Ishq Aisa Ho To Novel by Huma Waqas – Episode 1

0
عشق ایسا ہو تو از ہما وقاص – قسط نمبر 1

–**–**–

ناول شروع کرنے سے پہلے چند باتیں جو آپکو بتانا چاہتی۔۔۔ یہ میرا پہلا ناولٹ تھا جو میں نے لکھا۔۔ اس کو میں نے اپنے پیار کے نام مہر سے پوسٹ کیا۔۔ میرا نام ہما وقاص ہے اور میری امی مجھے پیار سے مہر پکارتی تھیں۔۔۔ یہ تحریر میری ذہنی تخلیق ہے میری اجازت کے بنا کوٸ اسے کاپی نہ کرے۔۔
تم کتنے آرام سے بیٹھی ھو باہر اتنی گرمی میں وہ انتظار کر رھا ھوگا بےچارا۔۔۔ ناز نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔
وہ بڑے مزے سے چونگم چباتی رہی۔۔ بڑی بڑی انکھیں شرارت سے بھری ہوی تھیں ۔۔۔
ماہا کیوں تنگ کرتی ہو اسے اتنا۔۔۔ ناز کو کبھی کبھی بہت ترس آجاتا تھا۔ ۔۔
بدلہ لیتی ہوں اپنی ان ساری محرومیوں کا جن کو میں نے فیس کیا جب سے وہ میری زندگی میں آیا ہے ۔۔ ماہا نے اپنی چھوٹی سی ناک اوپر چڑھاتے ہوۓکہا۔۔۔
ناز نے افسوس سے دیکھا اس کی طرف ۔۔۔ میرا اگر ایسا کزن ھوتا تو میں تو نفرت نہیں محبت کرتی اس سے پاگل لڑکی ۔۔۔
اوہ خوب صورت ۔۔۔ زہر لگتا ہے مجھے وہ ۔۔۔ ماہا کے ماتھے پر بل پڑ گٕے ۔۔۔
چل اب اٹھ جا الَلہ کی بندی ۔۔۔ مجھے بھی جانا ہے۔۔۔
جب وہ کالج کے گیٹ سے باہر نکلی تو وہ آگ بگولا گاڑی میں بیٹھا تھا اس نے کتنا ضبط کیا اس کے چہرے سے صاف نظر آرہا تھا ۔۔۔
اور جب وہ ایسے ضبط کرتا تھا ماہا کو بہت سکون ملتا تھا ۔۔
اسے وہ سارے لمحے یاد آتے تھے جب اس نے بچپن سے اسے برداشت کیا وہ تھی سب کی لاڈلی سب کی منظورے نظر۔ پر اس کےآنے سے ہرکسی کی توجہ کا مرکز وہ بن گیا تھا دادو بابا چاچو ۔۔۔ پھر وہ ہر کام میں پرفیکٹ بھی تو تھا ۔۔ بہت ذہین سب کا فرما بردار جی جی کرنے والا ۔۔۔ اور پھر تو اس کی مثالیں اسے بھی ملنے لگی تھیں۔۔۔ جو اسکا خون کرتی تھیں ۔۔۔ وہ کیوں آیا اسکی زندگی میں ۔۔۔
بڑے آرام سے چلتے ہوے آ کر وہ کار میں بیٹھی ۔۔۔ اور جتنی تیزی سے اس نے کار کو دوڑایا وہ اس کے اندر جلتی ہوی آگ کو بیان کرنے کے لیے کافی تھا۔۔۔ وہ آگ جو اس نے لگاٸی تھی۔۔۔
پرسکون انداز میں اس نے سیٹ کے ساتھ سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔ کار کی رفتار اور ٹاٸر کی چرچراہٹ اسکے اندر تک سکون اتار رہی تھی۔۔۔
اسے پتہ تھا وہ نہ تو کچھ بولے گا اور نہ ہی اسے کچھ کہے گا بس وہ اپنا غصہ چیزوں پر اتارتا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے پتہ تھا وہ یہ سب جان کر کر رہی ہے گرمی اتنی تھی کہ جوتے کے تلوے پاٶں جھلسا رہے تھے۔۔۔
ماموں کے آگے وہ کچھ بول نہیں سکتا تھا نہیں تو کبھی بھی اپنی اتنی تزلیل برداشت نہیں کرتا ۔۔۔۔اسکی مجبوری نے اسے آج یہاں لا کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔۔ اس کی ماں اسکی کل کا ٸنات تھی۔۔۔ اس نے اپنی ماں کو بہت مشکل میں دیکھا جب سے ہوش سنبھالا اپنی ماں کو شوہر سے لڑتے دیکھا دونوں کی آوازوں کا شور اسے سہما دیتا تھا ۔۔۔۔اور پھر ایک وقت ایسا آیا جب اسکے باپ نے سب ختم کر دیا اور اسکی ماں جو اپنے دو بھایوں کی اکلوتی بہن تھی اسکو لے کر پھر سےاپنے ماں باپ کے در پر آ بیٹھی ۔۔۔۔۔
اچانک اسکی زندگی نے رخ موڑ لیا تھا۔۔۔ وہ چپ اسکی وہ برداشت اسکی شخصیت کا خاصہ بن گٸ تھی۔۔۔ سب نے بہت پیار دیا ۔۔۔ وہ سب بھول بھی جاتا ۔۔۔ اگر ماہا کی شدید نفرت اسے ہر لمحہ تکلیف نہ دیتی۔۔۔۔
آج بھی وہ سب یہ اسکو ٹیز کرنےکے لیے ہی کر رہی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین رضا اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ۔۔۔ سب کی لاڈلی تھی۔۔۔ دادا دادو بابا مما ۔۔چاچو سب کی ۔۔ ہر وقت پیار اور لا ڈ میں رہتی بھی کیوں نہ ایک تو اس گھر کا پہلا بچہ تھی وہ اوپر سے وہ پیاری ہی اتنی تھی کہ اسے اگنور کرنا ممکن بھی نہیں تھا ۔۔۔
پر جب وہ اسکی زندگی میں آیا وہ اگنور ہونے لگی تھی۔۔۔وہ زیغم حسن تھا۔۔۔ جو ہر طرح سے اس سے آگے تھا۔۔ وہ دادو جو اسکے لاڈ اٹھاتی تھیں اب ہر وقت زیغم کو سینے سے لگا کر روتی رہتیں اور تو اور بابا اسکو اتنا پیار کرتے چاچو نے اب اسکے بجاۓ زیغم کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔ وہ سات سال کی تھی جب وہ دس سال کی عمر میں آیا اور اسکا سارا پیار چھن گیا ۔۔۔۔۔۔ اسے چڑ اور نفرت ہونے لگی تھی اس سے۔۔۔
اور وہ اس سے اپنی نفرت کا اظہار کرنے میں کوتاہی بھی نہیں برتتی تھی۔۔۔ وہ اس سے کھلونے چھین لیا کرتی تھی۔۔۔
دادو کی گود میں بیٹھا ھوتا تو اسے دھکا دے دیتی تھی یہ میری دادو ہیں تمھاری کچھ نہیں لگتی نانو ۔۔۔۔
پھر اس طرح وہ کوٸی لمحہ بھی ایسا نہیں جانے دیتی تھی جس میں اس کو یہ احساس نہ کرواے کہ یہ اسکا گھر نہیں ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیغم حسن ۔۔۔ زندگی کے رخ بدلنے پر وہ جب اپنی ماں کے ساتھ اپنے ننھال میں آیا تو اس وقت اس کی عمر دس سال تھی۔۔۔ وہ سہما ہویا سا بچہ تھا جب وہ یہاں آیا ۔۔۔ ایک ٹوٹا ھویا بچہ ۔۔۔ ایک اجنبی گھر جس میں پہلے کبھی کبھی وہ مہمان کی طرح آیا کرتا تھا ۔۔۔ تب اسے وہ نظر آٸی بڑی بڑی آنکھوں والی معصوم سی گڑیا ۔۔۔ اسے وہ بہت اچھی لگتی تھی ۔۔۔ لیکن وہ اس سے اتنی ہی نفرت کرتی تھی اسے تنگ کرتی تھی اس کی تزلیل کرتی تھی جسے وہ چپ چاپ سہہ جاتا تھا۔۔۔ کیوں اسے اس پر غصہ آنے کے باوجود بھی وہ اسے جواب نہیں دے پاتا تھا ۔۔۔ وہ ان احساسات کو لفظوں کی شکل دے کر کاغزوں پر اتار دیتا تھا۔۔۔ غم غصہ۔۔ دکھ پیار اس کے سب احساسات کی گواہ اس کی ڈاٸرٸیز ہوتی تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم اتنی رات کو یھاں کیا کر رہی ہو۔۔
ماہا کو مووی دیکھتے ہوۓ بھوک لگی تو وہ کچن میں کھانے کی تلاش میں آٸی تھی جب صبا اس کے سر پر آٸیں۔۔
مما اپ نے تو جان نکال دی تھی میری ۔۔۔ اس نے بے ساختہ سینے پر ھاتھ رکھ کر اپنے حواس بحال کیے۔۔
تمہارے بابا کچھ بیچینی سی محسوس کر رہے تھے۔۔۔ ان کے لیے پانی لینے آٸی ھوں۔۔۔
کیا ہوا بابا کو وہ رضا ک کمرے کی طرف دوڑی۔۔
بابا کیا ہوا۔۔ وہ بیچینی سے ان کی طرف بڑھی ۔۔۔ وہ بیڈ پر لیٹے اپنے سینے کو ہاتھ سے سہلا رہے تھے۔۔۔
اوہ ماہا بیٹا تم جاگ رہی ہو کیا۔۔یہ تمھاری مما نےپریشان کر دیا تمھیں ۔۔۔
بابا میں جاگ رہی تھی۔۔ چلیں آپ تیار ہوں میں چاچو کو اٹھاتی ہوں ۔۔۔ وہ تیزی سے کہہ کر مڑنے لگی ۔۔جب رضا نے روکا۔۔۔
ماہا کچھ بھی تو نھیں ہوا بیٹا۔۔۔ وہ بس بد ہضمی ہے ابھی میڈیسن لوں گا ٹیھک ہو جاٶں گا۔۔۔۔۔
تم ادھر آو بیٹھو میرے پاس۔۔۔ انھوں نے بیڈ پر اپنے ساتھ جگہ بناتے ہوۓ اسے اشارا کیا۔۔۔
کیا ہوا بابا وہ پریشانی سے ان کے پاس بیٹھ گٸی۔۔ ڈاکٹر کے پاس نا جانے کی بات کی ناراضگی اس کے چہرے پر صاف ظاہر تھی۔۔
تم سے ایک بات کرنی تھی ۔۔۔انھوں نے اسے اپنے بازو کے حصار میں لیا تو ماہا نے انکے کندھے پرلاڈ سے سر ٹکا دیا۔۔۔
میں چاہتا ہوں اب تمہاری شادی کر دوں۔۔ انھوں نے اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔۔
ماہا نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا۔۔۔بابا۔۔۔اس نے ان کے چہرے کے سامنے اپنا چہرا کیا۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرا دیے۔۔۔
ہاں اور میں چاہتا ہوں زیغم سے تمھاری شادی ہو جاۓ۔۔۔انھوں نے تھوڑا رکتے ھوۓ کہا۔۔ کیوں کے گھر کا ہر شخص زیغم سے اس کی نفرت کے بارے میں جانتا تھا۔۔۔
وہ اچھل کر ایک طرف ہوٸی ۔۔۔بابا آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں بے ساختہ اسکا لہجہ تلخ ہو گیا۔۔ غصہ اس کی آنکھوں سے جھلکنے لگا تھا۔۔۔
ماہا بچپنا چھوڑ دو اب بیٹا زیغم بہت اچھا بچہ ہے۔۔۔ صبا نے رضا صاحب کی بات کی تاٸید کی۔۔۔ جو ابھی پانی لے کر کمرے میں دخل ہوٸی تھی۔۔۔۔
مما آپ تو چپ کریں نا ۔۔ اس کا پارہ چڑھ گیا تھا ان کی بے تکی بات سن کر۔۔۔
بابا میں زیغم سے شادی ہر گز نہیں کروں گی۔۔ اس کی آواز غصے سے کانپ رہی تھی۔۔۔ میں نے صاف صاف کہہ دیا ہے اب کوٸی بھی مجھ سے اس بارے میں بات نا کرے۔۔۔
وہ پاوں پٹختی کمرے سے باہر نکل گٸی ۔۔ رضا نے صبا کی طرف دیکھا۔۔اور صبا نے ایسے کندھےاچکاۓ کہ میں تو پہلے ہی جانتی تھی وہ نہیں مانے گی۔۔۔۔
۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سیڑھیوں سے تیزی سے نیچے اتر رہاتھا۔۔۔ جب اچانک وہ سامنے آٸی۔۔۔
رکو ۔۔۔ وہی زہر خندہ لحجہ۔۔۔زیغم اس کی طرف بنا دیکھے رک گیا۔۔۔
تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا میں تم سے شادی کروں گی۔۔میں جو تمھاری شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کرتی تم سے شادی کروں گی۔۔۔ہن۔۔تیزی سے بولتے ہوۓ اس نے ناگوااری سے اس کی طرف دیکھا۔۔
زیغم کی رگیں تن گٸیں۔۔ کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔وہ اتنا ہی کہہ سکا تھا۔۔۔ کہ ماہا پھر سے اس کی بات کاٹ کر بول پڑی۔۔۔
تمھارے پاس ہے ہی کیا۔۔۔ ہمارے ٹکڑوں پہ تو پل رہے ہو۔۔۔میں زہر کھا کر مرنا پسند کروں گی۔۔۔ پر تم سے ۔۔۔ اس نے انگلی اس کی طرف کرتے۔۔۔ ہوۓ کہا۔۔۔
زیغم کے ماتھے پر بل پڑ گۓ ۔۔ایک منٹ ایک منٹ۔۔۔ اپنی بارعب آواز میں اس نے روکا۔۔۔ ھاتھ کا اشارہ کیا۔۔۔رگیں تن گییں تھی۔۔۔رنگ سرخ ہو گیا تھا۔۔۔
ماہا کو مزہ آ گیا اس کی یہ حالت دیکھ کر۔۔
تم سے کس نے کہا کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ غصے میں اس کی آواز اور بھاری ہو گٸی تھی۔۔۔
تمھیں کوٸی غلط فہمی ہوٸی ہے۔۔میں ایسا سوچنا بھی گوارا نہیں کرتا۔۔۔ وہ سرخ آنکھیں اس پہ گاڑے کھڑا تھا۔۔
وہ اسی وقت پلٹا اور واپس سیڑھیاں چڑھ گیا۔۔۔
مما مما۔۔۔ وہ چیخ رھا تھا۔۔۔ جب زرا کمرے سے باہر آٸیں۔۔
کیا بات ہے بیٹا انھیں تو پہلے ہی زیغم کے غصے سے بہت ڈر لگتا تھا۔۔۔ انکا ایک یہ بیٹا ہی تو کل کاٸنات تھی ان کی جس کے لیے انھوں نے پوری زندگی تیاگ دی تھی۔۔۔۔
مما یہ ماہا کیا کہہ رہی ہے کس نے کہا کہ میں اس سے شادی کرنا چاھتا ھوں۔۔۔ اپنی تذلیل پر غصے سے اس کی آواز کانپ رہی تھی۔۔۔
زارا ایک دم سے پریشان ہو گٸ۔۔ نہیں بیٹا ایسے بات نہیں ہوٸی یہ تو تمھارے ماموں کی خواہش ہے بس۔۔۔
کیا۔۔۔ کیا ہو گیا ہے آپ سب کو ۔۔ اس نے سر پر افسوس سے ھاتھ رکھا۔۔۔انداز ایسا تھا جیسے ان سب کی ذہنی حالت پر شک ہو۔۔۔
تمھارے ماموں نے ہی اس سے بات کی ہو گی کوٸی۔۔ زارا نے اندازا لگایا۔۔۔
آپ جانتے ہیں نہ کہ وہ کتنی نفرت کرتی مجھ سے۔۔۔پھر یہ کس طرح کا مزاق ہوا۔۔۔ اسے چڑ ہو رہی تھی ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: