Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Episode 9

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 9

–**–**–

بیگم صاحبہ ڈاکٹر ہاشمی اور اعجاز کو طاہر، صفیہ، وسیلہ خاتون، نزدیکی رشتے دار اور طاہر کے آفس کے لوگ چھوٹے موٹے جلوس کی شکل میں کوٹھی لے کر آئی۔
یہاں طاہر نے نیاز کا اہتمام کر رکھا تھا جس کا انتظام پروفیسر قمر اور امبر کے سپرد تھا۔ عشا کے قریب فراغت ہوئی۔ رشتے داروں کے بعد ڈاکٹر ہاشمی اور وسیلہ خاتون رخصت ہو گئے تو پروفیسر قمر اور امبر نے بھی اجازت لی۔ رات کے آٹھ بجے تھے جب صفیہ اور طاہر بیگم صاحبہ کے کمرے میں ان کے دائیں بائیں بستر پر آ بیٹھی۔ بڑے سے ایرانی کمبل میں تینوں کا چھوٹاسا خاندان سما گیا۔ پھر مکہ اور مدینہ، حرم اور حرم والی۔ گنبدِ خضریٰ اور آقائے رحمت کی باتیں شروع ہوئیں تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ بیگم صاحبہ کا سارا طمطراق، سادگی اور عاجزی میں بدل چکا تھا۔ شہرِ نبی کی بات پر وہ بار بار پُر نم ہو جاتیں۔ ان کی باتوں سے لگتا تھا کہ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ واپس ہی نہ آتیں۔ وہیں مر مٹ جاتیں۔
دیوار گیر کلاک نے رات کے گیارہ بجنے کا اعلان کیا تو بیگم صاحبہ نے انہیں جا کر سونے کو کہا۔ “بس بیٹی۔ اب تم لوگ بھی جا کر سو جاؤ۔ رات آدھی ہونے کو ہے۔ اور صبح اٹھ کر نماز بھی پڑھا کرو۔ ”
“جی امی۔ ” صفیہ نے شرارت سے طاہر کی جانب دیکھا۔ “میں تو پڑھتی ہوں۔ انہیں کہئے۔ ”
“طاہر۔ ” بیگم صاحبہ نے تسبیح تکئے تلے رکھتے ہوئے کہا۔ “نماز پڑھا کرو بیٹے۔ اب تم بچے نہیں رہے۔ ”
“جی امی۔ ” اس نے چوری چوری صفیہ پر آنکھیں نکالیں۔
پھر دونوں انہیں سلام کر کے اپنے کمرے میں آ گئے۔ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی طاہر نے اسے چھاپ لیا۔
“نماز نہیں پڑھتا میں۔ ہے ناں۔ ”
“ہاں تو اور کیا۔ ” وہ اس کی باہوں میں مچلی۔ “روز کہتی ہوں آپ سے۔ آپ سنتے ہی نہیں۔ ”
“وجہ کا تو پتہ ہے ناں تمہیں۔ کیوں نہیں پڑھتا میں ؟” طاہر نے اس کے رخسار پر چٹکی لی۔
“کوئی وجہ نہیں۔ صرف آپ کی سستی ہے۔ ” وہ گال پر ہاتھ رکھ کر بولی۔
“وجہ ہے صفو جان۔ ” طاہر نے اسے سینے پر ڈال لیا۔ ” نہ تم ساری رات جگاؤ نہ میری نماز رہ جایا کرے۔ ”
“کیا۔ کیا۔ ” صفیہ نے پُر زور احتجاج کیا۔ “میں جگاتی ہوں یا آپ نہیں سونے دیتے؟”
“ایک ہی بات ہے۔ ” وہ لاپروائی سے بولا۔
“بہر حال آج سے کوئی وجہ قابل قبول نہیں ہو گی۔ صبح آپ وقت پر اٹھیں گے اور نماز پڑھیں گے۔ ” وہ مچل کر اس کی گرفت سے نکل گئی۔
“جیسے حکم سرکار کا۔ ” طاہر نے ہار مان لی۔ ” اب سونے کی اجازت ہے یا نہیں ؟”
“بالکل ہے۔ سو جائیے چُپ چاپ۔ “اس نے کمبل کھول کر طاہر پر پھیلایا۔ طاہر نے اسے شریر نظروں سے گھور کر دیکھا۔ صفیہ نے شرما کر رخ پھیر لیا۔
“اب آ جاؤ۔ ورنہ میں جاگتا رہوں گا۔ پھر صبح وقت پر نہیں اٹھوں گا اور نماز رہ جائے گی۔ ” بڑی معصومیت سے اس نے کہا تو صفیہ کی ہنسی نکل گئی۔ آہستہ سے وہ کمبل میں در آئی۔
“مطلب کے پورے پکے ہیں آپ۔ ”
“شش۔ ” طاہر نے اس کے لبوں پر مہر محبت ثبت کر دی۔ “بات کرنے کا نہیں۔ سونے کا ہے بابا۔ ” اور ہاتھ بڑھا کر بیڈ سوئچ آف کر دیا۔
٭

مسجدِ نبوی کے صحن میں بیٹھ کر گنبدِ خضریٰ کو تکتے رہناسرمد کا سب سے پسندیدہ عمل تھا۔ وہ جب سے اپنے آقا کے شہر میں آیا تھا اس نے نماز اور درود کے علاوہ اور کسی شے کی طرف دھیان ہی نہ دیا تھا۔ ہوٹل میں کپڑے بدلنے یا غسل کے لئے جاتا ورنہ اس کا سارا وقت وہیں گزرتا۔
اللہ کے حبیب کے حضور حاضر ہو کر اس نے جو کیف پایا تھا، اس کا اظہار لفظوں میں ممکن ہی نہ تھا۔ دل کی دھڑکنیں زبان کے ساتھ صدا دیتی ہوئی، د رود شریف کے ورد میں شامل رہتیں۔ ایک مہک تھی جو اسے ہر طرف رقصاں محسوس ہوتی۔ ایک نور تھا جو ہر شے پر محیط نظر آتا۔ ایک سکون تھا جو اسے ہواؤں میں تیرتا ملتا۔ آنکھیں بند کرتا تو اجالے بکھر جاتی۔ پلکیں وَا کرتا تو قوس قزح کے رنگ چھلک پڑتی۔ آقا کا خیال آتا تو نظر اشکوں سے وضو کرنے لگتی۔ واپس جانے کا خیال آتا تو جگر میں ایک ٹیس سی آنکھ کھول لیتی۔ مگر ، ہر ایک کیفیت میں مزا تھا۔ ایک لذت تھی۔ درد بھی اٹھتا تو سرور آمیز لگتا۔
آخری دن تھا جب وہ دربارِ نبوی میں ہدیہ درود و سلام پیش کرنے کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے کھڑا تھا۔ زبان گنگ تھی۔ لب کانپ رہے تھے اور دعا کے الفاظ کہیں گم ہو چکے تھے۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ اس کے آنسو تھم ہی نہ رہے تھے۔ ہچکی بندھ گئی تو وہ کھڑا نہ رہ سکا۔ آہستہ سے وہ اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور سسکنے لگا۔
“میرے آقا۔ میرے مولا۔ میں کیا مانگوں ؟ کوئی طلب ہی نہیں رہی۔ آپ کے در پر آ گیا۔ اب اور کیا چاہوں ؟ کس کے لئے چاہوں ؟”
اور “کس کے لئے ” کے الفاظ پر ایک دم اس کے تصور میں ایک چہرہ ابھرا۔
“ہاں۔ اس کے لئے سُکھ عطا کیجئے۔ ” دل سے ایک بار پھر مہک نکلی۔
“اپنے لئے بھی تو کچھ مانگ پگلے۔ ” ایک سرگوشی نے اسے چونکا دیا۔ اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ جس کی صدا تھی، وہ کہیں نظر نہ آیا۔ لوگ اس سے دور دور تھی۔
“اس در پر آ کر کچھ نہ مانگنا بد نصیبی ہے۔ کچھ مانگ لے۔ کچھ مانگ لے۔ ” کوئی اسے اکسا رہا تھا۔ اسے سمجھا رہا تھا۔ مگر کون؟ اس نے بار بار تلاش کیا۔ کوئی دکھائی نہ دیا۔ تھک کر اس نے سر جھکا لیا اور آنکھیں موند لیں۔
“کیا مانگوں ؟” اب وہ خود سے سوال کر رہا تھا۔ “کیا مانگوں ؟ کیا مانگوں ؟” اس کا رواں رواں پکار رہا تھا۔ پھر جیسے یہ سوال جواب میں بدل گیا۔ اسے اپنی زبان پر اختیار نہ رہا۔ اپنی طلب پر اختیار نہ رہا۔ اپنے آپ پر اختیار نہ رہا۔
“میرے آقا۔ میں خام ہوں۔ ناکام ہوں۔ مجھے وہ دیجئے۔ وہ عطا کیجئے جو مجھے کامیاب کر دے۔ ”
ان الفاظ کے ادا ہوتے ہی جیسے اس کی زبان پر تالا لگ گیا۔ اس کا سارا جسم ہلکا ہو گیا۔ ہوا سے بھی ہلکا۔ وہ بے وزن ہو گیا۔ اس نے بات ان کی مرضی پہ چھوڑ دی تھی جنہیں اللہ نے اپنا حبیب بنایا اور لوح و قلم پر تصرف عطا کر دیا۔ مانگے سے لوگ من کی مرادیں پاتے ہیں۔ بِن مانگے، اپنی مرضی سے وہ کیا عطا کر دیں ، کون جان سکتا ہے ؟سرمد نے نفع کا سودا کر لیا تھا۔ ایسے نفع کا سودا، جس کے لئے اس کے پلے صرف اور صرف عشق کا زر تھا۔ عشق۔۔۔ جس سے اس کا ازلی و ابدی تعلق ظاہر ہو چکا تھا۔ عشق۔۔۔ جس نے اسے ہجر و فراق کی بھٹی میں تپا کر کندن بنانے کی ٹھان لی تھی۔
اپنے آقا و مولا کے در کے بوسے لیتا ہوا وہ مسجدِ نبوی سے رخصت ہوا۔ چوکھٹ کو چوم کر دل کو تسلی دی۔ حدودِ مدینہ سے نکلنے سے پہلے خاکِ مدینہ پر سجدہ کیا۔ اسے ہونٹوں اور ماتھے سے لگایا۔ پھر مٹھی بھر یہ پاکیزہ مٹی ایک رومال میں باندھ کر اپنی اوپر کی جیب میں رکھ لی۔ اس کے لئے یہ کائنات کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔
ہوٹل کے کمرے سے اپنا مختصر سامان سمیٹ کر اس نے سفری بیگ میں ڈالا اور چیک آؤٹ کے لئے کاونٹر پر چلا آیا۔
ٹیکسی نے اسے جدہ ایر پورٹ کے باہر اتارا تو دن کے گیارہ بج رہے تھے۔ اچانک وہ ایر پورٹ کی عمارت میں داخل ہوتے ہوتے رک گیا۔
“کہاں جا رہا تھا وہ؟” اس نے خود سے سوال کیا۔
اس کی لندن واپسی کی ٹکٹ کنفرم تھی مگر اس نے باپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ عمرے کے بعد لندن نہیں جائے گا، پاکستان آئے گا۔ سوچوں نے اس پر یلغار کر دی۔ اس کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ کیا کرے؟ پاکستان جانا تو اس کے لئے ممکن ہی نہیں تھا اور لندن جانے کا راستہ اس نے ڈاکٹر ہاشمی سے وعدے کی صورت میں بند کر لیا تھا۔ وہ خیالوں میں ڈوبا ہوا ایر پورٹ میں داخل ہوا اور پتھر کے ایک بنچ پر بیٹھ کر آنکھیں موند لیں۔
اس کی پشت پر دوسری جانب اسی بنچ پر دو نوجوان بیٹھے سرگوشیاں کر رہے تھے۔ انہوں نے سرمد کو بیٹھتے دیکھا تو خاموش ہو گئے۔ چند لمحے سر جھکائے رہے۔ پھر انہوں نے آہستہ سے گردن گھما کر سرمد کی طرف دیکھا جو دنیا و مافیہا سے بے خبر اپنے ہی خیالوں میں گم تھا۔ چند لمحے اس کا جائزہ لیتے رہنے کے بعداس نوجوان نے، جس کی عمر بائیس تئیس سال سے زیادہ نہ تھی، اپنے پچیس چھبیس سالہ ساتھی کی طرف دیکھا جو اس عرصے میں وہاں موجود باقی تمام نشستوں کا جائزہ لے چکا تھا۔ کوئی بھی جگہ خالی نہ پا کر اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔ پہلے نوجوان نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں سرمد کی طرف سے اطمینان دلایا۔ چند لمحوں کے بعد وہ پھر سرگوشیاں کرنے لگے۔
” آج آخری دن ہے حسین۔ اگر آج بھی طلال نہ پہنچا تو ہم دونوں کو روانہ ہو جانا پڑے گا۔ مزید وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔ ”
“تم ٹھیک کہہ رہے ہو حمزہ بھائی مگر طلال اکیلا کیسے کمانڈر تک پہنچ پائے گا۔ ” چھوٹی عمر کے نوجوان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“وہ بعد میں دیکھیں گی۔ کل کے بعد ہمیں کمانڈر تک لے جانے والا شخص پھر ایک ماہ بعد مل پائے گا۔ اور یہ سارا عرصہ ہم سوائے دعائیں مانگنے کے اور کیسے گزاریں گے۔ ” حمزہ کی سرگوشی تیز ہو گئی۔
“ہوں۔ ” حسین نے کنکھیوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ “تو پھر پروگرام کیا رہا؟”
“ابھی عراق سے آنے والی فلائٹ چیک کریں گے۔ اگر طلال آ گیا تو ٹھیک۔ ورنہ آج رات نو بجے صبح کی فلائٹ کے لئے ٹکٹیں کنفرم کرا لیں گے۔ ”
“سیدھا دہلی اور وہاں سے سرینگر۔۔۔ ”
“شش۔۔۔۔ ” حمزہ نے حسین کا ہاتھ دبا دیا۔ “نام مت لو کسی جگہ کا۔ ” اس کے لہجے میں سختی تھی۔
“سوری بھائی۔ ” حسین نے معذرت خواہانہ آواز میں کہا۔
“تمہاری یہ سوری کسی دن ایسا کام دکھائے گی کہ۔۔۔ ” حمزہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سر جھٹکا اور دوسری طرف دیکھنے لگا۔
اسی وقت عراق کے شہر نجف سے آنے والی فلائٹ کی اناؤنسمنٹ ہونے لگی۔ حمزہ اور حسین ایک ساتھ اٹھے اور داخلی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ وہ بڑے اطمینان اور سکون سے قدم اٹھا رہے تھے۔ ان کی چال میں کسی قسم کا اضطراب نہ تھا۔ اضطراب تو وہ بُت بنے بیٹھے سرمد کی جھولی میں ڈال گئے تھے جو کہنیاں گھٹنوں پر رکھی، ہاتھوں پر چہرہ ٹکائے ان دونوں کو دزدیدہ نگاہوں سے جاتا دیکھ رہا تھا۔
ان کی گفتگو نے سرمد کے قلب و ذہن میں جوار بھاٹا پیدا کر دیا تھا۔ اسے فوری طور پر کوئی فیصلہ کرنا تھا۔ خشک ہوتے حلق کو اس نے تھوک نگل کر تر کیا اور جب نجف سے آنے والی فلائٹ کے پہلے مسافر نے کلیرنس کے بعد لاؤنج میں قدم رکھا تو اس نے اپنی نشست چھوڑ دی۔ اس کا رخ باہر کی جانب تھا۔
اسے کہاں جانا تھا، فیصلہ ہو چکا تھا۔ راستہ دکھایا جا چکا تھا۔ اب تو اسے صرف قدم بڑھانا تھا اور منزل تک پہنچنا تھا۔
٭
آدھ گھنٹے بعد وہ جدہ کے ہوٹل الخامص کے دوسرے فلور پر کمرہ نمبر تین سو تیرہ کے باہر کھڑا تھا۔ سفری بیگ اس نے خوب سنبھال کر کندھے پر درست کیا۔ ادھر ادھر دیکھا۔ کاریڈور بالکل خالی تھا۔ اس کا ہاتھ دستک کے لئے اٹھا۔
“کون؟” اندر سے حمزہ کی آواز ابھری۔
جواب میں اس نے پھر ہولے سے دستک دی۔ فوراً ہی کسی کے دروازے کی طرف چل پڑنے کی آہٹ سنائی دی۔ پھر ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا۔
“تم؟” سامنے کھڑے حمزہ کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔
“کون ہے حمزہ بھائی؟” حسین نے پوچھا۔ پھر وہ بھی اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔ سرمد کو دیکھ کر اس کا حال بھی حمزہ سے مختلف نہ رہا۔
“کیا آپ مجھے اندر آنے کے لئے نہ کہیں گے؟” سرمد مسکرایا۔
“یہ تو وہی ہے جو۔۔۔ ” حسین نے کہنا چاہا۔
“جی ہاں۔ میں ایر پورٹ پر موجود تھا۔ ” سرمد نے اخلاق سے کہا۔
“اندر آ جاؤ۔ ” اچانک حمزہ نے کہا اور ایک جھٹکے سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیا۔ پھر جب تک سرمد سمجھ پاتا، دروازہ بند ہو گیا اور ایک سیاہ ریوالور کی نال اس کی پیشانی پر آ ٹکی۔ حسین نے دروازہ اندر سے لاک کر دیا۔
“کون ہو تم؟” حمزہ کا لہجہ بیحد سرد تھا۔
“اس کے بغیر بھی پوچھیں گے تو میں سچ سچ بتا دوں گا۔ ” سرمد نے اچھل کر حلق میں آ جانے والے دل کی دھڑکن پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے ریوالور کی طرف اشارہ کیا۔
“بکواس نہیں۔ ” حمزہ نے اسی لہجے میں کہا۔ ” تم یہاں تک پہنچے کیسے؟”
“ٹیکسی میں آپ کا پیچھا کرتے ہوئے۔ ” سرمد نے بیگ کندھے سے فرش پر گرا دیا۔ اسی وقت حسین نے پیچھے سے آ کر اس کی گردن میں بازو ڈال کر گرفت میں لے لیا۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے سرمد کا دایاں ہاتھ مروڑ کر کمر سے لگا دیا۔
“میرا پہلا سوال ابھی جواب طلب ہے۔ کون ہو تم؟” حمزہ نے اسے مشکوک نظروں سے گھورتے ہوئے پھر پوچھا۔
“ایک پاکستانی۔ ” سرمد نے مختصراً کہا۔
“فرشتے نہیں ہوتے پاکستانی۔ ” حمزہ نے تلخی سے کہا۔ ” تم ہمارا پیچھا کیوں کر رہے تھے؟”
“یہ ذرا تفصیل طلب بات ہے اور اس حالت میں تو میں وضاحت نہ کر سکوں گا۔ ” سرمد نے آنکھ کے اشارے سے حسین کی جانب اشارہ کیا۔
“ہوں۔ ” حمزہ بڑی سرد نظروں سے چند لمحے اسے گھورتا رہا۔ پھر اس نے ریوالور اس کی پیشانی سے ہٹا لیا۔ “چھوڑ دو اسے۔ ”
حسین نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ دیا اور سرمد اس کے دھکے سے بستر پر جا گرا۔ حمزہ کرسی گھما کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور ریوالور اس پر تان لیا۔ اس کا انداز بتاتا تھا کہ وہ ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں اسے نشانہ بنا سکتا ہے۔
“حسین۔ باہر کا جائزہ لو۔ یہ اکیلا ہے یا۔۔۔ ”
جواب میں حسین نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ریوالور پر ہاتھ جماتے ہوئے بڑی احتیاط سے دروازہ کھولا۔ دائیں بائیں گردن گھما کر دیکھا۔ پھر باہر نکل گیا۔ تقریباً دو منٹ بعد لوٹا تو اس کے چہرے کی وحشت غائب ہو چکی تھی۔
“لگتا ہے یہ اکیلا ہی ہے حمزہ بھائی۔ ” وہ دروازہ لاک کر کے دوسری کرسی پر آ بیٹھا۔
“ہوں۔ ” حمزہ نے سرمد کی جانب معنی خیز نظروں سے دیکھا۔ “اب کھل جاؤ بچے۔ کون ہو اور کیوں آئے ہو؟ اور بولنے سے پہلے یہ سمجھ لو کہ ہمارے پاس تمہارے سچ جھوٹ کو جانچنے کے لئے وقت ہے نہ کوئی جواز۔ اس سے کم وقت میں ہم تمہاری لاش کو باتھ روم میں بند کر کے نکل جائیں گے۔ اس لئے جلدی، کم اور سچ بولو۔ ”
“میرا نام سرمد ہاشمی ہے۔ پاکستانی ہوں۔ یہاں عمرہ کرنے آیا تو زندگی کا کوئی مقصد نہ تھا۔ واپس جا رہا تھا تو آپ دونوں کی باتیں کان پڑیں۔ لگا، جیسے راستہ مل گیا ہے۔ اب بے مقصد جینے سے جان چھوٹ جائے گی۔ ”
“کیا مطلب؟” حمزہ نے حیرت سے پوچھا۔ “ہماری باتوں سے کیا جان لیا تم نے؟”
“یہ کہ آپ کسی بڑے مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں۔ مجھے بھی اس میں شامل کر لیجئے۔ ” سرمد نے تمہیدیں باندھنے سے گریز کیا۔
“او بھائی۔ کیا سمجھ رہے ہو تم؟” حمزہ ہنسا۔ ” ہم کسی خاص مقصد کے لئے کوئی بڑا کام نہیں کر رہے۔ ہم تو سیدھے سادے اردنی ہیں۔ ”
“اردنی؟” اب سرمد کے حیران ہونے کی باری تھی۔ “مگر آپ تو بڑی روانی سے اردو بول رہے ہیں۔ ”
“تو اس میں کیا ہے۔ کیا تم لوگ ہماری طرح عربی نہیں بول لیتے؟” حمزہ نے لاپرواہی سے کہا۔ “بہر حال۔ تم نے جو سمجھا غلط سمجھا اور یہاں آ کر اس سے بھی بڑی غلطی کی۔ اب جب تک ہم جدہ سے نکل نہیں جاتے، تم یہاں قید رہو گے۔ ”
“بالکل نہیں۔ میں چاہوں گا کہ آپ طلال کی جگہ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔ ”
“طلال؟” حمزہ کے ساتھ حسین بھی اچھل پڑا۔ ” اس کے بارے میں تم کیسے اور کیا جانتے ہو؟”
“صرف یہ کہ آپ دونوں اس کے نجف سے آنے کے منتظر تھی۔ اور آج بھی اس کے نہ آنے پر اب آپ اکیلے ہی انڈیا کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ ”
بھک سے جیسے حمزہ کے دماغ کا فیوز اڑ گیا۔ اس نے ایسی نظروں سے حسین کی طرف دیکھا جن سے بے اعتباری مترشح تھی۔
“یہ تو ہماری ساری باتیں سن چکا ہے حمزہ بھائی۔ اب اس کا زندہ رہنا ٹھیک نہیں۔ ” اس نے جیب سے ریوالور نکال لیا۔
“رکو۔ ” حمزہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے کسی بھی اقدام سے منع کر دیا۔ پھر اس نے سرمد کی جانب دیکھا۔ “تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم لوگ کون ہیں اور کس کام میں لگے ہیں ؟”
“میرا اندازہ ہے۔ ” سرمد بازو سہلاتا ہوا بولا۔ ” آپ لوگ انڈیا میں کسی ایسی تحریک سے وابستہ ہیں جو حربی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ آپ کے پاس یہ اسلحہ اور آپ کی گفتگو میں کمانڈر اور سرینگر کا لفظ یہی بتاتا ہے اور۔۔۔ ”
“اور۔۔۔ ” حمزہ کا سانس رکنے لگا۔
“اور یہ کہ۔۔۔ ” سرمد نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں دال دیں۔ ” انڈیا میں صرف ایک ہی حربی تحریک چل رہی ہے۔ کشمیر کی۔۔۔ ”
“تمہارا کیا خیال ہے اس تحریک کے درست اور نادرست ہونے کے بارے میں ؟”
“میں اسے جہادی تحریک سمجھتا ہوں۔ ” سرمد نے بڑے اعتماد سے کہا۔
“حمزہ بھائی۔ اس کی باتوں میں نہ آئیے۔ یہ کوئی بڑی گیم کھیل رہا ہے۔ “حسین نے بیتابی سے بات میں دخل دیا۔
“ہوں۔ ” حمزہ نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس کی تیز اور اندر تک چھید کرتی نگاہوں نے سرمد کا سر سے پاؤں تک ایک بار بھرپور جائزہ لیا۔ پھر اس کے چہرے پر رک گئیں۔
“تو تم ہمارے ساتھ اس لئے شامل ہونا چاہتے ہو کہ تم کسی مقصد کے لئے جینا چاہتے ہو؟” اب حمزہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
” مرنا بھی اسی مقصد کے لئے چاہتا ہوں۔ ” سرمد کے لہجے سے عجیب سا عزم جھلک رہا تھا۔
“اور تمہارا خیال ہے کہ ہمیں تمہاری بات پر یقین آ جائے گا؟” تمسخر سے حمزہ نے پوچھا۔
” آ تو جانا چاہئے۔ ” سرمد نے گھبرائے بغیر جواب دیا۔
“وہ کیوں ؟” حمزہ نے اسی لہجے میں پوچھا۔
“اس لئے کہ میں جس جگہ اپنی بے مقصد زندگی سے نجات کی دعا کر کے آ رہا ہوں ، وہاں جھوٹ کو اجازت ہی نہیں کہ پر مار سکے۔ ”
“کہاں سے آ رہے ہو تم؟” حمزہ ایک دم حیران ہوا۔
“اپنے آقا و مولا کے درِ اقدس سے۔ ”
اور حمزہ کا ہاتھ بے جان ہو کر نیچے ہو گیا۔ ریوالور چھوٹ کر فرش پر جا پڑا۔ ایسا لگا، کسی انجانی طاقت نے ایک جھٹکے سے اسے کرسی سے کھڑا کر دیا ہو۔ حسین کا ریوالور والا ہاتھ بھی جھک گیا۔ بالکل ساکت کھڑا حمزہ چند لمحے اسے خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
“میں قربان جاؤں اس نام پر۔ ” اس کی آواز لرز رہی تھی۔ “مجھے اب تک گناہ گار کیوں کر رہے تھے تم سرمد ہاشمی؟ ارے۔ تم آتے ہی بتا دیتے کہ تمہیں میرے آقا نے بھیجا ہے۔ آ جاؤ۔ سینے سے لگو۔ ٹھنڈی ڈالو۔ میرے آقا کے بھیجے ہوئے۔ میری پلکوں پر تشریف رکھو۔ میرے دل میں قیام کرو۔ میرے سینے پر اترو مرشد۔ ”
حمزہ نے بازو پسار دئیے۔ سرمد آہستہ سے اٹھا۔ پھر لپک کر اس کے سینے سے جا لگا۔ حسین ان دونوں سے آ کر لپٹ گیا۔
وہ تینوں سسکیاں بھر رہے تھے۔ انہیں اپنی منزل پر اپنے آقا کی رحمت، رضا اور خوشنودی کا سایہ چھاؤں کرتا دکھائی دے گیا تھا۔
* * *

“ہم دونوں کشمیری ہیں سرمد۔ ” حمزہ بتا رہا تھا۔ “وہاں اس وقت جتنی بھی جماعتیں جہاد کے نام پر سرگرم عمل ہیں ، ہم ان میں سے کسی ایک سے بھی تعلق نہیں رکھتے۔ اس لئے کہ کہیں نہ کہیں ان کے سیاسی مفادات اصل مقصد سے ٹکراتے ہیں۔ کمانڈر کے نام سے ہم جسے پکارتے ہیں ، ایک اللہ کا بندہ ہے جس کے دل میں اپنے غلام وطن کا دردٹیس بن کر دھڑکتا ہے۔ اس کا کسی جہادی جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ گوریلا کارروائیوں سے جس طرح کا نقصان پہنچا رہا ہے، وہ دن بدن بھارتی فوجوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس مجاہد کا تعلق کس کس علاقے اور کس کس فرد سے ہے لیکن یہ جانتے ہیں کہ اس کے گروپ میں شامل ہونے والے لا وارث مرتے ہیں نہ ان کی لاشوں کے سودے کئے جاتے ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد ان کی میتیں ان کے اپنے علاقوں میں پہنچائی جاتی ہیں۔ کیسے؟ یہ ہم نہیں جانتے۔ کمانڈر کے گروپ کا نام “عشاق” ہے۔ وہ اللہ کے عاشق ہیں۔ رسول اللہ کے عاشق ہیں اور بس۔ ان کا ایک ہی نعرہ ہے ” عزت کی آزاد زندگی یا شہادت۔ ” گروپ میں ہر شامل ہونے والے کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ عمرہ کرے۔ اللہ کے گھر میں حاضری دینے کے بعد اپنے آقا کے در پر پہنچے۔ اپنے تن من کو قبولیت کا غسل دے۔ اس کے بعد گروپ میں شمولیت کے لئے کمانڈر کے خاص آدمی سے رابطہ کرے۔ ایک ماہ کی گوریلا ٹریننگ کے بعد معرکوں میں شمولیت کے لئے ڈیوٹی لگ جاتی ہے۔ پھر یہ اپنا اپنا نصیب ہے کہ شہادت ملتی ہے یا مجاہدانہ حیات۔ ”
“تو آپ دونوں بھی یہاں۔۔۔ ”
“ہاں۔ ” حمزہ نے سرمد کی بات اچک لی۔ “ہم پہلے کشمیری مجاہدین کی ایک جماعت کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں۔ ٹریننگ کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ ہم عمرہ کی شرط پوری کرنے کے لئے یہاں آئے تھے۔ ”
“اور طلال کون ہے؟”
“یہ ہمارا عراقی ساتھی ہے۔ عشاق میں دنیا بھر سے جذبہ شہادت سے سرشارلوگ جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔ ہمیں کل تک بہر صورت سرینگر پہنچنا ہے۔ طلال نہ آیا تو ہم دونوں اس کے بغیر رخصت ہو جائیں گے۔ ”
“لیکن اب مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے۔ ” سرمد نے جلدی سے کہا۔
“تم عمرہ کر چکے ہو۔ اور نجانے کیوں مجھے تمہاری باتوں میں سچائی نظر آتی ہے۔ کیوں حسین۔ “حمزہ نے گردن گھمائی۔ ” کیا خیال ہے؟”
“میں آپ سے متفق ہوں بھائی۔ ” حسین نے ان دونوں کی جانب دیکھا۔ “سرمد ہمارے آقا کے در پر حاضری دے کر آ رہا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس کی نیت پر شک کرنا چاہئے۔ ”
“لیکن سرمد۔ ” حمزہ اس کی جانب متوجہ ہوا۔ ” تمہارے گھر والے۔۔۔ ”
“ان کے علم میں نہیں ہے کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔ میں چاہتا بھی نہیں کہ ان سے بحث و تمحیص کے بعد اس راہ پر قدم رکھوں جو مجھے میرے آقا کے در سے تفویض ہوئی ہے۔ ”
“شادی ہو چکی ہے تمہاری؟” حمزہ نے پوچھا۔
“عاشقوں کی شادیاں ان کے مقصد سے ہو چکی ہوتی ہیں حمزہ بھائی۔ ” سرمد نے گول مول جوا ب دیا۔ ایک پل کے لئے ایک معصوم سا چہرہ اس کے تصور میں ابھرا، جسے اس نے فوراً ہی تیز ہوتی دھڑکن کے پردے میں چھپا لیا۔
“یہ تو تم نے سچ کہا۔ ” حمزہ اس سے متاثر ہو چکا تھا۔ ” پھر بھی عشاق کے منشور میں ہے کہ ساری معلومات سچی اور صاف صاف بہم پہنچائی جائیں۔ ”
“اس کے لئے میں تیار ہوں۔ میرا دنیا میں سوائے اپنے والد کے اور کوئی نہیں ہے۔ انہیں معاشی طور پر میری مدد کی ضرورت بھی نہیں۔ وہ بڑے نامور ڈاکٹر ہیں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ انہیں میرے اس اقدام کے بارے میں تب پتہ چلے جب میں کچھ کر کے دکھاؤں تاکہ وہ مجھ پر فخر کر سکیں۔ ”
“ہوں۔ ” حمزہ نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا۔ “اپنا پاسپورٹ دو۔ ”
سرمد نے قالین پر پڑا بیگ کھولا۔ پاسپورٹ نکال کر حمزہ کے حوالے کیا، جسے وہ کھول کر دیکھنے لگا۔
“سرمد۔ آخری بار سوچ لو۔ اس کے بعد تمہیں یہ موقع نہیں ملے گا کہ تم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکو۔ ”
“سوچ لیا حمزہ بھائی۔ ” ایک عزم سے سرمد نے کہا۔ ” فیصلہ تو میرے آقا نے فرما دیا۔ مجھے تو اس پر صرف عمل کرنا ہے۔ ”
“تو ٹھیک ہے۔ ” حمزہ اٹھ گیا۔ “تم حسین کے ساتھ چلے جاؤ۔ اپنی تمام چیزیں جن سے تمہاری شناخت ہو سکے، یا تو ضائع کر دو، یا اپنے گھر پاکستان کوریئر کر دو۔ صرف یہ پاسپورٹ اور آئیڈنٹی کارڈ ہے جو تمہاری پہچان رہے گا، وہ بھی سرینگر تک۔ اس کے بعد یہ بھی تمہارے لئے بیکار ہو جائے گا۔ ”
“میرے پاس ویزا کارڈ اور کریڈٹ کارڈ کے علاوہ سعودی کرنسی بھی ہے حمزہ بھائی۔ اس کا کیا کروں ؟” سرمد نے بیگ سے چیزیں نکالتے ہوئے پوچھا۔
“اگر تم چاہو تو عشاق کو عطیہ کر سکتے ہو لیکن یہ تمہاری خوشی پر منحصر ہے۔ اس کے لئے کمانڈر کی طرف سے کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے۔ ”
“تو یہ لیجئے۔ یہ میری طرف سے عشاق کو عطیہ کر دیجئے۔ ” سرمد نے اپنا کریڈٹ کارڈ، ڈاکٹر ہاشمی کا دیا ہوا ویزا کارڈ اور سعودی کرنسی حمزہ کے حوالے کر دی۔ بیگ سے اس نے تمام کاغذات نکال لئے۔ ان کا ایک پیکٹ بنایا۔ اس پر گھر کا پتہ لکھا اور حسین کے حوالے کر دیا۔
“حسین بھائی۔ یہ کوریئر کرا دینا۔ میرا جانا ضروری تو نہیں ہے اس کے لئے۔ ”
“ٹھیک ہے۔ ” حمزہ نے حسین کو اشارہ کیا۔ اس نے پیکٹ لے لیا۔ ” تم یہیں رکو۔ حسین کچھ دیر میں لوٹ آئے گا۔ مجھے واپسی میں تین چار گھنٹے لگیں گے۔ ”
“ٹھیک ہے حمزہ بھائی۔ ” سرمد ان کے ساتھ دروازے تک آیا۔
“کسی بھی انجان شخص کے لئے دروازہ کھولنے کی ضرورت ہے نہ کسی سے بات کرنے کی۔ میں تمہارے لئے کافی اور کچھ کھانے کو بھجوا تا ہوں۔ ”
جواب میں سرمد نے محض سر ہلا دیا۔ وہ دونوں کمرے سے نکلے تو اس نے دروازہ اندر سے لاک کر لیا۔
اچانک اسے کچھ خیال آیا۔ کچھ دیر وہ سوچ میں ڈوبا رہا پھر موبائل جیب سے نکال کر ایک نمبر ملایا۔
“ہیلو۔ ریحا از ہیئر۔ ” دوسری جانب سے وہ بیتابی سے چہکی۔ “اچھے تو ہو سرمد؟ ”
“ہاں ہاں۔ ” وہ ہولے سے مسکرایا۔ “میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ۔ ”
“میں بھی ٹھیک ہوں۔ سنو سرمد۔ کیا تم یقین کرو گے آج صبح سے میں چاہ رہی تھی کہ تم مجھے فون کرو۔ اور دیکھو، تم نے فون کر دیا۔ ” وہ ہنسے جا رہی تھی۔ کھلی جا رہی تھی۔
“دل کو دل سے راہ ہوتی ہے ریحا۔ ” وہ بے اختیار کہہ گیا۔
“اچھا۔ ” حیرت سے اس نے کہا۔ “تمہارے دل کو بھی میرے دل سے راہ ہو گئی سرمد۔ ”
“میں تو محاورتاً کہہ رہا تھا پگلی۔ ” سرمد کو اپنے الفاظ کی نزاکت کا احساس ہوا۔
“چلو۔ ہم محاورے ہی میں سہی، تمہارے دل کے قریب تو آئے۔ اچھا یہ کہو۔ خیریت سے فون کیا ؟” اس نے خود ہی بات بدل دی۔ شاید اس ڈر سے کہ سرمد کا اگلا فقرہ، حقیقت کا آئینہ دکھا کر اس سے یہ چھوٹی سی خوشی بھی چھین نہ لے۔
“ہاں۔ ” سرمد نے جھجک کر کہا۔ “ایک چھوٹا سا کام تھا ریحا۔ ”
“تو کہو ناں۔ جھجک کیوں رہے ہو؟ سرمد۔ یقین کرو اگر مجھے زندگی میں تم سے کوئی کام پڑا ناں۔ تومیں تمہیں حکم دوں گی۔ درخواست نہیں کروں گی۔ ارے ہمارا ایک دوسرے پر جو حق ہے اسے کھل کر استعمال کرو یار۔ نفع نقصان، لینا دینا، تعلق کو ناپ تول کر کیش کرنا، یہ تو ہم ہندو ساہوکاروں کی بدنامیاں ہیں۔ تم مسلمان ہو کر اس چکر میں کیسے پڑ گئے؟” وہ اس کے لتے لے رہی تھی۔
“نہیں۔ ایسی بات نہیں ریحا۔ ” وہ جھینپ گیا۔
“تو پھر جلدی سے کہہ ڈالو۔ کیا کام ہے؟”
“ریحا۔ ” اس نے سارے تکلفات بالائے طاق رکھنے کی ہمت کر ڈالی۔ “تمہیں ایک بار لندن جانا پڑے گا۔ ”
“تم آ رہے ہو وہاں تو میں ہزار بار لندن جانے کو تیار ہوں سرمد۔ ” ریحا ایک دم بے چین ہو گئی۔
“نہیں۔ میں نہیں آ رہا لندن۔ ”
“تو پھر۔ ” وہ حیران ہوئی۔
“تم وہاں میرے فلیٹ پر چلی جانا۔ دروازے کے سامنے اوپر جاتی سیڑھیاں ہیں۔ ساتویں زینے کے کارپٹ کے نیچے فلیٹ کی چابی ہے۔ اندر میری رائٹنگ ٹیبل کے نچلے دراز میں میرے تمام ڈاکومنٹس، رزلٹ کارڈ اور ڈگری ایک لفافے میں بند پڑے ہیں۔ وہ میرے گھر کے پتے پر میرے پاپا کے نام کوریئر کر دینا پلیز۔ ”
“مگر۔۔۔ ”
“دو مہینے کا کرایہ میرے ایڈوانس میں ابھی باقی ہے۔ میرے لینڈ لارڈ سے مل کر میرا حساب چکا دینا۔ سامان جسے چاہے دے دینا۔ مجھے کسی چیز سے کچھ لینا دینا نہیں۔ ” اس نے ریحا کی بات کاٹ کر کہا۔
“وہ تو میں سب کر دوں گی۔ مگر تم ہو کہاں ؟”
“میں۔۔۔ ” ایک پل کو سرمد رکا۔ پھر بولا۔ “میں سعودی عرب میں ہوں ریحا۔ عمرہ کرنے آیا تھا یہاں۔ ”
“تو واپسی کب تک ہے تمہاری؟”
“جلد ہے۔ ” اس نے بات گول کر دی۔
“وہاں سے پاکستان جاؤ گے کیا؟”
“شاید۔ ” اس کی آواز دھیمی ہو گئی۔ ” ابھی کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن لندن نہ جانے کا میں اپنے پاپا سے وعدہ کر چکا ہوں ریحا۔ اس لئے تمہیں تکلیف دے رہا ہوں۔ ”
“وہ تکلیف تو میں اٹھا لوں گی سرمد لیکن مجھ سے وعدہ کرو تم جہاں بھی رہو گے مجھ سے رابطہ رکھو گے۔ ”
“ہاں۔ ” کچھ سوچ کر سرمد نے کہا۔ ” اگر ممکن ہوا تو۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ ”
“اور جب بھی ہو سکا مجھ سے ملو گے بھی۔ “اس نے مزید پاؤں پھیلائے۔
“ہاں۔ ضرور۔ ”
“تو ٹھیک ہے۔ ” وہ ایک دم خوش ہو گئی۔ “میں ایک دو روز میں لندن چلی جاؤں گی۔ پھر تمہیں بتاؤں گی کہ تمہارا کام ہو گیا۔ ” وہ اس سے رابطے کا بہانہ محفوظ کر رہی تھی۔
“میں خود تم سے بات کروں گا ریحا۔ تم فکر نہ کرو۔ ”
“چلو۔ جو پہلے بات کر لی، وہی سکندر۔ ” ریحا کا موڈ بیحد خوشگوار ہو رہا تھا۔ وہ سرمد کے ہنس کر بول لینے ہی پر فدا ہوئی جا رہی تھی۔
“اچھا ریحا۔ اب اجازت۔ ”
“کس دل سے کہوں کہ ہاں۔ ” وہ جذباتی ہو گئی۔ “مگر ہو گا تو وہی جو طے ہے۔ اس لئے گڈ بائی سرمد۔ آل دی بیسٹ۔ ”
“خوش رہو ریحا۔ سلامت رہو۔ ” سرمد نے بٹن دبا دیا۔ وہ مزید اس پگلی کو باتیں کرنے کا موقع دے کر اس کے خواب کا دورانیہ طویل نہ کرنا چاہتا تھا۔ موبائل جیب میں رکھ کر اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ پھر کسی گہری سوچ میں گم بیڈ پر نیم دراز ہو گیا۔
سوچتے سوچتے ریحا کی جگہ موجودہ صورتحال نے لے لی اور بے اختیار اس کے رگ و پے میں ایک سکون سا بھر گیا تھا۔ یوں لگتا تھا، وہ جس مقصد کے لئے یہاں آیا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔
“عشاق۔ ” اچانک اس کے ذہن کے پردے پر ایک لفظ ابھرا۔ کمانڈر نے کیسا با مقصد لفظ اپنے گروپ کے لئے چُنا تھا۔ اسے اپنے بارے میں خیال آیا تو لگا، یہ لفظ اس کے لئے ہی منتخب کیا گیا ہے۔ وہ جو ایک ناکام عاشق تھا۔ اسے ایک کامیاب راستے کی نوید دے کر اس کے آقا نے رخصت کر دیا تھا۔ صفیہ کے عشق نے، عشقِ مجازی نے اس کا ہاتھ عشقِ حقیقی کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔
٭
تقریباً ایک گھنٹے بعد حسین لوٹا۔ اس نے ڈاکٹر ہاشمی کے پتے پر سرمد کا پیکٹ کوریئر کرا دیا تھا۔ رسید سرمد کو دے کر وہ باتھ روم میں گھس گیا۔ سرمد رسید ہاتھ میں لئے کچھ دیر اسے غور سے دیکھتا رہا۔ پھر ایک طویل سانس لے کر اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ حسین نے اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا اور خاموشی سے صوفے پر آ بیٹھا۔ دوپہر کا کھانا ان دونوں نے اکٹھے کھایا۔ حمزہ شام کے قریب لوٹا۔ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
“کام ہو گیا ؟” حسین نے بیتابی سے پوچھا۔
“ہاں۔ بڑی مشکل سے ہوا مگر ہو گیا۔ ” حمزہ نے تین پاسپورٹ نکال کر اس کی طرف اچھالے اور خود بستر پر گر پڑا۔
“ویری گڈ۔ ” حسین نے تیسرا پاسپورٹ دیکھ کر حیرت بھرے تحسین آمیز لہجے میں کہا اور پاسپورٹ سرمد کے ہاتھ میں دے دیا۔
سرمد نے اپنا پاسپورٹ کھول کر دیکھا اور اب حیران ہونے کی باری اس کی تھی۔ “ارے” کہتے ہوئے اس نے حمزہ کی جانب دیکھا۔ “یہ کیسے ہوا حمزہ بھائی؟”
“بس ہو گیا۔ اب تم لوگ تیار رہو۔ ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے ہم لوگ چیک آؤٹ کر جائیں گے۔ نو بجے کی فلائٹ ہے۔ میں ٹکٹ کنفرم کرا لایا ہوں۔ ”
سرمد نے مزید کوئی سوال کرنا مناسب نہ سمجھا اور پاسپورٹ جیب میں رکھ لیا جس پر حمزہ نے بھارت کا ویزہ لگوا لیا تھا۔
ٹھیک پونے نو بجے وہ لوگ ایر پورٹ پر تھے۔ ان کے پاس سوائے ایک ایک ہینڈ بیگ کے اب کوئی سامان نہ تھا۔ ریوالور اور فالتو سامان ہوٹل کے کمرے ہی میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ ہینڈ بیگز میں ان کا ایک ایک کپڑوں کا جوڑا، چند اشیائے ضرورت اور پاسپورٹ تھی۔
پورے نو بجے گلف ایر لائن کے طیارے نے دہلی کے لئے رن وے چھوڑ دیا۔ کھڑکی کے قریب بیٹھے سرمد نے جدہ ایر پورٹ کی جلتی بجھتی روشنیوں پر نظر ڈالی۔ پھر فضا میں جہاز سیدھا ہوا تو ان لوگوں نے سیفٹی بیلٹس کھول دیں۔ بے اختیار سرمد نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اس کا دل بڑے زور سے پھڑپھڑایا۔ گنبدِ خضریٰ اس کی نگاہوں میں دمکا اور غیر اختیاری طور پر اس کے لبوں پر درود شریف مہک اٹھا۔ سارا جسم ایک بار تن کر یوں ٹوٹا جیسے ساری تھکان، ساری کلفتیں ، ساری اداسیاں ہوا ہو گئی ہوں۔ آنکھیں بند کرتے ہوئے اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔ حمزہ اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا کنکھیوں سے دیکھ رہا تھا کہ سرمد کے لب ہولے ہولے ہل رہے ہیں۔ اس نے کان لگا کر سنا اور عقیدت سے اس کا دل بھر آیا۔ وہ دم بخود رہ گیا۔ سرمد کے ہونٹوں پر خالقِ کون و مکاں کا پسندیدہ وظیفہ جاری تھا۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ”
“عشاق” کے لئے اس سے بڑا ورد اور کیا ہو سکتا ہے۔ ” اس نے سوچا اور بے ساختہ اس کے ہونٹ بھی متحرک ہو گئے۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ”
اور وہاں سے ہزاروں میل دور، نور پور گاؤں کے قریب، بابا شاہ مقیم کے مزار کے باہر کھڑے درویش نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا۔ ہواؤں میں کچھ سونگھا اور پکار اٹھا۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ” پھر وہ مزار کی طرف بھاگا۔ “بابا۔ او بابا شاہ مقیم۔ دیکھ۔ وہ چل دیا ہے۔ اپنی منزل کی جانب۔ دیکھ۔ اسے میرے آقا نے قبول کر لیا ہے۔ اس کا عشق اسے مہکا رہا ہے بابا شاہ مقیم۔ اسے دہکا رہا ہے۔ اسے صلی اللہ علیہ وسلم کے پر عطا کر دیے گئے ہیں۔ وہ اڑ رہا ہے۔ اس کی پرواز شروع ہو گئی بابا۔ دیکھ۔ اس نے اپنے خالق، اپنے معبود کی رضا، اپنے مقصود، اپنی منزل کی جانب سفر شرو ع کر دیا ہے۔ دیکھ۔ دیکھ۔ بابا شاہ مقیم دیکھ۔ ”
درویش پاگلوں کی طرح ادھر سے ادھر بھاگا پھر رہا تھا۔ آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا اٹھا کر اشارے کر رہا تھا۔ مزار والے کو بتا رہا تھا۔ وہ بچوں کی طرح خوش تھا۔ قلقاریاں مار رہا تھا۔ ہواؤں میں اڑنے کو پر کھول رہا تھا۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک دم وہ مزار کے باہر ایک جگہ رک گیا۔ بایاں بازو موڑ کر کمر پر رکھا۔ دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا۔ سر جھکا کر آنکھیں بند کر لیں اور دھیرے دھیرے ہلکورے لینے لگا۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ”
وہ جھوم رہا تھا۔ گنگنا رہا تھا۔ رقص کر رہا تھا۔ چک پھیریاں لے رہا تھا۔ ہوا اس کے ساتھ محوِ رقص تھی۔ فضا اس کے ساتھ بے خود تھی۔ درختوں کے پتے تال دے رہے تھے۔ شاخیں سر دھُن رہی تھیں۔ مٹی سوندھی سوندھی خوشبو سے مستی پھیلا رہی تھی۔ آسمان پر فرشتے اپنے رب کے حضور گا رہے تھے۔ تارے چمک چمک کر صدائیں دے رہے تھے۔ کائنات وجد میں تھی۔ جلوت و خلوت کے لبوں پر ایک ہی گیت تھا۔ ہر طرف ایک ہی نغمہ سرور بانٹ رہا تھا۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
* * *

ڈاکٹر ہاشمی کے سامنے سعودی عرب اور لندن سے آنے والے دونوں پیکٹ کھلے پڑے تھے۔ ایک سے سرمد کے ضروری کاغذات اور دوسرے سے اس کی ایم بی اے کی ڈگری، رزلٹ کارڈ اور یونیورسٹی کے دیگر ڈاکومنٹس بر آمد ہوئے تھے۔ دونوں کے ساتھ ہی سرمد کے طرف سے کوئی خط یا دوسری تحریر نہ تھی۔
ان کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ سرمد نے انہیں یہ سب کچھ ارسال کیا تو کیوں ؟وہ خود کہاں ہے؟ اپنا ٹھکانہ نہ بتایا تو اس کا سبب کیا ہے؟ان کے حساب سے سرمد کو کئی دن پہلے واپس ان کے پاس لوٹ آنا چاہئے تھا مگر اس کے بجائے اس کے کاغذات آئے تھے اور بس۔ مزید نہ کوئی خیر خبر نہ اطلاع۔
سوچ سوچ کر ان کاسردرد سے پھٹنے لگا۔ اپنی الجھن دور کرنے کے لئے انہوں نے آخری بار پیکٹ کے ریپر کا جائزہ لیا۔ اس پر بھیجنے والے کا نام سرمد ہاشمی تحریر تھا۔ یہ پیکٹ جدہ سے بھیجا گیا تھا۔ جبکہ لندن سے آنے والے پیکٹ پر کسی لڑکی ریحا کا نام اور پتہ سرمد کے فلیٹ کا تحریر تھا۔
کچھ سوچ کر انہوں نے لندن یونیورسٹی کے انکوائری آفس کا نمبر ملایا۔ تھوڑی دیر بعد رابطہ ہو گیا مگر وہاں سے جو معلومات حاصل ہوئیں وہ اور بھی فکرمند کر دینے والی تھیں۔ آفس والوں نے بتایا کہ سرمد عمرے کے لئے گیا اور واپس نہیں آیا۔ انہیں جس لڑکی ریحا نے سرمد کے ڈاکومنٹس ارسال کئے، وہ سرمد کی کلاس فیلو تھی۔ بھارت کی رہنے والی اور واپس انڈیا جا چکی تھی۔ وہ دوبارہ کب لندن آئی؟ اور کب اس نے سرمد کے ڈاکومنٹس ڈاکٹر ہاشمی کو کوریئر کئی، اس سے یونیورسٹی والے لاعلم تھے۔
ڈاکٹر ہاشمی کا دل گھبرا گیا۔ ان کا اکلوتا بیٹا کہاں تھا، کیا کر رہا تھا اور کس حال میں تھا؟ انہیں اس بارے میں ایک فیصد بھی علم نہ ہو پایا تھا۔ یہ بے خبری ان کے لئے سوہانِ روح بنتی جا رہی تھی۔ اچانک انہیں کچھ خیال آیا۔ ایک دم انہوں نے سامنے پڑا موبائل اٹھایا اور سرمد کا نمبر ملایا۔ دوسری طرف سے موبائل سرمد نے رسپانڈ نہ کیا۔ وہ بار بار ٹرائی کرتے رہی۔ پہلے مسلسل۔ پھر وقفے وقفے سے مگر کوئی رسپانس نہ پا کر ان کی بے چینی آخری حدوں کو چھونے لگی۔ انہوں نے لندن کے پیکٹ سے ریحا کا کوئی رابطہ جاننا چاہا مگر اس پر ریحا نے اپنا فون نمبر نہ لکھا تھا اور پتہ وہ دیکھ چکے تھے کہ سرمد کے فلیٹ کا تھا۔
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
انہیں سرمد کی حالت یاد آئی۔ وہ جس دگرگوں حال میں انہیں جدہ ایر پورٹ پر ملا تھا وہ اس کی ذہنی پریشانی کا منہ بولتا ثبوت تھی مگر انہوں نے اس کے پاکستان آ جانے پر معاملہ چھوڑ کر غلطی کی، اس کا احساس انہیں اب ہو رہا تھا۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہیں اس سے ساری بات جاننے کی کوشش کرتے یا اسے ساتھ لے کر لوٹتے۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا؟
ان کا دل جیسے کوئی مٹھی میں لے کر مسل رہا تھا۔ انہوں نے سرمد کو باپ بن کر کم اور ماں بن کر زیادہ پالا تھا۔ اس کی اچانک گمشدگی اور غیر خبری ان کے لئے ناقابل برداشت ہو رہی تھی۔
آج صبح سے انہوں نے کوئی مریض نہ دیکھا تھا۔ اپنے کمرے میں آتے ہی انہیں دونوں پیکٹ مل گئے اور انہوں نے چپراسی سے کہہ دیا کہ مریضوں کو ڈاکٹر جمشید کے کمرے میں بھجوا دی۔ ڈاکٹر جمشید کو انٹر کام پر مریض دیکھنے کی ہدایت دے کر انہوں نے پیکٹ کھولے اور اب چکر کھاتے ہوئے دماغ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔
ان کا دماغ کسی ایسے ہمدرد کو تلاش کرنے میں ناکام رہا جو اس صورتحال میں انہیں صحیح راستہ دکھا سکے یا ان کی پریشانی کم کرنے کے لئے کچھ کر سکی۔ سوچتے سوچتے انہیں طاہر کا خیال آیا۔ وہ ان سے کافی بے تکلف بھی تھا۔ اس کے زندگی بھر کے معاملات ان کے سامنے، اور اکثر انہی کے ہاتھوں طے ہوئے تھے حتی ٰ کہ اس کی شادی تک ان کی مرہون منت تھی۔ اس کے تعلقات ہر شعبہ حیات میں تھے۔ THE PROUDکے حوالے سے وہ دنیا کے کئی ممالک میں جانا جاتا تھا۔
انہوں نے ٹیلی فون سیٹ اپنی طرف کھسکایا اور تیزی سے طاہر کا نمبر ملایا۔ نمبر ملاتے ہوئے ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ نمایاں تھی۔
“یس۔ انکل۔ طاہر بول رہا ہوں۔ ” دوسری جانب سے آواز ابھری تو ڈاکٹر ہاشمی کا خشک ہوتا ہوا گلا درد سے بھر گیا۔
“طاہر۔۔۔ بیٹے۔ ” ان کی آواز بھرا گئی۔
“کیا بات ہے انکل؟” وہ چونک پڑا۔ ” خیریت تو ہے؟”
“پتہ نہیں بیٹے۔ ” وہ بے بس سے ہو گئے۔
” انکل۔ انکل۔ ” طاہر بیتابی سے بولا۔ “خیریت تو ہے ناں۔ کیا بات ہے آپ پریشان لگتے ہیں۔ ”
“بیٹے۔ وہ سرمد۔۔۔ سرمد۔۔۔ ” ان کی آواز ٹوٹ گئی۔
“کیا ہوا سرمد کو؟” طاہر کے ذہن کو جھٹکا سا لگا۔ “انکل۔۔۔ ”
“پتہ نہیں بیٹے۔۔۔ ” وہ آنسو پینے کی کوشش کر رہے تھے۔ “سرمد کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔ ”
“پتہ نہیں چل رہا؟” حیرت سے طاہر نے کہا۔ “انکل۔ وہ لندن میں ہے ناں۔۔۔ ”
“نہیں۔ وہ وہاں نہیں ہے۔ جب ہم واپس آ رہے تھے تو وہ ہمیں جدہ ایر پورٹ پر ملا تھا اور بہت پریشان تھا۔ میں نے اسے عمرہ کر کے سیدھا واپس پاکستان آنے کو کہا تھا مگر ۔۔۔ ”
ڈاکٹر ہاشمی کہہ رہے تھے اور طاہر بُت بنا ان کی بات سن رہا تھا۔ اس کے کانوں میں سیٹیاں سی گونج رہی تھیں۔ اسے ڈاکٹر ہاشمی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ سب کچھ سمجھ میں بھی آ رہا تھا مگر جواب دینے کے لئے اس کی زبان سے کوئی لفظ نہ نکل رہا تھا۔ حواس جیسے پتھرا گئے تھے۔
“اب بتاؤ میں کیا کروں طاہر بیٹے۔ میرا سرمد کہاں ہے؟ کس حال میں ہے؟ کوئی نہیں بتاتا مجھے۔ ” وہ بچوں کی طرح رو پڑے۔
“انکل۔ ” ایک دم اسے ہوش آ گیا۔ ” آپ۔۔۔ آپ گھبرائیے نہیں۔ میں آ رہا ہوں آپ کے پاس۔ فکر کی کوئی بات نہیں انکل۔ ہم مل کر سرمد کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ آپ پریشان نہ ہوں۔ میں ابھی چند منٹ میں پہنچ رہا ہوں آپ کے پاس۔ ”
اس نے ریسیور کریڈل پر ڈالا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے ذہن میں صرف ایک بار صفیہ اور سرمد کے واسطے سے خیال آیا، جسے سر جھٹک کر اس نے دور پھینک دیا۔ اس بارے میں درویش نے اس کا من یوں دھو ڈالا تھا کہ کیا کوئی تیزاب سنگ مرمر کو دھوتا ہو گا۔ وہ تیز تیز قدموں سے آفس سے نکلا اور چند لمحوں کے بعد اس کی گاڑی ڈاکٹر ہاشمی کے ہاسپٹل کی طرف اڑی جا رہی تھی۔
٭
حمزہ، حسین اور سرمد دہلی ایر پورٹ پر اترے تو صبح کے سات بج رہے تھے۔ سردیوں کی صبح کا سورج طلوع ہونے کی جدوجہد کر رہا تھا۔
خاصی سخت چیکنگ کے بعد وہ عمارت سے باہر نکلے۔ حمزہ نے ایر پورٹ سے باہر کھڑی ٹیکسیوں میں سے کسی کو لفٹ نہ کرائی اور ان دونوں کو ساتھ لئے ہوئے ایر پورٹ کی حدود سے باہر نکل آیا۔ جونہی اس نے ایر پورٹ بس سٹاپ پر قدم روکے، ایک آٹو رکشا ان کے قریب آ رکا۔
“خاص گنج چلیں گے صاحب؟” دبلے پتلے ڈرائیور نے گردن باہر نکالی۔
“ضرور چلیں گے بھائی۔ ” حمزہ نے خوشدلی سے کہا۔ “بیٹھو بھئی۔ ” اس نے حسین اور سرمد کو اشارہ کیا۔ تینوں پھنس پھنسا کر ہینڈ بیگز گود میں رکھے رکشا میں سوار ہوئے اور ڈرائیور نے رکشا آگے بڑھا دیا۔
“ناشتہ ؟” اچانک ایک موڑ مڑتے ہوئے ڈرائیور نے پوچھا۔
“گھر چل کر کریں گے۔ ” حمزہ نے مختصر جواب دیا اور تب سرمد کو پتہ چلا کہ رکشا والا ان کا اپنا آدمی ہے۔
تقریباً بیس منٹ بعد رکشا خاص گنج کی گنجان آبادی میں داخل ہوا اور ایک دو منزلہ مکان کے سامنے رک گیا۔
حمزہ نے اتر کر دروازے پر دستک دی۔ حسین اور سرمد اس کے پاس آ کھڑے ہوئے۔ سرمد نے ایک طائرانہ نگاہ سے ارد گرد کا جائزہ لیا۔ پاکستان کے کسی اندرون شہر کی آبادی سے ملتا جلتا ماحول تھا۔ دکانیں اور مکان بھی ویسے ہی تھے۔ بھیڑ کا بھی وہی عالم تھا۔ ڈرائیور انہیں اتار کر رکشا وہیں چھوڑ کر کسی طرف نکل گیا۔ دوسری دستک پر دروازہ کھل گیا اور کسی نے انہیں اندر آنے کا راستہ دے دیا۔
وہ تینوں اندر داخل ہوئے۔ سرمد نے اندر قدم رکھا تو دروازہ کھولنے والے باریش نوجوان نے دروازہ بھیڑ دیا۔
“قاسم کہاں ہے؟” اس نے حمزہ سے پوچھا۔
“شاید ناشتہ لینے گیا ہے۔ ” حمزہ نے بتایا اور وہ ڈیوڑھی سے گزر کر صحن میں آ گئے۔
“کب روانگی ہے؟” بیٹھک نما کمرے کے دروازے پر جوتیاں اتار کر وہ اندر آئے تو فرشی نشست پر بیٹھتے ہوئے حمزہ نے پوچھا۔
“شام چھ بجے۔ ” نوجوان نے کہا۔ پھر اس کی نظر سرمد سے ہٹ کر حمزہ پر ٹھہر گئی۔ “یہ کون ہیں ؟”
“اپنے ہی ساتھی ہیں۔ عمرے کے بعد وہیں مل گئے تھے۔ ”
“داؤد کو خبر ہے؟”
“نہیں۔ میں خود بتا دوں گا۔ ”
“ٹھیک ہے۔ ” نوجوان نے بات ختم کر دی۔ پھر اس نے سرمد کی طرف مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ “خالد کمال۔ ”
“سرمد۔ ” اس نے گرمجوشی سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔
اسی وقت قاسم ناشتے کا سامان لئے ہوئے کمرے کے دروازے پر آ رکا۔ “خالد۔ یہ سنبھالو۔ میں ذرا داؤد کو خبر کر آؤں۔ ”
خالد نے دونوں شاپر اس کے ہاتھ سے لے لئے تو وہ وہیں سے لوٹ گیا۔ خالد نے جب تک حلوہ پوڑی، چنے اور بالائی کے دونے پلیٹوں میں نکال کر رکھی، اتنی دیر میں ان تینوں نے باری باری اٹیچ باتھ روم میں جا کر رفع حاجت کی۔ منہ ہاتھ دھویا اور پھر ناشتے کے لئے بیٹھ گئے۔
“تم ناشتہ کر چکے کیا؟”حمزہ نے خالد سے پوچھا۔
“نہیں۔ تم لوگ کرو۔ میں اتنی دیر میں چائے بنا لوں۔ “وہ باہر نکل گیا۔
سرمد، ان دونوں کے ساتھ ناشتے میں مشغول ہو گیا۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ بات جتنی بھی تھی اس کی سمجھ میں آ رہی تھی اور جو نہ آ رہی تھی، اس کے بارے میں وہ سوال کرنا نہ چاہتا تھا۔ ناشتے کے بعد چائے کا دور چلا۔ کپ خالی ہوئے ہی تھے کہ قاسم لوٹ آیا۔
“داؤد کو خبر کر دی ہے میں نے۔ وہ ٹھیک چھ بجے ٹاٹا بس سٹینڈ آگرہ روڈ پر ہمارا انتظار کرے گا۔ ”
حمزہ نے جواب دینے کے بجائے محض اثبات میں سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
“اب تم لوگ آرام کر و۔ سرینگر تک کا سفر بڑا تھکا دینے والا ہے۔ “قاسم، خالد کے ساتھ کمرے سے نکل گیا۔
حمزہ اور حسین نے تکیے سر کے نیچے رکھے اور کمبل اوڑھ لئے۔ سرمد نے تکیہ دیوار کے سہارے کھڑا کیا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گیا۔ کمبل اس نے کمر تک کھینچ لیا۔
“سونے کی کوشش کرو سرمد۔ ورنہ سفر میں دشواری ہو گی۔ ”
” آپ فکر نہ کریں حمزہ بھائی۔ ” سرمد مسکرایا۔ ” میں جاگنے کا ایکسپرٹ ہوں۔ نیند آئی تو سو جاؤں گا۔ ”
حمزہ نے اس سے بحث نہ کی۔ آنکھیں بند کر لیں۔ حسین اتنی ہی دیر میں خراٹے نشر کرنے لگا تھا۔
اب سرمد انہیں کیا بتاتا کہ سرینگر کا نام سنتے ہی اس کی آنکھوں میں ریحا اتر آئی تھی۔ وہ سرینگر میں جموں کشمیر روڈ پر رہتی تھی۔ انہیں بھی کشمیر جانا تھا۔ سوچیں گڈ مڈ ہونے لگیں۔ اس نے پلکیں موند لیں اور ایک دم ریحا کا تصور دھواں ہو گیا۔
اب گنبدِ خضریٰ سامنے تھا۔ سکون نے اسے باہوں میں لے لیا۔ ایک دم اسے کوئی خیال آیا اور سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ اس کا دل بڑے زور سے دھڑکا۔ پھر یقین نے جیسے اس کے خیال پر مہر ثبت کر دی۔ وہ بے حس و حرکت پڑا رہ گیا۔ وہ خیال کیا تھا ایک خوشبو تھی جو اس کے رگ و پے میں سرایت کرتی جا رہی تھی۔ اس نے جان لیا تھا کہ جب سے جدہ ایر پورٹ سے روانہ ہوا تھا، وہ جب بھی آنکھیں موندتا، گنبدِ خضریٰ اس کے تصور کے پردے پر ابھر آتا اور زبان پر درود تو ہر وقت جاری رہنے لگا تھا۔ جب وہ زبان سے کوئی بات کرنے لگتا تو دل اس وظیفے کو چومنے لگتا۔ اس وقت بھی اس نے پلکیں موندیں تو گنبدِ خضریٰ سامنے آ گیا اور زبان، وہ تو جیسے “صلی اللہ علیہ وسلم ” کے لئے وقف ہو چکی تھی۔ اس کے ہولے ہولے ہلتے ہونٹ بے آواز درود پڑھ رہے تھے اور دزدیدہ نگاہوں سے حمزہ اسے دیکھ کر رشک محسوس کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ سرمد ہر وقت درود شریف کے ورد میں محو رہتا ہے۔ اسے اس حال میں دیکھ دیکھ کر وہ خود بھی درود پڑھنے کا عادی ہوتا جا رہا تھا۔ اس وقت بھی جب اس نے سرمد کے ہونٹ ہلتے دیکھے تو بے اختیار خود بھی دل ہی دل میں درود پڑھنے لگا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ سرمد کو پتہ چلے کہ وہ اس کی تقلید کر رہا ہے۔ وہ اس مہک کو اپنے تک محدود رکھنا چاہتا تھا جس نے اس کے اندر عقیدت کا پودا لگا دیا تھا۔ وہ اس پودے کو چپ چاپ، خاموشی اور راز داری سے سینچنا چاہتا تھا۔
٭
داؤد تیس بتیس سال کا ایک قوی الجثہ کلین شیو آدمی تھا۔ سادہ شلوار قمیض میں بھی وہ بیحد اچھا لگ رہا تھا۔
خالد کے گھر سے چلے تو ان تینوں نے بھی یہی لباس زیب تن کیا جو استعمال شدہ تھوڑے سے مسلے ہوئے شلوار قمیض اور گرم واسکٹوں پر مشتمل تھا۔۔ سروں پر گرم اونی ٹوپیاں پہن لی گئیں اور ہینڈ بیگز وہیں چھوڑ دیے گئے۔
ٹاٹا بس سٹینڈ پر جب حمزہ نے سرمد کا تعارف داؤد سے کرایا تو اس نے چند لمحوں تک بڑی گھورتی ہوئی گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا۔ پھر نجانے کیا ہوا کہ ہنس کر اس نے سرمد کو گلے لگا لیا۔ سرمد نے محسوس کیا کہ جتنی دیر وہ اسے سر سے پاؤں تک دیکھتا رہا، اس کے جسم میں سوئیاں چبھتی رہیں۔ لگتا تھا اس کی نگاہوں سے ایکسریز خارج ہو رہی ہیں جو اس کے دل میں چھپا خیال تک جان لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ٹاٹا کی آرام دہ بس سے جب وہ چاروں سرینگر کے لئے روانہ ہوئے تو شام ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ حمزہ اور حسین کے بائیں ہاتھ دوسری جانب سرمد اور داؤد کی سیٹیں تھیں۔ راستے میں دو جگہ رک کر صبح سات بجے بس نے انہی سرینگر لا اتارا۔ سارا سفر بڑی خاموشی سے کٹا۔ ایک جگہ کھانے اور دوسری جگہ چائے کے دوران چند رسمی سی باتیں ہوئیں اور بس۔
اڈے سے نکل کر وہ چاروں ایک قہوہ خانے پر آ رکی۔ قہوہ خانے کا مالک ایک کشمیری تھا۔ سردی زوروں پر تھی اور پندرہ بیس لوگ گرم گرم قہوے سے شغل کر رہے تھے۔
وہ چاروں ایک خالی لمبے بنچ پر بیٹھ گئے، جس کے آگے ٹوٹی پھوٹی ایک میز نما شے پڑی تھی۔ دو تین منٹ گزرے ہوں گے کہ ایک بارہ تیرہ سالہ لڑکا ان کے لئے قہوہ کے گلاس لے آیا۔ لمبی قمیض گھٹنوں سے اونچی شلوار اور ہوائی چپل پہنے ہوئے ناک سے شوں شوں کرتا وہ انہیں دو پھیروں میں قہوہ سرو کر کے جانے لگا تو داؤد نے اس کی جانب دیکھا۔
” آدھ گھنٹے بعد ٹرک جا رہا ہے۔ ” اس نے میز صاف کرتے ہوئے جھک کر یوں کہا کہ شاید ہی کسی تیسرے نے سنا ہو۔ ” کھائی پار موڑ پر۔ ”
داؤد خاموشی سے قہوے کی چسکیاں لیتا رہا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ ابھرا۔ قہوہ ختم کرتے ہی وہ اٹھ گئے۔ داؤد نے لڑکے کو چند چھوٹے نوٹ تھمائے اور وہ چاروں جیکٹوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سرخ مٹی سے آلودہ راستے پر چل پڑے۔ تھوڑی دور سیدھا چلنے کے بعد وہ ایک موڑ پر پہنچے اور ایک دم داؤد انہیں لے کر نیچے سبزے میں اتر گیا۔ سڑک اوپر رہ گئی۔ لمبی لمبی گھاس میں ان کے جسم گم سے ہو گئے۔ تقریباً دس منٹ تک جھک کر چلتے رہنے کے بعد وہ پھر اوپر چڑھ کر دوسری جانب کی سڑک پر آ گئے۔ موڑ مڑے تو دیکھا سامنے سے ایک ٹرک چلا آ رہا تھا، جس پر آرمی سپلائی کی تختی دور سے نظر آ رہی تھی۔
وہ ایک سائڈ پر ہو کر کھڑے ہو گئے۔ ٹرک ان کے قریب آ کر رکا۔ ڈرائیور ایک بوڑھا مگر مضبوط بدن کا آدمی تھا۔
“جلدی کرو۔ ” اس نے ان چاروں پر نظر ڈالی۔
داؤد ان تینوں کے ساتھ ٹرک کے پچھلے حصے میں سوار ہوا اور ترپال گرا دی۔ وہ راشن کی بوریوں پر جگہ بنا کر بیٹھ گئے۔
خاموشی ان کے لئے یوں ضروری ہو گئی تھی جیسے وہ بولیں گے تو سزاملے گی۔ ٹرک اپنی رفتار سے چلتا رہا۔ موڑ کاٹتا رہا۔ جھٹکے کھاتا رہا۔ سرمد کو جہاں جگہ ملی، وہاں سے کبھی کبھی ترپال ہلتے ہوئے ہٹ جاتی تھی اور سڑک کا منظر دِکھ جاتا تھا۔ وہ ہلتے ہونٹوں پر اپنا ورد سجائے باہر دیکھ رہا تھا۔ گیارہ بج رہے تھے جب ڈرائیور نے ٹھک ٹھک کی آواز کے ساتھ انہیں ہوشیار کیا۔
“خاموش بیٹھے رہنا۔ چیک پوسٹ ہے۔ ” داؤد نے سرگوشی کی۔ باقیوں کا تو پتہ نہیں ، سرمد کا سارا خون سمٹ کر اس کی کنپٹیوں میں آ گیا۔ دل یکبارگی زور سے دھڑکا۔ وہ اپنی حالت پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ داؤد نے اس کا ہاتھ تھام کر زور سے دبایا اور شانہ تھپکا۔ اس سے آنکھیں ملتے ہی اسے حوصلہ سا ہوا۔ خشک لبوں پر زبان پھیر کر اس نے تھوک نگلا۔
“کسی کی طرف مت دیکھنا۔ بس سر جھکائے بیٹھے رہو۔ ” داؤد نے دھیرے سے کہا۔ جواب میں اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اسی وقت ٹرک رک گیا۔ فوجی بوٹوں کی آہٹیں گونجیں اور ٹرک کو چاروں طرف سے سنگین آلود رائفلوں نے گھیر لیا۔ ایک جھٹکے سے کسی نے ترپال اٹھا دی۔ ان کے سامنے کتنے ہی فوجی رائفلیں تانے کھڑے انہیں گھور رہے تھے۔
“او رحیم خان۔ ” اچانک سب سے اگلے فوجی نے ان چاروں پر خشمناک نگاہ ڈال کر زور سے پکار کر کہا۔
“جی جی کیپٹن صاب۔ جی جی۔ ” بوڑھا ڈرائیور لپک کر اس کے پاس چلا آیا۔
“اس بار پھر تم چار مزدور لے کر آ گئے ہو۔ تم اپنی بے ایمانی سے باز نہیں آتے۔ ” وہ کڑک کر بولا۔
“بے ایمانی کیسی کیپٹن صاب۔ ” رحیم خان لجاجت سے بولا۔ “کام بھی جلدی ہو جاتا ہے اور ان بیچاروں کو دو وقت کی روٹی بھی مل جاتی ہے۔ آپ کا کیا جاتا ہے۔ ”
“اچھا زیادہ بڑ بڑ نہ کر۔ ” وہ جھڑک کر بولا۔ پھر اس کے ہاتھ سے ایک بوسیدہ سی کاپی چھین لی۔ ” میں دستخط کر رہا ہوں ان چاروں کے انٹری پاس اور تمہارے کلیرنس پیپرز پر۔ چلو تم لوگ۔ سب ٹھیک ہے۔ ” اس نے فوجیوں کو اشارہ کیا اور رائفلیں جھک گئیں۔ سپاہی انہیں کینہ توز نظروں سے گھورتے ہوئے پلٹ گئے۔
“مہربانی صاب جی۔ ” رحیم خان نے دانت نکال دئیے۔
“میری چیز لائے ہو؟” کیپٹن نے بیحد آہستہ آواز میں پوچھا۔
“جی جی۔ ” آواز دبا کر رحیم خان نے کہا اور ادھر ادھر دیکھ کر واسکٹ کی سائڈپاکٹ سے ایک نیلا لفافہ نکال کر آہستہ سے کیپٹن کی جیب میں سرکا دیا۔
سرمد نے صاف دیکھا، کیپٹن کے چہرے کا رنگ ایک دم بدل گیا۔ اس کا سانولا پن سرخی میں ڈھل گیا۔ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر اس نے کاپی رحیم خان کو تھمائی اور اس سے نظر ملائے بغیر رخ پھیر لیا۔
“رحیم خان۔ ” بڑی آہستہ سے اس نے کہا۔ “میں تمہارا ہمیشہ آبھاری رہوں گا۔ ” اور تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا۔
رحیم خان نے ان کی جانب ایک نظر دیکھ کر ترپال نیچے گرائی اور ٹرک کے اگلے حصے کی جانب بڑھ گیا۔
ٹرک چل پڑا۔ سرمد نے ہلتی جلتی ترپال کے باہر دیکھا۔ چیک پوسٹ سے بیریئر ہٹا کر ٹرک کو کلیرنس دے دی گئی تھی۔ فوجی دوبارہ اپنی اپنی جگہوں پر جا کر کھڑے ہو گئے تھے، مگر ان کی نظروں میں چھلکتی نفرت سرمد سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔ کیسی عجیب بات تھی کہ بھارتی فوج راشن سپلائی کے لئے انہی کشمیریوں کی محتاج تھی جن پر وہ سالوں سے بارود برسا رہی تھی۔
“جانتے ہو رحیم کاکا نے کیپٹن اجے کو کیا چیز دی ہے؟” ٹرک کافی دور نکل آیا تو داؤد نے سوچ میں ڈوبے سرمد سے پوچھا۔
جواب میں اس نے داؤد کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔
“بھارتی فوجیوں کو کشمیر میں ڈیوٹی دیتے ہوئے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ دو ماہ میں ایک سے زیادہ خط اپنے گھر لکھ سکیں یا وہاں سے انہیں کوئی خط آ سکے۔ ڈاک پر سنسر بہت سخت ہے۔ کوئی ایسی بات ان تک نہیں پہنچنے دی جاتی جس سے وہ ڈیوٹی کے دوران ڈسٹرب ہو جائیں۔ واپس جانے کے لئے بیتاب ہو جائیں۔ یا چھٹی کی ڈیمانڈ شدت سے کرنے لگیں۔ کیپٹن اجے کے گھر سے رحیم کاکا اس کی بیوی کا دستی خط لایا ہے۔ ساتھ اس کی تین سالہ بچی کا فوٹو ہے، جسے اس نے دو سال سے نہیں دیکھا۔ ”
سرمد سنتا رہا اور اس کا دل کانپتا رہا۔
“ہم کشمیریوں پر ان فوجیوں کے مظالم کی، ہم سے نفرت کی ایک یہ بھی بہت بڑی وجہ ہے کہ ہم جیسے بھی ہیں ، جس حال میں بھی ہیں ، اپنے گھر والوں کے پاس ہیں یا ہمارے ان سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہم پر ظلم کر کے یہ اپنی اس محرومی کا بدلہ بھی لیتے ہیں اور حکومت کی نظر میں قابل فخر بھی بن جاتے ہیں۔ ”
سرمد نے کچھ کہنا چاہا مگر پھر نجانے کیا سوچ کر خاموش ہو رہا۔ کچھ دیر بعد اس نے داؤد کی جانب دیکھا جو حمزہ اور حسین سے کوئی بات کر کے سیدھا ہوا تھا۔
“ہم اب کہاں جا رہے ہیں ؟”
“کشمیر کے وسطی علاقے میں بھارتی فوج کی ایک بڑی چھاؤنی ہے جہاں رحیم کاکا راشن سپلائی کرتا ہے۔ وہاں ہم راشن کی یہ بوریاں اتاریں گے۔ واپسی پر ہم ایک جگہ رات گزارنے کے لئے رکیں گے۔ وہاں تم تینوں کو کمانڈر کے حوالے کر کے میں رحیم کاکا کے ساتھ لوٹ آؤں گا۔ ”
“مگر واپسی پر آپ اکیلے ہوں گے تو چیک پوسٹ پر۔۔۔ ” سرمد نے کہنا چاہا۔
“تمہاری جگہ تین ساتھی میرے ساتھ وہاں سے واپس آئیں گے، جن کے ذمے سرینگر اور دہلی میں مختلف کام لگائے گئے ہیں۔ ”
بات سرمد کی سمجھ میں آ گئی۔ زیادہ جاننے کی خواہش ہی نہیں تھی۔ حمزہ اور حسین ہلکی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔ داؤد بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ سرمد خاموش ہو کر اپنے ورد میں لگ گیا۔
* * *

طاہر نے ڈاکٹر ہاشمی کے دُکھ کو یوں سینے سے لگا یا کہ وہ کسی حد تک سنبھل گئے۔ اس نے فوری طور پر سعودی عرب اپنے دو چار ملنے والوں سے رابطہ کیا۔ THE PROUDکے حوالے سے اس کا ایک نام تھا۔ اس نے اپنا نام کیش کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ امبر نے اپنے طور پر کوشش کی۔ اس ساری بھاگ دوڑ کے نتیجے میں انہیں یہ علم ہو گیا کہ سرمد سعودی عرب سے لندن واپس نہیں گیا بلکہ اس نے انڈیا کا ویزا لگوا یا اور دہلی کے لئے روانہ ہو گیا۔
“انڈیا؟” ڈاکٹر ہاشمی طاہر کی زبان سے سن کر چونکی۔
“جی انکل۔ ” طاہر نے ملازم کو کافی کا مگ ان کے آگے رکھنے کا اشارہ کیا اور اپنا مگ تھام لیا۔ “میں بھی وہی سوچ رہا ہوں جو آپ سوچ رہے ہیں۔ ”
“کہیں اس لڑکی ریحا کا کوئی تعلق تو نہیں اس سارے قصے سی؟” وہ بیتاب ہو گئی۔
“ہو بھی سکتا ہے انکل۔ ” وہ سوچتے ہوئے بولا۔ مگر اس کا اندر نہیں مان رہا تھا کہ سرمد کسی لڑکی کے چکر میں پڑ سکتا ہے۔ اس کا جو کیریکٹر اس کے سامنے آیا تھا۔ اس نے جو کچھ صفیہ کے حوالے سے اس کی زبان سے سنا تھا۔ اس کے بعد سرمد کے لئے کسی اور طرف دیکھنا سمجھ میں آنے اور یقین کرنے والی بات نہ تھی۔
“اس کا مطلب ہے ہمیں انڈین ایمبیسی سے رابطہ کرنا پڑے گا۔ ”
“ابھی نہیں انکل۔ ہمیں پہلے پورے طور پر پُر یقین ہو جانا چاہئے کہ سرمد اسی لڑکی یعنی ریحا کے چکر میں انڈیا گیا ہے۔ ”
“بچوں جیسی باتیں کر رہے ہو طاہر۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے مگ کے کنڈے سے کھیلتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔ ” سرمد کے ڈاکومنٹس ریحا نے مجھے بھیجے ہیں ، جو انڈین ہے۔ سرمد سعودیہ سے پاکستان آنے کے بجائے انڈیا چلا گیا ہے۔ ان دونوں باتوں کا تعلق بالواسطہ یا بلا واسطہ ریحا سے بنتا ہے یا نہیں ؟”
“بنتا ہے انکل لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ سرمد نے ہی ریحا سے کہا ہو کہ اس کے ڈاکومنٹس آپ کو بھیج دے کیونکہ آپ کے بقول آپ نے اسے لندن جانے سے منع کر دیا تھا اور اس نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ لندن نہیں جائے گا، پاکستان آئے گا۔ ”
“تو پھر وہ یہاں آنے کے بجائے انڈیا کیوں چلا گیا؟” ڈاکٹر ہاشمی کا دماغ اور الجھ گیا۔
“یہی تو سوچنے کی بات ہے کہ جو لڑکا آپ سے کئے ہوئے وعدے کا اتنا پابند ہے کہ اس نے خود لندن جا کر ڈاکومنٹس لانے سے گریز کیا وہ آپ کے پاس لوٹ آنے کے بجائے انڈیا کیوں چلا گیا؟”
طاہر نے کہا اور ایک خیال اسے بے چین کر گیا۔ اسے وسیلہ خاتون سے سرمد کی گفتگو یاد آ گئی جس میں اس نے کبھی پاکستان نہ آنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ کیا وہ اپنی اسی بات کو نبھانے کے لئے غائب ہو گیا ؟ اس کے دل میں ایک کسک سی جاگی۔ بات جتنی سمجھ میں آتی تھی اس سے زیادہ سمجھ سے باہر ہوئی جا رہی تھی۔ کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنا ناممکن ہوتا جا رہا تھا۔
ابھی تک یہ سارا معاملہ انہی دونوں کے بیچ تھا۔ صفیہ اور بیگم صاحبہ کو ان دونوں نے باہمی رضامندی سے اس معاملے سے الگ رکھنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاکہ ان کے ساتھ وہ بھی پریشان نہ ہو جائیں۔ تیسری ہستی جو اس ساری الجھن سے واقف تھی وہ تھی امبر، جسے طاہر نے صاف منع کر دیا تھا کہ اس بات کا تذکرہ پروفیسر قمر سے بھی نہ کرے۔ امبر نے اس کے لہجے سے معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگا لیا اور کرید کے بجائے اس کے ساتھ صورتحال کو سلجھانے میں شریک ہو گئی۔
“ابھی آپ انڈین ایمبیسی سے کنٹیکٹ کرنے کی بات کر رہے تھے۔ ” اچانک طاہر نے کسی خیال کے تحت کہا۔
“ہاں۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کافی کا خالی مگ ٹیبل پر رکھ دیا۔
“میرا خیال ہے، اس کے بجائے ہم خود انڈیا چلیں گے اگر ضرورت پڑے۔ ”
تمہارا مطلب ہے ہمیں وہاں نہ جانا پڑے، ایسا بھی ممکن ہے؟” امید بھرے لہجے میں انہوں نے پوچھا۔
“بالکل ممکن ہے انکل۔ ” طاہر نے وثوق سے جواب دیا۔ “میں اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ اور اس معاملے میں تو مجھے بہت زیادہ بہتری کی امید ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمد جیسا بیٹا آپ کو پریشانی سے بچانے کے لئے تو کچھ بھی کر سکتا ہے مگر میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ وہ آپ کو پریشان کرنے کے لئے کوئی الٹی سیدھی حرکت کرے گا۔ بات کچھ اور ہی ہے جس تک فی الحال ہماری رسائی نہیں ہو رہی۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ چند دن حالات کے رخ کا اندازہ کرنے کے لئے انتظار کیا جائے۔ سرمد سے رابطے کی مسلسل کوشش کی جائے اور دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشکل سے نجات دے۔ ”
“طاہر۔۔۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھ دئیے۔ ” میرا جی چاہتا ہے میں تمہاری بات پر یقین کر لوں بیٹے مگر یہ دل۔۔۔ ” وہ آبدیدہ ہو گئے۔
“میں سمجھتا ہوں انکل۔ ” طاہر نے ان کے ہاتھ تھام لئے۔ “ماں باپ کا دل تو ان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، یہ کسی اور کی بات کیسے مان سکتا ہے۔ تاہم میں یہی کہوں گا کہ آپ ذرا حوصلے سے کام لیں۔ اک ذرا انتظار کر لیں۔۔۔ ”
“میں کوشش کروں گا بیٹے۔ ” انہوں نے آنسو پینے کی کوشش کی۔ “بہرحال تمہاری باتوں نے میرا دُکھ بانٹ لیا ہے۔ ”
“میرا بس چلے انکل تو میں آپ کا دُکھ اپنے دامن میں ڈال لوں۔ ” طاہر نے خلوص سے کہا۔ ” آپ نے ساری زندگی مجھے جس شفقت اور دوستی سے نوازا ہے میں اس کا مول چکا ہی نہیں سکتا۔ ”
“شکریہ بیٹے۔ ” انہوں نے آہستہ سے کہا اور ہاتھ کھینچ لئے۔ آہستہ آہستہ آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھے اور کچھ دور صوفے پر جا بیٹھے۔ طاہر کے دل پر چوٹ سی لگی۔ وہ جان گیا کہ وہ اپنے آنسو چھپا رہے ہیں۔ اس نے نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا اور کسی سوچ میں ڈوب گیا۔ وہ مسلسل ذہنی گھوڑے دوڑا رہا تھا کہ کسی طرح بات کا سرا اس کے ہاتھ آ جائے تو وہ سرمد کو ڈھونڈ نکالی۔
٭

کئی مربع میل پر پھیلی ہوئی فوجی چھاؤنی نمبر سینتالیس تک پہنچتے پہنچتے انہیں چار چیک پوسٹوں پر رکنا پڑا لیکن پہلی چیک پوسٹ کے کیپٹن اجے کی کلیرنس نے ان کے لئے ہر جگہ آسانی پیدا کر دی۔
ٹرک سے راشن کی بوریاں اَن لوڈ کی گئیں۔ فارغ ہوتے ہوتے انہیں رات کے آٹھ بج گئے۔ وصولی کے کاغذات پر چھاؤنی کے سٹور کیپر کے سائن لے کر رحیم خان نے کام ختم کیا۔ واؤچر بنوا کر جیب میں ڈالا اور باریک بین نگاہوں سے چاروں طرف پھیلے فوجیوں اور ایمونیشن ڈپو کا جائزہ لیتا ہوا ان چاروں کے ساتھ ٹرک میں واپس چل پڑا۔
اب داؤد اور سرمد اس کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ حمزہ اور حسین پچھلے حصے میں ٹانگیں پسارے بیٹھے تھے، جو اب بالکل خالی تھا۔ ان دونوں کا تو پتہ نہیں مگر سرمد کا جوڑ جوڑ دُکھ رہا تھا۔ اتنا بوجھ اس نے زندگی میں پہلے کب اٹھایا تھا؟
رات کی تاریکی میں ٹرک چھاؤنی کی حدود سے باہر نکلا۔ ان کے انٹری پاس چیک کئے گئے۔ پھر بیرئیر اٹھا کر جانے کا اشارہ کیا گیا۔ ٹرک کو کچے پر موڑتے ہوئے رحیم خان نے داؤد کی جانب ایک نظر دیکھا پھر ہیڈ لائٹس کی روشنی میں سامنے دیکھنے لگا۔
“عقوبت خانے کا اندازہ ہوا کچھ؟”
“میرے کانوں میں ابھی تک وہ چیخیں گونج رہی ہیں رحیم کاکا، جو دیواریں چیر کر مجھ تک پہنچ رہی تھیں۔ ” داؤد نے دُکھی لہجے میں کہا مگر اس کی آواز میں ایک آگ بھڑک رہی تھی جس میں وہ دشمن کو جلا کر خاک کر دینا چاہتا تھا۔ سرمد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کے جسم میں خون کا دوران تیز ہو گیا تھا۔
“میرے گاؤں کی تین جوان لڑکیوں کو اٹھا کر لائے ہیں یہ درندے۔ ارد گرد کے علاقے سے ہر روز درجنوں نوجوانوں کو تفتیش کے نام پر یہاں لایا جاتا ہے جنہیں زندہ واپس جانا نصیب نہیں ہوتا۔ کل تک یہاں درندگی کا نشانہ بننے کے بعد خودکشی کر لینے والی بچیوں کی تعداد ایک سو سترہ ہو چکی ہے۔ ”
“بس رحیم کاکا بس۔ ” داؤد نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔
“کان بند کر لینے سے کچھ نہیں ہو گا بچی۔ ” رحیم خان نے دُکھ سے کہا۔ ” یہ چھاؤنی نہیں ایک عذاب ہے اس علاقے میں۔ یقین کرو اگراس کا وجود مٹ جائے تو ارد گرد کا ستر اسی میل کا علاقہ ان درندوں کے جبر سے محفوظ ہو جائے گا۔ ”
“میں آج کمانڈر سے اسی بارے میں بات کرنے والا ہوں کاکا۔ ” داؤد نے گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے کہا۔
“ایسے اور کتنے عقوبت خانے ہیں کشمیر میں ؟” سرمد نے اچانک پوچھا۔
“گنتی ممکن نہیں سرمد۔ ” داؤد نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا۔ “سات لاکھ انڈین فوج کی ہزاروں چھاؤنیاں ہیں یہاں۔ اور ہر چھاؤنی اپنی جگہ ایک عذاب خانہ ہے۔ ”
” آپ لوگوں نے اب تک کیا کیا اس سلسلے میں ؟”
“اپنی سی کرتے رہتے ہیں۔ ” پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ داؤد نے کہا۔ ” لیکن ایسی بڑی چھاؤنی اگر تباہ کر دی جائے تو بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ بے شمار لوگوں کی زندگیاں اور عزتیں کتنی ہی مدت تک محفوظ ہو سکتی ہیں۔ ”
اسی وقت رحیم خان نے ٹرک ایک سائڈ پر روک دیا۔ “تم لوگ اب نکل جاؤ۔ صبح ہونے سے پہلے تینوں آدمیوں کو لے کر یہیں پہنچ جانا۔ ”
ٹھیک ہے کاکا۔ ” سرمد اور داؤد کے بعد حمزہ اور حسین بھی پچھلے حصے سے اتر آئے۔ رحیم کاکا نے انہیں بڑی گرمجوشی سے گلے لگا کر دعائیں دیتے ہوئے رخصت کیا۔ واپسی کے لئے تیسری چیک پوسٹ یہاں سے تقریباً تین میل دور تھی۔
داؤد آگے آگے اور وہ تینوں اس کے پیچھے پیچھے رات کے اندھیرے میں سڑک سے ڈھلوان پر اترتے ہوئے سرسراتی گھاس میں غائب ہو گئے۔ داؤد یوں ان کی رہنمائی کرتا ہوا چلا جا رہا تھا جیسے وہ ان راستوں پر پیدائش کے بعد ہی سے سفر کرتا رہا ہو۔ انہیں شروع میں تھوڑی بہت دقت ہوئی، پھر سرمد بھی حمزہ اور حسین کی طرح بے جگری سے قدم بڑھانے لگا تو جھجک اور اس کے باعث پیدا ہونے والی تھکان نے دم توڑ دیا۔ تاہم اس کا ذہن مسلسل داؤد اور رحیم خان کی باتوں میں الجھا ہوا تھا۔ اخباروں میں پڑھی ہوئی باتوں ، ٹی وی پر دیکھی ہوئی فلموں اور اپنے مشاہدے میں جو فرق تھا، اس نے سرمد کے جسم میں ایک الاؤ دہکا دیا تھا، جس کی تپش وہ اپنے پاؤں کے تلووں سے سر کے بالوں تک میں محسوس کر رہا تھا۔
گھاس کے ڈھلوانی میدان کو عبور کر کے وہ ایک ذخیرے میں داخل ہوئے تو داؤد نے قدم روک لئے۔ چند منٹ تک وہ سب بے حس و حرکت کھڑے رہے۔ داؤد سُن گن لیتا رہا۔ پھر جیسے وہ مطمئن ہو گیا۔ انہیں اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے وہ ہلکے پیروں سے چلنے لگا۔ ذخیرے سے باہر نکلے تو چاندنی میں انہوں نے خود کو ایک چٹانی سلسلے کے سامنے پایا۔ اونچی نیچی، بڑی چھوٹی، سرخ اور بھوری چٹانیں انہیں حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔
داؤد نے ایک بار پھر اپنے چاروں اطراف کا جائزہ لیا۔ پھر جیب سے موبائل نکالا اور اس پر کسی کا نمبر ملانے لگا۔
“عزت۔ ” دوسری جانب سے سلسلہ ملتے ہی ایک نسوانی مگر دبنگ آواز سنائی دی۔
” یا شہادت کی موت۔ ” داؤد نے فوراً کہا۔
“ہیلو داؤد۔ پہنچ گئے کیا؟”
“ہاں خانم۔ پہنچ گئے۔ ” داؤد نے ادھر ادھر نظریں گھماتے ہوئے جواب دیا۔
“کہاں ہو اس وقت؟” پوچھا گیا۔
“پڑاؤ پر۔ ”
“اوکے۔ چلے آؤ۔ میں کمانڈر کو خبر کرتی ہوں۔ ”
داؤد انہیں لئے ہوئے چٹانوں پر چڑھا۔ دوسری طرف اترے تو سامنے ایک بہت بڑی قدرتی جھیل دکھائی دی۔ جھیل کا پاٹ کسی چھوٹے موٹے دریا سے کم نہ تھا، جس میں کافی دور ایک بڑا شکارا تیر رہا تھا۔ وہ چاروں اپنا رخ شکارے کی طرف کر کے کھڑے ہو گئی۔ شکارے نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنا رخ پھیرا اور ان کی طرف بڑھنے لگا۔ سرمد کا دل سینے میں بری طرح دھڑک رہا تھا۔ اس کی نظریں شکارے پر جمی تھیں جو لمحہ بہ لمحہ ان کے قریب آتا جا رہا تھا۔ نجانے کیوں اس کا دل کہہ رہا تھا کہ کمانڈر اسی شکارے میں ہے۔
٭
شکارا کیا تھا، ایک بڑی لانچ تھی، جس کے درمیان میں ایک بہت بڑا لکڑی سے تعمیر شدہ کمرہ تھا۔ کشمیریوں کی روایتی صناعی اس میں پوری طرح کارفرما دکھائی دے رہی تھی۔
شکارا کنارے پر آن لگا۔ پہلے داؤد، پھر سرمد، حمزہ اور حسین باری باری شکارے پر چلے گئے۔ سامنے روایتی کشمیری لباس میں اپنی پوری سج دھج کے ساتھ ایک خوبصورت دوشیزہ چہرے پر باریک سا نقاب ڈالے کھڑی انہیں بغور دیکھ رہی تھی۔ چاندنی اس کے چہرے پر اپنا پرتو ڈال رہی تھی اور یوں لگتا تھا جیسے وہ چاندنی رات کا ایک حصہ ہو۔ اگر وہ پردے میں چلی گئی تو رات کا حسن ادھورا پڑ جائے گا۔ وہ جس جگہ کھڑی تھی، اس کے بائیں پہلو میں سٹیرنگ دکھائی دے رہا تھا۔ یعنی وہ حقیقتاً ایک لانچ تھی، جسے شکارا بنا لیا گیا تھا۔
“خانم۔ ” داؤد نے ذرا سا سر خم کر کے اسے تعظیم دی۔ اس کی پیروی میں حمزہ اور حسین کے بعد سرمد نے بھی ایسا ہی کیا۔ اس نے معمولی سی سر کی جنبش سے ان کے سلام کا جواب دیا۔
“کمانڈر تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ ” اس نے ابرو سے کمرے کی جانب اشارہ کیا۔
داؤد خاموشی سے کمرے کے کھلے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ تینوں اس کے عقب میں تھی۔
وہ کم و بیش بارہ ضرب چوبیس کا ہال کمرہ تھا جس میں ایک سجے سجائے بیڈ سے لے کر ریموٹ کنٹرول ٹی وی تک موجود تھا۔ کشمیر کے شکارے جن دیومالائی داستانوں کے حوالے سے مشہور ہیں ، یہاں ان داستانوں کے سارے لوازمات مہیا تھی۔
لکڑی کے فرش پر کشمیری نمدہ بچھا تھا۔ فرش پر آلتی پالتی مارے کوئی شخص نمدے پرسر جھکائے بیٹھا تھا۔ فانوس اور قندیلوں کی جھلملاتی روشنی میں وہ قدیم قصے کہانیو ں کا کوئی کردار لگ رہا تھا۔
داؤد نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر فوجی انداز میں سیلوٹ کیا اور دو زانو بیٹھ گیا۔ حمزہ، حسین اور سرمد نے بھی اس کی تقلید کی۔ جب وہ چاروں اس کے سامنے ایک قطار میں بیٹھ گئے تو آہستہ سے کمانڈر نے سر اٹھایا۔
سرمد کے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔ اس کی سرخ انگارہ آنکھوں سے جیسے برقی رو کی لہریں نکل رہی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں دیکھنا یا اس سے نظر ملانا ممکن نہ تھا۔ اس نے بھی گھبرا کر باقیوں کی طرح نظر چرا لی۔ ہاں ، یہ اس نے دیکھ لیا کہ کمانڈر کی عمر بمشکل تیس برس تھی۔ وہ بہت زیادہ حسین نہ تھا مگر یہ طے تھا کہ سرمد نے اس جیسا دلفریب چہرہ پہلے کم کم دیکھا تھا۔ اس میں ایک ایسی کشش تھی، جسے کوئی نام دینا مشکل تھا۔ اس کے چہرے پر ہلکی ہلکی سیاہ داڑھی بہت اچھی لگ رہی تھی۔
“کیسے ہو داؤد؟” کمانڈر بولا تو ایسا لگا کوئی شیر ہولے سے غرایا ہو۔
“بالکل ٹھیک ہوں کمانڈر۔ اور آپ؟” داؤد نے ادب سے جواب دیا۔
“میں۔۔۔ ؟” جیسے کوئی درندہ ہنسا ہو۔ “میں تو ہمیشہ انتظار میں رہتا ہوں داؤد۔ دشمن کی بربادی اور اپنوں کے سُکھ کی خبر کے انتظار میں۔ کہو۔ کوئی اچھی خبر لائے ہو کیا؟”
“میں آج چھاؤنی نمبر سینتالیس کے اندر سے ہو کر آ رہا ہوں کمانڈر۔ ”
“اوہ۔۔۔ ” وہ چوکنا ہو گیا۔ “پھر کیا رہا؟” اس کی دہکتی ہوئی نظریں داؤد کے چہرے پر متحرک ہو گئیں۔
“اب میں اس کا نقشہ بنا سکتا ہوں کمانڈر۔ ”
جواب میں کچھ کہے بغیر کمانڈر نے اپنے پہلو میں پڑے کاغذوں کا چھوٹا سا ڈھیر اور قلم اس کی طرف سرکا دیا۔
داؤد نے ایک سفید کاغذ پر چھاؤنی کا اندرونی نقشہ بنا نا شروع کیا۔ یہ کام اس نے بمشکل سات آٹھ منٹ میں کر لیا۔ اس دوران کمانڈر اس کے متحرک ہاتھ پر نظر جمائے خاموش بیٹھا رہا۔
“یہ ہے ایمونیشن ڈپو کمانڈر۔ ” داؤد نے کہنا شروع کیا اور قلم کی نوک ایک جگہ پر ٹکا دی۔ پھر وہ کہتا رہا اور کمانڈر کے ساتھ ساتھ وہ تینوں بھی سنتے رہے۔ سرمد بڑی یکسوئی سے داؤد کے بیانئے کو سن رہا تھا۔
“اور ایمونیشن ڈپو کے عقب میں تقریباً بیس گز دور یہ ہے وہ عقوبت خانہ کمانڈر جہاں اس وقت بھی ہماری کم از کم بائیس بہنیں ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں۔ یہیں وہ مظلوم بھائی بھی ہیں جن کے سامنے ان کی بہنوں کی عزتیں تار تار کی جاتی ہیں۔”
“بس۔۔۔۔ “کمانڈر تڑپ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی آواز میں بجلیاں مچل رہی تھیں۔ “داؤد۔ یہ ایک ٹارچر سیل نہیں ہے۔ یہاں قدم قدم پر ایسے تشدد خانے موجود ہیں جن کے بارے میں سن کر روح کے تار جھنجھنا اٹھتے ہیں۔ تاہم رحیم خان کی یہ بات درست ہے کہ اگر اس ایک ٹارچر سیل کا خاتمہ ہو جائے تو ہم ان بھارتی درندوں کے مظالم کا دائرہ کافی حد تک محدود کر سکتے ہیں۔ ”
“تو پلان فائنل کیجئے کمانڈر۔ “کمانڈر کے ساتھ ہی داؤد اور وہ تینوں بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
“تھوڑا وقت لگے گا داؤد۔ یہ کشمیر کی سب سے بڑی پانچ چھاؤنیوں میں سے ایک ہے۔ ہر وقت یہاں چالیس سے پچاس ہزار فوجی موجود رہتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ جب ہم یہاں اٹیک کریں تو ایک بھی بھارتی درندہ بچنا نہیں چاہئے۔ ”
“ایسا ہی ہو گا کمانڈر۔ ” داؤد نے ایک عزم سے کہا۔
“انشاءاللہ۔ ” کمانڈر کے لہجے میں بجلی کی سی کڑک تھی۔
“انشاءاللہ۔ ” حمزہ، حسین اور سرمد کے لبوں سے بھی بے اختیار نکلا۔
اپنے آپ پر قابو پاتے پاتے کمانڈر کو چند منٹ لگ گئے۔ پھر اس کا لال بھبوکا چہرہ نارمل ہوا تو وہ ان کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ اس کے سامنے ادب سے کھڑے تھے۔
“ان تینوں کا تعارف نہیں کرایا تم نے ابھی تک داؤد۔ ”
“یہ دونوں حمزہ اور حسین تو حریت کانفرنس سے ٹوٹ کر آئے ہیں کمانڈر اور یہ ہے سرمد۔۔۔ ”
” آں ہاں۔۔۔ ” کمانڈر نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روک دیا۔ ” خانم کو بتایا تھا تم نے اس کے بارے میں۔ ”
“جی ہاں۔ ”
“ہوں۔۔۔ ” کمانڈر نے سرمد کو بغور اور بڑی دلچسپی بھری نظروں سے دیکھا۔ سرمد کو اس کی نگاہیں جسم کے آر پار ہوتی لگیں مگر وہ بڑی ہمت سے اس کے سامنے سر جھکائے، ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا رہا۔
“اسے صرف پندرہ دن کی ٹریننگ کراؤ داؤد۔ یہ خشک لکڑی ہے۔ اسے صرف چنگاری دکھانے کی ضرورت ہے۔ ”
” جو حکم کمانڈر۔ ” داؤد نے سر خم کیا۔ ” اور یہ دونوں۔۔۔ ”
“انہیں فرنٹ پر بھیج دو۔ ایسے پُر خلوص جوانوں کی وہاں بہت ضرورت ہے۔ یہ دشمن کو جتنا زیادہ اور جتنی تیزی سے نقصان پہنچا سکیں ، اتنا ہی اچھا ہے۔ تاہم چھاؤنی نمبر سینتالیس کے مشن میں یہ تمہارے ساتھ ہوں گے۔ ”
“شکریہ کمانڈر۔ ” حمزہ اور حسین کے لبوں سے ایک ساتھ جذبات سے بھرائی ہوئی آواز نکلی۔ “ہم آپ کا یہ احسا ن زندگی بھر نہیں بھولیں گے۔ ”
“میں جانتا ہوں حمزہ۔ تم اپنی بہن کا بدلہ لینا چاہتے ہو اور حسین اپنی منگیتر کا۔ لیکن میرے بیٹو۔ میرے بھائیو۔ یاد رکھو۔ ہمارے جذبے میں ، ہماری نیت میں جہاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کسی ذاتی سبب کو لے کر ہماری جنگ جاری نہیں رہ سکتی۔ یہ محدود ہو جائے گی۔ اسے اللہ کے نام پر لڑو۔ اسے رسول کی ناموس کی خاطر آفاق گیر کر دو۔ ہمارے اتحاد کا نام “عشاق ” اسی لئے رکھا گیا ہے کہ ہم اللہ، اس کے حبیب اور اس کے دین کے عاشق ہیں۔ کسی اور شے کو ہمارے عشق میں در آنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہاں ، کوئی بھی سبب اس عشق کو مہمیز کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن ہماری بنیاد وہی ہے۔ عشقِ الٰہی۔ عشقِ رسول۔ اس سے کم پر مانو نہیں اور اس سے زیادہ کچھ ہے نہیں۔ ”
“یس کمانڈر۔ ” حمزہ کی آنکھوں میں شمع سی جلی۔
“یس کمانڈر۔ ” حسین کی آواز میں شعلے کی سی لپک ابھری۔
“تو جاؤ۔ اپنے عشق کی آگ سے دشمن کا خرمن خاک کر دو۔ ” کمانڈر کی آواز میں بجلی کی سی کڑک تھی۔ “مجھے تمہاری طرف سے بہت سی خوشخبریاں چاہئیں۔ ”
“ایسا ہی ہو گا کمانڈر۔ ” وہ دونوں سیلوٹ کر کے دو قدم پیچھے ہٹ گئے۔
“اور سرمد۔۔۔ ” کمانڈر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “تمہیں تو یہ سمجھانے کی ضرورت ہی نہیں کہ عشق کیا چاہتا ہے؟ سرمد تو سر دینا جانتا ہے۔ تاریخِ عشق گواہ ہے کہ جب جب کوئی سرمد آیا، عشق کے رخ سے ایک نیا پرت اترا ہے۔ تمہیں بھی اپنے عشق کی ایک نئی تاریخ لکھنی ہے۔ اپنے لہو میں اپنا موئے قلم ڈبو نے کو تیار ہو جاؤ سرمد۔ میں دیکھ رہا ہوں تم سرخرو ہو کر رہو گے۔”
“کمانڈر۔ ” سرمد نے بے اختیار جھک کر اس کا ہاتھ تھاما اور ہونٹوں سے لگا لیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے اور کمانڈر کے ہاتھ کی پشت پر گرے۔
“اپنے اشکوں میں دہکتی یہ آگ بجھنے مت دینا سرمد۔ اسی آگ سے تمہیں وضو بھی کرنا ہے اور نماز بھی ادا کرنی ہے۔ نمازِ عشق تمہاری امامت کی منتظر ہے۔ “کمانڈر نے اپنا ہاتھ بڑی نرمی سے اس کے ہاتھ سے چھڑایا اور رخ پھیر لیا۔
“داؤد۔ اسے لے جاؤ۔ اس کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ اسے جلدی سے جلدی ضروری مراحل طے کرا دو۔ ” نجانے کیوں کمانڈر کی آواز بھرا گئی۔ “یہ ہمارا بڑا لاڈلا مہمان ہے۔ ”
“یس کمانڈر۔ ” داؤد نے سیلوٹ کیا اور ان تینوں کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر کے کمرے سے نکل گیا۔
“میرے آقا۔ مہمان بھیجا بھی تو اتنی کم مدت کے لئے۔ میں تو اس کے ناز بھی نہ اٹھا سکوں گا اتنی دیر میں۔ ” کمانڈر ہاتھ باندھے مدینہ کی طرف رخ کئے کھڑا سسک رہا تھا اور آنسو اس کے رخساروں پر موتیوں کی طرح بکھر رہے تھے۔
* * *

طاہر کے کہنے پر ڈاکٹر ہاشمی نے انتظار کرنا گوارا تو کر لیا مگر ان کے دل کا حال کچھ وہی جانتے تھے۔ جوان اور اکلوتے بیٹے کی گمشدگی اور مفقود الخبری نے انہیں ایک دم بوڑھا کر دیا۔ ان کی قابل رشک صحت کو جیسے نظر لگ گئی۔ ہاسپٹل میں بیٹھنا بالکل ختم کر کے وہ طاہر کے آفس کے ہو کر رہ گئے۔ امبر انہیں روزانہ فون کر کے تسلی و تشفی دیتی۔ پروفیسر قمر ان کے غم میں برابر کا شریک تھا۔ رہ گیا طاہر، تو اس نے کام کی زیادتی کا بہانہ کر کے زیادہ وقت آفس میں گزارنا شروع کر دیا تھا۔ اپنے طور پر لندن، سعودیہ اور انڈیا میں موجود اپنے واقف کار مختلف لوگوں سے رابطہ کر رکھا تھا۔ مگر نتیجہ ابھی تک ڈھاک کے تین پات ہی تھا۔
اس دن طاہر نے سوچ سوچ کر ایک فیصلہ کیا۔ اپنا پاسپورٹ امبر کو بھجوایا اور فون پر اسے خاص انسٹرکشنز دیں۔ امبر نے اس سے بحث نہیں کی، صرف یہ کہا کہ اگر وہ مناسب سمجھے تو اسے ساتھ لے جائے مگر طاہر نے اسے نرمی سے ٹال دیا۔ رات سونے سے پہلے صفیہ کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا۔
“مجھے چند دنوں کے لئے انڈیا جانا ہے۔ ”
“کب؟” صفیہ نے چونک کر پوچھا۔ “اور کیوں ؟”
“ایک خاص کام سے جانا ہے اور کیا مجھے وہاں فلم میں کام کرنا ہے؟” طاہر نے محبت سے کہا۔
“ویسے آپ کسی ہیرو سے کم بھی نہیں ہیں۔ ” صفیہ نے شرارت سے اس کی جانب دیکھا۔ “مگر اس سے پہلے آپ کبھی ایسے ٹور پر گئے تو نہیں ؟”
“یہ بھی اچھی رہی۔ ” طاہر نے ہنس کر کہا۔ ” ارے بھئی اب تم نے ہمیں اپنے پلو سے باندھ لیا ہے تو اور بات ہے ورنہ تو میرے مہینے میں بیس دن ملک سے باہر گزرتے تھے۔ ”
“اچھا۔ ” صفیہ مسکرائی۔ ” تو اکیلے جا رہے ہیں کیا؟”
“ہاں۔ ” طاہر نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
“کتنے دن کے لئے جا رہے ہیں ؟” بستر پر لیٹی ہوئی وہ اس کے کالرسے کھیلتے ہوئے بولی۔
“دو دن بھی لگ سکتے ہیں اور دو ہفتے بھی۔ یہ تو کام ختم ہونے پر منحصر ہے۔ ”
“اور جانا کب ہے؟” وہ اداس ہو رہی تھی۔
“کل شام۔ ”
“مجھے روزانہ فون کرنا ہو گا۔ ” صفیہ نے کہا اور اس کے سینے میں چہرہ چھپا لیا۔
“ایک بات کہوں صفو۔ برا نہ ماننا۔ ’” طاہر نے اس کا چہرہ سامنے لانا چاہا مگر وہ زور لگا کے اس کے سینے میں گھسی رہی۔
“میں سن رہی ہوں۔ ” اس نے وہیں سے جواب دیا۔
“میں وہاں جا کر تمہیں ہرگز فون نہیں کروں گا۔ ”
“وہ کیوں ؟” اس نے چہرہ اٹھایا۔
“میں جس کام سے جا رہا ہوں ناں صفو۔ اس میں تمہاری یاد ضروری ہے۔ جو ہر وقت میرے ساتھ رہے گی۔ تم سے رابطہ کروں گا تو بے چینی لگ جائے گی۔ میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی پہلو سے اس کام میں مجھے ڈسٹربنس ہو اور میں جلدی لوٹ آنے کے چکر میں پڑ جاؤں۔ اس لئے میری جان۔۔۔ فون پر کوئی رابطہ نہیں ہو گا۔ ”
“ٹھیک ہے۔ ” اس نے پھر چہرہ اس کے سینے میں چھپا لیا۔
“اری۔ پاگل ہوئی ہو۔ ” اسے اپنے سینے پر صفیہ کی نم آنکھوں کا احساس ہو تو بے چین ہو گیا۔ “اگر تم ایسے کرو گی تو میں ہرگز نہیں جاؤں گا۔ ”
“یہ میں نے کب کہا؟” وہ وہیں سے بولی۔ “بس آپ جلدی آ جائے گا۔ ”
طاہر نے اسے باہوں کے حلقے میں کس لیا اور کسی سوچ میں ڈوب گیا۔
٭
اس دن صبح ڈاکٹر ہاشمی طاہر کے آفس پہنچے تو مینجر نے انہیں کافی وغیرہ پلانے کے بعد طاہر کی طرف سے ایک لفافہ دیا۔ انہوں نے چشمہ درست کرتے ہوئے لفافہ چاک کیا۔ اندر سے خط نکالا۔ لکھا تھا۔
“انکل۔
میں انڈیا جا رہا ہوں۔ سرمد کے بارے میں کچھ نہ کچھ ہے جو ہمیں وہیں سے مل سکتا ہے۔ میں نے لندن یونیورسٹی سے ریحا کا ایڈریس لے لیا ہے۔ اس سے ملنا بہت ضروری ہے۔ آپ کا ساتھ نہ جانا اس لئے بہتر ہے کہ جس دُکھ کی حالت اور عمر کے حصے میں آپ ہیں وہاں بیٹے کا فرض بنتا ہے کہ آپ کو آرام کرنے کو کہے اور خود آپ کے لئے سُکھ کی تلاش میں نکلے۔ میں بھی ایسا ہی کر رہا ہوں۔ سرمد کے ساتھ میں بھی آپ کا بیٹا ہی ہوں۔ میں یہی سمجھتا ہوں اور آپ مجھے کیاسمجھتے ہیں ، یہ کہنے کی بات نہیں۔ روزانہ آفس آتے رہئے گا۔ کافی، سینڈوچ اور کریم پف آپ کا انتظار کرتے ملیں گے آپ کو۔ دعا صرف یہ کیجئے گا کہ میں آپ کے لئے خوشی کی خبر بن کر واپس آؤں۔
آپ کا: طاہر
ڈاکٹر ہاشمی نے خط میز پر ڈال دیا اور کسی سوچ میں ڈوبی، سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گئے۔ انہیں نجانے کیوں لگ رہا تھا کہ طاہر نے انہیں ساتھ نہ لے جا کر غلط نہیں کیا۔
٭

پندرہ دن کا وقت پر لگا کر اُڑ گیا۔
داؤد نے سرمد کو ٹریننگ کیمپ میں زین خان کے حوالے کیا۔ اسے کمانڈر کے حکم سے آگاہ کیا اور خود تین ساتھیوں کے ساتھ لوٹ گیا تھا۔
ٹریننگ کیمپ کشمیر کی اترائی میں ایک ایسی جگہ قائم تھا جہاں سے آزاد کشمیر کو جانے والا ایک محفوظ تر خفیہ راستہ موجود تھا۔ بھارتی افواج کی نگاہوں سے یہ مقام اس لئے بھی پوشیدہ تھا کہ اوپر سے یہ گہری کھائی لگتا تھا، جس میں اترنا بظاہر محال مگر بباطن بیحد آسان تھا۔ آسان ان کے لئے جو اس اترائی میں جانے والی قدِ آدم گھاس میں چھپی اس پگڈنڈی سے واقف تھے جو اپنے مسافروں کے قدموں کے نشان اس طرح اپنی آغوش میں چھپا لیتی تھی جیسے کوئی ماں اپنے بیٹے کے عیب پر پردہ ڈال لیتی ہے۔
زین خان نے پندرہ دن میں سرمد کو کلاشنکوف، ریوالور اور راکٹ لانچر چلانے میں طاق کر دیا۔ گوریلا ٹریننگ کے باقی مراحل میں اس نے سرمد کو خاص خاص باتوں سے واقف کرایا اور سولھویں دن رات کو وہ پھر شکارے پر کمانڈر کے سامنے موجود تھا۔
“بیٹھو سرمد۔ ” کمانڈر نے زین خان کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔ وہ سیلوٹ کر کے کمرے سے نکل گیا۔ سرمد کمانڈر کے سامنے دو زانو بیٹھ گیا۔ آج وہ گوریلا یونیفارم میں تھا۔ سر پر سفید رومال بندھا تھا جو سر پر کفن باندھ کر راہِ خدا میں نکل پڑنے کی علامت تھا۔ کمانڈر کچھ دیر فرش کو گھورتے سرمد کی جانب بڑی گہری نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر اس کے لبوں پر بڑی آسودہ سی مسکراہٹ ابھری۔
“کوئی الجھن؟ کوئی پچھتاوا؟ کوئی بے چینی سرمد؟”
“نہیں کمانڈر۔ ” سرمد نے نفی میں سر ہلایا۔ “بس یوں لگتا ہے جیسے میں کہیں جانا چاہتا ہوں۔ کوئی مجھے بلا رہا ہے۔ یہ مرحلہ طے نہیں ہو رہا۔ ”
“ہاں۔ ” کمانڈر کے چہرے پر سنجیدگی نے جنم لیا۔ “یہ ہوتا ہے۔ جب تم جیسے سچے جذبوں والے سر پر کفن باندھ لیتے ہیں تب ایسا ہی ہوتا ہے۔ بلاوا آ جاتا ہے تو انتظار مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک بات ذہن میں بٹھا لو سرمد۔ جس مشن کے لئے میں نے تمہیں چُنا ہے، اس کی کامیابی اور ناکامی سے زیادہ یہ بات اہم ہے کہ تم اس میں کیا کردار ادا کرتے ہو؟ کشتیاں جلا کر جانا ہو گا تمہیں۔ واپسی کس روپ میں ہو گی، کوئی نہیں کہہ سکتا لیکن یہ طے ہے کہ تم جس پکار پر جا رہے ہو، اس کے لئے جان لینا اور جان دینا، دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ ”
“مجھے صرف اس بات کی پروا ہے کمانڈر کہ میں جس تڑپ کے ہاتھوں بے حال ہو رہا ہوں اسے قرار کب ملے گا؟کیسے ملے گا؟” سرمد نے نظر اٹھائی۔ اس کی آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈوروں سے مستی سی چھلک رہی تھی۔
“عشاق میں شامل ہوئے ہو سرمد۔ عشق تم پر نازل ہو چکا ہے۔ فصل پک چکی ہے۔ اب تو پھل پانے کا موسم ہے۔ اپنی بے قراری کو مہمیز کرتے رہو۔ یہ ضروری ہے۔ تمہارے لبوں پر جو ورد جاری ہوا ہے اس کا کوئی مقصد ہے۔ کوئی اشارہ ہے اس میں۔ کوئی رمز ہے اس کے اندر۔ ”
سرمد نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ کمانڈر کیسے جانتا ہے کہ وہ ہر وقت درود پڑھتا رہتا ہے؟ اس کے ذہن میں سوال ابھرا۔
“سوالوں میں نہ الجھو سرمد۔ جواب کی طرف دھیان دو۔ میں نہیں کہہ سکتاکہ تم اس مہم سے زندہ لوٹو گے یا شہادت کا جام تمہارا منتظر ہے لیکن اتنا بتا سکتا ہوں کہ جہاں سے تمہاری ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا حکم جاری ہوا ہے، وہاں سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا۔ تم بھی لوٹو گے تو کامیاب ہو کر۔ انشاء اللہ۔ ”
“انشاء اللہ۔ ” بے اختیار سرمد کہہ اٹھا۔
“داؤد، حمزہ، حسین اور تم سمیت بیس سرفروش اس مہم پر آج رات جا رہے ہیں۔ ” کمانڈر نے اپنی جگہ چھوڑ دی تو سرمد بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ “میں تمہیں کوئی ہدایت نہیں دوں گا۔ تم عشق کا سبق پڑھ چکے ہو۔ اب تو اسے سنانے کا وقت ہے۔۔۔ اور سنانے میں کہیں اٹکنا مت سرمد۔ کہیں زبان کو لڑکھڑانے مت دینا۔ جاؤ اور سرخرو ہو جاؤ۔ “۔ کمانڈر نے دونوں ہاتھ اس کے سر پر رکھ دئیے۔ پھر پیشانی پر بوسہ دیا اور کھینچ کر اسے سینے سے لگا لیا۔ “ان سے کہنا۔ میں تمہارا کوئی ناز نہیں اٹھا سکا۔ مجھے معاف فرما دیں۔ ” اس نے سرمد کے کان میں سرگوشی کی۔
ایک دم جیسے سرمد کا سارا جسم جھنجھنا اٹھا۔ ایک کیف سا رگ و پے میں دوڑ گیا۔ اسے لگا کہ اس کا جسم ایک بار پھر ہوا سے ہلکا، بے وزن ہو گیا ہے۔ کمانڈر نے کس کے بارے میں یہ بات کہی؟ اس نے سوچنا ہی نہ چاہا۔ جیسے اسے سمجھ آ گیا ہو۔ جیسے اس نے سب جان لیا ہو مگر اس کا بولنے کو جی ہی نہ چاہا۔ وہ بے زبان ہو گیا۔ سبق یاد ہو جانے کی بات اس کے دل سے اٹھکیلیاں کر رہی تھی۔ کمانڈر کا پیغام اسے لوریاں دے رہا تھا۔
کمانڈر نے اسے خود سے الگ کیا۔ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لے کر اس کے چہرے کو اپنی برق لٹاتی نم آنکھوں سے دیکھا اور بے اختیار اس کے دائیں گال پر پیار کر لیا۔ پھر ایک قدم پیچھے ہٹا اور سرمد کی مست نگاہی نے دیکھا کہ دونوں پاؤں جوڑ کر کمانڈر نے اسے ایک زوردار سیلوٹ کیا۔ جواب میں وہ بھی ایک قدم پیچھے ہٹا اور کمانڈر کو سیلوٹ کر کے واپسی کے لئے پلٹ گیا۔
وہ جا چکا تھا مگر کمانڈر اسی طرح اپنی تین انگلیوں سے پیشانی چھوئے ہوئے دروازے کو گھور رہا تھا۔ بھیگی ہوئی دھند تھی کہ آنکھوں میں بڑھتی جا رہی تھی۔ لو دیتی شبنم تھی کہ تن من کو بھگو رہی تھی اور جھومتا ہوا دل تھا کہ ایک ہی ورد الاپ رہا تھا۔
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ”
رات کا آخری پہر شروع ہو چکا تھا۔
داؤد کی کمان میں وہ انیس سرفروش تاروں کی باڑ کاٹ کر زمین پر رینگتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ چھاؤنی نمبر سینتالیس کے اندر اپنے اپنے ٹارگٹ پر ریموٹ کنٹرول بم نصب کئے۔ پھر سانپ کی سی تیزی سے اپنا کام ختم کر کے اپنی اپنی جگہ دم سادھ کر بیٹھ گئے۔ سرچ لائٹ سے بچ بچا کر کام کرنا بہت مشکل تھا مگر وہ مشکل کو نہیں ، ناممکن کو ممکن کر دکھانے آئے تھے۔
مشن کا پہلا مرحلہ طے ہو گیا تو اپنی اپنی جگہ سے انہوں نے بڑی ترتیب کے ساتھ چھاؤنی کے اندر مختلف جگہوں کو تاک لیا۔ داؤد، حسن اور سرمد کے حصے میں ٹارچر سیل سے قیدیوں کو رہا کرانے کی ذمہ داری آئی۔ حمزہ نے سات ساتھیوں کے ساتھ ایمونیشن ڈپو اڑانے کا کام سنبھالا۔ قاسم اور اس کے چار ساتھیوں کو چھاؤنی کا دایاں اور خالد اور اس کے چار ساتھیوں کو بایاں حصہ تباہ کرنا تھا۔
سب سے پہلے قاسم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور اپنے ساتھیوں سمیت سامنے آ گیا۔ ریموٹ کا بٹن دباتے ہی چھاؤنی کی سرچ لائٹ والا حصہ دھماکوں کی زد میں آ گیا۔ چیخیں ، شور، دھماکے، فائرنگ۔ ایک قیامت برپا ہو گئی۔ بیس سیکنڈ بعد ان کی تقلید میں خالد نے بایاں حصہ اڑا دیا اور اب وہ دس کے دس سرفروش، بھارتی فوجیوں کے لئے جہنم کے دہانے کھولے میدان میں پھیلے ہوئے انہیں گولیوں سے بھون رہے تھے۔
اس افرا تفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے داؤد، سرمد اور حسن ٹارچر سیل کے قریب پہنچ گئے۔ ہر طرف دھول اڑ رہی تھی۔ اپنے پرائے کی تمیز ختم ہو چکی تھی۔ سرچ لائٹ کی تباہی نے بھارتی فوجیوں کے لئے بڑی مشکل کھڑی کر دی تھی۔ اندھیرے میں انہیں اچانک شب خون نے دوہری تباہی سے دوچار کر دیا تھا۔ ان کے اکثر فوجی ان کی اپنی ہی فائرنگ کا شکار ہو رہے تھے۔ پھر کسی کو عقل آئی اور اس نے چیخ کر جگہ جگہ کھڑی جیپوں اور دوسری فوجی گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس آن کرنے کے لئے کاشن دیا۔ مگر انہیں دیر ہو چکی تھی۔ خالد اور قاسم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سرعت کے ساتھ حرکت کی اور ساری چھاؤنی میں بھاگتے دوڑتے ہوئے گاڑیوں پر راکٹ لانچروں کی برسات کر دی۔ تب وہاں روشنی کا سیلاب آ گیا۔ ہاں۔ بھارتی فوجیوں کی اپنی ہی جلتی ہوئی گاڑیوں سے اٹھتے شعلوں نے ہر طرف چراغاں کر دیا مگر یہ چراغاں انہیں بہت مہنگا پڑا۔ پٹرول بموں نے انہیں زندہ جلانے کا کام شروع کر دیا اور وہ جوابی حملے کے بجائے چیختے چلاتے اپنی جانیں بچانے کے لئے دوڑنے لگے۔ بھاگنے لگے۔ تب خالد، قاسم اور ان کے ساتھیوں کے لئے ان کا شکار اور بھی آسان ہو گیا۔
داؤد، سرمد کے ساتھ فائرنگ کرتا ہوا ٹارچر سیل کی سیڑھیاں اترتا جا رہا تھا اور وہاں موجود بھارتی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا کام بڑی تیزی سے مکمل کر رہا تھا۔ حسن تہ خانے کے گیٹ کے اندر کھڑا رہ کر دشمنوں کی خبر لینے لگا۔ اس کی کلاشنکوف کے برسٹ بھارتیوں کے لئے موت کا راگ الاپ رہے تھے۔
بمشکل ڈیڑھ منٹ میں وہاں موجود تمام درندوں کا صفایا ہو گیا۔ تب انہیں اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لینا پڑے۔
انہوں نے ادھر ادھر سے چادریں ، پتلونیں اور قمیضیں اٹھا اٹھا کر تباہی و بربادی کی ان داستانوں پر ڈالنا شروع کیں جو انہیں ویران ویران نظروں سے گھور رہی تھیں۔ ان کے برہنہ جسم اَن کہی کہانیاں سنا رہے تھے۔ جسموں پر نشتروں ، سگریٹوں اور بھنبھوڑنے کے نشانات درندگی کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ زنجیروں اور لوہے کے حلقوں میں جکڑے دیواروں کے ساتھ بازوؤں کے سہارے اور الٹے لٹکائے گئے زخمی نوجوانوں کو آزاد کرانے میں انہیں تین چار منٹ لگ گئی۔ نوجوانوں میں سے جو تھوڑا بہت بھی ہوش رکھتے تھی، انہوں نے کتوں کی طرح مرے پڑے بھارتی فوجیوں کی کلاشنکوفیں ، رائفلیں اور دوسرا اسلحہ اٹھایا اور گرتے پڑتے باہر کو بھاگے۔ حسن نے انہیں قطعاً نہ روکا۔ ان کے انتقام کی آگ میں بھارتی درندوں کو جل جانے دینا اس وقت بہت ضروری تھا۔
سات بیحد نازک حالت میں زخمی آدمی تھے جنہیں باری باری حمزہ اور سرمد نے باہر پہنچایا جہاں انہیں ان کے ایک ساتھی نے ایک بڑی جیپ میں ڈالا اور چھاؤنی کے خارجی راستے کی طرف طوفانی رفتار سے روانہ ہو گیا۔
تیرہ لڑکیاں اور عورتیں تھیں جو اپنے عریاں جسموں کو چیتھڑوں ، فوجی وردیوں اور چادروں میں سمیٹے باہر نکلیں اور دوسری جیپ میں سوار کر کے انہیں بھی پہلی جیپ کے تعاقب میں روانہ کر دیا گیا۔ اس وقت تک بھارتیوں کو سنبھلنے کا کچھ موقع مل گیا۔ انہوں نے دونوں جیپوں کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر جیپوں کے عقبی حصے میں سوار خالد اور قاسم نے ان پر وہ دھواں دھار فائرنگ کی کہ انہیں جان بچانے کے لئے بھاگتے ہی بنی۔ ہوا یہ تھا کہ اچانک حملے اور اندھیرے کے باعث ایک تو بوکھلاہٹ میں انہوں نے اپنے بے شمار فوجی مار ڈالے۔ دوسرے ان کے نقصان کا ایک بڑا سبب یہ بنا کہ ایک دن پہلے وہاں سے تقریباً تیس ہزار فوجیوں کی نفری چھاؤنی نمبر انتیس میں منتقل کی گئی تھی۔ ان کی جگہ نئے فوجی دستے پہنچنے میں ابھی بارہ گھنٹے باقی تھے کہ ان پر یہ قیامت ٹوٹ پڑی۔ بیالیس ہزار کی جگہ اس وقت وہاں صرف بارہ ہزار فوجی تھے جن کا صفایا ایسے شبخون میں ذرا سی سمجھداری سے مشکل تو تھا، ناممکن نہیں۔
ٹارچر سیل سے فارغ ہو کر سرمد، داؤد اور حسن بھی حمزہ کے ساتھ آ ملے۔ دھماکوں ، چیخوں اور فائرنگ کا سلسلہ اب بھی جوبن پر تھا۔ وہ لوگ ایک گڑھے نما مورچے میں چھپے بیٹھے باہر پھیلتی تباہی کا نظارہ کر رہے تھے۔
“اپنے کتنے ساتھی کام آئے؟” داؤد نے آواز دبا کر حمزہ سے پوچھا۔
“سات۔ ” اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ ” ان کی لاشیں ابھی ابھی نکلوائی ہیں یہاں سے میں نے۔ ”
“اب ہم یہاں کل کتنے لوگ ہیں ؟”
“چار۔ ” حمزہ کے لبوں پر بڑی ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ “باقی سب کو روانہ کر دیا ہے میں نے، جیپوں اور لاشوں کے ساتھ۔ ”
سرمد بے چینی سے باہر جھانک رہا تھا۔ اس کی نظریں سامنے ایمونیشن ڈپو پر پڑیں تو اس نے چونک کر داؤد کی توجہ اس طرف دلائی۔ تین چار بھارتی فوجی ڈپو کا بڑا سا لوہے کا گیٹ کھول رہے تھے۔
“یہ کیا کرنے جا رہے ہیں ؟” داؤد سرسرایا۔
“میرا خیال ہے اسلحے کے ساتھ ریزرو گاڑیاں بھی اندر ہوں گی۔ باہر موجود تقریباً تمام گاڑیاں تو بیکار ہو چکی ہیں۔ ” حمزہ نے جواب دیا۔
“ایمونیشن ڈپو کے گرد کتنے بم نصب کئے گئے ہیں ؟”
“ایک بھی نہیں۔ ” حمزہ نے جواب دیا تو داؤد کے ساتھ ساتھ سرمد اور حسن بھی چونک پڑی۔
“وہ کیوں ؟” داؤد نے تیزی سے پوچھا۔
“بم نوید کے پاس تھے اور وہ سب سے پہلے شہید ہوا۔ اس کی لاش روانہ کر دی گئی تو خیال آیا۔۔۔ ”
“اوہ۔۔۔ ” داؤد چکرا کر رہ گیا۔ ” اب کیا کریں ؟”
موجود اسلحے کا جائزہ لیا گیا تو ایک اور خوفناک انکشاف ہوا۔ ان کے پاس راکٹ لانچر بھی نہ تھا۔ کل ملا کر چار کلاشنکوفیں ، دو ریوالور، چالیس کے قریب راؤنڈ اور ایک دستی بم ان کے پاس بچا تھا۔
“دستی بم دھماکہ تو کر سکتا ہے مگر ایک فرلانگ میں پھیلے اس ایمونیشن ڈپو کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکتا۔ ” داؤد نے کچھ سوچتے ہوئے بیتابی سے کہا۔
“پھر اب کیا کیا جائے؟ ہم اس ڈپو کو چھوڑ بھی نہیں سکتے۔ ” حسن نے زبان کھولی۔
“ایسا تو سوچو بھی مت۔ ” حمزہ نے فوراً کہا۔ “ہم مٹ جائیں گے مگر مشن کو ادھورا چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ ”
داؤد جواب میں اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔ اس کا دماغ تیزی سے کسی حل کی تلاش کر رہا تھا۔ اسی وقت ڈپو کا گیٹ پوری طرح کھل گیا اور باہر کھڑے کرنل رینک کے آفیسر نے ڈپٹ کر اپنے ارد گرد جمع فوجیوں سے کہا۔
“فوراً گاڑیاں نکالو اور ان کے تعاقب میں نکل جاؤ۔ یہاں سے بیس میل تک سڑک پر کوئی موڑ نہیں ہے۔ ابھی وہ اتنا فاصلہ طے نہیں کر سکے ہوں گے۔ جلدی کرو۔ ”
فوجی اپنی گنیں سنبھالتے ہوئے اندر کو بھاگے۔ داؤد کسی زخمی شیر کی طرح غرایا اور پہلو بدل کر رہ گیا۔
“داؤد بھائی۔ میں کچھ کر سکتا ہوں۔ ” اچانک سرمد بولا تو وہ تینوں چونکے۔
“کیا؟” بے اختیار داؤد نے پوچھا۔
” آپ یہیں میرا انتظار کیجئے۔ ” کہتا ہوا سرمد ایک دم اٹھا اور گڑھے سے نکل گیا۔
“سرمد۔۔۔ ” داؤد نے بڑی تیز سرگوشی کی۔ پھر ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر آواز دبا لی۔ تب تک سرمد نیچا نیچا دوڑتا ہوا ایک مردہ بھارتی فوجی کے پاس رکا۔ اسے پرے دھکا دے کر اس کے نیچے سے راکٹ لانچر نکالا اور آہستہ سے ان کی طرف لڑھکا دیا۔ حمزہ نے ذرا سا اونچا ہو کر ہاتھ بڑھایا اور اسے گڑھے میں کھینچ لیا۔ اسی وقت سرمد زمین پر گرا اور سانپ کی طرح رینگتا ہوا پچیس تیس قدم دور ایک دوسرے فوجی کے پاس جا رکا۔ اس کے پاس پڑا ایمونیشن بیگ تھاما اور واپسی کے لئے رخ بدل لیا۔ دو منٹ کے اندر اندر وہ اپنے ساتھیوں تک پہنچ گیا۔ اس کے ہاتھ میں جو بیگ تھا اس میں پانچ راکٹ موجود تھے۔
“شاباش سرمد۔ میرے شیر تم نے تو کمال کر دیا۔ ” داؤد نے اسے خودسے لپٹا لیا۔ حمزہ اور حسن بھی اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
داؤد نے راکٹ، لانچر میں لاؤنج کیا۔ تقریباً چھ انچ اوپر اٹھ کر لانچر کو گڑھے کے کنارے پر رکھ دیا اور نشانہ لینے لگا۔ باقی سب لوگ اپنی اپنی جگہ کانوں پر ہاتھ رکھے ایمونیشن ڈپو کے گیٹ کو دیکھ رہے تھے۔
جونہی پہلی جیپ کی ہیڈلائٹس آن ہوئیں اور روشنی کی لکیر نے گیٹ سے باہر قدم رکھا، داؤد نے راکٹ فائر کر دیا۔
دوسرے پل ایک کان پھاڑ دھماکہ ہوا اور گیٹ اپنے ساتھ وہاں موجود فوجیوں کے پرخچے اڑاتا ہوا تباہی کے گھاٹ اتر گیا۔ پھر جب تک انہیں کسی بات کی سمجھ آتی، داؤد نے دوسرا راکٹ فائر کر دیا اور اب کے بار اس کا نشانہ ڈپو کا اندرونی حصہ تھا۔ بس اس کے بعد تیسراراکٹ فائر کرنے کی نوبت ہی نہ آئی۔ ایمونیشن نے آگ پکڑ لی اور زمین یوں لرزنے لگی جیسے ان کے نیچے کوئی آتش فشاں کروٹیں لے رہا ہو۔ دھماکوں ، چیخوں اور اندھا دھند چاروں طرف فائرنگ کا ایک سلسلہ جو شروع ہوا تو بھارتیوں کو سمجھ نہ آئی کہ وہ کیسے خود کو اس قیامتِ صغریٰ سے محفوظ رکھیں۔
اس دوران ایک بات ایسی ہوئی جس کی طرف مورچے میں چھپے ان چاروں کا دھیان ہی نہ گیا۔ پہلے راکٹ نے ان کی سمت کی نشاندہی کر دی تھی، اس کا انہیں احساس ہی نہ ہوا۔ جنرل نائر گاڑیوں میں مجاہدین کا پیچھا کرنے کا حکم دے کر وہاں سے چل پڑا تھا۔ اسے دوسری جگہوں پر تباہی کا جائزہ لینا تھا۔ اس کے خیال میں تمام مجاہدین تباہی پھیلا کر انہی کی جیپوں پر فرار ہو چکے تھے مگر جونہی پہلا راکٹ فائر ہوا، وہ چونک کر رک گیا۔ اس وقت وہ ایک سلگتی ہوئی جیپ کے پاس تھا اور اس کے دائیں بائیں اور پیچھے پچیس تیس سپاہی گنیں سنبھالے چل رہے تھے۔ ایک دم اس نے ان سب کو نیچے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا اور خود بھی جھک کر بھویں سکوڑ کر اس طرف دیکھنے لگا جس طرف سے راکٹ فائر کیا گیا تھا۔ دس سیکنڈ کے وقفے سے جب دوسرا راکٹ فائر ہوا تو اسے داؤد اور اس کے ساتھیوں کی پناہ گاہ کا پتہ چل گیا۔ اسی وقت ایمونیشن ڈپو دھماکوں اور چیخوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ جنرل نائر اس وقت وہاں سے تقریباً ایک سو گز دور تھا۔ زمین اس کے پیروں تلے کانپ رہی تھی۔ وہ سمجھ گیا کہ اسلحے کے نام پر اب ان کے پاس سوائے بربادی کے نشانات کے کچھ نہیں بچا۔
اس نے دانت اتنے زور سے بھینچے کہ جبڑوں کی ہڈیاں ابھر آئیں۔ بیحد ہلکی آواز میں اس نے اپنے پاس موجود فوجیوں کو ہدایات دیں اور خود ان کی کمان کرتا ہوا اس مورچے کی پچھلی طرف چل پڑا جس میں داؤد اور اس کے ساتھی چھپے بیٹھے تھے۔ چند منٹ بعد مورچے کو عقب اور دائیں بائیں سے اس خاموشی کے ساتھ گھیرے میں لیا گیا کہ ان لوگوں کو علم ہی نہ ہو سکا کہ دشمن ان کے گرد اپنا جال مضبوط کر چکا ہے۔ پتہ تو اس وقت چلا جب جنرل نائر کی چیختی ہوئی آواز نے فضا کا سینہ چیر ڈالا۔
“ہاتھ اٹھا لو۔ تم لوگ گھیر لئے گئے ہو۔ ”
تڑپ کر وہ چاروں پلٹے اور یہ دیکھ کر ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا کہ نیم دائرے میں تیرہ چودہ بھارتی فوجی اپنی گنوں کی زد پر لئے انہیں بھون ڈالنے کے لئے تیار کھڑے ہیں اور سب سے آگے جنرل نائر ان کی طرف ریوالور تانے موجود ہے۔
ایک سیکنڈ کے وقفے میں ان سب کی نظروں نے ایک دوسرے سے سوال جواب کئے اور فیصلہ ہو گیا۔ سر پر باندھے کفن کا مول چکانے کا لمحہ آن پہنچا تھا۔ ان سب کے لبوں پر ایک ہی جیسی بڑی جاندار مسکراہٹ ابھری۔
“اللہ اکبر۔ ” ایک فلک شگاف نعرے نے سامنے کھڑے دشمن کا دل دہلا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی گنوں کا رخ بھارتیوں کی جانب ہوا اور بابِ جہنم کھل گیا۔
سب سے پہلے حیرت زدہ جنرل نائر کا جسم چھلنی ہوا جس پر داؤد کی کلاشنکوف غرا رہی تھی۔ حسین، سرمد اور حمزہ نے باقی فوجیوں کو نشانے پر رکھ لیا مگر گرتے گرتے جنرل نائر کے ریوالور سے دو فائر ہوئے اور حمزہ کی پیشانی پر مہر شہادت ثبت ہو گئی۔ اسی وقت داؤد نے دشمنوں کی فائرنگ سے بچانے کے لئے حسین اور سرمد کو پرے دھکیل دیا اور خود اوپر اٹھ کر اللہ اکبر کے گرجدار نعرے کے ساتھ آگ برساتی کلاشنکوف کو نیم دائرے میں گھما دیا۔ سات آٹھ فوجیوں کو کھیت کرتا ہوا داؤد مسلسل “اللہ اکبر اللہ اکبر”کا اعلان کرتا ہوا مورچے سے نکلا اور چھلنی ہوتا چلا گیا۔ پہلے فوجیوں کے عقب میں موجود فوجیوں کی دوسری قطار نے اس وقت تک اس پر فائرنگ جاری رکھی جب تک اس کا جسم زمین پر گر کر بے حس و حرکت نہ ہو گیا۔ اور گرا وہ ایسے زاویے سے کہ اس کا چہرہ مورچے میں موجود حسین اور سرمد کی جانب ہو گیا۔ اس کے لبوں سے جو آخری الفاظ نکلی، وہ تھی۔
” لبیک اللھم لبیک۔ ”
داؤد نے انہیں دشمن کی گولیوں سے بچانے کے لئے جو ایک طرف دھکا دیا تھا اس کے باعث سرمد کا سر مورچے کی سیمنٹڈ دیوار سے بڑے زور سے ٹکرایا اور وہ کوشش کے باوجود اپنے ذہن میں چھاتی تاریکی سے بچ نہ سکا۔ اس کی بیہوشی سے بے خبرحسین نے اپنے لڑھکتے جسم کو سنبھالا اور کسی زخمی شیر کی طرح اچھل کر گرجتا ہوا دشمن کی طرف لپکا۔ مورچے سے باہر نکلتے نکلتے اس کی کلاشنکوف تقریباً چھ بھارتیوں کو چاٹ گئی مگر شدید زخمی جنرل نائر نے اس وقت بھی فوجی ہمت کا مظاہرہ کیا اور آخری تین گولیاں حسین کا سینہ ادھیڑتی ہوئی نکل گئیں۔
“اللہ اکبر۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کی سرگوشی حسین کے لبوں پر ایک ابدی مسکراہٹ بن کر منجمد ہوئی اور وہ اپنے اللہ کے حضور حاضر ہو گیا۔
ڈرے ہوئی، بزدل اور موت کے خوف سے لرزہ بر اندام فوجیوں کے برسٹ اس کے ساکت جسم کو چھلنی کرنے میں مصروف تھے جب زخموں سے چور جنرل نائر کو دو تین سپاہیوں نے اٹھنے میں مدد دی۔ اس کی نظر داؤد، حمزہ اور پھر حسین پر سے ہوتی ہوئی مورچے میں بے حس و حرکت پڑے سرمد پر آ ٹھہری۔ ایک دم اس نے اپنا بایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا۔
“بس۔۔۔ ” وہ زور سے چیخا۔ “بے وقوفو۔ وہ مر چکے ہیں۔ لاشوں پر گولیاں برسانا تمہاری عادت بنتی جا رہی ہے۔ ”
ایک دم فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔ خاموشی کی چادر تن گئی۔ خون میں نہایا ہوا جنرل نائر بڑی مشکل سے اٹھا اور دائیں بائیں دو فوجیوں کے سہارے کھڑا ہو گیا۔
“دیکھو۔ یہ زندہ ہے یا۔۔۔ ”
اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ کوئی فوجی آگے نہ بڑھا۔ سب ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے۔
“سنا نہیں تم نے۔ ” کرنل ان پر برس پڑا۔ “نامردو۔ حرامزادو۔ نیچے اتر کر دیکھو اسے۔ ” اس نے ایک فوجی کی طرف آتشیں نگاہوں سے دیکھا۔ “تم اسے کور کرو۔ ” اس نے باقی فوجیوں سے کہا اور ان سب نے گنیں مورچے کی جانب سیدھی کر لیں۔
فوجی نے تھوک نگلا اور گن بے حس و حرکت سرمد کی جانب تانے کانپتے قدموں سے مورچے میں اترنے لگا۔ اس کی جھجک سے صاف ظاہر تھا کہ وہ ساکت پڑے سرمد سے بھی خوفزدہ ہے۔ مبادا وہ اس پر جھپٹ نہ پڑے۔
مورچے میں اتر کر سب سے پہلے اس نے پاؤں زمین پر پڑی کلاشنکوف پر جمایا۔ پھر جلدی سے بیٹھ کر سرمد کے نتھنوں کے نیچے ہاتھ رکھا۔
“یہ زندہ ہے سر۔ ” اس نے تیزی سے کہا اور کھڑے ہو کر بیہوش سرمد پر گن تان لی، جس کا چہرہ سر کے زخم سے لہو لہان ہو رہا تھا۔
فوراً ہی جنرل نائر کے اشارے پر تین اور فوجی مورچے میں اترے اور ہوش و حواس سے بیگانہ سرمد کو قابو کر لیا۔
“اسے میرے سیل میں لے جاؤ۔ ” خون بہت بہہ جانے کے باعث غنودگی کا شکار ہوتے جنرل نائر نے کہا۔ ” اسے ہر حال میں زندہ رہنا چاہئے۔ یہ ہمیں اپنے ساتھیوں تک لے جا سکتا ہے۔ ”
فوجیوں نے سرمد کو نہتا کیا اور مورچے سے باہر اچھال دیا۔ پھر خود باہر نکلے اور اس کے ہاتھ پیچھے باندھ کر گھسیٹتے ہوئے لے چلی۔ جبکہ جنرل نائر دو فوجیوں کے سہارے طبی امداد کے لئے چھاؤنی کے مشرقی حصے کی جانب روانہ ہو گیا۔ آنکھوں میں چھاتی ہوئی بے خبری کے عالم میں اس نے آخری بار ایمونیشن ڈپو سے اٹھتے شعلوں کو دیکھا۔ ہلکے ہوتے ہوئے دھماکوں کی آوازیں سنیں اور اس کا سر سینے پر ڈھلک گیا۔ حواس نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
* * *

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: