Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 3

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 3

–**–**–

 

ع” سے ہے عشق
اور “ع” سے ہے عورت
“م” سے ہے مرد
اور “م” سے ہے “محبت”
سنو میرے چارہ گر
میں نے تم سے “عشق” کیا ہے
اور تم نے مجھ سے “محبت”
تم مجھ سے پوچھو گے
عشق اور محبت میں کیا
فرق ہے؟؟
عشق میں شرک نہیں ہوتا
اور محبت میں بہت سی
محبتوں کی خواہش ہوتی ہے_
اوئے زری
سرمد نے زرش کو آواز دی
ہوں
کل سے کہاں غائب ہو
گھر میں ہی
انکل نے کیا کہنا تھا
سرمد زرش کے ساتھ چلتا ہوا بولا
ہمم کچھ خاص نہیں میں آج نیویارک جارہی ہوں بس تم لوگون سے ملنے آئی ہوں
کتنے دن کے لئے
شاید ہمیشہ کے لئے
واٹ
لیکن کیوں
پتا نہیں پاپا نے کہا ہے
تم نے پوچھا نہیں کیوں
نہیں
کیوں ویسے ہی
حد ہے تم ہمارے بغیر رہ لوگی
کیون تم لوگوں سے میرا نکاح ہوا جو نہیں رہ سکتی
زری کے لہجے پر سرمد ٹھٹھکا لیکن زری آگے بڑھ چکی تھی
سدرہ تم نے کیا زر کو سمجھایا نہیں
بی جان میں نے بہت سمجھایا پر وہ مان نہین رہا
سدرہ نے زر کے تمام الفاظ من وعن بی جان کو بتادیے
بی جان مین آجاؤں مشال دروازہ ناک کرتے ہوئے بولی
ہاں بچے آؤ
بی جان.
ہان بیٹ بولا
بی جان آپ نے ہمیشہ جو کہا ہمیشہ مین نے وہ کیا لیکن میں کسی پر بوجھ نہیں بن سکتی میں زر سے شادی نہیں کروں گی چایے اب آپ اسے زبردستی راضی کر لیں
ٹھیک ہے بیٹا جیسے تم چاہو
اور بی جان میں شہر جا کے پڑھنا چاہتی ہوں
لیکن بیٹا تم جانتی ہو ہمارے گاؤن کی لڑکیاں گاؤں سے باہر نہین جانتی
اسی لیے تو بڑِے پاپا آپکی بیٹیون کو آپکے سامنے جاہل کہا جاتا ہے
بی جان میں شہر پڑھنے جاؤ گی یہ میرا آخری فیصلہ یے
بے شک آپ لوگون کا فیصلہ میرے حق میں ہو یا نا ہو
اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی
مشال زر نے مشال کو آواز دی
مشال نے سوالیہ نظرون سے زر کی طرف دیکھا
ایک کپ چائے بنا دو
مشال خاموشی سے آگے بڑھنے لگی
میں تم سے مخاطب ہون زر مشال کے سامنے آتے ہوئے بولا
مشال تمہار باپ کی زرخرید غلام نہیں ہے سمجھے
راستے سے ہٹو میرے
چائے تو تم ہی بناؤ گی
زر مشال کو ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا
مشال نے اپنی پوری قوت سے زر کو دھکا دیا
آج کے بعد اگر میرا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہین ہے
سمجھے تم
اور وہاں سے چلی گئی
جبکہ زر حیرانگی سے مشال کی جرأت دیکھ رہا تھا
واؤ واٹ آ سٹائل
سب سے پہلے اسفند ہوش میں آنے پر بولا
کیونکہ ابھی تک سب اسی طرف دیکھ رہے تھے جس طرف زرش گئی تھی
اسفند کے یوں کہنے پر ذوہان نے اسے گھور کر دیکھا
ہائے دل لے گئی اے
اب کی بار احمر بولا
کیونکہ احمر اور اسفند ہی اس گروپ کی جان تھے
احمر ذوہان تنبیہی آواز میں بولا
سسس سوری سر آپ بھی ساتھ تھے میں بھول گیا تھا
احمر کی بات پر سب نے اپنی مسکراہٹ سمیٹی
اور کھانا کھانے میں مشغول ہو گئے
چلو گائز ہری اپ کھانا کھا لیا ابھی گھر پہنچو
سر آپ نہیں جارہے
نہین مجھے کچھ کام ہے
سب نے آنکھوں سے ایک دوسرے کو اشارہ کیا
جسے ذوہان بالکل بھی سمجھ نا سکا
صبح سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے
مشی بیٹا
جی دادا جی
بیٹا آپ اسٹڈی کے لئے کل شہر جارہی ہیں
ایڈمیشن آپ کا کل تک ہوجائیں گا
زر کے تو مانو سر پر لگی اور تلوؤن بجھی
لیکن دادا جان ہمارے یہان لڑکیان آگے نہیں پڑھتی زر بولا
بیٹا ان لڑکیوں کو ٹھکرایا بھی نہین جاتا
لیکن ایڈمیشن تو اوپن نہین ہے ناجانے وہ کیون چاہتا تھا کہ مشی ہائر اسٹڈیز کے لئے ناجائے
بیٹا وہ ہماری سر درد ہے اب کی بار بی جان بولی
اور ہاں جو لڑکیاں تمہیں پسند ہے اس کے گھر کا ایڈریس دے دو ہم وہاں رشتہ لے کے چلے جائیں گے
اوکے بی جان زر نے خراب موڈ کے ساتھ جواب دیا
مشی مشی
ہوں
یار تو زر بھائی سے ناراض ہے ہم سے نہیں
مروہ نے کہا
میں کسی سے ناراض نہیں ہوں تو پھر تو کسی سے اچھے طریقے سے بات کیوں نہیں کرتی دیکھ تجھے بھائی سے بدلہ لینا ہے نا تو ایسے منہ بنا کے پھرے گی تو انہیں لگے گا تمہیں بہت دکھ ہوا ہے
تم اپنی لائف انجوائے کرو بھاڑ مین بھیجو بھائی کو وہ تمہیں ڈیزرو ہی نہیں کرتے
مروہ شاید تم یاد بھول رہی ہو کہ زر تمہارا سگا بھائی ہے
اور محترمہ آپ بھی شاید یاد بھول رہی ہیں کہ آپ میری بیسٹ فرینڈ ہیں مروہ مزے سے بولی
مروہ کی بات سن کر مشی مسکرا دی
مشی اپنے روم کی ونڈو میں کھڑی باہر دیکھ رہی تھی کہ اسے نورین اور شیری آتے ہوئے نظر آئے
مشال نیچے کی طرف بڑھ گئی
آہم آہم آج تو ادھر بڑے بڑے لوگ پائے جارہے ہیں
شیری مشال کو دیکھ کر بولا
ہاں مجھے بھی سمجھ نہیں آرہا کہ ہم بڑے لوگوں میں یہ چھوٹے چھوٹے لوگ کیا کر رہے ہیں مشال کی بات پر سب کے قہقے گونجے
زر بھی ادھر ہی بیٹھا تھا لیکن سب اسے ایسے فراموش کیے بیٹھے تھے جیسے اسکی ذات کسی کے لئے کوئی مطلب نا رکھتی ہو
شیری بھائی بات سنیں مشی بولی
دیکھو لڑکی
مجھے لڑکیوں کا بھائی بننے کا کوئی شوق نہیں ہے
اور خوبصورت لڑکیوں کا بھائی بننے کا کوئی شوق نہیں ہے
شیری کی بات پر ایک بار پھر سے مسکرا دیے
ارے سب چھوڑیں
زمان آرہا ہے
تو ہم کیا کریں مشی نے سوال کیا
مشی کی بات پر شیری اچھا خاصا بدمزہ ہوا
شیری کی شکل دیکھ کر سب لڑکیاں ہنس دی
اچھا سنو سنو
شیری بولا
سناؤ
نہیں پہلے سب کہو ارشاد ارشاد
بکواس کرنی ہے تو کر نہین تو نکل یہاں سے
جواب مشال کی طرف سے آیا لڑکی اب میں تمہیں کچھ کہہ نہیں سکتا
اپنی تنہائی مِرے نام پہ آباد کرے ​
کون ہوگا جو مُجھے اُس کی طرح یاد کرے​
دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھُلا در اِس کا​
وہ مُسافر اِسے ہر سمت سے برباد کرے​
اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہُوں میں​
روز اِک موت نئے طرز کی ایجاد کرے​
اتنا حیراں ہو مِری بے طلبی کے آگے​
وا قفس میں کوئی در خود میرا صیّاد کرے​
سلبِ بینائی کے احکام ملے ہیں جو کبھی​
روشنی چُھونے کی خواہش کوئی شب زاد کرے​
سوچ رکھنا، بھی جرائم میں ہے شامل اب تو​
وہی معصوم ہے، ہربات پہ جو صاد کرے​
جب لہو بول پڑے اُس کی گواہی کے خلاف​
قاضی شہر کچھ اِس بات میں ارشاد کرے​
اُس کی مُٹّھی میں بہت روز رہا میرا وجود​
میرے ساحر سے کہو اب مجھے آزاد کرے
اچھا تو یہ ہے کس کے لئے
افکورس دا موسٹ بیوٹیفل گرل آف دس گروپ مشال آفندی
شیری بولا
زر غصے سے اٹھ کر وہاں سے چلا گیا
زر کے اٹھتے ہی سب نے ایک بار پھر سے قہقے لگائے

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: