Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 4

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 4

–**–**–

 

اس وقت سب ایک روم میں بیٹھے کوئی پلین ڈسکس کررہے تھے
ذوہان مسلسل بول رہا تھا
سب وقفے وقفے سے اس سے سوال کر رہے تھے
جب کہ زرش خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی
اس نے ایک بار بھی کوئی سوال پوچھنا یا اوپر دیکھنا گوارا نہیں کیا تھا
مس زری آر یو انڈر اسٹینڈ واٹ آئی ایم سینگ
مسٹر ڈوہان
آئی ایم زرش ملک ناٹ زریں اینڈ آئی کین انڈر اسٹینڈ ایوری تھنگ
اسی دوران زرش کی گھڑی کا الارم بجنے لگا
سب نے حیرانی سے زرش کی طرف دیکھا
زرش فوراً سے اٹھ کر باہر کی طرف بڑھی
مس زرش کہان جا رہی ہین آپ ذوہان نے پوچھا
زرش نے ہیچھے مڑ کر دیکھا اور ایک سلگتی ہوئی نظر ذوہان پر ڈالتی باہر نکل گئ
کیا مصیبت سر نے پلے باندھ دی ہے زرش کے جانے کے بعد ذوہان غصے سے چلایا
جبکہ باقی سب خاموش بیٹھے تھے
اوکے باقی پلین رات میں ڈسکس کرتے ہیں ذوہان یہ کہتا ہوا باہر نکل گیا
آگئی آگئی ذوہان کے نکلتے ہی اسفمد چلایا.
کون آگئی
احمر اور ثانیہ نے پوچھا
ہیروئن
کونسی ہیروئن
یار اپنے کھڑوس ہیرو کی ہیروئن آگئی
اسفند مزے سے بولا
یار واقعی میں باس سے زیادہ کھڑوس ہے ثانیہ بولی
ہاں سیدھا کرے گی سر کو
ہم معصوموں پر جو ظلم کرتے تھے اسکا بدلہ لے گی
اس پر حکم چلا کے دکھائے تب مانے گے
اسفند کی بات پر احمر اور ثانیہ نے قہقہ لگایا
مروہ
جی بھائی
مشال سے دور رہا کرو
کیوں
کیوں کہ میں کہہ رہا ہون
تو آپ.کونسا حدیثیں کہتے ہیں مروہ نے نخوت سے جواب دیا
مروہ تمیز سے بات کرو
تم اس لڑکی کے لئے اپنے بھائی سے بات کررہی ہو
مروہ ذوہان کے پاس ہوئی.
بھائی وہ پتا کیا ہے نا میں بھی مشال کی طرح گاؤں کی ایک جاہل.لڑکی ہوں
تو کل کو کوئی میری ذات کو بھی بے مول کرے گا اگر آج میں نے آپکا ساتھ دیا تو
یہ کہہ کر مروہ وہان سے چلی گئی
جبکہ ذوہان کے گرد یہی الفاظ ابھی تک گردش کررہے تھے
بھائی میں ایک جاہل لڑکی ہوں
مشال کا فیصلہ کرتے ہوئے آخر وہ یہ کسیے بھول گیا تھا کہ اسکی ایک عدد بہن بھی ہے
بی جان
ہوں
بی جان میں مشال سے شادی کرنا چاہتا ہوں ذوہان نظریں چراتا ہوا بولا
اس کا فیصلہ تو مشال کے پاس ہے اور اس فیصلے کی وجہ
بی جان مجھے احساس ہو گیا کہ میں غلط تھا
ہمم مشال کو بلاؤ
تھوڑی دیر بعد مشال بھی آگئی
بی جان آپ نے بلایا مجھے
مشال روم میں داخل ہوتے ہوئے بولی
ہاں مشال ذوہان تم سے شادی کرنا چاہتا ہے
سوری بی جان
میں جاہل لڑکی کسی جاہل سوچ کے حامل شخص سے شادی نہیں کرسکتی
یہ کہتے ہوئے مشال وہاں سے نکل گئی
ذوہان مشال فیصلہ سنا چکی ہے اب تم جاسکتے ہو
جبکہ ذوہان اپنا سا منہ لے کر رہ گیا
زرش جیسے وہاں سے نکلی ذوہان بھی اسکے پیچھے ہی نکل گیا
ذوہان غصے سے پیچ وہ تاب کھاتا وہاں سے نکلا
آج تک کبھی کسی نے اسکی بات کو اگنور نہیں کیا تھا اور کسی نے اسکی بات کو انکار نہیں کیا تھا لیکن آج ایک لڑکج نے نا صرف اسکی بات کو اگنور کیا بلکہ اسے بھی اگنور کیا
ذوہان اپنے دھیان میں گاڑی چلا رہا تھا
کہ اسے ایک جگہ پر کافی رش نظر آیا
ذوہان گاڑی روک کر جلدی سے اس طرف بڑھا
سامنے زرش کچھ لڑکوں کو مانگ رہی تھی
جبکہ ایک طرف ایک بوڑھا آدمی کھڑا ہانپ رہا تھا
کیا ہوا ہے یہاں ذوہان نے وہاں کھڑے ایک آدمی سے پوچھا یہ کچھ گنڈے اس آدمی کو مار رہے تھے تو اس لڑکی نے آکر ان کو بچایا
بتا کمینے کیوں مار رہا تھا انہیں آج کے بعد اگر کسی پر ہاتھ اٹھایا تو یہ ہاتھ نوالا بھی توڑنے کے قابل نہیں رہے گا زرش اس آدمی کے پیٹ میں ایک اور گھونسہ مارتی ہوئی بولی
زرش چھوڑ دو انہیں ذوہان آگے بڑھ کر زرش کو پکڑتے ہوئے بولا
زرش نے ذوہان کو دھکا دیا آج کے بعد کبھی دوبارہ ہاتھ نہیں لگانا مجھے
سمجھے تم زرش غصے سے بولی
جبکہ ذوہان اپنا سا منہ لے کے رہ گیا
زرش نے آگے بڑھ کر اسے بوڑھے کو پانی پلایا
اور وہاں سے چلی گئی
محبت” کا اثر ہوگا،،، غلط فہمی میں مت رہنا
وہ بدلے گا چلن اپنا، غلط فہمی میں مت رہنا
تسلی بھی اسے دینا کہ ممکن ہے، میں لوٹ آؤں
مگر یہ بھی اسے کہنا،، غلط فہمی میں مت رہنا
تمہارا تھا، تمہارا ہوں،،،،،،،،، تمہارا ہی رہوں گا میں
میرے بارے میں اس درجہ غلط فہمی میں مت رہنا
محبت کا بھرم ٹوٹا ہے،، اب چھپ چھپ کے روتے ہو
تمہیں میں نے کہا تھا ناں غلط فہمی میں مت رہنا
بچا لے گا تمہیں، صحرا کی تپتی دھوپ سے كوئى
کسی کی یاد کا سایہ،،،، غلط فہمی میں مت رہنا
مشال بیٹا پیکنگ ہوگئی آپ کی عمر نے مشال سے پوچھا
جی بڑے پاپا
مشال.بولی
بیٹا میں آپکو تھوڑی دیر میں چھوڑ آؤں گا
آپ شہر میں اپنے گھر رہوں گی ڈرائیور آپ کو یونی چھوڑ آیا کرے گا
پیسے میں نے اپکے اکاؤنٹ میں جمع کروادیے ہیں
اسکے علاوہ جو آپکو ضرورت ہو مجھے بتا دیا
نہیں بڑے پاپا شکریہ
مشال مسکرا کر بولی
پاپا مشال میرے گھر میں نہیں رہے گی
زر بولا
پتر پیپرز دیکھ لو ایک بار وہ گھر مشال کے نام ہے
اس لیے تم نے اپنا بسیرا کہیں اور کرنا یے تو کر سکتے ہو
ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے
جبکہ زر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا
اسکا باپ اسکی ماں اس لڑکی کی وجہ سے اس سے بات نہیں کر رہی تھی
زر کا دل.کر رہا تھا اسے قتل کر دیں
اس نے صرف اپنی بہن کی وجہ سے اس سے شادی کا ارادہ کیا تھا
پر وہ محترمہ نا جانے خود کو کیا سمجھتی ہیں زر نخوت سے سوچ رہا تھا
مشال کو عمر صاحب چھوڑ کر واپس چلے گئے
مشال اپنے روم میں چلی آئی
تو مسٹر زر اصل تماشہ اب شروع ہوتا ہے
مشال فریش ہو کر کچن میں آگئی
بوا کیا بنا رہی ہیں بیٹا بریانی بنا رہی ہوں زر کو بہت پسند ہیں ہوں
مشال کچھ سوچ کر بولی
بوا بریانی رہنے دیں قیمہ بھر کر کریلے بنائے
لیکن بیٹا
بوا پلیز جو کہہ رہی ہوں وہ کریں
اوکے بیٹا بوا کریلہ بھر کے قیمہ بنانے لگی
مشال اچھی طرح جانتی تھی کہ زر کو کریلے پسند نہیں ہیں
مشال مسکرا کر صوفے پر بیٹھ گئی
کچھ دیر بعد زر آیا بوا کھانا بن گیا تو لگا دین بہت بھوک لگی ہے
اوکے بیِٹا آپ فریش ہو کر آجاؤ
زر تھوڑی دیر بعد آکر بیٹھ گیا
بوا کیا بنایا ہے
کریلے
واٹ بوا
آپکو پتا ہے مجھے پسند نہیں
بیٹا مشال نے کہا تھا
وہ کون ہوتی ہے اس گھر میں حکمرانی کرنے والی.
اس گھر کی مالکن
مشال وہاں سے گزرتے ہوئے بولی
جبکہ زر مشال کی بات پر بل.کھا کر رہ گئی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: