Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 2

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 2

–**–**–

 

زر بیٹا تم کب آئے
بی جان آج صبح ہی آیا ہوں
تمہاری پڑھائی کیسی جارہی ہے اچھی جارہی ہے بی جان
دیکھو زر ہم نے تمہاری ذد پر تمہیں شہر پڑھنے کے لئے بھیج دیا لیکن اب تمہاری شادی کی عمر ہوگئی ہے
اب تم آئے ہو تو تمہاری شادی بھی ہو گی
اور تم اپنی دلہن کو اپنے ساتھ شہر لے کے جاؤ گے
دیکھو کتنے کمزور ہوگئے ہو بیوی ساتھ ہو گی تو صحت کا خیال رکھے گی
لیکن بی جان
کوئی لیکن ویکن نہیں
یہ ہمارا آخری فیصلہ ہے اب تمہاری شادی ہو کر رہے گی سمجھے تم
بی جان ابھی میں پڑھائی کرنا چاہتا ہوں
اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتا ہوں ابھی میں اس قابل نہیں کہ بیوی کا بوجھ اٹھا سکوں
تمہارے باپ کا پیسہ بھی تمہارا پیسہ ہے
اور تمہارے باپ میں اتنا دم ہے کہ وہ تمہارا خرچہ اٹھا سکے
اب ہم کوئی بہانہ نہیں سنے گے
بی جان نے گویا ہری جھنڈی دکھائی
بی جان کے یوں کہنے پر زر نے مشال کو گھور کر دیکھا جیسے وہ اسی کی غلطی ہو
ہیلو
زرش نے سرمد کو میسج کیا
ہانجی جناب کیون کیا میسج سرمد کا جواب آیا
تمہاری یاد آرہی تھی تو میسج کیا
زرش کَبھی تو ڈائیلوگ مارنے سے باز آجایا کرو
اچھا چھوڑو صبح یونی تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے سرمد نے کہا
کیسا سرپرائز اگر بتادون گا تو سرپرائز کیسے رہے گا
اچھا اب تو پھر مجھے صبح کا انتظار ہے
سنو تم میری بیسٹ فرینڈ ہو اور مجھے یقین ہے میری خوشی سے بڑھ کر تمہارے لیے کچھ نہیں ہو گا
یس آفکورس
زری بیٹا
جی پاپا
میں آجاؤں
پاپا اب تو آپ آگئے ہیں زری مسکراتے ہوئے بولی
ہاہاہا ہم نے سوچا پھر بھی ایک بار ہم پوچھ لیں
زری بیٹا تو آپ انٹیلیجنٹس کب سے جوائن کررہی ہیں
پاپا میں نہیں کررہی جوائن
لیکن کیون بیٹا
بس پاپا میرا دل نہیں کرتا
پاپا مین ایک لڑکی ہوں لڑکیاں گھر میں ہی اچھی لگتی ہیں لڑکیون کو سوشیل اور نازک سا ہونا چاہیے زریں بولی
بیٹا یہ تم کس کی زبان بول رہی ہو
یہ میری زری تو نہیں ہے یہ کوئ اور زری ہے میں نے تمہیں بچپن سے ایک آرمی آفیسر کی طرح ٹرین کیا ہے
تمہارے اس دنیا میں آنے سے پہلے میں نے سوچا تھا چاہے میری بیٹی ہو یا بیٹا وہ آرمی آفیسر ہو گا
اور میں نے عام بچوں سے ہٹ کے ہمیشہ تمہاری تربیت کی
لیکن
پاپا میری بھی کوئی زندگی ہے میں عام لڑکیوں جیسی زندگی چاہتی ہوں اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے
زری وہاں سے اٹھتے ہوئے بولی
جبکہ اشعر ملک تو حیران پریشان بیٹھے تھے کہ انکی تربیت میں کہاں کمی رہ گئی
زرش ملک اشعر ملک کی اکلوتی اولاد تھی
وہ خود ایک آرمی آفیسر تھے اور انکی ہمیشہ سے یہی خوایش تھی کہ انکی بیٹی اپنی قوم کی خدمت کرے
لیکن زری نے آج انکے خوابوں کو چکنا چور کر دیا تھا
زری وہاں سے اٹھ کر بالکونی میں آکر کھڑی ہوگئی
ہاں پاپا یہ واقعی میں میرے خیال نہیں ہے.
بلکہ جس سے میں محبت کرتی ہوں یہ اسی کے خیال ہے
اور زری وہی کرے گی جو سرمد کہے گا
سرمد کو نازک لڑکیاں پسند ہیں زری مسکرا کر بولی
زر بیٹا میرے روم میں آ ؤ
اوکے موم
جی مما آپ نے بلایا
زر بیٹا ہم آپکی شادی کرنا چاہ رہے ہین
بی جان نے آپکو بتایا
اور ہم چاہتے ہیں کہ تم اس بار مشال کو بھی اپنے ساتھ لے کے جاؤ
نو مما نیور
میں کسی انٹر پاس لڑکی سے شادی نہیں کروں گا
میں شہر کی لڑکی سے شادی کروں گا
گاؤن کی جاہل لڑکی سے نہیں
بیٹا یہ بات یاد رکھو وہ لڑکی تمہاری کزن ہے
واٹ ایور آئی ڈونٹ کیئر
بچپن سے یہ بلا میرے سر باندھ دی گئی ہے
چچا چچی خود تو اس دنیا سے چلے گئے اور اس مصیبت کو میرے لیِے چھوڑ گئے
چٹاخ
سدرہ بیگم کا ہاتھ اٹھا اور زر کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا
مما آپ نے اس جاہل لڑکی کے لِے مجھ پر ہاتھ اٹھا یا
زر بیٹی ہے وہ میری اور اپنی بیٹی بنا کے اسے پالا ہے میں نے سمجھے تم
اور کمی کیا ہے اس میں
مما ایک خوبصورتی کے علاوہ ہے ہی کیا
میں اس لڑکی سے شادی کروں گا جو میرے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چل سکے
اور آپ یہ بات دل سے نکال دیں کہ میں کَبھی بھی مشال سے شادی کروں گا
زری جلدی سے تیار ہو کر یونی پہنچی
کیونکہ آج سرمد اسے سرپرائز دینے والا ہے
ہائے سرمد
زری نے اسے دیر سے دیکھ کر ہاتھ ہلایا
اور جلدی سے سرمد کی طرف بڑھی
کہاں ہے میرا سرپرائز
ارے لڑکی تھوڑا صبر رکھو اتنی بھی کیا جلدی ہے
ساری رات صبر کیا وہ کم ہے کیا
اچھا چلو سرمد آگے چلتے ہوئے بولا
زینیا
میٹ ہر
شی از زرش ملک مائے بیسٹ فرینڈ
اینڈ زری شی از مائے لو مائے فیانسی
سرمد دونوں کو ملواتا ہوا بولا.
ہیلو زینیا مسکرا کر بولی
جبکہ زرش کو ایسا لگا کہ آسمان ٹوٹ کر اسکے سر پر گرا ہو
زرش نے بامشکل اپنے انسوؤں کو واپس دھکیلا
اور مسکرا کر زینیا سے ملی
سرمد
ہاں
میں گھر جارہی ہوں
کیوں
پاپا کی کال آئی ہے کوئی ضروری کام ہے
اوکے بائے
ارے سنو
ہاں زینی کیسی لگی
شی از سو مچ بیوٹیفل اینڈ یور کپل از آلسو سو مچ بیوٹیفل
زری مسکرا کر بولی
ارے لڑکی اتنی تعریف بھی مت کرو
اور زری وہاں سے مسکرا کر چلی گئی
مما
مما
زری گھر میں داخل ہوتے ہوئے بولی
کیا ہوا بیٹا
پاپا کہاں ہیں
اسٹڈی روم میں
کیا ہوا اتنی جلدی کیوں آگئی یونی سے اور تم رو کیوں رہی ہو کسی نے کچھ کہا ہے کیا زری کی مما نے پریشانی سے پوچھا
جبکہ زری اسٹڈی روم کی طرف بڑھ گئی
پاپا
جی بیٹا
پاپا مجھے معاف کردیں
زری اشعر ملک کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے بولی
کیا ہوا بیٹا کس بات کی معافی
پاپا میں نے آپکا دل دکھایا
میں انٹیلیجنٹس میں جانے کوتیار ہوں
میں وہیں بنوں گی جو آپ کہیں گے
سچ اشعر ملک کی آنکھیں خوشی سے چمکی
جی پاپا
اوکے تو آپ ذوہان کے انڈر کام کریں گی بہت انٹیلیجنٹ آفیسر ہیں
پاپا ذوہان ہو یا کوئی بھی اس بات سے فرق نہیں پڑتا
لیکن میں کسی کے انڈر کام نہیں کروں گی ساتھ میں کر سکتی ہوں
اوکے بیٹا جیسے آپکی مرضی
اشعر ملک مسکرا کر بولے
مشال اپنے روم میں جارہی تھی کہ اسے سدرہ کے روم سے آوازیں آرہی تھی
پہلے تو وہ گزرنے لگی لیکن اپنا نام سن کر رک گئی
اور اپنے بارے میں باتیں سن کر اسے لگ رہا تھا کہ کہیں وہ ڈوب کر مرجائیں
مشال بیڈ پر لیٹی زر کی باتیں سوچ رہی تھی
اور وہیں پر روتے روتے سوگئی
مشال کو زر سے کوئی طوفانی محبت تو نا تھی
پر بچپن سے اپنا نام اسکے نام کے ساتھ سنا تھا
تو عزت تھی اسکے لئے دل میں لیکن آج وہ بھی ختم ہوگئی
مشال صبح اٹھی رات رونے کی وجہ سے سر بھاری ہو رہاتھا
مشال نے اٹھ کر نماز پڑھی
زرجان
آج مشال آفندی کا تم سے وعدہ ہے کہ یہ جاہل لڑکی تمہیں کچھ بن کے دکھائے گی
اور تم اس جاہل لڑکی کی طلب کرو گے
مشال زر سے مخاطب ہوتے ہوئے خود سے وعدہ کرتے ہوئے بولی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: