Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 5

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 5

–**–**–

 

زر اس وقت اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بیٹھا باتوں میں مصروف تھا
اوہ یار ہمارے جونیئرز میں ایک لڑکی بہت پیاری آئی ہے حاشر اسکے پاس بیٹھتا ہوا بولا
یار بڑا مست مال ہے عدیل آنکھ مارتے ہوئے کمینگی سے بولا
اچھا مجھ سے بھی زیادہ پیاری ہے نمرہ اپنے بالوں کو جھٹکتے ہوئے بولا
اوہ تو تو کچھ بھی نہیں ہے اسکے سامنے
وہ بہت خوبصورت ہے اور معصوم بھی
یو آر بیوٹیفل ود میک اپ
بٹ
شی از بیوٹیفل نیچرلی
حاشر مزے سے بولا
جبکہ نمرہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا
کون ہے زر نے دلچسپی سے پوچھا
نام تو نہیں پتا حاشر نے کہا
مجھے پتا ہے عدیل جلدی سے بولا
کیا ہے زر نے پوچھا
یار میرا تو دل آگیا ہے عدیل کمینگی سے بولا
اب نام بھی بتا دے زر نے پوچھا
مشال آفندی
عدیل نے دھماکہ کیا
پل بھر میں زر کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوا
کمینے انسان زر عدیل کا گریبان پکڑتا ہوا بولا
خبر دار اگر آج کے بعد اسکی طرف دیکھا بھی تو
کیوں کیا لگتی ہے تیری
عدیل غصے سے بولا
زر چھوڑو اسے نمرہ اسکا بازو پکڑتے ہوئے بولی
بتاؤ کیا لگتی ہے تمہاری
نمرہ اب کی بار غصے سے بولی
کزن ہے میری زر خود کو ریلیکس کرتے ہوئے بولا
کزن ہی ہے عدیل معنی خیزی سے بولا
یہ محبتیں, یہ عنایتیں,
یہ مسرّتیں تیرے نام ہیں،
میرے ہم قدم! میرے ہم نشیں
یہ رفاقتیں تیرے نام ہیں
کبھی گمشدہ, کبھی روبرو,
کبھی آئینہ, کبھی عکس تو،
میرے ہم نوا میری خواہشیں
میری صحبتیں تیرےنام ہیں
کبھی یہ ہنسی,کبھی یہ نمی,
کبھی رنجشیں ,کبھی قربتیں،
میری زندگی کی حسیں سبھی
یہ عبارتیں تیرے نام ہیں
تیری ذات سےہیں جڑی ہوئی
میری منتیں بھی دعائیں بھی،
میرے دلبرا میرےعشق کی
یہ عبادتیں تیرےنام ہیں ….!!
زرش بیڈ پر لیٹی سرمد کو یاد کررہی تھی
ایک دم زرش اٹھ کر بیٹھ گئی اور واش روم کی طرف بڑھ گئی
زرش جب واشروم سے باہر آئی تو بلیک پینٹ کوٹ پہنے ہوئے تھی
وہ گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے باہر نکل گئی
زرش اس وقت ذوہان کے دروازے پر کھڑی بیل بجارہی تھی
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا
تم اس وقت یہاں ذوہان وقت دیکھتا ہوا بولا
کیوں میں اس وقت نہیں آ سکتی
زرش دوبدو بولی
باقی سب کہاں ہے زرش اندر داخل ہوتے ہوئے بولی
سب سوئے ہیں
ہممم تو جلدی سے ڈریس اپ ہو کے آؤ
اوع کوسٹیوم بھی پہن کے آنا
کیوں
اگر پہن آؤ گے تو وہ بھی بتا دوں گی
ہمم اوکے
تھوڑی دیر بعد ذویان کوسٹیوم پہن آکر آگیا
زرش نے اپنا کوسٹیوم پہن لیا
اور دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے
ہم کہان جارہے ہیں ذوہان نے پوچھا
زرش نے بائیک روک دی
یہ لو
یہ کیا ہے ذوہان ٹیپ کو پکڑتے ہوئے بولا
کیا نظر آرہا ہے
پر میں اسکا کیا کروں
اپنے منہ پر لگا لو تاکہ منہ بند رہے
ذوہان نے گھور کر زرش کو دیکھا
زرش نے بنا اثر لیے بائیک پھر سے اسٹارٹ کردی
مشال اپنے دھیان میں اپنی دوستون کے ساتھ جارہی تھی
مشال
زر نے آواز دی
میں ایک منٹ آتی ہوں مشال باقی لڑکیوں کو بولتی ہوئی زر کی طرف بڑھ گئی
مشال یہ میری بیسٹ فرینڈ نمرہ
بیسٹ فرینڈ یا
مشال معنی خیزی سے بولی
مشال زر تنبیہی آواز سے بولا
اور یہ میرے دوست عدیل اور حاشر
اور
یہ میری کزن
مشال آفندی
ہیلو عدیل اور حاشر ایک ساتھ بولے
جبکہ نمرہ نے غصے سے مشال کو دیکھا
زر
مشال نے آواز دی
ہاں
ان سب کا انٹرو ڈکشن کروانے کا کیا مطلب تھا
مشال چیونگم چباتے ہوئے بولی
جبکہ زر کا چہرہ خفت سے سرخ ہوا
اوکے بائے میری کلاس ہے
یہ کہتے ہوئے
مشال آگے کی طرف بڑھ گئی
جبکہ زر اپنا سا منہ لے کر رہ گیا
جبکہ عدیل اور حاشر نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا
یہاں کیون لائی ہو مجھے
ذوہان نے زرش سے پوچھا
تم نے یہاں کے گارڈز کا دیہان بٹا کر رکھنا ہے میں اندر سے ہوکے آتا ہوں
آتا ہوں
ہاں
مطلب ذوہان اچھنبے سے پوچھا
عقل مندوں کو بات میں سمجھ آتی ہے زرش کہتے ہوئے اگے بڑھ گئی
زرش نے پائپ سے چڑھ کر ایک ونڈو سے اندر چھلانگ لگادی
جبکہ ذوہان تو حیرانگی سے زرش کی پھرتی کو دیکھ رہا تھا
یہ مجھے یہاں کیوں ساتھ لائی ہے
ذوہان نے حیرانگی سے سوچا
اوہ گن مین کا دھیان رکھا ہے
‏زر غصے سے روم میں ٹہل رہا تھا یہ لڑکی مسلسل اسکو غلط کرنے پر اکسا رہی تھی
اسکے ضبط کو آزما رہی تھی اور گھر والوں نے اسے چھوٹ دے رکھی تھی
کچھ ایسا کرنا ہوگا زر کہ گھر والے اسے واپس بلا لے
زر کچھ پلینگ کرتا ہوا بولا
تو مس مشال اب شہر میں آپ کے کچھ دن ہیں
زر کچھ سوچ کر مسکراتے ہوئے بولا
مس مشال بہت ہواؤن مین اڑ لیا تم نے
اب میری باری
کہتے ہین زمین سے آسمان کی طرف آہستہ آہستہ جانا چاہیے
لیکن تم نے تو چھلا نگ لگا دی ایک دم زمین سے آسمان پر
پر میں آسمان کے پرندون کا بادشاہ ہوں
میں عقاب ہون اور عقاب سے زیادہ اڑان کسی پرندے کی نہیں ہو سکتی
اگر کوئی چڑیا عقاب کا مقابلہ کرنا چاہے تو وہ عقاب کے منہ کا نوالہ بن جاتی ہے
تو مائے ڈئیر کزن
اب میں بھی تم کو آسمان سے دھکا دے کر زمین پر واپس گرادوں گا
زر مسکراتے ہوئے بولا
مشال صبح ناشتہ کرنے مین مصروف تھی
کہ زر بھی اپنی کرسی گھسیٹتے ہوئے بیٹھ گیا
مشال نے کوئی دھیان نا دیا
زر کو اپنا یوں اگنور ہونا بہت برا لگا
لیکن سوائے صبر کے گھونٹ پینے کے وہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا
بی امان ناشتہ لا دیں زر ہونٹون پر مسکراہٹ سجاتا ہوا بولا
مشال
اب کی بار زر مشال سے مخاطب ہوا
مشال نے سوالیہ نظروں سے زر کی طرف دیکھا
اس ویک اینڈ پر گھر چلے گے بعد میں تو موقع نہیں ملے گا اسٹڈی کا برڈن بڑھ جائے گا
مشال کا بھی سب سے ملنے کو دل کر رہا تھا
اسلیئے مشال نے بھی خاموشی سے حامی بھر لی
اوکے
مشال اتنا سا جواب دے کے وہاں سے اٹھ گئی
جاؤ مشال بی بی آج یونی ورسٹی میں تمہارا آخری دن ہے اس کے بعد تو کبھی آ نہیں سکو گی
زر دل میں مشال سے مخاطب ہوتا ہوا مسکرایا
اے حسن لالہ فام! ذرا آنکھ تو ملا
خالی پڑے ہیں جام، ذرا آنکھ تو ملا
کہتے ہیں آنکھ آنکھ سے ملنا ہے بندگی
دنیا کے چھوڑ کام! ذرا آنکھ تو ملا
کیا وہ نہ آج آئیں گے تاروں کے ساتھ ساتھ؟
تنہائیوں کی شام !ذرا آنکھ تو ملا
یہ جام، یہ سبو، یہ تصور کی چاندنی
ساقی! کہاں مدام! ذرا آنکھ تو ملا
ساقی مجھے بھی چاہیے اک جامِ آرزو
کتنے لگیں گے دام! ذرا آنکھ تو ملا
پامال ہو نہ جائے ستاروں کی آبرو
اے میرے خوش خرام !ذرا آنکھ تو ملا
ہیں راہِ کہکشاں میں ازل سے کھڑےہوئے
ساغر ؔترے غلام !ذرا آنکھ تو ملا
صبح سب ناشتہ کررہے تھے کہ اسفند بولا
سر پھر ہم اپنا پلین کب اسٹارٹ کردہے ہیں
آج سے ہی
ذوہان نے جواب دیا
ہمم
سر مس زرش ایگری ہیں اس پلین سے اب کی بار احمر بولا
پتا نہیں میں نے پوچھا نہیں
سر ایک بات پوچھوں اسفند ڈرتے ڈرتے بولا
ہان پوچھو
میم زرش یہاں رات کوآئی تھی
جب دیکھ چکے ہو تو پوچھ کیون رہے ہو ذوہان نے الٹا سوال کیا
تم کیا سمجھے تھے تم ہمیں دیکھ کر واپس چلے گئے تھے تو کیا ہمیں پتا نا چلتا
جناب ہم سیکریٹ ایجینٹس سے تعلق رکھتے ہین
ذوہان اسفند کو بہت کچھ باور کرواتے ہوئے بولا
اور میں نے سن رکھا ہے کہ سیکریٹ ایجینٹس کی سینسز دوسرے لوگوں سے زیادہ کام کرتی ہیں
جججج جی سر اسفند ہکلاتے ہوئے بولا
اس لیے اب تم مجھ پر دھیان دینے کی بجائے ڈیوٹی پر دھیان دو
اسفند کی کلاس لگنے پر احمر اور ثانیہ بامشکل اپنی مسکراہٹ سمیٹ رہے تھے
ذوہان وہاں سے اٹھ کر چلا گیا
تو احمر اور ثانیہ قہقہ لگا کر ہنس دیے
ہنس لو بچوں ہنس لو
گن گن کے بدلے لوں گا
اسفند غصےسے بولا یاد رکھنا میں معاف کرنے والو میں سے نہیں ہوں
اسفند غصے سے وہاں سے واک آؤٹ کر گیا
رات کو ثانیہ اسفند اور احمر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ ذوہان بھی وہاں آکر بیٹھ گیا سر مجھے شادی کرنی ہے اسفند ایک دم سے بولا
اسفند کی بات پر ذوہان نے گھور کر اسفند کی طرف بولا
سر یا تو میری شادی کردیں یا اپنی کرلیں
میں بھابھی سے باتیں کر لیا کروں گا میں ہر وقت بور ہوتا رہتا ہوں
کیوں احمر اور ثانیہ سے باتیں نہیں کرسکتے تم
سر جی یہ میرے ہوتے ہوئے باتیں نہیں کرتے اسفند ذوہان کی گود میں سر رکھتا ہوا بولا
اسفند ذوہان کا چھوٹا بھاِئی تھا ماں باپ بچپن میں گزر گئے تب سے ذوہان نے ہی اسفند کو ماں باپ بن کے پالا
لیکن کام کے وقت اسے بھی کوئی رعایت نا ملتی
کیوں یہ تمہارے ہوتے ہوِئے بات کیوں نہیں کرتے
بھائی اب یہ اپنی پرسنل باتیں میرے سامنے تھوڑی کریں گے
جب میں انکے پاس ہوتا ہوں تو فون پر چیٹنگ کرتے ہیں
اور
جب میں چلا جاتا ہوں پھر ویسے ہی کرتے ہیں
اسفند کی بات پر احمر اور ثانیہ منہ کھولے اسفند کو دیکھ رہے تھے
نہیں سر یہ جھوٹ بول رہا احمر جلدی سے بولا
اچھا میں جھوٹ بول رہا ہوں تو بھائی کو اپنا فون دو
یہ دیکھیں گے کہ جانو کس کے نمبر پر لکھا ہے
اور ثانیہ تم بھی دو لائف لائن کس کے نمبر پر لکھا ہے
میں نے تو ڈی پی سے پہچان لیا تھا
احمر اور ثانیہ اس وقت کو پچھتائے جب وہ اسفند کو ڈانٹ پڑنے پر ہنسے تھے
یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ اسفند معاف کرے گا لیکن اس بات کی خبر انکے فرشتوں کو بھی نہیں تھی
کہ وہ اتنی آسانی سے انکا بھانڈا پھوڑ دے گا
اسی وقت ذوہان کا فون بجنے لگا ذوہان فون اٹینڈ کرتا باہر نکل گیا
لو کر لو گل
لگتا بھائی کو بھی بھابھی کا فون آگیا
چل جوان تجھے اپنی مدد آپ کرنی پڑے گی
مطلب اپنے بھائی کے لِیے تجھے بھابھی خود ڈھونڈنی پڑے گی
ذوہان کچھ دیر بعد واپس آیا
اوکے گائز
جلدی جلدی ڈریسز چینج کرکے آؤ
اور اپنا کوسٹیوم بھی لے لو
ذوہان نے سب کو حکم دیا
سب اپنے اپنے رومز کی طرف چل دیے
میں نے سوچا تھا کہ بھابھی کی کال آئی ہے پر یہ تو
اسفند اپنے روم میں جاتا ہوا بڑبڑایا
ذوہان بھی اپنے روم کی طرف چل دیا
تھوڑی ہی دیر میں سب کوسٹیوم پہنے کھڑے تھے اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے
ذوہان نے گاڑی ایک سنسان جگہ پر روکی اور سب کو فالو کرنے کو کہا
تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک جگہ پو موجود تھے
یہ گرلز ہوسٹل تھا
تھوڑی ہی دیر میں وہاں ایک اور شخص کوسٹیوم پہنے ہوئے آیا
اوکے گائز تیار ہے آپ سب وہ پلین بتاتے ہوئے بولی
بھائی یہ کون ہے اسفند ذوہان کے کان میں گھستے ہوئے بولا
ذوہان نے اسفند کو گھوری سے نوازا
آئی ایم زرش ملک
زرش اسفند کی تجسس سے بھری آنکھیں دیکھ چکی تھی
اسلیے خود ہی اپنا تعارف کروا دیا
اوکے اب سب اپنی اپنی نشستیں سنمبھال لو
سب نے اپنی اپنی نشستیں سنبھالی
جبکہ ذوہان پائپ سے اوپر چڑھنے لگا

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: