Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 6

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 6

–**–**–

 

زر غصے سے روم میں ٹہل رہا تھا یہ لڑکی مسلسل اسکو غلط کرنے پر اکسا رہی تھی
اسکے ضبط کو آزما رہی تھی اور گھر والوں نے اسے چھوٹ دے رکھی تھی
کچھ ایسا کرنا ہوگا زر کہ گھر والے اسے واپس بلا لے
زر کچھ پلینگ کرتا ہوا بولا
تو مس مشال اب شہر میں آپ کے کچھ دن ہیں
زر کچھ سوچ کر مسکراتے ہوئے بولا
مس مشال بہت ہواؤن مین اڑ لیا تم نے
اب میری باری
کہتے ہین زمین سے آسمان کی طرف آہستہ آہستہ جانا چاہیے
لیکن تم نے تو چھلا نگ لگا دی ایک دم زمین سے آسمان پر
پر میں آسمان کے پرندون کا بادشاہ ہوں
میں عقاب ہون اور عقاب سے زیادہ اڑان کسی پرندے کی نہیں ہو سکتی
اگر کوئی چڑیا عقاب کا مقابلہ کرنا چاہے تو وہ عقاب کے منہ کا نوالہ بن جاتی ہے
تو مائے ڈئیر کزن
اب میں بھی تم کو آسمان سے دھکا دے کر زمین پر واپس گرادوں گا
زر مسکراتے ہوئے بولا
مشال صبح ناشتہ کرنے مین مصروف تھی
کہ زر بھی اپنی کرسی گھسیٹتے ہوئے بیٹھ گیا
مشال نے کوئی دھیان نا دیا
زر کو اپنا یوں اگنور ہونا بہت برا لگا
لیکن سوائے صبر کے گھونٹ پینے کے وہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا
بی امان ناشتہ لا دیں زر ہونٹون پر مسکراہٹ سجاتا ہوا بولا
مشال
اب کی بار زر مشال سے مخاطب ہوا
مشال نے سوالیہ نظروں سے زر کی طرف دیکھا
اس ویک اینڈ پر گھر چلے گے بعد میں تو موقع نہیں ملے گا اسٹڈی کا برڈن بڑھ جائے گا
مشال کا بھی سب سے ملنے کو دل کر رہا تھا
اسلیئے مشال نے بھی خاموشی سے حامی بھر لی
اوکے
مشال اتنا سا جواب دے کے وہاں سے اٹھ گئی
جاؤ مشال بی بی آج یونی ورسٹی میں تمہارا آخری دن ہے اس کے بعد تو کبھی آ نہیں سکو گی
زر دل میں مشال سے مخاطب ہوتا ہوا مسکرایا
اے حسن لالہ فام! ذرا آنکھ تو ملا
خالی پڑے ہیں جام، ذرا آنکھ تو ملا
کہتے ہیں آنکھ آنکھ سے ملنا ہے بندگی
دنیا کے چھوڑ کام! ذرا آنکھ تو ملا
کیا وہ نہ آج آئیں گے تاروں کے ساتھ ساتھ؟
تنہائیوں کی شام !ذرا آنکھ تو ملا
یہ جام، یہ سبو، یہ تصور کی چاندنی
ساقی! کہاں مدام! ذرا آنکھ تو ملا
ساقی مجھے بھی چاہیے اک جامِ آرزو
کتنے لگیں گے دام! ذرا آنکھ تو ملا
پامال ہو نہ جائے ستاروں کی آبرو
اے میرے خوش خرام !ذرا آنکھ تو ملا
ہیں راہِ کہکشاں میں ازل سے کھڑےہوئے
ساغر ؔترے غلام !ذرا آنکھ تو ملا
صبح سب ناشتہ کررہے تھے کہ اسفند بولا
سر پھر ہم اپنا پلین کب اسٹارٹ کردہے ہیں
آج سے ہی
ذوہان نے جواب دیا
ہمم
سر مس زرش ایگری ہیں اس پلین سے اب کی بار احمر بولا
پتا نہیں میں نے پوچھا نہیں
سر ایک بات پوچھوں اسفند ڈرتے ڈرتے بولا
ہان پوچھو
میم زرش یہاں رات کوآئی تھی
جب دیکھ چکے ہو تو پوچھ کیون رہے ہو ذوہان نے الٹا سوال کیا
تم کیا سمجھے تھے تم ہمیں دیکھ کر واپس چلے گئے تھے تو کیا ہمیں پتا نا چلتا
جناب ہم سیکریٹ ایجینٹس سے تعلق رکھتے ہین
ذوہان اسفند کو بہت کچھ باور کرواتے ہوئے بولا
اور میں نے سن رکھا ہے کہ سیکریٹ ایجینٹس کی سینسز دوسرے لوگوں سے زیادہ کام کرتی ہیں
جججج جی سر اسفند ہکلاتے ہوئے بولا
اس لیے اب تم مجھ پر دھیان دینے کی بجائے ڈیوٹی پر دھیان دو
اسفند کی کلاس لگنے پر احمر اور ثانیہ بامشکل اپنی مسکراہٹ سمیٹ رہے تھے
ذوہان وہاں سے اٹھ کر چلا گیا
تو احمر اور ثانیہ قہقہ لگا کر ہنس دیے
ہنس لو بچوں ہنس لو
گن گن کے بدلے لوں گا
اسفند غصےسے بولا یاد رکھنا میں معاف کرنے والو میں سے نہیں ہوں
اسفند غصے سے وہاں سے واک آؤٹ کر گیا
رات کو ثانیہ اسفند اور احمر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ ذوہان بھی وہاں آکر بیٹھ گیا سر مجھے شادی کرنی ہے اسفند ایک دم سے بولا
اسفند کی بات پر ذوہان نے گھور کر اسفند کی طرف بولا
سر یا تو میری شادی کردیں یا اپنی کرلیں
میں بھابھی سے باتیں کر لیا کروں گا میں ہر وقت بور ہوتا رہتا ہوں
کیوں احمر اور ثانیہ سے باتیں نہیں کرسکتے تم
سر جی یہ میرے ہوتے ہوئے باتیں نہیں کرتے اسفند ذوہان کی گود میں سر رکھتا ہوا بولا
اسفند ذوہان کا چھوٹا بھاِئی تھا ماں باپ بچپن میں گزر گئے تب سے ذوہان نے ہی اسفند کو ماں باپ بن کے پالا
لیکن کام کے وقت اسے بھی کوئی رعایت نا ملتی
کیوں یہ تمہارے ہوتے ہوِئے بات کیوں نہیں کرتے
بھائی اب یہ اپنی پرسنل باتیں میرے سامنے تھوڑی کریں گے
جب میں انکے پاس ہوتا ہوں تو فون پر چیٹنگ کرتے ہیں
اور
جب میں چلا جاتا ہوں پھر ویسے ہی کرتے ہیں
اسفند کی بات پر احمر اور ثانیہ منہ کھولے اسفند کو دیکھ رہے تھے
نہیں سر یہ جھوٹ بول رہا احمر جلدی سے بولا
اچھا میں جھوٹ بول رہا ہوں تو بھائی کو اپنا فون دو
یہ دیکھیں گے کہ جانو کس کے نمبر پر لکھا ہے
اور ثانیہ تم بھی دو لائف لائن کس کے نمبر پر لکھا ہے
میں نے تو ڈی پی سے پہچان لیا تھا
احمر اور ثانیہ اس وقت کو پچھتائے جب وہ اسفند کو ڈانٹ پڑنے پر ہنسے تھے
یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ اسفند معاف کرے گا لیکن اس بات کی خبر انکے فرشتوں کو بھی نہیں تھی
کہ وہ اتنی آسانی سے انکا بھانڈا پھوڑ دے گا
اسی وقت ذوہان کا فون بجنے لگا ذوہان فون اٹینڈ کرتا باہر نکل گیا
لو کر لو گل
لگتا بھائی کو بھی بھابھی کا فون آگیا
چل جوان تجھے اپنی مدد آپ کرنی پڑے گی
مطلب اپنے بھائی کے لِیے تجھے بھابھی خود ڈھونڈنی پڑے گی
ذوہان کچھ دیر بعد واپس آیا
اوکے گائز
جلدی جلدی ڈریسز چینج کرکے آؤ
اور اپنا کوسٹیوم بھی لے لو
ذوہان نے سب کو حکم دیا
سب اپنے اپنے رومز کی طرف چل دیے
میں نے سوچا تھا کہ بھابھی کی کال آئی ہے پر یہ تو
اسفند اپنے روم میں جاتا ہوا بڑبڑایا
ذوہان بھی اپنے روم کی طرف چل دیا
تھوڑی ہی دیر میں سب کوسٹیوم پہنے کھڑے تھے اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے
ذوہان نے گاڑی ایک سنسان جگہ پر روکی اور سب کو فالو کرنے کو کہا
تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک جگہ پو موجود تھے
یہ گرلز ہوسٹل تھا
تھوڑی ہی دیر میں وہاں ایک اور شخص کوسٹیوم پہنے ہوئے آیا
اوکے گائز تیار ہے آپ سب وہ پلین بتاتے ہوئے بولی
بھائی یہ کون ہے اسفند ذوہان کے کان میں گھستے ہوئے بولا
ذوہان نے اسفند کو گھوری سے نوازا
آئی ایم زرش ملک
زرش اسفند کی تجسس سے بھری آنکھیں دیکھ چکی تھی
اسلیے خود ہی اپنا تعارف کروا دیا
اوکے اب سب اپنی اپنی نشستیں سنمبھال لو
سب نے اپنی اپنی نشستیں سنبھالی
جبکہ ذوہان پائپ سے اوپر چڑھنے لگا
سُنو ، بہت بیزار ہو نا مجھ سے ؟
مجھ سے دور جانا چاہتے ہو ؟
مجھ سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہو
کہہ بھی نہیں سکتی مجبور جو ہو
چلو
میں اپنی محبت نبھاتی ہوں
تمہیں ایک طریقہ بتاتی ہوں
میرے کان میں آہستہ سے کہہ دو
میں تیرا ہوں مجھے دل میں جگہ دو
یقین مانوں یہ سُنتے ہی میں مر جاؤں گی
ہماری محبت کا بھرم بھی رہ جاے گا
چھوٹ جاے گا پیچھا تمہارا مجھ سے
کیونکہ کوئ لَوٹ کر آتا نہیں قبر سے
سُنو ، بہت بیزار ہو نا مجھ سے
مشال اور زر دونوں گاؤں جانے کو تیار تھے
سارا راستہ خاموشی سے کٹا
مشال سب گھر والون کو پہلے سے انفارم کر چکی تھی
مشال جیسے کی گاڑی سے نیچے اتری سب سےپہلے مروہ مشال سے ملی
سب باری باری مشال سے ملے کسی نے بھی زر پر دھیان دینا ضروری نا سمجھا
زر تلملا کر رہ گیا لیکن صبر کے گھونٹ پیتا سب سے ملنے لگا
مشال سب لڑکیون کے ساتھ روم میں چلی گئی
جبکہ زر بڑوں کے ساتھ ہال میں بیٹھ گیا
ذوہان جیسے ہی پائپ سے اوپر چڑھا
تو زرش بھی پائپ کر ذریعے اوپر چڑھ گئی
سب لوگ زرش کی پھرتی دیکھ رہے تھے
ذوہان کے علاوہ زرش کی اسپیڈ سب کے لئے حیران کن تھی
کیونکہ ذوہان زرش کو یوں چڑھتے پہلے بھی دیکھ چکا تھا زرش جیسے ہی اوپر چڑھی
تو چھلانگ لگانے کے لئے ذوہان نے ہاتھ آگے کیا
زرش نے ایک نظر ذوہان کے ہاتھ کو دیکھا
اور پھر ذوہان کے ہاتھ کو اگنور کرتے ہوئے چھلانگ لگا دی
زرش آگے بڑھنے لگی ذوہان بھی چاروں طرچ دیکھتا ہوا زرش کے پیچھے پیچھے آگے آگے بڑھنے لگا
یہ جگہ ہے وہ زرش اشارہ کرتے ہوئے بولی
ہاں آج میں نے کیمرہ ریکارڈنگ دیکھی تھی اس طرف کوئی بٹن تھے جنکو دبانے سے یہ کھل جاتا
ذوہان ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
دیکھو زرش نے ذوہان کو اشارہ کیا
یہ فنگر پرنٹس ہیں ذوہان دیکھتے ہوئے بولا
زرش نے اپنے جوتوں سے کوئی تیز دھار آلہ نکالا
اور نکالا اور اس پتھر کر دروازے کو کاٹ دیا
زرش اندر چھلانگ لگانے ہی لگی تھی کہ ذوہان جلدی سے بولا
زرش رکو
زرش نے سوالیا نظروں سے ذوہان کو دیکھا
پہلے میں اندر جاتا ہوں کوئی اندر کوئی خطرہ بھی ہو سکتا ہے
زرش نے ذوہان کی طرف دیکھ کر سمائل پاس کی اور اندر چھلانگ لگا دی
ذوہان نے بھی خفگی سے سر ہلاتے ہوئے اندر چھلانگ لگا دی
پاپا مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے
زر کھانا کھاتے ہوئے بولا
ہاں بیٹا بولو
پاپا میں مشال سے شادی کرنے کو تیار ہوں پر آپ مشال کو یونی نہیں بھیجیں
کیوں عمر صاحب نے سوال کیا. پاپا
یونی کا ماحول اتنا خراب ہے اور لڑکیوں کے لئے اور بھی مشکل ہے
یہ تو اپنا ڈیفینس بھی نہیں کرسکتیں
زر نے ہوا میں تیر چھوڑا
سب نے مشال کی طرف دیکھا
بڑے پاپا میں کسی ایسے انسان سے شادی نہیں کروں گی
جسکی زہنیت جاہلیت والی ہو
اور میرا ایک سوال ہے
کہ ماحول ہم نے ہی بنایا ہے اس لئے خود کو ٹھیک کریں ماحول خود ہی ٹھیک ہوجائے گا
اور خاص کر وہ لوگ جو گرل فرینڈز بنائے پھرتے ہیں
زر کے تو مانو سر پر لگی اور تلوؤں بجھی
اس کے ذہن مین بھی نہیں تھا کہ مشال یوں اسکا بھانڈا پھوڑ دے گی
اور پاپا جہان تک سیلف ڈیفینس کی بات ہے تو اسکی میں باقاعدہ کلاسس لے چکی ہون
آپ چاہو تو ٹیسٹ لے سکتے ہیں
مشال کمال نے نیازی سے بولی
زر حیران پریشان سے مشال کو دیکھ رہا تھا
چلو پھر ناشتے کے بعد ایک ٹیسٹ ہو ہی جائے
کیوں زد مقابلے کے لئے تیار ہو
عمیر نے پوچھا
جی پاپا
یہ.لڑکی بھلا میرا کیا مقابلہ کریں گی اپنے دل میں بولا
بڑے پاپا
جی بیٹا
پاپا ایک ٹائم میں چار پانچ لوگوں کا بھی حملہ ہو سکتا اسلئے میں ایک سے مقابلہ نہیں کروں گی
مشال مزے سے بولی
جبکہ زر تو مشال.کی بات پر بے ہوش ہوتے ہوتے رہ گیا
کہاں وہ نازک سی لڑکی اور کہاں وہ چار پانچ مرد
اوکے بیٹا عمیر صاحب نے جواب دیا
اندر مکمل طور پر اندھیرا تھا ٹارچ ہے تمہارے پاس
زرش نے پوچھا
ہاں
آن کرو
عجیب سی سمیل ہے زرش ناک چڑھاتے ہوئے بولی
الکوحل کی سمیل آرہی ہے
ذوہان ٹارچ آن کرتے ہوئے بولا
یہ تو کوئی سرنگ ٹائپ.لگ رہی ہیں
زرش ٹارچ کی روشنی میں دیکھتے ہوئے بولی
کچھ ہی دیر میں وہ دونوں سرنگ کا.مکمل طور پر جائزہ لے چکے تھے
چلو چلیں کافی وقت ہو گیا زرش ذوہان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
کچھ ہی دیر میں وہ اپنی ٹیم کے ساتھ موجود تھے
اور گھر واپس روانہ ہو چکے تھے
نیکسٹ کیا پلین ہے اسفند خاموشی توڑتا ہوا بولا
اسفند کل تم ایک کام کرو زرش بولی
اس ہاسٹل کا جو چوکیدار ہے اسکو بھگاؤ یہاں سے جیسے مرضی پیار سے غصے سے دھمکا کے یا پیسے دے کے
لیکن میم اس کے جانے پر وہ نیا چوکیدار بھی تو رکھیں گے اسفند بولا
ہاں ضرور رکھیں گے اور وہ چوکیدا تم ہو گے
ذوہان اور احمر اس ہاسٹل کی گرلز زیادہ جس یونیورسٹی میں جاتی ہیں وہاں ایڈمیشن لو
اور میں اور ثانیہ ہاسٹل اور یونی دونوں میں ایڈمیشن لے رہی ہیں
کسی کو کوئی پرابلم زرش اسفند کا منہ ٹیرھا کرنے پر بولی
ننن نو میم سب سے پہلے اسفند بولا
جس پر زرش سمیت سب کے قہقے گو نجے
جبکہ اسفند نے اپنی درگت بنتے دیکھ کر منہ بنایا

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: