Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 1

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 1

–**–**–

 

وہ انکا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا توبہ
الہی ہم انہیں دیکھیں یا انکا دیکھنا دیکھیں
مشال ایک ادا سے بولی
واہ واہ واہ
سب لڑکیاں ایک ساتھ گویا ہوئی
ارے واہ واہ کو چھوڑو
واہ واہ تو ہماری پہلے ہی بہت ہے
کیا مطلب سب لڑکیاں ہونقوں کی طرح بولی
مطلب یہ کہ یہ عروہ یہ مروہ یہ سلوٰی اور یہ پرواہ مشال باری باری سب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
دیکھا کیسے دادی نے سب کی واہ واہ کر رکھی ہے
مشال ہنستے ہوئے بولی
سب لڑکیوں نے گھور کے اسے دیکھا اس سے پہلے وہ اس پر جھپٹتی مشال نے وہاں سے دوڑ لگادی
مشی کی بچی آج تو بچ ہمارے ہاتھوں سے
آج تیری خیر نہیں سب لڑکیاں ایک ساتھ بولی
بی جان بچالیں ان چڑیلوں سے
مشال بی جان کے پیچھے چھپتے ہوئے بولی
بی جان یہ ہمیں تنگ کر رہی تھی
سب لڑکیاں بولی
کیا کہااس نے بی جان نے سوال کیا.
ہان ہاں بتاؤ کیا کہا ہے میں نے مشی دلیری سے بولی
بتاؤ اب چپ کیوں کھڑی ہو مشی انکو آنکھ مارتے ہوئے بولی.
یہ تم لوگوں کی خاموشی بتا رہی ہے کہ اس نے کچھ نہین کہا تم لوگ ہر وقت میری بچی کے پیچھے پڑی رہتی ہو بی جان سب لڑکیوں کو جھاڑ پلاتے ہوئے بولی
افندی ہاؤس میں ہر سمت بی جان کا راج ہے
انکی بات کو حکم کا درجہ دیاجاتا
انکے شوہر کا نام سمیر آفندی لیکن راج بی جان کا تھا
سمیر آفندی کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھی
انکے بیٹے بالترتیب عمر عمیر اور اسامہ جنکی بیویاں بالترتیب سدرہ سارہ اور رائمہ ہے
اسکے بعد دو چھوٹی بیٹیاں نائمہ اور صائمہ
نائمہ اپنی شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ انگلینڈ چلی گئی
انکے دو بچے فرحان اور زمان
صائمہ کی ایک بیٹی نورین اور اور بیٹا شہریار
صائمہ کا گھر آفندی ہاؤس کے پاس ہی تھا اس لیے آنا جانالگا رہتا
بی جان کی سب سے بڑے بیٹے کی تین بیٹیاں عروہ پروہ اور سلوٰی
بی جان کی بڑی خواہش تھی پوتے کی لیکن وہ خواہش عمیر نے پوری کی
انکا بڑے بیٹے کا نام زرجان اور بیٹی مروہ
تیسرے نمبر پر اسامہ انکی ایک بیٹی مشال آفندی
مشال تین سال کی تھی جب اسامہ اور رائمہ کا ایک کار ایکسیڈینٹ مین انتقال ہو گیا
سارہ اور سدرہ نے اسے اپنی بیٹی بنا کے پالا
اور کبھی ماں باپ کی کمی محسوس ناہونے دی
سنو سنو
زرش بینچ پر چڑھ کر بولی
کوئی اچھی خبر سنانا ایک لڑکا بولا
اوئے چپ کر کوے زرش نے اسے جواب دیا سب کے کلاس میں قہقے گونجے
آج ہمارا کوئز ہے
یہ تو ہمیں بھی پتا ہے
اب کی بار ایک لڑکی نے جواب دیا
اوئے چھپکلی چپ کر پوری بات تو سن لیا کر
ہم نے نہیں دینا آج کوئیز مجھے نہیں آتا
ہاں جیسے تو نے کہا اور سر نے مان لیا
سر کو میں منا لوں گی بس تم لوگوں نے میرا ساتھ دینا ہے
اوکے ڈن
یہاں کیا ہو رہا ہے سرمد کلاس مین داخل ہوتے ہوئے بولا
کوئیز پوسٹ پون
ریزن سرمد نے پوچھا
کیونکہ یہ زرش ملک نے کہا ہے کیا اتنا کافی نہیں ہے
جی جناب ہم تو حکم کے تابعدار ہیں سرمد سر کو خم دیتے ہوئے بولا
چلو اب نیچے اترو سرمد زرش سے بولا
اور انسانوں کی طرح ٹیسٹ دینا
خبردار اگر کوئی ڈنڈی ماری تو سرمد زرش کو گھورتے ہوئے بولا
میرا تیار نہیں ہوا
کیوں
میں بزی تھی کہاں بزی تھی
سو گئی تھی. سونے اور کھانے کے علاوہ کوئی تیسرا کام
تم تو میرے کھانے کے پیچھے پڑے رہتے ہو
یار مجھے تمہاری فکر ہوتی یے اگر تم موٹی ہوگئی تو تم سے شادی کون کرے گا
تم کرلینا زرش دوبدو بولی
سرمد نے اسے گھورا
زرش سرمد کے گھورنے پر چپ ہوگئی
یار میں سوچ رہا ہوں اسفی بولا
واٹ تم بھی سوچتے ہو احمر نے اسفند کی ٹانگ کھینچی
تو منہ بند رکھ اسفی منہ بنا کے بولا
اچھا بتاؤ کیا سوچ رہے ہو ثانیہ نے بات ختم کرتے ہوئے پوچھا
یار یہ ذوہان سر کی شادی کب ہو گی
میں بتاؤ تمہیں کب ہونی ہے ذوہان کی گھمبیر آواز گونجی
ووووہ وہ سر مممم میں اسفند ہکلایا
جبکہ باقی سب کے فلک شگاف قہقے گونجے
اسفند نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو اسے احمر کی شرارت سمجھ مین آئی
اسفند نے کشن اٹھا کر احمر کو مارا
یار بات سوچنے والی ہے
سر سے کسی لڑکی کو محبت ہو جائے ثانیہ امیجن کرتے ہوئے بولی
کہان ہو گی
ہان یہ ہو سکتا سر کسی شادی پر کھسرا بنے ٹھمکا لگا رہے ہو گے
تو وہ آکے کہے گی
ڈئیر ذوہان مجھے تمہارا ٹھمکا پسند آگیا مجھ سے شادی کر لو
یا
یہ ہو سکتا سر کہیں بھیک مانگ رہے ہو اور بھابھی آکر کہیں ذوہان مجھے تمہارا بھیک مانگنے کا طریقہ بہت پسند آیا مجھ سے شادی کر لو
اسفند منہ ٹیڑھا کرکے بولا
اسفند کے یوں کہنے پر اب نے قہقے لگائے
اور تھوڑے دور کھڑے ذوہان نے بامشکل اپنی مسکراہٹ کو سمیٹا
یار ویسے آپس کی بات ہے سر اتنے کھڑوس ہیں سر کے ساتھ کسی کا گزارہ نہین ہونا
ثانیہ اب کی بار بولی
میں نے تو سر کی شادی پر وہ سونگ پلے کرنا
تم جو ایسا کرو گی
بڑا پچھتاؤ گی
بڑا پچھتاؤ گی
تاکہ بھابھی کو سمجھ آجائے احمر مزے سے بولا
نہیں یار تم لوگون نے سنا نہیں
بے شک نیک مردوں کے نیک عورتیں ہیں اور برون کے لیے بریان
اسفند نے گویا انکے علم میں اضافہ کیا
تو احمر اور ثانیہ نے سوالیہ نظروں سے اسفند کی طرف دیکھا
تو یہ سر کو بھی سر جیسی کھڑوس ملے گی
کیا ہو رہاہے یہاں ذوہان مصنوعی غصے سے بولا
ککک کچھ نہیں سر ہم تو نیکسٹ مشن ڈسکس کررہے تھے
اسفند نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا
اوکے
کیری اون
یہ کہہ کر ذوہان وہاں سے چلا گیا
شکر بچ گئے ورنہ آج تو گئے تھے
سب سے زیادہ زبان تمہاری چل رہی تھی ثانیہ نے کہا
مشال
جی
میری لیِے چائے بنا کے میرے روم میں بھیج دو زرجان نے کہا
جی
اور ایک بات یہ جب فضول حرکتیں کرتی ہو نا
تو ادھر ادھر بھی دیکھ لیا کرو زرجان نے غصے سے کہا
سوری زر
کتنی بار کہا ہے تم سے مجھے بھائی کہا کرو
زرجان مشال کا بازو غصے سے پکڑتے ہوئے بولا
بھائی بولنے پر بی جان غصہ ہوتی ہیں مشال آنکھوں میں آنسو لیے بولی
آج کے بعد جو میں نے کہا وہ ہونا چاہیے
جی بھائی
زرجان وہاں سے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا
مشال چائے بنا کے ادھر ادھر دیکھنے لگی
کیا ہوا مروہ نے پوچھا
یہ زر بھائی کو دے آؤ پلیز.
ارے لڑکی بھائی میرا ہے تمہارا نہیں اور یہ تم رو کیوں رہی ہو مروہ مشال کی سرخ آنکھیں دیکھ کر بولی.
میرے سر میں درد ہے اور مروہ کو چائے پکڑا کر وہاں سے چلی گئی
ذوہان
یس سر
آپکا نیکسٹ مشن ایک ہاسٹل میں اسٹوڈنٹس کو ڈرگز دی جاتی ہیں
تو وہاں پر ہے
اور اس میں آپ کے ساتھ ایک لڑکی کام کریں گی
واٹ سر میں کسی لڑکی کے ساتھ کام نہیں کروں گا
یہ تمہارا گھر نہیں ہے کہ تم اپنی مرضی کام کرو گے
اور یہ کرنل اشعر ملک کی موسٹ انٹئلیجنٹ ڈاٹر زرش ملک ہے
اور وہ آپ کے ساتھ کام کریں گی اور یاد رہیں وہ آپ کے انڈر نہیں آپکے ساتھ کام کررہی ہیں
اوکے سر
وہ آپ سے خود ہی ملیں گی
اوکے سر
ذوہان نے بادل نخوستہ کہا آج اسے پہلی بار اسکے چیف سے ڈانٹ پڑی تھی
ذوہان واپس آیا تو اسکا موڈ خراب تھا
کیا ہوا سر اسفند نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
ہمارے ساتھ مس زرش ملک کام کررہی ہیں نیکسٹ مشن میں
کون زرش
سر اشعر کی بیٹی ہیں
اوہ تو وہ ملیں گی کہاں اب کی بار ثانیہ نے پوچھا
سر نے کہا ہے وہ خود ہی آپ سے مل لیں گی
سر باہر ڈنر کرنے چلیں اسفند نے ڈرتے ڈرتے پوچھا
کیوں
سر وہ آج اسفی کا برتھ ڈے ہے ثانیہ نے بتایا
اوہ ہیپی برتھ ڈے
اینڈ اوکے چلو
تم لوگ اندر چلو میں گاڑی لاک کرکے آتا ہوں
اوکے
تھوڑی دیر میں سب ٹیبل پر موجود باتوں میں مصروف تھے
یہ کیا بدتمیزی ہے ایک لڑکی کی آواز سنا ئی دی
سب لوگ اسکی طرف متوجہ ہوگئے
جہاں ایک لڑکے نے ایک لڑکے کا ہاتھ پکڑا تھا
چھوڑو اسکا ہاتھ
میری جان آپکا پکڑ لوں وہ لڑکا خباثت سے بولا
اور اس لڑکی نے اس لڑکے کے منہ پر گھونسہ مار دیا
تھوڑی ہی دیر میں اس لڑکی نے اس لڑکے کی حالت بری کردی
ذوہان اور اسکا گروپ منہ کھولے اس لڑکی کو دیکھ رہے تھے
وہ لڑکی ذوہان کی طرف بڑھی
ہائے آئی ایم زرش ملک
زرش نے اپنا تعارف کرویا
اینڈ آئی ایم اسفند اسفند جلدی سے بولا
آئی نو آل آباؤٹ آف یو اینڈ ہیپی برتھ ڈے بڈی
اوکے سی یو ٹو مارو
یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے چلی گئی
جبکہ وہ سب ابھی تک منہ کھولے اسی کی طرف دیکھ رہے تھے

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: