Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 10

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 10

–**–**–

 

صبح سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے
پاپا
جی
پاپا ہمیں یونی سے کافی چھٹیان ہو گئی ہیں
ہمیں اب واپس جانا چاہیے مشال بھی اب کافی حد تک ٹھیک ہو گئی ہے
کیا خیال ہے مشال زر نے بات کرتے ہوئے مشال کو بھی درمیان مین گھسیٹا
مشال تو پہلے ہی یہی چاہتی تھی
جی ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ
مشال بول کر پھر سے اپنی پلٹ پر جھک گئی
اوکے بیٹا آپ لوگ اپنی پیکنگ کر لو اور صبح نکل جانا
پاپا مجھے کچھ ضروری کام ہے اس لئے آج ہی جانا ہو گا ہمیں زر ایک بار پھر سے بولا
اوکے بیٹا
پھر آپ لوگ اپنی پیکنگ کرلیں اور جلدی نکل جائین
جی پاپا
پروا
جی بڑے پاپا
آپ مشال کی پیکنگ کر دو
جی بڑے پاپا
زمان کی مسلسل نظریں مشال پر تھی
پر مشال نے ایک بار بھی اوپر دیکھنا ضروری ناسمجھا جیسے اس سے ضروری کام کوئی نا ہو
ذوہان مسلسل سبرینہ کی تلاش میں تھی
پر وہ مل ہی نہیں رہی تھی
اسی وقت ذوہان کا فون بجنے لگا
ہیلو
ذوہان فون کان کو لگاتے ہوئے بولا
فوراً اڈے پر پہنچو زرش بولی
خیریت
جتنا کہا اتنا کرو
اور ساتھ ہی فون بند کردیا
اگلے پندرہ منٹ میں ذوہان اڈے پر موجود تھا
سامنے سبرینہ ایک کرسی کے ساتھ بندھی تھی اور اس کے چہرے پر جگہ جگہ خون کے نشان تھے
اور دوسری طرف زرش بیٹھی تھی
یہ یہاں ذوہان نے زرش سے پوچھا
مسٹر ذوہان کب سے ہیں انٹیلجینٹس میں آپ
پانچ سال سے ذوہان نے کچھ ناسمجھتے ہوئے جواب دیا
اوہ
تو یہ مس آپ کو ڈبل کراس کر رہی تھی پر آپکو سمجھ نہیں آیا
کیا مطلب
مطلب یہ کہ آج یہ آپکو اپنے ڈیڈ سے ملوانے والی تھی
لیکن حقیقت میں یہ آپکو موت سے ملوانے والی تھی
زرش نے اسفند کو اشارہ کیا
اسفند نے سبرینہ کے منہ سے پٹی ہٹا دی
میں نے اس دن تم دونوں کو مال میں دیکھا تھا پھر میں نے تم لوگوں کو فالو کیا
اور میں جان گئی کہ تم دونوں سرکار کے بندے ہو
لیکن میں خاموش رہی آج میری سالگرہ تھی. تو مین نے سوچا اپنے ڈیڈ کو اپنی سالگرہ پر گفٹ دوں گی
انکے دشمن کو موت کے گھاٹ اتار کے
سبرینہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی
ذوہان حیرانگی سے یہ سب سن رہا تھا کہ وہ کیسے بے وقوف بن گیا
تمہارے ڈید کو گفٹ تو آج بھی تم دو گی اپنی سالگرہ پر
پر انکے دشمن کی موت کا نہیں اپنی موت کا
نننن نہیں مجھے کچھ نا کرو.
ٹھیک ہے نہیں کرتے اگر تم اپنے ڈیڈ کی ساری ڈیٹیل دے دو تو زرش چیونگم چباتے ہوئے لاپرواہی سے بولی
نہیں میں ایسا نہیں کرسکتی
تو چلو پھر مرجاؤ
اور زرش ملک کو دوسرا چانس دینے کی ویسے بھی عادت نہیں ہے
زرش یہ کہہ کر اسکی طرف بڑھی
نننن نہیں میں بتاتی ہوں
جیسے جیسے سبرینہ بتا رہی تھی
زرش اور ذوہان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا
میں جو کچھ جانتی تھی سب بتا دیا اب مجھے جانے دو
چھوڑ دو مجھے رحم کھاؤ مجھ پر
تم نے ان معصوم جانو پر رحم کھایا تھا جو میں تم پر کھاؤ
زرش وحشت زدہ آواز میں بولی
انجیکشن لاؤ
زرش اونچی آواز میں بولی
ثانیہ نے انجیکشن زرش کو پکڑایا
ان میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ کس چیز کا نجیکشن ہے
سبرینہ کی مزاحمت کے باوجود بھی زرش نے انجیکشن سبرینہ کے جسم میں گھسیڑ دیا
اور پھر کچھ ہی دیر میں سبرینہ کا جسم کسی مادے کی طرح پگھلنے لگا
اب اس ہال.میں سبرینہ کی چیخیں گونج رہی تھی
جبکہ اسفند اور احمر لڑکے ہونے کو باوجود کانپ رہے تھے
اب سبرینہ کی جگہ کچھ سیال مادہ اور کچھ ہڈیاں موجود تھی
اسی ٹائم دھڑام کی آواز آئی
سب نے آواز کی سمت مڑ کر دیکھا تو ثانیہ بے ہوش پڑی تھی اور چہرہ بالکل سفید ہو رہا تھا جیسے سارا خون نچوڑ لیا ہو
احمر جلدی سے ثانیہ کی طرف بڑھا
زرش نے ایک نظر ثانیہ کو دیکھا
یہ پیک کروا کے اسکے باپ کے اڈے پر بھجوادو
زرش سبرینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
ججج جی ذوہان تھوڑا ہکلا کر بولا
جبکہ زرش باہر کی طرف بڑھ گئی
پانی
زرش کے باہر نکلتے ہی اسفند کے منہ سے غیر ارادی طور پر نکلا
مروہ یار مشال کو بولو جلدی آئے
ہم لیٹ ہورہے ہیں
جی بھائی بس آرہی ہیں وہ
تھوڑی دیر میں مشال نیچے آتی نظر آئی
بے بی پنک کلر کی شلوار قمیض پہنے
اوپر
بلیکن کوٹ پہنے لمبے بالوں کی چٹیا بنائے
گلے میں مفرل کی طرح ڈپٹہ لپیٹے مشال بلاشبہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
زر بنا پلکیں جھپکے مشال کی طرف دیکھ رہا تھا.
اور دوسری طرف زمان بھی یک ٹک مشال کو دیکھ رہا تھا
اس نے بہت سا حسن دیکھا تھا
لیکن اتنا معصوم حسن نہین دیکھا تھا
مشال سب سے مل.کر گاڑی کی طرف بڑھی
بھائی چلیں
مشال زر سے بولی
اور زر کے ارمانو کا خون کر گئ
زر کا دل.کیا کہ گاڑی سے اٹھا کے باہر پٹک دوں اسکو پر خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گیا
تمہیں جانا ہے نا؟
جاؤ _____!!
تمہیں اِس سے نہیں مطلب
غلط فہمی تھی یا اُلفت
یہ میرا دردِ سر ہے،
دردِ دِل ہے ،
جو بھی ہے ،
جاؤ____!!
تمہارا کام تھا، تم نے محبت کی،
بہت اچھے
یہ میرا کام ہے میں یاد رکھوں
یا بھُلا ڈالوں…
عجب باتیں ہیں دُنیا کی،
عجب رسمیں ہیں اُلفت کی
محبت کر تو لیتے ہیں،
نبھانا بھول جاتے ہیں
کسی دِن چھوڑ جائیں گے،
بتانا بھول جاتے ہیں
مجھے اب کچھ نہیں سُننا،
مجھے کچھ بھی نہ بتلاؤ
مجھے تم مشورے مت دو…..
کہ میں نے کیسے جینا ہے
اگر تم بھولنے کا گُر
مجھے بتلا نہیں سکتے ،
تو پھر کچھ بھی نہ بتلاؤ___ چلے جاؤ
راستے مین دونوں طرف خاموشی چھائی رہی
زر نے اپنا سارا غصہ گاڑی پر نکالا
اور کر بھی کیا سکتا تھا
انکو گھر پہنچتے میں رات ہو گئ
مشال.نیچے اتری زر بھی ساتھ ہی اترا
زر ڈرائیور کو سامان کا بول کر اندر کی طرف بڑھ گیا
کھانا وہ راستے میں کھاچکے تھے اسلیے دونوں خاموشی سے اپنے اپنے رومز کی طرف بڑھ گئے
رات کو سب کھانا کھا رہے تھے لیکن ہر طرف خاموشی کا راج تھا
بھائی میری شادی کروادیں اسفند اچانک بولا
سب نے حیرانگی سے اسفند کی طرف دیکھا
جبکہ زرش کو باقاعدہ اچھو لگا
کیوں
کیونکہ کہ پھر چیف سر شادی کرواتے ہیں
اور میں کسی آرمی آفیسر لڑکی سے شادی بالکل بھی افورڈ نہیں کر سکتا
یہ لڑکیاں جتنی معصوم ہوتی ہیں اتنی ظالم بھی ہوتی ہیں اسفند کا اشارہ آج والے واقعے کی طرف تھا
کوئی پسند ہے تمہیں
نہیں جو لڑکی ذوہان بھائی پسند کریں گے میں اسی سے شادی کروں گا
مطلب ذوہان کی گرل فرہنڈ سے زرش کی بات پر سب کی دبی دبی ہنسی نکلی
توبہ میرا مطلب تھا جو بھائی میرے لیے لڑکی پسند کریں گے
اوہ
ذوہان وہ لڑکی کیسی رہے گی اسفند کے لئے
کونسی وہ جو اس دن ہمیں راستے میں ملی تھی
ہاں اچھی ہے
بس تھوڑے دانت لمبے ہیں اور رنگ گہرا چاکلیٹی ہے
زوہان بولا
ہاں اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہیں باقی سب ٹھیک ہے زرش بولی
تھوڑا اونچا سنتی ہیں.
وہ سب تو ٹھیک ہے ہمیں پسند ہے تو اسفند کو تو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا
زرش بولی
ہاں بالکل
ثانیہ اور احمر نے بامشکل اپنے قہقے روکے
جبکہ اسفند تو رونی صورت بنائے دونوں کو دیکھ رہا تھا
بھائی اسفند چلایا
اور ساتھ ہی سب کے قہقے گونجے جبکہ اسفند شرمندہ ہوتے ہوئے وہاں سے اُٹھ گیا
یار وہ وہاں کیا ہوا
کتنا رش ہیں وہاں پر
مشال حمنا سے مخاطب ہوئی
ہاں
آؤ دیکھتے ہیں
مشال حمنا کا بازو پکڑتے ہوئے بولی
وہاں ایک لڑکا چھت کے اوپر کھڑا تھا
کیا ہوا مشال نے ایک لڑکی سے پوچھا
یہ لڑکا کسی لڑکی سے پیار کرتا ہے لیکن لڑکی نہین مان رہی.
تو یہ کہہ رہا ہے یہ اپنی جان دے دے گا اگر ہو نا مانی تو
اوہ
مشال.نے ہونٹوں کو گول گول.گھمایا
وہ لڑکی کون ہے اب کی بار حمنا نے پوچھا
اس لڑکی نے ایک لڑکی کی طرف اشارہ کیا
مشال نے اس سمت دیکھا تو وہاں ایک معصوم سی لڑکی فل سلیوز والا بلیک ڈریس پہنے اور ساتھ بلیک ہی حجاب بنائیں کھڑی تھی
یار یہ تو وہ لڑکا ہے جو اس دن تجھے بھی پر پوز کر رہا تھا
حمنا مشال کے کان میں گھستے ہوئے بولی
ہاں
چلو میرے ساتھ مشال حمنا کا بازو پکڑ کر آگے بڑھی
شرم آنی چاہیے وہ لڑکا تم سے اتنی محبت کرتا اور تم اسے یوں مرتے دیکھ رہی ہو مشال اس لڑکی کو بولی
اب سب لوگ مشال.کی طرف دیکھنے لگے
آئی لویو اب کی بار مشال اس لڑکے کے طرف دیکھ کر بولی
دیکھو میں تم سے محبت کرتی ہوں اور شادی کرنا چاہتی ہوں پلیز نیچے آجاؤ
مشال اس لڑلے سے بولی
جبکہ باقی سب آنکھیں پھاڑے مشال کو دیکھ رہے تھے
جبکہ زر کا دل چاہ رہا تھا کہ جاکے مشال کو دو تین تھپڑ مار دے
دیکھو میں اس لڑکی سے زیادہ خوبصورت ہوں
مشال ایک بار پھر سے بولی
جبکہ پاس کھڑی حمنا کی بت کی مانند کھڑی ہو کے مشال کو دیکھ رہی تھی
کہ جس لڑکی کو محبت کے نام سے اتنی نفرت یے آج وہ ایک سڑک چھاپ عاشق سے اظہار محبت کررہی تھی اور وہ بھی سب کے سامنے
وہ لڑکا نیچے اتر آیا
اور مشال.کی طرف بڑھا اب سب کے سب دم سادھے مشال اور اس لڑکے کو دیکھ رہے تھے
جیسے ہی وہ لڑکا مشال کے قریب آیا
مشال نے گھما کر ایک تھپر اس لڑکے کو مارا
بس اتنی سی محبت تھی اس لڑکی کے لِیے
ابھی جو لڑکا اس کی محبت مین جان دینے کو تیار تھا ابھی وہ مجھ سے شادی کرنے کو تیار ہے
اور اب جاؤ جا کے جان دو بلکہ چلو میں تمہیں دھکا بھی دے دون گی
تاکہ زیادہ مشکل پیش نا آئِے
اب کی بار مشال اس لڑکی کی سمت بڑھی
سوری سسٹر میں نے آپ سے بدتمیزی کی
پر ایسے لوگوں کو ایسے ٹریٹ کرتے ہیں ڈرتے نہین مشال اس لڑکی کا گال تھپتھپاتے ہوئے بولی
تھینکیو سسٹر
اسکی ضرورت نہیں
مشال دوبارہ اس لڑکے کی طرف مڑی پر وہ وہاں سے غائب ہو چکا تھا
مشال جیسے ہی وہاں سے جانے لگی
چاروں طرف سے سیٹیوں اور تالیوں کی آواز آنے لگی
زرش نے موبائل پکڑا
اور ایپ لاک کھولا
سب سے اوپر سرمد کی تصویر تھی
زرش نے تصویر کھولی اور تلخی سے مسکرائی
سرمد تم میری زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہو
تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے تم نے تو مجھے دوست سمجھا میں ہی تم سے محبت کر بیٹھی
تم جانتے ہو میں نے تم سے شکوہ کیون نہیں کیا.
کیونکہ تمہاری زندگی تھی تمہیں مکمل حق تھا کسی سے بھی محبت کرنے کا
میں تم سے تمہاری محبت کیوں چھینتی
ہان لیکن مجھ مین اتنی ہمت نہیں کہ اپنی آنکھوں کے سامنے تمہیں کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھتی
حقیقت تو یہ ہے کہ ایک مرد اور عورت کبھی دوست ہو ہی نہیں سکتے
دونوں میں سے کسی ایک کو محبت ہو جاتی ہے اور یہ محبت بہت جان لیوا ہوتی ہے
کیونکہ پھر انسان پھنس جاتا محبت اور دوستی کے درمیان
محبت انکار کرتی ہے اپنا محبوب کسی اور کے ساتھ دیکھنے کو
جبکہ دوستی کہتی ہے اپنے دوست کو اسکی محبت حاصل کرنے میں اسکا ساتھ دینا ہے
سرمد آج میں تمہارا نام ہمیشہ ہمیشہ سے اپنی زندگی سے نکال رہی ہوں
اب میں کسی اور کی امانت بن چکی ہوں چاہے جیسے بھی نکاح ہوا ہو
پر میں کسی کی امانت میں خیانت نہیں کرسکتی
میں کوشش کروں گی کے تمہیں بھول کے اپنے شوہر سے محبت کروں
ﮨﻢ ﺍﮐﺜﺮ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ…
ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ…
ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﭼﮭﻮﮌ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ…
ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ….
ﻣﺤﺒﺖ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ…
ﻣﺤﺒﺖ ﭨھہر ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ…
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ..
ﮨﻤﺎﺭﯼ ذﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ..
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ..
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮫ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ..
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﯿﮟ..
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺳﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ..
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ..
ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺏ ﺭﻭﺍﮞ ﺑﻦ ﮐﮯ..
ﮐﺒﮭﯽ ﻗﻄﺮﮮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ..
ﻣﺤﺒﺖ ٹھہر ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ..
ﯾﮧ ﮨﺮﮔﺰ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮتی______________
مشال بیڈ پر بیٹھی تھی کہ زر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا
تمیز نہیں سکھائی آپکو کسی نے کسی کے روم میں ناک کرکے جاتے ہیں
مشال غصے سے اٹھتے ہوئے بولی
کیا حرکت تھی یہ زر غصے سے مشال کا بازو پکڑتے ہوئے بولا
کونسی حرکت
جو آج یونی میں کی ہے
خود کو سمجھتی کیا ہو تم لڑکی ہو لڑکی بن کے رہو
اپنا تو پتا نہیں پر آپ ایک نمبر کا جاہل انسان ہیں
نہیں آپکو کیا پر لگین ہیں اور مجھے نہیں لگے
تمیز سے بات کرو زر چلایا
آپ مرد ہیں تو مرد بن کے رہیں کوئی معیار تو رہنے دیں اپنا آپ تو اپنے معیار سے بھی گر رہے ہیں
اگر صرف غصہ دکھانا مردانگی ہے تو لعنت بھیجتی ہوں میں ایسی مردانگی پر
اگر اس لڑکی کی جگہ میں ہوتی ہا مروہ ہوتی تو کیا یوں ہی کھڑے ہو کر تماشہ دیکھتے آپ بیٹیاں اور بہنیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں
اور
یاد رکھیں یہ دنیا مکافات عمل کا نام ہے
جیسے آپ ثنا کے ساتھ کھیل رہے ہیں
کیا مطلب کھیل رہا ہوں زر غصے سے غرایا
جناب یہ جو آپ اسکو شادی کے لارے لگا رہے ہین پر شادی کسی اور سے کریں گے تو جناب عرض ہے اسکو جزبات سے کھیلنا کہتے ہیں
وہ کوئی چھوٹی بچی تھوڑی ہے خود آتی ہے میرے پیچھے
میں اسکے پیچھے نہیں جاتا
زر نے ایک کمزور سی دلیل دی
چلے مان لیتے ہیں لیکن کل کو آپکی اولاد بیٹی بھی ہو سکتی ہے کہیں آپکے کارناموں کا بدلہ آپکی بیٹی کو ناچکانا پڑ جائے کہیں کل کو کوئی اسکی جزبات سے نا کھیل جائے
پھر کیا آپ کسی سے سوال کر سکیں گے
مسٹر زرجان
مشال زر کا ہاتھ اٹھا اور ہوا میں ہی معلق رہ گیا
مشال تلخی سے مسکرائی
زر بھائی حقیقت تلخ ہے پر ہے تو حقیقت نا
مشال یہ کہتے ہوئے باہر نکل گئ جبکہ زر وہیں زمین پر بیٹھتا چلا گیا
رات کا آخری پہر چل رہا تھا کہ ذوہان کے روم کا دروازہ دھڑ دھڑ بجنے لگا
اس وقت کون ہو سکتا ہے ذوہان نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا
تو سامنے زرش بلیک پینٹ کوٹ پہنے کھڑی تھی
لیکن
اسکے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے
کیا ہوا زری آر یو اوکے زوہان جلدی سے بولا
البتہ اسے چھونے سے پرہیز کیا
نو آئی ایم ناٹ اوکے زرش لڑکھڑائی
ذوہان نے جلدی سے زرش کو سہارا دیا
کیا ہوا
ذوہان نے زرش کو بیڈ پر بٹھایا
زرش نے اشارے سے ڈور لاک کرنے کو کہا
ذوہان نے ناسمجھتے ہوئے آگے بڑھ کر دروازہ لاک کیا
زرش اپنا کوٹ اتارنے لگی
لیکن
وہ اتار نہیں پارہی تھی
زرش نے مدد طلب نظروں سے ذوہان کو دیکھا
اور آگے بڑھ کر زرش کو کوٹ اتارنے میں مدد دی
سفید شرٹ خون سے تر تھی
فرسٹ ایڈ باکس لے کے آؤ
زرش دھیمی آواز میں بولی
ذوہان جلدی سے فرسٹ ایڈ باکس لے کے آیا
زرش کے کمر کے سائیڈ پر کافی گہری چوٹ آئی تھی
ذوہان نے ڈیٹول سے زخم کو صاف کیا
اندر کانچ ہے زرش اپنی تکلیف پا قابو پاتے ہوئے بولی
ہمیں ڈاکٹر کے پاس چلنا چاہیے ذوہان بولا
اگر ڈاکٹر کے پاس جانا ہوتا تو میں تمہارے پاس نا آتی
ذوہان خاموشی سے کانچ نکالنے لگا
ذوہان کے ہاتھ دھیرے دھیرے کانپ رہے تھے
یہ نہیں تھا کہ وہ کمزور دل کا مالک تھا پر یہاں معاملہ محبت کا تھا اور وہ اپنی محبت کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا زرش نے ذوہان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
اور اسکی ہمت بڑھائی
کچھ ہی دیر مین ذوہان کانچ نکال کر بینڈینج کر چکا تھا
زرش کے چہرے پر ابھی بھی تکلیف کے آثار تھے ذوہان نے اسے پین کلر دی
میں تمہارے لیے ہلدی والا دودھ لاتا ہوں
ذوہان دودھ لے کے آیا تو زرش وہی سوچکی تھی
تو ذوہان نے اسکی تکلیف کا سوچ کا اسے اٹھانا ضروری نا سمجھا
پتا نہیں یہ لڑکی کیا کرتی پھر رہی ہے
ذوہان دودھ کا گلاس ٹیبل پر رکھ کر صوفے کی طرف بڑھ گیا
سنو خیال رکھا کرو اپنا
کہ تمہارے درد سے ہمیں درد ہوتا ہے
آج سنڈے تھا تو زر دس بجے اُٹھا
بی جان ناشتہ
زر ناشتہ کرنے لگا
بی جان مشال نہیں اُٹھی ابھی
نہیں بیٹا
میں اسکے روم میں گئی تھی پر وہ سو رہی تھی
ہمم اوکے
کچھ دیر بعد ڈور بیل ہوئی
صبح صبح کون آگیا
زر دروازے کی طرف بڑھا
تم لوگ زر آنے والو کو دیکھ کے بولا
جی ہاں ہم
لیکن تم لوگ کیسے آئے
گاڑی پر
وہ گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
لیکن تم لوگ کو اجازت کس نے دی یہاں آنے کی
شیروں کو کہین بھی جانے کی اجازت نہیں ہوتی
ویسے یہاں ایک کیوٹ سی اور پیاری سی لڑکی رہتی ہے
ہم اسے ملنے آئے ہیں
سائیڈ پر ہٹو
کیوں کیا لگتی ہیں تم لوگوں کی زر تھوڑا غصے سے بولا
جی ہم ناچیزوں کی کزن ہوتی ہے
شیری بالوں پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا
میں بھی تم لوگوں کا ہی کزن ہوں مجھ سے تو مل لو
زر بولا
ہاں پر تم ہمارے لیول کے نہیں ہو ہم بس خوبصورت لوگوں سے ملتے ہیں اب کی بار فرحان بولا
تم بھی کچھ بول لو تم ہی رہ گئے ہو زر فرحان کی طرف دیکھ کر بولا
زر کی مسکین شکل دیکھ کر زمان کی ہنسی نکل گئی
نہیں تو تو میرا بھائی یے زمان زر کو گلے لگاتا ہوا بولا
سب لڑکیاں اور لڑکے زر سے مل کر اندر کی طرف بڑھے
یہ سب لوگ مشال کی وجہ سے زر کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں لیکن جب انکو اس مس نوٹکی ہی حقیقت پتا چلے گی تب کیا بنے گا
زمان نے افسوس سے سر ہلایا اور سب کے پیچھے ہو لیا
بھیا مشال کہاں ہے پروہ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد بولی
اپنے روم میں ہے ابھی اٹھی نہیں
ابھی تک سوئی ہیں
ہاں آج سنڈے ہے اس لئے
اوکے ہم مل کر آتے ہیں یہ کہہ کر سب لڑکیان مشال کا روم پوچھ کر مشال کے روم کی طرف بڑھ گئی
صبح ذوہان کی آنکھ الارم کی آواز سے کھلی
ذوہان نماز پڑھ کر جاگنگ کرنے چلا گیا
واپس آیا تو زرش ہنوز ایسے ہی سو رہی تھی
زرش
زرش
ذوہان نے آواز دی
ذوہان نے آگے بڑھ کر زرش کا ماتھا چھوا
زرش اس وقت بخار سے جل رہی تھی
ذوہان ٹھنڈے پانی سے پٹیاں کرنے لگا
کچھ دیر بعد ٹمپریچر کم ہوگیا
ٹک ٹک ٹک…..
بھائی ناشتہ ریڈی ہو گیا آجائیں اسفند کی آواز تھی
ہمم اوکے آرہا ہوں
سب ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے ذوہان نے ناشتہ کرنا اسٹارٹ کیا
بھیا بھابھی نہین آئی ابھی اسفند بولا
میڈم اپنے روم مین نہیں ہے میں اُٹھانے گئی تھی
مطلب وہ صبح صبح کہاں چلی گئی
وہ میرے روم ہے اور ابھی سو رہی ہے
ذوہان کے کہنے پر سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: