Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 11

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 11

–**–**–

 

کیا ہوا مشال
تم ہمارے آنے سے خوش نہیں ہو کیا
پروہ نے پوچھا
ننن نہین ایسی تو کوئی بات نہیں
بھلا مجھے خوشی کیوں نہیں ہو گی تم لوگوں کے آنے سے
اچھا پھر اتنی پریشان کیوں ہو زر بھائی نے پھر سے کچھ کہا
نہیں تو
بس ابھی سوئی اٹھی ہوں نا اسلیے لگ رہا تم لوگوں
میں فریش ہو کے آتی ہوں پھر ناشتہ کرتے ہین
مشال بات بدلتے ہوئے بولی
ہمم اوکے آجاؤ
مشال تیار ہوکے نیچے آئی تو سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے
السلام علیکم
مشال نے سب کو سلام کیا اور اپنی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی
سب نے ناشتہ شروع کر دیا
ہائے بیوٹیفل
فرحان بولا
اس سے پہلے کے مشال کچھ بولتی
شیری جلدی سے بولا
اوئے تمیز کر بھابھی ہے تمہاری
اوئے بھابھی ہو گی تمہاری
دونوں آپس مین لڑنا شروع ہو چکے تھے
سٹاپ سٹاپ
میں بتاتی ہو میں کس کی بھابھی ہوں
مشال جلدی سے بولی
ہاں بتاؤ
تاکہ اس مونگ پھلی کو کلیر ہو جائین کہ تم اسکی بھابھی ہو شیری جلدی سے بولا
جبکہ فرحان کو مونگ پھلی کہنے پر سب نے قہقہ لگایا سوائے زر اور زمان کے
خود کیا ہو بندر فرحان نے جساب برابر کیا
اب میری بھی سن لو مشال بولی
میں تم دونوں کی بھابھی نہیں ہوں
پھر
بھابھی کا تو نہیں پتا کے کس کی ہوں
پر اتنا پتا ہے کہ تم دونوں کی آپی ہوں
فرحان اور شیری کا تو حلق تک کڑوا ہو گیا
اور
دونوں برے برے منہ بنانے لگے
یہ آپ نے اچھا نہیں کیا
آپ کو ہماری آہ لگے گی
شیری بھرپور ڈرامائی انداز میں بولا
اچھا صلہ دیا تو نے میرے پیار کا
یار یار نے ہی لوٹ لیا گھر یار کا
فرحان اپنے انتہائی بے سری آواز میں گانے کا بیڑا غرق کرنے لگا
آج ملی تو وہ سرے راہ
اپنے بچوں کو دیکھ کر بولی وہ تمہارے مامو جارہے ہیں
شیری سرد آہین بھرتے ہوئے بولا
جبکہ باقی سب کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا
ایک زمان اور زر ہی خاموش بیٹھے تھے
اگر تم لوگوں کی مستیاں ختم ہو گئی ہوں تو ناشتہ کرلیا جائے زر کے بولنے سے پہلے زمان بولا
سب خاموشی سے ناشتہ کرنے لگے
زرش کی آنکھ کھلی تو اسے یہ کمرہ کچھ اجنبی سا محسوس ہوا
جیسے ہی اس نے اُٹھنا چاہا تو درد کی کئی ٹھیسیں اسکے جسم سے اُٹھی
اس نے چاروں طرف نظر گھمائی تو سامنے ذوہان کی تصویر لگی تھی
ساتھ ہی رات کا منظر اسکی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا
اس نت دوبارہ اُٹھنا چاہا لیکن درد ناقابل برداشت تھا
اسلیے پھر وہی پر خاموشی سے لیٹ گئی
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو ذوہان کمرے مین آیا
کیسی طبیعت ہے اب
بہتر ہے
آر ہو شیور
یس
ناشتہ لاؤں
ہوں
ذوہان ناشتہ لے کے آیا
تو زرش خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی
یہ چوٹ کیسے آئی ذوہان نے پوچھا
کل راستے میں کچھ سڑک چھاپ غنڈے ایک لڑکی کو چھیڑ رہے تھے
تو……
اتنی رات کو وہ لڑکی وہاں کیا کر رہی تھی وہ بھی کوئی شریف زادی نہیں ہو گی ذوہان نے کہا
زرش کی آنکھیں ایک دم سرخ ہوئی
آدھی رات کو میں بھی سڑکوں پر ہی گھوم رہی تھی
میرے بارے میں کیا کہو گے
لیکن تم تو
ہمیں کسی کی حقیقت جانے بنا کسی کے کردار پر انگلی اٹھانے کا کوئی حق نہیں ہے ذوہان کے بولنے سے پہلے زرش بولی
وہ لڑکے کہاں ہے ذوہان نے گویا بات بدلی
جہاں انکو ہونا چاہیے تھا
زرش جواب دے کر خاموش ہو گئی
ذوہان نے بھی اب خاموش رہنا بہتر سمجھا
کبھی یاد آؤں تو پوچھنا
ذرا اپنی فرصتِ شام سے
کِسے عِشق تھا تیری ذات سے
کِسے پیار تھا تیرے نام سے
ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا
جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا
وہ جو جی اُٹھا تیرے نام سے
وہ جو مر مٹا تیرے نام پے
ہمیں بے رُخی کا نہیں گلہ
کہ یہی وفاؤں کا ہے صلہ
مگر ایسا جرم تھا کونسا ؟
گئے ہم دعا ؤ سلام سے
کبھی یاد آؤں تو پوچھنا
ذرا اپنی فرصتِ شام سے
سب کزنز اس وقت مال مین موجود تھے
چونکہ باقی سب مہمان تھے تو مشال اور زر کا فرض تھا سب کو گھمانے کا
مشال اس وقت اکیلی کھڑی تھی
جب وہان زمان آکے کھڑا ہو گیا
ہائے ڈیئر کزن کیسی ہو
ٹھیک ہوں
مشال نے جواب دیا
لگ تو نہیں رہا
ویسے نا میں بہت حیران ہوں
زمان بولا
وہ جو میری دعا تھی جس سے میں ایک سال سے محبت کردہا تھا
وہ یہاں تو کسی اور کی مشال ہے
ککک کون دعا
مشال اٹکتے ہوئے بولی
مس مشال.اب یہ معصومیت کا خول کسی اور کے سامنے چڑھائیے گا
مجھے صرف دو منٹ لگے گے سب کے سامنے تمہارا راز فاش کرنے میں
بتاؤ مشال کہاں ہے زمان زہر خند لہجے میں بولا
کککک کیسی باتین کر رہے ہو آپ
میں ہی مشال ہوں
پھر سے جھوٹ زمان مشال کی کلائی مڑوڑتا ہوا بولا
آہ چھوڑو مجھے
مشال کہاں ہے
تم دونوں یہاں کیا کررہے ہو
پیھے سے زر بولا
کچھ نہیں میں سوچ رہا تھا اپنی کزن سے کچھ دیر بات کر لوں
زمان مشال کی کلائی چھوڑتا ہوا بولا
مشال تم رو رہی ہو زر مشال کی سرخ آنکھین دیکھ کر بولا
نہیں بس آنکھوں میں ڈسٹ چلی گئ ہے اس وجہ سے مشال خود کو نارمل کرتے ہوئے بولی
ہمم چلو
کہیں کھانا کھا لے بہت بھوک لگی ہے
ہمم اوکے
مشال اور زمان دونوں ہی زر کے ساتھ چل دیے
کھانا کھانے کے بعد سب واپس جارہے تھے
مشال فری وقت میں کیا کرتی ہو آپ زمان نے پوچھا
کچھ بھی نہیں
لوگوں کا جینا حرام کرتی ہے شیری بولا
مجھے تو لگا تھا کہ سوچتی ہوں گی کہ اب کا کو کیا دھوکہ دینا ہے
زمان اتنا دھیما بولا
کہ مشال.کے سوا کوئی بھی نا سن سکا
زر نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی
کیا ہوا سب نے ایک ساتھ پوچھا
پتا نہیں شاید لڑائی ہو رہی ہے
سب باہر نکلے تو چند غنڈے ایک لڑکی کو گھیر کر کھڑے تھے
اور
باقی سے لوگ تماشائی بنے کھڑے تھے
مشال جلدی سے آگے بڑھی
چھوڑو اسے
مشال چلائی
کیوں کیا لگتی ہے تیری ایک آدمی ان میں سے بولا
یہ میری بہن ہے اور میں تم لوگوں کی
مطلب میری بہن تم لوگوں کی بہن ہوئی نا
مشال نے اپنا کوٹ اس لڑکی کو دیا
سب لوگ حیرانگی سے مشال کو دیکھ رہے تھے
جبکہ
اسکے اپنے کزنز اسے پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہے تھے
تمہاری یہ مجال ایک لڑکا مشال کی طرف بڑھا
لیکن
یہ.کیاسب طرف دھواں پھیلنے لگا
جیسے ہی دھواں ختم ہوا
مشال اور وہ لڑکی وہاں سے غائب تھی
سب حیران و پریشانی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے
دو سیکنڈ میں وہ لڑکی کہاں گئی
ڈھونڈو انہیں یہی کہیں ہو گی ان میں سے ایک چلایا
دفعتاً زر کا فون بجا
ہیلو
مشال کہاں ہو تم
زر جلدی سے بولا
جہاں تم کھڑے ہو اس کے قریب جو مال ہے اسکے سامنے گاڑی کو لے آؤ
اوکے کہتا ہوا زر گاڑی میں بیٹھا
اور
سب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
سب کے بیٹھتے ہی زر نے گاڑی چلا دی
ہیلو
ہم مال کے سامنے ہیں
اوکے
ہم آرہے ہیں
کچھ دیر میں دو برقع پوش زر کی گاڑی میں آکر بیٹھ گئے
باقی سب دوسری گاڑی میں زر کے کہنے پر گھر چلے گئے تھے
آپ لوگ کون ہیں اور میری گاڑی میں کیوں بیٹھی ہیں زر غصے سے بولا
ایک تو مشال پتا نہیں کہاں تھی اوپر سے یہ نئی مصیبت
ایک برقع پوش نے اپنا نقاب ہٹایا
تم
ہمم
سسٹر کہاں جائیں گی آپ
مشال پیچھے مڑتے ہوئے بولی
آپ مجھے یہیں اتار دیں میں چلی جاؤں گی وہ لڑکی پریشانی سے بولی
تاکہ وہ لوگ پھر آجائیں
بائے دا وے وہ کون لوگ تھے
وہ لڑکی مشال کی دوسری بات اگنور کرتے ہوئے ایڈریس بتانے لگی
جسے مشال اور زر دونوں نے نوٹ کیا
زر نے بتائے ہوئے پتے پر گاڑی روکی
یہ کافی سنسان علاقہ تھا
اندر آئیں آپ لوگ بھی
وہ لڑکی گاڑی سے اتر کر مروتاً بولی
جبکہ مشال تو شاید اسی انتظار میں تھی
جی ضرور کیوں نہیں
مشال بھی گاڑی سے اتر کر بولی جبکہ زر نے اسے گھورا
پر پھر مجبوراً مشال کے ساتھ اُترنا پڑا
آئیں بیٹھے
وہ لڑکی انہیں ایک کمرے میں لے جاکر بولی
تھوڑی دیر میں ایک بوڑھی عورت آئی
شکریہ بیٹا تم نے میری بچی کی عزت بچائی
آنٹی یہ تو میرا فرض تھا آپ بتائیں یہ لوگ کون تھے
کوئی دشمنی ہے
بیٹا
یہ لڑکے میری بچی کے پیچھے پڑے ہیں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے
وہ غنڈے اور شرابی بھلا میں سب جانتے ہوئِے اپنی بچی کو کیسے کنویں میں دھکیل سکتی ہوں
آنٹی آپکی بیٹی کا کیا نام ہے
سماریہ
جبکہ مشال کو یہ نام کچھ کھٹکا اسکو تو یہ لڑکی بھی مسلسل کھٹک رہی تھی
مشال کو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ پہلے اس لڑکی سے مل چکی ہو لیکن کہاں یہ اسکو یاد نہیں آرہا تھا
سماریہ تھوڑی دیر میں چائے لے آئی
چائے دینے کے بعد وہ مسلسل زر کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی
مشال نے نوٹ کیا لیکن خاموش رہی
اوکے آنٹی ہم چلتے ہیں زر چائے پینے کے بعد بولا
اوکے بیٹا
زرش کے زخم کافی حد تک مندمل ہوچکے تھے
ذوہان کا خیال تھا کہ ابھی زرش کو اور کچھ دن ریسٹ لینا چاہیے
جبکہ زرش کے قریب ایسا کوئی خیال کوئی معنی نہیں رکھتا تھا
ذوہان کا اُٹھو
کیوں کیا ہوا ذوہان آنکھیں کھولتے ہوئے بولا
میرے ساتھ چلو
کہاں
چلو تو صحیح
پر جانا کہا ہے
چلو بتاتی ہوں اگر اب نہیں اُٹھے تو مین اکیلی چلی جاؤں گی
مجبوراً ذوہان کو اُٹھنا پڑا
اب محترمہ بتائین گی ہم کہان جارہے ہیں
ہاسٹل
کیا لینے
مجھے خبر ملی ہے
آج ہاسٹل مین کوئی آدمی ہاسٹل انچارج سے ملنے آنے والا ہے
اگر یہ بات ٹھیک ہوئی تو وہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا
ہوں
انہوں نے ہاسٹل سے تھوڑی دور گاڑی روکی
اور خود جھاڑیوں کی اوٹ میں بیٹھ گئی
تقریباً آدھا گھنٹا گزر چکا تھا
مین بور ہورہی ہوں ناجانے وہ آدمی کب آئے گا
چلو کچھ کھیلتے ہیں ذوہان بولا
کیا
ٹرتھ ٹرتھ.
تم مجھ سے سوال پوچھو مین سچ سچ جواب دوں گا
میں تم سے پوچھوں گا تم سچ سچ جواب دینا
ہمم اوکے چلو پہلے تم پوچھو زرش بولی
سوچ لو ذوہان بولا
اب پوچھ بھی لو
کبھی کسی سے محبت کی ہے؟
ذوہان نے پوچھا
یہ کیسا سوال ہے زرش نظریں چرا کر بولی
سوال تو سوال ہوتا اب تمہیں اسکا جواب دینا پڑے گا
ہاں کی ہے
کس سے ذوہان خوشی سے بولا شاید وہ اپنا نام زرش کے لبوں سے سننا چاہتا تھا
سرمد سے
کون سرمد
میرا دوست تھا لیکن وہ میرا پاگل پن تھا
کیا تم نے کبھی اس سے اظہار کیا ذوہان نے ناجانے کیا سوچ کے پوچھا
نہیں
لیکن کیوں
کیوں کہ وہ کسی اور سے محبت کرتا تھا
اور اب
ذوہان نے ہلکی سی امید سے پوچھا
اب کسی سے نہیں
ہاں جب ہوئی تو اپنے شوہر سے ہی ہو گی
ہمم
اب تمہاری باری
میرا بھی یہی سوال ہے
کیا ذوہان نے پوچھا
کیا تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے؟زرش نے پوچھا
ہاں
کس سے؟
اپنی بیوی سے ذوہان مسکرا کر بولا
لیکن یہ مسکراہٹ پہلے جیسی نا تھی
زرش نے ذوہان کو گھورا
مجھے لگتا وہ آدمی آگیا ذوہان کے کہنے پر زرش بھی اس طرف متوجہ ہو گئی
اسے کہنا محبت دل کے تالے توڑ دیتی ہے
اسے کہنا محبت دو دلوں کو جوڑ دیتی ہے
اسے کہنا محبت نام ہے روحوں کے ملنے کا
اسے کہنا محبت نام ہے زخموں کے سلنے کا
اسے کہنا محبت تو دلوں میں روشنی بھر دے
اسے کہنا محبت پتھروں کو موم سا کر دے
اسے کہنا محبت دور ہے رسموں رواجوں سے
اسے کہنا محبت ماورا تختوں سے تاجوں سے
اسے کہنا محبت پھول کلیاں اور خوشبو ہے
اسے کہنا محبت چاند تارے اور جگنو ہے
اسے کہنا محبت کا نہیں نعم البدل کوئی
اسے کہنا محبت کا نہیں ہے ہم شکل کوئی
اسے کہنا محبت پر یقیں کر لو مرے ہمدم
اسے کہنا محبت دل میں تم بھر لو مرے ہمدم
مشال اور زر یونی چلے گئے جلدی واپس آنے کا وعدہ کرکے
کب فری ہو گی تم
زر نے مشال سے پوچھا
میں فری ہو کے میسج کر دوں گی
ہمم اوکے
زر کے جاتے ہی مشال نے آٹو لیا اور اسماریہ کے گھر پہنچ گئی
اس وقت اسماریہ گھر نہین ہو گی
کچھ خبر مل سکتی ہیں
کچھ ہی دیر مین مشال اس بوڑھی عورت کے سامنے موجود تھی
بیٹا تم یہاں
جی آنٹی مجھے آپ سے کچھ کام تھا
کیا کام
مجھے اسماریہ کے بارے میں کچھ پوچھنا
کیا
وہ عورت کچھ ڈرتے ہوئے بولی
کیا اسماریہ آپکی بیٹی ہے
ہم اندر چل کر بات کرتے ہیں وہ عورت بولی
اوکے
ہاں بولو کیا پوچھنا ہے
کیا اسماریہ آپکی بیٹی ہے
نہیں
تو پھر
یہ بچی مجھے ہسپتال میں ملی تھی
اسکا ایکسیڈینٹ یو گیا تھا اسکو کچھ یاد نہیں تھا نا ہی کوئی اس کے ساتھ تھا
کچھ دن کے انتظار کے بعد میں اسے گھر لے آئی
کیا اسماریہ کو اب بھی کچھ یاد نہیں
نہیں اس عورت نے ایک لفظ میں جواب دیا
زرش کی خبر رنگ لائی تھی اور وہ آدمی پکڑا گیا
لیکن وہ کچھ بھی بتانے کو راضی نہیں تھا
ذوہان نے کھلتا ہوا پانی اسکے بدن پر ڈالا
جس کی وجہ سے اسکا بدن جھلس کر رہ گیا
لیکن پھر بھی اس نے منہ نا کھولا
میڈم یہ آدمی کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں
اسفند بولا
تو مار کر کسی گندے نالے میں پھینک دو
دفعتاً کسی کا فون بجا
اس شخص کا فون تھا ذوہان نے فون کان کو لگایا
ہیلو کہاں ہو تم
لڑکیاں کچھ دیر میں شپ پر پینچ جائیں گی
ہمیں آج ہی مال آگے پہنچانا ہے
اور
فون بند ہو گیا
انکا مشن کامیاب ہو چکا تھا وہ لڑکیوں کو انکے گھر صحیح سلامت پہنچا چکے تھے اور سب مجرموں کو رنگے ہاتھوں پکڑ چکے تھے
جو بلاشبہ سب زرش کی محنت کا نتیجہ تھا
سب اپنی جیت پر بہت خوش تھے

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: