Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 12

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 12

–**–**–

 

سب مسئلے حل ہوچکے تھے اب وقت آگیا تھا حقیقت سے پردہ اُٹھانے کا
حقیقت تلخ ہی سہی پر ہے تو حقیقت نا
اور
حقیقت ایک دن سامنے آکر ہی رہتی ہے
ایک نا ایک دن ضرور ہوتا ہے ایسا
تو پھر انتظار کس بات کا کل کیون آج کیون نہیں
لیکن حقیقت جاننے کے بعد سب کا ردعمل کیسے ہونے والا تھا یہ تو وقت نے طے کرنا تھا
سب لوگ گاؤں واپس جارہے تھے
سوائے مشال کے
میں دوسری گاڑی میں آؤں گی تم لوگ چلو
مشال نے کہا
مشال کے چہرے پر چھائی سنجیدگی دیکھ کر سب خاموشی سے چل دیے
مشال کے چہرے پر چٹانوں سی سنجیدگی چھائی تھی
جو کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی
سب لوگ گاؤں پہنچ چکے تھے مشال بھی پہنچ چکی تھی
لیکن
اسکے ساتھ اسماریہ بھی تھی
اسماریہ کو دیکھ کر زر حیران ہوا
لیکن خاموش رہا
مشال بیٹا اس بچی سے آپ نے نہیں ملوایا
کیا یہ آپکی دوست ہے
کتنی پیاری بچی ہے زر کے پاپا بولے
نہیں
تو
آپکی بھتیجی ہے
ارے بیٹا تمہاری دوست ہماری بھتیجی ہی ہوئی
عمر صاحب ہنس کر بولے
دادو
ہان بیٹا بولو
مجھے آپکو کچھ بتانا ہے
ہاں بیٹا بتاؤ
دادو
میں نے آپ سب کو دھوکہ دیا مجھے معاف کر دیجیے گا
ممم
میں تو آپکو دادو کہنے کے بھی قابل نہیں
مشال کی بات پر سب کے چہروں پر پریشانی رقص کرنے لگی سوائے زمان کے
لیکن
سب خاموش رہے
ایک زمان ہی تھا جو ابھی تک ریلیکس بیٹھا تھا
مشال بچے بولو کیا بات ہے
دادو میں آپکی پوتی نہیں ہو
یہ آپکی پوتی مشال ہے
مشال اسماریہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
مشال کی بات پر سب کو تو گویا سانپ سونگھ گیا
مشال یہ تم کیا کہہ رہی ہو دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا
سب سے پہلے زر بولا
یہی حقیقت ہے
جس دن مشال اپنی نانو کے ہاں سے آرہی تھی
اسکا ایکسیڈینٹ ہو گیا
آپ سب نے مشال کو دس سال بعد دیکھنا تھا
تو آپ سب مجھے مشال سمجھ بیٹھے اور گھر لے آئے
اور
میری مشکل آسان کر دی
کیونکہ میں ایک ایجینٹ ہوں
اور مجھے آپکی فیملی کے ساتھ رہنا تھا
آپ سب کی سیکیورٹی کے لئے
مشال کو ہوسپٹل میں نے ایڈمیٹ کروایا
پر میں اسکا نام نہیں جانتی تھی
تو میں نے وہاں اسکا نام اسماریہ لکھوا دیا
مشال کی ایکسیڈینٹ کی وجہ سے یاداشت چلی گئ
میں نے بہت دفعہ کوشش کی مشال سے ملنے کی
لیکن موقع نا مل سکا
اور
مشال کو ہسپتال مین لاوارث سمجھا گیا
وہاں اسکو ایک عورت اپنے گھر لے گئی
تو چند دن پہلے یہ مجھے راستے میں ملی
اور
پھر میں آپکی پوتی کو آج آپکے سامنے لے آئی
مجھے زرجان کی سیکیورٹی کے لئے ہائر کیا گیا تھا
اور وہ شہر جاکر پڑھائی کرنا وہ بھی زرجان کی سیکیورٹی کے لئے تھا
لیکن
اب اسکا دشمن مارا جاچکا ہے
اور
آپکی پوتی بھی آپکو مل گئی اور میرا کام بھی ختم ہو گیا
اب میں آپ سب سے اجازت چاہتی ہوں
مشال سر جھکا کر بولی
میں نے تُم سے کہا تھا ناں؟
مُجھے تُم سے مُحبت ہے!
لو میں اَب بھی یہ کہتا ہوں!
مُجھے تُم سے مُحبت ہے!
مگر اَب کی بار مُجھے تُم سے
اور بھی کُچھ کہنا ہے۔ ۔ ۔ ۔ !
ہاں مُجھے یہ کہنا ہے
کہ اے میرے سِتمگر
میری آنکھوں میں اَب کی بار دیکھ
اِک بار نہیں تُو سو بار دیکھ
تلاش اپنی مُورت کو
ڈھونڈ اپنی صُورت کو
مگر اَب اِن میں تُجھے
اپنا عکس بھی نہ مِلے گا
وہ جو تیری دید میں
تیری تصویر تھی اِن میں سجی ہوئی
اُسکے سَب ہی رنگ اُتر گئے
میرے آنسوؤں میں دُھل گئے
اور
وہ جو مُحبت ہے ناں
وہ میرے دِل کے خانے خانے میں
سَجی ہوئی ہے
بَسی ہوئی ہے
خُوبصورت پُھولوں کے
مہکتے ہوئے گُلدان کی طرح
بہت کرینے سے رکھی ہوئی ہے
اُسکی بھینی مہک سے
میرا اندر مہکتا رہتا ہے
۔۔
وہ مُحبت میرا حاصل ہے
۔۔
تمہارا حاصل وہ تھا
جو تُم نے گنوا دیا
اپنی تصویر کے ہر رنگ کو
بے رُخی کی حِدّت سے اُڑا دیا
۔۔
اَب تُم پاس رہو
یا بادل بَن کر اُڑ جاؤ
میرے لئے برابر ہے
میری برسات میرے اندر ہے
میرے لبوں پر مُسکان ہے
میرے جِسم میں اَب بھی جان ہے
۔۔۔
ہاں مُجھے تُم سے مُحبت ہے
لیکن اِس مُحبت کو
مُحبت ہی رکھنا ہے
اِسے “ضرورت” نہیں بنانا
ہجر میں روئی آنکھوں میں
اَب تُجھے نہیں بسانا۔۔۔۔
۔۔
تیرے سِتم تھے تیرے کرم تھے
وہ محض وعدے تھے بھرم تھے
اَب نہ تیری طلب ہے نہ انتظار ہے
جو وقت تھا میں نے کاٹ لیا
غم اپنا بھی خُود سے بانٹ لیا
جو درد میں میرے ساتھ نہ تھا
میں اُسکو اپنا کیسے مان لوں؟
جو چھڑا کر گئے تھے تُم
میں پھر سے وہ ہاتھ کیسے تھام لوں؟
۔۔۔
سُن سکو تو میری پُکار سُنو
سو بار نہیں اِک بار سُنو
میں نے یہ باتیں سوچی ہیں
جو تُم سے میں نے کہنی ہیں
کِسی دِن کِسی پل میں
آج میں یا کل میں
تُم مُجھ سے مِلنے تو آؤ
تُمہارے قدموں کی آہٹ کی قسم
ڈوبتے دِل اور گھبراہٹ کی قسم
میں ایسا کُچھ نہیں بولوں گا
ڈبڈباتی آنکھوں سے
تُمہیں دیکھوں گا
اپنے کانپتے ہاتھوں سے
تُمہیں ٹٹولوں گا
میں ایسا کُچھ نہیں بولوں گا۔۔
تُمہیں بھر کر اپنی بانہوں میں
پِھر بانہیں نہیں کھولوں گا۔۔۔
لگ کر تمہارے سینے سے
میں جی بھر کر رو لوں گا
جو اَب تک رستے ہیں
وہ سبھی زخم دھو لوں گا
میں بُھلا کر جگ رتوں کی اذیت کو
کُچھ پل تیرے پہلو میں
ننھی بچے کی طرح
سِمٹ کر
سکون سے
سو لوں گا
میں ویسا کُچھ نہیں بولوں گا
بَس چیخ کر اِتنا بولوں گا
مُجھے تُم سے مُحبت ہے
مُجھے تُمہاری “ضرورت” ہے_____.
سب باری باری مشال(اسماریہ ) سے ملے.
میری بچی بی جان مشال کو گلے لگاتے ہوئے بولی
رکو بیٹا تم کہاں جارہی ہو
وہ مشال(دعا) کو دیکھ کر بولی
بچے نام کیا ہے تمہارا
دعا
مشال نظرین جھکائے ہوئے بولی
مس اصلی والا نام زمان مسکرا کر بولا
اسمارہ ملک
بہت پیارا نام ہے
اور یہ کیا کہا تھا تم نے کہ میں آپکی پوتی نہیں ہوں
تم بھی ہماری پوتی ہو
اور
جتنی محبت ہمیں باقی سب سے ہے
اس سے زیادہ تم سے ہے
دادو اسمارہ بی جان کے گلے لگتے ہوئے بولی
زرش اور ذوہان اس وقت ملک صاحب کے کیبن میں اپنا نیکسٹ پراجیکٹ ڈسکس کرنے کو بیٹھے تھے
تو بیٹا آپ کا نیکسٹ پراجیکٹ یہ ہے کہ آپ کی شادی کردی جائے
اور آپ لوگ ہنی مون کو رخصت ہو جائیں
لیکن پاپا اتنی جلدی
زرش جلدی سے بولی
بیٹا یہ میرا فائنل ڈیسین ہے
اور
اس ٹائم مین آپکا فادر نہین بلکہ آپ کا سر ہوں
وہ دونوں خاموش ہو کربیٹھ گئے
جبکہ ذوہان کے چہرے پر الوہی مسکراہٹ تھی
اوکے دادو اجازت دیں
اسمارہ سب سے باری باری ملنے کے بعد بولی
اوکے بیٹا خدا تمہاری حفاظت کریں
اسمارہ نے ایک آخری نظر گھر پر ڈالی
اور
گاڑی میں بیٹھ گئی
اسمارہ کے چہرے پر ایک اداسی تھی ایک دکھ تھا
جیسے کچھ کھوجانے کا دکھ
اسمارہ سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئیں
شہر تک ڈرائیور اسمارہ کو چھوڑنے جارہا تھا
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی
کیا ہوا ڈرائیور اسمارہ سیدھے ہوتے ہوئے بولی
بی بی جی وہ چھوٹے صاحب
اسمارہ نے سامنے دیکھا تو زرجان کھڑا تھا
اسمارہ گاڑی سے باہر آئی
ڈرائیور گاڑی لے کر گھر جاؤ
تمہاری بی بی جی کو میں چھوڑ دیتا ہوں
جی صاحب جی
سمجھتی کیا ہو تم خود کو زر غصے سے اسمارہ کا بازو پکڑتے ہوئے بولا
زر چھوڑو مجھے
میں جس مقصد کے لئے آئی تھی وہ پورا ہو گیا
واہ لوگون کے دلوں سے کھلینے آئی تھی
آپ مس مشال آفندی
میرا نام مشال نہیں اسمارہ ملک ہے
سو واٹ میرے لئے توتم
مشال ہی ہو
اور مجھے خود سے محبت کرنے پر مجبور تم نے کیا تھا
اب مجھ سے شادی بھی تمہین کرنی پڑے گی
وہ سب ایک ناٹک تھا اور وہ میرا فرض تھا
یار سوچ لو
ناٹک تھا یا فرض اسمارہ ملک
میرے راستےسے ہٹو
تمہارے سب راستے مجھ تک ہی جاتے ہیں اسمی ڈیئر
چلو واپس
شادی کرتے ہین اور پھر اکھٹے واپس چلین گے ڈارلنگ
شادی ہے کوئی مزاق نہیں اور تم میرے ٹائپ کے نہیں ہو
پر
میری جان تم تو میرے ٹائپ کی ہو نا
شٹ اپ مسٹر زرجان
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتی کسی نے زر کی کنپٹی پر بندوق رکھی
جو کچھ ہے نکال دو
زر نے گاڑی کی چابی دے دی
گھڑی بھی اتارو
زر نے گھڑی اتار کے انکیطرف بڑھائی
ایک نقاب پوش نے اسمارہ کی طرف دیکھا اور اسمارہ کی طرف بڑھا
دیکھو تمہیں جو چاہیے مجھ سے لے لو پر لڑکی سے دور رہو
ایک نقاب پوش نے بندوق کا دستہ زر کے سر پر مارا
زر کراہ کر رہ گیا
اور یہین پر اسمارہ کو موقع ملا اور اس نے پھرتی سے ایک چور پر وار کیا اور گن چھین لی
اور کچھ ہی دیر میں انکی حالت بگاڑ دی
تو
مسٹر زرجان اس وقت مجھے نہیں آپکو سہارے کی ضرورت ہے
مشال زر کو اٹھاتے ہوئے بولی
اسمارہ زر کو سہارا دیے گھر میں داخل ہوئی
کیا ہوا میرے بچے کو سب سے پہلے زر کی ماں بولی
سب اکھٹے ہوگئے اور سوال کرنے لگے
کچھ نہین جوانی کازیادہ شوق چڑھا ہوا تھا
اسمارہ بولی
اوکے اب مین چلتی ہوں اسمارہ بولی اور ساتھ ہی مین گیٹ کی طرف مڑ گئی
رکو بچے
جی دادواسمارہ مڑ کر بولی
بچے ان زر کو معاف کردو
اور
اسے ایک موقع دو
اسمارہ حیرت سے سب کو دیکھ رہی تھی
لیکن
دادو مین مشال نہیں ہوں
زر کی منگنی مشال سے ہوئی تھی
تو کیا ہوا آپی زر بھائی محبت تو آپ سے کرتے ہیں نا
اور میں کبھی بھی کسی ایسے انسان سے شادی نہیں کروں گی جسکی چاہت کوئی اور ہی مشال بولی
لوبیٹا جی یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا
لیکن دادو
لیکن ویکن اب کچھ نہیں دادو بولی
دادو کی بات پر اسمارہ چپ ہو گئی
چلو جاؤ سب اپنے اپنے رومز میں اور اسمارہ تم بھی چلو
شادی تک تم یہیں رہو گی
اور
شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ جدھر مرضی چلے جانا
دادو حکم دیتے ہوئے بولی
زرش اور ذوہان مارکیٹ شاپنگ کیلئے جارہے تھے
لیکن
دونوں طرف مکمل خاموشی کا راج تھا
شاید دونوں ایک دوسرے کے بولنے کا انتظار کررہے تھے
زرش
اور پھر اس خاموشی کو ذوہان نے توڑا
ہوں
کیا تم اس شادی سے خوش ہوں
خوش کا تو پتا نہیں پر میں اس رشتے کو دل سے قبول کر چکی ہوں
اور
مجھے امید ہے بہت جلد تم سے محبت بھی کرنے لگوں گی
زرش تم نے یہ رشتہ قبول کر لیا میرے لیے یہی کافی ہے
اور
تم اگر مجھ سے محبت نہیں بھی کرو گی تو بھی مجھے دکھ نہیں یہ زندگی گزارنے کے لِے میری محبت کافی ہو گی
ذوہان کی بات پر زرش مسکرائی
میرے ذوق میں رہتا ہے تمھارا عکس عیاں
تمھارا ہونا میرے ہونے کی وجہ ہو جیسے
ذوہان اور زرش کافی دیر سے بازار میں خوار ہوریے تھے پر زرش کو کوئی ڈریس پسند نہیں آرہا تھا
اتنا ہیوی میں کیسے پہنو گی یہ کہہ کر سب ڈریس ریجیکٹ کیے جارہی تھی
یار تم ایسا کرو شیروانی پہن لینا
لہنگ میں پہن لوں گا اب کی بار ذوہان تنگ آکر بولا
پہلے تو زرش ہونقوں کی طرح ذوہان کو دیکھنے لگی پر پھر ذوہان کی بات سمجھ آنے پر ہنسنے لگی
زرش کے قہقے سن کر سب اسے مڑ کر دیکھنے لگے
جو ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھی
ہانی جسٹ امیجن کے تم لہنگا پہن کر کیسے لگوگے
یہ ہانی کون ہے ذوہان نے گھورا
آفکورس تم ہو
زرش نے مزے سے جواب دیا
اب خبردار اگر تم بولی تو
ذوہان نے آف وائٹ کلر کی میکسی لی جس پر گولڈن کڑھائی کا کام ہوا تھا
ذوہان یہ بہت ہیوی ہے
چپ ذوہان زرش کو گھورتا ہوا بولا
اور پھر اسکت ساتھ میچنگ جوتے اور جیولری بھی زوہان ہی نے لی
ہانی یہ اتنی ہیل میں کیسے پہنوں گی
زرش نے ایک بار پھر احتجاج کیا
تو کیا میکسی کے نیچے جوگرز پہنو گی
ذوہان کی بات پر سیلر بوائے بھی ہنسنے لگا
تو زرش خاموش ہو کر بیٹح گئی
پھر ساری شاپنگ زر نے اپنی مرضی سے کی
ہائے زر اسمارا کے روم میں داخل ہوتے ہوئے بولا
اسمارہ نے ایک نظر زر کو دیکھا اور پھر سے فون میں مصروف ہو گئی
میں تم سے مخاطب ہوں زر چبا چبا کر بولا
تم نے کہا ہائے تو میں نرس تھوڑی ہوں جو علاج کروں مجھے تو تم نے مخاطب ہی نہیں کیا
اسمارہ کی بات پر زر نے اسے گھورا
کیاکررہی ہو
قنچے کھیل رہی ہوں کھیلو گے
زرش نے ایک بار پھر سے الٹا جواب دیا
آج کیا کھایا لنچ میں زر نے پوچھا
کیوں تم نے برتن دھونے ہیں
خدا کا خوف کھاؤ میں تو پوچھنے لگا تھا
اتنی سڑی ہوئی بیٹھی ہو کیا کھایا ایسا
کریلوں کا جوس پیا پیوں گے زرش ایک بار پھر سے چبا کر بولا
مجھے لگتا میں غلط وقت پر آگیا
پھر آوں گا
ایک منٹ وہ دروازے سے واپس مڑ کر بولا
تم نے ایسا کیوں کہا تھا کہ تم میری سیکیورٹی کے لئے آئی تھی
تم نے ایک دفعہ دو لڑکیوں کے ساتھ مل کر کچھ لڑکوں کی پٹائی کی تھی
ہاں تو
تو وہ لوگ لڑکیوں کو دھندا کرتے تھے
اور ہم نے انہیں پکڑ لیا تھا
اور
بایے چانس وہاں تم آگئے
میری اور زرش کی ہیلپ کی
تو وہ سمجھے تم نے ہمیں انکے بارے میں خبر دی ہے
اسلیے وہ تمہیں اور تمہاری فیملی کونقصان پہنچانا چاہتے تھے
اسلیِے زرچ نے مجھے یہاں بھیج دیا تم لوگوں کی سیکیورٹی کے لئے
یہ زرکون ہے زر نے وہی کھڑے کھڑے پوچھا
میری کولیگ ہے یہ بول کر اسمارہ ایک بار پھر فون میں مصروف ہو گئی
ہمم اوکے

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: