Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Episode 8

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 8

–**–**–

ایک ہفتہ اور گزر گیا۔
عادل اور زبیدہ کی شادی ہو گئی۔ طاہر اور صفیہ خاص طور پر ان کی شادی میں شریک ہوئے۔ صفیہ بہت خوش تھی۔ گاؤں کی شادی اس نے پہلی بار دیکھی تھی۔ وہاں کے رسم و رواج اس کے لئے جہاں اچنبھے کا باعث تھے، وہیں دلچسپی بھی رکھتے تھے۔
زبیدہ کی رخصتی تک وہ دونوں ماسٹر محسن کے ہاں موجود رہے۔ پھر جب وہ اپنے ماں باپ، بھائی اور سہیلیوں کو آنسوؤں کے حوالے کر کے بلکتی ہوئی پیا کے گھر کو سدھار گئی تو اداس اداس صفیہ نم آنکھیں لئے طاہر کے ساتھ حویلی لوٹ آئی۔
رات وہ کتنی ہی دیر تک جاگتی رہی۔ اس کا جی چاہا وسیلہ خاتون سے بات کری۔ وقت دیکھا تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ اس وقت سو گئی ہوں گی، اس نے سوچا۔ پھر صبح ان سے بات کرنے کا خیال دل میں لئے وہ طاہر کے بازو پر سر رکھ کر سو گئی، جو آنکھیں موندے نجانے کیاسوچ رہا تھا۔
صبح اٹھ کر اس نے سب سے پہلے وسیلہ خاتون کو فون کیا۔ وہ اس کی طرف سے فکرمند تھیں۔ جب اس نے انہیں اپنے بارے میں خیریت کا بتایا تو ان کی جان میں جان آئی۔ دوپہر کے قریب بیگم صاحبہ کا فون آ گیا۔ وہ اعجاز اور ڈاکٹر ہاشمی اس وقت مدینہ منورہ میں تھے اور خوش تھی۔ طاہر نے ان کی واپسی کا جان بوجھ کر نہ پوچھا۔ ایسی مقدس جگہ سے لوٹ آنے کو کس کا جی چاہتا ہے؟ وہ ان سے واپسی کا پوچھ کر گستاخی کا مرتکب نہ ہونا چاہتا تھا۔ صفیہ اور طاہر کو بہت سی دعائیں دے کر انہوں نے فون بند کیا تو صفیہ کے ساتھ ساتھ طاہر کا موڈ بھی بہت اچھا ہو چکا تھا۔
“طاہر۔ آپ بتا رہے تھے کہ آپ کو پھر بابا شاہ مقیم کے مزار پر جانا ہے۔ ” وہ موبائل تپائی پر ڈالتے ہوئے بولی۔
“ہاں۔ جانا تو ہے مگر کل۔ ” دن کا حساب لگاتے ہوئے اس نے بتایا۔
“میں بھی آپ کے ساتھ چلوں ؟” وہ اشتیاق سے بولی۔
“تم؟” وہ سوچ میں پڑ گیا۔
“کیوں ؟ کیا کوئی دقت ہے؟” اسے غور سے دیکھتے ہوئے صفیہ نے پوچھا۔
“نہیں۔ دقت کوئی نہیں۔ ” طاہر نے صاف گوئی سے کہا۔ “دراصل بابا نے مجھے اکیلے آنے کو کہا تھا۔ ”
“اچھا اچھا۔ ” وہ مطمئن ہو گئی۔ “تو اس میں اتنا سوچنے کی کیا بات ہے۔ آپ اکیلے چلے جائیں مگر لوٹ جلدی آئیے گا۔ پھر ٹھنڈ نہ لگوا بیٹھئے گا۔ ”
“تمہیں برا تو نہیں لگا؟” طاہر نے اس کی جانب دیکھا۔
“اری۔ ” وہ ہنسی۔ ” برا کیوں لگے گا۔ آپ نے کہہ دیا، میں نے مان لیا۔ بس۔ ”
طاہر کے دل میں ہوک سی اٹھی۔ اتنا عجز۔ اتنی فرمانبرداری۔ اتنا خلوص۔ وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہ گیا۔
اسی وقت موبائل بول پڑا۔ طاہر نے جیب سے سیٹ نکالا اور سکرین پر امبر کا نمبر دیکھ کر جلدی سے بٹن دبا دیا۔
“ہیلو سر۔ مارننگ۔ میں بول رہی ہوں امبر۔ ” دوسری طرف سے وہ چہکی۔
“مارننگ۔ مارننگ۔ ” طاہر ہنسا۔ “کیا حال ہے لیڈی ؟”
“بالکل ٹھیک سر۔ آپ سنائیے۔ کیسی گزر رہی ہیں چھٹیاں ؟”
“فسٹ کلاس۔ ” وہ صفیہ کی جانب دیکھ کر بولا جو اس کے قریب کھڑی اشارے سے پوچھ رہی تھی کہ کس کا فون ہے۔
“امبر کا فون ہے۔ ” طاہر نے ہولے سے بتایا۔
“اچھا اچھا۔ ” صفیہ بھی مسکرائی اور اس کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ کر سر اس کے سر کے ساتھ جوڑ لیا۔ اب وہ بھی امبر کی باتیں سن سکتی تھی۔
“کیسا جا رہا ہے آفس؟” طاہر نے پوچھا۔
“میں نے آپ کو کسی قسم کی رپورٹ دینے کے لئے فون نہیں کیا سر۔ ” امبر نے خوش گفتاری سے کہا۔ ” آپ کی رپورٹ لینے کے لئے کیا ہے۔ ”
” وہ تو میں نے بتا دیا لیڈی۔ ” طاہر پھر ہنسا۔ امبر سے بات کرتے ہوئے اس کے ذہن میں درویش کا اس کے بارے میں “پگلی ” کا لفظ گونج رہا تھا۔ وہ اسی تناظر میں اسے دیکھ اور سن رہا تھا۔ “تم سناؤ۔ تمہارے پروفیسر صاحب کیسے ہیں ؟”
“بالکل ٹھیک سر۔ ‏THE POROUD کے معاملات میں میرا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ ”
“مفت کام نہ لیتی رہنا ان سے۔ گھر کے مرغے کو دال برابر سمجھو گی تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ ”
“اس کی آپ فکر نہ کریں سر۔ ” امبر اس کے کمنٹ پر ہنس ہنس کر بے حال ہو گئی۔ ” آپ کی اس بات پر میں آپ کی چھٹی مزید کتنی ایکسٹنڈ کر دوں ؟”
“ابھی پہلی چھٹی ختم ہونے میں تین دن باقی ہیں بھئی۔ ” طاہر نے جلدی سے کہا۔
“اسی لئے تو کہہ رہی ہوں سر کہ آج میرا موڈ بہت اچھا ہے، فائدہ اٹھا لیجئے۔ ”
“تو پھر یہ بھی تم پر رہا کہ تم ہمیں اور کتنی چھٹی دے سکتی ہو۔ ” طاہر شگفتگی سے بولا۔
“اگر میری مرضی پر بات ٹھہری ہے تو سر، آپ جب جی چاہے لوٹئے گا۔ آپ کے لئے کھلی آفر ہے۔ ”
“واقعی؟” طاہر نے حیرت سے پوچھا۔
“یس سر۔ جب جی چاہے آئیے گا۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ ”
“مگر امبر۔۔۔ ”
“پروفیسر صاحب کو کالج سے تین ماہ کی چھٹی مل گئی ہے سر۔ اب میرے پاس وقت ہی وقت ہے۔ ”
“اوہ۔ تو یہ بات ہے۔ میں بھی کہوں اتنی نوازش کا سبب کیا ہے؟”
“شکریہ امبر۔ ” اچانک بیچ میں صفیہ بول پڑی۔ ” آپ نے بہت اچھا کیا جو انہیں مزید کچھ عرصے کے لئے ٹینشن فری کر دیا۔ ”
“ارے۔ آپ بھی وہیں ہیں صفیہ جی۔ ” امبر کا موڈ اور خوشگوار ہو گیا۔ “بہرحال میں نے اکیلے سر کو نہیں ، آپ کو بھی ان کے ساتھ مزید انجوائے کرنے کا وقت دیا ہے۔ ” اور صفیہ نے جھینپ کر سر پیچھے ہٹا لیا۔ “اوکے۔ آلویز بی ہیپی اینڈ بائی۔ ” امبر نے ہنستے ہوئے رابطہ ختم کر دیا۔
طاہر نے موبائل جیب میں ڈالا اور انگڑائی لی۔ ایک نظر اس کی جانب دیکھا اور دروازے کی جانب چل پڑا۔
“میں ڈیرے پر جا رہا ہوں۔ دوپہر کا کھانا وہیں کھاؤں گا۔ ” کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔
صفیہ اٹھی اور کرسی پر جا بیٹھی۔ ریموٹ اٹھایا اور ٹی وی آن کر دیا۔
امبر کی باتوں نے اس کا حال عجب کر دیا تھا۔ اس کا بدن ایک دم ٹوٹنے لگا۔ ایک دم تھکن نے گھیر لیا۔ وہ اپنی یہ حالت طاہر پر ظاہر نہ ہونے دینا چاہتی تھی۔ امبر کیا سمجھ رہی تھی، اسے اس کا احساس ہوا تو جذبات میں جوار بھاٹا سا اٹھا مگر وہ امبر کو کیا بتاتی کہ جب سے طاہر نے سرمد کی باتیں سنی تھیں اور اس کے ساتھ گھر لوٹا تھا، تب سے آج تک و ہ دونوں ہر وقت ایک ساتھ ہوتے ہوئے بھی اتنے ہی دور تھے، جتنا شادی سے پہلے۔

صبح کے نو بجے تھے جب مقررہ دن طاہر اکیلا ہی پجارو میں بابا شاہ مقیم کے مزار پر جا پہنچا۔ اس نے ملک یا کسی اور ملازم کو ساتھ نہ لیا۔ ہاں ملک بلال کو اتنا بتا دیا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ ساتھ ہی منع کر دیا کہ کوئی اس کے پیچھے نہ آئے۔
درویش اسے مزار کے باہر ہی مل گیا۔ وہ گاڑی سے اترا اور اس کے پاس چلا آیا۔
” آ گیا پگلے۔ ” وہ اسے دیکھ کر معصومیت سے مسکرایا۔
“جی بابا۔ ” اس نے ادب سے جواب دیا۔
“چلیں ؟” درویش نے پوچھا۔
“ضرور بابا۔ ” یہ پوچھنے کو اس کا جی ہی نہ چاہا کہ کہاں جانا ہے؟ “مگر۔۔۔ ” اس نے مزار کی طرف دیکھا۔
“سلام کرنا چاہتا ہے؟” درویش مسکرایا۔ ” بابا شاہ مقیم وہاں۔۔۔ ” درویش نے مزار کی جانب اشارہ کیا۔ ” اندر موجود نہیں ہے۔ کہیں گیا ہوا ہے۔ اینٹ روڑوں کو سلام کرنا ہے تو یہیں سے کر لے۔ کیا خیال ہے؟ ” وہ ہنسا۔ ” آ جا۔ چلیں۔ “اور وہ سر جھکائے اس کے ساتھ چل پڑا۔ ان کا رخ نور پور گاؤں کی جانب تھا۔
گاؤں میں داخل ہوئے تو جگہ جگہ لوگوں نے درویش کو سلام کیا۔ وہ جواب دیتا ہوا، طاہر کو ساتھ لئے نور پور کی اکلوتی مسجد پر چلا آیا۔ مسجد کا دروازہ بھڑا ہوا تھا۔
درویش نے دروازہ کھول دیا۔ دونوں اندر داخل ہوئے۔ اب وہ جہاں کھڑے تھے وہ ڈیوڑھی نما جگہ تھی جو نمازیوں کے جوتیاں اتارنے کے لئے تھی۔ اس کے بعد سامنے مسجد کا صحن اور اس کے بعد مسجد کی عمارت۔ صحن میں دائیں ہاتھ وضو خانہ بنا ہوا تھا۔ جس کے آخر پر طہارت خانے کے بعد چھوٹی سی کھوئی کے اوپر چرخی اور اس میں رسی سے بندھا چمڑے کا ڈول دکھائی دے رہا تھا۔ بائیں ہاتھ حافظ عبداللہ کا حجرہ تھا، جس کی دیوار آگے کی جانب مسجد کے ساتھ جا ملی تھی۔ حجرے کی مسجد کے صحن میں کھلنے والی کھڑکی کے پٹ وَا تھے۔
“پگلے۔ ” درویش نے اپنے دائیں ہاتھ کھڑے طاہر کی طرف دیکھا۔ ” عشق کے عین کا نظارہ کرنے کے لئے تیار ہو جا۔ ”
طاہر کا دل زور سے دھڑکا اور رگوں میں خون کی گردش تیز ہو گئی۔ نجانے اس کے سامنے کیا آنے والا تھا۔ درویش نے قدم آگے بڑھایا اور کھلی کھڑکی کے قریب جا کھڑا ہوا۔ طاہر اس کے ساتھ تھا۔
اندر کا منظر دیکھ کر طاہر کو پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا۔ پھر نجانے کیوں اسے لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔ ایسا خواب جو دھند بن کر اس کی آنکھوں میں غبار اڑا رہا ہے۔ چمکیلا، رگوں میں سنسناہٹ دوڑاتا، دماغ کے بند دریچوں کو پُر شور آواز کے ساتھ کھولتا ہوا خواب۔
دلہن کے لباس میں ملبوس جواں سال خوبصورت گوری چٹی سکینہ، اپنے سامنے چٹائی پر بیٹھے باریش، سانولے اور واجبی سی شکل کے حامل حافظ عبداللہ کو اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرا رہی تھی۔ وہ روٹی کا لقمہ توڑتی۔ اسے سالن لگاتی اور حافظ عبداللہ کے ہونٹوں کی طرف بڑھا دیتی۔ بچوں کی طرح حافظ عبداللہ منہ کھول کر لقمہ لے لیتا۔ پھر وہ گود میں پڑے اپنے لنجے ہاتھ سے ہونٹ صاف کرنا چاہتا تو وہ بڑی نرمی سے اسے روک دیتی۔ اس کے لنجے ہاتھ کو تھام کر چومتی۔ پھر اپنے گوٹے کناری سے سجے سرخ دوپٹے کے پلو سے اس کے ہونٹوں کو ارد گرد سے صاف کرتی۔ طاہر نے صاف دیکھا کہ حافظ عبداللہ کی آنکھوں میں شبنم لبالب تھی۔ لگتا تھا وہ کسی وقت بھی چھلک پڑے گا۔ نجانے کیوں ؟
طاہر کو لگا جیسے اس کے سامنے جنت کے باسیوں کا کوئی منظر چل رہا ہو۔ ایک حور اپنے مالک کی خدمت کر رہی تھی۔
“یہ ہے عشق کا عین پگلے۔ عبادت، عجز، عقیدت۔ ” درویش کی بیحد آہستہ سی آواز نے طاہر کو ہوش و حواس کی دنیا میں کھینچ لیا۔ ” وہ پگلی ایسا کیوں کر رہی ہے اور وہ سیانا کیوں اندر سے بلک رہا ہے؟ آ۔ تجھے عین کے ہجے کر کے بتاؤں۔ ”
کھڑکی سے ہٹ کر وہ حجرے کے دروازے پر آ گئے۔ درویش نے ایک پل کو کچھ سوچا پھر آہستہ سے دستک دی۔
“کون؟” اندر سے حافظ عبداللہ کی آواز ابھری۔
“اللہ والیا۔ تیرے ہاں مہمان آیا ہے۔ ” درویش نے جواب میں کہا اور کوئی جیسے بڑی جلدی میں اٹھ کر دروازے کی طرف لپکا۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور درویش کے پیچھے کھڑے طاہر نے دیکھا، ان کے سامنے حافظ عبداللہ حیران حیران کھڑا تھا۔ پھر اس نے جلدی سے اپنی آستین سے آنکھیں خشک کر ڈالیں۔
“ارے بابا آپ۔۔۔ ” اسے جیسے یقین نہ آ رہا تھا۔ نظر طاہر پر پڑی تو وہ اور کھل گیا۔ ” آئیے ناں بابا۔ آئیے۔ آپ بھی آئیے جی۔ باہر کیوں کھڑے ہیں۔ ” وہ انہیں راستہ دیتا ہوا ایک طرف ہٹ گیا۔
درویش اور طاہر آگے پیچھے اندر داخل ہوئے۔ کھلی کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی سے منور کمرہ جیسے ان کے استقبال کے لئے مسکرا رہا تھا۔
“سلام بابا۔ ” چٹائی پر بیٹھی سکینہ اٹھ کھڑی ہوئی اور درویش کے آگے سر جھکا دیا۔
“کیسی ہے تو اللہ والئے؟” درویش نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“نہال ہوں بابا۔ سُکھ میں ہوں۔ ” وہ ہنس کر بولی۔
“سُکھی رہے گی تو۔ میرے رب کے حکم سے۔ ” وہ پیار سے بولا۔ “لگتا ہے تم لوگ کھانا پینا کر رہے تھے۔ ” درویش نے چٹائی پر برتن پڑے دیکھ کر کہا۔
“ہاں بابا۔ ناشتہ کر رہے تھے۔ آپ بیٹھئے ناں۔ میں آپ کے لئے بھی ناشتہ بناتی ہوں۔ ” اس نے اب تک ایک بار بھی طاہر کی جانب نہ دیکھا تھا۔
“بیٹھتے ہیں۔ بیٹھتے ہیں۔ ” درویش نے چپل اتار دی اور طاہر اس کی تقلید میں چٹائی پر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ وہ سکینہ کو اچھی طرح دیکھ چکا تھا۔ سہاگ کی چادر سے خود کو ڈھکے، وہ اسے کوئی ایسا محل نظر آ رہی تھی جس میں غلیظ ہوا کے کسی جھونکے کے داخلے کے لئے کوئی روزن موجود نہ ہو۔ حافظ عبداللہ بھی دروازہ بھیڑ کر ان کے پاس آ بیٹھا۔
“لے بھئی پگلے۔ یہ ہے حافظ عبداللہ۔ اس کی کہانی تو تجھے ہم بعد میں سنائیں گے پہلے اپنی بیٹی سے یہ کہہ دیں کہ ہمارے لئے صرف چائے بنائے۔ ”
” اچھا بابا۔ ” سکینہ مسکرا کر دوسرے کمرے میں چلی گئی۔
حافظ عبداللہ نے کھانے کے برتنوں پر رومال دے کر انہیں ایک طرف سرکا دیا۔ درویش نے اس کے ہاتھ پر نظر ڈالی۔
“کیا حال ہے حافظ اس نشانی کا؟”
“بس۔ ٹھیک ہو گیا ہے بابا۔ اب اس سے تھوڑا بہت کام لینے لگ گیا ہوں۔ ” حافظ عبداللہ نے اپنے چُرمرائے ہوئے ہاتھ کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
“جانتا ہے، اس ہاتھ کے ساتھ کیا کیا میرے اوپر والے نے؟” درویش نے اچانک طاہر کا رخ کر لیا۔
“کیا بابا؟” حافظ عبداللہ کے ہاتھ کو دیکھتا ہوا طاہر ہمہ تن گوش ہو گیا۔
اور حافظ عبداللہ کا سر جھک گیا۔ درویش نے کہنا شروع کیا تو طاہر کے اندر روزن کھلتے چلے گئے۔ روشنی اور رنگوں کے فوارے چھوٹنے لگی۔ اس کی حیرت فزا آنکھیں حافظ عبداللہ کے چہرے کا طواف کرتی رہیں جہاں سوائے حیا کے کچھ نہ تھا۔ شاید وہ داستان میں اپنی تعریف پر خود کو شرمندہ شرمندہ محسوس کر رہا تھا۔
“یوں میری پگلی نے اس سیانے کو اپنے پلو سے باندھ لیا۔ اس کا یہ ہاتھ، جو بظاہر دیکھنے میں لنجا لولا لگتا ہے، میرے رب کی مہر کی وہ نشانی ہے، جس کے آگے دنیا کی ساری خوبصورتیاں ہیچ ہیں۔ کیوں پگلی، ٹھیک کہا ناں میں نے؟” درویش نے اسے چمکتی آنکھوں سے دیکھا۔
“ہاں بابا۔ ” طاہر کے حلق سے بڑی چھلکتی ہوئی آواز نکلی۔ “ایسے ہاتھ نصیبوں والوں کے ہوتے ہیں۔ ”
“ہاں۔ ” درویش بچوں کی طرح خوش ہو کر بولا۔ “یہی تو میں کہتا ہوں۔ ایسے ہاتھ نصیبوں والے کے ہوتے ہیں جنہیں کوئی دم دم بوسے دیتا رہے۔ چومتا رہے۔ ”
“بابا۔ ” حافظ عبداللہ نے آبدیدہ ہو کر سر جھکا لیا۔ ” سکینہ تینوں وقت مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتی ہے۔ ہر نماز کے لئے وضو کراتی ہے۔ میرے اس ناکارہ ہاتھ کو سو سو بوسے دیتی ہے۔ مجھے ہر وہ کام کرنے سے روک دیتی ہے جو مجھے اس ہاتھ سے کرنا ہوتا ہے۔ وہ میرا دایاں ہاتھ بن گئی ہے بابا۔ ” حافظ عبداللہ کی آواز بھرا گئی۔
“وہ بھی تو اپنے اس بندے کا ہاتھ بن جاتا ہے۔ زبان بن جاتا ہے۔ کان بن جاتا ہے۔ آنکھ بن جاتا ہے جو اس کے لئے اپنا آپ تیاگ دیتا ہے۔ عاجز ہو جاتا ہے۔ عبودیت کی سیڑھی پر پاؤں رکھ دیتا ہے۔ عشق کے عین کے رستے پر چل پڑتا ہے۔ ” درویش نے وجد میں آ کر کہا۔
“کیا میں غلط کرتی ہوں بابا؟” اسی وقت سکینہ چائے کے تین پیالے پلاسٹک کے پھولدار ٹرے میں رکھے آ گئی اور ٹرے ان کے سامنے چٹائی پر رکھ دی۔
درویش نے طاہر کی جانب نظر کی، جو حیران حیران سا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں دیے سے جل رہے تھے۔ لو دے رہی تھیں اس کی آنکھیں۔
” کیا مجھے عبادت نہیں کرنی چاہئے ؟”
“کرنی چاہئے میری پگلی بیٹی۔ کرنی چاہئے۔ ” درویش کا حلق آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا۔ ” یہ اگر کبھی تجھے روکے ناں۔ تو اس کی بات کبھی نہ ماننا۔ اپنی سی کرتی رہنا۔ یہ سیانا ہے۔ کبھی اسے خیال آ گیا ناں کہ تیری نیکیاں بڑھتی جا رہی ہیں ، تیری عبادت پہ رنگ آ رہا ہے تو شاید رشک کے مارے تجھے روکنا چاہے مگر اس وقت اس کی نہ ماننا۔ اپنے اللہ کی کہی کرنا۔ وہ کہتا ہے ناں کہ جس کا مالک اس سے راضی، وہ بھی اس سے راضی۔ تو اپنے دونوں مالکوں کو راضی کرتی رہنا۔ ایک کی خدمت اور دوسرے کی عبادت میں بڑا گہرا تعلق ہے پگلی۔ تو نے یہ جان لیا ہے۔ بس اس بھید کا دامن نہ چھوڑنا۔ مضبوطی سے پکڑ ے رکھنا اسے۔ ”
“جی بابا۔ ”
“کیوں پگلے۔ عشق کے عین کی حقیقت پلے پڑی؟” درویش نے چائے کا پیالہ اس کے آگے سرکایا۔
“ہاں بابا۔” وہ جلتی ہوئی آواز میں بولا۔
“تو پھر اس کی خدمت کو قبول کر کے بھی کیوں انجان بنا رہتا ہے؟ کیوں اس کی عبادت کو صبر کے کانٹوں پر ڈال دیتا ہے؟ وہ جو تیرا ماتھا چوم کر کمرے سے نکل جاتی ہے، اسے آنسوؤں سے وضو کرا کے تیرے من کو سکون ملتا ہے کیا؟”
“نہیں بابا نہیں۔ “وہ جلدی سے بول اٹھا۔ “بس۔ اندر ایک پھانس سی چبھ گئی ہے۔ وہ نہیں نکلتی۔ ” وہ بے بسی سے بے حال ہو گیا۔
“نکل جائے گی۔ نکل جائے گی۔ ” درویش نے اس کے کندھے پر ہاتھ پھیرا۔ “ابھی یہ تبرک حلق سے اتار۔ ”
بڑے ضبط سے کام لیتے ہوئے طاہر نے آنکھوں کو چھلکنے سے روکا۔ پھر آستین سے چہرہ صاف کیا اور چائے کا پیالہ اٹھا لیا۔ حافظ عبداللہ اور سکینہ بھی چٹائی کے ایک کونے پر بیٹھ گئے۔
“سکینہ بیٹی۔ ایک بات تو بتا۔ ” درویش نے طاہر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“جی بابا۔ ” اس نے پلکیں اٹھائیں۔
“تو نے میرے ساتھ آئے اس مشٹنڈے سے پردہ کیوں نہیں کیا؟” درویش کا اشارہ طاہر کی طرف تھا۔
“میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں بابا۔ ” وہ سادگی سے بولی۔ ” اور جو نظر ہی نہ آئے اس سے پردہ کیسا؟”
“اللہ۔۔۔۔ ” درویش نے بے اختیار ایک فلک شگاف نعرہ لگایا اور یوں جھومنے لگا جیسے اس پر جذب طاری ہو گیا ہو۔ “ٹھیک کہتی ہے پگلی۔ جو دکھائی نہ دے اس سے پردہ کیسا؟ وہ بھی تو دکھائی نہیں دیتا۔ اسی لئے تو اس سے بھی پردہ نہیں کیا جاتا۔ اس سے پردہ کیسا؟ اس سے پردہ کیسا؟” وہ بڑبڑائے جا رہا تھا۔
“چل پگلی۔ آ جا۔ چلیں۔ ” ایک دم درویش اٹھ کھڑا ہوا۔ ” یہ تو بہت آگے چلی گئی۔ اسے تو حافظ کے سوا کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا۔ آ جا۔ چلیں۔ اس نے عبادت کی منزل کو چھو لیا ہے۔ عشق کا عین اس پر کھل گیا ہے بابا۔ عین کا در اس پر وَا ہو گیا ہے۔ ” درویش کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔
طاہر اس کے پیچھے لپکا۔ درویش بڑبڑاتا ہوا مسجد سے باہر نکل چکا تھا۔ طاہر نے پلٹ کر دیکھا۔ حافظ عبداللہ اور سکینہ اپنے کمرے کے دروازے میں کھڑے اسی کی جانب دیکھ رہے تھے۔ اس کی نظریں حافظ عبداللہ سے ملیں تو دونوں بے اختیار مسکرا دئیے۔ لرزتا ہوا نچلا ہونٹ دانتوں میں داب کر اس نے حافظ عبداللہ کی جانب ہاتھ ہلایا۔ جواب میں اس نے بھی اپنے جلے ہوئے ہاتھ سے اس کی جانب اشارہ کیا تو وہ جلدی سے مسجد کا دروازہ پار کر گیا۔ آنکھوں میں چھا جانے والی دھند کے پار دیکھا تو درویش اس سے کتنی ہی دور بھاگتا ہوا گلی کا موڑ مڑ رہا تھا۔ طاہر نے خود کو تیز قدموں سے اس کی آواز کے تعاقب میں ڈال دیا، جو ہوا کے دوش پر لہرا لہرا کر رقص کر رہی تھی۔
“اس سے پردہ کیسا؟
اس سے پردہ کیسا؟
اس سے پردہ کیسا؟”
* * *

طاہر اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا مگر درویش کو زمین نگل گئی تھی یا آسمان، اس کا پتہ نہ چلا۔ وہ پاگلوں کی طرح اسے تلاش کرتا ہوا بابا شاہ مقیم کے مزار پر آیا۔ درویش وہاں بھی نہیں تھا۔ طاہر کا حال عجیب ہو رہا تھا۔ اس کا دل اس کے قابو میں نہ تھا۔ جی چاہتا تھا وہ کپڑے پھاڑ کر جنگلوں میں نکل جائے۔ اس کا رنگ ایک دم سرخ ہو گیا۔ لگتا تھا ابھی رگیں پھٹ جائیں گی اور خون ابل پڑے گا۔ سینے میں ایک الاؤ سا دہکنے لگا تھا جس کی لپٹیں اسے جھلسائے دے رہی تھیں۔ سکون کس چڑیا کا نام ہے؟ وہ بھول گیا تھا۔ قرار کسے کہتے ہیں ؟ اسے یاد نہ تھا۔ بے کلی تھی کہ اسے آگ کے پالنے میں جھُلا رہی تھی۔
“بابا۔۔۔۔ ” اس نے بے بس ہو کر پورے زور سے صدا دی اور چررر چررر کی آواز کے ساتھ اس کا گریبان لیر لیر ہو گیا۔ چیتھڑے اڑ گئے۔ اس نے اپنے بال نوچ لئے۔ گھٹنوں کے بل وہ کچی زمین پر گرا اور دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر ہچکیاں لینے لگا۔
وہ دیوانوں کی طرح رو رہا تھا۔ آہیں بھر رہا تھا۔ اس کی سسکیوں میں کوئی فریاد بار بار سر اٹھاتی اور دم توڑ دیتی۔ وہ کیا کہہ رہا تھا؟ کس سے کہہ رہا تھا؟ کون جانے۔ ہاں ، ایک بابا شاہ مقیم کا مزار تھا جو روشن دھوپ میں سر اٹھائے اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی اس حالت کا گواہ ہو رہا تھا۔
دوپہر سے شام ہوئی اور شام سے رات۔ درویش نے آنا تھا نہ آیا۔
وہ کسی بے آسرا، بے سہارا، بے زبان کی طرح اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے خاک کے فرش پر سر جھکائے بیٹھا رہا۔ اس کا ذہن سفید لٹھے کی طرح کورا ہو چکا تھا۔ کوئی سوچ، کوئی خیال، کوئی شبیہ اس پر ابھر ہی نہ پا رہی تھی۔ بالکل خالی الذہنی کے عالم میں وہ وہاں یوں بیٹھا تھا جیسے دنیا اور دنیا والوں سے اس کا تعلق ٹوٹ چکا ہو۔
گھٹنے کھڑے کئے، ان کے گرد دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے سے تھامے، سر جھکائے، آنکھیں بند کئے وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر بیٹھا تھا کہ ایک آہٹ نے اسے اپنا سُتا ہوا چہرہ اٹھانے پر مجبور کر دیا۔
آہستہ سے اس نے سر گھمایا۔ دائیں دیکھا۔ کچھ نہ تھا۔ بائیں دیکھا۔ خاموشی مہر بہ لب تھی۔ مگر یہ اس کا وہم نہیں تھا۔ اس نے کسی کے تیز تیز قدموں سے پتوں اور گھاس پر چلنے کی آواز سنی تھی۔ اسی وقت وہ آواز پھر ابھری۔ اب اس کے ساتھ کسی کی صدا بھی ابھری۔
وہ تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ اس آواز کو تو وہ لاکھوں میں پہچان سکتا تھا۔
“اس سے کیسا پردہ؟” درویش کی آواز اب کے صاف سنائی دی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا اور اسے آواز کی سمت کا اندازہ ہو گیا۔ بابا شاہ مقیم کے مزار کے عقب میں ایک چھوٹا سا قبرستان تھا، آواز اسی طرف سے آ رہی تھی۔ وہ دیوانہ وار اس طرف بھاگا۔
درویش قبرستان میں تیز تیز قدموں سے ٹہل رہا تھا۔ اسے کوئی ہوش نہ تھا کہ اس کے پاؤں تلے آنے والے کانٹے اسے زخم زخم کئے دے رہے ہیں۔ اس کے کپڑے تار تار ہو چکے تھے۔ بالوں میں خاک اور جسم پر مٹی نے تہہ جما دی تھی۔ وہ جذب کے عالم میں قبرستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر شے سے بیگانہ ٹہل رہا تھا۔ کبھی کبھی آسمان کی طرف دیکھ لیتا۔ پھر اس کے ٹہلنے میں اور شدت آ جاتی۔ ہونٹوں پر ایک ہی فقرہ تھا جو کبھی نعرہ بن جاتا اور کبھی سرگوشی۔
“اس سے پردہ کیسا؟ اس سے پردہ کیسا؟ اس سے پردہ کیسا؟”
طاہر گرتا پڑتا اس کے قریب پہنچا اور پھر ایک بار جب وہ پلٹ کر قبروں کے درمیان سے دوسری جانب جانے کو تھا کہ وہ اس کے قدموں سے جا لپٹا۔
“بابا۔ ”
“ارے۔۔۔ ” ایک دم درویش کی زبان تھم گئی۔ ” پگلے۔ تو ابھی یہیں ہے؟” وہ اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ ”
“بابا۔ ” طاہر نے اس کے ہاتھ تھام کر اپنا ماتھا ان پر ٹکا دیا۔ “میں کہاں جاؤں اب؟” اس کا بھیگا ہوا لہجہ تھکان سے لبریز تھا۔
“کہاں جاؤں سے کیا مطلب؟” سسکتے ہوئے طاہر پر درویش کی نظریں جم سی گئیں۔ “ارے۔ واپس جا۔ ”
“واپس کہاں بابا؟” طاہر نے برستی ہوئی آنکھیں درویش کی جانب اٹھائیں۔ چٹکی ہوئی چاندنی میں وہ دونوں قبرستان کے خاموش ماحول میں دو روحوں کی طرح ہمکلام نظر آ رہے تھے۔ “مجھے تو کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ کوئی راستہ سامنے نہیں ہے جس پر چل کر میں جہاں سے آیا تھا وہاں لوٹ کر جا سکوں۔ ”
“پگلا ہوتا جا رہا ہے تو واقعی۔ ” درویش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ “اور یہ تو نے اپنا حال کیا بنا لیا ہے؟”
“پتہ نہیں بابا۔ مجھے کچھ پتہ نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کیا ہونے والا ہے؟”
“چل۔ ادھر چلتے ہیں۔ یہ تیری جگہ نہیں ہے۔ چل۔ ” درویش نے اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ نکالی۔ اسے اٹھایا اور دونوں ایک دوسرے کے سہارے کمرے میں چلے آئے۔ وہاں تک آتے آتے طاہر کی حالت کافی سنبھل گئی۔ طبیعت میں ٹھہراؤ سا آ گیا اور الاؤ کی دہک میں کمی بھی۔
کمرے میں داخل ہو کر چٹائی پر بیٹھتے ہی ایک دم طاہر گھبرا گیا۔ اس کی نظر درویش کے پیروں پر پڑی جو لہو لہان ہو رہے تھے۔ کانٹوں نے اس کی پنڈلیوں تک کو خون میں نہلا رکھا تھا۔ خون اور مٹی میں لتھڑے اس کے پاؤں دیکھ کر وہ تھرا گیا۔
“بابا۔ آپ تو زخمی ہیں۔ ” اس نے بے اختیار اس کے پاؤں چھو لئے۔
“اچھا۔ ” درویش نے حیرت سے اپنے پیروں کی جانب دیکھا۔ “یہ کیسے ہو گیا؟”
” آپ یہیں بیٹھئے۔ میں پانی لاتا ہوں انہیں دھونے کے لئے۔ “طاہر اٹھا اور درویش کے روکتے روکتے کمرے سے نکل گیا۔ دوسرے کمرے میں بھی کچھ نہ ملا تو وہ مزار کے صحن میں چلا آیا۔ دروازے کے پاس ہی ایک میلا سا سٹیل کا جگ پڑا تھا۔ اس نے اس میں ہینڈ پمپ سے پانی نکالا اور واپس لوٹ آیا۔
درویش سرہانے بانہہ دھرے چٹائی پر آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔ طاہر نے اپنے پھٹے کرتے کے دامن سے ایک ٹکڑا پھاڑا اور درویش کے پاس بیٹھ گیا۔ کپڑے کو جگ کے پانی میں بھگو بھگو کر وہ درویش کے زخم صاف کرنے لگا اور بڑی نرمی سے تلووں سے کانٹے نکالنے لگا۔ درویش یوں بے حس و حرکت پڑا تھا جیسے بڑے آرام سے سو رہا ہو۔ طاہر اس کے کانٹے نکالتا رہا۔ خون اور مٹی صاف کرتا رہا۔ زخم برہنہ ہوتے چلے گئی۔ جگہ جگہ سے گوشت اڑ گیا تھا۔ اذیت کا احساس ہوا تو طاہر کا دل بھر آیا۔
“پگلے۔ ” اچانک درویش نے آنکھیں کھول دیں۔ ” رات بہت جا چکی۔ اب گھر جا۔ ”
“نہیں بابا۔ ” طاہر نے نفی میں سر ہلایا اور اس کے پیروں میں بیٹھ گیا۔ ” اب کسی گھر کی یاد دل میں باقی رہی ہے نہ کہیں جانے کو جی چاہتا ہے۔ مجھے یہیں اپنے قدموں میں پڑا رہنے دیں۔ ”
“نہیں رے۔ ” درویش نے پاؤں سمیٹ لئے اور اٹھ بیٹھا۔ “تو اکیلا نہیں ہے۔ کوئی اور بھی بندھا ہے تیرے نام سے۔ اس کا حق مارے گا تو وہ ناراض ہو جائے گا۔ ” درویش نے اوپر کی جانب دیکھا۔
“میں اسے آزاد۔۔۔ ”
“بس۔ ” درویش نے سختی سے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ “ایک لفظ اور نکالا تو راندہ درگاہ ہو جائے گا۔ ” وہ بھڑک اٹھا۔ ” اپنی مستی کے لئے اسے خود سے الگ کرنا چاہتا ہے۔ پگلے۔ اس کی تو اجازت ہی نہیں ہے۔ ”
“تو پھر میں کیا کروں بابا؟” وہ بے بسی سے نم دیدہ ہو گیا۔ ” میں کیا کروں ؟ ایک پھانس ہے جو اس دل میں اٹک گئی ہے۔ نکلتی ہی نہیں۔ ”
“نکالنا ہی پڑے گی۔ ” درویش آنکھیں موند کر بڑبڑایا۔ “تو نے ہمارے کانٹے نکالے ہیں۔ اب تیری پھانس بھی نکل ہی جانی چاہئے۔ “اس نے جھٹکے سے آنکھیں کھول دیں۔
“ادھر دیکھ۔ ” وہ تحکم سے بولا۔
بے اختیار طاہر کی نظریں اٹھیں اور درویش کی نظروں میں مدغم ہو گئیں۔
“یہ جو تیرے اندر پھانس اٹکی ہوئی ہے ناں۔ یہ پھانس نہیں ہے، عشق کا دوسرا حرف ہے۔ شین۔ کیا سنا تو نے؟ عشق کا دوسرا حرف شین ہے یہ۔ جانتا ہے شین کس کی علامت ہے؟ مگر نہیں تو کیسے جانے گا؟ تو تو بس اسے دل میں اتار کر بے خبر ہو گیا۔ یہ نہ سوچا کہ یہ حرف تیرے دل میں اترا کیسے؟ کیوں اترا؟”
طاہر بُت بنا درویش کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ اس کے اندر ایک عجیب سی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ عشق کے عین نے اس کا یہ حال کر دیا تھا جو اس کے ساتھ بیتا بھی نہ تھا۔ اور عشق کا شین اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا جو اس کے اندر پھانس بن کر اٹکا ہوا تھا۔ اس کے دل میں اندر تک اترا بیٹھا تھا۔
اس کا جی چاہا، درویش سے کہے۔ “بابا، رکو مت۔ بولتے رہو۔ بولتے رہو۔ ” اس کے بولنے میں سُکھ تھا۔ سکون تھا۔ ٹھہراؤ تھا۔ فیض تھا۔ ایسا فیض جو طاہر کی بے کلی کو تسلی کی چادر سے ڈھانپ لیتا تھا۔ تشفی کے دامن میں سمیٹ لیتا تھا۔
“شین۔۔۔ ” درویش نے آنکھیں بند کر لیں اور ایک سسکی لی۔ ” عشق کے پہلے حرف عین سے عبادت۔ عجز میں ڈوبے عبد کی عبادت اور عقیدت ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔ عبادت، جیسی سکینہ کر رہی ہے۔ جیسی تیرے گھر میں ہو رہی ہے۔ جیسی تیرے شہر میں داغدار قمر کے دامن میں پھول کھلا رہی ہے۔ اور اب عشق کادوسرا حرف شین۔ ” درویش ایک لمحے کو رکا۔ پھر اس کی آواز ابھری تو نشے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ خمار آلود، بھرائی ہوئی۔ طاہر اپنے آپ سے بے خبر ہوتا چلا گیا۔ اسے صرف درویش کی خوشبو سے بوجھل، تپش سے لبریز آواز سنائی دے رہی تھی۔ نہیں۔ سنائی نہیں دے رہی تھی۔ بے خودی کا شہد تھا جو قطرہ قطرہ اس کے کانوں میں ٹپک رہا تھا۔ اس کے دل پر شبنم بن کر اتر رہا تھا۔
“عشق حقیقی تک پہنچنے کے لئے عشق مجازی ضروری ہے۔ جیسے کسی چھت تک پہنچنے کے لئے سیڑھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چھت پر پہنچ کر سیڑھی سے الگ ہو جانا ایک قدرتی امر ہے۔ سیڑھی کے بغیر چھت پر پہنچنا غیر فطری ہے۔ ہاں جو پیدا ہی چھت پر ہوا ہو اس کے لئے سیڑھی کی ضرورت نہیں پڑتی مگر ہم عام اور بے حیثیت انسانوں کے لئے وسیلہ اور حیلہ دونوں ضروری ہیں۔ کبھی سیڑھی کا وسیلہ۔ کبھی کمند کا حیلہ۔ عشق مجازی کے لئے ضروری ہے کہ کوئی دل کے دروازے پر آ کر دستک دے۔ اس میں آ کر مکین ہو جائے۔ دل کو اپنی جاگیر سمجھ کر اس پر قابض ہو جائے۔ اس میں اپنی مرضی کی دھڑکنیں جگائے۔ کبھی اسے توڑے۔ کبھی اسے جوڑے۔ کبھی اچانک غائب ہو جائے اور رلا رلا کر دل والے کو عاجز کر دے۔ کبھی ایسا مہربان ہو کہ نہال کر دے۔ پھر ایک ایسا وقت آتا ہے جب دل میں ایسا گداز پیدا ہو جاتا ہے کہ دل والا بات بے بات آبگینے کی طرح پھوٹ پڑتا ہے۔ آنسو اس کی پلکوں کی نوکوں پر موتیوں کی طرح اٹکے رہتے ہیں۔ وہ غم ملے تو روتا ہے۔ خوشی پائے تو روتا ہے۔ سوئے تو روتا ہے۔ جاگے تو روتا ہے۔ سوچے تو روتا ہے۔ سمجھے تو روتا ہے۔ یہ رونا اس کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے۔ اس وقت۔۔۔ ” درویش نے دھیرے سے پلکیں وَا کیں۔ طاہرسر جھکائے، بے حس و حرکت بیٹھا، ہر شے سے بیگانہ اس کی بات سن رہا تھا۔ اس نے طاہر کے چہرے پر نگاہیں جما دیں اور پھر گویا ہوا۔
“اس وقت اس کے دل میں اس قدر نرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہاں رحمان آن بسیرا کرتا ہے اور اگر ذرا سا۔۔۔ ” درویش نے انگلی کی پور کے کونے پر انگوٹھے کا ناخن رکھ کر کہا۔ “اتنا سا بھی شیطان کو موقع مل جائے تو وہ چھلانگ مار کر دل کے سنگھاسن پر آ بیٹھتا ہے۔ تب گداز پر غیریت کا پردہ پڑ جاتا ہے۔ رحمانیت رخصت ہو جاتی ہے اور شیطانیت لوریاں دینے لگتی ہے۔ دوئی لپک کر آتی ہے اور وحدانیت سے بیگانہ کر دیتی ہے۔ پھر انسان، انسان صرف اس حد تک رہ جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ پیر انسانوں جیسے ہیں اور بس۔ اس کے اندر دہکتا عشق کا الاؤ ہوس کی آگ بن جاتا ہے۔ لوگ اس کے ہاتھ پیر چومنے لگتے ہیں۔ اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ جوانیاں اس کے انگ لگتی ہیں تو وہ اسے نفس پر غلبے کا نام دے کر خوش ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں وہ خود شیطان کو خوش کر رہا ہوتا ہے۔ عشق کے نام پر بھڑکنے والے شعلے پر ہوس کے چھینٹے پھوار بن کر برسنے لگتے ہیں اور پھوار میں بھیگنے کا تو ایک اپنا ہی مزا ہوتا ہے ناں۔ یہ مزا انسان کو عشق کی کسک سے دور لے جاتا ہے۔ اس چبھن سے دور لے جاتا ہے جس کا نام مجاز ہے۔ وہ دھیرے دھیرے اس رنگ میں ایسا رنگا جاتا ہے کہ اس کا اپنا رنگ، عشق کا رنگ ناپید ہو جاتا ہے۔ ہوش اسے تب آتا ہے جب آخری لمحہ اس کے سامنے اس کا کچا چٹھا لئے آن کھڑا ہوتا ہے۔۔۔ مگر اس وقت اس کا ہوش میں آنا بیکار ہو جاتا ہے۔ عشق کے نام پر پھیلائی ہوئی بربادی اسے اپنے پیروں تلے روندتی ہوئی گزر جاتی ہے اور اس کا وجود تو مٹ جاتا ہے تاہم اس کا نام ابد الآباد تک عبرت بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔ اور اگر۔۔۔ ” درویش نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا لہجہ گمبھیر ہو تا چلا گیا۔ آواز میں ایک عجیب سی نرمی پر کھولنے لگی۔۔۔ ” اگر یہ گداز رحمانیت کو چھو لے تو عشق مجازی کا ہاتھ عشق حقیقی کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ دل، اس کا گھر بن جاتا ہے جو ہر کافر کے دل میں بھی کبھی نہ کبھی پھیرا ضرور ڈالتا ہے۔ پھر جسے وہ چُن لے، وہ کافر رہتا ہے نہ مشرک، بس اس کا بندہ بن جاتا ہے اور جس کا دل اسے پسند نہ آئے وہ اس کے آنے کو یوں بھول جاتا ہے جیسے جاگنے پر خواب یاد نہیں رہتا۔۔۔ عشقِ مجازی کی پہلی منزل عشق کے پہلے حرف عین سے شروع ہوتی ہے۔ عبادت جہاں پھل پانا شروع کرتی ہے، وہاں سے عشق کے دوسرے حرف شین کے رخ سے پردہ اٹھتا ہے۔ شین۔۔۔ ” درویش نے ایک مستی بھری سسکی لی۔ “شین۔۔۔ شین سے شک ہوتا ہے پگلے۔ ”
“شک۔۔۔ ؟” ایک دم طاہر کا ذہن جھنجھنا اٹھا۔ سارے بدن میں ایک پھریری سی دوڑ گئی۔ لرز کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔
“ہاں پگلے۔ ” درویش کی نگاہیں اسی کی جانب مرکوز تھیں۔ وہ درویش کی لو دیتی آنکھوں میں ڈوبتا چلا گیا۔ زبان کو مزید کچھ کہنے کا یارا ہی نہ رہا۔ وہ ایک بار پھر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گیا۔ درویش کہہ رہا تھا۔
“شک۔۔۔ عشق کو مہمیز کرتا ہے۔ اسے ایڑ لگاتا ہے۔ انسان جس سے عشق کرتا ہے اس کے بارے میں ہر پل، ہر لمحہ شک کا شکار رہتا ہے۔ کبھی اسے یہ شک چین نہیں لینے دیتا کہ اس کا محبوب کسی اور کی طرف مائل نہ ہو جائے تو کبھی یہ شک نیندیں اڑا دیتا ہے کہ کوئی اور اس کے محبوب پر کمند نہ ڈال رہا ہو۔ کبھی یہ شک بے قراری کی آگ کو ہوا دینے لگتا ہے کہ اس کے عشق میں کوئی کمی نہ رہ جائے کہ اس کا محبوب ناراض ہو جائے تو کبھی یہ شک کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کسی اور کے جذبے کی شدت میرے محبوب کو متاثر نہ کر لے۔ شک کے یہ ناگ جب انسان کو ڈسنے لگتے ہیں تو وہ درد کی اذیت سے بے چین ہو ہو جاتا ہے۔ شک اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے محبوب کے آس پاس رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رہے۔ اس پر کسی دوسرے کا سایہ نہ پڑنے دے۔ اسے دل میں یوں چھپا لے کہ کسی کی اس پر نظر نہ پڑے۔ کھو دینے کا یہ خوف اسے کچھ پا لینے کی منزل کی طرف ہانک دیتا ہے۔ جتنی شدت سے یہ شک کا خوف اس پر حملہ آور ہوتا ہے، اتنی ہی جلدی وہ عشق کی یہ دوسری منزل طے کر لیتا ہے۔ جب صدیق کو یہ شک ستاتا ہے کہ کوئی دوسرا اس کے محبوب کے حضور اس سے بڑھ نہ جائے تو گھر کی سوئی تک نچھاور کر دی جاتی ہے۔ جب عمر کو یہ شک مس کرتا ہے تو صدیق سے آگے بڑھ جانے کے لئے رشک کی آخری منزل تمنا بن کر دل میں جنم لیتی ہے۔ جب عبداللہ کو یہ شک بے قرار کرتا ہے تو وہ اپنے سگے باپ کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ جب تک وہ اس کے محبوب سے معافی نہ مانگ لے گا وہ اسے مدینہ میں داخل نہ ہونے دے گا۔ جب یہ شک زید کی جان کو آتا ہے تو وہ اپنے باپ کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی کو ٹھکرا کر اپنے آقا کے در پر ابدی غلامی کے لمحات کو چُن لیتا ہے۔ قیس کو یہ شک لیلیٰ کے کتے کو چومنے پر مائل کر لیتا ہے کہ وہ اس کتے سے بھی پیار کرتی ہے۔ یہ شک رانجھے کو کان پھڑوا کر جوگی بنا دیتا ہے تاکہ وہ کسی اور کو حالتِ ہوش میں ویسے دیکھ ہی نہ سکے جیسے ہیر کو دیکھتا تھا۔ یہ شک مہینوال کو ران کے کباب بنا کر سوہنی کے حضور پیش کرنے پر آمادہ کر لیتا ہے اور۔۔۔ یہی شک ہے جو اپنے پر پھڑپھڑاتا ہے تو ساری ساری رات سونے نہیں دیتا۔ انسان کروٹیں بدلتے بدلتے چپکے سے اٹھتا ہے۔ یخ بستہ پانی سے وضو کرتا ہے اور محبوبِ حقیقی کی آرزو میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ میرے علاوہ اور کس کس کی طرف مائل بہ لطف ہے؟ کون کون اس کی مِہر سے فیض یاب ہو رہا ہے؟ کس کس طرح کوئی اس کے حضور آہ و زاری کے نذرانے پیش کر رہا ہے؟ جن سے متاثر ہو کر وہ رونے والوں پر کیا کیا مہربانیاں کر رہا ہے؟ کیا کیا ناز دکھا رہا ہے کہ اپنے عشق کے مبتلاؤں کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا؟ بندہ یہ سبب ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود ناپید ہو جاتا ہے کہ جس کے باعث اس کا رب اوروں پر مہربان اور اس خام و ناکام کی طرف سے لاپروا ہوا بیٹھا ہے۔ بندہ اس شک میں مبتلا رہتا ہے کہ اس کا خالق، اس کا مالک اس کے علاوہ باقی سب پر مہربان ہے۔ اور ایسا ہے تو کیوں ؟ یہ “کیوں “اسے اپنے مالک کے حضور لرزہ بر اندام رکھتا ہے۔ اس “کیوں ” کا جواب پانے کے لئے یہ شک اسے ایسے قیام میں ڈبو دیتا ہے کہ اپنی خبر بھی نہیں رہتی۔ ایسے رکوع میں گم کر دیتا ہے کہ اس کی طوالت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ سُوہ لینے کی اس حالت میں یہ شک رات رات بھر سجدے کراتا ہے۔ ایسے سجدے کہ سر اٹھانے کو جی ہی نہیں چاہتا۔ لگتا ہے کہ ابھی سجدے میں سر رکھا تھا کہ فجر کی اذان ہو گئی۔ محبوبِ حقیقی کی دبے پاؤں یہ تلاش اس شک ہی کی دین ہوتی ہے جس میں انسان یہ سوچ کر نکل کھڑا ہوتا ہے کہ:
کوٹھے تے پِڑ کوٹھڑا ماہی، کوٹھے سُکدیاں توریاں
ادھی ادھی راتیں جاگ کے میں نپیاں تیریاں چوریاں ”
بڑی پُرسوز آواز میں درویش نے تان لگائی۔
طاہر کا دل ایک دم کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔ اس کی حالت ایسی غیر ہوئی کہ وہ بیقراری کے عالم میں سر مار کر رہ گیا۔ دونوں ہتھیلیاں پہلوؤں میں چٹائی پر ٹیکے وہ ہلکورے لے رہا تھا۔ جھوم رہا تھا۔ لوہا جانے کیسا گرم تھا کہ ایک ہی چوٹ نے اسے سانچے میں ڈھال دیا۔
“وہ جو سب کا محبوبِ حقیقی ہے۔ محبوبِ ازلی ہے۔ اسے اپنے علاوہ کسی اور کی طرف مائل دیکھنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ ” درویش نے ایک سرد آہ بھری۔ “مگر۔۔۔ ” اس کے ہونٹوں پر بڑی آسودہ سی مسکراہٹ نے جنم لیا۔ ” وہ تو سب کا محبوب ہے ناں۔ سوائے ایک کے کسی اور ایک کا ہو کر رہنا اس کی سرشت ہی میں نہیں۔ جس ایک کا وہ ہے، اسے اس نے اپنا محبوب بنا لیا ہے۔ باقی سب کا وہ مشترکہ محبوب ہے۔ اسی لئے تو وہ ہر جگہ مل جاتا ہے۔ ہرجائی جو ہے۔۔۔ ہرجائی۔۔۔ ہر جگہ مل جاتا ہے۔ ” درویش کی آنکھوں کے سوتے ابل پڑے۔ “ہرجائی۔۔۔ وہ تیرا بھی ہے اور میرا بھی۔ اس کا بھی ہے اور اُس کا بھی۔ یہاں بھی ہے اور وہاں بھی۔۔۔ وہ سب کا ہے اور کسی کا بھی نہیں۔۔۔ ہرجائی۔ ” وہ بچوں کی طرح سسک پڑا۔ “مگرکیسا ہرجائی ہے وہ کہ ہر جگہ ہے اور کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ پھڑائی نہیں دیتا۔ لکن میٹی کھیلتا ہے ہمارے ساتھ۔ خود چھپا رہتا ہے اور ہمیں ڈھونڈنے پر لگا دیا ہے۔ پھر کہتا ہے میں تو تمہاری شہ رگ کے قریب ہوں۔ سرجھکاؤ اور مجھے پا لو۔ میں تمہارے دل میں رہتا ہوں۔ دل۔۔۔ جس میں اس کے عشق کے تینوں حرف اودھم مچائے رکھتے ہیں۔ شک ان میں سب سے زیادہ لاڈلا ہے۔ اسے کھل نہ کھیلنے دو تو یہ روٹھ جاتا ہے۔ منہ پھیر کر چل دیتا ہے۔ اسے کبھی دل سے جانے نہ دینا پگلے۔ اس کے ہونے سے ہی عشق کی سج دھج ہے۔ عشق کا الاؤ اسی چنگاری سے دہکتا ہے۔ یہ چنگاری سلگنا بند کر دے تو عشق کا شعلہ سرد پڑنے لگتا ہے۔ دم توڑنے لگتا ہے۔ یہ شک ہی ہے جو انسان کا ہاتھ پکڑ کر عشقِ مجازی کے راستے سے عشقِ حقیقی کی منزل تک لے جاتا ہے۔ محبوب کی نظروں میں ہلکا پڑ جانے کا شک انسان کو کبھی بے وزن نہیں ہونے دیتا۔ اسے محبوب سے دور نہیں جانے دیتا۔ دل میں پھانس بن کر اٹک جانے والا یہ شک۔۔۔ ” درویش رک گیا۔
“بولتے رہئے بابا۔ رکئے مت۔ ” طاہر نے مچل کر درویش کی جانب دیکھا۔ جان سمٹ کر جیسے لبوں پر آ گئی۔
طاہر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے درویش کے لبوں پر بڑی عجیب سی مسکراہٹ ابھری۔ طاہر اس مسکراہٹ سے اور بے قرار ہو گیا۔
“یہی وہ شک ہے۔ وہ پھانس ہے۔ عشق کے شین کی یہی وہ شدت ہے جس نے کسی تیسرے کا خوف تیرے دل میں بٹھا دیا ہے۔ “درویش نے اس کی جانب انگلی سے اشارہ کیا۔
طاہر کے دل کا بھید آشکار ہوا تو وہ حیرت سے سُن ہو گیا۔ اس نے کچھ کہنے کے لئے ہونٹ کھولے۔
“نہ۔۔۔ ” درویش نے انگلی اس کی جانب اٹھا دی۔ اسے بولنے سے روک دیا۔ “تجھے یہ شک نہیں ہے کہ تیری پگلی اور اس تیسرے میں کوئی واسطہ ہے۔ نہ نہ۔ تجھے تیرے عشق کی شدت نے ا س شک میں مبتلا کر دیا ہے کہ کسی روز وہ سامنے آ گیا تو اس کے عشق کی شدت تیری پگلی کو تجھ سے دور نہ لے جائے۔ وہ ایک پل کو بھی اگر اس کے بارے میں کچھ سوچ لے گی تو تیرا کیا حال ہو گا؟ اس کا خیال بھی تیرے اور تیری پگلی کے درمیان نہ آ جائے، یہ شک تجھے تیری پگلی کے قریب نہیں جانے دیتا۔ ایساہی ہے ناں پگلے؟” درویش نے اس کی جانب مسکرا کر دیکھا۔
بے بسی سے ہونٹ کاٹتے ہوئے طاہر نے سر جھکایا اور اثبات میں ہلا دیا۔
“اسی لئے تو میں تجھے پگلا اور اسے پگلی کہتا ہوں جو دن رات تیری پوجا کرتی ہے۔ پگلا ہونے میں بڑا فائدہ ہے۔ سیانا ہو جائے ناں بندہ تو اس کے ہر ہر فعل کی جانچ ہوتی ہے۔ اس کا امتحان لیا جاتا ہے جیسے حافظ عبداللہ کا لیا گیا۔ اسے تو اس کی پگلی نے بچا لیا۔ تو بول۔ تیرے پاس کوئی پگلی ہے جو تجھے بچا لے؟”
جواب میں طاہر درویش کو درد بھری نظروں سے دیکھ کر رہ گیا۔ اس کے پاس درویش کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
” ہے۔ تیرے لئے ہونی تو سیانی چاہئے تھی مگر اس کے رنگ نیارے ہیں۔ اس نے تجھ جیسے پگلے کو سیانی نہیں دی، پگلی ہی دی۔ وہ جو تیرے گھر میں پڑی ہے ناں۔ تیرے جیسی ہی پگلی ہے۔ پگلا اور پگلی۔ دونوں کو سمجھانے کے لئے میری جان عذاب میں آئی ہوئی ہے۔ اسے تو کیا سمجھاؤں گا، تو ہی اکیلا کافی ہے میرے لئے۔ ” وہ بگڑ گیا۔
“بابا۔ ” طاہر نے لجاجت سے کہتے ہوئے اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ دئیے۔
“دیکھ۔ ” درویش نرم پڑ گیا۔ ” دیکھ پگلی۔ سیانے جو ہوتے ہیں ناں۔ انہیں سب معلوم ہو جاتا ہے اور یہ پھنس جاتے ہیں۔ جو جتنا سبق یاد کرتا ہے اسے اتنا ہی قابل سمجھا جاتا ہے۔ اور جو جتنا قابل ہوتا ہے اسے اتنی ہی بڑی ذمے داری نبھانا پڑتی ہے۔ پھر ان سیانوں کی کمر دوہری ہو جاتی ہے ذمے داری کے بوجھ سے۔ آزمائش اور امتحان کے کانٹوں بھرے طویل راستے پر احتیاط کا دامن پھٹنے نہ پائی، یہ احساس انہیں اس اکیلے کی طرح تنہا کر دیتا ہے جس کا عشق ان کے لئے سوہانِ روح بن جاتا ہے۔ پھر بھی یہ پتہ نہیں ہوتا کہ کب ان کا نتیجہ فیل ہونے کی صورت میں نکل آئے۔ اس کے مقابلے میں تجھ جیسے پگلے بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں۔ اتنا ہی جانتے ہیں جس سے گزارا ہو جائے۔ بس خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ سر جھکائے عشق کے سفر پر چل دیتے ہیں۔ دنیا بھی نبھ جاتی ہے اور مقصود بھی ہاتھ آ جاتا ہے۔ جہاں غلطی ہو جائے، کوتا ہے ہو جائے، وہاں معافی بھی مل جاتی ہے، پگلا ہونے کا یہ سب سے بڑا فائدہ ہے۔ جبکہ سیانا بیچارہ معافی کے لفظ سے ہی نا آشنا ہو جاتا ہے۔
مکتبِ عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا ”
کہہ کر درویش قلقاری مار کر ہنسا۔ طاہر اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے اس کی ہر ہر بات ایک نیا بھید، ایک نیا راز آشکار کر رہی ہو اور اسے سمجھ نہ آ رہی ہو کہ وہ ان رازوں کو ان بھیدوں کو کہاں سنبھال کر رکھے کہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔
“اسی لئے کہا تھا میں نے کہ اس پگلی کو چھوڑنے کا خیال بھی کبھی دل میں مت لانا۔ اس پر، اپنے جذبے پر شک کر تو صرف اس لئے کہ تو اسے جی جان سے چاہتا ہے۔ اسے کھو دینے کا ڈر اس کے ساتھ کسی کا بھی نام آتا دیکھنا نہیں چاہتا، یہ اچھا ہے۔ اس طرح تیرا اس سے عشق کا تعلق “دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی “جیسا ہو جائے گا۔۔۔ مگر کبھی اس پر شبہ نہ کرنا۔ شک اور شُبے میں یہی بنیادی فرق ہے پگلی۔ عشق میں شک جائز بھی ہے اور ضروری بھی، اگر کھوٹ درمیان میں نہ آئے اور شُبہ۔۔۔ الامان الحفیظ۔۔۔ ” درویش نے کانوں کو لووں کو چھوتے ہوئے کہا۔ “عشق میں شُبہ در آئے تو پاک دامن بیوی بیسوا نظر آتی ہے۔ بستر کی شکنوں میں کسی باہر والے کا جسم لپٹا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا بناؤ سنگھار کسی دوسرے کے لئے لگتا ہے۔ کاجل کی دھار، گناہ آلود راتوں کی طرح خیالات پر بال کھولے بین کرنے لگتی ہے۔ شُبے سے ہمیشہ بچنا۔ اسے کبھی دل میں جگہ نہ دینا۔ پھر تو بچا رہے گا برباد ہونے سی۔ ”
” آپ روشن ضمیر ہیں بابا۔ ” طاہر کے حواس لوٹ رہے تھے۔ ” آپ جانتے ہیں میں نے صفیہ کو کبھی شبے کی نظر سے نہیں دیکھا۔ جو پھانس تھی وہ کسی حد تک نکال دی ہے آپ نے۔ ”
“یعنی ابھی اس کی ٹیس کچھ باقی ہے دل میں ؟” درویش نے بھویں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
“بس اتنی سی بابا کہ اگر کبھی سرمد لوٹ آیا تو۔۔۔ ؟” اس نے سر جھکا لیا۔
“تو۔۔۔ ” درویش نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ ” تو کیا ہو گا؟”
“یہی تو میری سمجھ میں نہیں آتا بابا۔ ” وہ اسی طرح بیٹھے ہوئے بولا۔ “تب کیا ہو گا؟”
“تب کیا ہو گا، یہ تو میں نہیں بتا سکتا تجھی۔ اجازت نہیں ہے مجھے۔۔۔ مگر ایک بات تجھے ابھی سمجھا سکتا ہوں میں۔ ”
طاہر نے نظریں اٹھائیں۔ درویش اسے بڑی سرد نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
“ایک پارسا تھا۔ ، اس نے کہنا شروع کیا۔ ” اس کے گھر سے کھانا آتا تو وہ سالن میں پانی ملا کر کھایا کرتا تھا۔ کسی نے سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ میں کھانے کی لذت ختم کر کے کھاتا ہوں تاکہ میرا نفس مزہ لینے کی عیاشی نہ کر سکے اور میں اس کے بہکاوے میں نہ آ جاؤں۔ میں نے سنا تو اتنے بڑے بڑے پھکڑ تولے میں نے۔ اسے گالیاں دیں میں نے۔ جانتا ہے کیوں ؟ ”
درویش نے انگلی اس کی جانب اٹھائی اور اس کے جواب کا انتظار کئے بغیر کہا۔
“اس لئے کہ وہ میرے مالک کی نعمت کا کفران کر رہا تھا۔ میں نے کہا ارے بھڑوے۔ اگر لذت نہ دے کر نفس کو مارنا چاہتا ہے تو کھانا ہی پھیکا، بدمزہ اور بے لذت کیوں نہیں پکواتا۔ میرا رب تجھے اچھی نعمت دے رہا ہے اور تو اس میں خرابی پیدا کر کے کھاتا ہے۔ اس کی دی ہوئی چیز میں اپنی طرف سے مین میخ نکال کر، خود کو پارسا ظاہر کر رہا ہے تاکہ لوگ تجھے نیکو کار سمجھیں یا کم از کم تیرا نفس تجھے اس بھول میں رکھے کہ تو بڑا اچھا کام کر رہا ہے۔ اس سے تیرا رب تجھ سے راضی ہو گا لیکن اگر رب نے پوچھ لیا کہ پاگل کے بچے۔ میں نے تجھے ایک نعمت دی کہ تو اس سے بہرہ ور ہو۔ اس سے لطف اٹھائے اور میرا شکر ادا کرے مگر تو نے اسے بد ہیئت اور بدمزہ کیوں کیا؟ تو تیرے پاس اس کا کیا جواب ہو گا؟ تلا جائے گا یا نہیں اس وقت؟ تو بھی اس پارسا کی طرح اللہ کی بخشی ہوئی نعمت کو آنے والے، نادیدہ، مستقبل کی دھند میں لپٹے وقت کا پانی ڈال کر بد مزہ کرنے کا گناہ کر رہا ہے۔ یہ ریا کاری ہے میرے بچے۔ اللہ نے تجھے پاکیزہ لباس عطا کیا ہے، اسے وہم کا پیوند نہ لگا۔ اسے چوم چاٹ کر پہن۔ اسے کھونٹی پر ٹانگے رکھے گا تو وہ بوسیدہ ہو جائے گا۔ اس پر بے توجہی کا غبار جم جائے گا۔ گزرتے وقت کی ٹڈیاں اسے جگہ جگہ سے کتر ڈالیں گی۔ اور جب تجھے اس لباس کی اہمیت کا اندازہ ہو گا تب تک وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ تو اسے پہن سکے۔ پھر تجھ سے کفرانِ نعمت کا حساب لیا جائے گا۔ دے سکے گا تواس کا حساب؟ سیانا نہ بن۔ پگلا بنا رہ۔ کوتا ہے اور غلطی کی معافی مانگ کر لوٹ جا اپنی پگلی کے پاس۔ اسے پہن لے جا کر۔ اسے بوسیدہ ہونے سے پہلے پہن لے۔ ایسے پاکیزہ لباس کسی کسی کو نصیب ہوتے ہیں۔ ”
درویش خاموش ہو گیا۔
طاہر کے اندر آندھیاں سی چل رہی تھیں۔ اسے عشق کے عین نے چھو لیا تھا کہ صفیہ اسے کس بلندی پر رکھ کر دیکھتی ہے۔ عشق کے شین کا فہم عطا ہو گیا تھا۔ ادراک ہو گیا تھا اسے کہ اس کا عشق صفیہ کے لئے کس مقام پر پہنچا ہوا تھا۔ صفیہ کے بارے میں تو وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے لئے کیا جذبات رکھتی ہے مگر آج اسے اپنے بارے میں جو احساس ہوا تھا اس نے اس کے لئے ایک نئے جہان کے در وَا کر دیے تھی۔ خودشناسی کے در کھلے تو اسے پتہ چلا کہ عشق ہوتا کیا ہے؟ عشق کا عین اور شین اس پر ادراک کے نئے نئے عالم آشکار کر رہے تھے۔
“کیا سوچ رہا ہے؟ ابھی کوئی الجھن باقی ہے کیا؟” درویش نے اس کی بدلتی ہوئی حالت دیکھ کر آہستہ سے پوچھا۔
“نہیں بابا۔ ” اس کے لبوں سے سرگوشی آزاد ہوئی۔ “اب کوئی الجھن نہیں۔۔۔ بس ایک خواہش چٹکیاں لے رہی ہے۔ ”
“خواہش۔۔۔ ؟” درویش نے اسے غور سے دیکھا۔
“ہاں بابا۔ ” طاہر نے دونوں ہاتھوں میں اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ” عشق کا عین اور شین تو آپ نے سمجھا دئیے۔ عشق کا قاف ابھی باقی ہے۔ ”
“توبہ کر توبہ۔ ” درویش نے تڑپ کر ہاتھ کھینچ لیا۔ ایک دم وہ خزاں رسیدہ پتے کی طرح لرزنے لگا تھا۔ چہرے پر زردی کھنڈ گئی اور آواز ایسی پست ہو گئی جیسے کسی کنویں سے آ رہی ہو۔
“بابا۔۔۔ ” طاہر نے کہنا چاہا۔
“سبق یاد ہو گیا تو چھٹی نہیں ملے گی۔ باز آ جا۔ اس بھیدکو بھید ہی رہنے دے۔ ” درویش کانپے جا رہا تھا۔
“نہیں بابا۔ ” طاہر پر ضد سی سوار ہو گئی۔ “میں اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کے بارے میں مکمل طور پر نہ جان سکوں ، یہ بات مجھے چین سے مرنے بھی نہ دے گی۔ ”
“مکمل طور پر جاننا میرے تیرے لئے ممکن نہیں ہے پگلے۔ ” درویش نے اٹھ جانا چاہا۔ “ضد نہ کر۔ ”
“میں ضد کہاں کر رہا ہوں بابا۔ ” طاہر بھی اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔ “میں تو عرض کر رہا ہوں۔ ”
“مت بہکا مجھے۔ ” درویش نے اسے جھڑک دیا۔ ” یوں چاپلوسی کرے گا تو میں پھسل جاؤں گا۔ چُپ ہو جا۔ ”
“بابا۔ ” طاہر نے اس کا راستہ روک لیا۔ “اگر آپ نہیں بتائیں گے تو میں گھر نہیں جاؤں گا۔ ”
“تو نہ جا۔ ” وہ بھڑک گیا۔ “میرے باپ کے سر پر کیا احسان کرے گا جا کر۔ پوچھ تجھ سے ہو گی۔ جواب دینا پھر اسے۔ ” اس نے کمرے سے باہر قدم رکھا۔ ” میں تو کہہ دوں گا کہ میں نے اسے سمجھا دیا تھا۔ اب یہ جان بوجھ کر کفرانِ نعمت کرے تو اس میں میرا کیا قصور؟”
“میں بھی کہہ دوں گا کہ آپ نے مجھے آدھی بات بتا کر ٹال دیا تھا۔ ”
“کیا۔۔۔ کیا۔۔ ؟” درویش نے کچی زمین پر اتر کر قدم روک لئے۔ “میں نے تجھے آدھی بات بتائی۔ یہ کہا تو نے؟” وہ غصے سے بولا۔
“ہاں تو اور کیا؟” طاہر بچوں کی طرح مچلا۔ ” عشق کا تیسرا حرف کہاں سمجھایا آپ نے مجھے؟”
“تو سہہ نہیں پائے گا۔ ” ایک دم وہ طاہر کو جیسے بہلانے پر آ گیا۔ ” ہر چیز کا ایک وزن ہوتا ہے پگلے۔ تو اٹھا نہیں سکے گا اس بوجھ کو۔”
“تو کیا ہو گا؟” طاہر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ ” زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ میں اس بوجھ تلے دب کر مر جاؤں گا۔ یہ منظور ہے مجھے مگر ۔۔۔ نہ جاننے کا ناسور دل میں پال کر میں زندہ نہیں رہنا چاہتا بابا۔ ”
“تو پگلا کم اور سیانا زیادہ ہے۔ ” درویش نے ایک آہ بھر کر آسمان کی طرف دیکھا جہاں چاند مسکرا رہا تھا۔ چاروں طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔ بابا شاہ مقیم کا مزار کسی بھید کی طرح ان کے سامنے بُکل مارے کھڑا تھا۔
” آپ جو بھی سمجھیں بابا۔ ” طاہر نے امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
“ٹھیک ہے۔ ” کچھ دیر بعد درویش نے آسمان سے نظریں ہٹائیں اور طاہر کی طرف دیکھ کر پھر ایک سرد آہ بھری۔ ” میں تجھے عشق کے قاف سے بھی ملا دوں گا مگر ۔۔۔ ” اس نے رک کر طاہر کی جانب ہاتھ کھڑا کیا۔ “ابھی نہیں۔ ”
“ابھی کیوں نہیں بابا؟” طاہر جلدی سے بولا۔
“ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے پگلے۔ ” درویش پھر جھلا گیا۔ “یہ امکانات کی دنیا ہے۔ مجھے یہ بھید تجھ پر کھولنے کا جب حکم ہو گا تو اس کے اسباب پہلے پیدا ہوں گے۔ اس کی تمثیل جنم لے گی۔ تیرے سامنے عین اور شین کی مثالیں موجود ہیں ناں۔ اسی لئے تجھے انہیں سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ اب اس تیسرے بھید کے لئے بھی کچھ تو ایسا ہو جو تجھ پر فہم اور ادراک کے دروازے کھول سکی۔ جب بھی ایسا ہو گا۔ جب بھی مجھے حکم ہو گا، میں تجھے ضرور آگاہ کر دوں گا۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے تجھ سے۔ ”
“ٹھیک ہے بابا۔ ” کچھ دیر تک اس کی آنکھوں میں کھوئے رہنے کے بعد طاہر نے دھیرے سے کہا۔ “میں انتظار کروں گا۔ ”
“بے صبرا نہ ہو۔ میں نے کہا ناں۔ وقت آنے پر تجھے ضرور بتاؤں گا۔ اب تو جا۔ رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو گئی ہے۔ کہیں وہ پگلی تیری تلاش میں نہ نکل پڑے۔ ” درویش نے اس کے کندھے پر تھپکی دی۔
“اچھا بابا۔ ” طاہر نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔ “میری گستاخی معاف کیجئے گا۔ ”
“پگلا ہے تو۔ ” درویش ہنس پڑا۔ “گستاخی کیسی؟ یہ تو تیرے نصیب کی بات ہے۔ اگر اس میں لکھا ہے کہ تو مکتبِ عشق میں داخلہ لے لے تو میں کون ہوتا ہوں تجھے روکنے یا چھٹی دینے والا۔ ”
طاہر نے درویش کا دایاں ہاتھ تھاما۔ دل سے لگایا۔ ماتھے سے چھوا اور آہستہ سے چھوڑ دیا۔ پھر الٹے پاؤں اپنی گاڑی تک آیا۔ دروازہ کھول کر اندر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
درویش اسے وہیں کھڑا تب تک دیکھتا اور دایاں ہاتھ ہلاتا رہا جب تک اس کی گاڑی وجاہت آباد جانے والے راستے پر نہ مڑ گئی۔ پھر وہ آہستہ سے پلٹا اور مزار کی طرف چل پڑا۔
“عشق کا قاف۔ عشق کا قاف۔ پگلا ہے بالکل۔ ” بڑبڑاتے ہوئے اچانک رک کر ایک دم اس نے مزار کی جانب نظر اٹھائی۔
“خود آرام سے تماشا دیکھتے رہتے ہو۔ ساری مصیبت میری جان پر ڈال دی ہے۔ ” وہ جیسے بابا شاہ مقیم سے لڑنے لگا۔ “اسے یہاں رکنے ہی کیوں دیا تھا؟ آیا تھا تو اس کا رخ گھر کی طرف کر کے روانہ کر دیتے۔ مگر نہیں۔ تم ایسا کیوں کرو گے۔ تمہیں تو مزا آتا ہے مجھے تنگ کر کے۔ ” اس نے پاؤں پٹخ کر کہا۔ پھر اس کی آواز بھرا گئی۔ “پگلا ہے وہ۔ بچوں کی طرح ضد کرتا ہے مجھ سے۔ کہتا ہے وہ اس سے کہہ دے گا کہ میں نے اسے پوری بات نہیں بتائی۔۔۔ پوری بات۔۔۔ ” ایک دم وہ جیسے روتے روتے ہنس پڑا۔ “پوری بات جاننا چاہتا ہے۔۔۔ پوری بات۔ ” اس کے حلق سے قہقہہ ابلا اور وہ ہنستے ہنستے بے حال ہو گیا۔ ” پوری بات۔۔۔ “وہ کچی زمین پر گر پڑا۔ “پوری بات۔۔۔ دم نکل جائے گا اس پگلے کا پوری بات جان کر۔ ”
وہ یوں خاک میں لوٹ پوٹ ہو رہا تھا جیسے پھولوں کے بستر پر مچل رہا ہو۔ رات کی تنہائی اس کی آواز سے گونج رہی تھی۔ سناٹا کان لگائے اسے سن رہا تھا۔ ہوا نے اپنے قدم آہستہ کر لئے کہ اس کی بات میں مخل نہ ہو۔ چاندنی اس کے گرد ہالہ بنائے ہاتھ باندھے دم بخود کھڑی تھی۔ ستاروں نے پلکیں جھپکنا چھوڑ کر دیا تھا اور چاند یوں ساکت ہو گیا تھا جیسے اپنا سفر بھول کر اس کے لبوں سے کسی انہونی واردات کا قصہ سننا چاہتا ہو۔
“پوری بات۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔ ” درویش بڑبڑا رہا تھا۔ مچل رہا تھا۔ ہنس رہا تھا۔ رو رہا تھا۔ ایک سیانا، پگلا ہو گیا تھا۔
* *

صبح صادق طلوع ہو رہی تھی جب طاہر نے گاڑی حویلی کے پورچ میں روکی۔ گیٹ کھولنے والا ملازم گیٹ بند کر کے مڑا تو طاہر گاڑی سے اتر رہا تھا۔ ملازم اس کے پھٹے ہوئے کرتے اور مٹی میں اٹے جسم کو دیکھ کر حیران ہوا۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، مردانے سے ملک بلال نے باہر قدم رکھا۔
“چھوٹے مالک۔ کیا ہوا؟ ” وہ گھبرا کر اس کے قریب چلا آیا۔
“کچھ نہیں۔ ” طاہر نے مختصر سا جواب دیا اور اندر کو چلا۔
“مگر یہ۔۔۔ ” ملک نے اس کے کپڑوں کی جانب حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ “کیا کسی سے جھگڑا ہو گیا؟”
“نہیں۔ ” طاہر اس کے قریب سے گزر گیا۔
” آپ آ کہاں سے رہے ہیں چھوٹے مالک؟” سارے لوگ آپ کے انتظار میں جاگ رہے ہیں۔ مالکن اس قدر پریشان ہیں کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ آپ تو بابا شاہ مقیم کا کہہ کر گئے تھے۔۔۔ ”
“میں وہیں سے آ رہا ہوں۔ ” طاہر نے قدم برآمدے میں رکھا۔
“تو ساری رات آپ وہیں تھی؟” ملک کی حیرت دوچند ہو گئی۔
“ہاں۔۔۔ اور اب بس۔ ” طاہر، ہال کمرے کے دروازے پر رکا۔ پلٹا اور ملک کی آنکھوں میں اس انداز سے دیکھا کہ ملک کو مزید کچھ کہنے کا یارا، نہ رہا۔ “اور کوئی سوال نہیں۔ تم نے جو دیکھا، سمجھو، نہیں دیکھا۔ سب کو سمجھا دو۔ دن میں ڈیرے پر ملاقات ہو گی۔ ” وہ اندر داخل ہو گیا۔
ملک خاموش، منہ پھاڑے کھڑا رہ گیا۔ اس کے ذہن میں بے شمار سوال مچل رہے تھے مگر اسے زبان بندی کا حکم دے کر طاہر جا چکا تھا۔ اسی وقت وہ ملازم تیز تیز قدموں سے اس کے پاس چلا آیا جس نے گیٹ کھولا تھا۔
“ملک صیب۔ ” وہ سرگوشی کے لہجے میں بولا۔ “کیا ہوا۔ چھوٹے مالک کا کسی سے جھگڑا ہو گیا کیا؟”
” آں۔۔۔ ” ملک چونکا۔ اس کی نظر ملازم پر پڑی تو جیسے ہوش میں آ گیا۔ “کیا کہا تو نے؟”
ملازم نے اپنی بات دہرائی تو ملک ایک دو لمحے اس کی جانب خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا، پھر اس کی تیوریوں پر بل پڑ گئے۔
“گیٹ تو نے کھولا تھا؟” ملک کا لہجہ سخت پا کر ملازم گھبرا گیا۔
“ج۔۔ جی ہاں ملک صیب۔ ” وہ ہکلایا۔
“اور کس نے چھوٹے مالک کو اس حال میں دیکھا ہے؟”
“کسی نے نہیں جی ملک صیب۔ باقی ملازم ڈیرے پر ہیں۔ ”
“تو بس۔ ” ملک نے ہاتھ اٹھا کر تحکم سے کہا۔ “چھوٹے مالک کو تو نے بھی نہیں دیکھا کہ وہ کس حال میں لوٹے ہیں۔ سمجھ گیا۔ ”
“سمجھ گیا جی۔ بالکل سمجھ گیا۔ ” ملازم نے زور زور سے سر ہلایا۔
“زبان کو گانٹھ دے کر رکھنا۔ مجھے بات دہرانی نہ پڑے۔ ” کہہ کر ملک اندر جانے کے لئے پلٹا۔
“جی ملک صیب۔ ” ملازم کا رنگ بدل گیا۔ ملک اس کی دگرگوں حالت کو نظر انداز کرتا ہوا ہال میں داخل ہو گیا، جہاں اس کی توقع کے مطابق طاہر موجود نہیں تھا۔ وہ زنان خانے میں جا چکا تھا۔
٭
“میرے مالک۔ ان کو اپنی امان میں رکھنا۔ انہیں ہر بلا سے محفوظ فرمانا۔ مجھے ان کا کوئی دُکھ نہ دکھانا۔ میرے معبود۔ انہیں حفاظت کے ساتھ گھر لے آ۔ ان کی آئی مجھے آ جائے۔ ان کی بلا مجھ پر پڑے۔ انہیں کچھ نہ ہو میرے مالک۔ انہیں کچھ نہ ہو۔ تجھے تیرے حبیب کا واسطہ۔ مجھے میرے حبیب سے خیر و عافیت کے ساتھ ملانا۔ ”
سجدے میں پڑی صفیہ زار زار روئے جا رہی تھی۔ اس کی آواز ہچکیوں میں ڈوبی ٹوٹ ٹوٹ کر ابھر رہی تھی۔ اسے یوں بلکتا دیکھ کر دروازے میں کھڑا طاہر بے کل سا ہو گیا۔
کاریڈور میں قدم رکھا تو اس کی حالت پر حیرت زدہ فہمیدہ نے سلام کر کے کمرے کی طرف دوڑ لگانا چاہی۔ شاید وہ صفیہ کو طاہر کے آنے کی خبر سناناچاہتی تھی مگر طاہر نے اسے روک دیا۔ اسے خاموشی سے چلے جانے کا کہہ کر وہ کمرے کی جانب بڑھا اور آہستہ سے کھلے دروازے میں آ کھڑا ہوا۔ شاید وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کی گم خبری پر صفیہ کا کیا حال ہے؟اور اب اسے یوں تڑپتا پاکر اس کا دل ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا۔
“صفو۔۔۔ ”
آواز تھی یا نوید حیات۔ صفیہ کا خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپتا جسم ایک دم ساکت ہو گیا۔ ایک پل کو اسے لگا کہ یہ اس کی سماعت کا دھوکا ہے مگر دوسرے ہی پل اس نے سر سجدے سے اٹھایا اور دروازے کی جانب دیکھا۔
“طاہر۔۔۔ ” شبنم میں دھلتا ہوا اس کا چہرہ دودھ کی طرح سفید ہو رہا تھا۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ دروازے میں کھڑے طاہر کی حالت دیکھ کر وہ سُن ہو گئی۔
“صفو۔۔۔ ” طاہر کے بازو وَا ہوئے۔
اب شبے کی گنجائش کہاں تھی؟
“طاہر۔۔۔ ” وہ تڑپ کر جائے نماز سے اٹھی اور بھاگتی ہوئی اس کے سینے سے آ لگی۔ “طاہر۔۔۔ طاہر۔۔۔ ” وہ اس سے لپٹی سسک رہی تھی۔ “یہ آپ کو کیا ہوا؟ کہاں تھے آپ اب تک؟ کہاں تھے؟”
“شش۔۔۔ ” طاہر نے اسے باہوں کے گھیرے میں لے کر بھینچ لیا۔ “خاموش ہو جاؤ صفو۔ کچھ مت کہو۔ کچھ مت کہو۔ ” اس کی زلفوں میں چہرہ چھپا کر طاہر نے سرگوشی کی۔
بچوں کی طرح ہچکیاں لیتی ہوئی صفیہ نے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کر لئے اور یوں لپٹ گئی جیسے جدا ہونا اس کے لئے ممکن نہ رہا ہو۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔
پھر طاہر نے اسے آہستہ سے اپنے آپ سے الگ کیا۔ دوسرے ہی لمحے وہ اس کی باہوں میں جھول گئی۔ وہ غش کھا گئی تھی۔
“صفو۔۔۔ ” طاہر گھبرا گیا۔ اسے ہاتھوں پر اٹھا کر بستر پر ڈالا۔ کمبل اوڑھایا اور بیڈ کی پٹی پر بیٹھ کر اس کے چہرے کو والہانہ دیکھنے لگا، جو یوں پُرسکون تھا جیسے پریاں اس پر کہانیوں کے رنگ لے کر اتر رہی ہوں۔ چہرے کی سفیدی، سرخی میں بدلتے پا کر اسے کچھ حوصلہ ہوا۔ اس نے چاہا کہ فہمیدہ کو آواز دے۔ پھر نجانے کیوں اس کا جی چاہا کہ بس ایک ٹک صفیہ کو دیکھتا رہے۔ کسی بھی تیسرے کا اس وقت وہاں آنے کا خیال اسے اچھا نہ لگا۔ آنسوؤں نے صفیہ کا چہرے شبنم دھلے گلاب کا سا کر دیا تھا۔ بے اختیار وہ جھکا اور صفیہ کے رخسار پر ہونٹ رکھ دئیے۔
یکبارگی صفیہ کا سارا جسم لرز گیا۔ اس نے ہولے سے حرکت کی۔
“طاہر۔۔۔ ” ہونٹ لرزے تو آہ نکلی۔
“صفو۔۔۔ ” طاہر نے اس کے ہاتھ تھام لئے جو برف کی طرح سرد ہو رہے تھے۔
“طاہر۔۔۔ ” آہستہ سے پلکوں کو حرکت ہوئی۔
“صفو میری جان۔۔۔ ” طاہر نے اس کے ہاتھ ہونٹوں سے لگا لئے۔
“طاہر۔۔۔ ” پلکیں وَا ہوئیں تو آنکھوں کے گوشوں سے آنسو ڈھلک پڑے۔
“بس۔۔۔ ” طاہر نے ہونٹوں سے وہ شفاف موتی چُن لئے۔ ” بس۔ اب نہیں۔ کبھی نہیں۔ ” اس نے گڑیا سی صفیہ کو کمر میں ہاتھ ڈال کر اٹھایا اور سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔ پھر پاگلوں کی طرح اسے چومنے لگا۔ اس کی دیوانگی صفیہ کو رُلا رہی تھی۔ کھلا رہی تھی۔ بتا رہی تھی کہ اس کا صبر رنگ لے آیا ہے۔ اس کا طاہر لوٹ آیا ہے۔ وہ اس کے بازوؤں میں بے خود سی پڑی اس دیوانگی کو سینت سینت کر دل کے نہاں خانے میں رکھتی رہی۔ سنبھالتی رہی۔ یہ وہ لمحے تھے جن کا وہ کب سے انتظار کر رہی تھی۔ بہار کے یہ پل جو اس کے لئے خواب ہو چکے تھے، خزاں ختم ہو جانے کی نوید لے کر لوٹے تو وہ سر تا پا گلاب ہو گئی۔ ایسا گلاب، جس کی شبنم قطرہ قطرہ، طاہر کا غبار دھو رہی تھی۔ یقین اور اعتماد کا غسل دے رہی تھی۔
عشق کا عین، عشق کے شین کا ہاتھ تھامے اپنی پوری وضاحتوں کے ساتھ طاہر پر نازل ہو رہا تھا۔
٭
غسل کر کے طاہر باتھ روم سے نکلا تو صفیہ میز پر ناشتہ سجا چکی تھی۔
“جلدی آ جائیے۔ ایک دم بھوک حملہ آور ہو گئی ہے۔ ” وہ اس کے لئے کرسی سرکاتے ہوئے بولی اور گردن گھما کر اس کی طرف دیکھا۔
“طاہر۔۔۔ ” اس کے لبوں پر ایک لفظ مچلا اور وہ مسحور و حیراں اسے تکتی رہ گئی۔ سفید شلوار کرتے میں دھلا دھلایا طاہر اس کے سامنے کھڑا تھا۔ مگر نہیں۔ یہ وہ طاہر تو نہیں تھا جو کل تک اس کے سامنے رہتا تھا۔ یہ تو کوئی اور تھا۔ ایک عجیب سا نورانی ہالہ جس کے چہرے کو چوم رہا تھا۔ ایک ناقابلِ برداشت چمک جس کی آنکھوں میں لو دے رہی تھی۔ ایک ملکوتی مسکراہٹ جس کے لبوں پر مہک رہی تھی۔ اسے لگا جیسے طاہر اس کے سامنے نہیں ، بہت بلندی پر، بہت اونچی جگہ پر کھڑا اسے دیکھ رہا ہو۔ ایسی بلندی، جس کا اسے ادراک تو ہو رہا تھا، مگر جسے وہ کسی اور کو سمجھا نہ سکتی تھی۔ یہ سب کیا تھا؟ کیسے ہوا؟ کب ہوا؟ اس کا ذہن ریشمی تاروں میں الجھ کر رہ گیا۔
“کیا دیکھ رہی ہو؟” طاہر اپنی جگہ سے اس کی طرف چل پڑا۔
“کچھ نہیں۔ ” وہ گڑبڑا سی گئی۔ گھبرا کر نظریں اس کے چہرے سے ہٹا لیں۔ اسے محسوس ہوا کہ اگر وہ مزید چند لمحے اسے یونہی دیکھتی رہی تو طاہر کو نظر لگ جائے گی۔ کرسی کی پشت پر ہاتھ ٹکا کر اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ایک گہرا سانس لیا۔ جیسے وہ طاہر کی اس شبیہ کو اپنے دل میں ، اپنی سانسوں میں ، اپنی روح میں اتار لینا چاہتی ہو۔
تینوں ویکھیاں صبر نہ آوی
وے چناں تیرا گھُٹ بھر لاں
اس کے اندر سے ایک صدا ابھری اور سارے وجود پر سرور بن کر چھا گئی۔
“کہاں کھو گئیں ؟” طاہر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
“یہیں ہوں۔ آپ کے قدموں میں۔ ” وہ نشے میں ڈوبی آواز میں بولی اور اس کے سینے میں سما گئی۔
“میری طرف دیکھو۔ ” طاہر نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھا۔
” نہیں۔ ” صفیہ نے مچل کر کہا اور اس سے الگ ہو تے ہوئے چہرہ پھیر لیا۔
“کیوں ؟” طاہر ہولے سے ہنسا۔
“نظر لگ جائے گی آپ کو۔ ” صفیہ نے اس کی جانب دیکھنے سے گریز کیا۔
“تمہاری نظر۔۔۔ ” طاہر نے مسکراتے ہوئے حیرت سے کہا۔ ” اور مجھے لگ جائے گی؟” وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔
اثبات میں سر ہلاتے ہوئے صفیہ اس کے ساتھ والی نشست پر بیٹھ گئی۔ ” اور اب بس۔ خاموشی سے ناشتہ کیجئے۔ ”
“جو حکم سرکار کا۔ ” طاہر نے سر خم کیا اور دونوں ناشتے میں مصروف ہو گئے۔
ناشتہ واقعی خاموشی سے کیا گیا۔ پھر فہمیدہ آئی اور برتن لے گئی۔
صفیہ نے اس کے پیروں سے چپل نکالی اور اسے بستر میں گھس جانے کا اشارہ کیا۔ اس نے کوئی ہچر مچر نہ کی۔ صفیہ نے کمبل اسے خوب اچھی طرح اوڑھایا اور خود اس کے پاس پیروں کی جانب بیٹھ گئی۔
“میں جانتی ہوں آپ تھکے ہوئے ہیں اور اس وقت آپ کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز نیند ہے لیکن میرا ضبط اور صبر اب ختم ہو رہا ہے۔ مجھے بتائیے کہ کل کا سارا دن اور آج رات آپ کہاں رہے؟ جس حالت میں آپ لوٹے، وہ کوئی اچھی خبر نہ دے رہی تھی۔ مجھے ایک ایک بات بتائیے۔ ”
“ایک ایک بات۔ ” طاہر نے کہا اور اس کی جانب بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھا۔
“کیوں ؟ بتانے کی بات نہیں ہے کیا؟” صفیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھنا چاہا۔ پھر نظر ہٹا لی۔ ان بلور آنکھوں کی چمک اس سے سہی نہ گئی۔
“نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں جو میں تم سے چھپاؤں۔ مگر صفو۔۔۔ “وہ ایک پل کو رکا۔ سر جھکا کر آنکھیں بند کر لیں۔ پھر دائیں ہاتھ سے ماتھا سہلانے لگا۔
چند لمحے خاموشی کی نذر ہو گئے تو صفو نے زبان کھولی۔
“کیا سوچ رہے ہیں ؟”
“سوچ رہا ہوں۔ ” طاہر نے ایک گہرا سانس لیا اور ہاتھ ماتھے سے ہٹا لیا۔ ” تمہیں کیا بتاؤں ؟ کیسے بتاؤں ؟ میں تو خود نہیں جانتا کہ میرے ساتھ ہوا کیا ہے؟ بس یوں لگتا ہے کہ میں کسی خواب میں گم ہو گیا تھا۔ جاگا ہوں تو سب کچھ یاد ہے مگر اسے بیان کرنا میرے لئے اتنا ہی مشکل ہے صفو، جتنا کسی کو یہ بتانا کہ ہم جس کی عبادت کرتے ہیں وہ کیسا ہے؟کہاں نہیں ہے؟”
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ ” صفیہ نے اسے حیرت سے دیکھا۔ ” آپ کل گھر سے بابا شاہ مقیم کے مزار پر گئے تھی۔ یہ کہہ کر کہ شام تک لوٹ آئیں گے۔ شام گئی۔ رات ہوئی۔ جب آدھی رات نے دم توڑا تو میرا حال برا ہو گیا۔ آپ کا موبائل بھی یہیں تھا۔ ملک نے بتایا کہ آپ سختی سے منع کر گئے ہیں کہ کوئی آپ کے پیچھے نہ آئے۔ حویلی کے سب لوگ پریشان تھی۔ سب جاگ رہے تھے۔ ملازم ڈیرے پر چلے گئے کہ جب بھی آپ لوٹے، وہ فوراً یہاں خبر کر دیں گے۔ ملک یہیں مردانے میں رک گیا۔ اس کی پریشانی میری وجہ سے دو چند ہو گئی تھی۔ جب مجھے کچھ نہ سوجھا تو میں نے مصلیٰ پکڑ لیا۔ پھر مجھے کچھ پتہ نہیں کہ کتنا وقت گزرا اور کیسے گزرا۔ آپ کے آنے سے کچھ دیر پہلے میرا بڑی شدت سے جی چاہ رہا تھا کہ میں آپ کی تلاش میں بابا شاہ مقیم کے مزار کی طرف چل پڑوں۔۔۔ ”
“ہاں۔۔۔ تمہاری اس حالت کی خبر ہے مجھے۔ ” طاہر نے اس کی جانب نظر اٹھائی۔
“کیسے؟” وہ حیران ہوئی۔
“اس نے بتایا تھا۔ ” وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولا۔ “اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اب تو گھر چلا جا ورنہ وہ تیری تلاش میں نکل پڑے گی۔ ”
“کس کی بات کر رہے ہیں آپ؟” صفیہ نے اسے گھبرا کر دیکھا۔
“درویش کی۔ ” طاہر ایک گہرا سانس لے کر بولا۔ ” وہ بابا شاہ مقیم کے مزار پر رہتا ہے۔ میں کل سارا دن اور آج رات اسی کے ساتھ تھا۔ ”
“درویش کے ساتھ؟” صفیہ اچنبھے سے بولی۔
“ہاں۔ کل جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ مجھے حافظ عبداللہ اور سکینہ کے پاس لے گیا۔ ”
“حافظ عبداللہ؟ سکینہ؟” صفیہ اور الجھ گئی۔۔۔ مگر ان دو ناموں کے ساتھ ہی جیسے بات کا سِرا طاہر کے ہاتھ آ گیا۔
“ہاں۔ ” وہ نیم دراز ہو گیا۔ ” میں تمہیں ان کی کہانی سناتا ہوں صفو۔ ایسی بات تم نے شاید اپنی زندگی میں کبھی نہ سنی ہو گی۔ ”
پھر وہ ہولے ہولے بولتا رہا۔ کبھی اس کی آواز بھیگ جاتی تو کبھی لہجے میں تھکن اتر آتی۔ کبھی آنکھوں کے گوشے نم ہو جاتے تو کبھی چہرہ لرزہ بر اندام ہو جاتا۔ بُت بنی صفیہ، حافظ عبداللہ اور سکینہ کی داستان سنتی رہی اور ایک ایک پل، ایک ایک گھڑی میں یوں سانس لیتی رہی، یوں جیتی رہی جیسے وہ خود سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہو۔
“اب وہ دونوں نور پور کی مسجد کے حجرے میں یک جان دو قالب بنے بیٹھے ہیں۔ ایک سانس لیتا ہے تو دوسرا زندہ دکھائی دیتا ہے۔ ایک کا دل دھڑکتا ہے تو دوسرے کا سینہ متحرک لگتا ہے۔ درویش کہتا ہے یہ عشق کا عین ہے جس نے ان دونوں کو اپنی باہوں میں لے لیا ہے۔ عشق کا عین جو عاشقِ صادق کی عبادت سے شروع ہوتا ہے اور عقیدت تک پھیلا ہوا ہے۔ ”
طاہر خاموش ہو گیا۔
صفیہ کتنی ہی دیر ایک کیف میں ڈوبی رہی۔ اس کا سارا جسم سنسنا رہا تھا۔ اس سنسناہٹ میں ایک لذت تھی۔ ایک سرور تھا۔ ایسی باتیں اس نے پہلے کب سنی تھیں مگر یوں لگتا تھا جیسے وہ ان باتوں سے ہمیشہ سے آگاہ ہو۔ ان کا مفہوم اسے قطعاً اجنبی نہ لگا۔ طاہر نے جو کہا، ایک ایک لفظ اس کے لئے آشنا نکلا۔ اس بات پر اسے حیرت بھی تھی مگر اس سے زیادہ وہ اس لذت میں گم تھی جس نے اس کے رگ و پے میں سفر شروع کر دیا تھا۔
“ارے۔۔۔ ” آہستہ سے اس نے نظر اٹھائی تو بے ساختہ اس کے لبوں سے نکلا۔ ” آپ رو رہے ہیں طاہر؟” آگے سرک کر وہ اس کے پہلو میں آ گئی۔
“کہاں ؟” طاہر نے دھیرے سے اپنی آنکھوں کو چھوا۔ اس کے ہاتھ نم ہو گئے تو وہ مسکرا دیا۔ ” ارے واقعی۔۔۔ مگر کیوں ؟ یہ آنسو کیوں بہہ رہے ہیں ؟”
“یہ آنسو نہیں ہیں۔ موتی ہیں۔ گوہر ہیں۔ ” صفیہ نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر اس کی آنکھوں سے سارے موتی، سارے گوہر چوم چوم کر چُن لئے۔
طاہر نے تھکے تھکے انداز میں آنکھیں موند لیں اور سر صفیہ کے سینے پر رکھ دیا جو اسے کسی بچے کی طرح سینے سے لگائے بیٹھ گئی۔
” یہ تو ہوئی دن کی بات۔ رات کی بات ابھی باقی ہے۔ اب وہ سنائیے۔ ” وہ پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔
“رات کی بات۔۔۔ ” طاہر آہستہ سے ہنسا۔ ” اچھا کہا تم نے۔ رات کی بات۔ ” اس نے دہرایا۔ “کہتے ہیں رات گئی بات گئی۔۔۔ مگر صفو۔ لگتا ہے جو رات میں درویش کے ساتھ گزار کر آیا ہوں ، اس کی بات تو شروع ہی اب ہوئی ہے۔ ختم کب ہو گی، کون جانے۔ ”
وہ خاموش ہو گیا۔
صفیہ کچھ دیر اس کے بولنے کا انتظار کرتی رہی۔ جب خاموشی طویل ہو گئی تو اس نے آہستہ سے طاہر کے چہرے کی جانب دیکھا۔ وہ تو سکون سے سو رہا تھا۔ صفیہ اس کے چہرے کو وارفتگی سے تکتی رہی۔ جی ہی نہ بھر رہا تھا اسے دیکھ دیکھ کر۔ دھیرے سے اس نے طاہر کے ہونٹوں کا بوسہ لے لیا۔ پھر دونوں رخساروں پر پیار کیا۔ آخر میں پیشانی کو نرم ہونٹوں سے چھوا اور اسے بستر پر آرام سے لٹا یا اور بیڈ سوئچ دبا کر لائٹ آف کر دی۔ وہ طاہر کو خوب سونے دینا چاہتی تھی۔ کمبل اس پر اچھی طرح اوڑھا کر کے وہ اس کے پاؤں کی طرف سمٹ کر یوں لیٹ گئی کہ طاہر کے پاؤں اس کے بازوؤں کے حلقے میں سینے کے ساتھ بھنچے تھے اور ہونٹ تلووں کو چھُو رہے تھے۔
کمرے کے نیم اندھیرے میں سکون نے آہستہ سے آنکھ کھولی اور کسی پہرے دار کی طرح ان کی رکھوالی کرنے لگا۔
٭

جدہ ایر پورٹ پر بیگم صاحبہ اعجاز اور ڈاکٹر ہاشمی بورڈنگ کارڈ حاصل کرنے کے بعد فلائٹ کی اناؤنسمنٹ کے انتظار میں لاؤنج میں چلے آئے۔
عمرہ کے بعد انہوں نے مدینہ شریف میں پورے دو ماہ گزارے تھے۔ اب مزید قیام بڑھوانا ممکن نہ رہا تو مجبوراً بیگم صاحبہ نے واپسی کی تیاری کر لی۔ طاہر اور صفیہ کے ساتھ ساتھ وسیلہ خاتون کو بھی واپسی کی اطلاع دو دن پہلے دی جا چکی تھی۔ فلائٹ کا وقت تین بجے کا تھا۔ ابھی دو بج کر چالیس منٹ ہوئے تھے۔
بیگم صاحبہ اعجاز اور ڈاکٹر ہاشمی آمنے سامنے گدیلے صوفوں پر بیٹھے تھے۔ بیگم صاحبہ کے ہاتھ میں تسبیح چل رہی تھی جبکہ ڈاکٹر ہاشمی ایر پورٹ کی گہما گہمی کو نظروں میں تولتے ہوئے کاؤنٹر پر انگوٹھا چلا رہے تھے۔ رہ گیا اعجاز تو وہ سوائے بتیاں دیکھنے کے اور کیا کرتا۔
“ارے۔۔۔ ” ایک دم بیگم صاحبہ کے ہونٹوں سے تحیر بھری آواز نکلی۔ وہ ڈاکٹر ہاشمی کے پچھلی طرف کسی کو دیکھ رہی تھیں۔
“کیا ہوا بیگم صاحبہ؟” ڈاکٹر ہاشمی چونکے۔
“ڈاکٹر صاحب۔ یہ اپنا سرمد یہاں کیا کر رہا ہے؟” وہ جلدی سے بولیں۔
“سرمد۔۔۔ اور یہاں ؟” ڈاکٹر ہاشمی نے حیرت سے کہا اور پلٹ کر دیکھا۔ “ارے ہاں۔ یہ تو سرمد ہی ہے۔ ” وہ اٹھ گئی۔ ” آپ بیٹھئے۔ میں اسے لے کر آتا ہوں۔ ” وہ کہہ کر تیزی سے باہر جاتے سرمد کی طرف بڑھے جو احرام باندھے خارجی دروازے کی طرف چلا جا رہا تھا۔
“سرمد۔۔۔ ” انہوں نے اسے پیچھے سے آواز دی۔
سر جھکائے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا سرمد رک گیا۔ بڑی آہستگی سے اس نے گردن گھمائی اور ڈاکٹر ہاشمی کی جانب دیکھا۔
ڈاکٹر ہاشمی کے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔ دونوں باپ بیٹا آمنے سامنے کھڑے تھے۔ سرمد کندھے پر سفری بیگ ڈالے بڑی سپاٹ سی نظروں سے انہیں دیکھ رہا تھا اور ڈاکٹر ہاشمی اس کے سُتے ہوئی، زرد اور بجھے بجھے چہرے کو حیرت سے جانچ رہے تھے۔
“ارے ابو آپ۔۔۔ ” بڑی آہستگی سے سرمد کی آنکھوں میں شناسائی جاگی۔ جیسے اس نے انہیں پہچاننے میں بڑی دقت محسوس کی ہو۔
“سرمد۔ ” ڈاکٹر ہاشمی اس کے کمزور سراپے کو نظروں سے کھنگالتے ہوئے بولے۔ “یہ تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے بیٹے۔ تمہاری صحت کو کیا ہوا؟” انہوں سے سرمد کو گلے لگا لیا۔
“صحت کو کیا ہوا ابو۔ اچھی بھلی تو ہے۔ ” وہ پھیکی سی ہنسی ہنسا اور ان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
“خاک اچھی ہے۔ مجھے بے وقوف بنا رہے ہو۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے اسے بھینچ لیا۔ پھر اس کی گردن پر بوسہ دیتے ہوئے اسے خود سے الگ کیا۔
“مجھے کچھ نہیں ہوا ابو۔ آپ کو وہم ہو رہا ہے۔ ” نم آنکھوں سے باپ کو دیکھ کر سرمد نے کہا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا وہ ماں جیسی شفقت لٹاتے باپ کے کندھے پر سر رکھ کر خوب روئے۔ اتنا روئے کہ اندر رکا ہوا سارا غبار دھل جائے۔ جل تھل ہو جائے۔۔۔ مگر اس نے خود پر قابو پا لیا۔
” آپ عمرے سے فارغ ہو گئے اور میں کرنے جا رہا ہوں۔ ” سرمد نے باپ کا ہاتھ تھام کر کہا۔
” آؤ۔ ادھر آؤ۔ بیگم صاحبہ سے ملو۔ ” وہ اسے لئے ہوئے بیگم صاحبہ کے پاس چلے آئے۔ سرمد نے انہیں ادب سے سلام کیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ اعجاز کو جیسے اس نے دیکھا ہی نہ تھا۔
“ارے بیٹے۔ یہ تمہاری صحت کو کیا ہو گیا؟”بیگم صاحبہ نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔
“یہی ابو بھی کہہ رہے ہیں آنٹی۔ ” وہ ہنسا۔ “مگر میں تو خود کو بالکل ٹھیک محسوس کر رہا ہوں۔ ”
“ہم دونوں غلط کہہ رہے ہیں اور تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے اپنی جگہ بیٹھتے ہوئے خفگی سے کہا تو سرمد نے سر جھکا لیا۔
“چلئے ابو۔ آپ ہی ٹھیک ہیں۔ ”
“تو اب سیدھے سیدھے بتا دو کہ تمہاری اس کمزوری اور خراب صحت کا سبب کیا ہے؟” ڈاکٹر ہاشمی نے تلخی سے کہا۔
“کچھ خاص نہیں ابو۔ بس بخار نے یہ حالت کر دی۔ چند دنوں میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ واپس جاتے ہی اپنا علاج باقاعدگی سے کراؤں گا۔ ”
“واپس کہاں ؟” ڈاکٹر ہاشمی نے سختی سے کہا۔ ” تم عمرہ کر کے سیدھے پاکستان آؤ گے۔ رزلٹ آ چکا ہے۔ اب واپس جانا ضروری نہیں ہے۔ ”
“مگر ابو۔ مجھے ساری کاغذی کارروائیاں پوری کرنا ہیں۔ اپنے رزلٹ ڈاکومنٹس وصول کرنا ہیں اور۔۔۔ ”
“کچھ نہیں سنوں گا میں۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے اسی لہجے میں کہا۔ ان کا دل تڑپ رہا تھا۔ پھول جیسا بیٹا سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا۔ لگتا تھا کوئی روگ اندر ہی اندر اسے چاٹ رہا ہے۔ انہوں نے بال دھوپ میں سفید نہیں کئے تھے۔ انہیں کچھ کچھ اندازہ ہو رہا تھا کہ بات کیا ہو سکتی ہے؟مگر وہ سرمد سے بات کئے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا نہ چاہتے تھے۔ اور بات کرنے کے لئے یہ جگہ مناسب تھی نہ یہ ماحول۔
بیگم صاحبہ بھی اندر ہی اندر کسی سوچ کے گرد خیالوں کا جال بُن رہی تھیں۔ باپ بیٹے کی گفتگو میں انہوں نے کوئی دخل نہ دیا۔ تاہم اتنا تو وہ بھی سمجھ ہی سکتی تھیں کہ بخار جینے کی امنگ چھین لیتا ہے نہ زندگی کو بے رونق کر دیتا ہے۔ سرمد کی آنکھوں میں زندگی کی وہ علامت مفقود تھی جو چمک چمک کر انسان کو حالات کے سامنے سینہ سپر رکھتی ہے۔ اسے دیکھ کر تو لگتا تھا وہ جینا ہی نہیں چاہتا۔ بس کسی مجبور کی طرح سانس لے رہا ہے کہ موت آنے تک زندہ کہلا سکی۔ ان کا جی چاہا ڈاکٹر ہاشمی سے کہیں کہ سرمد کی اس حالت کا سبب ضرور کوئی جذباتی حادثہ ہے۔ طاہر کی ماں ہونے کے ناطے وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ محبت کی چوٹ سے بڑا کوئی ایسا حادثہ نہیں ہے جو انسان کو نیم جان کر دے مگر پھر انہوں نے بھی اس بات کو پاکستان پہنچنے تک کے لئے موقوف کر دیا۔
“تم عمرہ کر کے فوراً وطن پہنچو۔ اور اگر تمہارا ارادہ کسی گڑ بڑ کا ہے تو میں کچھ بھی کر کے رک جاتا ہوں۔ تمہیں ساتھ لے کر ہی جاؤں گا۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے کہا تو سرمد گھبرا گیا۔
“کیسی باتیں کر رہے ہیں ابو۔ ” اس نے جلدی سے کہا۔ “میں وعدہ کرتا ہوں کہ یہاں سے لندن نہیں جاؤں گا۔ ”
“لندن نہیں جاؤ گے اور پاکستان آؤ گے۔ یوں کہو۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے لفظوں پر گرفت کمزور نہ ہونے دی۔
“جی ہاں۔ ایسا ہی ہو گا۔ ” وہ بیچارگی سے ہنس پڑا۔
“پیسے ویسے ہیں ؟” انہوں نے جیب سے پرس نکالا۔
“وافر ہیں ابو۔ ضرورت ہوتی تو میں خود ہی کہہ دیتا۔ ” اس نے انہیں روک دیا۔
“پھر بھی یہ رکھ لو۔ ” انہوں نے ویزا کارڈ پرس سے نکال کر اسے تھما دیا۔
سرمد جانتا تھا، ضد کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے اس نے خاموشی سے کارڈ، بیگ کھول کر اندر رکھ لیا۔
اسی وقت پاکستان جانے والی فلائٹ کی اناؤنسمنٹ کی جانے لگی۔
“اپنا خیال رکھنا۔ ” ڈاکٹر ہاشمی کے ساتھ ہی بیگم صاحبہ اور سرمد بھی اٹھ گئے۔ انہوں نے کھینچ کر اسے پھر گلے سے لگا لیا۔ وہ بھی باپ کے سینے سے لگا ایسے سکون میں ڈوب گیا جس نے اس کی آنکھیں نم کر دیں۔ کتنی ہی دیر گزر گئی۔ تب دونوں الگ ہوئی۔ ڈاکٹر ہاشمی نے چشمہ اتارا۔ رومال سے آنکھیں خشک کیں۔ سرمد کی آنکھیں پونچھیں۔
“ارے۔ آپ تو بچوں کی طرح جذباتی ہو گئے ڈاکٹر صاحب۔ ” بیگم صاحبہ نے صورتحال کو مزید گمبھیر ہونے سے بچانا چاہا۔
“یہ میرا اکلوتا بچہ ہے بیگم صاحبہ اور میں عمر کے اس حصے میں ہوں جب انسان ویسے ہی بچہ بن جاتا ہے۔ ” وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائے تو سنجیدگی میں خاصی کمی آ گئی۔
“اچھا آنٹی۔ اللہ حافظ۔ ” سرمد نے سر جھکا دیا۔ بیگم صاحبہ نے اس کے سر پر پیار دیا اور پیشانی چوم لی۔
“جیتے رہو۔ جلدی پاکستان آ جانا۔ زیادہ انتظار نہ کرانا ہمارے ڈاکٹر صاحب کو۔ ”
“جی آنٹی۔ ” اس نے مختصراً کہا اور باپ کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا۔ ” اپنا خیال رکھئے گا ابو۔ میرا بھی اور کون ہے آپ کے سوا۔ ”
“جلدی آ جانا۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور ہونٹ دانتوں میں داب لیا۔ نجانے کیوں ابھی تک انہیں سرمد کے پاکستان چلے آنے کا یقین نہ ہو رہا تھا۔
“جی ابو۔ ” اس نے باپ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ تیزی سے پلٹا اور خارجی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ جب تک وہ باہر نہ نکل گیا، ڈاکٹر ہاشمی اسے ایک ٹک دیکھتے رہے۔ پھر جب وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تو بیگم صاحبہ کی طرف مڑے۔
“نجانے کیا ہو گیا ہے اسے؟” وہ آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے بڑبڑائے۔
“اسے پاکستان آ لینے دیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ فکر نہ کریں۔ ” بیگم صاحبہ نے انہیں تسلی دی لیکن نجانے کیوں یہ الفاظ کہتے ہوئے ان کا دل بڑے زور سے دھڑک اٹھا۔
” آئیے۔ چلیں۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے رن وے کی جانب کھلنے والے گیٹ کا رخ کیا۔ بیگم صاحبہ نے ایک نظر پلٹ کر اس دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے چند لمحے پہلے سرمد باہر گیا تھا۔ پھر اعجاز کے ساتھ ڈاکٹر ہاشمی کے پیچھے قدم بڑھا دئیے۔
* * *

جس دن سرمد کی وسیلہ خاتون سے بات ہوئی، وہ اس کی زندگی میں مسکراہٹوں اور شگفتگی کا آخری دن تھا۔
ہنستا کھیلتا، زندگی سے بھرپور قہقہے لگاتا سرمد ایک دم مرجھا گیا۔ اس کے ساتھی لڑکے اور لڑکیاں اس کی حالت پر پہلے تو حیران ہوئے۔ اسے بہلانے اور کریدنے کی کوششیں کرتے رہے۔ اس کے لبوں سے چھن جانے والی ہنسی کی واپسی کے راستے ڈھونڈتے رہے لیکن جب انہیں اپنی ہر کوشش میں ناکامی ہوئی تو آہستہ آہستہ وہ اس سے دور ہوتے چلے گئے۔ لندن کی ہنگامہ خیز رُتوں میں کسی کے پاس اس پر ضائع کرنے کے لئے وقت نہ تھا۔ ایک انڈین لڑکی ریحا نے بڑے دنوں تک اس کا انتظار کیا۔ اس کے فلیٹ کے چکر کاٹے۔ دن رات کی پرواہ کئے بغیر اسے اپنے ماحول میں کھینچ لانے کے جتن کئے مگر جب سرمد کی اداسی بڑھتی ہی چلی گئی۔ صحت مسلسل گرنے لگی اور ہونٹوں پر سوائے آہوں کے کچھ نہ رہا تو وہ بھی مایوس ہو کر لوٹ گئی۔
رزلٹ کے بعد یہ مہینہ بھر کا وقت پارٹیوں ، ہاؤ ہو اور مستی کا تھا۔ سرمد کے گرو پ کے سبھی سٹوڈنٹ کامیاب ہوئے تھے۔ واپس اپنے اپنے ملک جانے سے پہلے وہ آخری دنوں کو یادگار بنا دینا چاہتے تھے۔ سرمد ان سے کٹتا کٹتا بالکل اکیلا ہو گیا تو وہ اسے بھولنے لگی۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ پورا ایک ہفتہ اپنے فلیٹ میں پڑا بخار سے جنگ لڑتا رہا اور کوئی اسے ملنے بھی نہ آیا۔ اس دن کے بعد وہ خود ہی ان سب سے دور ہو گیا۔
وہ کرتا بھی کیا؟ اس نے اپنے حساب میں کوئی غلطی کی تھی نہ وقت ضائع کیا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ اس نے ڈاکٹر ہاشمی کے ساتھ اپنے طور پر کی ہوئی کمٹ منٹ نبھانے کے لئے یہ فیصلہ کر لیا کہ اپنا رزلٹ آنے تک وہ ان سے کوئی بات نہیں کرے گا۔ جب اس کا رزلٹ نکلا تو اپنے آپ سے کئے ہوئے وعدے کے مطابق اس نے سب سے پہلے انہیں یہ خوشخبری سنانا چاہی مگر ساتھ ہی اس خیال سے کہ اس اچھی خبر کے بعد وہ انہیں صفیہ کے رشتے کے لئے اس کے گھر جانے کو کہے گا، وسیلہ خاتون سے پوچھ لینا مناسب سمجھا۔ اسے بظاہر اپنے لئے انکار کی کوئی وجہ نظر نہ آ رہی تھی، پھر بھی وہ ان کا عندیہ لے لینا چاہتا تھا۔ تاکہ کسی بھی قسم کی کوئی بدمزگی پیدا ہی نہ ہو۔ اس کی یہ احتیاط ایک طرف اگر اس کے لئے زندگی بھر کے زخم کا پیغام لے کر آئی تو دوسری طرف باپ سے اس بارے میں بات کر کے جو شرمندگی اس کے حصے میں آنے والی تھی، اس سے بچ گیا۔
سب باتیں اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت تھیں مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتا جو دھڑکنا ہی بھولتا جا رہا تھا۔ صفیہ کا خیال اب اس کے لئے شجرِ ممنوعہ تھا مگر وہ اس کے خیال سے دامن چھڑاتا تو کیسی؟ اس کی راتیں بے خواب ہو گئیں۔ دن بے رونق ہو گئی۔ وقت کا ایک ایک لمحہ ٹیس بنتا چلا گیا۔ سانس لیتا تو آہ نکلتی۔ آنکھ اٹھاتا تو ہر طرف اس دشمنِ جاں کی تصویر سجی نظر آتی جو کبھی اس کی تھی ہی نہیں۔ وہ اکیلا ہی اس آگ میں جلتا رہا تھا۔ اس نے صفیہ کے ساتھ گزرے ہوئے ایک ایک پل میں جھانکا۔ کسی جگہ اسے صفیہ کی جانب سے کوئی ہمت افزائی کا اشارہ نہ ملا۔ کہیں اس کی نظروں سے چھلکنے والا کوئی پیغام نہ تھا۔ وہ کس وہم کے سہارے زندگی میں اس کے تصور کو جینے کا بہانہ مان لیتا؟اگر یہ عشق تھا تو یک طرفہ تھا۔ اگر یہ محبت تھی تو صرف اسی کی طرف سے تھی۔ اگر یہ پیار تھا تو اس میں صفیہ کی رضا کہیں نہ تھی۔
آہیں ، آنسو، پچھتاوا۔ یہی اس کا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ صفیہ کا خیال آتا تو آہ ہونٹوں پر مچل جاتی۔ اس کے طاہر کا ہو جانے کے بارے میں سوچتا تو آنسو دل کا دامن بھگو دیتی۔ اپنی طرف سے کی گئی دیر پچھتاوا بن کر دل مسل ڈالتی تو وہ تڑپ تڑپ جاتا۔ بڑی کوشش کی کہ کسی طرح خود کو سنبھال لے مگر عشق میں ناکامی کا داغ ایسی آسانی سے دھُل جانے والا ہوتا تو کوئی بات بھی تھی۔ یہ ناسور تو ایساتھاجو اندر کی جانب رِستا تھا۔ اس کا سارا زہر سوچوں اور خیالوں میں اترتا اور وہیں پڑا چرکے لگایا کرتا۔ وہ چند ہفتوں ہی میں سوکھ کر کانٹا ہو گیا۔
ایک دن فلیٹ کے پتے پر خط آیا۔ کھولا تو یونیورسٹی کی طرف سے انوی ٹیشن تھا۔ یونیورسٹی والوں نے کامیاب طلبہ کے اعزاز میں ایک فنکشن ارینج کیا تھا جس میں انہیں ڈگریاں دی جانے والی تھیں۔ تب اسے خیال آیا کہ اس نے ابھی تک باپ کو اپنی کامیابی کی اطلاع ہی نہیں دی۔ خود کو سنبھالا کہ باپ کہیں اس کی آواز اور لہجے سے اس کے دُکھ کا بھید نہ جان لی۔ پھر اسے فون کیا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے اس کی آواز سن کر بیتابی سے پوچھا کہ اتنے دنوں تک رابطہ کیوں نہیں کیا۔ بتایا کہ وہ اسے وقفے وقفے سے کنٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر اس کا موبائل نہ مل رہا تھا۔ سرمد نے بہانہ کیا کہ موبائل خراب تھا اور وہ رزلٹ آنے پر ہی انہیں بتانا چاہتا تھا اس لئے جان بوجھ کر رابطہ نہیں کیا۔ وہ اس کی کامیابی کا سن کر پھولے نہ سمائے۔ اس وقت سرمد کو پتہ چلا کہ وہ پاکستان میں نہیں ، ارضِ حجاز پر ہیں۔
تقسیمِ اسناد کی تقریب میں شرکت کے لئے وہ عین وقت پر گیا اور ڈگری وصول کر کے نکال آیا۔ ریحا نے اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر وہ لوٹ آیا۔
اب اس کا لندن میں کوئی کام نہ تھا۔ اہم امور نمٹانے میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ لگ جاتا۔ اس کے بعد وہ وطن جا سکتاتھا مگر وہ وہاں نہ جانے کے بارے میں اپنا فیصلہ وسیلہ خاتون کو سنا چکا تھا۔ ویسے بھی وہ وہاں جا کر کیا کرتا؟ خود پر قابو نہ رکھ پاتا تو معمولی سی حرکت صفیہ کے لئے وبالِ جان بن سکتی تھی۔ اس نے عزم کر لیا کہ کبھی پاکستان نہیں جائے گا۔ ڈاکٹر ہاشمی کو کس طرح سمجھایا جاتا، اس بات کو اس نے آنے والے وقت پر چھوڑ دیا۔
پندرہ دن پہلے آخری بار اس کی بات ڈاکٹر ہاشمی سے ہوئی۔ ان کا ارادہ ابھی مزید مدینہ شریف میں رکنے کا تھا۔ تین مہینے کا وقت پورا کئے بغیر وہ واپس پاکستان جانا چاہتے تھے نہ بیگم صاحبہ۔
اب پہلی بار وہ سوچ میں پڑ گیا۔ پندرہ دن بعد جب ڈاکٹر ہاشمی کا ارضِ حجاز پر قیام ختم ہو جاتا تو وہ لازماً واپس چلے جاتے۔ پھر وہ لندن میں مزید رکنے کا کیا بہانہ کرتا؟
سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھوڑا بن گیا۔ ایک طرف صفیہ سے دور رہنے کا ارادہ اور دوسری طرف تنہائی کا مارا باپ۔ جو اس کے لئے گن گن کر دن گزار رہا تھا۔
اس شام ریحا اس سے ملنے آئی۔ دونوں کتنی ہی دیر چُپ چاپ بیٹھے رہے۔ وہ اس کی حالت پر بیحد دُکھی تھی۔
“سرمد۔ ” خاموشی طویل ہو گئی تو ریحا نے لب کھولی۔ “ایک بات پوچھوں ؟”
“پوچھو۔ ” اس نے بجھی بجھی نظروں سے اس کے ملیح چہرے کو دیکھا۔
“مجھے تمہارے نجی معاملے میں دخل تو نہیں دینا چاہئے لیکن ہم نے ابھی تک بڑا اچھا وقت گزارا ہے۔ تم اسے دوستی کہہ لو مگر میں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں رکھتی کہ میں تم میں انٹرسٹڈ تھی۔ آں ہاں۔۔۔ چونکو مت۔ ” ریحا نے ہاتھ اٹھا کراسے کچھ کہنے سے روک دیا۔ “اسی لئے میں اب تک تمہارے لئے خوار ہو رہی ہوں۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ تم مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے مگر میں ڈھیٹ بن کر تمہارے ارد گرد منڈلاتی رہی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم دونوں کا مذہب جدا ہے۔ کلچر جدا ہے۔ رہن سہن جدا ہے، میں اس آس پر تمہیں مائل کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ تم لندن کے آزاد ماحول میں پل بڑھ رہے ہو۔ ہم کسی نہ کسی کمپرومائز پر پہنچ کر ایک ہو جائیں گی۔ تمہاری ایک دم بدل جانے کی کیفیت نے مجھے تم سے قریب رکھا جب میں نے پوری طرح جان لیا کہ ہماری یونیورسٹی کی یا باہر کی کسی لڑکی میں تم انٹرسٹڈ نہیں ہو۔ مگر تمہارے گریزاں رویے نے مجھے بد دل کر دیا تو میں کچھ دنوں کے لئے تم سے دور چلی گئی۔ یہ سوچ کر کہ شاید میری دوری تمہیں میرے ہونے کا احساس دلائے اور تم مجھ سے ملنا چاہو مگر ۔۔۔ ” وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائی۔ “یہ میری بھول تھی۔ تم آج بھی ویسے ہی ہو جیسے چند ماہ پہلے پتھر ہو گئے۔ بہرحال۔۔۔ ” اس نے اپنے بال جھٹکے سے چہرے سے ہٹائے اور اس کی حیران حیران آنکھوں میں جھانک کر کہا۔ ” آج میں تم سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا تمہاری یہ حالت کسی لڑکی کی وجہ سے ہے؟”
سرمد نے اس سے نظریں چرا لیں۔ اس کے لب کانپے اور سر جھک گیا۔
“خاموش مت رہو سرمد۔ ” وہ اٹھی اور اس کے سامنے قالین پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئی۔ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے اور اسے والہانہ دیکھنے لگی۔ “یہ مت سوچو کہ تمہارے اقرار سے مجھے دُکھ ہو گا۔ ہو گا مگر اس سے زیادہ یہ ضروری ہے سرمد کہ میں حقیقت جان لوں تاکہ مجھے یہ پچھتاوا نہ رہے کہ میں نے تم سے اصل بات جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بولو سرمد۔ ویسے بھی جب تک تم اپنا دُکھ کسی کو بتاؤ گے نہیں ، تمہارے غم کا مداوا نہ ہو سکے گا۔ یہی سوچ کر بولو سرمد کہ شاید میں ، تمہارے کسی کام آ سکوں۔ ”
بے اختیار سرمد کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے اور ریحا کے ہاتھوں پر گری۔
“سرمد۔ ” بے چین ہو کر ریحا نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے لیا، جس پر کئی دنوں کی بڑھی ہوئی شیو نے اداسی اور یاسیت کھنڈ دی تھی۔
“میں کیا بولوں ریحا؟” وہ یوں رو دیا جیسے اسے اب تک ریحا ہی کے کندھے کا انتظار تھا۔ ریحا اٹھی اور اس کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔ سرمد نے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا اور اس کی گود میں سر رکھ کر بلکنے لگا۔ ریحا اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی اور اپنے آنسوپینے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔
جی بھر کر رو لیا تو سرمد کا من ہلکا ہو گیا۔ ریحا نے اس کا منہ ہاتھ دھلوایا۔ اصرار کر کے شیو کرائی۔ کپڑے بدلوائے اور اپنی ننھی سی ٹو سیٹر میں اسے ہل پارک میں لے آئی۔
شام ہونے کو تھی۔ آمنے سامنے گھاس کے فرش پر بیٹھے جب چند منٹ سکوت کے عالم میں گزر گئے تو ریحا نے محبت سے اس کا ہاتھ تھام کر سہلاتے ہوئے کہا۔
“ہاں تو سرمد جی۔ اب کھل جائے۔ ذرا بتائیے تو کہ وہ کون مہ وش ہے جس نے ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے؟”
“ڈاکہ؟” سرمد نے نظریں اٹھائیں اور مسکراتی ہوئی ریحا کو دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر بھی ابھری۔ پھر یہ مسکراہٹ ایک سرد آہ میں بدل گئی۔
“وہ مجھ سے ٹیوشن پڑھا کرتی تھی ریحا۔۔۔ ” ہولے ہولے اس نے کہنا شروع کیا۔ ریحا سنتی رہی اور جب سرمد نے بات ختم کی تو ریحا کو اداسی پوری طرح گرفت میں لے چکی تھی۔
سرمد خاموش ہو گیا۔
ریحا سر جھکائے تنکے توڑ تی رہی۔ لگا، جیسے اسے سرمد کی بات ختم ہونے کا پتہ ہی نہیں۔ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ تب ہوا کے ایک سرد جھونکے نے انہیں کپکپا کر رکھ دیا۔
ریحا نے سر اٹھایا۔ شام اتر آئی تھی۔ پرندے چہچہانا ختم کر چکے تھے۔ پارک سے لوگ رخصت ہو رہے تھے۔
“تمہارا اداس ہونا سمجھ میں آتا ہے سرمد۔ ” ریحا نے ایک گہرا سانس لیا۔ “واقعی۔ بات ہی ایسی ہے کہ انسان اپنے قابوسے باہر ہو جاتا ہے، جیسے کہ تم۔۔۔ مگر اب کیا؟ ساری زندگی تو دُکھ کی یہ چادر اوڑھ کر نہیں گزاری جا سکتی۔ ”
“گزاری جا سکتی ہے ریحا۔ ” پہلی بار سرمد کے لبوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ بکھری۔ ” آج سے پہلے مجھے بھی یہ زندگی بوجھل لگتی تھی۔ سانس جیسے سینے میں آرا بن کر چلتا تھا۔ چاہتا تھا کہ جیسے تیسے یہ جینا ختم کر کے دنیا سے چل دوں مگر ۔۔۔ ” اس نے بڑی محبت سے ریحا کا ہاتھ تھام لیا۔ ” آج تمہارے کندھے پر سر رکھ کر رو لیا ہے تو لگتا ہے سانس لینا آسان ہو گیا ہے۔ میں تمہارا یہ احسان مرتے دم تک یاد رکھوں گا ریحا۔ تم نے میرا من دھو کر سارا غبار اپنے دامن میں سمیٹ لیا ہے۔ اب صفیہ کا دُکھ، دُکھ نہیں رہا۔ ایک نشہ بن گیا ہے۔ اس کی یاد اب نشتر نہیں چبھوتی، ٹیس بن کر درد جگاتی ہے۔ اس درد میں ایک لذت ہے ریحا۔ میں نے ایسی لذت کبھی محسوس ہی نہیں کی، جس سے آج گزر رہا ہوں۔ یاد ایسی مست بھی ہوتی ہے، مجھے اس سے تم نے آشنا کیا۔ یہ غم کا مزہ تمہاری دین ہے۔ صفیہ کے ساتھ تمہاری یاد جُڑ گئی ہے ریحا۔ اسے میں چاہوں بھی تو الگ نہیں کر سکتا۔ ”
“میں ایسی گہری اور مشکل مشکل باتیں نہ کر سکتی ہوں نہ سوچ سکتی ہوں سرمد۔ ” ریحا نے مسکرا کر کہا۔ “بس یہ جان کر خوش ہوں کہ اب تم زندگی کی طرف لوٹ رہے ہو۔ ساری بات سمجھ کر ایک امید کی جوت دل میں جگا لی ہے میں نے کہ شاید ایک دن تم میرے پاس آ جاؤ اور کہو کہ ریحا۔ مجھے اپنی باہوں میں لے لو۔ میں بہت تھک گیا ہوں۔ آؤ مل کر ایک آشیانہ بنائیں جس میں۔۔۔ ”
“بس۔ ” سرمد نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگا لیا۔ “مجھ سے کوئی وعدہ نہ لینا ریحا۔ اگر تم میرا نصیب ہو تو ایسا ضرور ہو گا اور اگر میں تمہارا حصہ نہیں ہوں تو آرزو کا پودا پالنے سے کوئی کسی کو نہیں روک سکتا۔ ”
“جانتی ہوں۔ ” ریحا نے اپنا ہاتھ واپس کھینچا اور چوم لیا۔ “تمہارا یہ بوسہ میرے لئے کافی ہے۔ تمہارا یہ لمس میری تمنا کے پودے کو سینچتا رہے گا سرمد۔ میں جب تک ممکن ہو سکا تمہارا انتظار ضرور کروں گی۔ زندگی کے آخری سانس تک انتظار کا وعدہ اس لئے نہیں کر سکتی کہ ماں باپ کی نافرمان نہیں ہونا چاہتی تاہم کوشش کروں گی کہ اس وقت تک کسی کی سیج نہ سجاؤں جب تک تمہاری طرف سے نا امیدی کی خزاں کا جھونکا میرے یقین کے گلشن میں نہ در آئے۔ ”
ایک عجیب سے وعدے اور امید کے دیپ دلوں میں جلا کر دونوں اٹھے اور چل پڑی۔ اسے فلیٹ پر چھوڑ کر ریحا نے باہر ہی سے رخصت چاہی تو سرمدکو پتہ چلا کہ وہ اگلے دن واپس انڈیا جا رہی ہے۔
“کبھی لوٹنا چاہو تو بڑا سیدھا سا پتہ ہے سرمد۔ سرینگر میں جموں کشمیر روڈ پر کوٹھی نمبر تین میرا گھر ہے۔ میرا موبائل نمبر تمہیں ازبر ہے۔ کوشش کرنا کہ یہ سیٹ تم بھی کبھی نہ بدلو جس کا نمبر میرے پاس ہے۔ اس پر میں اکثر تمہیں تنگ کرتی رہوں گی۔ ”
“واپس جا کر کیا کرو گی؟” سرمد نے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام کر پوچھا۔
“سب سے پہلے ماں سیتا کے مندر جاؤں گی۔ ان سے تمہیں مانگوں گی۔ فرقت کا دُکھ وہ خوب سمجھتی ہیں۔ مجھے یقین ہے اگر تم میرے نصیب میں نہیں بھی ہو تو وہ میرا نصیب بدل دیں گی۔ تمہیں ضرور میرے دامن میں ڈال دیں گی۔۔۔ اور جب تک ایسا ہو نہیں جاتا تب تک مجھے سکون اور سُکھ کا وردان ضرور دیں گی۔ ”
ریحا نے اس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگایا۔ آنکھوں سے مس کیا اور اس کی جانب دیکھے بغیر گاڑی میں بیٹھ کر رخصت ہو گئی۔ شاید اس میں جاتے ہوئے سرمد کو چھوڑ جانے کے احساس سے آنکھیں ملانے کی ہمت نہ تھی۔
ریحا چلی گئی۔
مگر۔۔۔ وہ اپنی جگہ بُت بنا کھڑا تھا۔ اس کے دماغ میں بگولے سے چکرا رہے تھے۔ کانوں میں سیٹیاں سی بج رہی تھیں۔ کیا کہہ گئی تھی ریحا؟ اس کا ایک بُت پر کیسا پختہ یقین تھا۔ اسے کیسا اعتماد تھا ایک پتھر پر کہ وہ اس کا مقدر بدل دے گا۔ اسے سکون اور اطمینان بخش دے گا۔ ہونی کو انہونی کر دکھائے گا۔ یہ ایک باطل مفروضے پر قائم مذہب نما ڈھکوسلے پر یقین رکھنے والی ریحا کا حال تھا اور وہ خود جو ایک آفاقی، ازلی و ابدی سچ کے حامل دین کا پیروکار تھا۔ جس کا ایمان ایک، اکیلے اور واحد اللہ پر تھا۔ اس کی سوچ اپنے معبود کی طرف گئی ہی نہ تھی، جو اسے سب کچھ دے سکتا تھا۔ انہونی کو ہونی کر سکتا تھا۔ سکون اور سُکھ کے لئے جس کی طرف رجوع کر لینا ہی کافی تھا۔ وہ اس کے بارے میں اب تک غفلت کا شکار تھا۔
ندامت سے اس کی پیشانی پر پسینہ آ گیا۔ جسم میں شرمندگی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ صفیہ تو اب اس کی نہ ہو سکتی تھی مگر اس نے اپنے خالق سے اس زخم کا تریاق مانگا ہی نہ تھا۔ تنہائی اوڑھ لی تھی۔ اداسی پہن لی تھی۔ نا امیدی کے رستے پر تھکے تھکے قدم اٹھاتا وہ زندگی کا لاشہ گھسیٹ رہا تھا۔ بھول گیا تھا کہ ہر غم، ہر دُکھ، ہر زخم کا مداوا جس کے پاس ہے وہ اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور اس کے پکار لینے کا ہر آن منتظر ہے۔
ایک بُت پرست نے اپنے دو فقروں سے اسے ملیا میٹ کر دیا۔ گرتا پڑتا وہ فلیٹ میں پہنچا اور قبلہ رخ ہو کر سجدے میں گر پڑا۔ کچھ نہ کہا۔ کچھ نہ بولا۔ بس، روتا رہا۔ ہچکیاں لیتا رہا۔ سسکتا رہا۔ اس کے حضور ندامت کی سب سے اعلیٰ زبان آنسو ہیں اور آنسو اسے جس قدر پسند ہیں ، اس کے بارے میں آنسو بہانے والا سب سے بہتر جانتا ہے۔ یہ آبگینے جب جب پھوٹتے ہیں تب تب اس کے دربار میں بیش قیمت ہوتے جاتے ہیں۔
دوسرے دن اس نے عمرے کے لئے ویزا اپلائی کر دیا۔ اس کے اندر ایک اور ہی شمع روشن ہو گئی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا اڑ کر حرم جا پہنچی۔ اپنے آقا کے حضور جائے اور پھر لوٹ کر نہ آئی۔ اسے شرم آتی تھی ریحا کے پتھر کے بے جان بھگوان کے بارے میں سوچ کر۔ جس کا ذکر کر کے ریحا نے اسے اس کے سچے خدا کی طرف رجوع کا ادراک بہم پہنچایا تھا۔ ریحا کا یہ دوسرا احسان اس کے پہلے احسان سے بھی بڑا تھا جو اس نے سرمد کی ذات پر کیا تھا۔
٭
ڈاکٹر ہاشمی سے رخصت ہو کر وہ ایر پورٹ سے باہر نکلا اور مکہ کے لئے روانہ ہو گیا۔
ہوٹل میں سامان رکھ کر حرم پہنچا تو اس کی حالت غیر ہو گئی۔ جسم سے جان نکل گئی۔ ہاتھ پاؤں سرد پڑ گئی۔ وہ گرتا پڑتا صحنِ حرم میں داخل ہوا اور گر پڑا۔ اپنے رب کے گھر کے سامنے سجدے میں پڑا وہ سسک رہا تھا۔ کتنی ہی دیر گزر گئی۔ اس کا سر اٹھانے کو جی ہی نہ چاہتا تھا۔ پھر جیسے دل کو قرار سا آ گیا۔ سکون اس کا شانہ تھپک کر تسلی دیتا ہوا جسم و جان میں اتر گیا۔ آنسو خشک ہو گئے یا شاید ختم ہو گئی۔
اس نے سجدے سے سر اٹھایا۔ کعبہ، اپنے اللہ کے پہلے اور آخری گھر پر نظر ڈالی۔ اسے لگا، کعبہ اسے اپنی طرف بلا رہا ہے۔ باہیں پسارے اسے سینے سے لگانے کو اشارے کر رہا ہے۔ وہ آہستہ سے اٹھا اور عمرے کے ارکان ادا کرنے لگا۔ حجرِ اسود کو چومنے کے لئے جھکا تو ایک خیال برق کی طرح اس کے دل و دماغ میں روشنی دے گیا۔
“اسے میرے آقا نے بوسہ دیا ہے۔ ”
اس کے لئے حجرِ اسود کا بوسہ لینا مشکل ہو گیا۔ جس پتھر کو اس کے آقا نے اپنے لبِ اطہر سے چوما تھا، وہ اسے کس ادب سے بوسہ دے؟ کس احترام سے ہونٹوں سے لگائے؟ لرزتے کانپتے ہوئے اس نے اس جنتی پتھر کو بوسہ دیا اور بادل نخواستہ پیچھے ہٹ گیا۔ طواف کرتے کرتے وہ جب بھی حجرِ اسودکے بوسے کے لئے رکا، اس کی یہی حالت ہوئی۔
وہ مکہ میں ارکانِ عمرہ سے فارغ ہو گیا۔ اب اسے مدینہ شریف جانا تھا۔ اپنے اللہ کے حبیب پاک کے حضور حاضر ہونا تھا۔ اپنے آقا و مولا کا خیال آتے ہی اس پر ایک کیف سا طاری ہو گیا۔ رات گزارنا اس کے لئے مشکل ہو گیا۔ ساری رات وہ حرم میں نفل پڑھتا رہا۔ اسے صبح صبح شہرِ نبی کے لئے روانہ ہو جانا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ اس دوران نیند میں ایک لمحہ بھی ضائع نہ کرے۔
صبح آخری بار حرم کا طواف کر کے جب وہ رخصت ہوا تو اس کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھے۔ دل سے ایک خوشبو کا جھونکا نکلا اور حرم کی جانب روانہ ہو گیا۔
“میرے معبود۔ اسے سُکھی رکھنا۔ ”
آمین کے لفظ کے ساتھ اس نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے حرم کو نگاہوں میں جذب کر لینا چاہا تو جدائی کا احساس، رخصت ہونے کا غم اس کی آنکھوں کو دھندلا گیا مگر جانا تو تھا۔ اس نے سر جھکا کر دونوں ہاتھ کسی غلام کی طرح باندھ لئے اور قدم وداع ہونے کے لئے اٹھا دیا۔
٭
بیگم صاحبہ کا فون آیا تو طاہر نے صفیہ سے واپسی کی تیاری کرنے کا کہہ دیا۔ وہ دو دن بعد آ رہی تھیں۔
“طاہر۔ ” جھجکتے ہوئے صفیہ نے کہنا چاہا۔
“کہو ناں۔ رک کیوں گئیں ؟” طاہر نے اسے باہوں میں لے لیا۔
“واپسی سے پہلے ایک بار بابا شاہ مقیم کے مزار پر لے چلئے مجھے بھی۔ ” صفیہ نے اس کے سینے پر پیشانی ٹکا دی۔
“تو پھر آج ہی چلو۔ صبح واپس جانا ہے۔ وقت نہیں ملے گا۔ ”
“تو چلئے۔ میں تیار ہوں۔ ” وہ کھل اٹھی۔
“کرایہ دینا پڑے گا جانے آنے کا؟” شرارت سے طاہر نے اسے ہاتھ تھام کر اپنی طرف کھینچا۔
“واپس آ کر۔ ” اس نے ہاتھ چھڑایا اور شرما کر الماری کی طرف بڑھ گئی۔ طاہر ہنسا اور وضو کرنے چلا گیا۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ بابا شاہ مقیم کے مزار پر تھی۔ درویش برگد تلے دری بچھائے جیسے انہی کے انتظار میں بیٹھا تھا۔
“سلام کر کے ادھر ہی آ جانا اللہ والیو۔ ” اس نے وہیں سے صدا لگائی۔ صفیہ نے خود کو چادر میں خوب اچھی طرح ملفوف کر رکھا تھا۔ اس نے گاڑی سے اتر کر درویش کی جانب نظر اٹھائی جو سر جھکائے ہولے ہولے جھوم رہا تھا۔
” آ جاؤ۔ پہلے سلام کر لیں۔ ” طاہر اسے لئے ہوئے مزار کی جانب چل پرا۔
سادہ سے مزار کے اندر داخل ہوتے ہی صفیہ کو ایک عجیب سے سکون نے گھیر لیا۔ جتنی دیر وہ طاہر کے ساتھ اندر کھڑی دعا کرتی رہی اس کا سارا جسم کسی نامعلوم احساس سے لرزتا رہا۔ اس کپکپاہٹ میں ایک ایسا سرور تھا ، ایک ایسی لذت تھی، ایک ایسا کیف تھا، جسے وہ بیان نہ کر سکتی تھی۔
دعا کے بعد وہ دونوں باہر آئے اور درویش کے پاس دری پر جا بیٹھی۔ طاہر نے اس سے مصافحہ کیا اور اس کے چہرے پر کچھ تلاش کرنے لگا۔ کوئی پیغام۔ کوئی سندیسہ۔
“بیٹی آئی ہے۔ ” اس نے صفیہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“جی بابا۔ ” صفیہ نے ادب سے جواب دیا۔
“جیتی رہو۔ تمہارے سُکھ کی دعا تو وہاں قبول ہوئی ہے جہاں۔۔۔ ” کہتے کہتے درویش خاموش ہو گیا۔ “اس پگلے کا خیال رکھا کرو۔ ” اس نے بات بدل دی۔
“اپنی سی کوشش تو کرتی ہوں بابا۔ ” صفیہ نے آنکھ نہ اٹھائی۔
“کوشش ہی فرض ہے پگلی۔ اس کے بعد تو سب اس کی مرضی پر ہے۔ ” درویش نے آسمان کی جانب دیکھا۔ “اور کوشش کا پھل وہ ضرور دیتا ہے۔ ”
صفیہ خاموش رہی۔
“بابا۔ کل صبح ہم واپس جا رہے ہیں۔ ” طاہر نے پہلی بار زبان کھولی۔
“خیر سے جاؤ اللہ والیو۔ خیر سے جاؤ۔ خیر سے رہو۔ ” وہ جھوم کر بولا۔
” آپ کو اپنا وعدہ یاد ہے ناں بابا؟”
“یاد ہے۔ یاد ہے۔ ” درویش نے اس کی جانب مسکرا کر دیکھا۔ “اتاولا نہ ہو۔ وقت آنے دے۔ وعدے سارے پورے ہوں گے اس کے حکم سے۔ ” پھر اس نے پاس پڑی ایک کاغذ کی پڑیا اٹھائی اور صفیہ کی جانب بڑھا دی۔ “یہ لے بیٹی۔ یہ بابے شاہ مقیم کا تبرک ہے۔ گھر جا کر دونوں چکھ لینا۔ ”
” جی بابا۔ “صفیہ نے پڑیا لے کر پرس میں رکھ لی۔
“بس اب جاؤ۔ اللہ کی پناہ۔ رسول کی امان۔ ” درویش نے دونوں ہاتھوں سے صفیہ کے سر پر پیار دیا۔ طاہر سے ہاتھ ملایا۔ اس کی آنکھوں میں غور سے دیکھا۔ دھیرے سے مسکرایا اور دو زانو بیٹھا رہا۔
طاہر اور صفیہ اٹھی۔ الٹے پاؤں دری سے اتری۔ جوتے پہنے اور ایک بار پھر اسے سر خم کر کے سلام کر کے گاڑی میں آ بیٹھی۔ درویش آنکھیں بند کئے جھوم رہا تھا۔ طاہر نے گاڑی سٹارٹ کی تو درویش کے لبوں سے ایک مدھ بھری تان نکلی۔
پیلُو پکیاں وی۔ پکیاں نے وے
آ چُنوں رَل یار
وہ جھوم جھوم کر گاتا رہا۔ طاہر نے بڑی خوابناک نظروں سے صفیہ کی طرف دیکھا جو درویش کی تان میں گم پلکیں موندے اس کے شانے سے لگی بیٹھی تھی۔ جسم میں پھریریاں لیتے سرور نے طاہر کو مست سا کر دیا۔ بے خودی کے عالم میں اس نے ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھا دیا۔ نور پور کی حدود سے نکلنے تک درویش کی تان ان کا یوں پیچھا کرتی رہی جیسے انہیں رخصت کرنے کے لئے ان کے ساتھ ساتھ محو سفر ہو۔
* * *

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: