Ishq Aisa Ho To Novel by Huma Waqas – Episode 2

0
عشق ایسا ہو تو از ہما وقاص – قسط نمبر 2

–**–**–

بیٹا بچی تو ہے وہ۔۔۔ بچپنا کرتی ہے ۔۔ غصہ مت کیا کرو۔۔ زارا ہمیشہ اسے ایسے ہی کہہ کر بہلا دیتی تھیں۔۔۔ اور وہ اپنا غصہ پی جاتا تھا اپنی ہر تذلیل پر۔۔۔ وہ غصے سے پاس پڑی کرسی کو ٹانگ مار کر باہر نکل گیا۔۔۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
ہو کیا تم۔۔۔ ہمارے ٹکڑوں پہ پل رہے ہو۔۔۔ ماہا کے الفاظ اس کے سر پر ہوتھوڑے کی طرح لگ رہے تھے۔۔۔۔
سگریٹ کا دہواں اس کے گرد اڑ رہا تھا۔۔ کب کب کہاں کہاں اس نے اس کے دل کو چھلنی نہیں کیا تھا۔۔۔ وہ اس سے نفرت نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ لیکن وہ ایک مرد تھا تزلیل کو سہنا آسان نہیں ھوتا۔۔۔اسکا دل اکثر کرتا تھا وہ اسکا منہ توڑ دے۔۔۔۔ پر وہ ضبط کرتا ان لوگوں کے لیے جو اس سے پیار کرتے تھے۔۔ماہا کو پیار کرتے تھے۔۔۔۔۔
وہ سب اس کو بچی کہتے اور اس کی ساری حرکتوں ۔۔۔ کو اسکا بچپنا کہتے تھے۔۔۔
ھاں اس کو اسکے حا لات نے بہت بڑا کر دیا تھا۔۔۔اور پھرسب نے بھی اسکو بہت بڑا بنانے میں کوٸی کثر بھی نا چھوڑی تھی۔۔
سمندر کی ھوا اسکی نفرت کی آگ کو۔۔ ھوا دے رہی تھی۔۔۔اور وہ سگریٹ پہ سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج بھی ایک نا کام انٹرویو دے کر لوٹا تھا۔۔۔ ماموں رضا نے اسے اسکی ضد کی وجہ سے ایک ماہ کا وقت دیا تھا۔۔۔ کہ اگر اسے اچھی جاب ملتی ہے تو ٹھیک ورنہ وہ ان کے ساتھ بزنس میں آۓ گا ۔۔۔وہ اب ماموں کے اور احسانات سے بچنا چاہتا تھا۔۔۔۔
وہ باٸیک کھڑی کر کے لان کے پاس سے گزرتے ہوۓ اندر جا رہا تھا۔۔۔ ماہا اشعر اور اسد کے ساتھ کرکٹ کھیل رہی تھی۔۔۔ اشعر اور اسد رضا سے چھوٹے احمر کے بیٹے تھے۔۔۔ ماہا کا سر چڑھنا اس صورت میں بھی بنتا تھا۔۔ وہ صرف ایک لڑکی تھی گھر میں باقی سب لڑکے تھے۔۔۔
زیغم نے ایک سرسری نظر ڈالی لان کے ماحول پہ۔۔۔
وہ اپنے معمول کے حلیے میں تھی۔۔ گردن تک کٹے ہوۓ چھوٹے بال چھوٹی سی شرٹ کے ساتھ۔۔ تنگ جینز۔۔۔ دراصل اسکا یہ حلیہ بھی۔۔۔ اسیکی زیغم سے نفرت کے وجہ سے تھا۔۔۔۔ اسکا سکول ختم ہوا تھا جب اسے اس بات کا علم ہوا تھا ۔۔ زارا کی زبانی کہ۔۔۔زیغم کو لڑکیوں کے لمبے بال پسند ہیں۔۔۔ تب سے اب تک اس نے کبھی کندھے سے نیچے نا جانے دیا تھا اپنے بالوں کو۔۔ اور اسد سے اسے پتا چلا کہ زیغم کو۔۔۔ پینٹ شرٹ میں لڑکیاں ذرا پسند نہیں۔۔۔ تو تب سے محترمہ انہی کپڑوں میں زیادہ نظر آتی تھی۔۔۔
اسد نے اسکو کتنی آوازیں دی کہ وہ بھی ان سب کو جواٸن کرے۔۔کرکٹ میں۔۔۔ لیکن وہ ہاتھ کے اشارے سے ہی منع کرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔۔۔
جانتا تھا۔۔ وہ کرکٹ کیوں کھیلتی ہے اسے لڑکیوں کا کرکٹ کھیلنا بلکل نا پسند تھا۔۔۔ اور وہ بہت اچھا کرکٹ کھیلتی تھی۔۔ بچپن میں بہت دفعہ جان بوجھ کر اسکے منہ پر بونسر مار چکی تھی۔۔۔ وہ چپ چاپ سیڑھیاں چڑھتا اپنے پورشن میں آگیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیغم پہلے بھی بہت کم اسکا سامنا کرتا تھا کیوں کے اسکے زہر خندہ نفرت سے بھرے الفاظ اسے اندر تک چھلنی کر دیتے تھے۔۔ اور اس دن کی تزلیل کے بعد تو وہ بلکل ہی کترا کے گزر جاتا اور نیچے آتا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔وہ ٹیرس پر نکل کر چھپ کے سگریٹ پی رہا تھا جب اس کے کمرے کا دروازہ بجا۔۔۔ جلدی سے سگریٹ کو نیچے پھینکا چوینگم منہ میں رکھی۔۔ اور باہر نکلا۔۔۔
جی۔۔۔۔۔ زارا دروازے پر کھڑی تھی۔۔۔
زیغم تمھاری ممانی بلا رہی تمھیں بیٹا انکی بات سن لو۔۔۔
ممانی کچن میں تھی جب وہ انھیں آواز لگاتا ہوا وہاں آیا۔۔۔
کچن میں داخل ہوتے ہی نظر اس پر پڑی۔۔۔ وہی لوز ٹی شرٹ ٹریوزر۔۔ بواے کٹ بال۔۔ وہ داخل ہوا تو اس کی آنکھیں شرارت سے چمکنے لگیں ۔۔۔
زیغم بیٹا باقر کے ساتھ جاو ذرا یہ سامان لے کر آنا کچھ مہمان آ رہے ماہا کو دیکھنے تو اسے پتہ نہیں چلتا ایسے ہی کچھ کا کچھ اٹھا لاۓ گا۔۔ صبا بڑی اجلت میں اسے لسٹ پکڑاتے ہوۓ بولی۔۔۔
مما اسے یہ بھی تو بتایں وہ ساری فیملی کینڈا سے آ رہی ہے۔۔۔ وہ گاجر ھاتھ میں گھوماتے ہوۓ غرور سے بولی۔۔۔
زیغم نے اسکی بات کی طرف کوٸی توجہ نہیں دی ۔۔اور لسٹ صبا کے ہاتھ سے لے کر باہر نکل گیا۔۔۔
ماہا باز آ جاو تم صبا نے نگواری سے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
کیوں باز کیوں آٶں اسکی ایسی شکل دیکھ کر میری روح کو سکون ملتا ہے۔۔ اس نے دل میں سوچا۔۔
بس نہیں اسے وہ اچھا لگتا تھا۔۔ اسکی خوشیوں کا قاتل۔۔۔ چڑ تھی اسے جب ہر کوٸی اسی کی طرف داری کرتا تھا۔۔۔ آخر کو اس نے اپنی بات منوا ہی لی تھی۔۔۔ رضا کی بہت خواہش تھی کہ اسکی اکلوتی بیٹی کی شادی اس کے لاڈلے بھانجے سے ہو جاتی۔۔۔ لیکن وہ بھی ماہین رضا تھی۔۔ ہمیشہ سے اپنی کی تھی اس نے۔۔۔
وہ ہاتھ جاھڑتی کچن سے باہر نکل گٸ اور صبا اسکی عقل پر افسوس کرتی رہی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد کی فیمیلی کو ماہین بہت پسند آٸی آتی بھی کیوں نہ وہ پیاری ہی اتنی تھی۔۔ دودھیا رنگت۔۔ لمباقد کاٹھ۔۔ بھرے ہوے گال۔۔ کھڑی چھوٹی سی ناک۔۔ گداز۔۔ سراپا جو کسی کے بھی ھوش اڑا دے۔۔
خوش اصلوبی سے سب طے پایا ماہا بھی بہت خوش تھی۔۔۔
ان لوگوں کو باہر واپس جانا تھا۔۔ اس لیے شادی جلدی چاھتے تھے سو شادی کی تیاریاں شروع ھو گیں۔۔۔ دن رات بازار کے چکر۔۔۔ زیغم اسد اور اشعر کی تو پھرکی ھی گھوم گٸ تھی۔۔۔
ان کے گھر کی پہلی شادی تھی رضا اور احمر کوٸی کمی نہیں رہنے دینا چاہتے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے تو سب سے زیادہ خوش ہونا چاہیے تھا۔۔۔ پر ایک انجان سی بیچینی تھی۔۔۔ سگریٹ کا دھواں چاروں طرف پیھلا ھوا تھا۔۔۔
ماہا کو اسکے وجود سے نفرت تھی۔۔ اس نے اپنی ساری زندگی اس سے نفرت کرنے کے علاوہ کیا ہی کیا تھا۔۔۔
اور آج اسے اسکے چلے جانے سے عجیب سے احساسات نے گھیرا ہوا تھا ۔۔۔ وہ خود اپنی اس حالت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔ لیکن کیوں۔۔۔ اس نے زور سے دیوار میں ھاتھ دے مارا۔۔
وہ اتنا خوبرو تھا۔۔ شھزادے بھی ماند پڑتے۔۔ اسکی گہری آنکھوں کے اوپر گھنی مڑی ہوٸی پلکیں ۔۔۔سفید رنگت۔۔ سرو قد۔۔ تیکھا ناک۔۔ چوڑا سینا مظبوط۔۔ بھرے بھرے ھاتھ۔۔ اسکی یونیورسٹی میں لڑکیاں اس کی ایک جھلک پر قربان تھیں۔۔
یہ اور بات ہے کہ وہ خود کوٸی لفٹ نہیں کراتا تھا۔۔ اسکے غصے سے ہر کوٸی گھبراتا تھا۔۔ وہ بلا کا سنجیدہ بہت کم گو۔۔ اور ذہین سٹوڈنٹ تھا۔۔۔ لیکن دنیا کی شاٸید یہ واحد لڑکی تھی ماہین رضا جس کو وہ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔۔۔
وہ لان میں قہقے لگاتی اور مہندی لگاتی لڑکیوں کے بیچ بیٹھی ماہا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ پیلا جوڑا اسکی دودھیا رنگت پر جچ رھا تھا۔۔۔ وہ ایک نازک سا پھول لگ رہی تھی۔۔ اچانک ماہا نے اوپر دیکھا وہ ایک دم سے پیچھے ہوا۔۔۔ اسے اپنی اس حرکت پرغصہ آ رہا تھا وہ کیوں اسکو ایسے دیکھ رہا تھا۔۔ اس نے اپنا ذہن جھٹکا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مما مما وہ خوشی سے چہک ہی تو رہا تھا۔۔۔اوپر آ کر وہ زارا کو کمروں میں ڈھونڈ رہا تھا وہ کچن سے نکلی۔۔۔ اور اپنے بیٹے کے چہرے پر برسوں بعد اتنی خوشی دیکھ کر سر شار ہی ہو گٸی۔۔۔
مما مجھے دبٸی سے کال آٸی ہے۔۔ میری جاب ہو گٸی ہے ۔۔۔ انٹرنیشنل لیول کی کمپنی ہے بہت اچھی سلیری پیکج ہے۔۔۔ وہ زارا کو خوشی سے گول گول گھوما رہا تھا اور وہ خوشی سے سر شار ہو رہی تھی۔۔۔
اپنے ماموں کو بتایا۔۔۔ زارا کی آواز خوشی سے کانپ رہی تھی۔۔۔
جی سب سے پہلے۔۔ان کو ہی بتایا ہے ماموں بہت خوش ہیں ۔۔ پر ایک اسرار کیا ہے انھوں نے ۔۔ وہ ہونٹ سکیڑتے ہوے۔۔ کاٶچ پر بیٹھا۔۔۔
زارا نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
ماموں چاہتے ہیں میں ماہا کی شادی کے بعد جاٶں۔۔۔ اس نے کشن کوموڑ کر اپنے سر کے نیچے رکھا۔۔۔
ھاں تو ٹیھک ہی تو کہہ رہے تمہارے ماموں۔۔۔ زارا نے لاڈ سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ اس نے ماں کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا۔۔۔ زارا کی آنکھوں میں آنسو آ گۓ ۔۔۔ اس نے زیغم کو اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج شادی کا دن تھا ماہا پارلر ریڈی ہونے جا چکی تھی۔۔۔ اب سب کو بھی۔۔۔ میرج ھال پہنچنا تھا جب ایک لڑکی بڑی عجلت میں گاڑی سے اتری۔۔۔وہ ادھر ادھر دیکھتی ہوی تیزی سے رضا کی طرف بڑھی اور پھر اس نے حقیقت کا بمب پھوڑا۔۔۔۔
میں احمد کی واٸف ہوں۔۔۔ آپ لوگوں کو وہ لوگ دھوکا دے رہے ہیں ۔۔پلیز آپ لوگ انکے چنگل سے بچ جاٸیں۔۔
وہ روتے ہوے ساری حقیقت بیان کر رہی تھی اور رضا لڑ کھڑا گیۓ تھے۔۔ جن کو پاس کھڑے احمر نے پکڑا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رضا کو ہارٹ اٹیک آیا تھا۔۔۔
سب ختم ہو گیا تھا دلہن کے جوڑے میں ۔۔ ماہا ہاسپٹل میں ساکت بیٹھی تھی ۔۔۔ اسکی آنکھوں سے بس آنسو رواں تھے۔۔۔صبا کا برا حال تھا۔زارا اسے اپنے بازوں میں تھامے بیٹھی تھی۔۔۔جب ڈاکٹر باہر آۓ احمر اور زیغم تیزی سے آگے بڑھے۔۔
اب وہ خطرے سے باہر ہیں آپ لوگ زیادہ بات نہ کریں ان سے ۔۔ ماہاکون ہے ۔۔۔ڈاکٹر نے سب کی طرف نظر گھوماتے ہوۓ کہا۔۔
وہ ان کو اندر بلا رہے ہیں۔۔۔
ماہا تیزی سے اندر گٸی اپنے بابا کو پل بھر میں اس حالت میں دیکھ کر اسکی ہچکی بندھ گٸی۔۔۔ بابا۔۔۔
جیسے ہی رضا نے آنکھیں کھولی۔۔ وہ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
وہ مسکرا دیے۔۔۔ اپنی شادی والےدن کون روتا ہے پگلی۔۔۔
ماہا نے چونک کے ان کی طرف دیکھا۔۔۔ با با میری شادی۔۔۔
ہاں تمھاری زیغم کے ساتھ۔۔۔ انھوں نے اسکا ھا تھ اپنے کانپتے ھاتھوں میں لیا۔۔۔
اسے کرنٹ ہی تو لگا تھا۔۔۔ اس نے ایک دم اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: