Ishq Aisa Ho To Novel by Huma Waqas – Episode 5

0
عشق ایسا ہو تو از ہما وقاص – قسط نمبر 5

–**–**–

اف دل ہی تو دہل گیا تھا اسکا۔۔۔ اسکا غصہ دھاڑنا۔۔ اس کا اثر آج چیزوں کے بجاۓ اس پر ھوا تھا۔۔۔ ۔۔ دل ابھی بھی خوف سے کانپ رھا تھا۔۔۔ تو ماہین رضا تم اس جنگلی سے امید بھی کیا رکھتی ہو۔۔۔
اف اس کے چہرے پر نشان پڑ گۓ تھے اس کے ھاتھوں کے۔۔وحشی درندہ۔۔۔
آنکھوں میں پانی آ گیا۔مما بابا دوسرے دن ہی یاد آنے لگے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح آنکھ کھلی۔۔ تو وہ پھر بیڈ پر ہی سو رہی تھی۔۔۔
اسے نہیں خبر وہ کب آ کر ساتھ لیٹی تھی۔۔ وہ تو غصےمیں آ کر لیٹ گیا تھا۔۔ تھکاہوا تھا سارے دن کا۔۔ لیٹتے ہی نیند آ گٸی۔۔۔
اب اٹھ کرجلدی سے تیار ہو کر نکل گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے بابا سے بات کرنی ہے ۔۔۔مجھے تمھارے ساتھ نہیں رہنا ۔۔تم نے مجھے قید کر رکھا ہے یہاں۔۔۔ اس نے جھنجوڑ کر اٹھایا اسکو۔۔۔ زیغم گہری نیند میں تھا جب اس نے ایسا کیا۔۔۔
کیا مسٸلہ ہے تمہیں۔۔۔ وہ چڑ کر اٹھا تھا۔۔۔
مجھے پاکستان جانا ہے۔۔۔ وہ چیخ رہی تھی۔۔۔
آواز آہستہ کرو اپنی۔۔۔ زیغم کو غصہ آ رھا تھا۔۔۔ آج چھٹی کا دن تھا وہ دوپہر کو گہری نیند میں تھا۔۔ جب ماہا نے اس پر حملہ کر دیا۔۔۔
رکو ایک منٹ۔۔۔
زیغم نے ماہا کی گھر بات کرواٸی اس نے رضا کے آگے ایسے رونا ڈالا۔۔۔ اسے لگتا تھا اس کے بابا تڑپ جاٸیں گے اور اسے واپس پاکستان بلوا لیں گے لیکن یہاں تو الٹا ہی حساب تھا۔۔۔
وہ اسے زیغم کی عزت کرنے اسکا خیال کرنے کی تلقین کر رہے تھے ۔۔۔ اسکا دل بیٹھ گیا سب کو وہ جھوٹی لگ رہی تھی۔۔۔
اس نے نفرت سے فون بند کر کے ایک طرف مارا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھ کھلی تو ایک دم احسا س ہوا عجیب سا وہ قریب ہی تو لیٹی ہوٸی تھی۔۔ جس تکیے کو اس نے رات کو دیوار بنایا تھا۔۔ اسی کو بازو میں دوبوچ کے سوٸی ہوٸی تھی۔۔۔ بال گردن سے نیچے شانوں تک ہلکے ہلکے آے ہوۓ تھے۔۔۔
اس نے تو آج غور کیا تھا اسکے بال معمول سے لمبے ہو گۓ تھے ۔۔بے ساختہ وہ اسکے بالوں کو اپنی انگلیوں سے ایسے چھیڑ رہا تھا جیسے کوٸی بہت ہی قیمتی چیز ہو جو چھونے سے خراب ہو جا تی ہو۔۔۔
کچھ محسوس ہوا۔۔ ماہا نے آنکھ کھولی۔۔۔ زیغم اسکے اتنا قریب۔۔۔ بھک سے ساری نیند اڑ گٸی۔۔۔ وہ اسکے بالوں کو چھیڑ رھا تھا۔۔
وہ ایک دم اس کے اٹھ جانے پہ ہڑ بڑا ہی گیا تھا۔۔۔ فورا اٹھ کر واش روم میں گھس گیا۔۔۔
وہ ٹاول سے سر خشک کرتے ہوۓ باہر نکلا تو سامنے کا منظر دیکھ کر۔۔ دماغ گھوم گیا۔۔۔
وہ آٸینے کے سامنے براجمان۔۔ قینچی سے اپنے بال اتنی بے دردی سے کاٹ رہی تھی۔۔۔ چہرے پر سکون اور فتح تھی۔۔۔۔
اور وہ صرف سوچ کر ہی رہ گیا کہ وہ آگے بڑھے اور ایک تھپڑ رسید کردے۔۔۔ اس لڑکی کے۔۔۔لیکن اپنی اس خواہش کو دبا کر۔۔ وہ وارڈ روب میں گھس گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات کو آتے ہوۓ ضرورت کی ساری چیزیں لایا تھا۔۔۔ لاک کھول کر اندر گیا تو وہ ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔
اب ایسے ہی تو چل رہا تھا کافی دن سے۔۔ وہ آتا تو وہ۔۔ ٹی وی دیکھ رہی ہوتی۔۔ اس نے کتنی دفعہ اسے اپنے ساتھ باہر لے جانے کا کہا پر وہ تلخ لحجے میں اتنا ہی کہتی۔۔۔۔ تمھارے ساتھ جانے سے اچھاہےمیں ایسے ہی گھٹ گھٹ کے مر جاٶں۔۔۔۔ اور وہ کندھے اچکا دیتا۔۔ جیسی تمہاری مرضی پر میں تمہیں ابھی اکیلے باہر نہیں جانے دے سکتا۔۔۔
اس نے زیغم کی طرف دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔۔ سامان کچن میں سیٹ کر کے وہ کمرے میں آیا۔۔۔
اس نے اس کے آنے پر ٹی وی کی آواز اونچی کر دی تھی۔۔۔
اسے غصہ تو بہت آیا کیوں کے وہ شاپنگ پر سر کھپا کر بھی تنگ آ چکا تھا۔۔۔ اس نے تکیہ سر پر رکھ کر کان بند کیے۔۔۔اور پتہ ہی نا چلا کب سو گیا۔۔
کھٹ پٹ کی آوز سے سے زیغم کی آنکھ کھلی آواز باہر دروازے سے آ رہی تھی۔۔۔ بیڈ کی ساٸڈ خالی تھی۔۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلا تو محترمہ مین لاک کھولنے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔
اگر اسکی آنکھ نا کھلتی تو۔۔۔ اسکے دماغ کی نسیں شل ہو گیں ۔۔ یہ سوچ کر۔۔۔ اس نے ایک جھٹکے سے ماہا کا رخ اپنی طرف گھومایا۔۔۔۔ یہ کیا کر رہی ہو تم اتنا رعب تھا آواز میں ایک لمحے کے لیۓ تو وہ کانپ گٸی تھی۔۔۔۔
نہیں رہنا مجھے تمھارے ساتھ میں کوٸی بچی نہیں ہوں۔۔۔ اس نے بھی چیخ کر اسکی بات کا جواب دیا۔۔۔ ۔۔۔وہ اسے بازو سے گھسیٹتا ہوا کمرے میں لے کر جا رہا تھا۔۔
چھوڑو مجھے جنگلی کہیں کے۔۔۔ اس نے زیغم کو دھکادیا۔۔
تمہیں اکچولی عزت راس ہی نہیں ہے۔۔۔ وہ چھوٹ چھوٹ کر بھاگ رہی تھی۔۔ اور وہ اسے بازو سے پکڑ کر کھینچ رہا تھا۔۔۔
چھوڑو مجھے جانور ہو تم۔۔۔ مجھے تمھارے ساتھ نہیں رہنا۔۔۔
جانور ہو تم اس نے زیغم کو زور سے دھکا دیا وہ لڑ کھڑا کر بیڈ سے ٹکرایا۔۔۔۔ پتہ نہیں اس لمحے کیوں اسے اپنے باپ کا زارا کو دیا ہوا دھکا یاد آیا۔۔۔ اسکا خون کھول گیا۔۔۔۔
جانور ہوں میں ہاں جانور۔۔۔ زیغم۔۔ غصے سے پھٹ پڑا برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔۔۔ اسکی برداشت کی حد کو بھی ماہا آج پار کرا چکی تھی۔۔۔
زیغم نے اسکے دونوں بازو پیچھے کی طرف موڑ کے ایسا زور کاجھٹکا دیا کہہ وہ پوری کی پوری زور سے اس سے ٹکرا گٸی۔۔۔ ۔۔
اب میں تمیہں بتاتا ہوں جانور کیا ہوتا۔۔۔۔ وہ اسکے کان کی لو کے پاس غرایا۔۔۔ وہ اسکے اتنا قریب تھی کہ اسکے دل کے دھڑکنے کی آواز تک سناٸی دے رہی۔۔ تھی۔۔
زٸیغم کا بہک جانا یقینی تھا۔۔۔ اوپر سے اسکا غصہ ایسا کہ اسکی سوچ کو مفلوج کر دے۔۔۔
ماہا کی اپنے آپ کو چھڑوانے کی ہر کوشش ناکام گٸی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زور زور سے اپنے منہ پر پانی کےچھینٹے مار رہا تھا۔۔۔ کیا اتنا ہی کمزور لمحہ تھا۔۔ کہہ زیغم حسن بہک گیا۔۔۔ اسے خود پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔ماہا کی تکلیف بھری رونے کی آواز وہ واش روم میں سن سکتا تھا۔۔۔۔ اس نے زور سے اپنا ھاتھ دیوار میں گھونسے کی شکل میں مارا۔۔۔۔ لیکن اب وہ لمحہ پلٹ نہیں سکتا تھا۔۔۔
وہ اس پر پاگلوں کی طرح جھپٹ پڑی تھی۔۔۔ جیسے ہی وہ واش روم سے باہر نکلا ۔۔۔
وحشی درندے ہو تم۔۔۔ یہ ہے تمھارا اصل روپ۔۔۔۔وہ اسکے سینے پر زور زور سے تھپڑ مار رہی تھی۔۔۔
گھن آتی مجھے تم سے۔۔تم گناہ گار ہو۔۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ تھوڑی دیر پہلے جب وہ اس کے اگے بے بس تھی اس ہار کابدلہ کیسے لے۔۔۔
زیغم کچھ دیر کھڑا اسکا پگل پن برداشت کرتا رہا پھر ایک جھٹکے سے اس نے اسکے چہرے کو اپنی ھتیلی میں دبوچ لیا۔۔۔۔
میری ایک بات کان کھول کر سنو۔۔۔ وہ غرا ہی تو رہا تھا۔۔۔
میں تمہیں زبردستی اٹھا کر نہیں لایا تھا۔۔ تم اپنی مرضی سے یہاں ہو۔۔۔
اور میں نے کوٸی گناہ نہیں کیا۔۔ تم میرے نکاح میں ہو ۔ یہ حق تھا میرا سمجھی تم۔۔۔۔۔ اس نے اسکا چہرہ چھوڑ کے اس کے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔۔
اور یہ حق میں جب چاہوں تب تب لوں گا۔۔۔ اسکے کان میں وہ دھماکے ہی تو کر رہا تھا۔۔۔
اب ہٹو میرے آگے سے۔۔۔ وہ اتنی زور سے دھاڑا تھا۔۔۔ کہ ماہا کانپ گٸی تھی۔۔۔ وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: