Ishq Aisa Ho To Novel by Huma Waqas – Episode 4

0
عشق ایسا ہو تو از ہما وقاص – قسط نمبر 4

–**–**–

وہ اپارٸٹ منٹ کی چابی لے کر لوٹا تو وہ لابی میں اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔
چلو۔۔۔۔ وہ ارد گرد دیکھنے میں مصروف تھی جب زیغم نے پاس آ کر یہ مختصر سا جملہ ادا کیا۔۔فرسٹ فلور کے تیسرے اپارٸٹ منٹ کے دروازے کے آگے وہ رکا تھا۔۔ اور پھر دروازہ کھول کر اندر داخل ھوا۔۔۔ وہ اسکے پیچھے تھی۔۔۔
چھوٹا سا لاونج جس میں اوپن کچن تھا وھاں پر دو سنگل کاوچ کے سامنے ایک چھوٹا سا تھا۔۔۔۔۔ بلکل سامنے ایک بیڈ روم کا دروزاہ۔۔۔ تھا۔ وہ بیڈروم میں داخل ھوٸی ۔۔ زیغم شاٸید واش روم میں گھس گیا تھا۔۔۔ بیڈ روم میں ایک سنگل بیڈ سے تھوڑا سا بڑا بیڈ تھا۔۔ سامنے دیوار پر آٸینہ نسب کر کے۔۔ ڈرسنگ ٹیبل کی شکل دی ہوٸی تھی ایک سنگل کاوچ کا ایک پیس ادھر بیڈ رو میں تھا۔۔۔ وہ گھوم گھوم کے کمرے کا جاٸزہ لے رہی تھی کہ اچانک اسکا دماغ ٹھنکا۔۔۔۔ وہ رکی ایک دفعہ پھر سے غور سے سارے گھر کا جاٸزہ لیا۔۔۔ صرف ایک بیڈ ۔۔۔ کوٸی پورا صوفہ تک نہیں۔۔۔ سیرسلی۔۔۔۔ اسکی آنکھیں کھل گیں
سونا کیسے ہے۔۔۔۔۔۔ وہ واش روم سے باہر نکل کر شرٹ کے بازو نیچے کر رہا تھا۔۔ جب ماہا نے چیخ کر اس سے سوال کیا۔۔۔
اسکی بات پر حیران ہو کر اس نے پورے کمرے کا جاٸزہ لیا۔۔۔ اور اسے اسکا چیخنا سمجھ میں آگیا۔۔۔
یہ یہیں پہ۔۔ اس نے کندھے اچکاتے ہوۓ بیڈ کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
اور تم۔۔۔۔۔۔ ماہا نے بھنویں اچکاتے ھوۓ پوچھا۔۔۔ نکاح کے دن کے بعد سے لے کر اب تک میں یہ ان کی آپس میں پہلی گفتگو تھی۔۔ اس سے پہلے تو ھوں ھاں سے کام چلا رہے تھے۔۔
میں بھی یہی۔۔ وہ ٹاول سے ھاتھ صاف کرتے ہوۓ ۔۔ سیدھا ہوا۔۔۔۔
دماغ پھٹنے کی حد تک۔۔ آگیا تھا۔۔۔ کیا مطلب تمھارا۔۔۔ تم کہیں اور لیٹو۔۔ اس نے ھاتھ لہراتے ہوۓ اپنے مخصوص تلخ لحجے میں کہا۔۔۔
وہی لہجہ جو۔۔ زیغم کو ہتھوڑے کی طرح لگتا تھا۔۔۔
کیوں۔۔۔ زیغم کی آواز میں بھی سختی آ گٸی تھی۔۔.
یہاں میں سونے والی ہوں تم کہیں اور چلو۔۔۔ انتہاٸی بدتمیزی والا لحجہ تھا۔۔
زیغم کی دماغ کی رگیں تن گیں لیکن آج وہ کس لیے زبان کو کنٹرول میں رکھے۔۔۔ کیوں ہونٹوٶں کو بھینچے۔۔۔
اکیسکیوزمی۔۔۔ زیغم نے اسی کے انداز میں اسکے منہ کے آگے انگشت کی انگلی اٹھاٸی۔۔۔
نہ تو اب یہ تمھارا گھر ہےاور نہ میں اب تمھارے ٹکڑوں پر پل رہا ہوں۔۔۔سمجھی تم۔۔۔ اور اس لیے۔۔ میں تو یہیں بیڈ پر لیٹوں گا۔۔ تم اپنا انتظام کر لو۔۔۔ وہ مڑا اور بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔۔۔
وہ گھبرا ہی تو گٸی تھی اسکا ایسا انداز تو کبھی نہیں دیکھا تھا اس نے۔۔۔وہ ارد گرد کا ایک دفعہ پھر سے جاٸزہ لینے لگی۔۔۔
سنگل کاوچ وہ بھی اونچی آارمز والے تھے جن پر سونا بہت مشکل تھا۔۔۔
تمھارے ساتھ سونے سے زیادہ بہتر ہے۔۔ میں زمین پر سو جاٶں وہ اونچی آواز میں بڑبڑاتی ھوٸی باتھ میں گھس گٸی۔۔۔
باہر نکلی تو وہی ناگوار لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔۔۔ لوز ٹی شرٹ اور ٹریوزر۔۔۔۔
زیغم نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
تم کیا سجھتے ہو زیغم حسن۔۔ تم نے مجھے زیر کر لیا۔۔ ماہین کو۔۔۔ کبھی نہیں۔۔ میں تمہیں تنگ ہی اتنا کروں گی۔۔تم مجھے خود چھوڑو گے اور سب کے سامنے برے بھی تم ہی بنو گے۔۔۔وہ دل میں اپنی ہار کو کبھی تسلیم نہیں کر رہی تھی دانت پیستے ہوۓ وہ بہت تلاش کرنے پر ملنے والی ایک پرانی چادر زمین پر بچھا رہی تھی۔۔۔
ریگستان ہی ہے ۔۔ یہاں تو زمین پر سانپ عام گھومتے ہیں۔۔ چھت کی طرف گھورتے ھوۓ۔۔ زیغم نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔
وہ ابھی لیٹی ہی تھی من مار کر جب زیغم کی آواز سناٸی دی ۔۔۔ اسکا دل ایک دم سے حلق میں آگیا۔۔۔ اچھل کر اس نے اپنے ارد گرد نظر ایسے دوڑاٸی جیسے واقعی کوٸی سانپ ڈھونڈ رہی ہو۔۔۔
وہ چادر لپیٹ کر کاوچ پر سکڑ کر ایسے لیٹی کہ زیغم نے بڑی مشکل سے ہونٹ دبا کر ہنسی روکی۔۔۔
پھر وہ بے نیازی سے آنکھوں پر ھاتھ رکھ کر لیٹ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اف ایک دم سے اس کی گردن میں ٹیس اٹھی۔۔ آنکھ کھلی تو وہ کاوچ پر بیٹھی سو رہی تھی اور کمر سے گردن سے ٹیسیں اٹھ رہی تھی۔۔
کیسے لیٹوں۔۔ وہ بیڈ کے سامنے کھڑی سوچ رہی تھی۔۔ زیغم بے سدھ سو رہا تھا۔۔۔
اسکے پاٶں کی طرف لیٹوں۔۔۔ نہیں نہیں اس نے ذہن کو جھٹکا۔۔ وہ اسکے ساتھ لیٹی۔۔ چھوٹا سا بیڈ تھا۔۔ اس نے زیغم کے منہ کے آگے تیکہ لگا دیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی آنکھ کھلی تو منہ پر تکیہ پڑا تھا ۔۔اس نے ھاتھ سے پکڑ کر تکیہ ایک طرف کر دیا۔۔۔۔۔
چہرے پر بکھرے بال۔۔ بڑی بڑی پلکیں ۔۔۔ اور گلابی ہونٹ۔۔۔۔۔
زندگی میں پہلی بار وہ اس کے اتنی قریب تھی۔۔۔۔اور بری طرح اسکا صبر آزما رہی تھٕی۔۔۔۔
اسے اپنی دھڑکن کی بے ترتیبی کا سبب سمجھ نہیں آ رھا تھا۔۔۔
اپنے چہرے پر کسی کی انکھوں کی تپش محسوس کر کہ اس کی آنکھ کھلی۔۔ ایک دم سے وہ اٹھنے لگی ہی تھی جب زیغم نے اسکی کلاٸی پکڑی۔۔
رکو لیٹی رہو میں جا رہا ہوں۔۔وہ تیزی سے اٹھ کر باتھ کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
ہنہ۔۔۔ میں جا رہا ہوں۔۔ اس نے منہ ٹیڑھا کر کے اسکے الفاظ دھراۓ۔۔۔اور اچھی طرح کمبل تان کر سو گٸی۔۔ ساری رات چادر میں سردی کی وجہ سے کمر اکڑ گٸی تھی۔۔ اے سی شاٸیدفل سپیڈ پر تھا۔۔۔۔کمبل میں سے ایک خوشگوار مہک آ رہی تھی۔۔ سینٹ کون سا لگاتا ہے یہ۔۔۔ بے ارادہ اسکے ذہن نے سوچا۔۔۔اور پتہ نہیں کب نیند کی وادی میں کھو گٸ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب اسکی آنکھ کھلی تو ٢ بج ریے تھے۔۔۔ پیٹ میں چوہے دوڑ ریے تھے۔۔ رات تو وہ کھانا کھا کر آۓ تھے باہر سے۔۔۔
بریڈ انڈے جیم سب پڑا تھا۔۔ اس نے جلدی سے ناشتہ کیا باہر کا جاٸزہ لے کر آتی ہوں اور گھر کال کرتی ہوں ۔۔۔ اس نے دماغ میں آنے والے خیال پر عمل کرنے کا سوچا۔۔۔
پاکستان کا نمبر تو یہاں چلتا نہیں تھا اس نے قریبی فون بوتھ سے کال کرنے کے بارے میں سوچا۔۔۔
سارے خواب بھک سے اڑ گۓ۔۔۔ دروازہ باہر سے لاک تھا۔۔۔
اس کا دودھیا رنگ سرخ ہو گیا۔۔۔ کیا بد تمیزی ہے یہ۔۔۔
اب وہ مجھے یوں قید کر کے رکھے گا۔۔۔ دل عجیب طرح سے ڈر گیا۔۔ اسکا دل کیا زیغم یھاں ہو اور وہ اسکا خون کر دے۔۔۔اس نے زور سے دروازے پر ٹھوکر ماری۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے آٹھ بجے کے قریب لاک کھلنے کی آواز آٸی وہ بپھری شیرنی کی طرح اسکے سامنے آٸی اور چنگھاڑنے لگی۔۔۔
تو اب تم مجھے قید کرو گے۔۔۔ کیوں لاک لگا کر گۓ تھے باہر سے۔۔ میں کوٸی غلام ھوں تمھاری جسے تم یوں جانوروں کی طرح بند کر گۓ۔۔۔ غصے سے اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
ھاں کیا تھا بند۔۔۔ اسکا دماغ گھوما دیتی تھی وہ بول کر۔۔ اس نے پیزہ کچن شلف پر رکھتے ہوا کہا۔۔۔
تم فرسٹ ٹاٸم اٸی ہو یہاں مجھے پتہ تھا تم باہر نکلو گی اور تمھارا کیا۔۔۔ پریشان تو میں ہوتا نا۔۔۔ وہ انگلی اسکی آنکھوں کے درمیان میں لاتے ھوۓ بولا۔۔۔۔۔۔
میں ابھی جاٶں گی باہر دو مجھے کیز۔۔۔ اسکا پارہ بھی آسمان پر چڑھا تھا۔۔۔ اسکے ہاتھ سے چابی چھیننے لگی۔۔۔
زیغم نے ایک جھٹکے سے اس کا ھاتھ دور کیا۔۔۔
اوہ آرام سے بیٹھو وھاں میں فریش ھو لوں لے کر جاتا ہوں تمہیں۔۔۔
نہیں میں خود جاٶں گی دو مجھے چابی۔۔ وہ کسی حسینہ کے روپ میں چڑیل لگ رہی تھی۔۔
وہ ایک جھٹکے سے آگے بڑھا۔۔ اور کمرے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ اس نے جھٹکے سے اسے اپنی طرف موڑنے کی کوشش کی ۔۔ اسکا ناخن زیغم کے بازو کو چیرتا ہوا گیا۔۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے اسکے چہرے کو اپنی ہتھیلی میں لیا۔۔۔ اب وہ وہ زیغم نہیں تھا۔۔ جو منہ پر بونسر کھا کر بھی چپ رہتا۔۔
مسلہ کیا ہے تمھارا وہ دھاڑا ہی تو تھا۔۔۔وہ دونوں ھاتھوں سے۔۔اپنا منہ اسکے ھاتھ سے چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
پہلے تو میں ایسا کچھ نہیں سوچتا۔۔تھا اب میں ایسا ہی کروں گا ایک جھٹکے سے وہ اسے چھوڑ کے آگے نکل گیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: