے آ گئی۔
“ہوا بہت سرد ہے۔ ” حافظ عبداللہ نے نرمی سے کہا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ” آپ کا بخار شاید اب کم ہو گیا ہے۔ تاہم جب میں آپ کو پانی سے نکال کر لایا تھا تو آپ انگارے کی طرح دہک رہی تھیں۔ ابھی ٹھنڈی ہوا آپ کے لئے نقصان دہ ہے۔ پھر میں نے دروازہ بند نہیں کیا، صرف بھیڑ دیا ہے۔ آپ خود کو سنبھالئے۔ شک اور اندیشہ اس وقت آپ کا حق ہے مگر ہم دونوں کے علاوہ بھی ایک ہستی یہاں موجود ہے، جس کے ہوتے ہوئے آپ کو ہر اندیشے سے بے نیاز ہو جانا چاہئے۔ ”
“کون۔۔۔ کون ہے تیسرایہاں ؟” لڑکی نے چونک کر پوچھا۔
“وہ۔۔۔ ” حافظ عبداللہ نے چھت کی جانب انگلی اٹھا دی۔ “وہ، جو ہر جگہ موجود ہے۔ صرف آپ کو اس کا یقین ہونا چاہئے، جیسے مجھے ہے۔ ” وہ مسکرا دیا۔
“اوہ۔۔۔ ” لڑکی خجل سی ہو گئی۔ اس نے شرمندہ شرمندہ سی نظروں سے حافظ عبداللہ کی طرف دیکھا اور سر جھکا کر پاؤں کے ناخن سے زمین کریدنے لگی۔
“صبح تک آپ کو یہیں ٹھہرنا ہو گا۔ ” حافظ عبداللہ نے پھر کہا۔ ” کل کی بارش نے کیچڑ بہت کر دیا ہے۔ سواری کوئی موجود نہیں ہے اور گاؤں تک اس اندھیرے میں پیدل جانا نری مصیبت ہے۔ آپ نے نجانے کب سے کچھ نہیں کھایا۔ وہ طاق میں چنگیر رکھی ہے۔ کھانے کو اس وقت یہی میسر ہے۔ کھا لیجئے۔ پیالے میں پانی بھی ہے۔ ” اس نے چارپائی کے سرہانے زمین پر پڑے مٹی کے پیالے کی جانب اشارہ کیا۔ پھر چٹائی کے پاس آگیا۔
قرآن پاک کو چوم کر سینے سے لگایا۔ رحل اٹھائی اور لڑکی کی جانب دیکھا جو دیوار سے لگی کھڑی اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ حافظ عبداللہ کو لگا، اس کی نظروں میں عجب سحر سا کروٹیں لے رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈورے، گالوں پر بکھری دو تین لٹیں اور سینے کا زیر و بم، کسی بھی خیال، کسی بھی سوچ کو گمراہی کا راستہ دکھانے کے لئے کافی تھے۔
“اگر آپ کو اپنے اور میرے اللہ پر بھروسہ ہے تو بے فکر ہو جائے۔ کھانا کھائیے اور چارپائی پر آرام کیجئے۔ ” اچانک حافظ عبداللہ کی آواز نے کمرے کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کر دیا۔ “میں دوسرے کمرے میں جا رہا ہوں۔ آپ اندر سے کنڈی لگا لیجئے۔ صبح ہوتے ہی میں آپ کو نور پور لے چلوں گا۔ وہاں چوہدری حسن دین آپ کو آپ کے گھر بھجوانے کا انتظام کر دیں گے۔ ”
دروازے کے قریب پہنچ کر وہ رک گیا۔ پلٹ کر لڑکی کی جانب دیکھا جو ابھی تک اپنی سابقہ حالت میں تھی۔
“اگر کوئی کام ہو تو اس کھڑکی پر دستک دے دیجئے گا۔ ” اس نے دونوں کمروں کی درمیانی دیوار میں بنی چار ضرب چار کی بند کھڑکی کی طرف اشارہ کیا اور دروازے سے نکل گیا۔
لڑکی خاموش کھڑی کتنی ہی دیر تک خالی دروازے کو گھورتی رہی۔ اس کے دل و دماغ میں ایک جنگ سی جاری تھی۔ حافظ عبداللہ کی باتیں اور اب تک کا رویہ اسے قائل کر رہا تھا کہ وہ اس پر اعتبار کر لے جبکہ ایک جوان مرد کے ساتھ، اس جگہ رات بھر رہنے کا فیصلہ کرنا اس کے لئے بڑا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ جہاں دو جوان جسم موجود ہوں ، وہاں شیطان کو آتے دیر نہیں لگتی۔ اور وہ ایسی طاقتور بھی نہیں تھی کہ شیطان اور حافظ عبداللہ کا تنہا مقابلہ کر سکتی۔
اس نے سر جھکا لیا اور ایک ایک کر کے حافظ عبداللہ کی باتوں پر غور کرنے لگی۔ اس کی کسی بات میں کوئی ول چھل نہ تھا۔ اس کی نگاہوں میں اسے اپنے لئے کوئی ایسا تاثر نہ ملا تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ وہ اس کے لئے خطرہ ہے۔ اگر وہ اس کے ساتھ کوئی الٹی سیدھی حرکت کرنا چاہتا تو وہ بقول حافظ عبداللہ کی، شام سے اس کے پاس اس کمرے میں بیہوش پڑی تھی۔ اس دوران اسے روکنے والا کون تھا مگر وہ محفوظ رہی۔ اور اب تو وہ جاگ رہی تھی۔ پورے ہوش و حواس میں تھی۔ اب وہ کم از کم اس کے کسی اقدام کے خلاف مدافعت تو کر ہی سکتی تھی۔
سوچ سوچ کر اس کا دماغ درد کرنے لگا۔ بدن میں تھکاوٹ سی در آئی تو اس نے خود کو اللہ کے آسرے پر موجودہ صورتحال کے سپرد کرنے کا ارادہ کر لیا۔
سر اٹھا کر اس نے کھلے دروازے کی جانب دیکھا۔ پھر اندر سے کنڈی لگانے کے خیال سے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی چلی۔ چراغ کے قریب سے گزرنے پر اس کی لو تھرتھرائی۔
وہ دروازے کے قریب پہنچی تو ایک خیال کے تحت ایک پل کو رکی۔ پھر دبے پاؤں باہر نکل آئی۔ ساتھ والے کمرے کے دروازے کے پاس ٹھہر کر اس نے ذرا سی گردن آگے نکالی اور بھڑے ہوئے دروازے میں سے اندر جھانکا۔
حافظ عبداللہ کی پشت کمرے کے دروازے کی جانب تھی اور وہ کھیس کی بکل مارے چٹائی پر بیٹھا تھا۔ قرآن پاک اس کے آگے رحل پر کھلا دھرا تھا۔ چراغ اس نے اپنے دائیں ہاتھ اینٹوں کی ایک ڈھیری پر رکھ چھوڑا تھا تاکہ اس کی روشنی قرآن پاک پر پڑتی رہی۔ وہ سر جھکائے ہولے ہولے آگے پیچھے ہل رہا تھا۔
غور سے سنا تو لڑکی کے کانوں میں قرآن پاک پڑھنے کی ہلکی سی آواز کسی خوشخبری کی طرح اترتی چلی گئی۔ سکون اور اطمینان نے اس کے حواس پرتسلی کی چادر تان دی۔
چند لمحے وہاں کھڑا رہنے کے بعد اس نے گردن پیچھے کھینچ لی۔ خاموش قدموں سے کمرے میں لوٹی۔ دروازہ بند کیا تو اس کا دل ایک بار پھر زور سے دھڑکا۔ یہ دیکھ کر کہ دروازے کے اندر کی جانب کنڈی کا نام و نشان ہی نہ تھا۔ لگتا تھا بہت دیر پہلے وہ ٹوٹی اور دوبارہ کسی نے اسے لگانے کی کوشش ہی نہ کی۔
خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے خود کو سنبھالا۔ دروازے کو اچھی طرح بند کیا مگر جب کنڈی ہی نہ تھی تو وہ بند رہتا یا کھلا، ایک برابر تھا۔
کچھ سوچ کر وہ کھڑکی کے قریب آئی۔ کھڑکی بند ضرور تھی مگر اس میں بھی کوئی کنڈی یا چٹخنی موجود نہ تھی۔ شاید دوسرے کمرے کی طرف ہو گی۔ ایک بار پھر غیر محفوظ ہونے کا خیال اندھیرے کی دبیز چادر کی طرح اس کے دماغ پر پھیلا۔ بے اختیار اس کا سر کھڑکی سے جا لگا۔ اسے چکر سا آ گیا مگر دوسرے ہی لمحے اس کے سارے اندیشے بند کھڑکی کی دوسری طرف سے آتی حافظ عبداللہ کی تلاوت کی آواز پر قربان ہو گئی۔ اس کا جی چاہا وہ اس آواز کو سنتی رہے جو اس کے جسم و جان میں عجب سکون بھری سرگوشیاں کر رہی تھی۔ اسے اپنے اللہ پر بھروسے کا سبق دے رہی تھی۔ اسے بتا رہی تھی کہ وہ وہاں اکیلی نہیں ہے۔ بقول حافظ عبداللہ کے، وہاں اس کا خالق و مالک موجود ہے۔ اور وہ تو ہر جگہ موجود ہے، بس ہمیں اس کا یقین نہیں آتا۔
اس خیال کا آنا تھا کہ اس کے جسم میں ایک طاقت عود کر آئی۔ یقین، بھروسے اور اعتبار کی طاقت۔ اس نے جھکا ہوا سراٹھایا۔ چند لمحوں تک بند کھڑکی کو گھورتی رہی۔ پھر دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی چارپائی کے پاس آ گئی۔
چنگیر پر نظر پڑی تو بھوک جاگ اٹھی۔ وہ چارپائی پر بیٹھ گئی۔ کمبل کے پلو کھولے۔ اسے اپنے شانوں پر دائیں بائیں پھیلایا۔ چنگیر اٹھا کر گود میں رکھی۔ رومال کی تہہ کھولی تو اندر مکئی کی دو روٹیوں پر سرسوں کا ساگ دیکھ کر پیٹ میں اینٹھن سی ہوئی۔ ایک نظر بند دروازے اور کھڑکی پر ڈالی، پھر اس کا ہاتھ بے اختیار روٹی کی طرف بڑھ گیا۔
٭
طاہر حویلی واپس آیا تو رات کے ساڑھے نو بج رہے تھے۔
حویلی کے اندر اور باہر سکوت طاری تھا۔ ملازموں میں سے کچھ جاگ رہے تھے، زیادہ تر سونے کے لئے جا چکے تھے۔ ملک اس سے رخصت ہوا تو طاہر اندر چلا۔ اس کا رخ لیڈیز ڈرائنگ روم کی جانب تھا۔
“چھوٹے مالک۔ ” اچانک ایک آواز نے اسے کاریڈور میں روک لیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ حویلی کی ایک ملازمہ فہمیدہ اس کی طرف سر جھکائے چلی آ رہی تھی۔
“مالکن آپ کے کمرے میں ہیں۔ ” فہمیدہ نے اس کے قریب آ کر ادب سے کہا۔
“اچھا۔ ” اس نے موبائل جیب میں ڈالتے ہوئے کہا اور اس کے پیچھے چل پڑا۔ کاریڈور سے بائیں مڑتے ہی پہلا کمرہ اس کا تھا، جو اس کی عدم موجودگی میں شاذ ہی کھلتا تھا۔ فہمیدہ دروازے پر رک گئی۔
“کھانا لگا دوں چھوٹے مالک؟” اس نے پوچھا۔
“تمہاری مالکن نے کھا لیا؟” اس نے کھلے دروازے میں قدم رکھا۔
“جی نہیں۔ آپ کے انتظار میں تھیں۔ ”
“تو کھانا یہیں لے آؤ۔ ”
“جی بہتر۔ ” وہ لوٹ گئی۔
طاہر اندر داخل ہوا تو یہ دیکھ کر اسے کوئی حیرت نہ ہوئی کہ ابھی تک صفیہ کو چند عورتیں گھیرے بیٹھی تھیں۔ اسے آتا دیکھ کر وہ کپڑے سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ پھر اسے باری باری سلام کر کے وہ کمرے سے نکل گئیں۔ آخر میں ایک نوجوان لڑکی اٹھی تو صفیہ نے اسے روک لیا۔
“تم رکو۔ ”
“جی۔ ” لڑکی نے گھبرا کر طاہر کی جانب دیکھا۔
“بیٹھ جاؤ۔ ” صفیہ نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر دوبارہ قالین پر رکھے کشن پر بٹھا دیا۔ خود بھی و ہ بیڈسے ٹیک لگائے ایک کشن پر شال اوڑھے بیٹھی تھی۔ کمرہ ایر کنڈیشنڈ ہونے کے باعث سردی کے اثرات سے مبرا تھا۔
“کیا بات ہے؟” طاہر نے ایک نظر سر جھکائے بیٹھتی لڑکی کی جانب اور پھر سوالیہ انداز میں صفیہ کو دیکھا۔
” آپ نے کھانا کھا لیا؟” اس کا سوال گول کرتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“نہیں۔ فہمیدہ یہیں لا رہی ہے۔ ” وہ گرم واسکٹ اتارتے ہوئے بولا۔
صفیہ نے اس کی واسکٹ تھام ایک طرف ڈال دی۔ وہ بیڈ کی پٹی پر ٹک گیا۔ صفیہ نے ہاتھ بڑھائے کہ اس کے پاؤں سے زرتار کھسہ نکال دے۔
“کیا کر رہی ہو؟” طاہر نے اس کا ہاتھ تھام لئے۔
“اوں ہوں۔ ” صفیہ نے آنکھ کے اشارے سے اسے لڑکی کے کمرے میں ہونے کا احساس دلایا اور ہاتھ اس کے کھسے پر ڈال دئیے۔ وہ ایک طویل سانس لے کر رہ گیا۔ صفیہ اس کی کسی بات کا برا نہ مانتی تھی مگر کرتی وہی تھی جو اسے طاہر کے بارے میں اچھا لگتا تھا۔ کھسے کے بعداس نے طاہر کی جرابیں اتاریں اور چپل آگے کر دی۔
” آپ منہ ہاتھ دھو لیں۔ اتنی دیر میں کھانا لگ جائے گا۔ ”
“تم نے تو کھا لیا ہوتا۔ خواہ مخواہ آدھی رات تک بھوکی بیٹھی ہو۔ ” وہ اٹھتے ہوئے بولا۔
“پہلے کبھی کھایا ہے جو آج آپ سے پہلے کھا لیتی۔ ” صفیہ نے مسکرا کر ہولے سے کہا۔ وہ خاموشی سے اٹیچ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔
“چھوٹی بی بی۔ ” لڑکی نے اٹھنا چاہا۔ “مجھے جانے دیجئے۔ چھوٹے مالک کے سامنے میں۔۔۔ ”
“خاموشی سے بیٹھی رہو۔ ” صفیہ نے آنکھیں نکالیں۔
“بی بی۔ دس بجنے کو ہیں۔ ” اس نے دیوار گیر کلاک کی طرف نگاہ اٹھائی۔ “گھر والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ”
“انہیں میں نے فہمیدہ کے ہاتھ پیغام بھجوا دیا تھا کہ تم میرے پاس ہو۔ دیر سے لوٹو گی۔ ”
اب شاید اس کے پاس کوئی بہانہ نہ رہا۔ ہونٹ کاٹتے ہوئے وہ واپس کشن پر ٹک گئی مگر انداز ایسا تھا کہ بس صفیہ کی نظر چوکتے ہی بھاگ لے گی۔
جتنی دیر میں طاہر ہاتھ منہ دھو کر نکلا، فہمیدہ نے کمرے کے ایک گوشے میں موجود ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا دیا۔
“کھانا کھاؤ گی؟” صفیہ نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
“جی نہیں۔ ” وہ گھبرا کر بولی تو صفیہ بے اختیار مسکرا دی۔ اس نے اصرار نہ کیا اور طاہر کے ساتھ کھانے کی میز پر جا بیٹھی۔ صفیہ سمجھ گئی کہ طاہر سے حجاب اور شرم نے اس کا برا حال کر رکھا ہے۔
“کیا بات ہے؟ یہ لڑکی کون ہے؟” طاہر نے نیپکن ڈالتے ہوئے پوچھا۔
“کھانا خاموشی سے کھانا چاہئے۔ ” صفیہ نے اس کی پلیٹ میں سالن نکالتے ہوئے کہا۔
طاہر نے اس کے بعد کوئی بات نہ کی۔ دونوں نے خاموشی سے کھانا کھایا۔ فہمیدہ برتن لے گئی۔ وہ طاہر کو ساتھ لئے واپس اس جگہ آ گئی جہاں وہ لڑکی ابھی تک سر جھکائے کسی سوچ میں گم بیٹھی اپنے ناخنوں سے قالین کرید رہی تھی۔ سر پر اس نے دوپٹہ اس طرح لے رکھا تھا کہ طاہر اس کے چہرے کے خد و خال بمشکل دیکھ پایا۔ وہ بیحد سادہ سے نقوش کی مالک تھی، مگر چہرے سے شرافت نمایاں تھی۔
“ہاں۔ اب بولو۔ ” طاہر نے ان دونوں سے کچھ پرے ایک کشن پر براجمان ہوتے ہوئے کہا۔
“میں نے آپ کو جو فون کیا تھا وہ اسی کے معاملے میں تھا۔ ” صفیہ نے لڑکی کی طرف اشارہ کیا جس کا سریہ سن کر کچھ اور جھک گیا۔ اضطراب کی حالت میں وہ اپنی انگلیاں مروڑنے لگی۔ “یہ آپ کے گاؤں کے ایک عزت دار شخص ماسٹر محسن کی بیٹی زبیدہ ہے۔ ”
“زبیدہ۔ “ایک دم طاہر چونک کر سیدھا ہو بیٹھا۔
“کیا ہوا؟” صفیہ اس کے انداز پر حیران سی ہوئی۔
“کچھ نہیں۔ تم کہو، کیا کہہ رہی تھیں۔ ” وہ زبیدہ کو غور سے دیکھ کر بولا۔
“میں بتا رہی تھی کہ۔۔۔ ” صفیہ نے اس کی حالت پر غور کرتے ہوئے کہنا شروع کیا اور اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے وہ ساری بات بتائی جو طاہر چوپال میں سن چکا تھا۔ اس دوران زبیدہ مسلسل اضطراب کے عالم میں ہونٹ کاٹتی رہی۔ انگلیاں مروڑتی رہی اور پہلو بدلتی رہی۔ اس کا سر ایک بار بھی نہ اٹھا۔ طاہر کبھی کبھار اس پر نظر ڈال لیتا اور بس۔ اس نے ساری توجہ صفیہ کی آواز پر مرکوز رکھی۔
“اب صورتحال یہ ہے کہ زبیدہ کو اس کے والد ماسٹر محسن مستقل طور پر اس کے ننھیال بھجوانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا فیصلہ ہے کہ شادی تک یہ وہیں رہے گی اور شادی اگر نثار سے نہیں ہو گی تو عادل سے بھی نہیں ہو گی۔ کس سے ہو گی؟ یہ ابھی کسی کو نہیں معلوم۔ ”
صفیہ نے جیسے بات ختم کر دی۔
“ہوں۔ ” طاہر نے ایک طویل ہنکارا بھرا۔ ایک بار زبیدہ کی جانب دیکھا جو شاید رو رہی تھی۔
” اری۔ ” صفیہ نے اس کی طرف توجہ کی اور اسے کھینچ کر ساتھ لگا لیا۔ “پگلی۔ رو کیوں رہی ہے؟ طاہر ہیں ناں۔ سب ٹھیک کر لیں گے۔ ”
زبیدہ سسک پڑی۔ اس کے آنسو، ہچکیوں میں ڈوب گئی۔ صفیہ اس کا شانہ تھپک رہی تھی مگر اس کی تسلی زبیدہ کو اور بے کل کر رہی تھی۔
“چھوٹی بی بی۔ ” اس کی سرگوشی کراہ سی بن گئی۔ “میرے ابو نے مجھے کبھی سخت نگاہ سے نہیں دیکھا، مگر اس بات پر انہوں نے مجھے اس طرح مارا کہ۔۔۔ ” وہ بات پوری نہ کر سکی اور دوپٹے میں منہ چھپا کر بلکنے لگی۔
“ماں باپ اگر سختی کریں تو اس پر دل برا نہیں کیا کرتے زبیدہ۔ ” طاہر کی آواز میں سرزنش تھی۔ زبیدہ اس کی آواز پر ایک دم سُن سی ہو گئی۔ “جس باپ نے آج سے پہلے تمہیں پھول نہیں مارا، ذرا سوچو کہ اسے کتنی تکلیف ہوئی ہو گی تمہاری کسی بات سے جو وہ تم پر ہاتھ اٹھانے پر مجبور ہو گیا۔ ”
صفیہ نے طاہر کی بات پر کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا۔ بس زبیدہ کو بازو کے حلقے میں لئے اس کا شانہ تھپکتی رہی، جو بالکل ساکت ہو گئی تھی۔ لگتا تھا اس کے جسم میں جان ہی نہیں رہی۔ آنسو، سسکیاں ، ہچکیاں سب تھم گئی تھیں۔
” میں بزرگوں کے لئے بھی گاؤں کا بڑا صرف اس لئے ہوں کہ اپنے والد کے بعد میں نے ان کی جگہ بیٹھ کر یہاں کے لوگوں کو کبھی چھوٹا نہیں سمجھا۔ میں ان کے دُکھ سُکھ کا ساجھی ہوں۔ میں وہاں چوپال میں ابھی تمہارا ہی قضیہ نمٹا کر آ رہا ہوں۔ ”
“کیا مطلب؟” صفیہ چونکی تو زبیدہ بھی سیدھی ہو بیٹھی۔ اس نے پلو سے آنکھیں خشک کیں اور دوپٹہ سر پر ٹھیک طرح سے لے لیا۔ طاہر نے دیکھا، رونے سے اس کا چہرہ نکھر سا آیا تھا۔ متورم آنکھوں نے اس کی سادگی کو سجا دیا تھا۔ وہ سر جھکائے خاموش بیٹھی کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر پھڑکتے ہونٹوں سے آواز نہ نکل رہی تھی۔
“کیا ہوا وہاں ؟ مجھے بھی تو بتائیے۔ ” صفیہ پوری طرح طاہر کی طرف متوجہ ہو گئی۔ یوں اس نے زبیدہ کی مشکل آسان کر دی۔ اس کے کان طاہر کی آواز پر لگ گئی۔
“پہلے زبیدہ سے یہ پوچھو کیا واقعی یہ عادل کو پسند کرتی ہے؟” طاہر نے دھیرے سے کہا۔
“نہیں۔ ان دونوں کی آج تک ملاقات نہیں ہوئی۔ ” صفیہ نے جواب دیا۔ “زبیدہ مجھے سب بتا چکی ہے۔ ”
“تو پھر اس نے کیسے عادل کے لئے ماسٹر صاحب کے سامنے زبان کھول دی؟” طاہر حیرت سے بولا۔
“یہ ایک اتفاق ہے طاہر، جس سے زبیدہ نے فائدہ اٹھانا چاہا۔ ہوا یہ کہ جب نثار کے رشتے سے زبیدہ نے انکار کیا تواسی وقفے میں اسے اپنی ایک سہیلی سے پتہ چلا کہ عادل کے ماں باپ اس کے لئے زبیدہ کا رشتہ مانگنے ان کے گھر آنے والے ہیں۔ زبیدہ نے نثار سے جان چھڑانے کے لئے ماسٹر صاحب سے کہہ دیا کہ وہ عادل کو پسند کرتی ہے۔ ماسٹر صاحب سہہ نہ سکے کہ ان کی بیٹی اس معاملے میں ایسی بات زبان پر لائے۔ انہوں نے زبیدہ کو پیٹ ڈالا۔ غضب یہ ہوا کہ اس سے دوہی دن بعد عادل کے والدین زبیدہ کے رشتے کے لئے آن پہنچی۔ بس، یہ اتفاق ماسٹر صاحب کو یقین دلانے کے لئے کافی تھا کہ زبیدہ اور عادل ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ایک عزت دار باپ کے لئے یہ بات کسی گالی سے کم نہیں تھی۔ وہ اپنا ذی علم ہونا تو بھول گئے۔ صرف یہ یاد رہا کہ بیٹی نے ان کے اعتماد کو دھوکہ دیا ہے۔ اور یہ بات ایسی ناقابل برداشت تھی کہ وہ زبیدہ پر ہاتھ اٹھا بیٹھے۔ ”
“بس بس۔ میں سمجھ گیا۔ ” طاہر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ “اس مانو بلی نے اپنی جان تو چھڑا لی مگر باپ کو جو اذیت دی اس کا کیا ؟”
مانو بلی کا خطاب پا کر جہاں زبیدہ شرمائی وہیں ماسٹر صاحب کی تکلیف کا خیال آنے پر آبدیدہ ہو گئی۔
“میں۔۔۔ میں۔۔۔ ابو سے معافی مانگ لوں گی۔ ” اس کے ہونٹ پھڑکے اور بے اختیار وہ سسک پڑی۔ ” میں نثار سے شادی کروں گی۔ نہیں چاہئے مجھے ایساسُکھ جو ابو کو دُکھ دے کر ملی۔ ”
“یہ بات تو تمہیں پہلے سوچنا چاہئے تھی زبیدہ۔ اب تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ “طاہر نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“کیوں نہیں ہو سکتا۔ کیا ابو مجھ سے اتنے ناراض ہیں کہ معاف بھی نہیں کریں گے۔ ” وہ بلک کر بولی۔
“نہیں۔ اب ایسی بات بھی نہیں ہے۔ ” طاہر لاپروائی سے بولا اور صفیہ نے صاف دیکھا کہ وہ اپنی مسکراہٹ دبا رہا ہے۔ ایک پل میں ساری بات اس پر روشن ہو گئی۔ اسے لگا کہ طاہر کو روتی ہوئی زبیدہ پر لاڈ آ رہا ہے۔ وہ بلکتی ہوئی اسے اچھی لگ رہی ہے اور وہ اسے محض تنگ کر رہا ہے۔
“طاہر۔ ” زبیدہ کو ایک بار پھر ساتھ لگاتے ہوئے صفیہ نے طاہر کی جانب نگاہ کی۔ “کیا بات ہے؟ سچ سچ بتائیے۔ ”
“کیا سچ سچ بتاؤں ؟” طاہر بھولپن سے منہ بنا کر بولا۔ “کیا یہ بتاؤں کہ ماسٹر صاحب نے زبیدہ کی شادی۔۔۔ ” ایک پل کو وہ رکا۔ سر جھکائے آنسو بہاتی زبیدہ کی طرف دیکھا اور پھر کہا۔ “عادل کے ساتھ طے کر دی ہے۔ ”
“کیا؟” ایک جھٹکے سے زبیدہ نے سر اٹھایا اور بے یقینی سے طاہر کی جانب دیکھنے لگی۔
“ہوں۔۔۔ ” صفیہ نے معنی خیز انداز میں سر ہلایا۔ “تو میرا شک درست تھا۔ ” اس نے طاہر کو گھور کر دیکھا۔ ” آپ خواہ مخواہ بچی کو اب تک رلا رہے تھے۔ ”
“چھوٹی بی بی۔ ” زبیدہ نے اس کی جانب بے اعتباری سے دیکھا۔ ” کیا۔۔۔ کیا یہ سچ ہے؟”
“سولہ آنے سچ ہے زبیدہ۔ ” طاہر کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے یقین سے سرشار لہجے میں صفیہ نے کہا۔ “تمہارے چھوٹے مالک کو جھوٹ بولنا آتا ہی نہیں۔ ورنہ میں اتنی آسانی سے انہیں نہ پکڑ پاتی۔ میں تو ان کے بات کرنے کے انداز سے سمجھ گئی تھی کہ یہ تمہارے رونے کا مزہ لے رہے ہیں۔ ”
اور زبیدہ نے صفیہ کی بغل میں چہرہ چھپا لیا۔ وہ ایک بار پھر رو دی مگر یہ آنسو خوشی کے تھے۔ تشکر کے تھے۔
“کیا ہوا چوپال میں ؟مجھے سب کچھ تفصیل سے بتائیے۔ ” صفیہ نے زبیدہ کا شانہ تھپک کر اسے خود سے الگ کیا۔
جواب میں طاہر نے انہیں چوپال میں ہونے والی ساری بات سنا دی۔ وہ خاموش ہوا تو زبیدہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“چھوٹی بی بی۔ اب مجھے جانے دیجئے۔ بہت دیر ہو گئی۔ ” اس نے کلاک پر نظر دوڑائی جس پر رات کے گیارہ بجنے والے تھے۔
“اری۔ ” صفیہ نے وقت دیکھا تو حیرت سے بولی۔ ” پتہ ہی نہ چلا وقت گزرنے کا۔ واقعی اب تمہیں جانا چاہئے۔ ” وہ بھی اٹھ گئی۔ “فہمیدہ کو بلاؤ۔ ”
“بیل دے دو۔ ” طاہر نے بیڈ سوئچ کی طرف اشارہ کیا۔
صفیہ سر ہلا کر آگے بڑھی اور وہ بیڈ سوئچ دبا دیا، جس کے نیچے بیل کا نشان بنا تھا۔ دور کہیں گھنٹی کی آواز ابھری۔ چند لمحوں کے بعد فہمیدہ کمرے میں آ پہنچی۔
“فہمیدہ۔ کسی ملازم سے کہو زبیدہ کو اس کے گھر چھوڑ آئے۔ ” صفیہ نے کہا۔
“اس کا بھائی کتنی دیر سے آیا بیٹھا ہے جی۔ اسے لے جانے کے لئے۔ ”
“اری۔ تو تم نے بتایا کیوں نہیں ؟” صفیہ نے تیزی سے کہا۔ طاہر کو بھی یہ بات اچھی نہ لگی۔ وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔
“اس نے منع کر دیا تھا جی۔ ” فہمیدہ بولی۔ ” اس کا کہنا تھا کہ جب چھوٹی بی بی اجازت دیں گی تب وہ زبیدہ کو لے جائے گا۔ اتنی دیر وہ مردانے میں انتظار کرے گا۔ ”
“پھر بھی۔ ” صفیہ کو پشیمانی سی ہو رہی تھی۔
“محسوس نہ کرو۔ ” طاہر نے نام لئے بغیر صفیہ کو تسلی دینے کے انداز میں کہا۔ ” یہ ان لوگوں کی محبت کی ایک جھلک ہے، جو یہ ہم سے کرتے ہیں۔ اس کا مزہ لو۔ پشیمان ہو کر اس کی لذت کو گرہن نہ لگاؤ۔ ”
صفیہ نے نظر اٹھا کر طاہر کی جانب دیکھا۔ اس کی نظر میں کچھ ایسا تھا کہ طاہر نے اس سے نظریں چرا لیں۔ مسکرا کر صفیہ نے زبیدہ کی طرف دیکھا۔ پھر اسے سر کے اشارے سے جانے کی اجازت دے دی۔
زبیدہ نے آہستہ سے صفیہ کا دایاں ہاتھ تھاما اور سر جھکا کر پہلے چوما۔ پھر ماتھے سے لگا لیا۔ صفیہ نے اس کا سر تھپکا۔ وہ صفیہ کا ہاتھ چھوڑ کر پلٹی اور دھیرے دھیرے چلتی ہوئی طاہر کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ سر جھکائی۔ پلو سر پر ڈالی۔
طاہر چند لمحے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتا رہا پھر مسکرا دیا۔
“جاؤ۔ ” آہستہ سے اس نے کہا۔ ” بس یہ یاد رکھنا کہ ماں باپ کبھی اولاد کا بُرا نہیں چاہتے۔ مجھے خوشی ہے کہ تم نے ماسٹر صاحب کے بھروسے میں نقب نہیں لگائی۔ اچھی بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ” طاہر کا ہاتھ اس کے سر پر آ گیا۔ ” خوش رہنا۔ اور اسے بھی خوش رکھنا جس نے تمہارے جھوٹ پر اپنی خاموشی کا پردہ ڈال کر اتنی ہی بدنامی سہی، جتنی تمہارے حصے میں آئی۔ نصیبوں والی ہو کہ ایسا بَر خدا نے تمہاری جھولی میں ڈال دیا۔ جاؤ۔ ”
طاہر نے تھپکی دے کر ہاتھ اس کے سر سے ہٹا لیا۔ زبیدہ نے نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا تھا۔ نمی اس کی آنکھوں سے ابلنے کو تھی مگر اس نے خود پر قابو پائے رکھا۔ پھر ایک دم جھکی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے روکتا اس نے طاہر کے دونوں پاؤں ہاتھوں کی انگلیوں سے چھوئے اور انگلیاں چومتی ہوئی سیدھی ہو گئی۔ طاہر محض “ارے ارے” کر کے رہ گیا، تب تک زبیدہ کمرے سے جا چکی تھی۔
“اوں ہوں۔۔۔ ” صفیہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔ ” یہ احترام اور محبت کا اظہار ہے طاہر۔ اس کا مزہ لیجئے۔ ” مسکرا کر صفیہ نے کہا۔
طاہر کی آنکھوں میں اس کے لئے ایک رنگ سا لہرایا، جسے صفیہ کی نظروں نے اپنے دامن میں لپک لیا۔ اس نے انگلی طاہر کے ہونٹوں سے ہٹا کر چوم لی۔ آہستہ سے پلٹی اور دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا سانس ایک دم بوجھل سا ہو گیا۔ نظرسے وہ رنگ دل میں اتر رہا تھا، جو اس نے طاہر کی آنکھوں میں اپنے نام کھلتا ہوا پایا تھا۔ یہ کیسا احساس تھا؟ کیسی لذت تھی؟ کیسی سرشاری تھی جس نے اس کی روح کو ہلکا اور جسم کو ایسا وزنی کر دیا تھا کہ اس سے قدم اٹھائے نہ اٹھ رہے تھے۔ بمشکل وہ دو قدم چلی اور یوں بستر پر گر پڑی جیسے پھولوں سے لدی ڈال اپنی ہی خوشبو کا بوجھ نہ سہار سکی ہو۔
* * *

حافظ عبداللہ پوری طرح محو ہو کر منزل کر رہا تھا۔
قرآن پاک اس کے سامنے رحل پر کھلا پڑا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ ہولے ہولے جھومتا ہوا بڑی نرمی، آہستگی اور جذب کے ساتھ تلاوت کر رہا تھا۔ چودہ سطری قرآن پاک کا ایک ایک صفحہ سطر بہ سطر اپنے آغاز و اختتام کے الفاظ کے ساتھ اس کے ذہن پر نقش اور دل میں محفوظ تھا۔ جونہی صفحے کا آخری لفظ اس کی زبان سے ادا ہوتا، غیر ارادی طور پر اس کا دایاں ہاتھ حرکت میں آتا، ورق الٹ جاتا اور زبان اگلے صفحے کی عبارت کو چومنے لگتی۔
دوسرا پارہ اختتام کو پہنچا تو اس نے آنکھیں وا کیں۔ سر جھکا کر قرآن پاک کو بوسہ دیا۔ چند لمحے کچھ سوچتا رہا پھر قرآن پاک بند کر کے اٹھ گیا۔ کھیس اتار کر وہیں رکھا۔ دروازے میں پڑی چپل پہنی۔ باہر نکلا۔ چار قدم چلا اور ساتھ والے کمرے پر آ رکا۔ آہستہ سے ہاتھ دروازے پر رکھ کر دبایا۔ دروازہ ہلکی سی چرر کی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔ اس نے قدم اندر رکھا۔ چراغ کی لو تھرتھرائی۔ اس نے وہیں رک کر چارپائی کی طرف دیکھا۔ لڑکی کمبل میں سمٹی پڑی تھی۔ اس کا چہرہ دروازے ہی کی جانب تھا اور وہ سو رہی تھی۔
وہ چند لمحوں تک اس کے صبیح چہرے کو تکتا رہا۔ سوچوں کی پرچھائیاں اس کی آنکھوں میں تیر رہی تھیں۔ بال آخر آہستہ سے پلٹ کر وہ باہر نکل گیا۔ دروازہ بند ہوا اور اس کے قدموں کی آواز دور ہوتی چلی گئی۔
آواز ختم ہوتے ہی ایک دم لڑکی اٹھ بیٹھی۔ اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہو چکا تھا۔ ایک طویل سانس سینے سے خارج کرتے ہوئے وہ چارپائی سے اتر آئی۔ اب اس کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔ اس نے اسی وقت سانس روک لیا تھا جب حافظ عبداللہ نے دروازہ کھولا تھا۔ پلکوں کی درز سے وہ اسے اس وقت تک بے حس و حرکت پڑی دیکھتی رہی، جب تک وہ واپس نہ لوٹ گیا۔ حافظ عبداللہ کا اس وقت کمرے میں آنا، اسے خاموش کھڑے ہو کر دیکھتے رہنا، آگے بڑھتے قدم کو روک لینا اور پھر جیسے مجبوراً لوٹ جانا۔ پھر حافظ عبداللہ کا باہر سے دروازے کی کنڈی لگا دینا۔ ان سب باتوں نے اس کے کانوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔
بے آواز قدموں سے چلتی ہوئی وہ دروازے تک آئی۔ کان لگا کر سننے کی کوشش کی۔ باہر مکمل خاموشی تھی۔ کمبل میں لپٹی وہ کھڑکی کے پاس آئی اور اس کے پٹ سے کان لگا دئیے۔ دوسری طرف سے کتنی ہی دیر تک جب کوئی آواز نہ سنائی دی تو اس کا حلق خشک ہو گیا۔ لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔ وہاں کوئی ایسی شے موجود نہ تھی جسے وہ کسی بھی خطرے کے وقت اپنی حفاظت اور مدافعت کے کئے استعمال کر سکتی۔
اضطراب کے عالم میں اس نے لکڑی کی کھڑکی کی ایک درز سے آنکھ لگا دی۔ دوسرے کمرے کا منظر اس کی آنکھ میں اترا اور وہ سُن ہو کر رہ گئی۔ حافظ عبداللہ کمرے میں شمالاً جنوباً بیتابی سے اس طرح چٹائی پر ٹہل رہا تھا کہ اس کے قدموں کی آواز نہ ابھر رہی تھی۔ کھڑکی سے دو فٹ دور سے وہ واپس لوٹ جاتا۔ اس کے ماتھے پر شکنوں کا جال تنا ہوا تھا۔ لگتا تھا وہ کسی گہری سوچ میں ہے اور کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا۔ اس نے آنکھ درز سے ہٹا لی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔
“وہ کیا سوچ رہا ہے؟ “اس نے اپنے دل سے پوچھا۔ فوراً ہی جواب اس کے ذہن میں اتر آیا۔ ظاہر ہے وہ بد نیتی سے اور اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اگر اس کی نیت ٹھیک ہوتی تو وہ چوروں کی طرح اس کے کمرے میں نہ آتا۔ اس کا خاموشی سے واپس لوٹ جانا اس کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا مگر اسے اس طرح بے چینی سے ٹہلتے دیکھ کر اسے یقین ہو گیا کہ وہ اسی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کی حالت سے دوچار ہے۔ شاید وہ کوئی ایسی ترکیب سوچ رہا تھا جس پر عمل کر کے وہ اس پر قابو پا لے اور۔۔۔۔
اس سے آگے کی بات کا خیال آتے ہی دونوں ہاتھ جوڑ کر اس نے پر نم آنکھوں سے کمرے کی چھت کی جانب دیکھا۔ “یا اللہ۔ ” بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا اور ماتھا جڑے ہوئے ہاتھوں پر ٹکا کر وہ سسک پڑی۔ اس وقت وہ بھاگ کر جاتی بھی کیسے اور کہاں ؟
حافظ عبداللہ بیتابی سے چٹائی پر ٹہل رہا تھا۔ وہ ساتھ والے کمرے میں یہ دیکھنے گیا تھا کہ لڑکی کا حال کیا ہے؟ دوبارہ بخار نے تو اسے نہیں آ لیا؟ اسے پیاس نہ لگی ہو۔ لڑکی کا خیال رکھنا لازم تھا۔ وہ اسے اپنی ذمے داری لگنے لگی تھی مگر جس طرح وہ بے سدھ سو رہی تھی، اس کے پُر کشش چہرے کو دیکھ کر اس کے جذبات میں آگ سی لگ گئی۔ اکیلی لڑکی، رات کی تنہائی، کسی تیسرے کا وہاں نہ ہونا۔ ان سب نے مل کر اس کے دل و دماغ پر یلغار کر دی۔ جتنی دیر وہ وہاں کھڑا رہا، بڑے ضبط سے کھڑا رہا تھا۔ پھر خدا کے خوف سے دل کو تھپکتا ہوا وہ بڑی مشکل سے باہر نکلا۔ دروازے کی کنڈی لگائی تو اس خیال سے کہ اس کے کھٹکے سے لڑکی جاگ جائے اور وہ اپنے شہوانی خیالات کو لڑکی کے جاگ جانے کی لگام دے سکے۔
اپنے کمرے میں آ کر اس نے منزل کرنے کی بڑی سعی کی مگر دل تو کسی اور ادھیڑ بُن میں لگ گیا تھا۔ اسے سمجھ نہ آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے؟ حیوانی جبلت اسے شیطان کے ہاتھوں بِک جانے پر اکسا رہی تھی مگر اس کے اندر چھپا بیٹھا حافظِ قرآن خود کو مسلسل کمزور پڑتا دیکھ کر باقاعدہ ہاتھ پاؤں مارنے لگا تھا۔ کشمکش تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔ الاؤ تھا کہ اس کی تپش اسے جھلسائے دے رہی تھی۔
ٹہلتے ٹہلتے ایک دم وہ رک گیا۔ قدم قدم چلتا ہوا ننگے پاؤں باہر نکلا۔ گھور اندھیرے میں اسے سوائے مزار، دور دور تک پھیلی خاموشی، اکیلے پن اور سناٹے کے کچھ بھی نہ ملا۔ و ہ چند لمحے کھڑا سرد ہوا کو گھونٹ گھونٹ جذبات کے حلق سے نیچے اتارتا رہا۔ تپتا ہوا جسم باہر سے سرد ہونے لگا تو اسے اپنی کنپٹیوں میں سنسناہٹ سی دوڑتی محسوس ہوئی۔ ایسی سنسناہٹ، جس میں بے چینی کے بگولے ریت اڑا رہے تھے۔ بیتابی کا غبار سانسوں کو بوجھل کر رہا تھا۔ حلق میں کانٹے سے پڑ گئے تو اس نے تھوک نگلنے کی ناکام کوشش کی۔ درد بھری ایک ٹیس ابھری اور اس کے جبڑے اکڑ سے گئے۔ منہ کھول کر اس نے فضا میں رچی ٹھنڈک کو پی لینا چاہا۔ ایک دم اسے جھرجھری سی آ گئی۔ ایک نظر مزار پر ڈال کر وہ واپس جانے کے لئے پلٹا۔ اسی وقت پھر کسی نے اسے پکارا۔ اس نے آواز کی سمت کا اندازہ لگانا چاہا مگر کامیاب نہ ہوا۔ سر جھٹک کر اس نے خود کو قائل کرنا چاہا کہ یہ اس کا وہم تھا۔ پھر وہ کمرے کی جانب چل دیا۔
“حافظ۔ ” ایک دم اس کے قدم زمین میں گڑ گئے۔ اس نے پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر گردن اکڑ گئی تھی۔ آواز کس کی تھی، اسے صاف پتہ چل گیا۔ اس کی آنکھیں یوں مند گئیں جیسے کسی نے زبردستی انہیں بند کر دیا ہو۔ ان پر کس کر پٹی باندھ دی ہو۔
“حافظ۔ ” درویش نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ” بُوٹی لینے باہر آیا ہے۔ نقل مارنا چاہتا ہے۔ فیل ہو جائے گا۔ یہ امتحان تجھے بغیر کسی کی معاونت کے دینا ہے۔ میں تجھے ایک موقع لے کر دینے میں بڑی مشکل سے کامیاب ہوا ہوں۔ دوبارہ اس کی امید نہ رکھنا۔ اندر جا اور پرچہ حل کر۔ جا۔ تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے۔ ہمت سے گزار لے۔ جا۔ ”
اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ سارا بوجھ، سارا وزن ختم ہو گیا۔ اس نے چاروں طرف دیکھا۔ وہ اکیلا کمرے کے باہر کھڑا تھا۔ درویش وہاں کہاں تھا؟ اس نے محسوس کیا کہ اس کا جسم ہوا کی طرح ہلکا ہو گیا ہے۔ کوئی تپش اب اسے جھلسا رہی تھی نہ کوئی الاؤ اس کے اندر دہک رہا تھا۔ ایک بار پھر اس نے درویش کی تلاش میں چاروں طرف دیکھا۔ پھر مزار کی جانب نگاہ کی۔ دل میں تشکر دھڑکا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا دوسرے کمرے کے دروازے پر پہنچا۔ آہستگی سے کنڈی کھولی اور لوٹ کر اپنے کمرے میں داخل ہو گیا۔ دروازہ اپنے پیچھے بھیڑ کر وہ سر جھکائے چٹائی پر آ بیٹھا۔ کھیس کی بُکل ماری اور چراغ کی جانب دیکھا۔ اس کی ہلکی ہلکی زرد روشنی اسے بڑی بھلی لگی۔ چند لمحے وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر ایک طویل سانس لے کر اس نے قرآن پاک کو بوسہ دے کر کھولا۔ تیسرے پارے کی پہلی سطر پر نگاہ ڈالی اور آنکھیں موند لیں۔
“اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ ” اس کے لبوں سے نکلا اور آواز بھرا گئی۔
“بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ” زبان پر خوشبو پھیلی اور آنسو رخساروں پر آ گئے۔
“تلک الرسل۔۔۔ ” ایک ہچکی تھی جو اس کے حلق سے آزاد ہوئی اور وہ اپنے آپ سے جدا ہو گیا۔
آنسو وضو کراتے رہے۔ زبان، آیتوں کو بوسے دیتی رہی۔ حواس میں پاکیزگی اترتی چلی گئی اور وہ اس بات سے بے خبر ہلکورے لیتا اپنے معبود کی ثنا کرتا رہا کہ کوئی اسے کھڑکی کی درز سے مسلسل دیکھ رہا ہے۔ اس کی کیفیت پر انگشت بدنداں ہے۔ اس کی کیفیت کو سمجھنے کی ناکام سعی کر رہا ہے اور روح کو سیراب کرتی ہوئی نمی۔۔۔ وہ تو اس جھانکنے والے کی آنکھوں میں بھی ہے۔
“لن تنالو البر” کے الفاظ اس کی زبان پر تھے کہ اسے لگاجیسے دونوں کمروں کی درمیانی کھڑکی پر “ٹھک” کی آواز ابھری ہو۔ ایک لمحے کو وہ رکا۔ پھر تلاوت کرتی اس کی آواز بلند ہو گئی۔ “ٹھک” کی آواز پھر ابھری۔ اس نے کان بند کرنے کے لئے ان پر ہاتھ رکھ لئے۔ تیسری بار آواز ابھری تو اس نے آنکھوں کو اور زور سے بند کر لیا۔ آنکھوں پر زور پڑنے کی دیر تھی کہ چارپائی پر بے سدھ پڑا وہ جوان سراپا اس کے سامنے نمایاں ہو گیا جو تنہائی اور موقع سے مزین تھا۔ گھبرا کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ قرآن پاک کے الفاظ پر دھیان جماتے ہوئے اس نے صفحہ پلٹا تو لگا جیسے الفاظ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ہوں۔ صفحہ اسے بالکل کورا دکھائی دیا۔ کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی۔ نظروں میں دھند سی پھیلی اور زبان مروڑا کھا گئی۔ دماغ ایک دم سکرین بن گیا جس پر ایک جوان بدن پڑا اسے صدائیں دے رہا تھا۔ اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا چاہا مگر اس کے سامنے کھلے پڑے قرآن پاک کا سامنے کا صفحہ بالکل کورا بالکل صاف تھا۔ اس پر کچھ لکھا ہوا نہ تھا۔ اس نے حافظے پر زور دے کر یاد کرنا چاہا مگر کچھ یاد نہ آیا کہ وہ کیا اور کہاں سے تلاوت کر رہا تھا ؟
خوف کی ایک لہر اس کے سارے جسم میں دوڑ گئی۔ یہ کیا ہوا؟ مجھے یاد کیوں نہیں آ رہا کہ میں قرآن پاک کہاں سے دہرا رہا تھا؟ یہ۔۔۔ یہ صفحات کورے کیوں ہو گئے؟ قرآن پاک کے الفاظ کہاں غائب ہو گئے؟ سنا اور پڑھا تھا کہ قیامت کے قریب قرآن پاک کے الفاظ خود بخود صفحات سے اڑ جائیں گے۔ غائب ہو جائیں گے۔ تو کیا قیامت آ گئی؟ کیا۔۔۔ ؟
اور اس “کیا ” کے آگے سوچنا اس کے لئے محال تھا۔ سوچ پر تو وہ جوان جسم قابض تھا جو چارپائی پر پڑا اسے پکار رہا تھا۔
“میرے مالک۔ ” اس کے پھڑکتے لبوں سے ایک سرگوشی آزاد ہوئی۔ “میرے معبود۔ میری مدد فرما۔ اپنے حبیب کریم کے صدقے میں میری آزمائش نہ لے۔ میں تیری کسی آزمائش، کسی امتحان کے قابل نہیں ہوں۔ مجھے معاف فرما دے۔ مجھے معاف فرما دے۔ مجھے معاف فرما دے۔ ” اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھا ان پر رکھ دیا۔ سرگوشی مدھم ہوتے ہوتے ناپید ہو گئی۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ اس نے سراٹھایا۔ لڑکی کا سراپا ابھی تک اس کے ذہن میں رقصاں تھا۔ اس کی بھویں تن گئیں۔ دانت بھینچ کر اس نے ایک پل کو کچھ سوچا۔ پھر نجانے کیا ہوا۔ آہستہ سے اس نے گردن کو حرکت دی اور دایاں ہاتھ چراغ کی لو پر سائبان کر دیا۔ لو بھڑکی اور اس کی ہتھیلی چاٹنے لگی۔ اس کی آنسوؤں سے لبریز آنکھیں اپنے ہاتھ پر جم گئیں جو چراغ کی لو پر ساکت ہو چکا تھا۔
گوشت جلنے کی چراند کمرے میں پھیلی۔ درد کی ایک لہر اس کے سارے بدن میں دوڑ گئی مگر اس درد میں کیا لذت چھپی تھی کہ اسے نشہ سا ہونے لگا۔ اسے لگا جیسے ایک دم آنکھوں کے سامنے سے ساری دھند چھٹ گئی ہو۔ نظر جھکائی تو کورے کاغذ کا دامن گلاب رنگوں سے پُر دکھائی دیا۔ قرآن پاک کے الفاظ اس کی جانب سر اٹھائے مسکرا رہے تھے۔ قیامت ٹل گئی تھی۔ اسے توبہ کا وقت مل گیا تھا۔ زبان کی اینٹھن روانی میں بدل گئی۔ حافظ اسی مقام پر جا کھڑا ہوا جہاں پر وہ آیت سے جدا ہوا تھا۔
ہاتھ لو پر جلتا رہا۔ مگر اس جلن میں درد نہ تھا، ایک سرور تھا جو اسے لوریاں دے رہا تھا۔ زخم نہ تھا، گلاب تھا جو کھلتا ہی جا رہا تھا۔ منزل ہو رہی تھی یا منزل اس کی جانب خود چل پڑی تھی؟ کون جانے۔ جانے تو بس وہ جانے جو اوپر بیٹھا اپنے آدم کی آزمائش لے رہا تھا۔ فرشتوں کو دکھا رہا تھا اور کہہ رہا تھا:
“کیا میں نے کہا نہ تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ وہ دیکھو۔ میرا آدم میری طرف چل کر آ رہا ہے اور مجھے دوڑ کر اس کی طرف جانا ہے۔ اسے گرنے سے پہلے تھام لینا ہے۔ جاؤ۔ اس کے ہاتھ کا، اس کے جسم کا سارا درد سمیٹ کر اس میں وہ مستی بھر دو جس میں صرف میرا ذکر، میرا شکر اور میرا امر لو دے رہا ہو۔ ”
کھڑکی کے دوسری جانب دم بخود کھڑی لڑکی کے حواس مختل ہو چکے تھے۔ اس کی آنکھوں میں وہ منظر سما ہی نہ رہا تھا۔ حافظ عبداللہ کا ہاتھ جل رہا تھا۔ گوشت پگھل کر قطرہ قطرہ گر رہا تھا مگر اسے جیسے اپنا ہوش ہی نہ تھا۔ وہ جھوم جھوم کر تلاوت کر رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ چہرہ اور اب جسم بھی پسینے میں یوں بھیگا جا رہا تھا جیسے کسی نے اس پر جگ بھر پانی انڈیل دیا ہو مگر وہ ہر احساس سے بے نیاز منزل کر رہا تھا۔ منزل اس کی جانب بھاگی چلی آ رہی تھی۔
اسی وقت باہر سے ” اللہ اکبر” کی صدا ابھری۔
درویش لوٹ آیا تھا۔ وہ فجر کی اذان دے رہا تھا۔
امتحان کا وقت ختم ہو گیا تھا اور شاید امتحان بھی۔
یہ صدا اعلان تھی اس بات کا کہ حافظ عبداللہ کامیاب ہو گیا۔
لڑکی کے کانوں میں اللہ اکبر کی صدا پڑی تو وہ چونکی۔ گھبرا کر درز سے پیچھے ہٹی اور دروازے کی طرف لپکی۔ ایک پُر شور آواز کے ساتھ دروازہ کھول کر وہ باہر نکلی۔ کمبل اس کے شانے پر لٹکا ہوا ساتھ ساتھ گھسٹتا آ رہا تھا۔ تقریباً بھاگتی ہوئی وہ دوسرے کمرے میں داخل ہوئی۔ دیوانہ وار آگے بڑھی اور نیم بیہوش مگر تلاوت میں محو حافظ عبداللہ کے پاس جا رکی۔
“حافظ صاحب۔ ” ایک چیخ اس کے لبوں سے نکلی اور اس نے اس کا جلتا ہوا ہاتھ کھینچ کر چراغ کی لو سے پرے ہٹا دیا۔
ایک دم حافظ عبداللہ نے آنکھیں کھول دیں اور جیسے ہوش میں آ گیا۔ اس کی سرخ سرخ آنکھیں دیکھ کر لڑکی ایک پل کو دہشت زدہ ہوئی پھر اس کی طرف سے نگاہ ہٹا کر اس نے کمبل کے پلو میں حافظ عبداللہ کا چرر مرر ہاتھ لپیٹ لیا۔
“یہ آپ نے کیا کیا ؟” اس کی آواز میں درد ہی درد تھا۔
“کیا کیا؟” حافظ عبداللہ نے مسکرانے کی کوشش کی۔ حواس میں آتے ہی درد اس پر پوری شدت سے حملہ اور ہو گیا۔
“حی علی الفلاح۔ ”
اچانک وہ باہر سے آتی ہوئی درویش کی آواز پر چونکا۔ “بابا۔ ” اس نے سرسراتے لہجے میں کہا۔ ” بابا لوٹ آئے۔ ”
“کون بابا؟” لڑکی کی آواز اب بھی بھرائی ہوئی تھی۔ وہ کمبل میں لپٹا اس کا ہاتھ تھامے بیٹھی آنسو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
مگر حافظ عبداللہ اس کے سوال کا جواب دینے سے پہلے ہی غش کھا گیا۔ اب درد کی اذیت اس کی برداشت سے باہر ہو چکی تھی۔
“حافظ صاحب۔۔۔ حافظ صاحب۔ ” لڑکی اسے باہوں میں سنبھالتی ہوئی بے اختیار پکارے جا رہی تھی۔
“بس۔ ” اچانک ایک آواز سن کر وہ چونکی۔ ایک جھٹکے سے گردن گھما کر اس نے اندر آتے ہوئے درویش کو دیکھا جو تین چار لمبے لمبے ڈگ بھر کر اس کے پاس پہنچا اور حافظ عبداللہ کا سر گود میں لے کر بیٹھ گیا۔
” آرام کرنے دے اسی۔ ” وہ والہانہ حافظ عبداللہ کے چہرے کو دیکھے جا رہا تھا۔ اس کے گالوں پر محبت سے ہاتھ پھیر رہا تھا۔ ” سونے دے اسے۔ ساری رات امتحان دیتا رہا ہے پگلا۔ تھک گیا ہے۔ سونے دے اسے۔ ”
“بابا۔ ” لڑکی نے اس سے پوچھنے کی کوشش ہی نہ کی کہ وہ کون ہے۔ وہ اسے اجنبی لگا ہی نہ تھا۔ بالکل ایسا لگا جیسے وہ برسوں سے اسے جانتی ہو۔ “بابا۔ ان کا ہاتھ۔۔۔ ”
“کیا ہوا اس کے ہاتھ کو؟” درویش نے اس کا ہاتھ کمبل کے پلو سے باہر نکالا۔ پھر جلے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر مسکرا دیا۔
“بابا۔ انہوں نے دیے کی لو پر اپنا ہاتھ رکھ چھوڑا تھا۔ ہاتھ جلتا رہا مگر انہیں خبر ہی نہ ہوئی۔ وہ تو میں نہ آ کر ہٹاتی تو نہ جانے کیا ہو جاتا۔ ” وہ مزید سہہ نہ سکی اور سسک کر رو پڑی۔
“پگلی ہے تو بھی۔ ” درویش نے اس کے سر پر تھپکی دی۔ ” کچھ نہیں ہو گا اسے۔ میرا اللہ چاہے تو ابھی اس کا ہاتھ یوں ہو جائے جیسے اس پر کبھی کوئی خراش تک نہیں آئی مگر ۔۔۔ ”
“مگر کیا بابا؟” لڑکی نے بیتابی سے پوچھا۔
“مگر میرا اللہ چاہتا ہے کہ حافظ عبداللہ کا ہاتھ دوا سے ٹھیک ہو۔ اس کا نقص باقی رہے۔ یہ عیب والا ہو جائے۔ ”
“وہ کیوں بابا؟” وہ سوال پر سوال کئے جا رہی تھی اور درویش اس کے ہر سوال کا جواب یوں دے رہا تھا جیسے کوئی باپ اپنی بیٹی سے لاڈ کر رہا ہو۔
“اس لئے پگلی کہ اپنے اللہ سے محبت کا یہ نشان اس کے ہاتھ پر باقی رہے۔ اسے اور تجھے یاد رہے کہ یہ ہاتھ کیوں اور کیسے جلا تھا؟”
“میں سمجھی نہیں بابا؟” ایک دم لڑکی کا ذہن جیسے سلیٹ کی طرح صاف ہو گیا۔
“کیا تو نہیں جانتی کہ حافظ نے اپنا ہاتھ جلتے چراغ کی لو پر کیوں رکھ دیا تھا؟” اچانک درویش کا لہجہ عجیب سا ہو گیا۔ “شیطان آ گیا تھا اس کے پاس۔ شیطان جو آگ سے بنا ہے۔ نفس کی آگ کو حافظ عبداللہ نے اپنے اللہ کے حکم پر نور کے الاؤ میں دھکیل دیا۔ نفس جل گیا۔ شیطان خاک ہو گیا۔ نور باقی رہا۔ اب اس نور کا نشان تا عمر میرے حافظ کے ہاتھ پر باقی رہے، اس کے اللہ کی نشانی اس کے پاس رہے، یہی اس کے معبود کی رضا ہے۔ سمجھیں پگلی۔ ” درویش نے اس کی جانب پیار سے دیکھا۔
“ہاں بابا۔ ” لڑکی کی آواز جیسے کسی گہرے کنویں سے آئی۔ “سب سمجھ گئی۔ ” اس کی نگاہیں جھک گئیں۔ رات بھر کی ساری کیفیات ایک پل میں اس کی نظروں میں پھر گئیں۔ اس کی ساری بدگمانیاں شرمندگی کا پسینہ بن کر اس کی پیشانی سے بہہ نکلیں۔ وہ حافظ عبداللہ کی حرکات سے کیا اخذ کرتی رہی اور حقیقت کیا تھی؟ یہ جان کر اسے خود پر شرم آ گئی۔
“کمبل سے اپنا جسم ڈھانک لے پگلی۔ سردی لگ جائے گی۔ ” درویش نے حافظ عبداللہ کو بازوؤں میں اٹھا تے ہوئے کہا تو وہ چونکی۔ کمبل کو جسم پر ٹھیک سے لپیٹا۔ پھر اس کے پیچھے پیچھے وہ بھی دوسرے کمرے میں آ گئی۔
درویش نے حافظ عبداللہ کو چارپائی پر لٹایا۔ جلتا ہوا چراغ اٹھا کر لایا اور چارپائی کے پاس نیچے کچے فرش پر رکھ دیا۔
“میں نماز پڑھ لوں۔ تم اتنی دیر اس کے زخم پر چراغ کا تیل چپڑتی رہو۔ باقی کا علاج صبح گاؤں جا کر ہو جائے گا۔ ”
درویش کمرے سے نکل گیا۔
لڑکی نے ایک پل کو کچھ سوچا۔ پھر چارپائی کی پٹی سے لگ کر زمین پر بیٹھ گئی۔ حافظ عبداللہ کا جلا ہوا ہاتھ تھام کر اس نے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے چراغ سے تیل لیا اور زخم پر چپڑنے لگی۔ وقفے وقفے سے وہ اس کے چہرے پر بھی نظر ڈال لیتی، جہاں سکون کا ایک عالم آباد تھا۔ ایساملکوتی سکون اسے پہلے کہاں دیکھنا نصیب ہوا تھا؟
٭
“میرا نام سکینہ ہے جی۔ ” لڑکی نے کہا۔ “میں سائیاں والا کے میاں اشرف کی بیٹی اور میاں نذرو کی بھتیجی ہوں۔ ”
“اری۔ ” چوہدری حسن دین چونکا۔ “پھر تو تُو میری بیٹی اور بھتیجی ہوئی۔ میاں نذرو تو میرے بڑا یار ہے۔ ”
“چلئے۔ یہ بھی اچھا ہوا کہ یہ آپ کے جاننے والوں کی کچھ لگتی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ میری ذمہ داری ختم ہوئی۔ اب آپ انہیں ان کے گھر بھجوانے کا انتظام کر دیں چوہدری صاحب۔ ” حافظ عبداللہ نے مفلر کے ساتھ گلے میں لٹکے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے چھوتے ہوئے کہا جس پر کچھ دیر پہلے گاؤں کے اکلوتے ڈاکٹر جمع حکیم، مرزا امیر حسین نے ڈریسنگ کی تھی۔
پو پھٹتے ہی درویش نے ان دونوں کو گاؤں کے راستے پر خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ سورج نکل رہا تھا جب وہ دونوں چوہدری حسن دین کی حویلی جا پہنچی۔ اندر خبر کی گئی تو فوراً ان دونوں کو بیٹھک میں بٹھایا گیا۔ رفاقت اور چوہدری حسن دین آئے تو حافظ عبداللہ نے مختصر لفظوں میں انہیں ساری بات بتائی۔ مسجد سے غیر حاضری کی وجہ بھی سامنے آ گئی۔ اب آخر میں جب سکینہ نے اپنا نام اور پتہ بتایا تو سارا مسئلہ ہی حل ہو گیا۔
“سکینہ بیٹی۔ تم اندر جاؤ۔ نہا دھو کر کپڑے بدلو۔ میں اتنی دیر میں تمہارے چچا کو خبر کرتا ہوں۔ ہاں ، یہ تو بتاؤ کہ تم کب سیلاب کے پانی میں گریں ؟”
“کل صبح چوہدری صاحب۔ ” سکینہ نے جواب دیا اور جھرجھری لے کر رہ گئی۔ “میں اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ پُل پر کھڑی سیلاب کے پانی کا تماشہ دیکھ رہی تھی کہ پاؤں پھسل گیا۔ وہ دونوں شور مچاتی کسی کو مدد کے لئے بلانے بھاگیں۔ میں ڈوبتے ڈوبتے ایک درخت کے تنے سے جا چمٹی جو نجانے کہاں سے بہتا چلا آ ر ہا تھا۔ پانی نے میرے حواس چھین لئے اور میں بے سدھ ہو گئی۔ ہوش آیا تو بابا شاہ مقیم کے مزار پر تھی۔ ”
“بس بیٹی۔ یہ اللہ والوں کی کرامتیں ہیں۔ ایک تو تیری جان بچ گئی اوپر سے حافظ عبداللہ جیسے نیک بندے کے ہاتھ لگ گئیں۔ اگر کہیں غلط ہاتھوں میں پڑ جاتیں تو کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ “چوہدری حسن دین نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔ ” اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ ”
“جی۔ ” سکینہ نے کرسی پر سر جھکائے بیٹھے حافظ عبداللہ کی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
“نادرہ کو بلاؤ۔ ” چوہدری حسن دین نے رفاقت سے کہا۔
“جی ابا جان۔ ” رفاقت اٹھا اور کمرے سے نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنے ساتھ چودہ پندرہ سالہ صحتمند اور ہنستی کھیلتی نادرہ کو لئے واپس آیا۔
“سلام حافظ صاحب۔ ” اس نے اندر داخل ہو کر حافظ عبداللہ کو سلام کیا۔ حافظ عبداللہ نے جواب دیتے ہوئے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔
“نادرہ پتر۔ سکینہ بہن کو اندر لے جا۔ اسے نہلا دھلا کر اس کے کپڑے بدلوا۔ ناشتہ واشتہ کرا اور آرام کرنے کے لئے بستر میں گھسا دے۔ یہ بہت تھکی ہوئی ہے۔ ”
“جی ابا۔ ” نادرہ نے اپنی چمکتی ہوئی آنکھیں مٹکائیں۔ “مگر یہ ہیں کون؟”
“میرے ایک مرحوم دوست کی بیٹی ہے۔ یہ کل سیلاب کے پانی میں بہہ گئی تھی۔ تیرے استاد صاحب نے اسے بچا لیا۔ ”
“بچانے والی تو اللہ کی ذات ہے چوہدری صاحب۔ ” حافظ عبداللہ نے جلدی سے کہا۔
“ہاں جی۔ مگر کوئی حیلہ وسیلہ بھی تو ہوتا ہے ناں۔ ” چوہدری حسن دین نے زور دے کر کہا۔ ” اب وہ خود تو نیچے اتر کر اسے پانی سے نکالنے سے رہا۔ آپ کو بھیج دیا کہ جا بھئی۔ اپنا فرض ادا کر۔ ”
حافظ عبداللہ مسکرا کر خاموش ہو رہا۔ نادرہ، سکینہ کو اندر لے گئی۔
“رفاقت۔ یار سائیاں والا تک کا راستہ تو سارا سیلاب کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہاں فون کی سہولت بھی موجود نہیں۔ اب نذرو کو خبر کیسے کی جائے؟”
“ابا جان۔ ” رفاقت نے کمرے میں داخل ہوتے ملازم کے ہاتھ سے ناشتے کی ٹرے تھام کر حافظ عبداللہ کے آگے تپائی پر رکھی اور چوہدری حسن دین سے مخاطب ہوا۔ “وجاہت آباد کے راستے سائیاں والا پہنچا جا سکتا ہے۔ ”
“یار۔ بڑا لمبا ہو جائے گا راستہ۔ ” چوہدری حسن دین نے سوچ میں ڈوبے لہجے میں کہا۔
“اب کا م تو یہ کرنا ہے ابا جان۔ راستہ لمبا ہو یا چھوٹا۔ جانا تو پڑے گا۔ “رفاقت کہہ کر حافظ عبداللہ سے مخاطب ہوا۔ ” حافظ صاحب۔ آپ ناشتہ شروع کیجئے۔ سوچ کیا رہے ہیں ؟”
“کچھ نہیں یار۔ سوچنا کیا ہے؟” حافظ عبداللہ نے بایاں ہاتھ آگے بڑھایا۔ پھر واپس کھینچ لیا۔ “یہ بائیں ہاتھ سے کھانا کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ ”
“اب یہ تو مجبوری ہے حافظ صاحب۔ ” چوہدری حسن دین نے ہمدردی سے اس کی جانب دیکھا۔ ” ہاں۔ اگر آپ کی شادی ہو گئی ہوتی تو اور بات تھی۔ پھر آپ کی بیگم لقمے بنا بنا کر آپ کو کھلاتیں اور آپ دعا کرتے کہ آپ کا ہاتھ ذرا دیر سے ٹھیک ہو۔ ” مزاح کی عادت سے مجبور چوہدری حسن دین رہ نہ سکا اور گوہر افشانی کرنے لگا۔ بات ختم کر کے وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ حافظ عبداللہ جھینپ کر رہ گیا۔ رفاقت نے استاد کو شرمندہ ہوتے دیکھا تو مسکرا کر منہ پھیر ا اور ذرا پرے جا بیٹھا۔ “مگر آپ نے کیسی لاپروائی دکھائی کہ سوتے میں ہاتھ جلتے چراغ پر دے مارا۔ اگر کہیں چراغ کپڑوں پر آگر تا تو۔۔۔ ”
“بس چوہدری صاحب۔ سوتے میں کیا پتہ چلتا ہے۔ ” حافظ عبداللہ نے کہا اور بائیں ہاتھ سے بہ امر مجبوری پراٹھا توڑنے لگا۔ اس نے ہاتھ جلنے کے بارے میں یہی بتایا تھا کہ سوتے میں پتہ نہ چلا اور ہاتھ جلتے چراغ پر جا پڑا۔ پھر جب تک وہ سنبھلتا آگ نے ہاتھ جلا ڈالا۔ مرزا امیر حسین نے زخم دیکھ کر کہنا چاہا تھا کہ لگتا ہے بہت دیر تک ہاتھ آگ پر پڑا رہا ہے۔ تاہم حافظ عبداللہ نے بات کو ہوں ہاں میں ٹال دیا۔
ناشتہ کر کے حافظ عبداللہ نے اجازت لی اور مسجد کو چل دیا۔ کچھ دیر بعد چوہدری حسن دین نے اپنے ایک ملازم شفیق مصلی کو میاں نذرو کی طرف روانہ کرتے ہوئے کہا۔
“وجاہت آباد کے ملک بلال کو تم خوب جانتے ہو۔ میں دیر سے اس کا فون ٹرائی کر رہا ہوں مگر رابطہ نہیں ہو رہا۔ شاید بارش کی وجہ سے لائنیں ڈسٹرب ہو گئی ہیں۔ تم اس سے جا کر ملنا۔ اگر آگے راستہ صاف نہ ہوا تو وہ تمہاری ہر ممکن مدد کرے گا۔ اور اگر صاف ہوا تو وہاں زیادہ ٹھہرنے کی ضرورت نہیں۔ جتنی جلدی ہو سکی، میاں نذرو سے جا کر ملو اور اسے بتاؤ کہ اس کی بھتیجی یہاں ہمارے پاس ہے اور بالکل خیر خیریت سے ہے۔ جب چاہیں آ کر لے جائیں۔ وہاں فون کی لائن ابھی تک بچھی نہیں ، ورنہ میں جناب کو تکلیف نہ دیتا۔ راستہ رکا ہوا نہ ہوتا تو میں خود ہی سکینہ بیٹی کو چھوڑ آتا۔ سمجھ گیا یا سب کچھ لکھ کر دوں دُن وٹی؟” چوہدری حسن دین نے اس کے چہرے پر بکھری حماقت سے بیزار ہو کر کہا۔
“سمجھ گیا ہوں جی۔ ” شفیق مصلی بولا تو ساری حماقت اس کے چہرے سے چھٹ گئی۔ معلوم ہوا کہ جب تک چپ رہتا احمق لگتا تھا مگر زبان کھلتے ہی وہ سمجھدارلگنے لگتا تھا۔ ” آپ فکر نہ کریں۔ جیسا آپ نے کہا ہے، ویسا ہی ہو گا۔ ”
“تو بس۔ اب چل دے میرے ٹٹو۔ تجھے سائیکل پر جانا ہے اور راستہ کافی طویل ہے۔ ” چوہدری حسن دین کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ” ویسے تو وجاہت آباد کب تک پہنچے گا، اس وقت بارہ بجے ہیں دن کے۔ ”
“ڈیڑھ دو گھنٹے کا راستہ تو ہے جی۔ بس زیادہ سے زیادہ دو بجے تک پہنچ جاؤں گا۔ ”
“ٹھیک ہے۔ اگر کوئی خاص بات ہوئی تو مجھے فون پر آگاہ کرنا۔ بس اب روانہ ہو جا اللہ کا نام لے کر۔ ”
“جی چوہدری صاحب۔ ” شفیق مصلی نے سلام کیا اور باہر نکل گیا۔
* * *

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: