Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Last Episode 11

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – آخری قسط نمبر 11

–**–**–

ریحا، سوجل کے سینے سے لگی سسک رہی تھی، جو کسی سوچ میں ڈوبی اس کی کمر پر بڑی محبت سے دھیرے دھیرے ہاتھ پھیر رہی تھی۔
“میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ماما۔ اور پاپا اس کے ساتھ آج رات کیا سلوک کرنے والے ہیں ، اس کے بارے میں وہ کچھ بتانے کو تیار نہیں۔ ” ریحا روئے جا رہی تھی۔
“دھیرج میری بچی دھیرج۔ ” سوجل نے جیسے کسی فیصلے پر پہنچ کر کہا اور اس کا چہرہ سامنے کر کے اس کے رخسار خشک کرنے لگی۔ “میں ابھی زندہ ہوں۔ تم میرے راکیش کی نشانی ہو اور میں نے کبھی تم سے یہ نہیں چھپایا کہ میں نے رائے سے شادی کی ہی اس لئے تھی کہ مجھے آج بھی شک ہے کہ راکیش کا قتل اسی نے کرایا تھا۔ میں جس روز اس حقیقت سے آگاہ ہو گئی، وہ دن میرے اور اس کے تعلق کا آخری دن ہو گا۔ رہ گئیں تم۔۔۔ تو میری جان۔ تمہاری خوشی مجھے اپنے دھرم سے بڑھ کر عزیز ہے۔ اس دھرم نے مجھے سوائے دُکھ اور جبر کے دیا کیا ہے کہ میں تمہارے اور تمہاری پسند کے درمیان دیوار بن جاؤں۔ ہو گا وہی جو تم چاہو گی۔ تم فکر مت کرو۔ ”
“مگر ماما۔ آپ کریں گی کیا؟ پاپا کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ ” ریحا نے بھیگی آنکھیں اس کے چہرے پر مرکوز کر دیں۔
“ہاتھ کتنے بھی لمبے ہوں ریحا۔ انہیں کاٹ دیا جائے تو انسان معذور ہو جاتا ہے۔ ” سوجل نے عجیب سے لہجے میں جواب دیا۔ ریحا نے ماں کے سینے پر سر رکھ کر پلکیں موند لیں۔ اسے نجانے کیوں یقین ہو گیا کہ سوجل جیسا کہہ رہی ہے، ویسا ہی ہو گا۔
“تم یہ بتاؤ کہ کیپٹن آدیش پر کس حد تک اعتماد کیا جا سکتا ہے؟” کسی خیال کے تحت سوجل نے پوچھا تو ریحا سوچ میں پڑ گئی۔
“ماما۔ میں آپ کو بتا چکی ہوں کہ میں نے دو تین بار کی ملاقاتوں اور اس کے بعد اس کے آنے جانے کے دوران محسوس کیا ہے کہ وہ مجھے پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ اس کی جھجک ہمارے اور اس کے درمیان سٹیٹس کے فرق کی وجہ سے ہے۔ ”
“کیا تم اسے اپنی مدد پر آمادہ کر سکتی ہو؟” سوجل نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
“کیسے ماما؟” ریحا نے حیرانی سے پوچھا۔
“دیکھو بیٹی۔ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے، یہ ایک یونیورسل ٹرُتھ ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم اگر وقتی طور پر تمہیں آدیش کو فریب دے کر بھی اپنا کام نکالنا پڑے توسرمد کو بچا لو۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ ”
“مگر ماما۔۔۔ ”
“صرف ایک بات کا دھیان رکھنا بیٹی۔ ” سوجل نے اس کی بات کاٹ دی۔ “اور وہ یہ کہ تمہاری آبرو پر آنچ نہیں آنی چاہئے۔ باقی پیسہ ہو یا کوئی وعدہ۔ اس کی فکر نہ کرنا۔ میں اپنا آپ ہار کر بھی تمہارے الفاظ کی لاج رکھ لوں گی۔ ”
ریحا نے ماں کے چہرے سے نظر ہٹا لی اور کسی سوچ میں ڈوب گئی۔ “ماما۔ ” کچھ دیر بعد اس نے کہا۔ “اس میں ففٹی ففٹی کے چانس ہیں۔ وہ ہماری مدد بھی کر سکتا ہے اور مخبری بھی۔ ”
“میں سمجھتی ہوں ریحا مگر یہ رسک ہمیں لینا ہی پڑے گا جان۔ ” سوجل نے اس کی جانب بڑی گہری نظروں سے دیکھا۔ “میری طرف دیکھو۔ ”
ریحا نے ماں کی آنکھوں میں جھانکا تو عجیب سے سحر میں گرفتار ہو گئی۔ سوجل کی آنکھیں ویسے ہی بڑی خوبصورت تھیں اور اس وقت ان میں کچھ ایسی چمک لہرا رہی تھی جس سے ایک پاکیزگی کا احساس ہوتا تھا۔
“تم میری بیٹی ہو۔ مجھے تمہارے ساتھ ایسی گفتگو نہیں کرنی چاہئے مگر جذبے کیا ہوتے ہیں ؟ انہیں نبھانے کے لئے کیا کچھ نچھاور کیا جاتا ہے ؟ تمہیں سمجھانے کے لئے یہ گفتگو ضروری ہے۔ سنو ریحا۔ راکیش کے بعد، میں نے آج تک رائے کے بستر پر جتنے پل گزارے ہیں ، اس ایک حقیقت کو جاننے کی قیمت کے طور پر گزارے ہیں ، جو مجھے اس کے راکیش کا قاتل ہونے سے آگاہ کر دے گی۔ یہ ففٹی ففٹی کا چانس نہیں ہے ریحا۔ یہ ایک اندھا داؤ ہے جو میں نے صرف اپنا شک دور کرنے کے لئے کھیلا ہے۔ اپنے اس عشق کے ہاتھوں مجبور ہو کر، جو مجھے راکیش، تمہارے باپ سے تھا نہیں ، آج بھی ہے۔ اگر آخر میں رائے بے قصور نکلا تو میری ساری زندگی کی تپسیا بیکار جائے گی مگر مجھے یہ پچھتاوا نہیں رہے گا کہ میں نے اپنی محبت کا حق ادا نہ کیا۔ میں نے اپنے راکیش کی جان لینے والے کا پتہ لگانے کی کوشش نہ کی۔۔۔ میری اس عقیدت کو سمجھو ریحا جس کا محور صرف اور صرف راکیش ہے۔ وہ راکیش جو اب صرف میری یادوں میں زندہ ہے۔ میری دھڑکنوں میں موجود ہے۔ جس کا وجود مٹ چکا ہے۔ اور سرمد۔۔۔ وہ تو ابھی سانس لے رہا ہے۔ تم اسے موت کے ہاتھوں سے چھین سکتی ہو۔ اس لئے ففٹی ففٹی کے چکر میں مت پڑو ریحا۔ اگر آدیش نے ہم سے دھوکا کیا اور رائے سے جا ملا تب بھی۔۔۔ تب بھی میری جان۔ تمہیں اپنی سی کر لینے کا جو موقع ہاتھ آ رہا ہے، اسے گنواؤ مت۔ یاد رکھو۔ اگر تم جیت گئیں تو سرمد تمہارا ہو جانے کی امید تو ہے اور اگر آدیش نے پیٹھ میں خنجر بھونک دیا تو اپنی محبت پر قربان ہو جانے کا تاج سر پر پہن کر اس کے ساتھ دوسری دنیا کے سفر پر روانہ ہو جانا۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر۔ ساتھ ساتھ۔ جدائی اور تنہائی کا دُکھ بڑا جان لیوا ہوتا ہے ریحا۔ میری جان۔ اس دُکھ کو پالنے سے بہتر ہے انسان مر جائے۔ اس کے ساتھ ہی مر جائے جس کے بعد جینا موت سے بدتر ہو جاتا ہے۔ ” سوجل نے اس کے بالوں میں منہ چھپا لیا اور سسک پڑی۔
“ماما۔ ” ریحا اس سے لپٹ گئی۔ “میں سمجھ گئی۔ میں سمجھ گئی ماما۔ اب کوئی خوف نہیں۔ کوئی ڈر نہیں۔ میں سرمد کو بچا نہ سکی تو اس کے ساتھ مر تو سکتی ہوں ماما۔ یہی بہت ہے۔ ”
“کوئی ماں اپنی اولاد کے لئے ایسے شبد منہ سے نہیں نکالتی ریحا۔ ” سوجل نے اس کا بالوں کو چوم کر کہا۔ “مگر میں تمہیں دعا دیتی ہوں کہ تم اپنے پیار کو حاصل کر لو یا اس پر نثار ہو جاؤ۔ ”
“شکریہ ماما۔ “ریحا نے اس کے شانے پر بوسہ دیا۔ ” آپ کی دعا مجھے لگ گئی۔ مجھے اس کا پورا یقین ہے۔ ”
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اچانک سوجل کو کچھ یاد آ گیا۔ “مانیا اور سرمد کاپاکستانی رشتہ دار کس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں؟”اس نے پوچھا۔
“کشمیر پوائنٹ میں ماما۔ ” ریحا نے کہا اور ایک دم ہڑبڑا کر اس سے الگ ہو گئی۔ “ارے ساڑھے آٹھ ہو گئے۔ مجھے نو بجے ان کے پاس پہنچنا ہے۔ ”
“احتیاط سے جانا۔ رائے نے تمہارے پیچھے آدمی نہ لگا دیے ہوں ؟” سوجل نے تشویش سے کہا۔ “اس سے کچھ بعید نہیں۔ ”
” آپ فکر نہ کریں ماما۔ میں دھیان رکھوں گی۔ ” وہ جلدی جلدی تیار ہوتے ہوئے بولی۔ “پاپا ادھر کس وقت آئیں گے ناشتے کے لئے؟”
“ناشتہ تو وہ کر چکے بیٹی۔ اب تو گیارہ بجے کی چائے کے لئے آئیں گے۔ ” نہ چاہتے ہوئے بھی اسے رائے کے لئے ادب کا صیغہ استعمال کرنا پڑا۔
“تب تک میں ویسے ہی لوٹ آؤں گی۔ ” کہتے ہوئے اس نے پرس کندھے پر ڈالا اور ہاتھ ہلاتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
“بھگوان تمہاری رکھشا کرے بیٹی۔ ” سوجل نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا جہاں سے اپنی ٹو سیٹر کی طرف جاتی ریحا نظر آ رہی تھی۔
٭
نو بج کر تین منٹ پر ریحا، مانیا کے کمرے میں موجود تھی۔
سب سے پہلے اس نے انہیں سوجل سے ہونے والی اپنی گفتگو سے آگاہ کیا۔ آدیش کے ذکر پر وہ تینوں مسکرا دئیے۔ اب وہ اسے کیا بتاتے کہ آدیش اس کے راستے کے سارے کانٹے اپنی پلکوں سے چُننے کا بیڑہ اٹھا چکا ہے۔ جب مانیا نے اسے گزشتہ رات کی آدیش سے ملاقات کے بارے میں مختصراً بتایا تو ریحا آنکھیں پھاڑے بے اعتباری سے سنتی رہی۔ اسے یقین نہ آ رہا تھا کہ قسمت نے اس کے لئے راہ یوں آسان کر دی ہے۔
“تو اس کا مطلب ہے آدیش ہماری پوری پوری سہائتا کرے گا؟” اس نے مانیا کی جانب دیکھ کر سوال کیا۔
“بالکل۔ ” مانیا نے مسکرا کر جواب دیا۔
“پلان کے مطابق سرمد کے پاس سیل میں آدیش، پاپا، آپ اور مسٹر طاہر موجود ہوں گے؟” ریحا نے مانیا سے پوچھا۔
“ہاں۔ رات ٹھیک سوا آٹھ بجے سیل کا خودکار سسٹم آف یا فیل کر دیا جائے گا۔ میں اور مسٹر طاہر آدیش کی طرف سے خطرے کا سگنل ملتے ہی کوٹھی میں داخل ہو جائیں گے اور سیدھے سیل میں پہنچ جائیں گے۔ آگے پھر جو ہو سو ہو۔ ”
“موجودہ پلان میں کامیابی کے نتیجے میں تین سوال پیدا ہوں گے مس مانیا۔ ” طاہر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
“وہ کیا؟” مانیا اور ریحا اس کی جانب متوجہ ہو گئیں۔
“نمبر ایک۔ ” طاہر نے شہادت کی انگلی کھڑی کی۔ “سرمد اپنے پیروں پر چلنے کے قابل نہیں ہے۔ ہم اسے لے کر کہاں جائیں گے؟”
“اس کے لئے ماما سے بات کی جا سکتی ہے۔ ” ریحا نے جلدی سے کہا۔ ” وہ کوئی نہ کوئی بندوبست کر دیں گی۔ ”
“اب دوسرا سوال۔ سرمد کو میں ہر صورت یہاں سے پاکستان لے جانا چاہتا ہوں۔ یہ کیسے ممکن ہو گا؟”
“اس پر بعد میں سوچیں گے مسٹر طاہر۔ پہلے سرمد کو وہاں سے نکال لیا جائے۔ ” مانیا نے پُر خیال لہجے میں کہا۔
“اور تیسرا سوال یہ ہے کہ۔۔۔ ” طاہر نے ریحا کی جانب دیکھا۔ ” آپ کا کیا ہو گا؟”
“مطلب؟” ریحا نے پوچھا۔
“مطلب یہ کہ آپ اور آپ کی ماما پورے طور پر کرنل رائے کی دشمنی مول لے رہی ہیں۔ سرمد کے بعد آپ اور آپ کی ماما کا کیا بنے گا؟”
“پہلے سرمد صحیح سلامت سیل سے نکل آئے مسٹر طاہر۔ پھر ایک بار اس سے پوچھوں گی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانا پسند کرے گا یا نہیں ؟ اس کے جواب پر ہی میرے مستقبل کا دارومدار ہے۔ ” ریحا نے صاف گوئی سے جواب دیا۔
مانیا اور ریحا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کے بعد ان تینوں نے اپنے اپنے موبائل کا وقت ملایا۔ ایک دوسرے کے نمبر فیڈ کئے۔ آدیش کا موبائل نمبر وہ رات ہی فیڈ کر چکے تھے۔ اب ریحا کو بھی وہ نمبر دے دیا گیا۔
تمام باتوں پر ایک بار پھر غور کیا گیا۔ کہیں جھول نظر نہ آیا تو ریحا ان سے رخصت ہو گئی۔ اس وقت دن کے دس بج کر پچیس منٹ ہوئے تھے۔
٭
ہوٹل سے واپس آتے ہی ریحا نے سرمد کو وہاں سے لے جانے کے بارے میں سوجل سے بات کی تو اس نے اسے بے فکر ہو جانے کو کہا۔ راکیش کا ایک فلیٹ، جو اس نے اپنی زندگی میں سوجل کے نام خریدا تھا، اس کی چابی آج بھی سوجل کے پاس تھی اور اس بات کا کرنل رائے کو قطعاً علم نہیں تھا۔ ریحا نے اس فلیٹ کے بارے میں دن ہی میں مانیا کو فون کر کے بتا دیا تھا۔ دوسرے سوجل نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ آج رات ہونے والے معرکے کے اختتام سے پہلے اپنے بارے میں کسی قسم کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ حالات اس وقت جو رخ اختیار کریں گے، اسے دیکھ کر ہی کوئی بھی قدم اٹھایا جائے گا۔
رات ٹھیک آٹھ بجے ریحا اور سوجل نے اپنے اپنے کمرے میں پہنچ کر بیڈ سنبھال لئے۔ یوں جیسے وہ سونے کی تیاری کر رہی ہوں۔ دونوں مرد ملازم کوارٹر میں جا چکے تھے اور ملازمہ آج ویسے ہی چھٹی پر تھی۔
ٹھیک اسی وقت طاہر اور مانیا سیتا مندر کے سامنے والے پارک کے گیٹ پر آ رکے۔ کار سے نکل کر وہ پارک میں گیٹ کے قریب ہی ایک بنچ پر آ بیٹھے۔ سردیوں کی وجہ سے پارک میں اکا دکا لوگ ہی رہ گئے تھے جو دور دور بیٹھے تھے۔
آٹھ بج کر پانچ منٹ پر کرنل رائے کا ٹارچر سیل خالی ہو گیا۔ کسی شخص کے ذہن میں کوئی سوال پیدا نہ ہوا کہ ان سب کو رخصت کیوں دی جا رہی ہے؟ وہ تو حکم کے غلام تھے۔ کرنل رائے نے جو کہہ دیا، اس پر عمل ان کی ڈیوٹی تھی۔ اس کے بارے میں “کیوں “کا لفظ ان کی ڈکشنری سے نکال دیا گیا تھا۔
آٹھ بج کر دس منٹ پر کیپٹن آدیش نے اپنے موبائل سیٹ کو ریڈی کر کے سامنے کی جیب میں ڈال لیا۔ اب اس کے صرف بٹن دبانے کی دیر تھی کہ مانیا کے سیٹ پر بیل ہو جاتی اور وہ اور طاہر خطرے سے آگاہ ہوتے ہی اس کی طرف چل پڑتی۔
آٹھ بج کر پندرہ منٹ پر اس نے کرنل رائے کو لائن کلیر ہو جانے کی اطلاع دی۔ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا اپنے آفس میں بیتابی سے ٹہل رہا تھا۔ کیپٹن آدیش کا پیغام سن کر اس نے ریسیور انٹر کام پر ڈالا۔ ہولسٹر میں ریوالور کو چیک کیا۔ سر پر کیپ جمائی اور دبے قدموں اپنی خوابگاہ کے دروازے پر پہنچا۔ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔ سوجل حسب عادت سونے کے لئے لیٹ چکی تھی۔ کمرے میں ہلکی سبز روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے دروازہ بند کیا اور سامنے کے کمرے کی کھڑکی پر پہنچا۔ جالی میں سے اندر جھانکا۔ یہ ریحا کا کمرہ تھا۔ وہ کمبل اوڑھے بیڈ پر سیدھی لیٹی کسی سوچ میں گم تھی۔ سینے پر ایک انگلش میگزین کھلا پڑا تھا۔ پُر اطمینان انداز میں سر ہلا کر کرنل رائے نے باہر کا راستہ لیا۔ دبے قدموں باہر آ کر اس نے برآمدے کی لائٹ بھی آف کر دی۔ چاروں اطراف تاروں کی باڑھ کے ساتھ برابر فاصلے پر آٹھ گارڈ مستعدی سے پہرہ دے رہے تھے۔ گیٹ پر اندر کی جانب آمنے سامنے کرسیوں پر گنیں سنبھالے دونوں فوجی خاموش بیٹھے تھے۔ سارے انتظام کا جائزہ لے کر وہ نیم اندھیرے میں کسی بد روح کی طرح ٹارچر سیل کی جانب روانہ ہو گیا۔
ادھر کرنل رائے نے ٹارچر سیل کے دروازے پر قدم روکا، ادھر سوجل اور ریحا نے کچن میں کھڑکی کے پاس کرسیاں ڈال لیں۔ اتنی ہی دیر میں ریحا نے کپڑے بدل لئے تھے۔ اب وہ کشمیری شلوار سوٹ میں ملبوس تھی۔ اندھیرے میں ڈوبے کچن کی کھڑکی سے ٹارچر سیل کا دروازہ کھلتا صاف نظر آ رہا تھا جس سے کرنل رائے داخل ہو رہا تھا۔
ادھر کرنل رائے نے سرمد والے کمرے میں قدم رکھا ادھر کیپٹن آدیش نے بڑی آہستگی سے مکینزم آف کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی سیل کے داخلی دروازے کا کمپیوٹرائزڈ سسٹم بیکار ہو گیا۔
کیپ سر سے اتار کر کرنل رائے نے میز پر پھینکی اور دیوار کے سہارے نیم دراز سرمد کی جانب بڑی سرد نظروں سے دیکھا۔ پھر کیپٹن آدیش کے سیلوٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ہاتھ سینے پر باندھ لئے۔ سرمد نے نیم باز آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا اور اس کے ہونٹوں کی حرکت ہلکی سی مسکراہٹ میں بدل گئی۔
“اس نے زبان کھولی یا نہیں ؟” اچانک کرنل رائے دو تین قدم آگے بڑھ کر سرمد کے قریب چلا آیا۔
“نو سر۔ ” کیپٹن آدیش اس کے پیچھے دو قدم کے فاصلے پر آ کھڑا ہوا۔
“ہوں۔ ” اس نے ہونٹ بھینچ کر کہا۔ “بہت ڈھیٹ لگتا ہے۔ ”
کیپٹن آدیش کا جسم تن گیا۔ اسے کرنل کے لہجے سے شر کی بو آ رہی تھی، جو کرسی پر پاؤں رکھے سرمد کی طرف جھک کر اسے بڑی کینہ توز نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“اسے کرسی پر بٹھاؤ کیپٹن۔ ” ایک دم کہہ کر وہ پیچھے ہٹ گیا۔
“یس سر۔ ” کیپٹن آدیش نے جلدی سے کہا اور آگے بڑھ کر سرمد کو بغلوں میں ہاتھ دے کر اٹھانے لگا۔ بڑی آہستگی اور احتیاط سے اس نے سرمد کو کرسی پر بٹھایا، جو اپنے آپ حرکت کرنے سے بھی معذور تھا۔ اس کے زخم دوا سے محروم تھے۔ خون ہونٹوں ، پیشانی اور جسم کے جوڑوں پر جم چکا تھا۔ جسم کی ہڈیاں ابھر آئی تھیں۔ ہاتھوں اور پیروں کے زخم پھوڑوں کی طرح مواد سے بھرے لگ رہے تھے۔ حلقوں سے گھری آنکھوں کا ورم کسی حد تک کم ہو چکا تھا تاہم شیو ہو جانے کے باعث چہرہ اب صاف پہچان میں آ رہا تھا۔
اس کے گھٹنوں کے جوڑ کام نہیں کر رہے تھے۔ تشدد کے باعث وہ تقریباً بیکار ہو چکے تھے اس لئے وہ دونوں ٹانگیں سمیٹ نہ سکا اور آدیش نے اس کے چہرے پر پھیلتے کرب کے پیش نظر ٹانگوں کو کرسی کے دائیں بائیں پھیلا دیا۔ سرمد دونوں ہاتھوں سے سائڈز کو تھامے بڑی مشکل سے کرسی پر جما بیٹھا تھا۔ بخار سے پھنکتا ہوا جسم، درد سے کراہتا ہوا رواں رواں اور چکراتا ہوا دماغ۔ وہ تھوک نگل کر رہ گیا۔ اسے خطرہ تھا کہ وہ کسی بھی لمحے کرسی سے گر جائے گا۔
“تو تمہارا نام سرمد ہے؟” سگار کا دھواں اڑاتا کرنل رائے اس کی جانب پلٹا تو سرمد نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ کیپٹن آدیش کے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔ ایک ہی پل میں وہ سمجھ گیا کہ کرنل رائے سرمد کے بارے میں معلومات حاصل کر چکا ہے۔
“سرمد ہاشمی۔ باپ کا نام ڈاکٹر دلاور ہاشمی۔ لندن یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری لی۔ اپنے خدا کے گھر گئے اور وہاں سے سیدھے ہماری گود میں آ رہے۔ ” طنزیہ انداز میں کہتے ہوئے کرنل رائے آہستہ آہستہ اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اس کی سرد نظریں سرمد کی آنکھوں میں ایکسریز کی طرح اترتی جا رہی تھیں۔
“ریحا کو کب سے جانتے ہو؟” اچانک اس نے پاؤں اٹھا کر سرمد کی ران پر رکھ دیا۔ وہ تکلیف سے کراہ کر رہ گیا۔
“لندن سے۔ ” کرنل نے اس کی ران پر دباؤ بڑھا دیا۔ “ہے ناں ؟” وہ پھر طنز سے بولا۔ “بہت چاہتی ہے وہ تمہیں ؟ میری بیٹی ہو کر۔ ایک کٹر ہندو کی بیٹی ہو کر وہ ایک مسلمان آتنک وادی سے عشق کرتی ہے۔ کیا یہ اچھی بات ہے؟” وہ چیخ پڑا۔
” آ۔۔۔۔ ہ۔۔۔ آہ۔۔۔ “سرمد اس کا دباؤ اپنی ران پر مزید نہ سہہ سکا اور جل بن مچھلی کی طرح تڑپا۔ ایک دم کرنل رائے نے پاؤں اس کی ران سے اٹھایا اور کرسی کی سائڈ پر جمے سرمد کے بائیں ہاتھ پر ٹھوکر رسید کر دی۔ سرمد تڑپا اور مچل کر فرش پر گر پڑا۔ آدیش کانپ کر رہ گیا۔ اسے لگا کرنل نے یہ ٹھوکر سرمد کو نہیں ، اسے ماری ہے۔
لوٹ پوٹ ہوتا سرمد کسی نہ کسی طرح سیدھا ہوا اور کراہتا ہوا کرسی کے سہارے اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کا چہرہ اور اب جسم بھی پسینہ میں بھیگنے لگا تھا۔ درد کے آثار اس کی کراہوں سے نمایاں تھے۔
“کیا تم بھی ریحا کو چاہتے ہو؟” ایک گھٹنا فرش پر ٹیک کر کرنل رائے اس کے قریب بیٹھ گیا اور اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ “یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ہندو ہے۔ کیا تم اس سے پیار کرتے ہو؟”
جواب میں سرمد نے اسے بڑی درد بھری نظروں سے دیکھا۔ اس کا سانس پھول رہا تھا اور لگتا تھا اس کا حلق پیاس کے مارے خشک ہو چکا ہے۔
“نہیں ناں ؟” کرنل رائے نے نفی میں سر ہلایا۔ “ایسا ہی ہونا چاہئے۔ ” وہ جیسے اسے سمجھانے لگا۔ “وہ ہندو ہے۔ تم ملیچھ مسلمان۔ اسے تم سے پیار نہیں کرنا چاہئے تھا۔ تم سے نفرت کرتی تو کوئی بات بھی تھی۔ اس نے جرم کیا ہے۔ تم سے محبت کا جرم۔ مگر سزا اسے نہیں ، تمہیں ملے گی۔ جانتے ہو کیوں ؟ اس لئے کہ تم مسلمان ہو۔ ملیچھ مسلمان۔ ” نفرت سے کرنل کا چہرہ بگڑ گیا۔ ایک دم اس نے جلتا ہوا سگار سرمد کے سینے پر رکھ کر زور سے دبا دیا۔ کراہتے ہوئے سرمد کے لبوں سے چیخ نکل گئی۔ وہ معذوروں کی طرح اپنے کانپتے ہوئے زخمی ہاتھوں سے کرنل رائے کا سگار پرے ہٹانے کی کوشش کرنے لگا مگر ناکام رہا۔ کمرے میں گوشت جلنے کی چراند پھیل گئی۔ کیپٹن آدیش نے بے بسی سے ادھر ادھر دیکھا۔ وہ کیا کرے؟ اس کا دماغ الجھ کر رہ گیا۔ کیا مانیا اور طاہر کو بیل کر دے؟ ابھی وہ اسی ادھیڑ بُن میں تھا کہ کرنل رائے کی بھیڑیے جیسی غراتی ہوئی آواز نے اسے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔
“تم سے نفرت ہر ہندو کا دھرم ہے۔ ہاں۔ ایک صورت ہے کہ تم سزا سے بچ جاؤ۔ سزا سے بچ بھی جاؤ اور انعام کے حقدار بھی ہو جاؤ۔ ریحا جیسی خوبصورت لڑکی، آزادی اور لاکھوں کروڑوں روپے کے انعام کے حقدار۔ بولو کیا یہ سب پانا چاہو گے؟”اس نے سگار ہٹا لیا۔ سرمد کا سینہ بری طرح جل گیا تھا۔ زخم سے ابھی تک دھواں نکل رہا تھا۔ وہ یوں ہانپ رہا تھا جیسے میلوں دور سے بھاگتا آ یا ہو۔ اس کا جسم اب پوری طرح پسینے میں تر تھا اور چہرے پر تو جیسے کسی نے پانی کا جگ انڈیل دیا ہو۔
بُت بنا کیپٹن آدیش سب سن رہا تھا۔ اسے سمجھ نہ آ رہی تھی کہ کرنل رائے کرنا کیا چاہتا ہے؟ کہنا کیا چاہتا ہے؟ اس کی ہر بات دوسری بات کی ضد تھی۔
“اپنا دھرم چھوڑ دو۔ ” کرنل رائے نے کرسی کے سہارے بیٹھے سرمد کے سامنے تن کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز تھی یا بجلی کا کڑاکا۔ ایک دم سرمد کا سانس رک گیا۔ اس کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔ وہ کرنل کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے اس کے سر پر سینگ نکل آئے ہوں۔
“ہندو ہو جاؤ۔” کرنل نے یوں کہا جیسے اسے لالی پاپ دے رہا ہو۔ “ریحا بھی مل جائے گی۔ آزادی بھی اور دولت بھی۔ بولو۔ کیا کہتے ہو؟”
سرمدچند لمحے کرنل رائے کو دیکھتا رہا۔ ساری تکلیف، ساری اذیت، سارا درد جیسے اس کے حواس کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔
“زیادہ مت سوچو۔ سوچو گے تو بہک جاؤ گے۔ ہاں کر دو۔ ہاں کہہ دو۔ تمہارا صرف “ہاں “کا ایک لفظ تمہاری ساری اذیتوں کا خاتمہ کر دے گا۔ اور ایک “نہ ” کا لفظ تم پر نرک کے دروازے کھول دے گا، یہ مت بھولنا۔ ” کرنل اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سمجھانے کے انداز میں کہے جا رہا تھا۔
“کیا کہا تم نے؟” اچانک سرمد نے اس کی جانب کانپتی ہوئی انگلی اٹھائی۔
کرنل نے اس کے طرزِ تخاطب پر اسے چونک کر دیکھا۔ کیپٹن آدیش کا بھی یہی حال ہوا۔ جب سے وہ ان کے ہاتھ لگا تھا، تب سے آج وہ پہلی بار بولا تھا۔۔۔ اور یوں بولا تھا کہ کیپٹن آدیش حیرت زدہ رہ گیا اور کرنل رائے کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہو گئیں۔
“بہرے نہیں ہو تم۔ میں نے جو کہا تم نے اچھی طرح سنا ہے۔ ” کرنل رائے نے اسے گھورتے ہوئے دانت بھینچ لئے۔
“ہاں۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ تم بار بار یہ ناپاک الفاظ دہراؤ اور میں بار بار انکار کروں۔ تم اپنے باطل دھرم کا لالچ دو اور میں اپنے سچے اللہ کی وحدانیت بیان کرتے ہوئے، اس کے پسندیدہ دین کے اظہار کے لئے اپنی زبان پر وہ الفاظ بار بار سجاؤں جو اسے سب سے زیادہ پسند ہیں۔ قل ھو اللہ احد۔ اللہ الصمد۔ لم یلد ولم یولد۔ ولم یکن لہ، کفواً احد۔ ”
الفاظ کیا تھی۔ پگھلا ہوا سیسہ تھا جو کرنل رائے کے کانوں میں اترتا چلا گیا۔ آتش فشاں کا لاوا تھا جواسے اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ بھڑکتا ہوا الاؤ تھا جس میں اس کی ساری نرمی، سارا فریب، سارابطلان جل کر خاک ہو گیا۔
“کیا کہا تم نے؟” آگ بگولہ ہوتے کرنل رائے کے ہونٹوں سے پاگل کتے کی طرح کف جاری ہو گیا۔
“قل ھو اللہ احد۔ ” سرمد نے اس طرح مسکرا کر جواب دیا، جیسے کسی بچے کی ضد پر اسے دوبارہ بتا رہا ہو۔ “اس نے اپنے حبیب کریم سے فرمایا کہ آپ ان کافروں اور مشرکوں سے کہہ دیجئے کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اسے کسی نے جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا۔ اور اس “احد “کا کوئی ہمسر نہیں۔ ”
“بکو مت۔۔۔۔ ” کرنل رائے غصے میں دیوانہ ہو کر سرمد پر پل پڑا۔ لاتیں ، ٹھوکریں ، گھونسے، مغلظات۔ ایک طوفان غیظ و غضب تھا سرمد جس کی لپیٹ میں آ گیا۔ کیپٹن آدیش جو سرمد کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ کے سحر میں گرفتار تھا، ایک دم کرنل رائے کے چیخنے چلانے اور سرمد پر ٹوٹ پڑنے پر گھبرا کر ہوش میں آ گیا۔ اسے اور تو کچھ نہ سوجھا، ایک دم اس نے اوپری جیب میں پڑے موبائل کا بٹن دبا دیا۔
“اللہ ایک ہے۔ ” سرمد مسکرائے جا رہا تھا۔ اس پر جیسے کرنل رائے ٹھوکریں ، لاتیں اور گھونسے نہیں ، پھول برسا رہا تھا۔ اذیت جیسے محسوس ہی نہ ہو رہی تھی۔ اس کی ہر چوٹ کے جواب میں سرمد ایک ہی بات کہتا:
“قل ھواللہ احد۔ اللہ ایک ہے۔ ”
اس کے ہر بار کہے ہوئے یہ الفاظ کرنل رائے کے غصے اور دیوانگی میں مزید اضافہ کر دیتی۔ وہ اور بھی شدت سے اسے ٹھوکروں پر رکھ لیتا۔ کیپٹن آدیش بے بسی سے ادھر ادھر قدم پھینک رہا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ کسی طرح سرمد کو بچا لیتا مگر اس وقت تو کرنل پاگل کتے کی طرح قابو سے باہر ہو رہا تھا۔ اس کے راستے میں آنا خود کو عتاب کے حوالے کر دینے والی بات تھی۔
“سر۔۔۔ ” اچانک اس نے آگے بڑھ کر کرنل رائے سے کہا۔ “سر۔۔۔ یہ بیہوش ہو چکا ہے۔ ” اور کرنل رائے کے ہاتھ پاؤں اور زبان ایک دم یوں رک گئی جیسے کسی نے اس کا بٹن آف کر دیا ہو۔
“مگر۔۔۔ اس کی زبان۔۔۔ اس کی زبان۔۔۔ ” وہ ہانپتے ہوئے بولا۔ “وہ تو۔۔۔ وہ تو چل رہی ہے۔ ”
کیپٹن آدیش نے کرنل کے سرمد کی طرف دراز بازو کے ہدف کو تاکا۔ واقعی سرمد کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ سرگوشی کے انداز میں آواز ابھر ری تھی۔
“قل ھو اللہ احد۔۔۔ قل ھو اللہ احد۔۔۔ قل ھواللہ احد۔ “وہ ہولے ہولے پکار رہا تھا۔ بتا رہا تھا۔ سنا رہا تھا۔ سمجھا رہا تھا۔
“یہ اپنے ہوش میں نہیں ہے سر۔ ” آدیش نے دزدیدہ نگاہوں سے شیشے کے پار دیکھا۔ کاریڈور خالی تھا مگر کسی بھی لمحے طاہر اور مانیا وہاں نمودار ہو سکتے تھی۔ اس نے کنکھیوں سے کرنل کے ہولسٹر پر نظر ڈالی، جس کا بٹن کھلا ہوا تھا۔
“اسے ہوش میں لاؤ۔ ” کٹکھنے کتے کی طرح کرنل غرایا۔
“یس۔۔۔ یس سر۔ ” آدیش نے ہکلا کر کہا اور میز پر پڑے پانی کے جگ کی طرف بڑھ گیا۔
* * *

“یہ کون لوگ ہیں ؟” نیم روشن میدان میں دو سایوں کو ٹارچر سیل کی جانب بڑھتے دیکھ کر سوجل چونکی۔ ریحا پہچان چکی تھی۔
“ماما۔ یہ مسٹر طاہر اور مس مانیا ہیں۔ اوہ۔۔۔ اوہ۔۔۔ ماما۔ ”
“کیا ہوا ریحا؟ بات کیا ہے؟” سوجل نے اسے بے چین دیکھ کر پوچھا۔
“ماما۔ ” ریحا نے ہاتھ جھٹکی۔ “میں نے بتایا تو تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ اگر اندر خطرہ ہوا تو کیپٹن آدیش مس سونیا کو الرٹ کرے گا اور وہ اس کا دیا ہوا انٹری پاس دکھا کر ٹارچر سیل میں داخل ہو جائیں گی۔ خطرہ ماما۔۔۔ خطرہ۔ ”
“تو چلو۔ جلدی کرو بیٹی۔ ” سوجل نے اپنے پاس رکھا ہوا ریوالور اٹھا لیا۔ ” آؤ۔ ہمیں بھی وہاں چلنا چاہئے۔ ”
“مگر ماما۔ گارڈز۔۔۔ ” اس نے کہنا چاہا۔
” آ جاؤ۔ یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے۔ گارڈز کی نظروں سے بچ کر ہمیں وہاں پہنچنا ہو گا۔ ” سوجل کچن کے دروازے کی جانب لپکی۔ ریحا اس کے پیچھے دوڑ پڑی۔
٭

“سر۔ اس میں پانی نہیں ہے۔ ” کیپٹن آدیش نے خالی جگ اٹھا کر کرنل رائے کو دکھایا۔ “میں پانی لے کر آتا ہوں۔ ” وہ جلدی سے کمرے کے کونے میں بنے باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔
“ڈیم فول۔ ” کرنل اسے قہر سے گھورتا رہ گیا۔ پھر بجھا ہوا سگار دیوار پر کھینچ مارا۔
“قل ھواللہ احد۔ ” اچانک سرمد کی آواز بلند ہو گئی۔ وہ کراہتا ہوا ان الفاظ کا جیسے ورد کر رہا تھا۔ اٹھنے کی کوشش میں بار بار فرش پر گر پڑتے سرمد کے لہو لہان جسم کو دیکھ کر کرنل رائے کا پارہ ایک بار پھر چڑھ گیا۔
“ملیچھ۔ ” اس نے سرمد کے زخمی گھٹنے پر ایک زور دار ٹھوکر رسید کر دی۔ جواب میں چیخ یا کراہ کے بجائے سرمد کے لبوں سے رک رک کر نکلا۔
“قل۔۔۔ ھواللہ۔۔۔ احد۔۔۔ لا الٰہ۔۔۔ الا اللہ۔۔۔ محمد۔۔۔ رسول اللہ۔ ” اور اس نے آنکھیں کھول دیں۔
“تو تیری زبان بند نہیں ہو گی۔ ” غصے میں کھولتے ہوئے کرنل رائے نے ہولسٹر سے ریوالور کھینچ لیا۔ سیفٹی کیچ ہٹایا اور سرمد کے سینے کا نشانہ لیا۔
“قل۔۔۔ ھو اللہ۔۔۔ احد۔ ” سرمد کے لبوں پر بڑی آسودہ سی مسکراہٹ ابھری۔
” آخری بار کہہ رہا ہوں مُسلی۔ ” کرنل رائے کے دل میں نجانے کیا آئی۔ “ہماری طرف لوٹ آ۔ میں تیری سب سزائیں ختم کر دو ں گا۔ “اس کی انگلی ٹریگر پر جم گئی۔
“قل ھو اللہ احد۔ ” سرمد اب بھی مسکرا رہا تھا۔ “اللہ الصمد۔ “اس کی آواز بلند ہو گئی۔
کرنل رائے کی انگلی ٹریگر پر دب گئی۔
دو بار۔
مگر دھماکے تین ہوئے۔
پہلے دو دھماکوں نے سرمد کا سینہ چھلنی کر دیا۔
تیسرے دھماکے نے کرنل رائے کا ہاتھ اڑا دیا۔ اس کا ریوالور ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا۔
ایک ہچکی لے کر سرمد کا جسم جھٹکے سے ساکت ہو گیا مگر اس کے ہونٹ اب بھی ہل رہے تھے۔ “قل ھو اللہ احد۔ قل۔۔۔ ھو اللہ۔۔۔ احد۔۔۔ ”
کرنل رائے کے ہونٹوں سے بڑی مکروہ چیخ خارج ہوئی اور وہ اپنا خون آلود ہاتھ دوسرے ہاتھ سے دبائے تڑپ کر پلٹا۔
“تم۔۔۔ ” اس نے دروازے سے اندر داخل ہوتے طاہر اور مانیا کو دیکھا جو تیزی سے فرش پر بے سدھ پڑے سرمد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ پھر اس کی نظر باتھ روم کے دروازے کے پاس کھڑے آدیش پر جم گئی جو اس پر ریوالور تانے کھڑا بڑی سرد نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“تم نے مجھ پر گولی چلائی۔۔۔ ؟” اسے کیپٹن آدیش پر یقین نہ آ رہا تھا۔
جواب میں کیپٹن آدیش نے پاؤں کی ٹھوکر سے اس کا ریوالور دور پھینک دیا۔ مگر نہیں۔ دور نہیں۔ ریوالور شیشے کے دروازے سے اندر داخل ہوتی سوجل کے پاؤں سے ٹکرا کر رک گیا جسے اس نے اٹھا لیا۔
اسی وقت ریحا ماں کو ایک طرف ہٹاتی ہوئی اندر آئی اور فرش پر پڑے سرمد کی طرف بھاگتی چلی گئی، جس کا سر طاہر نے گود میں لے رکھا تھا اور مانیا جسے وحشت آلود نگاہوں سے تک رہی تھی۔
“سرمد۔۔۔ “ریحا گھٹنوں کے بل اس کے قریب جا بیٹھی اور اس کے زخم زخم جسم کو دیکھ کر بلکنے لگی۔ اس کے لبوں سے سوائے “سرمد۔ سرمد” کے کچھ نہ نکل رہا تھا اور آنکھوں سے آنسو دھاروں دھار بہہ رہے تھے۔
سوجل نے کرنل رائے کا ریوالور تھام لیا اور کیپٹن آدیش اسے کور کئے ہوئے تھا۔ کرنل اس طرح کمرے میں پیدا ہو جانے والی صورتحال کو جانچ رہا تھا جیسے خواب دیکھ رہا ہو۔
٭
“سرمد۔۔۔ ” طاہر نے اس کے خون آلود چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لے لیا۔ اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا۔ سرمد کی یہ حالت اس سے برداشت نہ ہو رہی تھی۔ سینے کا زخم اتنا گہرا تھا کہ خون مانیا کے روکے نہ رکا۔
“مسٹر طاہر۔ ” اس نے گھبرائی ہوئی نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔ ” لگتا ہے بارود نے سینہ چیر کر رکھ دیا ہے۔ خون رک ہی نہیں رہا۔ ” مانیا نے اپنی شال پھاڑ کر زخم پر پٹی باندھتے ہوئے اسے بتایا۔
“سرمد۔۔۔ ” ریحا سرمدکو والہانہ دیکھے جا رہی تھی اور روئے جا رہی تھی۔ “میرے سرمد۔ آنکھیں کھولو۔ آنکھیں کھولو سرمد۔ ”
پھر اسے محسوس ہوا جیسے سرمد کے ہونٹوں کو حرکت ہوئی ہو۔ اس نے وحشت بھری نظروں سے طاہر اور مانیا کی جانب دیکھا۔ ” یہ۔۔۔ یہ کچھ کہہ رہا ہے مسٹر طاہر۔ ” اور طاہر نے جلدی سے اس کے لبوں کے ساتھ اپنا کان لگا دیا۔
“قل۔۔۔ ھواللہ۔۔۔ احد۔۔۔ قل ھو اللہ۔۔۔ احد۔ ” سرمد کے ہونٹ ہل رہے تھے۔
“سرمد۔۔۔ ” طاہر نے اس کا خون آلود ماتھا چوم لیا اور اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ گرم گرم آنسو سرمد کے چہرے پر گرے تو ایک دو لمحوں کے بعد اس نے آہستہ سے آنکھیں کھول دیں۔
“تم۔۔۔ ؟” بمشکل دھندلائی ہوئی نظروں سے اس نے طاہر کو پہچانا تو اس کے لہجے میں حیرت سے زیادہ مسرت نمایاں ہوئی۔ “یہاں۔۔۔ مگر کیسی؟”
“کچھ مت بولو سرمد۔ ” طاہر نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ پھر مانیا کی جانب دیکھا۔ “مس مانیا۔ اسے فوری طور پر طبی امداد۔۔۔ ” اس کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے مانیا نے کرنل رائے پر ریوالور تانے کیپٹن آدیش کی طرف نظر اٹھائی۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا، سرمد کی نگاہ روتی ہوئی ریحا پر پڑ گئی۔
“ارے تم۔۔۔ ریحا۔۔۔ ” وہ مسکرایا۔ “چلو اچھا ہوا۔ سب اپنے اکٹھے ہو گئے۔ ” اس کی آواز میں نقاہت بڑھتی جا رہی تھی۔
“یہاں سے انہیں اس حالت میں باہر لے جانا ممکن نہیں ہے دیدی۔ ” کیپٹن آدیش نے بیچارگی سے کہا۔
“ہاہاہا۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔ ” اسی وقت کرنل رائے کے حلق سے قہقہہ ابل پڑا۔ “یہاں سے تم لوگ زندہ واپس نہیں جا سکو گے۔۔۔ اور کیپٹن آدیش۔۔۔ تمہیں تو میں کتے کی موت ماروں گا۔ “اس کی قہر آلود نظریں آدیش پر چنگاریاں برسانے لگیں ، جس نے اسے ریوالور کے اشارے پر دیوار سے لگ کر کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔
جواب میں آدیش خاموش رہا تو اس نے نظروں کا ہدف سوجل کو بنا لیا۔ ” تم ریوالور ہاتھ میں لئے چپ چاپ کھڑی ہو۔ اس سے صاف ظاہر ہے تم بھی ان کے ساتھ ہو۔ ایک ہندو پتنی اپنے پتی کے دشمنوں سے مل کر اسے مارنے کے درپے ہے۔ بچ تم بھی نہیں سکو گی سوجل۔ ” وہ دانت پیستے ہوئے خاموش ہو گیا۔ سوجل اسے سرد نظروں سے گھورتی رہ گئی۔
“سرمد۔۔۔ ” طاہر بے چین ہوا جا رہا تھا۔ “کچھ کرو مس مانیا۔ کیپٹن آدیش۔ ”
“ماما۔ ” اچانک ریحا اٹھی اور ماں کی طرف بڑھی۔ “ماما۔ اسے بچا لو ماما۔ اسے بچا لو۔ میرے سرمد کو بچا لو۔ ”
“مجھے کچھ سوچنے دو ریحا۔ ” سوجل نے اسے سینے سے لگا لیا۔
“گھبراؤ نہیں طاہر۔ ” سرمد نے اس کے ہاتھوں میں دبا اپنا ہاتھ سینے پر رکھ لیا۔ اس کی بار بار بند ہوتی آنکھیں اور چھل چھل بہتا خون طاہر کو اس کی لمحہ بہ لمحہ قریب آتی موت کی خبر دے رہے تھے۔ “میں جانتا ہوں میرے جانے کا وقت آ چکا ہے۔ ” وہ ہولے ہولے بولا۔ “یہ تو پگلی ہے۔ میری تکلیف سے دیوانی ہوئی جا رہی ہے۔ نہیں جانتی، میں نے کس مشکل سے اپنی منزل پائی ہے۔ اب تم لوگ مجھے دوبارہ کانٹوں میں مت گھسیٹو یار۔ ”
“سرمد۔۔۔ ” طاہر سسک کر بولا۔ اسی وقت ریحا ان کے قریب لوٹ آئی۔ مانیا نے پرے ہو کر اسے جگہ دی تو وہ سرمد کا دوسرا ہاتھ تھام کر فرش پر گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئی اور اسے پاگلوں کے انداز میں تکنے لگی۔ بار بار وہ ہچکی لیتی اور معصوم بچوں کی طرح سسکی بھر کر رہ جاتی۔
“اچھا طاہر۔۔۔ میرے بھائی۔ میرے دوست۔۔۔ اب جانے کا لمحہ آن پہنچا۔ میرے پاپا کا خیال رکھنا۔ اگر ہو سکے تو مجھے پاکستان لے جانا۔ اور اگر ایسا ہو سکا تو میرے پاپا سے کہنا کہ میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ میں عمرے کے بعد لندن واپس نہیں گیا۔ پاکستان آیا ہوں۔ بس ذرا سفر طویل ہو گیا۔ میں نے انہیں دُکھ دیا ہے طاہر۔ بہت دُکھ دیا ہے۔ میری طرف سے ان سے معافی مانگ لینا۔ ” وہ آنکھیں بند کر کے ہانپنے لگا۔
طاہر اس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگائے خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کی برستی آنکھیں اس کے جذبات کا آئینہ تھیں۔
“ریحا۔۔۔ ” ذرا دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں۔ “میں تم سے کیا ہوا کوئی وعدہ نبھا نہیں سکا۔ برا نہ ماننا۔ وقت ہی نہیں ملا۔ ”
“سرمد۔۔۔ ” ریحا پچھاڑ کھا کر رہ گئی۔ کیسی بے بسی تھی کہ وہ اسے بچا نے کی اک ذرا سی بھی کوشش نہ کر سکتے تھی۔ بیچارگی نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ زخمی ہاتھ بغل میں دبائے کرنل رائے ان کی حالت سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ اسے اپنے انجام کی کوئی فکر نہ تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ جلد یا بدیر وہ سب اس کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
“کچھ اور کہو سرمد۔ ” اچانک طاہر نے اسے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ اس کا لہجہ بیحد عجیب ہو رہا تھا۔ مانیا نے چونک کر اسے دیکھا۔
“کیا کہوں طاہر۔ کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں۔ ” نقاہت سے اس کی آواز ڈوب گئی۔ “ہاں۔ ایک کام ہے اگر تم کر سکو۔ ”
“کہو سرمد۔ میری جان۔ ” طاہر بیتاب ہو گیا۔
“یہ۔۔۔ ” اس نے اپنی اوپری جیب کی طرف اشارہ کیا۔ ” اس جیب میں میرے آقا کے دیار کی خاک ہے۔ اسے میری قبر کی مٹی میں ملا دینا۔ جنت کی مہک میں سانس لیتا رہوں گا قیامت تک۔ کر سکو گے ایسا؟”
“کیوں نہیں سرمد۔ ” طاہر نے اس کے سر کے بالوں کو چوم لیا۔ ” ایسا ہی ہو گا۔ مگر کچھ اور بھی ہے سرمد جو تم بھول رہے ہو۔ ” طاہر نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ دیا۔ “ایک ہستی اور ہے جس کے لئے تمہارا پیغام میں امانت کی طرح پلکوں پر سجا کر لے جا سکتا ہوں۔ ”
“شش۔۔۔ ” سرمد نے اس سے ہاتھ چھڑایا اور ہونٹوں پر رکھ دیا۔ “کبھی ایسا خیال دل میں بھی نہ لانا طاہر۔ میرے لئے وہ نام اتنا پرایا ہے کہ میں اسے زبان پر لاؤں گا تو اللہ کا مجرم ٹھہروں گا۔ اتنا محترم ہے کہ اس کے باعث اللہ نے مجھے اپنے حضور طلب فرما لیا۔ اور کیا چاہئے؟ کچھ نہیں۔ کچھ نہیں۔ ” پھر اس نے نظروں کا محور کرنل رائے کو بنا لیا۔ ” شرک کے اس پتلے نے مجھے اپنے اللہ سے برگشتہ کرنے کے لئے ریحا سے لے کر آزادی اور دولت کا جو لالچ دیا، وہ کسی بھی سرمد کو بہکانے کے لئے کافی تھا مگر میں اس پکار کا کیا کروں طاہر جو میرے رگ و پے میں خون بن کر دوڑتی ہے۔ قل۔۔۔ ھواللہ۔۔۔ احد۔ ” اچانک سرمد کی سانس اکھڑ گئی۔
“سرمد۔۔۔ ” طاہر اور ریحا اس پر جھک گئی۔ ” بس طاہر۔ بس ریحا۔ الوداع۔۔۔ ” اس کی آنکھیں پتھرانے لگیں۔ جسم میں ایک دم تیز حرارت کی لہر دوڑ گئی۔ “میرے اللہ گواہ رہنا۔ میں نے عشاق کا نام بدنام نہیں ہونے دیا۔۔۔ یہ تیری دی ہوئی توفیق ہے۔ تیرے حبیب پاک اور میرے آقا کا صدقہ ہے۔ قل ھواللہ احد۔ ” اس کی آنکھیں مند گئیں۔
“سرمد۔۔۔ ” طاہر نے اس کا ہاتھ دونوں ہاتھوں میں لے کر دبایا۔
“سرمد۔۔۔ ” ریحا اس کے چہرے پر جھک گئی۔
“قل ھواللہ احد۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ و سلم۔ ” اس کی آواز بلند ہوئی۔
“صلی اللہ علیہ و سلم۔ ” سرمد کے ہونٹ مسکرانے کے انداز میں وا ہوئی۔
“صلی اللہ علیہ و سلم۔ ” مسکراہٹ مہک اٹھی۔ ایک دم کمرے میں خوشبو کے جھونکوں داخل ہوئی۔ سرمد کی نظریں اپنے سامنے دیوار کی جانب یوں جم گئیں جیسے وہ کسی کو دیکھ رہا ہو۔ مگر کسی؟ کسے دیکھ رہ ا تھا وہ جس کے دیدار نے اس کی آنکھوں میں مشعلیں روشن کر دی تھیں۔ چہرے پر عقیدت و احترام کی سرخیاں جھلملا دی تھیں۔ ایک گہرا سانس اطمینان بھرا سانس اس کے ہونٹوں سے خارج ہوا۔ لرزتے ہوئے دونوں ہاتھ آپس میں کسی کو تعظیم دینے کے انداز میں جُڑ ی۔۔۔ “صلی اللہ علیہ و سلم ” لبوں پر مہکا اور سرمد کے مسکراتے ہونٹ ساکت ہو گئے۔
خوشبو ان کے گرد لہراتی رہی۔ سرمد کو لوریاں دیتی رہی۔ اور وہ سو گیا۔ کسی ایسے معصوم بچے کی طرح جسے اس کا من پسند کھلونا مل جائے اور وہ اسے باہوں میں لے کر نیند کی وادیوں میں اتر جائے۔
* * *

کمرے میں عجیب سا سکوت طاری تھا۔
کرنل رائے اس انوکھی مہک کے آنے، کمرے میں پھیلنے اور پھر آہستہ آہستہ ناپید ہو جانے کا گواہ تھا مگر ذہنی کج روی اور فطری ہٹ دھرمی اسے اس کے اقرار سے روک رہی تھی۔
طاہر نے دھیرے سے سرمد کو باہوں میں اٹھایا اور میز پر لٹا دیا۔ کیپٹن آدیش اب بھی کرنل رائے کو کور کئے کھڑا تھا، مگر اس کے رخساروں پر آنسو کیوں بہہ رہے تھے۔ وہ خود نہ جانتا تھا۔ یا شاید جانتا تھا، بتا نہ سکتا تھا۔
دل گرفتہ مانیا نے ریحا کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر وہ ہاتھ چھڑا کر لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھی اور میز سے نیچے لٹکتے سرمد کے پیروں سے جا لپٹی۔ خون آلود، زخم زخم پیروں کو بوسے دیتی دیتی وہ میز کے ساتھ ماتھا ٹکا کر یوں بے سدھ ہو گئی کہ سرمد کے دونوں پاؤں اس کے سینے کے ساتھ بھنچے ہوئے تھے۔
سوجل ویرا ن ویران آنکھوں سے ریحا اور سرمد کو دیکھتی رہی۔ پھر اس کی نظر کرنل رائے پر آ کر جم گئی۔
“بہت دیر ہو گئی کرنل رائے۔ ” اچانک اس نے بڑی سرد آواز میں کہا تو کرنل رائے اس کی جانب متوجہ ہوا۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ نجانے کیا ہوا کہ کرنل نے گھبرا کر نظریں پھیر لیں۔
“نظریں نہ چراؤ کرنل۔ میں صرف ایک سوال کا جواب چاہتی ہوں۔ راکیش کا قتل تم نے کرایا تھا؟ہاں یا نہیں۔ ”
کرنل رائے نے پھر چونک کر اس کی جانب دیکھا۔
“ہاں یا نہیں ؟” سوجل نے اس کا ریوالور اسی پر تان لیا۔
“تم پاگل ہو سوجل۔ ” گھبرا کر کرنل رائے نے کہا۔
“ہاں یا نہیں کرنل۔ ” سوجل نے ٹریگر پر انگلی رکھ دی۔
“میں اسے کیسے قتل کرا سکتا تھا سوجل۔ میری اس سے کیا دشمنی تھی؟” اس کی آواز میں خوف ابھر آیا۔
“دشمنی کا نام سوجل ہے کرنل رائے۔ آج میں اس دشمنی ہی کو ختم کر دوں گی مگر اپنے راکیش کے پاس جانے سے پہلے جاننا چاہتی ہوں کہ تم گناہ گار ہو یا بے گناہ؟”
“میں بے گناہ ہوں سوجل۔ ” زخمی ہاتھ اٹھا کر حلف دینے کے انداز میں کرنل رائے نے جلدی سے کہا۔
“بہت بزدل ہو تم کرنل رائے۔ ” سوجل کے ہونٹوں پر بڑی اجڑی اجڑی مسکراہٹ ابھری۔ ” آخری وقت میں بھی جھوٹ بول رہے ہو۔ ”
” آخری وقت؟” ہکلا کر کرنل رائے نے کہا۔
“ہاں۔ ” تم راکیش کے قاتل ہو، یہ بات تم مان لیتے تو شاید میں تمہیں زندہ چھوڑ دیتی مگر ۔۔۔ ”
“اگر ایسی بات ہے تو میں اقرار کرتا ہوں سوجل کہ میں نے راکیش کا قتل کرایا تھا مگر صرف تمہاری محبت کے سبب۔ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا تھا سوجل۔ اسی لئے میں نے راکیش کو راستے سے ہٹا دیا۔ ”
“شکر ہے بھگوان کا۔ ” سوجل نے ایک پل کو آنکھیں بند کیں اور دھیرے سے کہا۔ پھر آنکھیں کھولیں اور کرنل رائے کی جانب بڑی سرد نگاہی سے دیکھا۔
“اب تو تم مجھے نہیں مارو گی سوجل؟” اس نے لجاجت سے پوچھا۔
“تم نے میری پوری بات سنے بغیر ہی اپنے جرم کا اقرار کر لیا رائے۔” سوجل بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔ ” میں کہہ رہی تھی کہ شاید میں تمہیں زندہ چھوڑ دیتی مگر ۔۔۔ تم نے میرے راکیش کی نشانی، میری بیٹی ریحا کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی چھین کر اپنا قتل مجھ پر لازم کر لیا ہے۔ ”
پھر اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ سکتا، پے در پے چھ دھماکے ہوئے۔ کرنل رائے کا گول مٹول جسم اچھل اچھل کر گرتا رہا۔ چوتھے فائر پر اس نے دم توڑ دیا مگر سوجل نے ریوالور خالی ہونے پر ہی انگلی کا دباؤ ٹریگر پر ختم کیا۔ حیرت زدہ، ڈرے ہوئے، فرش پر آڑے ترچھے لہولہان پڑی، کرنل رائے کی بے نور آنکھیں سوجل پر جمی ہوئی تھیں ، جس کا ریوالور والا ہاتھ بے جان ہو کر پہلو میں لٹک گیا تھا۔ کسی نے اپنی جگہ سے حرکت کی نہ اسے روکنا چاہا۔
دھماکوں کی بازگشت ختم ہوئی تو کیپٹن آدیش نے بھی غیر شعوری انداز میں ریوالور ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ لڑکھڑایا اور دیوار سے جا لگا۔
طاہر میز پر دونوں ہاتھ ٹیکے سر جھکائے سسک رہا تھا۔ پھر مانیا آئی اور اس کے شانے پر سر رکھ کر رو دی۔ سوجل تھکے تھکے انداز میں آگے بڑھی اور ایک کرسی پر گر کر دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر بیٹھ گئی۔ کیپٹن آدیش کی سسکیاں ، طاہر اور مانیا کا ساتھ دے رہی تھیں اور ریحا، سرمد کے پیروں سے لپٹی خاموش بیٹھی تھی۔
٭
کتنی دیر گزری، کسی کو اس کا احساس نہیں تھا۔
وہ سب چونکے تو اس وقت جب اچانک سیل کی سیڑھیاں بھاری اور تیز تر قدموں کی دھڑدھڑاہٹوں سے گونج اٹھیں۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی، کتنی ہی لوہے کی نالیاں انہیں اپنے نشانے پر لے چکی تھیں۔ وہ سب اپنی اپنی جگہ ساکت رہ گئے۔
طاہر نے ان کی جانب دیکھا۔ وہ تعداد میں بیس سے کم نہ تھے۔ کچھ کمرے میں اور باقی کاریڈور میں پھیلے ہوئے تھے۔ ان کے جسموں پر فوجی وردیاں اور سرو ں پر سفید رومال بندھے تھے۔ وہ یقیناً بھارتی فوجی نہیں تھے۔
سب سے اگلا شخص، جو اُن کا لیڈر لگتا تھا، اس کی عقاب جیسی نگاہوں نے ایک ہی بار میں پورے کمرے کا جائزہ لے لیا۔ مردہ کرنل رائے کو دیکھ کر وہ ایک پل کو حیران ہوا، پھر اس کی نگاہیں میز پر پڑی سرمد کی لاش پر آ کر جم گئیں۔ ایک پل کو اس کی نظروں میں اضطراب نے جنم لیا پھر وہ تیزی سے آگے بڑھا۔ سرمد کو بے حس و حرکت پا کر اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔
“ہمیں دیر ہو گئی۔ ” آہستہ سے وہ بڑبڑایا۔ پھر اس کی نگاہوں میں آگ سی دہک اٹھی۔
“یہ۔۔۔ ” اس نے سرمد کی جانب اشارہ کیا اور تھرتھراتی آواز میں کہا۔ ” کس نے جان لی اس کی؟”اس کا سوال سب سے تھا۔
“سب کچھ بتایا جائے گا۔ پہلے تم بتاؤ۔ تم کون ہو؟”طاہر نے اسے اپنی جانب متوجہ کر لیا۔
“تم مجھے ان میں سے نہیں لگتے۔ ” وہ طاہر کی طرف پلٹا۔
“تم بھی مجھے اپنوں میں سے لگتے ہو۔ میرا نام طاہر ہے۔ اب تم بتاؤ۔ کون ہو تم؟” طاہر اس کے قریب چلا آیا۔
“یہ بتانے کا حکم نہیں ہے۔ تم کہو اس کے کیا لگتے ہو؟”
“یہ بھائی ہے میرا۔ ” طاہر نے سرمد کی طرف بڑے درد بھرے انداز میں دیکھا۔ ” اسے ڈھونڈ تو لیا مگر بچا نہ سکا۔ ”
“غم نہ کرو۔ ” اس نے طاہر کے شانے کو گرفت میں لے کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ “وہ شہید ہوا ہے۔۔۔ شہید۔۔۔ ” آنکھیں بند کر کے اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ “کاش اس کی جگہ میں ہوتا۔ ” اس کے لہجے میں حسرت در آئی۔
“یہ باقی سب کون ہیں اور اس کتے کو کس نے مارا؟”اس نے نفرت سے فرش پر پڑے کرنل رائے کو دیکھا۔
“یہ سب اپنے ہیں۔ ” طاہر نے کیپٹن آدیش سمیت سب کی گواہی دی۔ ” اور اسے۔۔۔ ” اس کی نظر کرنل رائے کی لاش تک پہنچی۔
“میں نے مارا ہے اسے۔ ” اچانک سوجل بول اٹھی۔ “اس کی بیوی ہوں میں۔ ”
“مگر تم تو کہہ رہے تھے یہاں سب اپنے ہیں۔ ” وہ حیرت سے طاہر کی جانب مڑا۔
“ہاں۔ میں نے سچ کہا ہے۔ ” طاہر نے پھر کہا۔ “صرف ایک ہی بیگانہ تھا یہاں۔ ” اس نے کرنل رائے کی جانب اشارہ کیا۔
“ہمارے پاس بحث کرنے کا وقت ہے نہ عورتوں پر ہاتھ اٹھانا ہمارا مسلک ہے۔ ہم سرمد کو لینے آئے تھے۔ لے کر جا رہے ہیں۔ تم میں سے جو ساتھ چلنا چاہے، چل سکتا ہے۔ ” وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔ “مگر کسی غیر مسلم کو ہم ساتھ نہیں لے جا سکیں گے۔”
“سرمد کا کوئی رشتہ دار غیر مسلم نہیں ہو سکتا۔ ” طاہر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ “میں اس کا بھائی ہوں۔ یہ۔۔۔ ” اس نے ریحا کی جانب اشارہ کیا جو سرمد کے پیروں سے لپٹی ویران ویران نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔ ” یہ اس کی منگیتر ہے۔۔۔ اور یہ۔۔۔ ” اس نے کیپٹن آدیش کی طرف ہاتھ اٹھایا۔
“میں سرمد کا دوست ہوں۔ یہ وردی ان میں شامل ہونے کے لئے ضروری تھی۔ ” اس نے سر سے کیپ اتاری اور دور پھینک دی۔ پھر شرٹ بھی اتار ڈالی۔ اب وہ سیاہ جرسی اور خاکی پینٹ میں تھا۔
بے اختیار طاہر کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے بازو دراز کیا۔ آدیش لپک کر آیا اور اس کے پہلو میں سما گیا۔ وہ بچوں کی طرح سسک رہا تھا۔
“اور یہ میری دوست ہیں۔ مس مانیا۔ ان کی وجہ سے ہم یہاں تک پہنچ پائے۔ ” طاہر نے کہا تو مانیا اس کے دوسرے بازو سے آ لگی۔
“رہی میں تو میں تم لوگوں کے ساتھ نہیں جا رہی۔ ” اسی وقت سوجل نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہا۔ “میں اپنے انجام سے بے خبر نہیں ہوں۔ تم لوگ سرمد کی منگیتر کو لے جاؤ۔ ”
آہستہ سے ریحا اٹھی اور ماں کے سینے سے لگ گئی۔
“ستی ہو جانا اگر ان کے مذہب میں جائز ہوتا ریحا تو میں خود تجھے اس کے لئے سجا سنوار کر تیار کرتی مگر یہ بڑا پیارا دین ہے۔ تجھے یہ لوگ زندہ بھی رکھیں گے تو اس طرح جیسے پلکوں میں نور سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ چلی جا۔ سرمد کی سمادھی پر روزانہ پھول چڑھاتے سمے مجھے یاد کر لیا کرنا۔ میں جس حال میں بھی ہوئی، تیرے لئے پرارتھنا کرتی رہوں گی۔ ” سوجل کی طویل سرگوشی نے اسے کچھ بھی کہنے سے روک دیا۔ وہ ماں سے الگ ہوئی تو سوجل نے اس کے ماتھے اور گالوں کے پے در پے کتنے ہی بوسے لے ڈالے۔ پھر بھیگی آنکھوں سے طاہر کی طرف دیکھا۔ مانیا آگے بڑھی اور اسے باہوں میں لے لیا۔
“تو چلیں ؟” لیڈر نے طاہر کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ جواب میں اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ “اوکے۔ ” اس نے ساتھیوں کو اشارہ کیا۔
دو جوانوں نے سرمد کی لاش کو بڑی احتیاط سے کندھوں پر ڈالا اور سب سے پہلے باہر نکلے۔ پھر باقی کے لوگ بھی تیزی سے چل پڑی۔ چند لمحوں کے بعد سیل کے کھلے دروازے سے سیٹی کی آواز سنائی دی۔ سب سے پہلے طاہر، مانیا، ریحا اور آدیش باہر نکلے۔ آخر میں لیڈر نے باہر قدم رکھنے سے پہلے پلٹ کر دیکھا۔ شیشے کے کمرے میں سر اٹھائے کھڑی سوجل اسے ایسی قابل احترام لگی کہ اس نے بے اختیار اسے ماتھا چھو کر سلام کیا۔ جواب میں سوجل کے ہونٹوں پر جو مسکراہٹ ابھری، اس میں صرف اور صرف آسودگی کروٹیں لے رہی تھی۔
٭
جس ٹرک میں سرمد کی لاش پوری احتیاط سے رکھی گئی وہ کوٹھی کے مین گیٹ سے کچھ ہٹ کر اندھیرے میں کھڑا تھا۔ ٹرک انڈین آرمی کا تھا اس لئے کسی خطرے کا امکان نہیں تھا۔
“اوکے دیدی۔ ” آدیش اس سے گلے ملا۔ ” زندگی رہی تو پھر ملیں گے۔ ”
“راکھی باندھنے خود آیا کروں گی تجھے۔ میرا انتظار کیا کرنا۔ ” وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھ کر بولی۔ آدیش جواب میں ہونٹ دانتوں میں داب کر رہ گیا۔
ریحا سے گلے مل کر اس نے سوائے اس کا ماتھا چومنے کے کچھ نہ کہا۔ آخر میں وہ طاہر کی طرف بڑھی۔ دونوں نے ہاتھ ملایا۔
“اپنا پاسپورٹ مجھے دے دیں مسٹر طاہر۔ میں نہیں چاہتی کہ آپ کسی بھی طرح قانون کی زد میں آئیں۔ میں آپ کے باضابطہ پاکستان روانہ ہونے کی کارروائی کے بعد اسے آپ تک پہنچا دوں گی۔ ”
کچھ کہے بغیر طاہر نے جیب سے اپنا پاسپورٹ نکالا اور اسے تھما دیا۔ پھر ہوٹل کے کمرے کی چابی بھی اس کے حوالے کر دی۔
“میں شکریہ اد کر کے تمہاری توہین نہیں کرنا چاہتا مانیا۔ ” وہ آپ اور مس، دونوں تکلفات سے دور ہو کر بولا۔ “ہاں۔ میری کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو۔۔۔ ”
“میں کبھی جھجکوں گی نہیں طاہر۔ ” وہ بھی مسکرائی۔ دیواریں گریں تو اپنائیت کا چہرہ صاف صاف دکھائی دینے لگا۔
“او کے۔ گڈ بائی۔ “طاہر نے اس کا ہاتھ دوبارہ تھاما اور دبا کر چھوڑ دیا۔
“گڈ بائی۔ ” ان کے ٹرک میں سوار ہو جانے کے بعد وہ تب تک وہاں کھڑی رہی جب تک ان کا ٹرک نظر آتا رہا۔ پھر تھکے تھکے قدموں سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔
٭
“میرا نام جاوداں صدیقی ہے۔ ” اس نے ٹرک میں ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے طاہر کو بتایا۔ “کمانڈر کا حکم تھا کہ آج رات سرمد کو اس ٹارچر سیل سے بہر صورت نکال لیا جائے۔ دراصل ہمیں بڑی دیر میں پتہ چلا کہ سرمد یہاں ہے ورنہ۔۔۔ ” وہ ہونٹ کاٹنے لگا۔ “مگر شہادت اس کی قسمت میں تھی۔ خوش نصیب تھا وہ۔ کاش ہم بھی یہ مقام پا سکیں۔ ”
” آپ کچھ بتا رہے تھے۔ ” وہ کچھ دیر خاموش رہا تو طاہر نے اسے یاد دلایا۔
“ہاں۔ ” وہ آہستہ سے چونکا۔ ” ہمیں گارڈز پر قابو پانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ کل ملا کر دس بونے تو تھے وہ۔ ہم نے ایک ہی ہلے میں انہیں موت کی نیند سلا دیا۔ ٹارچر سیل کا دروازہ بھی توڑنا نہ پڑا۔ کھلا مل گیا مگر آپ لوگوں کو وہاں دیکھ کر حیرت ضرور ہوئی۔ ”
“بس۔ یہ ایک طویل قصہ ہے۔ ” طاہر نے بات گول کر دی۔ “اب ہم جا کہاں رہے ہیں ؟ کیا آپ بتانا پسند کریں گے؟”
“جہاں کمانڈر کا حکم ہو گا وہاں آپ کو پہنچا دیا جائے گا۔ ” جاوداں نے محتاط لہجے میں کہا۔ “ابھی کچھ دیر میں اس کی کال آنے والی ہے۔ ”
جونہی ٹرک نے کشمیر روڈ کا ساتواں سنگ میل عبور کیا، جاوداں صدیقی کی جیب میں پڑے سیٹ پر بزر نے اشارہ دیا۔ اس نے فوراً سیٹ نکالا اور رابطہ قائم کیا۔
“یس۔ جاوداں بول رہا ہوں خانم۔ ”
“کیا رہا؟” دوسری جانب سے بڑی شیریں مگر تحکم آمیز آواز سنائی دی۔
“سرمد شہید ہو گیا خانم۔ ” جاوداں نے اداسی سے جواب دیا۔
“تو اداس کیوں ہو پگلے ؟ کل ہمارے حصے میں بھی یہ اعزاز آئے گا۔ “خانم نے بڑے جذبے سے کہا۔
“انشاءاللہ خانم۔ ” جاوداں نے جلدی سے کہا۔ پھر اس نے ٹارچر سیل کی ساری کارروائی خانم کو بتائی۔
“اس کی لاش کہاں ہے؟”
“ہم ساتھ لا رہے ہیں خانم۔ ”
“کمانڈر کا حکم ہے کہ سرمد اور اس کے ساتھیوں کو مظفر آباد کے راستے پاکستان پہنچا دیا جائے مگر اس سے پہلے دریائے نیلم کے دوسرے گھاٹ پر سرمد کی لاش کو پورے اہتمام کے ساتھ تابوت کیا جائے۔ ”
” جی خانم۔ ایسا ہی ہو گا۔ ”
“اوکے۔ تم خود رابطہ اس وقت کرو گے جب اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔ ”
“میں سمجھتا ہوں خانم۔ ”
“عشاق۔ ” دوسری جانب سے کہا گیا۔
“عزت کی زندگی یا شہادت۔ ” جاوداں کے لبوں سے نکلا اور دوسری طرف سے بات ختم کر دی گئی۔ طاہر ہمہ تن گوش بنا سن رہا تھا کہ اسے آخری لفظ نے چونکا دیا۔ “عشاق ” کا لفظ سرمد کے ہونٹوں سے بھی نکلا تھا۔
“جاوداں۔ آپ پلیز بتائیں گے کہ یہ عشاق کیا ہے؟” اس نے جاوداں کی طرف دیکھا جو ونڈ سکرین سے باہر اندھیرے میں گھور رہا تھا۔
“عشاق۔۔۔ ” وہ بڑبڑایا۔ ” ہمیں کسی باہر کے فرد پر یہ راز کھولنے کی اجازت نہیں ہے مسٹر طاہر لیکن آپ کے ساتھ سرمد شہید کا ایک ایسا رشتہ ہے جسے میں نظرانداز نہیں کر سکتا۔ ” وہ چند لمحے خاموش رہا پھر کہا۔ “عشاق۔۔۔ سرفروشوں کی ایک ایسی تحریک ہے جس کا کمانڈر، خانم اور ہر رکن، جذبہ شہادت سے سرشار ہے۔ ہم لوگ سر پر یہ سفید رومال کفن کی علامت کے طور پر پہن کر نکلتے ہیں۔ اس کا رکن بننے کے لئے لازم ہے کہ پہلے عمرہ کیا جائے۔ بس اس سے زیادہ میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکتا۔ ”
“سرمد بھی تو عمرہ کرنے کے بعد ہی انڈیا آیا تھا۔ تو کیا۔۔۔ ؟” طاہر کے دماغ میں ایک سوال نے سر اٹھایا۔ پھر وہ جاوداں سے پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
“میں اس بارے صرف یہ جانتا ہوں مسٹر طاہر کہ سرمد شہید نے عمرہ پہلے کیا اور تحریک کا رکن بننے کے بارے میں اس شرط کا اسے بعد میں پتہ چلا۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے اسے اللہ اور رسول نے قبولیت کے بعد اس تحریک تک پہنچایا۔ تبھی تو وہ سالوں کا فاصلہ دنوں میں طے کر کے اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔ “جاوداں نے ا س کے پوچھنے پر کہا۔
طاہر کے لئے اب کوئی بھی دوسرا سوال کرنا بے معنی تھا۔ اسے سرمد کے آخری الفاظ یاد آئے اور بے اختیار اس کا دل دھڑک اٹھا۔
“صلی اللہ علیہ و سلم۔ ”
ہاں۔ یہی الفاظ تو تھے اس کے لبوں پر۔ عجیب سی رقت طاری ہو گئی اس پر۔ سر سینے پر جھکتا چلا گیا۔ آنکھیں بند ہوئیں تو تصور میں گنبدِ خضریٰ مہک اٹھا۔ غیر اختیاری طور پر اس کے لبوں کو حرکت ہوئی اور “صلی اللہ علیہ و سلم ” کے الفاظ یوں جاری ہو گئے جیسے برسوں کا بھولا ہوا سبق اچانک یاد آ جائے۔
ٹرک رات کے اندھیرے میں پوری تیزی سے انجانے راستوں پر رواں تھا اور ایک انجانی خوشبو ٹرک کے ساتھ ساتھ محوِ سفر تھی۔ درود کی خوشبو۔ حضوری کی خوشبو۔ قبولیت کی خوشبو۔
* * *

صبح ہونے سے پہلے دریائے جھیلم کے دوسرے گھاٹ پر ٹرک چھوڑ دیا گیا۔ وہاں پہلے سے ایک بڑی کشتی میں ساگوان کی لکڑی کا تابوت لئے چار عشاق موجود ملے۔ سرمد کی لاش کو سبز کشمیری شال میں لپیٹ کر تابوت میں رکھا گیا۔ اکیس رائفلوں کی سلامی دی گئی۔ پھر جاوداں صدیقی اور ا س کے ساتھی تو وہیں رہ گئے اور چار نئے ساتھیوں کے ساتھ وہ رات ہونے تک وہیں جنگل میں چھپے رہے۔
رات کے پہلے پہر اگلا سفر شروع ہوا۔ یہ سفر اسی کشتی میں تھا۔ ان چار عشاق کا کام ہی کشتی کھینا تھا۔ کشتی میں پھل اور خشک میوہ جات موجود تھے جن سے وہ جب چاہتے لذتِ کام و دہن کا کام لے سکتے تھے مگر بھوک کسے تھی جو ان کی طرف نظر اٹھاتا۔
ریحا تابوت پر سر رکھے آنکھیں بند کئے پڑی رہتی۔ چار دن میں وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی تھی۔ آدیش سر جھکائے نجانے کس سوچ میں ڈوبا رہتا۔ ہاں طاہر اس کے ہونٹ ہلتے اکثر دیکھتا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کیا پڑھتا رہتا ہے۔ اسے یقین تھا کہ اس کی طرح آدیش بھی “صلی اللہ علیہ و سلم” کا اسیر ہو چکا ہے۔
وہ رات کو سفر کرتے اور دن میں کشتی کنارے پر روک کر لمبی لمبی گھاس میں ، یا گھنے درختوں تلے چھپ کر پڑ رہتی۔ سات دن گزر گئی۔ آٹھویں دن صبح کاذب نمودار ہو رہی تھی جب کشتی کنارے پر لگا دی گئی۔ ایک ساتھی نصیر نے بتایا کہ یہاں سے آگے کا سفر انہیں پیدل کرنا ہو گا۔
تابوت کو دو د و ساتھیوں نے باری باری کندھوں پر لیا اور وہ سب ایک خشک برساتی نالہ عبور کر کے پاکستانی علاقے میں داخل ہو گئی۔ طاہر اور آدیش نے تابوت اٹھانا چاہا تو ان چاروں نے منت بھرے لہجے میں کہا کہ ان سے یہ سعادت نہ چھینی جائے۔ مجبوراً طاہر نے تابوت ان چاروں کے حوالے کر دیا اور خود ریحا اور آدیش کے ساتھ ان کے پیچھے ہو لیا۔
“ہم اس وقت کہاں ہیں ؟” چلتے چلتے طاہر نے نصیر سے پوچھا۔
“مظفر آباد کے آخری حصے میں۔ یہاں سے ہم وسطی آبادی کی طرف جا رہے ہیں۔ شام تک پہنچیں گے۔ وہاں سے آپ کو سواری مل سکے گی۔ ”
“ذرا رکئے۔ ” اس نے نصیر سے کہا۔ اس کے کہنے پر انہوں نے تابوت ایک ٹیلے پر رکھ دیا اور اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
طاہر نے اپنے دماغ میں جنم لینے والے خیال پر ایک بار پھر غور کیا۔ پھر نصیر سے پوچھا۔
“نصیر بھائی۔ یہ بتائیے یہاں سے نور پور کس طرف ہے؟”
“نور پور۔ ” نصیر چونکا۔ “یہ کیوں پوچھ رہے ہیں آپ؟”
“اگر آپ کو علم ہے تو بتائیے۔ شاید ہمیں وسطی علاقے کی طرف جانا ہی نہ پڑے۔ “طاہر نے نرمی سے کہا۔
“سائیاں والا کا رہائشی ہے یہ خادم حسین۔ سائیاں والا سے تیسرا گاؤں ہے نور پور۔ ” نصیر نے اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا۔ “اس علاقے کے بارے میں یہ زیادہ بہتر بتا سکتا ہے۔ ”
طاہر نے اس کی طرف دیکھا تو وہ بولا۔ ” نور پور کا گاؤں یہاں سے پیدل سات گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ آج کل وہاں سیلاب کی وجہ سے ایک قدرتی نہر بن گئی ہے اس لئے کشتیاں چلنے لگی ہیں۔ ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ہم اس عارضی پتن پر پہنچ جائیں گے جہاں سے سائیاں والا اور نور پور کے لئے کشتی مل جائے گی۔ ”
“بس۔۔۔ ” اچانک طاہر کے لہجے میں جوش بھر گیا۔ “تو سمجھ لیجئے کہ ہمیں نور پور جانا ہے۔ راستہ بدل لیجئے اور اس پتن کی طرف چل دیجئے۔ ”
راستہ بدل دیا گیا۔ ریحا اور آدیش، طاہر کے لہجے سے کسی خاص بات کا اندازہ تو لگا رہے تھے مگر وہ بات کیا تھی؟ یہ انہیں کیا معلوم۔
ان سے ذرا پیچھے رہ کر طاہر نے جیب سے موبائل نکالا اور دھڑکتے دل کے ساتھ گھر کا نمبر ملایا۔ اتنے دنوں بعد وہ فون کر رہا تھا اور وہ بھی کیا بتانے کے لئے۔ اس کا دل بھر آیا۔ اس نے دعا کی کہ فون صفیہ نہ اٹھائے۔ اس کی اللہ نے شاید نزدیک ہو کر سنی۔ دوسری طرف سے بیگم صاحبہ نے فون اٹھایا۔
“ہیلو۔ امی۔ میں طاہر بول رہا ہوں۔ “اس نے لہجے پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
“طاہر۔ ” بیگم صاحبہ ایک دم ہشاش بشاش ہو گئیں۔ ” کیسا ہے بیٹے۔ تو نے اتنے دن فون کیوں نہیں کیا؟ یہاں فکر کے مارے سب کی جان عذاب میں آئی ہوئی ہے۔ ”
“میں بالکل ٹھیک ہوں امی۔ آپ میری بات دھیان سے سنئے۔ ” اس نے حلق تر کرتے ہوئے بمشکل کہا۔
“ٹھہر میں صفیہ کو بلاتی ہوں۔۔۔ ”
“نہیں امی۔ رکئے۔ اسے مت بلائیے۔ میں جو کہہ رہا ہوں اسے غور سے سنئے۔ ” طاہر نے جلدی سے کہا۔ ” میں نے اسی لئے موبائل پر فون نہیں کیا کہ مجھے صرف آپ سے بات کرنا ہے۔ ”
“خیر تو ہے ناں بیٹا؟” وہ تشویش سے بولیں۔ گھبراہٹ ان کے لہجے میں نمایاں تھی۔
” آپ ڈاکٹر ہاشمی اور صفیہ کو لے کر نور پور میں بابا شاہ مقیم کے مزار پر پہنچ جائیں۔ ابھی چل پڑیں تو شام تک پہنچیں گے۔ میں آپ سے وہیں ملوں گا۔ ”
“مگر طاہر۔ وہاں کیوں بیٹا؟ تو سیدھا گھر کیوں نہیں آ رہا ؟” وہ بے طرح گھبرا گئیں۔
“میرے کندھوں پر بڑا بوجھ ہے امی۔ ” اس کی آواز بھرا گئی۔ ” میں یہ بوجھ لئے گھر تک نہ آ سکوں گا۔ آپ وہیں آ جائیے انکل اور صفیہ کو لے کر۔ ”
“بوجھ؟ کیسا بوجھ؟ ” وہ حیرت سے بولیں۔ ” سرمد تو خیریت سے ہے ؟ اور وہ تیرے ساتھ ہی ہے ناں ؟”
“ہاں امی۔ ” اس کی آواز بھیگ گئی۔ ” اسی کو تو کندھوں پر اٹھائے لا رہا ہوں۔ ”
“کیا۔۔۔ ؟” بیگم صاحبہ کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔
“ہاں امی۔ ” وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہتا گیا۔ ” وہ بالکل چپ ہو گیا ہے۔ بولتا ہے نہ چلتا ہے۔ خاموش لیٹا ہے۔ تابوت میں۔ ” اس کی ہچکی بندھ گئی۔
” طاہر۔۔۔ ” بیگم صاحبہ کے ہاتھ سے ریسیور گر پڑا۔
طاہر نے موبائل آف کیا اور بازو آنکھوں پر رکھ کر سسکیاں بھرنے لگا۔ اس کا دل ایسا رقیق تو کبھی بھی نہ تھا۔ نجانے کیوں آج کل وہ بات بے بات رونے لگتا تھا۔
ایک گھنٹے کا راستہ چالیس منٹ میں طے ہوا۔ عصر اتر رہی تھی جب وہ اس عارضی پتن پر جا پہنچے۔ پتن پر اس وقت بھی خاصے مسافر تھے۔ کشتیاں ایک درجن سے زائد موجود تھیں۔ طاہر نے ایک کشتی والے سے خود بات کی۔
“بابا شاہ مقیم تک جانا ہے بھئی۔ چلو گے؟”
” کتنے جی ہیں ؟” ملاح نے تابوت کی طرف نگاہ اٹھائی۔ “اور اس میں کیا ہے جی؟”
“پانچ جی ہیں اس تابوت سمیت۔ اور اس میں۔۔۔” طاہر کا حلق درد کر اٹھا۔ “اس میں ایک شہید ہے۔ ”
“سو بسم اللہ جی۔ کیوں نہیں چلیں گے۔ آ جائیں جی، آ جائیں۔ ” ملاح نے عقیدت سے کہا اور آگے بڑھ کر نصیر اور خادم حسین کے ساتھ مل کر تابوت کشتی میں رکھوانے لگا۔
چاروں عشاق ان دونوں سے بڑی گرمجوشی سے ہاتھ ملا کر رخصت ہو گئے۔ طاہر اور آدیش اگلے حصے میں جبکہ ریحا تابوت کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ ملاح نے جھک کر تابوت کو بوسہ دیا اور پتن پر کھڑے اپنے ساتھیوں کی طرف منہ کر کے بولا۔
“اوئے شیدو۔ گھر پر بتا دینا میں رات دیر سے لوٹوں گا۔ ”
“ارے فیقی۔ تو کہاں چل دیا۔ میں ادھر تیری دیہاڑی لگوانے کی بات کر رہا ہوں۔ ” شیدو دو قدم اس کی طرف چلا۔
“میرا دیہاڑا لگ گیا ہے ری۔ ” فیقا ہنسا۔ ” ایسا دیہاڑا جس میں نفع ہی نفع ہے۔ نصقان ہے ہی نہیں جانی۔ اللہ راکھا۔ ” اس نے کشتی پانی میں دھکیل دی۔ پھر اچھل کر کشتی میں سوار ہوا اور چپو سنبھال لئے۔ سیلاب کا پانی خاصا کم ہو چکا تھا مگر اب بھی کشتی چلنے کے لئے کافی تھا۔
ریحا نے تابوت پر سر رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ آدیش پہلو کے بل نیم دراز ہو گیا اور طاہر نے چھل چھل کرتے پانی پر نگاہیں جما دیں۔ وہ اپنے اس فیصلے پر غور کر رہا تھا جس کے تحت اس نے اچانک بابا شاہ مقیم کے مزار پر، درویش کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسے اب تک یہ پتہ نہ چل سکا تھا کہ وہ کون سا احساس تھا جو اس فیصلے کے روپ میں ایک دم اس پر حاوی ہو گیا تھا اور اس نے سوچے سمجھے بغیر اس پر عمل کر ڈالا۔ وہ کونسی طاقت تھی، جس نے اس کا راستہ بدل دیا تھا۔
اسی وقت ملاح نے تان لگائی اور اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا۔ ملاح کے لبوں سے نکلنے والے الفاظ اس کے دل و دماغ میں اودھم مچا رہے تھے۔
آ یا ماہی میرے ویہڑی
دُکھ دساں میں کیہڑے کیہڑی
بولے نہ بولے، واری جاواں
بس رکھے قدماں دے نیڑی
آیا ماہی میرے ویہڑی
شام ڈھل چکی تھی نیم اندھیرے جب نور پور کا وہ ٹبہ طاہر کو دور سے دکھائی دے گیا جہاں حافظ عبداللہ روزانہ آ کر منزل کیا کرتا تھا۔ اور ایک عجیب بات اور نظر آئی کہ بابا شاہ مقیم کا مزار روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ بجلی آ گئی تھی وہاں۔ اس نے ملاح کو ٹبے کی طرف جانے کو کہا۔ پھر ٹبے کو غور سے دیکھا تو اسے وہاں کچھ ہلچل محسوس ہوئی۔ اس کا دل سینے میں زور سے دھڑکا۔ وہاں کوئی موجود تھا۔ مگر کون؟ اس کا دل گواہی دے رہا تھا کہ وہاں جو کوئی بھی ہے، اس کے لئے اجنبی نہیں ہے۔
کشتی جونہی ٹبے کے قریب پہنچی، اس پر سب روشن ہو گیا۔ وہ درویش ہی تو تھا جو ٹبے سے اتر کر پانی کے کنارے کھڑا باہیں پسارے اسے پکار رہا تھا۔
“پگلی۔ آ گیا تو۔۔۔ لے آیا میرے دولہے کو۔ ارے دلہن بھی ہے ساتھ میں۔ ” وہ جیسے حیرت سے بولا۔
آدیش اور ریحا اس کی باتوں پر حیران ہو رہے تھے۔ طاہر سر جھکائی، دانت بھینچے اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ نجانے کیوں اس کا جی چاہ رہا تھا وہ چیخ چیخ کر روئی۔ یوں روئے کہ جیسے اسے چپ کرانے والا کوئی نہیں رہا۔
ملاح نے کشتی ٹبے کے پاس روکی۔ پانی میں اترا۔ رسہ کھینچ کر کشتی کنارے پر لگائی۔ طاہر نے کنارے پر قدم رکھا تو درویش نے اسے باہوں میں بھر لیا۔ اس کا ماتھا چوم لیا۔
“نہ ری۔ روتا کیوں ہے۔ پگلے کا پگلا ہی رہا۔” وہ اس کا َچہرہ ہاتھوں میں تھام کر بولا۔ “ارے زندوں کے لئے رونا گناہ ہے۔ جانتا نہیں کیا؟”
طاہر نے اثبات میں سر ہلایا اور ہچکیاں لے کر رو دیا۔ اس کا دل بس میں تھا ہی کب جو وہ درویش کی بات سہہ پاتا۔
“بس بس۔ آ، اسے کشتی سے اتاریں۔ وہ انتظار کر رہا ہے ہمارا۔ ” درویش نے اس کا بازو تھاما اور ملاح کے پاس پہنچا، جو ان کا منتظر کھڑا تھا۔
“لا بھئی نصیباں والیا۔ ہماری امانت اتار دے۔ ” درویش نے کہا تو ملاح نے “بسم اللہ” کہہ کر طاہر اور درویش کے ساتھ مل کر تابوت کشتی سے اتار کر ٹبے پر رکھ دیا۔ ریحا کو بازو سے لگائے کھڑا آدیش خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔
طاہر نے خود کو سنبھالا۔ جیب سے پرس نکالا کہ ملاح نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“سوہنیو۔ ساری کمائی خود ہی کر لو گے۔ کچھ ہمیں بھی کما لینے دو۔ ”
طاہر نے ملاح کو حیرت سے دیکھا۔
“ٹھیک کہتا ہے یہ پگلا۔ ” درویش نے ملاح کا شانہ تھپکا۔ ” جا بھئی جا۔ تیری منظوری ہو گئی۔ جا شاواشی۔ موجاں مان۔ دیہاڑا لگایا ہے تو نے دیہاڑا۔ جا بال بچے میں جا۔ ”
ملاح انہیں دعائیں دیتا ہوا رخصت ہو گیا۔ تب ایک دم طاہر کو احساس ہوا کہ ریحا اور آدیش بالکل چپ کھڑے ہیں۔
“بابا۔ یہ۔۔۔ ” طاہر نے ان کے بارے میں بتانا چاہا۔
“کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ آ جا۔ ادھر کتنے ہی لوگ کب سے تم سب کا انتظار کر رہے ہیں۔ آ جا۔ ” درویش نے کہا۔ پھر ریحا کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ” سسرال آ گئی ہے دھی رانی۔ ”
اور نجانے کیا ہوا کہ چیخیں مار کر روتی ہوئی ریحا درویش کے سینے سے لگ گئی۔ اس کی ہچکیاں بتاتی تھیں کہ کتنے آنسو تھے جو اس نے سینے میں روک رکھے تھے۔ آج بند ٹوٹا تو سب کچھ بہا لے گئی۔ صبر، قرار، چین۔ سب کچھ۔
“بس بس۔ میری دھی بس۔ سارے آنسو ابھی بہا دے گی کیا؟ انہیں سنبھال کے رکھ۔ ساری زندگی پڑی ہے۔ کہیں کم نہ پڑ جائیں۔ ” وہ اس کا سر تھپکتا رہا۔ آخر ریحا کو سکون آیا۔ تب درویش نے اسے الگ کیا اور آدیش کی طرف دیکھا۔
“تو بڑا قسمت والا ہے اللہ والیا۔ چل۔ آ جا۔ لے چل میرے دولہا کو پنڈال میں۔ آ جا۔ ”
نم دیدہ آدیش نے طاہر کے ساتھ مل کر سرمد کا تابوت اٹھایا اور بابا شاہ مقیم کے مزار کی طرف چل پڑی۔ درویش سب سے آگے اور ریحا ان سب کے پیچھے سر جھکائے چل رہے تھے۔
مزار کے پاس پہنچے تو طاہر کے قدم من من کے ہو گئے۔ اس سے چلنا مشکل ہو گیا۔ آنکھیں ایک بار پھر دھندلا گئیں۔ ہونٹ دانتوں میں دبانے پر بھی پھڑکتے رہے۔ اس کا حلق آنسوؤں سے لبالب ہو گیا۔ درد کی لہر خار بن کر سینہ چیرنے لگی۔
مزار کے باہر وہ سب کھڑے تھے۔ بے حس و حرکت۔ مجسموں کی طرح ایستادہ۔ ایک دوسرے کو سنبھالا دینے کی کوشش کرتے ہوئی۔ مگر یہ بتانے کی ضرورت کسے تھی کہ وہ ایک لٹے ہوئے قافلے کے مسافر تھی۔
٭
سرمد کا تابوت مزار کے سامنے برگد کے درخت تلے رکھ دیا گیا۔ وہاں تک مزار کے دروازے پر لگا بلب روشنی دے رہا تھا۔ ارد گرد کی ہر شے صاف دکھائی رہی تھی۔ طاہر تابوت رکھ کر سیدھا ہوا تو ڈاکٹر ہاشمی لرزتے کانپتے اس کے شانے سے آ لگے۔
“لے آئے میرے سرمد کو۔ ” ان کے لبوں سے کپکپاتی ہوئی آواز نکلی۔ طاہر نے تڑپ کر انہیں اپنے سینے میں چھپا لیا۔ قابلِ رشک صحت کے مالک ڈاکٹر ہاشمی کا جسم ایک بیمار بچے کا سا ہو رہا تھا۔ ہڈیوں کا وہ ڈھانچہ اگر ڈاکٹر ہاشمی تھا تو طاہر کے لئے اس پر یقین کرنا مشکل تھا۔
“انکل۔۔۔ ” وہ ضبط کھو بیٹھا۔
“رو لو۔ خوب رو لو۔ ” درویش نے ان کے قریب آ کر کہا۔ ” یہ آنسو محبت کے ہیں۔ دُکھ کے ہیں تو خوب رو لو لیکن اگر پچھتاوے کے ہیں تو ان کو روک لو۔ گناہ بن جائے گا تمہارا یہ رونا۔ میرے دولہے کے لئے بوجھ نہ بنانا ان آنسوؤں کو۔ ”
“نہیں بابا۔ ” ڈاکٹر ہاشمی طاہر کے سینے سے الگ ہو گئے۔ ” پچھتاوا کیسا؟پھر بھی اولاد تو ہے ناں۔ ”
“ہاں۔ اولاد تو ہے۔ ” درویش نے ڈاکٹر ہاشمی کی آنکھوں میں دیکھا۔ ” مگر کیسی اولاد ہے بابا، جس نے تیرا سر دونوں جہانوں میں فخر سے اونچا کر دیا۔ ارے کیسا نصیبوں والا ہے تو۔ کچھ پتہ ہے تجھے؟ آنسو بہا مگر اس خوشی پر بہا کہ اللہ نے، اس کے حبیب نے تیری اولاد کو اپنے لیے چُن لیا۔ ”
ڈاکٹر ہاشمی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے آنکھیں خشک کرنے لگے۔ اتنے ہی دنوں میں ان کی کمر جھک گئی تھی۔ وہ ایک دم بوڑھے ہو گئے تھے۔
اب اس کے سامنے بیگم صاحبہ اور صفیہ کھڑی تھیں۔ بیگم صاحبہ سفید لباس اور سفید چادر میں کوئی پاکیزہ روح لگ رہی تھیں۔ اسے سینے سے لگا کر دل کی پیاس بجھائی۔ ماتھا چوما اور آنسو اپنے پونچھنے لگیں۔
“صفو۔ ” اس نے روتی ہوئی صفیہ کی جانب دیکھا۔ وہ بلک کر اس کے سینے سے لگ گئی۔
یہ آنسو کیا کچھ نہ کہہ رہے تھے؟ دونوں سن رہے تھے۔ سمجھ رہے تھے۔
“طاہر صاحب۔ ” ایک آواز سن کر اس نے صفیہ کو خود سے الگ کیا اور گردن گھمائی۔ حافظ عبداللہ، سکینہ کے ساتھ اس کے بائیں طرف کھڑا تھا۔ طاہر نے اسے بھی گلے لگایا۔ سکینہ سر جھکائے چپ چاپ کھڑی رہی۔ حافظ عبداللہ نے اپنا لنجا ہاتھ بڑھایا تو طاہر نے اسے دونوں ہاتھوں میں تھام کر چوم لیا اور آنسو بہاتی سکینہ نجانے کیوں مسکرا پڑی۔
درویش نے سرمد کا تابوت، حافظ عبداللہ کے ساتھ مل کر اٹھایا اور آگے لا کر مزار کے پاس پوری طرح روشنی میں رکھ دیا۔ طاہر کے وضو کر کے لوٹ آنے پر درویش نے تابوت کے سرہانے کھڑے ہو کر اس کی جانب دیکھا جو اس سے کچھ دور رک گیا تھا۔
“پگلے۔ تو نے مجھ سے عشق کے قاف کے بارے میں پوچھا تھا۔ یاد ہے ناں ؟ ”
” ہاں بابا۔ ” طاہر نے اس کی جانب دیکھا۔
“تو لی۔ آج عشق کے قاف سے بھی آشنا ہو جا۔ ” درویش نے آنکھیں بند کر لیں۔ “عشق کا قاف۔۔۔ تجھے یاد ہے پگلے۔ سرمد کے آخری الفاظ کیا تھے؟”
“ہاں بابا۔ ” طاہر نے آنکھیں بند کر کے جیسے کچھ یاد کرنا چاہا۔
“تو دہرا ذرا ان کو۔ ” درویش کی آنکھیں بھی بند ہو گئیں۔ حافظ عبداللہ، آدیش اور ڈاکٹر ہاشمی خاموشی بھری حیرت مگر پورے دھیان سے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ سکینہ، صفیہ اور ریحا کا بھی یہی حال تھا۔
” اس نے کہا تھا۔ قل ھواللہ احد۔۔۔ ”
“تو عشق کا قاف سمجھ میں نہیں آیا اس وقت تجھے؟” ایک دم درویش نے آنکھیں کھول دیں۔
“بابا۔۔۔ ” طاہر کا اندر باہر جیسے روشن ہو گیا۔ اس نے ایسی نظروں سے درویش کو دیکھا جن میں حیرت کے ساتھ ساتھ ادراک کی لپک بھی تھی۔
“ہاں رے۔ ” درویش کے ہونٹوں پر بڑی پُراسرارمسکراہٹ تھی۔ ” عشقِ مجازی جب انسان کا ہاتھ عشقِ حقیقی کے ہاتھ میں دیتا ہے تو شہادت مانگتا ہے اس کے ایک ہونے کی۔ اس کے احد ہونے کی۔ اس کے لاشریک ہونے کی۔ جانتا ہے کیوں پگلے؟”درویش نے اس کی جانب مستی بھری نگاہوں سے دیکھا۔
“کیوں بابا؟” طاہر نے یوں پوچھا، جیسے کسی سحر میں گرفتار ہو۔ اس کی آواز میں عجیب سا کیف چھلک رہا تھا۔
“اس لئے کہ عشق کی انتہا ہے عشق کا قاف۔ وہ جو عشق کا سب سے پہلا مبتلا ہے اس نے جب چاہا کہ خود کو دیکھے، تو اس نے اپنے نور سے ایک مٹھی بھری اور کہا۔ “محمد ہو جا۔ ” اور جب اس کا اپنا نور مجسم ہو کر اس کے سامنے آ یا تو وہ خود اپنے نور پر عاشق ہو گیا۔ اس نے اپنے نور کو اپنا حبیب بنا لیا۔ کہا۔ “میرا حبیب ہو جا۔ “پھر دوئی کا تصور تک مٹانے کے لئے، اس نے اپنے حبیب سے اپنے ہونے کی، اپنے احد ہونے کی، اپنے واحد ہونے کی شہادت چاہی اور کہا۔ “قل (کہہ دے)۔ ”
حبیب نے پوچھا۔ “کیا کہہ دوں ؟”
محب نے فرمایا۔ “قل ھو اللہ احد۔۔۔ کہہ دے شہادت دے کہ اللہ ایک ہے۔ ”
حبیب نے شہادت دی اس کی وحدانیت کی۔ اس کے لا شریک ہونے کی۔ اس کے احد ہونے کی۔ اس کے خالق ہونے کی۔ اس کے معبود ہونے کی۔ اس کی وحدانیت کی گواہی دینا اس کے حبیب کی سب سے پہلی سنت ہے۔

* * *

پھر جب اس نے آدم کو بنایا تو اس میں عشق کا یہ جذبہ سب سے پہلے ودیعت کیا۔ عشق۔۔۔ اسی خالقِ واحد کی سنت ہے جسے جو اختیار کرتا ہے، اسے پہلے عشقِ مجازی کی سیڑھی چڑھنا پڑتی ہے۔ عشق کے عین یعنی عبادت، عجز اور عبودیت کے بعد عشق کے شین یعنی شک کی باری آتی ہے۔ تب بندے کو سمجھایا جاتا ہے کہ اپنے خلوص میں ، اپنے جذب میں ، اپنے عشق کی انتہا کے بارے میں ہر وقت اس شک میں مبتلا رہے کہ ابھی اس میں کچھ کمی ہے۔ اس شک سے اپنے عشق کو مہمیز کرتا رہی۔ بتایا جاتا ہے کہ جس سے عشق کیا جاتا ہے اس کی توجہ پانے کے لئے، اس کی نظر میں جگہ پانے کے لئے اس کی عزیز ترین شی، جس سے وہ خود بے پناہ پیار کرتا ہو، کو اپنا حبیب بنا لیا جائے۔ پگلے۔ یہ وہ پڑاؤ ہے جس کے بعد منزل ہی منزل ہے۔ اللہ کا حبیب جس کے لئے اس نے کائنات یہ کہہ کر بنائی کہ “اے حبیب۔ اگر ہم نے آپ کو پیدا نہ کرنا ہوتا تو کچھ بھی نہ بناتے”۔ بندہ اس پڑاؤ پر اپنے معبود کے محبوب کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اپنے عشق، اپنے جذبے، اپنے خلوص میں کمی کا شک انسان کو اس مقام پر لے جاتا ہے جہاں انسان اپنے اللہ کے حبیب کے عشق میں یوں بے خود ہو جاتا ہے کہ سمیعہ جان ہار کر اسلام کی پہلی شہید ہونے کا اعزاز پاتی ہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ جان دینا قبول کر لیتی ہیں مگر اپنے حبیب کے بارے میں ناگوار کلمہ زبان پر لانا پسند نہیں کرتیں۔ تب اپنے بندے کو اپنے حبیب کے عشق میں مجذوب دیکھ کر محبوبِ برحق اس کے لئے عشق کا تیسرا پردہ بھی اٹھا دیتا ہے اور۔۔۔۔ اس مقام پر عشق کا قاف نمودار ہوتا ہے۔ تب بلال ” احد احد ” پکارتا ہے۔ اسے تپتی ریت پر لٹایا جاتا ہے۔ دہکتے انگاروں پر ڈالا جاتا ہے۔ ناک میں نکیل دے کر بازاروں میں گھمایا جاتا ہے۔ کانٹوں پر گھسیٹا جاتا ہے۔ کوڑوں سے کھال ادھیڑی جاتی ہے مگر ۔۔۔ اس کے لبوں سے احد احد کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔۔۔ قل ھو اللہ احد۔۔۔ عشق کا قاف نمودار ہوتا ہے تو حسین کے گلے پر خنجر چلتا ہے مگر احد احد کی پکار ہر قطرہ خون سے بلند ہوتی ہے۔ تن سے جدا ہو جاتا ہے مگر سر نیزے پر آویزاں ہو کر بھی قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ یہ تلاوت وہ پیار بھری، محبت بھری گفتگو ہے جس کا عنوان عشق کا قاف ہے۔ عشق کا قاف جس پر نازل ہو جاتا ہے ناں۔ اسے کسی دُکھ، کسی تکلیف کا احساس نہیں رہتا۔ اسے ہر درد میں لذت اور ہر چوٹ میں سرور ملتا ہے۔ عشق کے قاف کی مستی ہی ایسی ہے کہ جسے اپنی باہوں میں لے لے اسے اپنے معبود کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں۔ اور جسے اس کے سوا کچھ نہیں سوجھتا وہ اس کے حضور مقبول ہونے کے لئے کیا کرے۔ اپنی جان نہ دے دے تو کیا کرے؟” درویش کے لبوں سے چیخ کی صورت ایک نعرہ مستانہ نکلا اور اس نے اپنا گریبان تار تار کر ڈالا۔
“بابا۔ ” طاہر نے بمشکل پلکیں وا کیں۔ اسے لگ رہا تھا اس کی آنکھوں پر مستی کا، سرور کا، کیف کا بے اندازہ بوجھ ہے جو اس سے اٹھائے نہیں اٹھ رہا۔
“ہاں۔ ” وہ پھر چیخا۔ ” وہ اس پر اپنی جان نہ دے دے تو کیا کرے۔ اس سے بڑھ کر اس کے پاس ہے کیا جو وہ اس کی نذر کرے۔ ” وہ روتا ہوا گھٹنوں کے بل گر پڑا۔
“قل ھو اللہ احد۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔ اس کے واحد، محبوبِ اول اور عزیز ترین ہونے کی شہادت۔ اور شہادت لکھی کس سے جائے گی پگلی۔ خون سے۔ اپنے خون سے۔ زبانی کہہ دینا کیا کافی ہوتا ہے؟ نہیں۔ ہر گز نہیں۔ شہادت دی ہے تو اسے لکھا بھی جائے گا اور عشق، اپنے عاشق کو اپنی دلہن تب مانتا ہے جب سرخ جوڑا پہن کر شہادت دی جائے۔ اپنے خون میں ڈبویا ہوا سرخ جوڑا۔ عشق کا قاف۔۔۔ قل ھواللہ احد۔۔۔ اس کی وحدانیت کی گواہی۔ اس کے لاشریک ہونے کی گواہی۔ اس کے محبوب ترین ہونے کی گواہی۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔ عشق کا قاف۔۔۔ ” درویش کہتا ہوا زمین پر سر بسجود ہو گیا۔ ایک لمحے بعد طاہر بھی لہراتا ہو ا اس کے قریب ڈھیر ہو گیا۔
سب لوگ گونگے بہرے بنے چپ چاپ کھڑے دیکھ رہے تھے۔ سن رہے تھے۔ کسی کے جسم و جان میں اتنی ہمت نہ تھی کہ آگے بڑھ کر ان میں سے کسی ایک کو بھی اٹھاتا۔
پھر حافظ عبداللہ نے اپنی جگہ سے حرکت کی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ان کے قریب آیا اور جھجکتے جھجکتے درویش کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ پھر گھبرا کر ایک دم اس نے ہاتھ کھینچ لیا۔ اسے لگا جیسے اس نے جلتا ہوا انگارہ چھو لیا ہو۔
اسی وقت درویش کے جسم میں حرکت ہوئی۔ وہ آہستہ سے اٹھا اور اشکوں میں تر اس کا چہرہ دیکھ کر ان کے دل موم کی طرح پگھل گئی۔ ان کا جی چاہا، اس نرم و گداز چہرے کو دیکھتے رہیں۔ تکتے رہیں۔
درویش نے پاس پڑے طاہر کی جانب دیکھا اور اس کی آنکھوں میں بے پناہ پیار امڈ آیا۔ اس نے طاہر کے شانے پر ہاتھ رکھا۔
“پگلے۔ ” دھیرے سے اس نے پکارا۔ “ابھی بات باقی ہے رے۔ اٹھ جا۔ ”
اور طاہر زمین سے اٹھ گیا۔ اس کا چہرہ۔۔۔ اس کا اپنا چہرہ لگتا ہی نہ تھا۔ عجیب سا نور چھایا ہوا تھا اس پر۔ آنکھیں بڑی مشکل سے کھول کر اس نے درویش کی جانب دیکھا۔
“اٹھ جا رے۔ ” درویش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑ اکر دیا۔ ” آ۔ اب آخری بات سمجھا بھی دوں تجھے اور دکھا بھی دوں۔ “وہ اس کا ہاتھ تھامے تابوت کے سرہانے آ کھڑا ہوا۔
“تم سب لوگ بھی آ جاؤ۔ کیا اپنے شہید کا، عشق کے قاف کے گواہ کا دیدار نہ کرو گے؟”
درویش نے کہا تو سب لوگ یوں دبے پاؤں چلتے ہوئے تابوت کے پاس آ گئے، جیسے ان کی ذرا سی آہٹ سرمد کے آرام میں خلل ڈال دے گی۔ حافظ عبداللہ، آدیش اور ڈاکٹر ہاشمی درویش کے بالکل سامنے اور سکینہ، ریحا، بیگم صاحبہ اور صفیہ تابوت کے پیروں کی جانب تھیں۔
“وہ جو عشق کا خالق ہے۔ جب اس کا بندہ اس کے عشق کے قاف، اس کی وحدانیت کی گواہی اپنے خون سے دیتا ہے ناں تو وہ اس کے لئے پہلا انعام تو یہ رکھتا ہے کہ وہ اس سے راضی ہو جاتا ہے اور اسے اپنے حضور اذنِ باریابی دے دیتا ہے۔ ” درویش نے ایک انگلی اٹھائی۔
“دوسرا انعام یہ دیتا ہے کہ اس کی شہادت، اس کی گواہی دینے پر اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اس کی شہادت، اس کی قربانی قبول فرما لیتا ہے۔ “اس نے دوسری انگلی اٹھائی۔
“اور تیسرا انعام یہ دیتا ہے کہ اپنے شہید کو عمرِ جاوداں ، ابدی زندگی، لازوال حیات عطا کر دیتا ہے۔ وہ بظاہر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اسے قبر میں بھی اتار دیا جاتا ہے مگر وہ فرماتا ہے کہ “جو اس کی راہ میں شہید کئے جائیں ، انہیں مردہ مت کہو۔ وہ زندہ ہیں۔ انہیں اس کے ہاں سے رزق دیا جاتا ہے مگر ہم لوگوں کو ان کی زندگیوں کا شعور نہیں۔ ” درویش نے تیسری انگلی اٹھائی۔
سب لوگ حیرت سے بُت بنے درویش کی جانب دیکھ رہے تھے۔ اس کی باتیں ان کے دلوں میں اتر رہی تھیں۔ کانوں میں رس گھول رہی تھیں۔ جی چاہتا تھا وہ کہتا رہے اور یہ سنتے رہیں۔ عمر تمام ہو جائے مگر اس کی بات نہ رکے۔
“وہ جو کہتا ہے اس کا دوسرا کوئی مفہوم نہیں ہوتا۔ ” درویش نے ان کے خوابیدہ چہروں پر نگاہ ڈالی۔ ” اگر اس نے کہا کہ شہید زندہ ہے تو وہ زندہ ہے۔ یہ دیکھو۔ ”
درویش نے تابوت سے تختہ اٹھا دیا۔
وقت رک گیا۔ لمحے ساکت ہو گئی۔ ہر شے کو قرار آ گیا۔ صرف ایک انجانی خوشبو تھی جو ان کے سروں پر تھپکیاں دے رہی تھی۔ انہیں اندر باہر سے جل تھل کر رہی تھی۔ ان کے چاروں طرف، اوپر نیچے، ہر طرف اسی ایک مہک کا راج تھا۔
ان کی نظروں کے سامنے سرمد کا چہرہ کیا آیا، دل دھڑکنا بھول گئے۔ پلکوں نے حرکت کرنا چھوڑ دیا۔ دماغوں سے شعور کی گرفت ختم ہو گئی۔ ان کے جسم تنکوں سے ہلکے ہو کر جیسے ہوا میں اڑنے لگے۔ وہ حیرت اور عقیدت کے سمندر میں غوطے کھا رہے تھے۔
گلاب جیسے ترو تازہ سرمد کے لبوں پر ایک ابدی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ اس کے جسم کے ہر زخم سے خون رِس رہا تھا۔ رِس رِس کر تابوت کی تہہ میں جم رہا تھا۔ اس کے دل کے زخم پر مانیا نے شال کا جو ٹکڑا باندھا تھا، وہ اب بھی زخم سے نکلنے والے خون میں تر ہو رہا تھا۔ ایک لازوال سکون کے ہالے میں دمکتے سرمد کے چہرے سے یوں لگتا تھا کہ وہ ابھی آنکھیں کھول دے گا۔ ابھی بول اٹھے گا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے حافظ عبداللہ کا ہاتھ تھام کر اپنے امڈ آنے والے آنسوؤں کو راستہ دے دیا۔ بیگم صاحبہ کی نم آنکھیں ، سکینہ کی آنکھوں میں چھاتی ہوئی دھند اور۔۔۔ صفیہ کا لرزتا کانپتا جثہ، اس بات کا شاہد تھا کہ ان میں سے کسی کو بھی سرمد کی موت کا یقین نہیں آ رہا۔
” یہ کیسے ہو سکتا ہے؟” اچانک آدیش کی آواز نے انہیں چونکا دیا۔ اس نے کہا اور ریحا کی طرف دیکھا، جو اسی کی طرح نظروں میں بے اعتباری لئے سرمد کے چہرے اور زخموں کو حیرت سے تک رہی تھی۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ اسی وقت درویش نے آدیش کی جانب نگاہ کی۔
“کیا نہیں ہو سکتا رے؟ کچھ ہمیں بھی تو بتا۔ ” اس کے ہونٹوں پر بڑی پُراسرار مسکراہٹ تھی۔ اس نے آہستہ سے ساتھ کھڑے طاہر کا ہاتھ تھام کر ہولے سے تھپتھپایا جس کے چہرے پر حیرت کے بجائے ایک فخر، ایک ناز دمک رہا تھا۔
“یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ ” آدیش نے دایاں ہاتھ سرمد کے چہرے کی طرف دراز کر دیا۔ “یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ”
“کھل کر بول ناں۔ ” درویش نے اسے ڈانٹا۔ “کیوں سب کو خلجان میں مبتلا کر رہا ہے۔ کیا نہیں ہو سکتا؟ بول۔ ”
آدیش کا ہاتھ پہلو میں بے جان ہو کر گر پڑا۔ اس نے ایک نظر پاگلوں کی طرح سرمد کے چہرے کو تکتی ریحا کو دیکھا پھر سرمد کے چہرے پر نگاہ جما دی۔
“جس رات سرمد کو قتل کیا گیا، اس دن صبح میں نے اپنے سامنے اس کی شیو کرائی۔ خود اس کے ناخن تراشے تھے۔ اس بات کو آج آٹھ سے دس دن ہو چکے ہیں مگر ۔۔۔ “اس کی آواز حلق میں پھنس گئی۔
“مگر۔۔۔” درویش نے طاہر کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ “مگر آج اس کے ناخن بھی بڑھے ہوئے ہیں اور داڑھی بھی۔ کیوں ؟ یہی بات ہے ناں ؟”اس نے آدیش کی جانب بچوں جیسی خوشی سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں۔۔۔ ” آدیش کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی۔
“یہی سیدھی سی بات تو میں سمجھا رہا ہوں تمہیں۔ ” درویش نے مست آواز میں کہا۔ “میرے اللہ نے کہا کہ شہید وہ ہے جو اس کی راہ میں جان دے اور یہ کہ شہید زندہ ہے، اسے رزق دیا جاتا ہے۔ عشق کے قاف کا نکتہ سمجھانے کے لئے یہ شہید کہاں سے چل کر یہاں آیا ہے؟ کیا کسی مردے کے ناخن اور بال بڑھتے ہیں ؟ نہیں ناں۔ تو اور شہید کیسے بتائے کہ وہ زندہ ہے۔ کہو تو ابھی زبان سے اس کی وحدانیت کی گواہی دے دے۔ مگر سوچ لو کیا تم اسے برداشت کر سکو گے؟ کچھ اور ثبوت درکار ہے تمہیں ؟”
“نہیں بابا نہیں۔ ” آدیش نے نفی میں سر ہلایا۔ ” اب کسی گواہی، کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ سب کچھ روشن ہو گیا۔ سب کچھ عیاں ہو گیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ محمد اس کے رسول ہیں۔ ” اس نے یوں کہا جیسے کوئی ماورائی طاقت اس سے کہلوا رہی ہے۔ ” اشھد ان لا الٰہ الا اللہ و اشھد ان محمد رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ” اس کے لبوں سے نکلا اور وہ لڑکھڑا کر زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔ گرتے گرتے اس کے ہاتھ تابوت کی دیوار پر آ ٹکی۔ اس نے ماتھا ہاتھوں کے درمیان تابوت کی دیوار پر ٹیک کر آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے ہونٹ اب بھی متحرک تھے۔
“سرمد۔۔۔ ” اچانک ریحا کی بھیگی ہوئی سرگوشی نے ان سب کے حواس پر تھپکی دی۔ وہ تابوت میں لیٹے سرمد کے چہرے کو والہانہ دیکھے جا رہی تھی۔ ” میں جان گئی تم زندہ ہو سرمد۔ میں تمہارے سامنے تمہارے سچے معبود کا کلمہ پڑھتی ہوں۔ وہ جس کا فرمان اتنا سچا ہے وہ خود کیسا سچا ہو گا؟ گواہ رہنا سرمد۔ میں نے تمہارے سامنے اس کی سچائی کا دامن تھاما ہے۔ ” ایک پل کو رک کر اس نے سسکی لی۔ پھر کہا۔ ” اشھد ان لا الٰہ الا اللہ و اشھد ان محمد رسول اللہ۔ ”
“جب بھی اس کے حبیب کا نام لو ریحا۔ اس پر درود ضرور بھیجو۔ سرمد کا آخری ورد یہی تھا۔ ” آدیش نے سر اٹھایا اور ریحا کی جانب دیکھ کر کہا۔ “کہو۔ محمدرسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ”
“محمد رسول اللہ۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ” ریحا نے بے اختیار کہا اور سرمد کے پیروں کی طرف زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
“واہ۔۔۔ واہ میرے رب۔ ” درویش جھوم اٹھا۔ “کس کے نصیب میں کیا ہے اور اسے کہاں جا کر ملے گا، صرف تو جانتا ہے۔ صرف تو۔ “پھر اس نے حافظ عبداللہ کی جانب دیکھا۔ “حافظ۔ جا۔ ان کو وضو کرا لا۔ رات بہت جا چکی ہے۔ اب شہید سے اجازت لے لیں۔ ”
حافظ عبداللہ آدیش اور ریحا کو لے کر ہینڈ پمپ کی طرف چل دیا۔
“کیوں بابا۔ ” درویش نے جھکی کمر کے ساتھ کھڑے ڈاکٹر ہاشمی کی جانب مسکرا کر دیکھا۔ “کچھ قرار آیا۔ کچھ چین ملا۔ کچھ سکون ہوا؟”
“ہاں بابا۔ ” ڈاکٹر ہاشمی نے کمر پر ہاتھ رکھ کر سیدھا ہوتے ہوئے کہا۔ “اب کوئی دُکھ نہیں۔ کوئی غم نہیں۔ اولاد کے چلے جانے کی پھانس تو آخری دم تک دل میں کسک بن کر چبھتی رہے گی مگر ۔۔۔ ” انہوں نے سرمد کے پُرسکون چہرے کو یوں دیکھا جیسے اس کی شبیہ دل میں اتار لینا چاہتے ہوں۔ ” اب بے قراری نہیں رہی۔ چین آ گیا ہے۔ سرمد نے مجھے ایک شہید کا باپ ہونے کا جو اعزاز دلایا ہے، اس کے بعد اب کوئی بے چینی، کوئی بے سکونی نہیں رہی۔ میرے اللہ۔ ” انہوں نے آسمان کی جانب دیکھا۔ ” تیرا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ پھر بھی اپنے اس ناقص بندے کا شکر قبول فرما۔ الحمد للہ۔ الحمد للہ۔ الحمد للہ۔ ” انہوں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر پیشانی ان پر ٹکا دی اور سر جھکا لیا۔
درویش جو انہیں مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا، ایک دم چونک پڑا۔ اس نے ٹبے کی طرف سے آنے والے راستے پر نگاہ جمائی۔ پھر بڑبڑایا۔ “وقت ہو گیا بابا۔ ” پھر اس نے حافظ عبداللہ کے ساتھ وضو کر کے لوٹتے ان دونوں کو دیکھا۔ وہ پاس آ گئے تو درویش نے اپنے کندھے سے رومال اتارا اور ریحا کے سر پر دوپٹے کی طرح ڈال دیا۔ اس کا چہرہ یوں چھپ گیا جیسے اس نے گھونگٹ نکال لیا ہو۔
“سب لوگ شہید کا آخری دیدار کر لو۔ رخصتی کا وقت ہو گیا ہے۔ ” درویش نے ذرا اضطراب سے کہا اور خود تابوت سے ذرا ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔
وہ ایک دائرے کی شکل میں سرمد کے گرد آن کھڑے ہوئی۔ ان کا جی ہی نہ بھرتا تھا۔ مگر کب تک۔ آخر کتنی ہی دیر بعد نہ چاہتے ہوئے بھی سسکیوں اور آہوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے وہ ایک طرف ہٹ گئے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے جھک کر سرمد کے ماتھے پر بوسہ دیا اور طاہر انہیں پرے لے گیا۔ بیگم صاحبہ نے سرمد کے گال کو چھو کر اپنی انگلیاں چوم لیں۔ سکینہ نے اسے سر جھکا کر سلام کیا اور صفیہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتی ہوئی الٹے پاؤں لوٹ گئی۔
آدیش نے سرمد کو سیلوٹ کیا۔ جھک کر اس کے پاؤں چھوئے اور ایک طرف تن کر کھڑا ہو گیا جیسے پہرہ دے رہا ہو۔
طاہر لوٹا۔ چند لمحے سرمد کے چہرے کو والہانہ دیکھتا رہا۔ پھر اس نے ریحا کی جانب دیکھا جو سرمد کے پیروں کی جانب آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑے ہاتھ باندھے یوں خاموش کھڑی تھی جیسے کوئی من ہی من میں اپنے دیوتا کی پوجا کر رہا ہو۔ طاہر نے سرمد کی اوپری جیب سے خون میں بھیگا ہوا رومال نکالا جس میں مدینہ شریف کی مٹی بندھی تھی اور درویش کی جانب بڑھا دیا۔ اس نے اسے کھولا۔ ہتھیلی پر رکھ کر غور سے دیکھا۔ مٹی سرمد کے خون سے بھیگی ہوئی تھی۔ اس نے اسے بوسہ دیا اور حافظ عبداللہ کی طرف بڑھا دی۔
“اسے شہید کی قبر کی مٹی میں ملا دو حافظ۔ ”
حافظ عبداللہ نے چپ چاپ مٹی والا رومال لیا اور مزار کے صحن میں کھدی قبر کی طرف بڑھ گیا۔ مدینہ شریف کی مٹی۔ اللہ کے حبیب کے دیار کی مٹی۔ ایک عاشق کی قبر کی مٹی میں ملا دی گئی۔ نصیب ایسے بھی تو اوج پر آتے ہیں۔
اس وقت اچانک درویش ریحا کے قریب آیا۔ سرمد کے دل کے زخم سے رِستے لہو میں شہادت کی انگلی ڈبوئی اور وہ لہو ریحا کی مانگ میں بھر دیا۔
“سدا سہاگن رہو۔ سہاگ کا یہ جھومر سدا تمہارے ماتھے پر جگمگاتا رہے میری بچی۔ ” درویش نے کہا اور ایک دم ریحا کا چہرہ کھل اٹھا۔ اس کے چہرے پر سرخی بکھر گئی۔ اشک برساتی آنکھوں میں مسکراہٹ کے دیپ جل اٹھے۔ اس نے آخری بار سرمد کے چہرے کو جی بھر کے دیکھا پھر آنکھیں موند کر پیچھے ہٹ گئی۔ وہ اس کے چہرے کو ہمیشہ کے لئے اپنے قصر تصور میں سجا لینا چاہتی تھی۔
تب طاہر نے جھک کر سرمد کے چہرے کو دونوں ہاتھوں کے ہالے میں لیا۔ اسے پیار کیا اور دل پر جبر کر کے سیدھا کھڑا ہو گیا۔ درویش آگے بڑھا اور تابوت کا تختہ گرا دیا۔ پھر اس نے طاہر کے ساتھ مل کر تابوت کو ایک طرف یوں رکھا کہ اس کے پیچھے صف باندھ کر کھڑا ہونے کی جگہ کشادہ ہو گئی۔
” آؤ بھئی۔ نماز کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ ” اس نے مردوں کو اشارہ کیا۔ ڈاکٹر ہاشمی، آدیش، طاہر اور حافظ عبداللہ اس کے پاس چلے آئی۔ عورتیں ان سے آٹھ دس فٹ دور برگد تلے خاموش کھڑی تھیں۔
“امامت آپ کرائیں بابا۔ ” حافظ عبداللہ نے درویش کی جانب دیکھ کر کہا۔
“نہیں۔ ” درویش نے اندھیرے میں ایک طرف نظریں گاڑ دیں۔ ” امام وہ آ رہا ہے۔ ” اس نے اشارہ کیا۔
ان چاروں نے حیران ہو کر اس طرف دیکھا۔ مزار کی پچھلی طرف سے آنے والے راستے پر کوئی چلا آ رہا تھا۔ سفید براق لباس میں اس کے سر پر سفید عمامہ اور اس پر سفید ہی رومال اس طرح پڑا تھا کہ اس کا چہرہ نظر آنا ممکن نہیں تھا۔ درویش نے ڈاکٹر ہاشمی اور آدیش اپنے کو بائیں اور طاہر اور حافظ عبداللہ کو دائیں کھڑا کر لیا۔
بڑے نپے تلے قدم اٹھاتا وہ شخص آیا اور “السلام علیکم و رحمت اللہ”کہتا ہواسیدھا سرمد کے تابوت کے سامنے امام کی جگہ جا کھڑا ہوا۔ چاروں عورتیں حیرت اور اچنبھے سے آنے والے کو دیکھ رہی تھیں۔ اور حیرت میں تو حافظ عبداللہ بھی گم تھا۔ اس نے یہ آواز پہلے بھی سنی تھی۔ مگر کہاں ؟ اس کا دماغ الجھ گیا۔
اسی وقت امام نے تکبیر کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے۔
“اللہ اکبر۔ ” اس کے لبوں سے بڑی گمبھیر سی آواز نکلی۔
“اللہ اکبر۔ ” مقتدیوں کے لبوں سے ادا ہوا۔۔۔ اور مقتدیوں میں حافظ عبداللہ بھی تو تھا، جس کا دماغ یاد داشت کے ورق الٹ رہا تھا۔
“السلام علیکم و رحمت اللہ۔ ” امام نے باری باری دائیں بائیں سلام پھیر ا۔ سب نے اپنی اپنی جگہ چھوڑ دی۔ امام نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور رومال میں چھپے چہرے کو اور بھی سینے پر جھکا لیا۔ پھر جب اس نے ” آمین” کہتے ہوئے چہرے پر ہاتھ پھیرے تو ان سب نے بھی آمین کہہ کر دعا ختم کر دی۔ حافظ عبداللہ نے چاہا کہ آگے بڑھ کر اس پراسرار ہستی کو جا لے مگر جب تک وہ اپنے جوتے پہنتا، آنے والا “السلام علیکم و رحمت اللہ” کہہ کر رخصت ہو گیا۔ ان سب نے چاہا کہ اس کا رستہ روکیں۔ اس سے آگے بڑھ کر ملیں۔ مگر ان کے قدم من من بھر کے ہو گئے۔ پھر جب تک وہ لوگ ہوش میں آتے، جانے والا مزار کی دیوار کے ساتھ مڑ کر اندھیرے میں غائب ہو چکا تھا۔
اور اس وقت اچانک حافظ عبداللہ کو یاد آ گیا کہ اس نے یہ آواز کہاں سنی تھی؟اس کے ہوش و حواس میں طوفان برپا ہو گیا۔ یہ وہی آواز تو تھی جو اس نے اس وقت سنی تھی جب وہ سکینہ کو سیلاب کے پانی سے نکال کر لایا تھا۔ درویش کے کمرے کے باہر رکا تو اندر سے امام کی اسی آواز میں مغرب کی نماز میں قرات کی جا رہی تھی۔ وہ اس آواز کو ہزاروں لاکھوں میں پہچان سکتا تھا۔
“یہ۔۔۔ یہ کون تھے بابا؟” حافظ عبداللہ نے درویش کو بے قراری سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ اس کی نظریں خالی رستے پر بار بار بھٹک رہی تھیں۔
“یہ۔۔۔ ” درویش ہنسا۔ “اولیاء اللہ زندہ ہوتے ہیں حافظ۔ وہ خود زندہ ہے تو اس کے دوست بھی تو زندہ ہی ہوں گے ناں۔ مُردوں سے تو اس کی دوستی ہونے سے رہی۔ زندہ کی نماز زندہ ہی پڑھائے گا ناں۔ مسافر ہوتا تو قصر پڑھتا۔ مقیم تھا۔ پوری پڑھا کر گیا۔ ”
حافظ عبداللہ کو تو پتہ نہیں اس بات کی سمجھ آئی یا نہیں ، مگر طاہر کا اندر باہر روشن ہو گیا۔ اس نے بابا شاہ مقیم کے مزار کی جانب دیکھا جو روشنیوں میں بقعہ نور بنا اسے مسکرا مسکرا کر تک رہا تھا۔ پلٹ کر اس نے درویش کی طرف دیکھا جس کے لبوں پر بڑی دل آویز مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ پھر اس کی دلوں کو چھو لینے والی آواز ابھری۔
“چلو بھئی۔ کندھا دو۔ شہید کو اس کے مسکن تک چھوڑ آئیں۔ ”
طاہر جلدی سے آگے بڑھا۔ ان پانچوں نے تابوت کندھوں پر اٹھایا اور مزار کی طرف چل پڑی۔ جس کے صحن میں سرمد کا مسکن اس کا منتظر تھا۔ سرمد۔۔۔ جس پر عشق کا قاف نازل ہو گیا تھا۔ وہ سرمد، جو عشق کے قاف کی گواہی دینے کے لئے بڑی دور سے آیا تھا تھک گیا تھا۔ اب اسے آرام کرنا تھا۔
درویش سب سے آگے تھا۔ اس نے قدم اٹھایا اور بلند آواز میں صدا دی:
“کلمہ شہادت۔ ”
“اشھد ان لا الٰہ الا اللہ۔ وحدہ، لا شریک لہ، و اشھد ان محمداً عبدہ، و رسولہ۔ “جواب میں ان کے ہونٹوں پر بے اختیار وردِ اکبر جاری ہو گیا۔
چہار جانب احدیت اور رسالت کے نور نے پر پھیلا دئیے۔ ہر دل کی دھڑکن میں یہی الفاظ سانس لے رہے تھے۔
دور آسمانوں میں فرشتے عشق کے قاف کے کشتہ کے استقبال کے لئے نغمہ سرا تھے:
“قل ھو اللہ احد۔ ”
فرش سے عرش تک حور و غلماں زمزمہ پیرا تھے:
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ ”
دور برگد تلے صفیہ کے کندھے سے لگی کھڑی ریحا کا دل پھڑکا۔ اس کا سرمد پانچ کندھوں پر سوار اپنے گھر میں داخل ہو رہا تھا۔ ایک شفاف لہر اٹھی اور آنکھوں میں پھیلتی چلی گئی۔ منظر دھندلا گیا۔ تب اس نے محسوس کیا، کوئی اس کے کانوں کے قریب سرگوشیاں کر رہا ہے۔ اس نے آنکھوں میں امڈتے ہوئے چمکدار، بھیگے بھیگے غبار کو پلکیں جھپک کر رخساروں پر پھیلا دیا۔ کان لگا کر سنا۔۔۔ ارے۔ یہ تو اس کے سرمد کی آواز تھی۔ اس کے دل سے آ رہی تھی۔ دھیرے سے اسی مانوس مہک، اَن چھوئی خوشبو نے اسے اپنے ہالے میں لے لیا، جو اس صدا کا خاصا تھی اور غیر اختیاری طور پر اس صدا کا ساتھ دینے کے لئے ریحا کے ہونٹ بھی متحرک ہو گئی:
“صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ “

٭٭٭

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: