Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Episode 7

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 7

–**–**–

دوپہر کے کھانے کے بعد طاہر حویلی سے کچھ دور ڈیرے میں بیٹھا بلال ملک اور چند دوسرے لوگوں کے ساتھ بیٹھا گپ شپ کر رہا تھا۔ موضوع بحث عادل اور زبیدہ تھے جن کی شادی کا معاملہ ایسے احسن انداز میں طے ہو ا تھا کہ سب لوگوں پر طاہر کی معاملہ فہمی اور فراخ ذہنی کی دھاک بیٹھ گئی۔
“ملک صاحب۔ نور پور سے چوہدری حسن دین کا آدمی آیا ہے اور آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ ” دروازے سے اندر داخل ہوتے ایک ملازم نے کہا۔
“اوہو۔ ” ملک سیدھا ہو بیٹھا۔ ” خیر تو ہے۔ ”
“پتہ نہیں جی۔ بس آپ سے ملنے کو کہتا ہے۔ ”
“تو بھیجو اسے اندر۔ سوچ کیا رہے ہو؟” ملک نے ڈپٹ کر کہا۔
“جی ملک صاحب۔ ” ملازم لوٹ گیا۔
کچھ دیر بعد شفیق مصلی نے اندر داخل ہو کر بلند آواز میں سب کو سلام کیا۔ جواب میں سب نے وعلیکم السلام کہا۔ طاہر خاموشی سے صوفے پر نیم دراز سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا۔
” آؤ بھئی شفیقی۔ خیریت تو ہے؟” ملک نے اسے پہچان لیا۔ ملک نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“جی ملک صاحب۔ سب خیر ہے اور چوہدری صاحب بھی خیریت سے ہیں۔ ایک ضروری کام سے آیا ہوں جی۔ ” وہ ایک موڑھے پر ٹک گیا۔
“ہاں ہاں۔ کہو۔ کیا بات ہے؟”
جواب میں شفیق مصلی نے اسے چوہدری حسن دین کے پیغام سے آگاہ کیا۔ طاہر اس کی بات سنتا رہا اور غور کرتا رہا۔
“راستہ تو آگے کا صاف ہی ہے شفیقی۔ پھر بھی کسی قسم کی مدد درکار ہو تو بتاؤ۔ ”
“نہیں جی۔ آپ کو چوہدری صاحب کا سلام دینا تھابس۔ اگر راستہ صاف ہے تو پھر مجھے چلنا چاہئے۔ ”
“او نہ بھئی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ تو ہمارے بابا جی کے گاؤں سے آیا ہے۔ ” عقیدت سے ملک نے سر خم کر کے کہا۔ “لسی پانی کے بغیر کیسے جائے گا تو۔ اوئے کرامت۔ ” ملک نے دور بیٹھے ایک آدمی کو پکارا۔
“جی ملک صیب۔ ” وہ اٹھ کر قریب چلا آیا۔
“شفیقے کو ساتھ لے جا۔ اس کی خوب ٹہل سیوا کر کے جانے دینا اسے۔ کوئی کسر رہ گئی تو بابا شاہ مقیم کو جانتا ہے ناں ؟” ملک نے اسے خوف دلایا۔
“فکر نہ کریں۔ آپ کو کوئی شکایت نہیں ملے گی ملک صیب۔ ” کرامت نے ڈرے ڈرے لہجے میں کہا اور شفیق سب کو سانجھا سلام کر کے اس کے ساتھ رخصت ہو گیا۔
“ملک۔ بابا شاہ مقیم کے مزار پر اپنا کوئی بندہ ہی جڑ دینا تھا۔ وہاں کی دیکھ بھال سے ہمارا بھی اندر دھلتا رہتا۔ ” طاہر نے سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
“اب اس کی ضرورت نہیں رہی چھوٹے مالک۔ ایک اللہ والے نے وہاں کا چارج سنبھال لیا ہے۔ ”
” یہ کب کی بات ہے؟”طاہر نے حیرت سے پوچھا۔
“کافی عرصہ ہو گیا جی۔ بس وہاں کا ذکر نہیں آیا تو آپ کو خبر نہ ہوئی۔ ”
“اچھا۔ کیسا اللہ والا ہے وہ، جس نے بابا کے دل میں گھر کر لیا۔ وہ تو کسی کو اپنے مزار پر ٹکنے ہی نہیں دیتے۔ ”
“بس جی۔ یہ کوئی ان کا دُلارا لگتا ہے جو دھونی رمائے بیٹھا ہے وہاں۔ ”
“اچھا۔ پھر تو ملنا چاہئے اسے۔ ” طاہر کے لہجے میں دلچسپی عود کر آئی۔
“جب حکم کریں ، چلے چلیں گے جی۔ ”
“کل صبح چلیں ؟” طاہر نے فراغت کے وقت کا بہترین استعمال سوچ لیا۔ وہ پچھتا رہا تھا کہ جب سے آیا ہے اسے بابا شاہ مقیم کے مزار پر جانے کا خیال کیوں نہ آیا۔ پچھلے تین چار سال سے مصروفیت کے باعث وہاں نہ جانے کی کوتا ہے تو ہو رہی تھی اس سی، مگر اس بار تو وہ بالکل فارغ تھا۔ اسے آتے ہی وہاں جانا چاہئے تھا۔
“ٹھیک ہے جی۔ میں انتظام کرا لیتا ہوں۔ ” ملک نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “صبح سات آٹھ بجے نکل چلیں گے۔ سہ پہر تک لوٹ آئیں گے۔ ”
“ٹھیک ہے۔ تم تیاری کر لو۔ اور ہاں۔ سالانہ عرس پر تو ہمارا حصہ جا رہا ہے ناں وہاں ؟”
“یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے چھوٹے مالک۔ ” ملک مسکرایا۔ ” بڑے صاحب کے زمانے سے جو معمول بندھا تھا، برابر جاری ہے۔ بیگم صاحبہ نے کبھی اس میں کوتا ہے آنے دی ہے نہ کمی۔ ”
“ایسا ہی ہونا چاہئے۔ ” اس نے سر ہلایا۔ ” بہت بڑی ہستی ہیں بابا شاہ مقیم۔ ”
“ہاں جی۔ اس میں کیا شک ہے؟” ملک نے تائید کی۔
پھر بابا شاہ مقیم کی باتیں چھڑیں تو وقت گزرنے کا احساس اس وقت ہوا جب حویلی سے سہ پہر کی چائے کا پیغام آ گیا۔
طاہر حویلی چلا گیا اور ملک چند ملازموں کے ساتھ اپنے آفس نما کمرے میں ، جو ڈیرے کی حدود میں ہی واقع تھا۔ اسے صبح کے سفر کی تیاری کرنا تھی۔
٭

میاں نذرو اپنے بیٹے سلیم اور سکینہ کی ماں تاج بی بی کے ساتھ اگلے دن چوہدری حسن دین کے ہاں پہنچ گیا۔ شفیق مصلی انہیں حویلی چھوڑ کر رخصت ہو گیا۔ وہ لوگ اپنے شاہی تانگے پر آئے تھے۔ شفیق مصلی سائیکل پر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا تھا۔
تاج بی بی کی بے چینی کے پیش نظر وہ تو رات ہی کو پہنچ جاتے مگر شفیق مصلی نے انہیں خوب تسلی دے کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ صبح نور کے تڑکے نکلنا چاہئے۔ رات کا سفر خراب راستے کے باعث مناسب نہیں ہے۔ رات جیسے تیسے گزار کر وہ فجر کی نماز کے فوراً بعد ناشتہ کر کے چل پڑے اور آٹھ بجے کے قریب یہاں آن پہنچے۔
ان کے ملنے کا منظر بڑا دلگداز تھا۔ سکینہ، ماں اور چچا کے گلے لگ کر بچوں کی طرح روئی۔ تاج بی بی اسے پیار کرتے نہ تھکتی تھی۔ سلیم نے بھی سر پر پیار دیا اور اسے سینے سے لگا کر آبدیدہ ہو گیا۔
“مر جانئے۔ اگر تجھے کچھ ہو جاتا تو تیرا یہ بھائی کس کی ماں کو ماسی کہتا۔ ” اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا اور روتے ہوئے چہروں پر مسکراہٹیں کھیل گئیں۔
“واہ بھئی واہ۔ ” چوہدری حسن دین نے سلیم کی جانب دیکھ کر قلقاری ماری۔ ” تم تو اپنی برادری کے لگتے ہو۔ روتے بھی ہو تو سُر میں۔ ”
“بس چاچا۔ یہ رونق ہے ہمارے گھر کی۔ ” اس نے سکینہ کے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ “اسے کیا پتہ، ہم نے کل رات تک کا وقت کیسے گزارا ہے؟ اس کی تلاش میں دریا کی تہہ کہاں کہاں تک نہیں کھنگالی ہم نے۔ وہ تو آپ کا بندہ پہنچا تو جان میں جان آئی۔ ”
“شکر کرو بھائی رب سوہنے کا کہ اللہ نے حافظ عبداللہ کو رحمت کا فرشتہ بنا کر وہاں بھیج رکھا تھا۔ ورنہ یہ پتہ نہیں کہاں جا کر رکتی۔ درخت تو اس نے کرائے پر لے ہی لیا تھا۔ ”
“چاچا۔ ” سب کے قہقہے پر سکینہ نے شرما کر چوہدری حسن دین کی طرف شکایتی نظروں سے دیکھا۔
“ارے بیٹی۔ انہیں ہنس لینے دے۔ پتہ نہیں تیرے لئے کتنا روئے ہیں ؟” چوہدری حسن دین نے نرمی سے اسے سمجھایا تو وہ ایک بار پھر ماں سے لپٹ گئی۔
“اور سنا بھئی چوہدری۔ کیسی گزر رہی ہے؟” میاں نذرو اس کی طرف سیدھا ہوا۔
“بتاتا ہوں۔ پہلے تم لوگ کچھ اَن پانی چھک لو۔ ” چوہدری حسن دین نے رفاقت اور نادرہ کے ساتھ ملازم کو کھانے پینے کی اشیا لے کر اندر آتے دیکھ کر کہا۔
“بھابی کہاں ہے؟ ” میاں نذرو نے ذرا دیر بعد پوچھا۔
” میکے گئی ہے۔ ” چوہدری حسن دین نے منہ بنا کر کہا۔ ” بوڑھی ہو گئی پر اس کا میکے کا چسکا نہ گیا۔ ایک دو دن کا کہہ کر جاتی ہے اور سات دن بعد لوٹتی ہے۔ ”
“ناراض نہ ہوا کر یار۔ ” میاں نذرو نے مٹھائی کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ” اب تک تو تجھے اس کا عادی ہو جانا چاہئے تھا۔ ”
“عادی تو ہو گیا ہوں یار مگر اکثر یہ ہوتا ہے کہ بڑے اہم موقع پر وہ گھر میں موجود نہیں ہوتی۔ اب یہی دیکھ لو کہ تم لوگ آئے ہو اور وہ۔۔۔ ”
“اچھا چھوڑ۔ یہ بتا، رفاقت کی شادی کب کر رہا ہے؟اب تو یہ ماشاءاللہ جوان ہو گیا ہے۔ ” میاں نذرو نے بات کا رخ بدلنا چاہا۔
“میں اس کے لئے ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں جس کے میکے والے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے مہمان ہو چکے ہوں۔ تاکہ یہ میری طرح بیوی کی راہ نہ تکتا رہے۔ ” اس نے بیزاری سے کہا۔
“خیر کی بات نکال منہ سے۔ ” میاں نذرو نے اسے سرزنش کے انداز میں کہا۔ “ہنستے بستے گھروں میں جانا آنا لگا ہی رہتا ہے۔ تو تو بالکل ہے۔۔۔ ”
“اچھا اچھا۔ ” چوہدری حسن دین نے اس کی بات کاٹ دی۔ ” اب بس۔ تم لوگ آئے کس کام سے ہو اور لگ کس کام میں گئے ہو۔ چلو۔ کھانا پینا ہو جائے تو ذرا تم لوگوں کو گاؤں کی سیر کراؤں۔ ”
“گاؤں کی سیر؟” میاں نذرو حیرت سے بولا اور چائے کا کپ ہاتھ سے رکھ دیا۔ “بھائی۔ ہم کیا کراچی سے آئے ہیں جو ہمیں گاؤں کی سیر کرائے گا؟ جیسا ہمارا گاؤں ہے ویسا ہی یہ گاؤں ہے۔ پھر کون سی خاص چیز ہے یہاں ، جسے دیکھنے کے لئے۔۔۔ ”
“ایک خاص چیز تو حافظ عبداللہ ہے ابا جی۔ ہمیں سب سے پہلے اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اس کے پاس جانا چاہئے۔ ” اچانک سلیم نے کہا تو وہ سب اپنے آپ کو مجرم سا محسوس کرنے لگے۔ یہ کام تو انہیں آتے ہی کر لینا چاہئے تھا۔
“خوش کیتا ای پُتر۔ ” چوہدری حسن دین نے اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ” واقعی۔ یہ بات تو میرے بھی ذہن سے نکل گئی۔ میں تو تم لوگوں کو بابا شاہ مقیم کے مزار پر لے جانا چاہتا تھا، جن کی دعا برکت سے سکینہ بیٹی کی جان بچی۔ یہ میرا اپنا خیال ہے۔ آپ لوگوں کا میرے مراسلے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ”
“ہم اس سے بالکل اتفاق کرتے ہیں بھائی جی۔ ” تاج بی بی نے پہلی بار زبان کھولی۔ “ایسے اللہ والوں ہی کی وجہ سے تو دنیا آباد ہے۔ ہمیں وہاں ضرور جانا چاہئے۔ ”
“مگر پہلے حافظ عبداللہ۔۔۔ ” سلیم نے اشتیاق سے کہا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے جس نے اس کی بہن کی جان بچائی۔ وہ اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔
“تو ٹھیک ہے۔ ” چوہدری حسن دین اٹھ گیا۔ “چلو۔ اس کی مسجدمیں چلتے ہیں۔ ”
“کس کی مسجد میں جا رہے ہیں ابا جان؟” رفاقت نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔
“حافظ عبداللہ کی مسجد میں بیٹی۔ ”
“مگر وہ تو مسجدمیں نہیں ہیں۔ ” رفاقت نے بتایا۔
“تو پھر کہاں ہیں ؟”
“بابا شاہ مقیم کے مزار پر۔ میں فجر پڑھنے گیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ ظہر کے وقت تک لوٹ آئیں گے۔ ”
“چلو۔ یہ بھی ٹھیک ہے۔ وہاں تو ہمیں جانا ہی تھا۔ وہیں مل لیں گے۔ کیوں میاں گھگو؟” اس نے میاں نذرو کا پھلکا اڑایا۔
“ہاں ہاں۔ وہیں چلے چلتے ہیں۔ ” میاں نذرو نے اس کی بات اَن سنی کر دی تاکہ اور زیادہ مذاق کا نشانہ نہ بننا پڑی۔ تاج بی بی بھی کھڑی ہو گئی۔
“سکینہ۔ ” اس نے کسی سوچ میں ڈوبی بیٹی کا شانہ ہلایا۔ “تو بھی چل۔ ”
” آں۔۔۔ ہاں۔ ” وہ جیسے کسی خواب سے چونکی۔ “کہاں اماں ؟”
“کہاں کھوئی ہوئی ہے دھی رانی؟ ” میاں نذرو نے پیار سے اسے مخاطب کیا۔ “ہم بابا شاہ مقیم کے مزار پر جا رہے ہیں۔ حافظ عبداللہ سے بھی وہیں مل لیں گے۔ ”
“ٹھیک ہے چاچا۔ میں بھی چلتی ہوں۔ ” وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ تاج بی بی نے صاف محسوس کیا کہ وہ اب بھی کسی سوچ میں ہے۔ مگر کس سوچ میں ؟ یہ تو شاید سکینہ کو خود بھی معلوم نہ تھا۔
تھوڑی دیر بعد تاج بی بی، سکینہ، سلیم اور چوہدری حسن دین میاں نذرو کے شاہی تانگے میں سوار بابا شاہ مقیم کے مزار کی طرف جا رہے تھے۔
٭
دن تو جیسے تیسے گزر گیا مگر رات کا اکثر حصہ حافظ عبداللہ نے جاگ کر گزارا۔
پچھلی رات جو کچھ اس کے ساتھ پیش آیا تھا، وہ ایسا انہونا تھا کہ وہ اب تک خود کو خواب کی کیفیت میں محسوس کر رہا تھا۔ درویش تو ایسا اس کے خیالوں پر سوار ہوا کہ ایک پل کو وہ اس کی طرف سے دھیان ہٹاتا، دوسرے پل وہ پھر آ دھمکتا۔ رہ گئی سکینہ، تو اس کے تصور میں آتے ہی اس کے ہاتھ کا زخم دل میں ٹیس سی دوڑا دیتا۔ اس کا جی چاہتا وہ آنکھیں بند کئے پڑا “سکینہ سکینہ ” کا ورد کرتا رہے۔
فجر کی اذان کا وقت ہو ا تو وہ آدھا جاگا آدھا سویا ایک دم اٹھ بیٹھا۔ لاحول پڑھ کر جسم پر پھونک ماری اور رفع حاجت کے بعد وضو کے لئے مسجد کے چھوٹے سے وضو خانے میں آگیا۔ مرزا امیر حسین نے اسے زخم پر پانی ڈالنے سے منع کیا تھا۔ ویسے بھی ہاتھ میں حرکت دینے سے درد جاگ اٹھتا تھا۔ اس نے دائیں ہاتھ کا مسح کیا اور باقی وضو مکمل کر کے اذان کے لئے مسجد کی چھت پر چلا گیا۔
اذان کے بعد دعا مانگ کر وہ نیچے آنے کے لئے سیڑھیوں کی طرف چلا تو ٹھٹک کر رک گیا۔ دور، نور پور سے باہر بابا شاہ مقیم کا مزار جیسے اسے صدا دے رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ درویش نے بھی وہاں اذان دی ہو گی۔ درویش کا خیال آتے ہی اس کا جی چاہا کہ وہ سب کام چھوڑ کر اس کے پاس چلا جائے۔ اس کی انوکھی، اسرار سے لبالب باتیں جسم میں سنسنی سی پیدا کر دیتی تھیں۔ ایک بار پھر تصور ہی تصور میں وہ کمرہ امتحان میں پہنچ گیا۔ جہاں چارپائی پر سکینہ پڑی تھی، دروازے میں درویش کھڑا تھا اور وہ خود سراپا حیرت بنا درویش کی باتیں سن رہا تھا۔
اسی وقت بڑی مدھم سی “اللہ اکبر” کی ندا اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ اس کا سارا جسم لرز گیا۔ درویش اذان دے رہا تھا۔ حافظ عبداللہ کا دل سینے میں کسی پنچھی کی طرح پھڑپھڑایا اور سانس لینا دوبھر ہو گیا۔ اذان ختم ہونے تک وہ آنکھیں بند کئے کھڑا کانپتا رہا۔ پھر جونہی درویش نے آخر میں “لا الہٰ الا اللہ” کہا، حافظ عبداللہ بیدِ مجنوں کی طرح لرزتا کانپتا چھت سے نیچے اتر آیا۔
فجر کی نماز میں بمشکل سات آٹھ نمازی تھی، جن میں رفاقت بھی شامل تھا۔ نماز کے بعد وہ لوگ اس کی خیریت دریافت کرتے ہوئے رخصت ہو گئی۔ اس نے کسی کو نہ بتایا کہ کل رات وہ کہاں تھا۔ بس ایک ضروری کام کا کہہ کر ٹال دیا۔ ہاتھ جلنے کے بارے میں اس کی جگہ رفاقت نے سب کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ جلتے چراغ پر ہاتھ جا پڑا تھا۔
پو پھٹ رہی تھی جب رفاقت نے اس سے اجازت چاہی۔
“رفاقت۔ میں بابا شاہ مقیم کے مزار پر جا رہا ہوں۔ ظہر تک لوٹ آؤں گا۔ اگر مجھے دیر ہو گئی تو اذان دے دینا، جماعت میں خود آ کے کراؤں گا۔ ”
“ٹھیک ہے حافظ صاحب لیکن آپ اتنی صبح صبح۔۔۔ ذرا دن چڑھے چلے جائے گا۔ ” رفاقت نے روا روی میں کہا۔
“نہیں یار۔ ” حافظ عبداللہ نے سر پر ٹوپی درست کرتے ہوئے جواب دیا۔ ” بس۔ دل اکھڑ سا گیا ہے۔ وہاں جاؤں گا تو سکون ملے گا۔ ”
“جیسے آپ کی مرضی جی۔ اور ناشتہ؟” اچانک رفاقت کو یاد آ گیا۔
“وہ میں کر لوں گا۔ رات کا کھانا بچا پڑا ہے۔ ” حافظ عبداللہ نے جلدی سے کہا۔
“میں ابھی دس منٹ میں لے آتا ہوں جی۔ ”
“نہیں بھئی۔ ” حافظ نے ہاتھ اٹھا کر اسے حتمی طور پر روک دیا۔ “میں کر لوں گا۔ تم جاؤ۔ ابا جی کو میرا سلام دینا۔ اور ہاں۔۔۔ ” وہ کہتے کہتے رک گیا۔
“جی حافظ صاحب۔ کچھ کہہ رہے تھے آپ؟” جب وہ خاموش ہی رہا تو رفاقت نے جیسے اسے یاد دلایا۔
“کچھ نہیں۔ ” حافظ عبداللہ نے آہستہ سے کہا۔ “تم جاؤ۔ ”
رفاقت اس سے مصافحہ کر کے رخصت ہو گیا۔ اب وہ اسے کیسے بتاتا کہ وہ اس سے سکینہ کا حال پوچھنا چاہتا تھا۔ الفاظ اس کی زبان تک آ کر رک گئی۔ اس نے خدا کا شکر اد ا کیا کہ کوئی ایسی بات اس کی زبان سے نہ نکل گئی جس سے ا س کے دل کا چور پکڑا جاتا۔ اور یہ تو شاید اسی کے دل کا چور تھا، سکینہ کو اس کی خبر ہو گی، اسے اس بات کا قطعاً یقین نہ تھا۔
سورج نکل آیا تھا جب وہ بابا شاہ مقیم کے مزار پر پہنچا۔ حسب معمول درویش اسے باہر کہیں دکھائی نہ دیا۔ وہ مزار کے اندر چلا گیا۔ سلام کر کے بابا کے سرہانے، ان کے چہرے کے عین سامنے دو زانو بیٹھ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں اور درود شریف کے بعد ذرا بلند آواز میں سورہ محمد کی تلاوت شروع کر دی۔ سرور کی ایک نئی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد جب اسے ہوش آیا تو وہ پھر درود شریف ہی کا ورد کر رہا تھا۔ سورہ محمد کی تلاوت کے بعد اس نے درود شریف کا ورد کب شروع کیا، اسے کچھ خبر نہ تھی۔ بس یہ احساس ہو رہا تھا کہ اس کا اندر شفاف ہو گیا ہے۔ دھُل گیا ہے۔ بے تابی کا کہیں نام و نشان نہیں ہے اور سکون ہے کہ اس پر سایہ فگن ہے۔
اس نے دعا مانگی اور آمین کہتے ہوئے جب چہرے پر ہاتھ پھیرے تو پتہ چلا، اس کا چہرہ اور داڑھی آنسوؤں میں تر تھی۔ سر جھکائے چند لمحے بیٹھا رہا پھر ایک طویل سانس لے کر اٹھ کھڑا ہوا۔ جھک کر مزار کا ماتھا چوما۔ سلام کیا اور الٹے پاؤں باہر نکل آیا۔
باہر قدم رکھا تو بائیں ہاتھ کھڑے درویش نے آنکھیں کھول دیں۔
” آ گیا حافظ۔ ” وہ اس کی طرف بڑھا۔ ” میں کب سے کھڑا تیرا انتظار کر رہا ہوں۔ ” اس نے محبت سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“بابا۔۔۔ آپ۔ ” حافظ نے جلدی جلدی چپل پاؤں میں ڈالی اور اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے کر چوم لیا۔
“اوں ہوں۔۔۔ ” درویش نے سرزنش کی۔ ” آج کیا ہے۔ آئندہ ایسا نہیں کرنا۔ کیوں مجھے ابلیس کے حوالے کرنے پر تُلا ہے تو۔ ” وہ حافظ عبداللہ کو سینے سے لگاتے ہوئے بولا۔ “اسے بھی فخر اور تکبر لے ڈوبا تھا۔ جس کے ہاتھ پاؤں چومے جائیں اسے وہ بڑی جلدی آن لیتا ہے۔ اسے سمجھاتا ہے کہ وہ دوسروں سے افضل ہے۔ اور یہ سوچ ہی وہ تازیانہ ہے جو انسان کے اندر سے عاجزی کو مار مار کر بھگا دیتی ہے۔ ”
“بابا۔ ” حافظ عبداللہ نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔ ” میں یہیں آپ کے پاس نہ آ جاؤں ؟”
“سیانا ہے تو۔ ” درویش مسکرایا۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ٹبے کی طرف چل پڑا۔ “میرے پاس کیا رکھا ہے۔ سوائے تنہائی، اداسی اور جلی بھنی باتوں کی۔ تجھے بھری پُری جگہ پر رہنا ہے۔ پھلنا پھولنا ہے۔ یہاں آ کر کیا کرے گا ؟”
“بس میرا جی چاہتا ہے بابا۔ میں ہر وقت آپ کے پاس رہوں۔ ” حافظ عبداللہ کے لبوں سے نکلا۔
“جی تو بہت سی باتوں کو چاہتا ہے حافظ۔ سبھی پوری تو نہیں ہو جاتیں۔ ” درویش اس کے ساتھ ٹبے پر چڑھا اور دونوں پیپل تلے بیٹھ گئی۔ ” تو یہ بتا۔ اس پگلی کا کیا حال ہے؟”
“کس کا بابا؟” حافظ عبداللہ کا دل زور سے دھڑکا اور نظر جھک گئی۔
درویش نے سر نیچا کئے، گھاس کے تنکے توڑتے حافظ عبداللہ کی طرف چند لمحوں تک دیکھا۔ پھر ہنس دیا۔
“اچھا ہے۔ ” اس نے سر ہلایا۔ ” اچھا ہے، جو تو اسے بھول جانا چاہتا ہے۔ نیکی کو نسیان کے دریا میں ڈال دینا ہی اچھا ہے۔ ”
حافظ عبداللہ نے سر اٹھایا نہ درویش کی بات پر کوئی تاثر ظاہر کیا۔ وہ اب ایک تنکا دانتوں میں دبائے خاموش بیٹھا تھا۔
“چل۔ اشراق پڑھ لیں۔ وقت نہ نکل جائے۔ ” اچانک درویش نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے حافظ کے کندھے سے چادر کھینچی اور ٹبے پر بچھا دی۔ دونوں قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور اپنے اللہ کے دربار میں حاضر ہونے کے لئے عبادت کے دروازے پر اس کی دی ہوئی توفیق سے دستک دینے لگی۔
* * *

دن کے ساڑھے نو بجے تھے جب میاں نذرو کا شاہی تانگہ بابا شاہ مقیم کے مزار کے باہر آن رکا۔ وہ سب لوگ نیچے اترے اور مزار کے اندر سلام کے لئے چلے گئے۔
سکینہ نے اندر جاتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا۔ درویش اور حافظ عبداللہ میں سے کوئی نظر نہ آیا۔ “شاید کمرے میں ہوں گے۔ ” اس نے سوچا اور گھر والوں کے ساتھ مزار کے اندر چلی گئی۔
پھولوں کی چادر چڑھائی گئی جو میاں نذرو نے رستے میں گاؤں کے پھلیرے سے لے لی تھی۔ دعا مانگی گئی۔ اللہ کا شکر ادا کیا گیا جس نے انہیں سکینہ صحیح سلامت لوٹا دی تھی۔
سکینہ نے سر جھکایا تو اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اسے خود پر قابو نہ رہا۔ نہ زبان سے کوئی لفظ نکل رہا تھا نہ دل سے کوئی دعا۔ بس اشک تھے کہ بہتے چلے جا رہے تھے۔ سسکی تک اس کے لبوں تک نہ آئی۔ چہرے کو ڈھانپتا دوپٹہ بہت بڑی ڈھال بن گیا۔ کسی کو معلوم نہ ہوا کہ وہ اشک اشک کیوں ہو رہی ہے؟
دعا کے بعد وہ نذرانہ مزار کے اندر دروازے کے پاس رکھے بکس میں ڈال کر باہر نکلے تو حیران ہوئی۔ سامنے برگد کے درخت تلے دھاری دار دو تین دریاں بچھی تھیں اور درویش ان سے کچھ دور ایک بڑے سے مسطح پتھر پر کھڑے گھٹنے بازوؤں کے کلاوے میں لئے بیٹھا تھا۔ جبکہ میاں نذرو کا کوچوان دری کے کونے پر سر جھکائے حافظ عبداللہ کے پاس بیٹھا تھا۔ انہیں حیرت یہ تھی کہ جب وہ پہنچے تھے تو وہاں ایسی کسی چیز کا نام و نشان نہ تھا مگر اب یوں لگتا تھا کہ یہ سارا اہتمام ہی ان کے لئے کیا گیا ہے۔
انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر درویش اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ سکینہ نے اسے دیکھا اور جیسے بھاگ کر اس کے قریب چلی گئی۔
” آ گئی تو۔ “درویش نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ “جیون جوگئی۔ رو کیوں رہی ہے؟” اس نے آہستہ سے کہا اور اسے ساتھ لگا لیا۔ “کیا اپنا بھید سب کو بتائے گی۔ چُپ ہو جا۔ روک لے اس نمکین پانی کو۔ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ ”
سکینہ نے اس کے کندھے سے لگے لگے بڑے غیر محسوس انداز میں پلو سے آنکھیں خشک کر لیں اور الگ ہو گئی۔
” آؤ جی بھاگاں والیو۔ ” درویش نے ان سب کو دونوں ہاتھ اٹھا کر دور سے کہا اور ساتھ ہی اپنے گھٹنے چھونے سے صاف منع کر دیا۔ اس طرح اس نے ان سے مصافحہ کرنے سے بھی جان بچا لی۔
“بابا۔ ” چوہدری حسن دین نے اس سے دو قدم دور رک کر ہاتھ جوڑ دئیے۔ “ہم آپ کا اور حافظ عبداللہ کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔ ”
“شکر ادا کراس کا چوہدری۔ جس نے یہ سارا کھیل رچایا ہے۔ ” درویش نے آسمان کی جانب انگلی اٹھا دی۔ ” میں نے کیا ہی کچھ نہیں تو شکریہ کس بات کا قبول کروں۔ باقی رہا حافظ، تو وہ بیٹھا ہے۔ وہ جانے اور تم جانو۔ تم جتنا چاہو اسے شرمندہ کر لو۔ ”
“نہیں بابا۔ شرمندہ کیوں کریں گے ہم اسی؟ ہم تو اس کے احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ ہماری بیٹی کی جان بچا کر اس نے ہمیں خرید لیا ہے۔ ” میاں نذرو نے ممنونیت سے کہا۔
“تو کیا کہتا ہے میاں ؟” درویش نے سلیم کا رخ کیا جو کبھی اسے اور کبھی حافظ عبداللہ کو دیکھ رہا تھا۔
“میں۔۔۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں جی۔ میرے لئے تو وہ دنیا کا سب سے عظیم انسان ہے جس نے میری بہن کو مرنے سے بچا لیا۔ ”
“بس۔ ” اچانک درویش بھڑک اٹھا۔ “مرنے سے تیری بہن کو میرے اللہ نے بچایا ہے، حافظ عبداللہ کون ہوتا ہے اسے بچانے والا۔ تم لوگ شرکیہ الفاظ زبان سے نکالتے ہوئے ذرا نہیں سوچتے۔ ”
“معافی چاہتا ہوں بابا۔ ” سلیم سہم سا گیا۔ “میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ ”
“پتہ ہے۔ پتہ ہے۔ ” درویش ایک دم ٹھنڈا ہو گیا اور بیزاری سے بولا۔ “شرک کی نیت نہیں ہوتی، اسی لئے بچ جاتے ہو تم لوگ۔ پھر بھی بولنے سے پہلے سوچا کرو۔ سوچا کرو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ ”
“جی بابا۔ ” سلیم کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگ بھی متاثر نظر آ رہے تھے۔
“لے بھئی حافظ۔ بابا شاہ مقیم نے تیرے مہمان بھیجے ہیں۔ ان سے باتیں کر۔ میں ان کے لئے تبرک لے آؤں۔ ” درویش نے وہیں سے کہا اور سکینہ کے سر پر پیار دے کر پلٹ گیا۔
وہ سب لوگ حافظ عبداللہ کی طرف چل پڑے جو اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔ میاں نذرو، سلیم اور چوہدری حسن دین نے اس سے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔ اس کا حال چال پوچھا۔ تاج بی بی نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں۔ سکینہ، ماں کے عقب میں سر جھکائے کھڑی کنکھیوں سے بار بار حافظ عبداللہ کے پٹی میں ملفوف ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔ پھر وہ سب اس کے پاس ہی دری پر بیٹھ گئے۔
“حافظ صاحب۔ ہم آپ کا شکریہ ادا کر کے اس نیکی کا درجہ نہیں گھٹانا چاہتے جو آپ نے سکینہ ہمیں زندہ سلامت لوٹا کر ہمارے ساتھ کی ہے۔ ” سلیم نے حافظ عبداللہ کا بایاں ہاتھ بڑی محبت سے تھام کر کہا۔ “میں سکینہ کا بھائی ہوں جی۔ زندگی میں کبھی میری جان کی ضرورت بھی پڑ جائے تو مانگ لینا۔ رب کی قسم۔ انکار کروں تو کافر ہو کر مروں جی۔ ”
“کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔ ” حافظ عبداللہ نے گھبرا کر ہاتھ کھینچ لیا۔ “میں نے کیا کیا ہے۔ یہ تو میرے سوہنے اللہ کا کرم ہے کہ سکینہ بی بی کی جان بچ گئی۔ میں تو ایک حیلہ بن گیا اور بس۔ میں نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا میری جگہ۔ سکینہ بی بی پھر بھی بچ جاتیں۔ ”
“سچ ہے بیٹا۔ ” میاں نذرو نے سر ہلا کر کہا۔ ” مگر اب تو تم ہی ہمارے لتے اس نیکی کا سبب بنے ہو ناں۔ زبان سے تمہارے شکریے کے الفاظ ادا کر نے سے دل کو ذرا تسلی ہو جائے گی۔ باقی اس نیکی کا نہ کوئی بدل ہے نہ انعام۔ ”
“بس کرو یار اَب۔ ” ایک دم چوہدری حسن دین بول پڑا۔ “تم تو اپنے شکریے کے بوجھ تلے میرے حافظ صاحب کاسانس روک دو گی۔ بس اب مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ” اس نے حافظ عبداللہ کو مزید مشکل میں پڑنے سے بچا لیا۔
“پھر بھی ابا جی۔ ہمیں حافظ صاحب کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔ زبانی جمع خرچ سے کیا فائدہ۔ ” سلیم نے باپ کی طرف دیکھا۔
“کیا کریں پتر۔ تو بتا ؟” میاں نذرو بیٹے کی طرف متوجہ ہوا۔
“دیکھئے۔ آپ لوگوں نے میرا شکریہ ادا کر لیا۔ اس سے زیادہ کچھ کرنے کے بارے میں آپ لوگ سوچیں بھی مت۔ اس سے مجھے تکلیف ہو گی۔ ” حافظ عبداللہ نے ان کی نیت بھانپ کر جلدی سے کہا۔ اسی وقت اس کی نگاہ سکینہ پر پڑی جو اسے بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے فوراً ہی چہرہ دوسری جانب پھیر لیا۔
“اماں۔ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ ” اچانک سکینہ نے زبان کھولی تو سب لوگ چونک پڑی۔ اس کے وجود سے تو وہ جیسے بے خبر ہی ہو گئے تھی۔
“ہاں ہاں بیٹی۔ تو کہہ۔ ” تاج بی بی کے ساتھ میاں نذرو بھی بول اٹھا۔ ” شاید تیری ہی بات کچھ ایسی ہو کہ ہمارے دل اطمینان پا سکیں۔ ”
“رک جا ؤ بیٹی۔ ” چوہدری حسن دین نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ “ادھر آ۔ پہلے چاچا بھتیجی صلاح کر لیتے ہیں۔ پھر انہیں بتائیں گے۔ آ جا۔ ” وہ دری سے اٹھا اور جوتے پہننے لگا۔
سکینہ نے ایک پل کو کچھ سوچا۔ ایک نگاہ بھر حافظ عبداللہ کی جانب دیکھا۔ لگتا تھا وہ اسے کچھ بھی کہنے سے روکنا چاہتا ہے مگر پھر نجانے کیوں اس نے سکینہ سے نظر ملتے ہی نچلا ہونٹ دانتوں میں داب کر سر جھکا لیا۔ سکینہ، چوہدری حسن دین کے ساتھ ان لوگوں سے تیس پینتیس قدم دور کھیتوں کے کنارے چلی آئی۔
“اب بتا بیٹی۔ کیا کہنا چاہتی ہے تو؟” چوہدری حسن دین یوں کھڑا ہو گیا کہ اس کا رخ باقی لوگوں کی طرف تھا اور سکینہ کی پشت۔
“چاچا۔ ” سکینہ نے زبان پھیر کر اپنے ہونٹوں کو تر کیا۔ ” میں۔۔۔ میں۔۔۔ ” اس نے نظر جھکا لی۔
“دیکھ بیٹی۔ بات تو حافظ عبداللہ کا شکریہ ادا کرنے کی ہے۔ وہ اسے روپیہ پیسہ، مکان وغیرہ دے کر ادا کیا جا سکتا ہے۔ اب تیرے ذہن میں کیا ہے، تو وہ بتا دے۔ ”
“کسی کی جان بچانے کی قیمت کیا یہی کچھ ہے چاچا؟” سکینہ نے اس کی جانب دیکھا۔
“نہیں۔ ” خلاف معمول چوہدری حسن دین اس وقت بالکل سنجیدہ تھا۔ “مگر ہم اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں بیٹی؟”
“جان میری بچائی ہے اس نے چاچا۔ تو کیا اس کا شکریہ ادا کرنے کا موقع مجھے نہیں ملنا چاہئے؟” اچانک سکینہ نے جیسے حوصلہ پکڑ لیا۔
“بالکل ملنا چاہئے بیٹی۔ ” چوہدری حسن دین نے اس کی آنکھوں میں بڑے غور سے دیکھ کر کہا اور اس بار سکینہ نے نظر نہ جھکائی بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی رہی۔ “تو بتا۔ کیا کرنا چاہتی ہے تو؟”
اور جواب میں اس نے جو کہا اسے سن کر چوہدری حسن دین کے پاؤں تلے سے زمین سرک گئی۔ اس نے جیسے لڑکھڑانے سے بچنے کے لئے دونوں ہاتھ سکینہ کے شانوں پر رکھ لئے۔ اس کا رنگ فق ہو گیا اور دل سینے میں دھڑکنا بھول گیا۔
“ہاں چاچا۔ ” سکینہ نے پُرسکون لہجے میں کہا۔ “یہی میرا شکریہ ہے حافظ عبداللہ کے حضور۔ ”
“مگر کیوں بیٹی؟ اتنا بڑا فیصلہ۔۔۔ ”
“میں نے یہ فیصلہ خوب سوچ سمجھ کر کیا ہے چاچا۔ نہ یہ اچانک ہے اور نہ کسی دباؤ کے تحت۔ یہ حتمی ہے۔ اس میں کوئی لچک ممکن نہیں۔ ” اس نے چوہدری حسن دین کی بات کاٹ دی۔
اس کی آواز میں نجانے کیا تھا کہ چوہدری حسن دین کا سانس سینے میں رک سا گیا۔ اس نے پلکیں زور سے جھپک کر نظر میں اڑتی دھول صاف کرنے کی کوشش کی۔ پھر آہستہ سے سکینہ کے کندھوں سے ہاتھ ہٹا لئے۔
“سکینہ بیٹی۔ میں تجھے وہاں ، ان لوگوں کے پاس سے یونہی اٹھا کر نہیں لے آیا تھا۔ جب سے ہم یہاں آئے ہیں ، میں محسوس کر رہا تھا کہ تو حافظ عبداللہ کو بار بار کنکھیوں سے دیکھ رہی ہے۔ میری بات کا برا نہ منانا۔ میں نے اس بات کو اچھا نہ سمجھا اور دل میں بدگمانی کا شکار بھی ہوا، کیونکہ حافظ عبداللہ کی میرے دل میں بڑی عزت ہے۔ وہ میرے بچوں کا استاد ہے۔ اس کی شرم مارتی ہے مجھے۔ جب تو نے کہا کہ تو حافظ عبداللہ کے لئے کچھ کہنا چاہتی ہے تو میں یہ سوچ کر تجھے وہاں سے اٹھا لایا کہ تو نادانی میں کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکال دے جسے بھگتنا ہمارے لئے مشکل ہو جائے مگر مجھے یہ اندازہ قطعی نہیں تھا کہ تو اتنی بڑی بولی لگا دے گی اپنی جان بچانے کی۔ ابھی تک میں یہ بھی نہیں جان پایا کہ تو نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟”
“وہ میں سب کے سامنے بتاؤں گی چاچا۔ ” سکینہ نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
“سب کے سامنے؟” چوہدری حسن دین چونکا۔ “مگر کیوں ؟ دیکھ بیٹی۔ مجھے یہیں بتا دے تاکہ میں وہاں بات کو سنبھال سکوں۔ ”
“ایسی کوئی بات نہیں ہے چاچا، جس کے لئے مجھے کسی کی سفارش کی ضرورت پڑی۔ بات بالکل صاف، سیدھی اور سچی ہے جو میں سب کو ایک ساتھ بتانا چاہتی ہوں۔ ”
“بیٹی۔۔۔ ” چوہدری حسن دین نے کہنا چاہا۔
“بس چاچا۔ اور کچھ نہیں۔ ” سکینہ نے جیسے بات ختم کر دی۔ ” آئیے چلیں۔ سب لوگ نجانے کیا کیا سوچ رہے ہوں گے۔ ” وہ سر جھکائے آہستہ سے پلٹی۔ چوہدری حسن دین نے اسے روکنا چاہا، مگر وہ قدم اٹھا چکی تھی۔ بیچارگی سے ہونٹ کاٹتے اور دماغ میں اٹھتے بگولوں سے دامن بچانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔ آنے والے لمحات میں کیا طوفان جنم لینے والا تھا، اس کا احساس اسے بخوبی ہو رہا تھا۔
سکینہ لوٹی اور سر جھکائے اس طرح آ کر دری پر بیٹھ گئی کہ اب اس کے سب لوگ اس کے سامنے اور حافظ عبداللہ کچھ فاصلے پر بائیں ہاتھ پر تھا۔ چوہدری حسن دین لمبے لمبے ڈگ بھرتا آیا اور سکینہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ سب حیران تھے کہ سکینہ ان کے پاس بیٹھنے کے بجائے ان کے سامنے کیوں آ بیٹھی ہے؟ درویش ابھی تک نہ لوٹا تھا۔
التحیات پر جیسے عورتیں بیٹھتی ہیں ، اس انداز میں بیٹھ کر سکینہ نے بائیں ہتھیلی زمین پر بچھا کر جسم کا سارا بوجھ اس پر ڈال دیا اور دوپٹہ سر پر ٹھیک کر لیا۔
“چاچا۔ آپ بات کریں گے یا میں بولوں ؟” اس نے اپنے ساتھ بیٹھے چوہدری حسن دین سے آہستہ آواز میں پوچھا، جس کی ساری شگفتگی ہوا ہو چکی تھی۔
“نہیں۔ تم ابھی خاموش رہو۔ ” چوہدری حسن دین نے بھی آہستہ سے جواب دیا اور کھنکار کر گلا صاف کیا۔
سب لوگ انہیں اشتیاق بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ آخر میاں نذرو رہ نہ سکا اور بول پڑا۔ “کیا بات ہوئی بھئی تم چاچے بھتیجی میں۔ اب بتا بھی دو۔ کیوں ہمارا ضبط آزما رہے ہو۔ ”
“میاں۔ ” چوہدری حسن دین نے بجھی بجھی نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔ “سکینہ بیٹی۔۔۔ ” وہ رک گیا۔ اس کا حوصلہ نہ پڑ رہا تھا کہ بات ایک دم سے زبان سے نکال دی۔
“سکینہ بیٹی۔ ” اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔ ” وہ چاہتی ہے کہ۔۔۔ ”
“ارے بابا۔ کیوں تیرا پیشاب خطا ہو رہا ہے۔ کہہ دے جلدی سے۔ میرا دل تو ہول کھانے لگا ہے کہ نجانے کیا بات کہنے والا ہے تو؟” میاں نذرو کی بیتابی شدید ہو گئی۔
” تو سن میاں۔ ” چوہدری حسن دین نے سر جھٹک کر کہا۔ اس نے سوچ لیا کہ اب جو ہو سو ہو، اسے بات کر دینی چاہئے۔ ” مگر میری بات سننے سے پہلے یہ جان لے کہ اگر بات تم لوگوں کی عقل اور سمجھ سے اوپر کی ہوئی تو فوری طور پر کوئی جوابی اقدام کرنے سے گریز کرنا۔ بات اتنی ہی نازک ہے کہ میں بھی بڑی مشکل سے سمجھ پایا ہوں۔ ”
سب لوگوں کے کان کھڑے ہو گئے۔ حافظ عبداللہ نے گھبرا کر سکینہ اور چوہدری حسن دین کی جانب دیکھا۔ سکینہ تو سر جھکائے بیٹھی تھی اور چوہدری حسن دین نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ضرور مگر وہاں اس کے لئے کوئی پیغام تھا نہ تسلی۔
“سکینہ بیٹی چاہتی ہے کہ اس کی شادی حافظ عبداللہ سے کر دی جائے۔ ”
چوہدری حسن دین کے الفاظ تھے یا بجلی کا کڑاکا۔ انہیں یوں لگا جیسے ان کی سماعتیں انہیں دھوکا دے رہی ہوں۔ وہ کچھ اور سننا چاہتے تھے مگر سنائی کچھ اور دے رہا تھا۔
“کیا کہہ رہے ہو چوہدری؟” میاں نذرو ایک دم ہتھے سے اکھڑ گیا۔ اس نے گھور کر حافظ عبداللہ کی جانب دیکھا جو اپنی جگہ پر دم بخود بیٹھا تھا۔ اسے خود سمجھ نہ آ رہی تھی کہ اس نے جو سنا وہ غلط تھا، یا جو سکینہ کی نظریں کہہ رہی تھیں ، وہ سچ تھا۔ سکینہ نے اسے ایک بار بھرپور نگاہوں سے دیکھا، پھر سر جھکا لیا۔
“میں درست کہہ رہا ہوں۔ مجھ سے سکینہ بیٹی نے یہی کہا ہے۔ ” چوہدری حسن دین نے سنبھالا لیا۔ ” اور میاں۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ تمہیں بات کی باریکی کو سمجھنے سے پہلے کوئی بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ ”
“اور بات کی باریکی کو سمجھا کیسے جائے گا چاچا؟” اچانک سلیم کی زہریلی آواز ابھری۔ وہ اپنے غصے کو ضبط کی لگام دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
“سکینہ بیٹی کی بات سن کر۔ اس نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟ یہ جاننے کے بعد ہی ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہمیں اس کی بات ماننا چاہئے یا نہیں ؟”
“مگر بھائی صاحب۔ یہ کیسے ممکن ہے؟” تاج بی بی کی کمزور سی آواز ابھری۔ اسے سکینہ سے ایسے اقدام کی امید ہی نہ تھی۔ ویسے بھی وہ اپنے دیور کے رحم و کرم پر تھی۔ اسے زندگی کی ہرسہولت ضرور میسرتھی مگر ہر فیصلے کا اختیار صرف میاں نذرو کے پاس تھا۔ اب اسے یہ خوف ستا رہا تھا کہ سکینہ کی اس بات کے رد عمل کے طور پر ان ماں بیٹیوں کے ساتھ جوسلوک ہو گا، اس کی ابتدا کس ستم سے ہو گی۔
“ممکن اور ناممکن کا فیصلہ کرنے سے پہلے اگر آپ لوگ مجھے کچھ کہنے کا موقع دیں تو شاید میں آپ کو سمجھا سکوں۔ ” سکینہ نے بڑی مشکل سے بوجھل پلکیں اٹھائیں اور حافظ عبداللہ کی جانب دیکھاجس کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن کے مصداق وہ اپنی جگہ جیسے گڑ کر رہ گیا تھا۔
” پہلی بات یہ ہے کہ میں نے یہ فیصلہ اپنی ذات میں رہ کر، اپنے طور پر کیا ہے۔ اس میں حافظ صاحب کا کوئی دخل نہیں ہے، اس لئے انہیں کسی بھی طرح قصوروار نہ سمجھا جائے۔ ”
“اور دوسری بات؟” شعلہ بار انداز میں سلیم نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔
“دوسری بات یہ کہ میرے اس فیصلے کی، ایک عورت ہونے کے ناطے، میرے پاس بڑی معقول وجہ موجود ہے۔ ”
“وہ بھی کہہ ڈالو۔ ” سلیم کا لہجہ اب بھی بڑا تلخ تھا۔
“ایک عورت کے لئے سب سے محترم وہ مرد ہوتا ہے جو سب سے پہلے اس کے جسم کو چھوتا ہے۔ ”
“کیا مطلب؟” ایک دم سلیم اور میاں نذرو کے ہونٹوں سے نکلا اور وہ آگ بگولہ ہو گئی۔ ان کے نظروں کا ہدف حافظ عبداللہ بنا مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتے، سکینہ کی آواز نے انہیں اپنی طرف متوجہ کر لیا۔
“میری بات کا غلط مطلب نہ لو سلیم بھائی۔ مجھے اپنی بات پوری کرنے دو۔ ”
“یہ ٹھیک کہہ رہی ہے سلیم۔ ” چوہدری حسن دین نے دونوں باپ بیٹے کو تنبیہ کرنے کے انداز میں کہا۔ “اس کی بات پوری سن تو لو۔”
“سننے کے لئے رہا کیا ہے اب چاچا۔ سب کچھ تو صاف ہو گیا ہے۔ ” سلیم بھڑکا۔
“کچھ صاف نہیں ہوا۔ کچھ نہیں سنا ابھی تم نے۔ ” سکینہ کی آواز بلند ہو گئی۔ ” مجھے بات پوری کر نے دو۔ غصہ نکالنے کے لئے تمہیں بہت وقت مل جائے گا۔ ”
سلیم اور میاں نذرو نے اسے بڑی کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے بادل نخواستہ خاموشی اختیار کر لی اور حافظ عبداللہ نے ایک بار پھر امید بھری نظروں سے بابا شاہ مقیم کے مزار کی جانب دیکھا۔ ابھی تک درویش باہر نہیں آیا تھا۔ اس کے ہوتے شاید حالات وہ خراب رخ اختیار نہ کرتے، جس کی طرف وہ اب جا رہے تھے۔
“مجھے جب سیلاب سے حافظ صاحب نے نکالا تو یہ شام کے قریب کا وقت تھا اور میں اس وقت بیہوش تھی۔ میرے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھی۔ وہ مجھے چادر میں لپیٹ کر اپنے کندھے پر اٹھا کر اس کمرے میں لے گئے اور چارپائی پر ڈال دیا۔ ” سکینہ نے اس کمرے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا جس میں اس نے رات گزاری تھی۔ سب نے پلٹ کر اس جانب دیکھا اور پھر اس کی طرف متوجہ ہو گئی۔ وہ کہہ رہی تھی۔
“میں جب ہوش میں آئی تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ مجھے بتایا کہ میں بابا شاہ مقیم کے مزار پر ہوں۔ مجھے کھانے کو روٹی دے کر وہ دوسرے کمرے میں چلے گئے اور قرآن پاک کی تلاوت میں محو ہو گئی۔ “میرے ساتھ میرا اللہ موجود ہے۔” یہ بات مجھے بے خوف کرنے کے لئے حافظ صاحب نے کہی تھی، مگر ایک اجنبی جوان مرد کے ساتھ انجان جگہ پر موجود ہونے کا احساس مجھے پلک نہ جھپکنے دیتا تھا۔ میرا جسم پانی کے تھپیڑے کھا کھا کر چور ہو چکا تھا۔ میں تھکن سے بے حال تھی۔ سو جانا چاہتی تھی۔ جاگ جاگ کر جب حواس میرا ساتھ چھوڑنے لگے تو میں نے کمرہ اندر سے بند کیا اور لیٹ گئی۔ تب، حافظ صاحب چپکے سے آئے۔ مجھے سوتا دیکھ کر چند لمحے کھڑے رہے پھر لوٹ گئی۔ میں نے ان کے جانے کے بعد اٹھ کر کھڑکی کی درز سے دیکھا۔ وہ بے تابی سے کمرے میں ٹہل رہے تھے۔ شاید وہ بھی اسی کیفیت کا شکار تھے جو مجھے نہ سونے دے رہی تھی۔ میں گھبرا گئی اور اپنے اللہ سے رو رو کر مدد مانگنے لگی۔ ”
سکینہ رکی۔ اس نے سر جھکائے بیٹھے حافظ عبداللہ پر ڈالی۔ پھر میاں نذرو، سلیم اور اپنی ماں کی جانب دیکھا، جو خاموشی سے اس کی بات سن رہے تھے۔ ان کی حالت میں ایک ٹھہراؤ تو آیا تھا مگر ماتھے اب بھی شکن آلود تھے۔
“کافی دیر بعد میں نے دوبارہ ڈرتے ڈرتے کھڑکی کی درز سے جھانک کر دیکھا اور میرا سانس رک گیا۔ میرے حواس میرا ساتھ چھوڑ گئی۔ جب صورت حال میری سمجھ میں آئی تو مجھے لگا، میں کسی اور ہی دنیا میں ہوں۔ حافظ صاحب مجھے اس دنیا کے فرد نہ لگے۔ میں ان کے سامنے خود کو حقیر ترین محسوس ہوئی۔ آپ جانتے ہیں ، میں نے کیا دیکھا؟”
سکینہ نے بات روک کر دھندلائی ہوئی نظروں سے ان سب کو باری باری دیکھا۔ وہ سب اس کی بات مکمل ہونے کے انتظار میں اسی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کوئی جواب دیتا بھی تو کیا، خود چوہدری حسن دین تک تو حیرت میں گم یہ قصہ عجب شب سن رہا تھا۔
“میں نے دیکھا۔ ” سکینہ کی آواز بھیگتی چلی گئی۔ ” حافظ صاحب تلاوت میں اس طرح منہمک ہیں کہ انہیں یہ تک ہوش نہیں کہ شیطان کو اپنے خیالوں سی، اپنی سوچوں سے نکال پھینکنے کے لئے انہوں نے اپنا جو ہاتھ جلتے چراغ کی لو پر رکھا تھا، وہ خشک لکڑی کی طرح آگ پکڑ چکا ہے۔ جل رہا ہے۔ پگھل رہا ہے۔ میں بھاگی۔ ان کے کمرے میں پہنچی۔ ان کے قریب پہنچی تو درویش بابا نے مزار کے باہر اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔ میں نے حافظ صاحب کا ہاتھ جلتے چراغ سے ہٹایا۔ وہ سر سے پاؤں تک پسینے میں ڈوبے ہوئے تھی۔ درد اور تکلیف کا احساس انہیں تب ہوا جب میں نے ان کا ہاتھ کمبل کے پلو میں لپیٹا اور انہوں نے مجھے دیکھا۔ ایک کراہ کے ساتھ وہ غش کھا گئے۔ اسی وقت درویش بابا اذان ختم کر کے اندر آئے اور انہوں نے حافظ صاحب کو لے جا کر اسی چارپائی پر ڈال دیا جس پر ساری رات میں کروٹیں بدلتی رہی تھی۔ یہ ہاتھ۔۔۔ ” سکینہ نے سسکی لی اور حافظ عبداللہ کے جلے ہوئے ہاتھ کی جانب اشارہ کیا۔ ” خود بخود جلتے ہوئے چراغ پر نہیں جا پڑا تھا۔ حافظ صاحب نے اسے خود آگ کے حوالے کر دیا تھا، تاکہ ان کے خیالوں میں بار بار نقب لگاتا شیطان جل کر خاک ہو جائے۔ درد اور اذیت کی جس منزل سے وہ گزرے ہیں ، میں اور آپ اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔ اور یہ سب انہوں نے صرف اس لئے کیا کہ ان کا دھیان میری طرف سے ہٹا رہے۔ میں ان کی نفسانی گمراہی سے محفوظ رہوں۔ سکینہ کی عزت بچی رہی۔ سکینہ اپنے پچھلوں تک پہنچے تو اس کا دامن پاک ہو۔ “وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے اپنی لرزتی آواز پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی۔ آنسو بہنے کا اسے کوئی ہوش نہ تھا۔
چوہدری حسن دین بُت بنا سب کچھ سن رہا تھا تو باقی لوگوں کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا۔ ان کے اذہان میں آندھیاں چل رہی تھیں۔ وہ سب کچھ سن رہے تھے اور تصور میں فلم سی چلتی دیکھ رہے تھے۔
“ایک جوان لڑکی کو اپنے نفس کی بھینٹ چڑھنے سے بچانے کے لئے حافظ صاحب نے خود کو جس امتحان میں ڈالا، کیا وہ کسی عام انسان کے بس کی بات ہے؟” سکینہ نے چند لمحوں کے بعد آنکھیں خشک کرتے ہوئے ان سب سے سوال کیا۔ ” ان کا ہاتھ زندگی بھر کے لئے ناکارہ ہو گیا۔ ایک دن میری شادی ہونا ہی ہے۔ جس طرح ہر لڑکی چاہتی ہے کہ اس کا ہونے والا شوہر خوبصورت ہو۔ خوبیوں میں ایسا ہو کہ دوسری لڑکیاں اس پر رشک کریں۔ اسی طرح میں بھی اپنے لئے ایسا ہی شوہر چاہتی ہوں۔۔۔ لیکن کیا مجھے حافظ صاحب جیسا مرد ملے گا؟ ایسا مرد جس نے اپنے نفس کو پچھاڑ کر ثابت کر دیا کہ مردانگی عزت لوٹنے کا نام نہیں ، عزت کی حفاظت کرنے کا نام ہے۔ میرے جسم کو صرف ایک غیر مرد نے اب تک چھوا اور وہ حافظ صاحب ہیں۔ انہوں نے جن حالات میں مجھے مس کیا، وہ ان کی مجبوری تھی لیکن انہوں نے میری مجبوری سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ میرا جسم میرے شوہر کی امانت ہے۔ میں چاہتی ہوں ، چار کلمے پڑھ کر جس انسان کو میرے جسم کا مالک بننا ہے، وہ وہی ہو جس نے پہلی اور آخری بار میرے جسم کو چھُوا اور اس میں اس کی بدنیتی کو کوئی دخل نہ تھا۔۔۔ ہاں مگر اس کے لئے میں حافظ صاحب کی رضا کی مکمل پابند ہوں۔ اگر وہ نہیں چاہتے تو میں انہیں اس کے لئے مجبور نہیں کروں گی کہ وہ مجھ سے شادی کے لئے ہاں کریں۔ ”
سکینہ خاموش ہو گئی۔
چوہدری حسن دین نے ہاتھ بڑھایا اور اسے بازو کے کلاوے میں لے کر اس کا ماتھا چوم لیا۔ وہ سسکتی ہوئی اس کے سینے سے لگ گئی۔
سب لوگ سر جھکائے بیٹھے تھے۔ انہیں فیصلہ کرنے میں دقت ہونا ایک قدرتی امر تھا۔ یہ کوئی گڈے گڑیا کا بیاہ نہیں تھا جس کے لئے بغیر سوچے سمجھے ہاں کر دی جاتی۔ حافظ عبداللہ نے ایک بار پھر مزار کی طرف نظر اٹھائی اور یہ دیکھ کر چونکا کہ مزار کے بجائے درویش گاؤں کی طرف سے آنے والے رستے پر چلا آ رہا تھا۔ اس کے سر پر مٹھائی کی ٹوکری تھی جسے وہ ایک ہاتھ سے سنبھالے ہوئے تھا۔
اسے آتا دیکھ کر حافظ عبداللہ نے بڑا حوصلہ محسوس کیا۔ درویش نے چوہدری حسن دین کے قریب پہنچ کر مٹھائی کی ٹوکری اسے تھما دی۔
“بابا۔ یہ کیا ہے؟” وہ حیرت سے بولا۔
“بابے شاہ مقیم کی طرف سے تبرک بھی ہے اور منہ میٹھا کرنے کے لئے مبارک بھی۔ ” درویش نے دھیرے سے کہا۔ پھر باقی لوگوں کی طرف متوجہ ہوا جو اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے تھے۔
“بیٹھو بیٹھو اللہ والیو۔ کھڑے کیوں ہو گئے۔ بیٹھ جاؤ۔ لگتا ہے ابھی بات تم لوگوں کے حلق سے نہیں اتری۔ میرے حافظ کو تول رہے ہو ابھی۔ ” وہ رکا تو حافظ عبداللہ اٹھا اور تیزی سے چلتا ہوا اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔ سکینہ اب درویش کے دائیں اور حافظ عبداللہ بائیں طرف تھا۔ باقی سب لوگ اس کے سامنے تھے۔ حافظ عبداللہ نے کچھ کہنا چاہا مگر درویش نے اسے ہاتھ اٹھا کر خاموش کرا دیا۔ اس کے بیٹھنے پر سب لوگ پھر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔
“ہاں۔ تو ابھی تک حافظ کا تول پورا نہیں ہوا۔ یہی بات ہے ناں ؟” درویش نے میاں نذرو اور سلیم کی طرف دیکھا۔
“بات یہ ہے بابا۔۔۔ ” میاں نذرو نے زبان کھولی۔
“حافظ عبداللہ کا رنگ سانولا ہے۔ چہرہ مہرہ بھی واجبی سا ہے۔ مال دولت پلے ہے نہیں۔ مسجد کے حجرے میں رہتا ہے۔ آگے پیچھے رونے والا بھی کوئی نہیں۔ سکینہ جیسی پڑھی لکھی، خوبصورت، اچھے اور اونچے گھرانے کی لڑکی کے قابل نہیں ہے وہ۔ یہی بات ہے ناں میاں ؟” درویش نے میاں نذرو کی بولتی بند کر دی۔ “مگر اس سے شادی کا فیصلہ تو سکینہ نے کیا ہے۔ وہ بالغ ہے۔ اپنی پسند کا نکاح کر سکتی ہے۔ پھر تم لوگوں کو کیا اعتراض ہے اس پر؟”
“اعتراض ہے بھی اور نہیں بھی بابا۔ ” اس بار سلیم نے کہا۔
“جو میں نے گِنوائے ہیں ، ان کے علاوہ کوئی اور اعتراض ہو تو کہو۔ ” درویش نے اسے مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا۔
“لڑکی کی ماں سے بھی تو پوچھ لینا چاہئے۔ ”
“ہاں۔ یہ جائز بات ہے۔ ” درویش نے تاج بی بی کا رخ کیا۔ “تو بول۔ تو کیا کہتی ہے بی بی۔ تجھے کیا اعتراض ہے اس انہونی پر؟”
“مجھے؟” تاج بی بی نے گھبرا کر میاں نذرو اور پھر سلیم کی طرف دیکھا جو اسے سرد سی نظروں سے تک رہے تھے۔ “مجھے کیا اعتراض ہو گا بابا جی۔ جو فیصلہ کرنا ہے سکینہ کے چاچا اور سلیم پتر نے کرنا ہے۔ ”
“مطلب یہ ہے کہ تجھے اس نکاح پر کوئی اعتراض تو نہیں ناں ؟”
“میں کیا کہہ سکتی ہوں جی؟” تاج بی بی نے بیچارگی سے کہا اور سر جھکا لیا۔
“ہاں۔ تو کیا کہے گی بیچارئیے۔ تیری زبان پر تو بیوگی نے تالا ڈال رکھا ہے۔ بولے گی تو بے گھر ہو جائے گی اس عمر میں۔ اپنا کیا ہے تیرے پاس، سوائے سکینہ کی۔۔۔ ” درویش نے طنز بھری نگاہوں سے میاں نذرو اور سلیم کی جانب دیکھا جنہوں نے سر جھکا لئے تھی۔
” آپ ہماری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کریں بابا۔ ” سلیم نے آہستہ سے کہا۔ “لوگ کیا کہیں گے۔ برادری کیا کیا باتیں نہ بنائے گی؟ہم کس کس کا منہ بند کرتے پھریں گے۔ ”
“باقی سب کی فکر چھوڑ۔ صرف اپنا منہ بند کر لے۔ ” درویش نے اس کی جانب انگلی اٹھائی۔ “تو نہ چاہے گا تب بھی یہ نکاح تو ہو گا۔”
“کوئی زبردستی ہے؟” سلیم ہتھے سے اکھڑ گیا۔
“نہیں۔ ” درویش مسکرایا۔ “زبردستی نہیں۔ فیصلہ ہے اس کا۔ ” اس نے آسمان کی جانب دیکھا۔ ” اور اس کے فیصلے تیرے میرے چاہنے سے نہیں بدلتے۔ تو زور لگا کر دیکھ لے۔ ہو گا وہی جو اس کی مرضی ہے۔ ”
“ابا۔ اٹھ جا۔ چلیں اب۔ بہت ہو گئی۔ چل تائی۔ سکینہ کو ساتھ لے اور گھر چل۔ ” سلیم نے اچانک اپنی جگہ چھوڑ دی۔
میاں نذرو نے اس کی جانب دیکھا۔ پھر دوپٹے میں منہ چھپائے بیٹھی آنسو بہاتی تاج بی بی پر نگاہ ڈالی۔ آخر میں اس کی نظر سر جھکائے بیٹھی سکینہ پر جم گئی۔ چند لمحے وہ انگلیاں مروڑتی سکینہ کو دیکھتا رہا۔ پھر حافظ عبداللہ کی طرف نگاہ اٹھائی، جو اپنے جلے ہوئے ہاتھ کو گھور رہا تھا۔
“ابا۔۔۔ ” سلیم نے اس کا شانہ ہلایا۔
میاں نذرو نے آہستہ سے اس کا ہاتھ شانے سے ہٹا دیا اور درویش کی طرف متوجہ ہوا۔ “بابا۔ آپ نے فیصلہ تو سنا دیا مگر اب تک حافظ عبداللہ سے نہیں پوچھا کہ اس کی کیا مرضی ہے؟”
“تواب پوچھ لیتے ہیں اللہ والیا۔ ” درویش نے حافظ عبداللہ کی طرف دیکھا۔ “کیوں حافظ۔ تجھے سکینہ سے نکاح منظور ہے یا نہیں ؟ دل سے جواب دینا۔ کوئی زبردستی ہے نہ دباؤ۔ تو اپنے فیصلے میں آزاد ہے۔ ”
“بابا۔ ” حافظ عبداللہ نے ایک نظر سکینہ پر ڈالی جو اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نجانے کیا تھا کہ حافظ عبداللہ ان میں کھو کر رہ گیا۔ پھر چند لمحوں کے بعد اس نے سر جھکا لیا۔ ” میں خود کو اس قابل نہیں پاتا۔ ”
“سیانا نہ بن۔ ” درویش نے اسے جھڑکی سی دی۔ “جو نعمت اللہ تجھے دے رہا ہے اس کا کفران کر رہا ہے۔ شرم کر شرم۔ ”
“بابا۔۔۔ میں۔۔۔ ” حافظ ہکلا کر رہ گیا۔
“سکینہ۔ پگلئے، یہ تو بڑا بزدل نکلا۔ ڈرتا ہے۔ امتحان سے نہیں ڈرا۔ نتیجے سے ڈر گیا۔ ” درویش نے سکینہ کی جانب گردن جھکائی۔ ” اب بول۔ کیا کرے گی تو؟”
“کچھ نہیں بابا۔ ” سکینہ نے بڑے سکون سے کہا۔ ” میں نے کہا ناں۔ مجھے جس نے ایک بار چھو لیا، وہی میرا صاحب ہے۔ یہ میرے قابل نہیں ، بات یہ نہیں۔ اصل میں ، مَیں ان کے قابل نہیں ہوں۔ یہ مجھے نہ اپنائیں۔ ان کی مرضی۔ میں ساری زندگی ان کے نام پر بیٹھ کر گزار دوں گی۔ لوگوں کے سائیں پردیس بھی تو چلے جاتے ہیں بابا۔ ”
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟” حافظ عبداللہ نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا۔
“ٹھیک کہہ رہی ہوں حافظ صاحب۔ ” اس کے لبوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔ “میں نے آپ کا رنگ ڈھنگ، آپ کا نام نسب، آپ کا خاندان اور مال و دولت نہیں دیکھی۔ آپ نے یہ سب کچھ دیکھا۔ فیصلہ آپ کا رہا۔ آپ نے مجھے ٹھکرا دیا مگر میں نے آپ کو اپنا لیا ہے۔ اپنا مان لیا ہے۔ ”
” آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔ ” حافظ کا لہجہ بھرا گیا۔ ” میں اس قابل نہیں ہوں کہ آپ کو کوئی سُکھ دے سکوں۔ لوگوں کے دیے ہوئے پر دو وقت کی روٹی چلتی ہے۔ مسجد کے حجرے میں رہتا ہوں۔ آپ نازوں کی پلی میرے ساتھ رُل جائیں گی۔ ”
“رُل جانے دیجئے مجھے۔ میں مرضی سے رُل جانے کو تیار ہوں۔ آپ مجھے نہ رُلنے پر مجبور کرنے والے کون ہوتے ہیں ؟” سکینہ کی آواز ڈوب گئی۔
“بابا۔ ” اچانک چوہدری حسن دین نے درویش کی جانب دیکھا۔ “مجھے کچھ کہنے کی اجازت ہے۔ ”
“ہاں ہاں۔ سب اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں۔ تو بھی بول۔ مجھے پتہ ہے تو اچھا ہی بولے گا۔ بول۔ ”
“اگر بات اتنی ہی سی ہے تو۔۔۔ ” اس نے جیب سے چابیوں کا گچھا نکالا۔ اس میں سے ایک چابی نکالی اور دری پر رکھ دی۔ “یہ میرے آبائی مکان کی چابی ہے۔ میں ابھی اسی وقت یہ مکان اور اپنے چار کھیت جو اس مکان کے ساتھ جڑے ہیں ، حافظ عبداللہ کے نام کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے اب انہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ ”
سب لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ سلیم کا حال سب سے برا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ حقیقت میں ہو رہا ہے۔
“یہ کی ناں پگلوں والی بات۔ ” درویش قلقاری مار کر ہنسا۔ ” اب بول حافظ۔ اب کیا کہتا ہے۔ اب تو تو بھی ساہوکار ہو گیا۔ اب کیسے ہچر مچر کرے گا؟”
“بابا۔ ” حافظ عبداللہ کی آواز حلق میں پھنس گئی۔ درد کی ایک لہر آنسوؤں میں بھیگ کر پلکوں سے اتری اور رخساروں پر پھیل گئی۔ وہ بایاں ہاتھ چہرے پر رکھ کر سسک پڑا۔
“مبارک ہو سکینہ۔ تیرا پگلا پن کام آ گیا۔ ” درویش نے مسکراتے ہوئے سکینہ کی جانب دیکھا۔ وہ سرخ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ کر ہولے سے ہنس دی۔
“پگلی۔ اٹھا لے یہ رسید۔ اس پر قبولیت کے دستخط ہو گئے ہیں۔ ” درویش نے چابی کی طرف اشارہ کیا تو چوہدری حسن دین نے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں بابا۔ میں نے خالی خولی صلح نہیں ماری تھی۔ یہ سب اب حافظ۔۔۔ ”
“پتہ ہے۔ پتہ ہے۔ ” درویش نے چابی اٹھا کر اس کی جیب میں ڈال دی۔ ” تو نے جس نیت سے کہا تھا، وہی تو قبول ہوئی ہے پگلی۔ رہے یہ دونوں۔ تو ان کے لئے میرا اللہ اور اس کا پیارا حبیب کافی ہیں۔ ”
چوہدری حسن دین خاموش ہو گیا۔
” ہاں بھئی چھوٹے میاں۔ اب کیا خیال ہے تیرا؟” درویش نے سلیم کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ جواب میں وہ خاموشی سے اٹھا اور ایک طرف سر جھکا کر جا بیٹھا۔
“بابا۔ ” چوہدری حسن دین کی آواز پر وہ سب ایک دم چونکی۔ “اگر اجازت ہو تو میں حافظ عبداللہ کے لئے میاں نذرو سے سکینہ بیٹی کا ہاتھ باقاعدہ مانگ لوں۔ ”
“تو بھی مانگنا چاہتا ہے چوہدری۔ ” درویش بڑے اچھے موڈ میں تھا۔ ” مانگ لے۔ مانگ لے۔ تو بھی نام لکھوا لے۔ جلدی کر۔ ”
اور چوہدری حسن دین نے آگے سرک کر اپنی اچکن کا پلہ میاں نذرو کے سامنے پھیلا دیا۔ “میاں۔ اپنی بیٹی میرے حافظ صاحب کے لئے میری جھولی میں ڈال دے یار۔ ”
“اس کا اختیار میری بھوجائی کو ہے چوہدری۔ ” میاں نذرو نے تاج بی بی کی طرف اشارہ کر دیا۔
چوہدری نے اس کی طرف رخ کیا تو تاج بی بی نے گردن گھما کر نم آنکھوں سے سلیم کی طرف دیکھا۔ “سلیم پتر۔ تیری بہن کا ہاتھ مانگ رہے ہیں چوہدری صاحب۔ کیا ہاں کر دوں بیٹا؟”
“تائی۔ ” سلیم اٹھ کر آیا اور تاج بی بی سے لپٹ گیا۔ وہ بچوں کی طرح رو رہا تھا۔
“واہ بھئی واہ۔ آج تو یہاں سب ہی اللہ والے اکٹھے ہو گئے۔ ” درویش جھومتے ہوئے بولا۔ ” آج تو سب کے اندر دھوئے جا رہے ہیں۔ سب کا میل نکالا جا رہا ہے۔ واہ میرے مالک۔ آج تو کیا دکھانا چاہتا ہے؟” وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
“میری ایک درخواست ہے چوہدری صاحب۔ ” حافظ عبداللہ نے جھجکتے ہوئے چوہدری حسن دین سے کہا۔
” آپ حکم دیں حافظ صاحب۔ درخواست کیوں کرتے ہیں آپ۔ ” وہ بڑے خلوص سے بولا۔
“اگر یہ بات طے ہو ہی گئی ہے تو میں چاہوں گا کہ نکاح بڑی سادگی اور خاموشی سے ہو۔ کوئی ہلا گلا نہ کیا جائے۔ ”
“مگر۔۔۔ ” سلیم نے کہنا چاہا۔
“حافظ صاحب ہمارے سر کے صاحب ہیں سلیم پتر۔ یہ جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی کرو۔ ” میاں نذرو نے سلیم کی جانب دیکھ کر کہا۔ ” اگر ہم اسے روایتی شادی کے طور پر کریں گے تو شرعی پابندیوں کا تماشا ضرور بنے گا اور میرا خیال ہے، حافظ صاحب چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔ ”
“جی ہاں۔ ” حافظ عبداللہ نے نظر اٹھائی۔ “میرا یہی مطلب تھا۔ ”
“تو ٹھیک ہے۔ ” چوہدری حسن دین نے دخل دیا۔ “اگر معاملہ اسی طرح توڑ چڑھنا ہے تو دیر کس بات کی۔ ابھی نکاح پڑھاؤ اور دھی رانی کو وداع کر دو۔ ”
“اتنی جلدی اور اس حالت میں ؟” اب کے تاج بی بی بولی۔
“ارے بہن میری۔ نیک کام میں دیر کی جائے تو شیطان سو سو حیلے رکاوٹیں پیدا کر دیتا ہے۔ یہاں داج وری کا جھگڑا تو ہے کوئی نہیں۔ اللہ کا دیا میرے پاس حافظ صاحب کے لئے سب کچھ موجود ہے۔ میں تو کہتا ہوں بابا شاہ مقیم کی دعاؤں کی چھاؤں میں یہ کام آج ابھی کر کے سرخرو ہو جاؤ۔ ”
بابا شاہ مقیم کا نام آیا تو سب کے منہ بند ہو گئے۔ حافظ عبداللہ کے سر پر چوہدری حسن دین نے اپنا پٹکا ڈالا اور سکینہ کا گھونگھٹ نکال کر اس کی ماں کے پاس بٹھا دیا گیا۔ حافظ عبداللہ نے اپنا نکاح خود پڑھایا۔ حق مہر کی ادائیگی اسی وقت چوہدری حسن دین نے اپنی انگلی سے سونے کی انگوٹھی اتار کے کر دی۔ حافظ عبداللہ نے خود سکینہ کو انگوٹھی پہنائی۔
نکاح ہو گیا تو درویش نے مبارک مبارک کا شور مچا دیا۔
“لاؤ بھئی لاؤ۔ مٹھائی لاؤ۔ بابا شاہ مقیم انتظار میں ہو گا۔ چلو چوہدری۔ سب کا منہ میٹھا کراؤ بھئی۔ ” وہ بچوں کی طرح خوش تھا۔ سب سے پہلے اس نے مٹھائی کا ٹکڑا اٹھا کر سکینہ کے منہ سے لگایا۔ پھر حافظ عبداللہ کو برفی کھلائی۔ اس کے بعد ہاتھ چوہدری حسن دین کے آگے پھیلا دیا۔
“لاؤ چوہدری۔ میرا حصہ؟”
“بابا۔ ” چوہدری حسن دین حیرت سے بولا۔ ” آپ کا حصہ کیسا؟ یہ سب آپ ہی کا تو ہے۔ ” اس نے مٹھائی کا ٹوکرا درویش کے آگے کر دیا۔
“نہیں بھائی۔ میرا حصہ دیتا ہے تو دے۔ ورنہ میں چلا۔ ” وہ جیسے ناراض ہو گیا۔
چوہدری حسن دین نے جلدی سے ایک بڑا گلاب جامن اٹھا کر درویش کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
“میرے پگلے کا حصہ بھی دے۔ ” اس نے دوسرا ہاتھ آگے کر دیا۔
“پگلا؟” چوہدری حسن دین کے ساتھ باقی سب بھی حیران ہوئی۔ ” وہ کون ہے بابا؟”
“تجھے اس سے کیا کہ وہ کون ہے؟ تو اس کا حصہ دے دے۔ لا جلدی کر۔ ”
چوہدری حسن دین نے اس کی ناراضگی کے ڈر سے فوراً ہی دوسرا گلاب جامن اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
درویش ایک دم پلٹا اور یوں تیز تیز قدموں سے مزار کی جانب چل دیا، جیسے وہ ان میں سے کسی کا واقف ہی نہ ہو۔ پھر مزار کے اندر جا کر اس نے دروازہ بند کر لیا۔
سکینہ اور حافظ عبداللہ نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور ان کے سر جھک گئے۔ خاموشی۔ سناٹا۔ چُپ۔ ہر طرف ہُو کا عالم طاری تھا۔ انہیں صرف اپنے اپنے دل دھڑکنے کی صدا سنائی دے رہی تھی اور بس۔
* * *

دن کے گیارہ بجے تھے جب طاہر، ملک بلال اور اس کے چند ملازم بابا شاہ مقیم کے مزار کے باہر پجارو سے اتری۔
اگر دس پندرہ منٹ پہلے آتے تو وہ حافظ عبداللہ، سکینہ اور باقی سب لوگوں سے بھی مل لیتے۔ نکاح کے فوراً بعد جو درویش مزار کے اندر گیا تو پھر باہر نہ آیا۔ وہ کچھ دیر اس کا انتظار کرتے رہی۔ پھر جب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ جلد باہر نہ آئے گا تو باہم مشورے سے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ طے یہ ہوا کہ سب لوگ پہلے نور پور چلیں۔ وہاں چوہدری حسن دین کے ہاں قیام کیا جائے۔ آج کا باقی دن اور آنے والی رات وہاں گزاری جائے۔ اگلے دن وہ سکینہ کو ساتھ لے کر سائیاں والے کو لوٹ جائیں گے۔ دو دن بعد چوہدری حسن دین سکینہ کو باقاعدہ جا کر سائیاں والا سے واپس نور پور لے آئے گا۔
تانگے میں وہ سب لوگ کسی نہ کسی طرح پھنس پھنسا کر بیٹھ گئے اور ایک چھوٹی سی بارات کی شکل میں نور پور کی طرف روانہ ہو گئی۔
برگد تلے بچھی دریاں دیکھ کر ملک بلال نے آنکھوں پر ہاتھ کا چھجا کیا اور ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ دونوں کمرے دیکھے۔ کوئی نہ ملا تو وہ سب مزار کی طرف چلے۔
مزار کے باہر رک کر طاہر نے کھسہ اتارا۔ پھر کرتے کی جیب سے رومال نکال کر سر پر باندھا۔ ملک نے اپنی ٹوپی سر پردرست کی۔ ملازموں نے تب تک گاڑی سے اجناس کی دو بوریاں اور مٹھائی کا ٹوکرا اتار لیا تھا۔ مزار کا دروازہ اندر سے بند پا کر وہ رک گئے۔ پھر اس سے پہلے کہ ملک کچھ کہتا، ایک دم دروازہ کھلا اور درویش ان کے سامنے آ گیا۔
” آ گیا پگلے۔ ” اس نے اپنی چمکدار آنکھوں سے طاہر کی جانب دیکھا۔
طاہر، جیسے مسحور ہو گیا۔ اس کی زبان سے کچھ نکلا نہ ہونٹ ہلے۔ وہ تو بُت بنا درویش کی آنکھوں میں گم ہو گیا تھا۔
“بابا۔ ” ملک نے کہنا چاہا۔ ” یہ میرے چھوٹے مالک۔۔۔ ”
“جانتا ہوں۔ ” درویش نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید بولنے سے روک دیا۔ “تو یہیں رک ابھی۔ اور تو آ جا میرے ساتھ۔ ” اس نے طاہر کا ہاتھ تھام کر اسے اندر کھینچ لیا۔ دروازہ پھر بند ہو گیا۔ ملک اور باقی سب لوگ منہ پھاڑے رہ گئے مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ کچھ کہتا یا اندر جانے کی کوشش کرتا۔
طاہر اپنے حواس سے بیگانہ، کسی بے وزن شے کی طرح درویش کے ساتھ کھنچا چلا جا رہا تھا۔ اس کے دماغ میں ایک ہی لفظ ریت اڑا رہا تھا۔ “پگلے۔ پگلے۔ پگلے۔ ”
درویش اسے لئے ہوئے بابا شاہ مقیم کے سرہانے اسی جگہ آ رکا، جہاں حافظ عبداللہ بیٹھا کرتا تھا۔
“بیٹھ جا۔ ” درویش نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
طاہر کسی معمول کی طرح اس کے سامنے دو زانو بیٹھ گیا اور کھوئی کھوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“بابا کو سلام کر لے۔ ” پیار سے درویش نے کہا تو وہ چونکا۔ حواس میں آ گیا۔ ایک گہرا سانس لے کر اس نے بابا شاہ مقیم کے مزار کی جانب نظر جمائی اور دونوں ہاتھ اٹھا کر قبر کو چھو لیا۔ ہاتھوں کی انگلیاں چوم کر آنکھوں سے لگائیں اور دعا میں محو ہو گیا۔ چند منٹ بعد آمین کہتے ہوئے اس نے ہاتھ چہرے پر پھیرے اور درویش کی جانب متوجہ ہوا جو سر جھکائے، آنکھیں بند کئے جیسے مراقبے میں گم تھا۔
طاہر کا جی چاہا، اس پُرسکون چہرے کو دیکھتا رہی۔ اسے درویش کے چہرے میں عجیب سا سحر دکھائی دے رہا تھا۔ دل کو مٹھی میں لے کر دھیرے دھیرے مسلنے والا سحر۔ جس کی لذت دل کو درد سہنے پر اکسائی۔ رگ و پے میں سرور بن کر تیر جانے والا درد۔ اس کا دل ہولے ہولے جیسے آہیں بھرنے لگا۔ وہ اس کیفیت میں ڈوب جانے کو تھا کہ درویش کی آواز نے اس کی سماعت میں خوشبو اتار دی۔
“عشق کا جام ہونٹوں تک نہیں پہنچا۔ یہی دُکھ لئے پھر تا ہے ناں تو؟” آہستہ سے درویش نے سر اٹھایا اور آنکھیں کھول دیں۔
طاہران سرخ سرخ ڈوروں سے لبریز آنکھوں کی چمک سے خیرہ ہو گیا۔ اس کے ہونٹ کانپی، آواز نہ نکلی۔ نظر میں غبار سا پھیل گیا۔ درویش کا دمکتا چہرہ اس کی بصارت کے حلقے میں دھندلا گیا۔
“کوئی اَن چھُوا تجھے چاہے، یہی تمنا تجھے کُو بکو خوار کرتی پھر تی ہے ناں اب تک۔ ”
“بابا۔ ” بمشکل طاہر کے لبوں سے نکلا اور اس سرگوشی کے بعد وہ بے زبان ہو گیا۔ کوشش کے باوجود کچھ اور نہ کہہ سکا۔ حلق میں اُگتے کانٹوں کا درد پیاس میں شدت پیدا کرتا چلا گیا۔
“پگلا ہے تو۔ ” درویش اس کی آنکھوں میں دیکھے جا رہا تھا۔ ” شرط لگا رکھی ہے کہ اس سے عشق کرے گا جو پہلے تجھ سے عشق کرے، جو پہلے تجھے چاہے۔ جس نے تجھ سے پہلے کسی کو نہ چاہا ہو۔ اَن چھوا ہو۔ جس کے خیالوں میں سب سے پہلے تیرا عکس ابھرا ہو۔ تو خود کسی کے لئے ایساکیوں نہیں بن جاتا۔ اَن چھوا۔ سب سے پہلا تصور۔ سب سے پہلا خیال۔ سب سے پہلا عکس۔ ”
طاہر بے جان بُت کی طرح سن رہا تھا۔ سمجھ رہا تھا۔ بولنے سے معذور نہیں تھا۔ بولنا نہیں چاہتا تھا۔ صرف سننا چاہتا تھا۔ اس پر ادراک کے در وَا ہو رہے تھے۔ پرت کھل رہے تھے۔ حقیقتیں بے نقاب ہو رہی تھیں۔ اس بے حجابی میں ایک اور ہی لطف تھا۔ ایک اور ہی مزا تھا جو اس کو بے صدا کئے ہوئے تھا۔
“عشق شرطوں سے نہیں کیا جاتا۔ عشق تو اس سے بھی ہو جاتا ہے جو ہر رات کسی نئے مرد کا بستر بنتی ہے مگر جو اس پر عاشق ہوتا ہے، اسے صرف وہ نظر آتی ہے، اس کے گاہک نظر نہیں آتے۔ وہ بستر بھی نظر نہیں آتا جس پر پڑی سلوٹیں شمار نہیں ہو پاتیں۔ اس کے لئے تو وہ اَن چھوئی ہو جاتی ہے۔ عشق، اسے ایسا بینا کرتا ہے کہ اس کے سوا سب کچھ دِکھنا ختم ہو جاتا ہے۔ جانتا ہے کیوں ؟”
درویش رکا۔ طاہر کی آنکھوں میں سوال ابھرا، زبان نہ ہلی۔ تب جواب نے پر کھولے۔
“اس لئے کہ عشق کا پہلا حرف عین، عاشقِ صادق پر نازل ہو جاتا ہے۔ عین، عبادت۔ عشق کا پہلا حرف عین، عبادت سے منور ہے۔ اور عبادت کیا ہے؟ عجز۔ عبودیت۔ عشق کا بندہ عاجز ہو جاتا ہے۔ عجز نہ ہو تو عبادت نہیں ہو سکتی۔ عجز نہ ہوتا تو عشق کا پہلا حرف نہ ہوتا۔ وہ جو سب سے پہلا عشق کرنے والا ہے ناں۔ ” درویش نے شہادت کی انگلی چھت کی طرف اٹھا دی۔ ” اس نے جب آدم میں عشق کا عین ودیعت کیا تو ایک ایسی صفت کی شکل میں کیا، جسے اس نے اپنے لئے ممنوع قرار دے دیا۔ عجز۔ عبودیت۔ یہ آدم کے خمیر میں ڈالا۔ خود تکبر کے تخت پر بیٹھا اور استکبار کو آدم کے لئے شجرِ ممنوعہ قرار دے دیا۔ آدم کو بندہ، بنایا۔ اسے عبد کیا۔ اپنا عبد۔ عبداللہ۔ عین، عشق کا پہلا حرف۔ عبد میں عجز ہو گا تو وہ عبادت کے لئے عبودیت کے مرتبے پر فائز ہو گا اور عبادت جب عجز سے عبارت ہوتی ہے تو عشق کا پہلا حرف سمجھ میں آتا ہے پگلی۔ عبادت کر۔ عجز میں ڈوب کر۔ جیسے۔۔۔ ”
درویش خاموش ہو گیا۔
طاہر کا سانس سینے میں رک سا گیا۔ بیتابی نے اسے شدت سے جکڑ لیا۔
“کہتے رہئے بابا۔ ” وہ نشے میں ڈوبی آواز میں بولا۔ اس نے پورا زور لگا دیا تب جا کر وہ یہ چند الفاظ کہہ پایا تھا۔ اسے لگا جیسے اس کی طاقت لڑکھڑا رہی ہو۔ بے خود ہو کر اپنا آپ چھوڑ گئی ہو۔
“جیسی۔۔۔ ” درویش نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ” کسی کو چاند کے داغ دکھائی نہ دئیے۔ اپنا عجز یاد رہا۔ چاند کا گرہن نظر نہ آیا۔ اپنی عبادت کے آگے سب کچھ ہیچ لگا۔ یاد آیا کچھ؟”
طاہر کے دماغ میں ریگستان سا جاگا۔ تصور میں امبر اور قمر کے ہیولے ابھرے اور معدوم ہو گئے۔
“ہاں بابا۔ ” وہ شرابیوں کے انداز میں جیسے کسی کنویں کی تہہ سے بولا۔ “یاد آگیا۔ ”
“عشق کا پہلا حرف۔ عین عبادت۔ یاد رکھنا۔ عبادت میں عجز لازم ہے۔ عجز نہ ہو تو عبادت نہیں ہوتی۔ عجز نہ ہو تو انسان کو خود پر عبد کے بجائے معبود ہونے کا شبہ ہونے لگتا ہے۔ اپنے آپ کو چاہنا تو اس متکبر کے لئے ہے اور بس۔ کسی اور کے لئے یہ روا نہیں ہے۔ اس نے اپنے نور کو خود چاہا۔ اپنے نور سے عشق کیا۔ اپنے نور کو اپنا حبیب بنایا۔ اپنا محبوب بنایا۔ پھر ساری مخلوق کو اپنے حبیب سے عشق کا حکم دیا۔ کہا، جو مجھے پانا چاہے، وہ میرے حبیب کو چاہے۔ جو اس تک جانا چاہے۔ اسے اس کے حبیب کا منظورِ نظر ہونا پڑتا ہے۔ اس وسیلے کے بغیر وہ ہاتھ نہیں آتا۔۔۔ اور جو اس کی” اپنے آپ کو چاہنے کی صفت ” سے متصف ہونا چاہتا ہے ناں ، اس پر استکبار کا رنگ چڑھنے لگتا ہے۔ تکبر سے جُڑتے ہی انسان مشرک ہو جاتا ہے۔ اور وہ کہتا ہے کہ اس کے ہاں ہر گناہ کی معافی ہے، شرک کی معافی نہیں ہے پگلی۔ “درویش نے اس کی جانب تنبیہ کے انداز میں انگلی اٹھائی۔
“بابا۔ ” طاہر ساری جان سے لرز کر رہ گیا۔
“ہاں۔ ” درویش نے سر ہلا کر کہا۔ ” پگلا بن کر رہ۔ سیانا بننے میں جان کانٹوں پر گھسیٹی جاتی ہے۔ پگلے پن میں معافی مل جاتی ہے۔ آسانی پگلا بن کر رہنے میں ہے۔ سیانا وہ ہے جو چاہے جانے کی خواہش کا اسیر ہو جائے۔ پگلا وہ ہے جو کسی کو چاہنے لگے۔ عبد ہو جائے۔ ایک سیانا حافظ عبداللہ ہے جو چاہا گیا۔ ایک پگلی سکینہ ہے جس نے حافظ عبداللہ سے عشق کر لیا۔ اس کی عبادت میں محو ہو گئی۔ ”
“بابا۔ عبد کی عبادت۔۔۔ ؟” طاہر نے حیرت سے کہا۔
“نہ نہ پگلے۔ ” درویش نے کانپ کر کانوں کو چھوا۔ ” عبادت تو صرف اس کی ہے جو معبود ہے۔ مگر مجاز میں خدائی بھی تو چھپا رکھی ہے اس نے۔ خود ہی تو کہتا ہے کہ اگر اپنے سوا کسی اور کو سجدہ کرنے کی اجازت دیتا تو عورت اپنے مجازی خدا کو سجدہ کرتی۔ کہتا ہے کہ ماں کو ایک بار محبت سے دیکھنے کا ثواب بیٹے کو ایک حجِ مقبول کے برابر دیتا ہوں۔ عبادت نہیں کی، مگر کی ہے۔ حج نہیں کیا مگر ہو گیا۔ یہ استعارے ہیں۔ تشبیہیں ہیں۔ مثالیں ہیں۔ انہیں اسی طرح لینا چاہئے۔ عجز پیدا ہوتا ہے عبادت کی طرف رغبت سے۔ پگلی سکینہ نے حافظ عبداللہ کے سامنے عاجزی سے اقرار کیا کہ وہ اسے چاہتی ہے۔ سیانا حافظ عبداللہ اکڑ گیا کہ وہ اس کے قابل نہیں ہے۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر اس سیانے کو سمجھایاکہ پگلا بن۔ سیانا نہ بن۔ اللہ کی نعمت کا کفران نہ کر۔ شکر ہے اسے سمجھ آ گئی۔ اب سکینہ کو رغبت کے لئے راستہ مل گیا۔ عبادت میں عجز کے لئے چن لیا اس نے حافظ عبداللہ کو۔ وہ اس کی خدمت کرے گی اور عبادت کا ثواب پائے گی۔ یہ ہے عشق کے عین کی حقیقت۔ ”
“بابا۔ ” طاہر کے اندر چراغ سے جل اٹھے۔
“اسی لئے کہتا ہوں تو پگلا ہے۔ ” درویش نے اس کی جانب پیار سے دیکھا۔ “اتنی جلدی پگلے ہی بات سمجھ بھی لیتے ہیں اور مان بھی لیتے ہیں۔ ”
“اور عشق کا دوسرا حرف۔۔۔ ”
“شین کی بات کر رہا ہے۔ ” درویش ہولے سے ہنسا۔ ” ابھی نہیں۔ پہلے عین کو تو دیکھ لے۔ جان لے۔ ”
“کیسے بابا؟” طاہر اتاولے پن سے بولا۔
“صبر پگلے۔ صبر۔ ” درویش نے اس کے گال کو چھوا۔ “دکھائیں گے تجھی۔ چند دن ٹھہر جا۔ ابھی لوٹ جا۔ تیرے گھر میں بھی ایک پگلی ہے۔ ابھی اس کے پاس لوٹ جا۔ تجھے چند دن بعد دکھائیں گے کہ عین کے پرت کیسے کھلتے ہیں ؟”
“تب تک میرا کیا حال ہو جائے گا بابا؟” طاہر نے درویش کے دونوں ہاتھ تھام کر سینے سے لگا لئے۔ اس کا دل یوں دھک دھک کر رہا تھا جیسے کوئی دھان کوٹ رہا ہو۔
“اچھا ہے۔ ” درویش نے مسکرا کر کہا۔ ایک اطمینان اس کی آنکھوں سے جھلکا۔ “بہت اچھا ہے۔ جوت جگ گئی ہے۔ اسے انتظار کی ہوا دے۔ اس الاؤ کو بھڑکنے دے۔ اس پر ہاتھ تاپ۔ اپنی آگ پر ہاتھ تاپنے کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے پگلے۔ اپنے الاؤ پر ہاتھ تاپ۔ کباب ہونے سے پہلے کی سوندی سوندی خوشبو لے۔ اشتہا کو بڑھنے دے۔ خوب چمک جائے تو بھوک لذت دیتی ہے۔۔۔ لذت۔۔۔ ” درویش نے سسکاری بھر کر آنکھیں بند کر لیں۔ ” لذت سے عشق کا شین شروع ہوتا ہے پگلی۔ عشق کا شین۔۔۔ ”
درویش ایک سلگتی ہوئی آہ بھر کر خاموش ہو گیا۔
طاہر کے سارے جسم میں پھریریاں سی چکر ا رہی تھیں۔ اسے لگ رہا تھا ابھی کے ابھی اس کے جسم میں پھلجھڑیاں چھوٹنے لگیں گی۔ وہ درویش کے چہرے میں گم ہو کر رہ گیا جہاں زردی چھا گئی تھی۔ سرسوں کے پھولوں جیسی۔ شفق کی ابتدا جیسی۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ تب آہستہ سے درویش نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کی آنکھوں کی سرخی اور بڑھ گئی تھی۔ طاہر اس سرخی کی لپک کو سہہ نہ سکا اور گھبرا کر نظر ہٹا لی۔
“ارے۔ میں تو بھول ہی گیا۔ ” اچانک درویش کو جیسے کچھ یاد آ گیا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر قبر کے تعویذ پر رکھے دو میں سے ایک گلاب جامن اٹھایا اور ہتھیلی پر رکھ کر ہاتھ طاہر کی جانب دراز کر دیا۔ “لے۔ یہ تیرا حصہ ہے۔ ”
طاہر نے بسم اللہ کہہ کر ایک گلاب جامن اٹھا لیا۔
“کھا لے۔ یہ بابے شاہ مقیم کا تبرک ہے جو سکینہ اور حافظ عبداللہ کے ایک ہو جانے کی خوشی میں تیرے لئے آیا رکھا ہے۔ ”
طاہر نے آہستہ آہستہ گلاب جامن کھانا شروع کیا۔ اسے لگا، اس نے ایسی لذیذ مٹھائی آج سے پہلے کبھی نہیں کھائی۔ جوں جوں وہ گلاب جامن حلق سے اتارتا گیا، اس کے جسم میں تیرتی بے چینی دم توڑتی چلی گئی۔ اس کے رگ و پے میں ایک سکون اور صبر سا پر پھیلاتا چلا گیا۔
“اور یہ لے۔ اپنی پگلی کے لئے لے جا۔ یہ صرف اسی کو دینا۔ میں اپنا حصہ اسے بھجوا رہا ہوں۔ ” درویش نے دوسرا گلاب جامن ایک کاغذ میں لپیٹ کر اسے تھما دیا۔ طاہر نے سر سے رومال کھولا۔ کاغذ اس میں رکھ کر گانٹھ ماری اور کرتے کی جیب میں ڈال لیا۔
“اب جا۔ باہر وہ بونے تیرا انتظار کر رہے ہیں۔ جا۔ اللہ تیرا اندر آباد رکھے۔ ” درویش نے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے کہا۔
طاہر اٹھ کھڑا ہوا۔ قبر کے تعویذ کو پیروں کی طرف سے چھوا۔ درویش کی جانب جھکا تو اس نے ہاتھ اٹھایا اور اسے خم ہونے سے روک دیا۔
“یہ صرف اس کا حق ہے۔ ” چھت کی جانب شہادت کی انگلی اٹھا کر مسکراتے ہوئے وہ بولا۔ ” اس کے سوا کسی کے آگے سر جھکانا شرک ہے۔ ”
سر اثبات میں ہلاتے ہوئے طاہر ایک دم سیدھا ہو گیا۔
“اللہ حافظ بابا۔ ” اس نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر آنکھیں جھکائیں۔
“اللہ حافظ۔ ” درویش نے ہاتھ کھڑا کیا۔
طاہر الٹے پاؤں باہر نکلا۔ چوکھٹ پر ایک پل کو رکا پھر دروازے پر چلا آیا۔ پٹ کھلے تو باہر بیتابی سے ٹہلتا ملک بلال نظر آیا۔
طاہر نے باہر قدم رکھا۔ مگر نہیں۔ یہ طاہر تو نہیں تھا۔ یہ اس کا چھوٹا مالک تو نہیں تھا۔ یہ تو کوئی اور تھا۔ کوئی اور۔۔۔ جس کے چہرے پر زردی اور آنکھوں میں آگ سی آباد تھی۔ طاہر کا چہرہ ایک عجیب سے جلال کے ہالے میں دمک رہا تھا۔ یہ کیسی زردی تھی جس پر سرخیاں نثار ہو رہی تھیں۔ یہ کیسی آگ تھی، جس میں خنکی کروٹیں لے رہی تھی۔
ملک بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ باقی کے ملازم بھی طاہر کی بدلی ہوئی حالت کو حیرت سے جانچ رہے تھے۔
“ملک۔ تم سب بھی سلام کر لو۔ میں گاڑی میں تم لوگوں کا انتظار کر رہا ہوں۔ ” طاہر کہہ کر پجارو کی طرف بڑھ گیا۔
ملک نے کچھ کہنا چاہا مگر اس کا حوصلہ نہ ہوا۔ آہستہ سے وہ ملازموں کی جانب مڑا۔ پھر انہیں اجناس کی بوریاں اور مٹھائی کا ٹوکرا اٹھا لانے کا کہتے ہوئے وہ مزار کی طرف چل دیا۔ اس کے آہستہ آہستہ اٹھتے ہوئے قدم اس کے کسی سوچ میں ڈوبے ہونے کے غماز تھے اور اس سوچ کا تعلق صرف اور صرف طاہر کی موجودہ حالت سے تھا۔
٭
“کیا بات ہے؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟” طاہر کمرے میں داخل ہوا تو صفیہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔
“ہاں۔ ” طاہر مسکرایا۔ “کیا ہوا میری طبیعت کو۔ ”
“ٹھیک نہیں لگتی۔ ” وہ بیتابی سے اس کا ماتھا چھوتے ہوئے بولی۔ ” رنگ دیکھئے کیسا زرد ہو رہا ہے اور جسم بھی تپ رہا ہے۔ ” اس نے اس کے رخسار پر ہاتھ کی پشت رکھ دی۔
“ارے نہیں۔ تمہیں وہم ہو رہا ہے۔ ” طاہر نے لاپروائی سے کہا۔ “میں بالکل ٹھیک ہوں۔ ”
” آپ ٹھیک نہیں ہیں۔ ” صفیہ بے قرار ہو رہی تھی۔ اس کی آواز میں فکر عود کر آیا۔ “ٹھہرئیے۔ میں آپ کا ٹمپریچر چیک کرتی ہوں۔ ابھی پتہ چل جائے گا۔ “وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف لپکی۔ دراز کھولا۔ اس میں سے تھرمو اسٹک نکالی اور واپس اس کی طرف آ گئی۔ طاہر تب تک بیڈ پر بیٹھ چکا تھا۔
صفیہ نے آتے ہی اسٹک اس کے ماتھے پر چپکا دی اور کسی ماہر نرس کی طرح رسٹ واچ پر ٹائم نوٹ کرنے لگی۔ طاہر نے اسے روکنا مناسب نہ سمجھا۔ ایک تو اسے یاد آ گیا کہ بابا نے صفیہ کے بارے میں پگلی کا لفظ استعمال کیا تھا اور دوسرے اسے علم تھا کہ صفیہ اس کے بارے میں کسی قسم کی رو رعایت سے کام نہیں لے گی۔ جب تک اس کا اطمینان نہ ہو جائے وہ اپنا کام جاری رکھے گی۔
“ارے۔ ” ایک منٹ بعد اسٹک ہٹا کر جب اس نے اس پر ٹمپریچر چیک کیا تو حیرت بھری آواز اس کے لبوں سے نکلی۔ “یہ کیا؟”
“کیا ہوا؟” طاہر نے نیم دراز ہوتے ہوئے پوچھا۔
“ٹمپریچر تو نارمل ہے۔ ” وہ سوچ میں ڈوب گئی۔ “مگرجسم اب بھی گرم ہے آپ کا۔ ” اس نے دوبارہ اس کی گردن چھو کر دیکھی۔
“کہہ تو رہا ہوں ، میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے۔ تمہیں وہم ہو رہا ہے۔ ”
“ہو سکتا ہے یہ اسٹک خراب ہو گئی ہو۔ ” وہ اب بھی یقین نہ کر رہی تھی۔ ” میں بازار سے تھرمامیٹر منگواتی ہوں۔ ” اس نے اسٹک تپائی پر ڈالی اور قالین پر اکڑوں بیٹھ کر طاہر کے پاؤں سے کھسہ اتارنے لگی۔ ” آپ آرام سے لیٹ جائیں۔ میں آپ کے لئے کوئی ہلکی سی گولی اور چائے لے کر آتی ہوں۔ ”
“پستول کی گولی کے بارے میں کیا خیال ہے؟” طاہر نے اسے ستانے کے انداز میں کہا۔
تڑپ کر صفیہ نے اس کی جانب دیکھا۔ پھر اس کے لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ پا کر اس کا چہرہ نارمل ہو گیا۔ “میں جانتی ہوں ، آپ مجھے ایسی باتوں سے دُکھ دے کر خوش ہوتے ہیں طاہر۔ لیکن پلیز، کچھ اور کہہ لیا کیجئے۔ مجھے تھپڑ مار لیا کیجئے، اپنے بارے میں ایسی بات نہ کہا کیجئے۔ ” سر جھکا کر وہ اس کی جرابیں اتارتے ہوئے دھیرے سے بولی۔
“میں تو مذاق کر رہا تھا۔ ” طاہر ہنس پڑا۔
“جانتی ہوں۔ ” وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائی۔ ” آپ کا مذاق کسی دن میری جان لے لے گا۔ تب آپ کو یقین آئے گا کہ۔۔۔ ” وہ خاموش ہو گئی۔ جرابیں اور کھسہ بیڈ کے نیچے سرکا کر اس نے طاہر کے پاؤں دونوں ہاتھوں سے سہلائے، پھر اس سے پہلے کہ طاہر کچھ سمجھ پاتا اس نے اس کے دونوں پیروں کو باری باری چوم لیا۔
“ارے ارے۔ ” اس نے پاؤں کھینچ لئے۔ ” یہ کیا دیوانگی ہے بھئی۔ ” وہ گھبرا گیا۔
“عقیدت ہے یہ۔ ” صفیہ نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا۔ ” اس سے آپ مجھے کبھی مت روکئے گا طاہر۔ ” وہ اٹھ گئی۔ “میں آپ کے لئے ڈسپرین اور چائے لاتی ہوں۔ ”
“رکو۔ ” طاہر نے اٹھتے ہوئے کہا۔ “اپنا تحفہ تو وصول کر لو۔ ”
“یہ کیا ہے؟” طاہر نے جیب سے نکال کر رومال کا گولہ صفیہ کے ہاتھ پر رکھا تو اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
“کھول کر دیکھو۔ ” طاہر نے کہا۔
صفیہ نے رومال کی گانٹھ کھولی۔ اندر سے کاغذ میں لپٹا ہوا خوشبو دیتا گلاب جامن نکلا تو اس نے حیرت سے طاہر کی جانب دیکھا۔
“بابا شاہ مقیم کے دربار کا تبرک ہے۔ وہاں کے درویش بابا نے خاص طور پر تمہارے لئے بھیجا ہے۔ کہہ رہے تھے کہ یہ صرف تمہیں دوں۔ یہ ان کا اپنا حصہ ہے جو انہوں نے تمہارے لئے رکھ چھوڑا تھا۔ ”
“بسم اللہ۔ ” صفیہ نے ادب سے آنکھیں بند کر کے کہا۔ ” میں قربان اس تحفے کی۔ ” ذرا دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو ان میں نمی سی چمک رہی تھی۔ وہ آگے بڑھی اور قالین پر، طاہر کے قدموں میں گھٹنے موڑ کر بیٹھ گئی۔
“لیجئے۔ ذرا اسے جھوٹا کر دیجئے۔ ” اس نے گلاب جامن انگلیوں میں تھام کر طاہر کے ہونٹوں کی جانب بڑھایا۔
“اوں ہوں۔ ” طاہر نے نفی میں سر ہلایا۔ ” میں اپنا حصہ وہاں کھا آیا ہوں۔ ”
“جانتی ہوں۔ ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔ ” مگر میں اپنا حصہ آپ کے بغیر کیسے کھا سکتی ہوں۔ لیجئے۔ ذرا سا ہی لے لیجئے۔ ”
“مگر۔۔۔ ” طاہر نے کہنا چاہا۔
“طاہر۔ ” صفیہ نے گلاب جامن اس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ ” آپ اسے جھوٹا کر دیں گے تو میرا حصہ مجھ پر حلال ہو جائے گا۔ مجھے حرام کھانے سے بچانا آپ پر فرض ہے یا نہیں ؟”اور بے اختیار طاہر کے ہونٹ وَا ہو گئی۔ اس نے ذرا سا گلاب جامن دانتوں سے کاٹ لیا۔
“شکریہ۔ ” وہ کھل اٹھی۔ پھر اس نے ہاتھ واپس کھینچا اور بچوں کی طرح گلاب جامن کھاتی ہوئی اٹھ کر چل دی۔
“پگلی۔ ” بے ساختہ طاہر کے دماغ میں درویش بابا کی آواز گونجی۔ اسے بے طرح صفیہ پر پیار آ گیا، جو دروازے سے باہر قدم رکھ چکی تھی۔
اس کے جانے کے بعد طاہر بستر پر دراز ہو گیا اور ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر آنکھیں موند لیں۔ اس کے ذہن میں صبح کے واقعے کی فلم سی چلنے لگی۔ درویش کی ایک ایک بات اسے ازبر تھی۔ راستے بھر بھی وہ خاموش رہا۔ ملک بلال نے ایک دو بار کوئی بات کرنا چاہی مگر جب اس کی طرف سے کوئی خاص توجہ نہ ملی تو وہ بھی خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا۔
حویلی پہنچ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا آیا اور اب بستر پر لیٹا پھر انہی سوچوں میں ڈوب گیا جن سے رستے بھر اس کا دل اور دماغ الجھے رہے تھے۔۔
عشق کا فلسفہ آج ایک عجیب رنگ میں اس پر کھلا تھا۔ عشق کا ہر حرف اپنے اندر کیا وسعت رکھتا تھا، یہ تو اس کے لئے ایک اچنبھا تھا۔ ایک اسرار کا عالم تھا، جس میں اسے درویش نے داخل کر کے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ تھا اور درویش کی باتیں۔ ہر ہر بات ہشت پہلو تھی۔ وہ جتنا ان پر غور کرتا گیا، اس کا ذہن فراخ ہوتا چلا گیا۔ سوچوں میں روشنی پھیلتی چلی گئی۔ حیرت کا ایک جہان تھا، جو اس کے لئے اپنی باہیں پسارے اسے عشق کا مفہوم سمجھانے کے لئے جھوم رہا تھا۔ عین سے عاشقِ صادق۔ عین عجز سے عبادت، عبودیت اور عبد کے بعد اب عین سے عقیدت نے اس کی سوچوں کو اور بہت کچھ عطا کر دیا تھا۔ کہیں امبر اور قمر تھے تو کہیں حافظ عبداللہ اور سکینہ۔ اور کہیں صفیہ اور۔۔۔
صفیہ پر آ کر اس کا دماغ رک گیا۔ صفیہ۔۔۔ جس نے اسے عین عقیدت کا احساس دلایا تھا۔۔۔ اس کے ساتھ طاہر کا نام جوڑا جاتا یا سرمد کا؟ وہ الجھ کر رہ گیا۔ سرمد کے بقول وہ صفیہ کے لئے دنیا تیاگ دینے کا فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔ اور وہ خود صفیہ کو دل کے تخت پر جو مقام دے کر بٹھا چکا تھا، کیا وہ سرمد کے جذبے سے کمتر نہیں تھا؟ اس کے لئے کوئی نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہو گیا۔ درویش نے صفیہ کو پگلی اور اسے پگلا کہا تھا۔ یعنی ایک پگلی کے لئے ایک سیانا درکار تھا۔ کہیں وہ سیانا سرمد تو نہیں تھا؟وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ لگا جیسے اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے کر مسل دیا ہو۔
اسی وقت صفیہ ایک منی ٹرے میں چائے کا کپ اور ڈسپرین کی گولیاں رکھے اندر داخل ہوئی۔ طاہر نے خود پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جومسکراتے ہوئے اس کے قریب آ چکی تھی۔
“کیا بات ہے طاہر؟” وہ جیسے اس کے دل تک پہنچ گئی۔ ” دل گھبرا رہا ہے تو ڈاکٹر کو بلوا لیں۔ ” اس نے ٹرے تپائی پر رکھی اور اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیا جو برف کی طرح سرد ہو رہا تھا۔
“ارے۔ ” اب بالکل ہی ٹھنڈا ہو گیا آپ کا جسم۔ ” وہ پریشانی سے بولی۔ ” یہ ہو کیا رہا ہے؟”اس نے طاہر کی طرف تشویش سے دیکھا۔
“کچھ نہیں۔ ” طاہر نے سر کو ہلکاسا جھٹکا دیا۔ “تم چائے دو مجھے۔ میرا خیال ہے، ٹھنڈ لگ گئی ہے۔ ابھی ٹھیک ہو جاؤں گا۔ ” اس نے بہانہ بنایا۔
“چائے تو پی لیں آپ۔ ” اس نے کپ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ ” مگر میں ڈاکٹر کو بلوا رہی ہوں۔ اسے چیک کر لینے دیجئے۔ ”
“کیا ضرورت ہے۔ ” طاہر نے اسے روکا۔ “میں نے کہا ناں ، معمولی ٹھنڈ کا اثر ہے۔ چائے پینے سے دور ہو جائے گا۔ اگر فرق نہ پڑا تو پھر ڈاکٹر کو بلوا لیں گے۔ ”
“چلئے۔ یونہی سہی۔ آپ چائے پی کر آرام کریں۔ میں آپ کے لئے یخنی بنواتی ہوں۔ ” صفیہ نے کمبل کھول کر اس کی ٹانگوں پر پھیلا دیا اور اس کی جانب فکر مندی سے دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی۔
تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ کمرے میں لوٹی تو طاہر سینے تک کمبل اوڑھے بے خبر سو رہا تھا۔ وہ دبے پاؤں اس کے پاس آئی۔ آہستہ سے اس کا ماتھا چھو کر دیکھا۔ حرارت نارمل محسوس ہوئی تو بے اختیار اس کے لبوں سے ” یا اللہ تیرا شکر ہے” کے الفاظ نکل گئے۔ اس نے جھک کر طاہر کی پیشانی کو ہلکا سا بوسہ دیا۔ لائٹ آف کی اور چائے کا خالی کپ ٹرے میں رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔ دروازہ بیحد آہستگی سے بند کر کے جاتی ہوئی صفیہ کب جانتی تھی کہ طاہر اب بھی جاگ رہا تھا اور اس کے بوسے نے طاہر کی روح تک میں ایک سرشاری سی بھر دی تھی۔ سرمد کا خیال ایک دم اس کے دل و دماغ سے یوں محو ہو گیا جیسے اس کا کہیں وجود ہی نہ رہا ہو۔
* * *

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: