Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 7

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 7

–**–**–

 

ساری فیملی اس وقت لان میں موجود تھی
لان اس وقت مقابلے کے میدان کا رول ادا کر رہا تھا
سب لڑکیاں اور لڑکے موجود تھے
پھوپھو کی فیملی بھی یہاں تشریف لاچکی تھی
سب لڑکیاں پریشان تھی کہ مشال نے بہت غلط قدم اٹھایا لیکن مشال ریلیکس بیٹھی تھی جیسے اسکے لئے یہ کوئی بڑی بات نا ہو
جبکہ لڑکیوں کے برعکس لڑکے کافی پرجوش تھے
جس میں زر کی خوشی دیدنی تھی
وہ اپنی جیت پر خوش تھا اس کو یقین تھا کہ وہی جیتنے والا ہے بھلا ایک نازک سی لڑکی کہاں اسکا مقابلہ کر سکتی تھی پر یہان تو صورتحال ہی کافی برعکس تھی
وہ نازک سی لڑکی چار نوجوان مردوں کا مقابلہ کرنے والی تھی
اس وقت مشال چار لڑکون کے درمیان میں کھڑی تھی
جن میں سے ایک زر اور تین نوکر تھے
اور مشال کو اب ان کا مقابلہ کرتے ہوئے خود کو بچا کر یہاں سے بھا گنا تھا
عجیب پریشان سی صورتحال تھی
اچانک مشال نیچے بیٹھی اور پھر ایک دم اٹھ کر چاروں طرف گھومی
اسکے ساتھ ہی زر اور تینوں لڑکوں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا
اور آنکھوں کو مسلنے لگے
مشال نے باری باری تینوں لڑکوں کے منہ پر گھونسے مارے
اور پھر زر کا گریبان پکڑ کر زور کا جھٹکا دیا اور نیچے پھینک دیا
سب حیرانگی سے مشال کو دیکھ رہے تھے
جبکہ لڑکے تو بالکل ساکت تھے کیونکہ صورتحال سب کی سمجھ سے باہر تھی
مشال زر کو دھکا دے کر ایک طرف بڑھ گئی
جبکہ وہ چاروں ابھی تک زمین پر پڑے آنکھیں مسل رہے تھے
‏اے حسن لالہ فام! ذرا آنکھ تو ملا
خالی پڑے ہیں جام، ذرا آنکھ تو ملا
کہتے ہیں آنکھ آنکھ سے ملنا ہے بندگی
دنیا کے چھوڑ کام! ذرا آنکھ تو ملا
کیا وہ نہ آج آئیں گے تاروں کے ساتھ ساتھ؟
تنہائیوں کی شام !ذرا آنکھ تو ملا
یہ جام، یہ سبو، یہ تصور کی چاندنی
ساقی! کہاں مدام! ذرا آنکھ تو ملا
ساقی مجھے بھی چاہیے اک جامِ آرزو
کتنے لگیں گے دام! ذرا آنکھ تو ملا
پامال ہو نہ جائے ستاروں کی آبرو
اے میرے خوش خرام !ذرا آنکھ تو ملا
ہیں راہِ کہکشاں میں ازل سے کھڑےہوئے
ساغر ؔترے غلام !ذرا آنکھ تو ملا
آج وہ سب پلینگ کے مطابق اپنی اپنی جگہ سنبھال چکے تھے
اسفند نے پلینگ کے مطابق چوکیدار کو کچھ پیسے دے کر بھگا دیا
اور اب اسی چوکیدار کو روپ دھارے چوکیدرا بنا بیٹھا تھا
جبکہ ذوہان زرش احمر اور ثانیہ یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے چکے تھے
احمر اور ذوہان نے ایک ڈیپارٹمنٹ میں جبکہ ثانیہ اور زرش ایک ڈیپارٹمنٹ میں تھی
ثانیہ اور زرش کو ہاسٹل مین علیحدہ علیحدہ روم مین ملے کیونکہ دونوں رومز میں صرف ایک ایک لڑکی کی سپیس تھی اور ایسا ہی تو وہ چاہتی تھی
سب حیران پریشان تھے اور زر کے تو مانو روح پرواز کر گئی ہو ایک لڑکی بھلا کیسے جیت سکتی ہے سب سے
لیکن ایسا ہوچکا تھا
تو کیا خیال ہے برخودار تمہیں یونی سے ہٹا لیا جائے تمہیں سیلف ڈیفینس نہیں آتا
پاپا اس نے چیٹنگ کی تھی اور ہماری آنکھوں مرچی ڈال تھی زر اپنی صفائی دیتے ہوئے بولا
میری جان یہی سیلف ڈیفینس ہوتا
گولی پستول سے مارو یا رائفل سے کام ایک جیسا کریں گی عمر صاحب رسانیت سے بولے
جبکہ زر شرمندہ ہو کر رہ گیا
اور
کر بھی کیا سکتا تھا
دوسری طرف سب لڑکیاں بہت خوش تھی
سب سے زیادہ مروہ کی خوشی دیدنی تھی
زر اسکا بھائی ہی سہی پر وہ غلط انسان کا ساتھ نہیں دے سکتی تھی
وہ شخص مجھے پیارا ہے اسے کہنا
مرے جینے کا سہارا ہے اسے کہنا
لوگ بہت سے پیارے ہیں مجھکو
مگر وہ سب سے پیارا ہے اسے کہنا
محبتیں شکایتیں عداوتیں اسکی
مجھے سب گوارا ہے اسے کہنا
چاہنے والے اور بھی ہیں لیکن
مجھے صرف انتظار تمہارا ہے اسے کہنا
ڈوب نہ جاؤں تیری چاہت کے سمندر میں
وہی ہے ہمارا کنارہ اسے کہنا
زندگی کر دی اس کے نام پہ
وہ کر کے دیکھے اشارہ اسے کہنا
زرش خاموش بیٹھی سرمد کے خیالوں میں کھوئی تھی
کتنی محبت کی تھی اس نے اس شخص کی
پر وہ شخص تو کسی اور کی محبت کا پجاری نکلا
ہاں صحیح کہا تھا کسی نے کے صرف پانچ فیصد لوگ اس دنیا میں ایسے ہیں جن کو انکی محبت مل جاتی ہے
باقی پچانوے فیصد ناکام عاشق ہوتے ہیں
اور زرش ملک کا نام بھی ان پچانوے فیصد لوگو میں شامل ہوتا تھا
زرش ناجانے ابھی ان ہی خیالوں میں ناجانے اور کتنی دیر کھوئی رہتی
کہ فون کی بیل نے اسکے خیالوں میں خلل ڈالا
زرش نے فون کی طرف دیکھا تو ویمپائر کالنگ کا نمبر بلنک ہو رہا تھا
ہیلو
زرش فون کان کو لگاتے ہوئے بولی
کیا صورتحال ہے
ابھی تک تو کچھ خاص نہیں ابھی کسی لڑکی سے اتنی انٹریکشن نہیں ہوئی
اوہ تو پھر آج ہم لوگ آئیں
نہیں ابھی نہیں ابھی ہم لوگ نئی ہیں تو ہم پر شک کیا جاسکتا ہے
اوکے جواب آیا
اوکے پھر صبح ملاقات ہوتی
یہ کہتےہوئے زرش نے فون رکھ دیا
اور مزید سوچوں کو جھٹکتے ہوئے وہ فریش ہونے چلی گئی
ذر اور مشال آج واپس شہر جارہے تھے
ذر جو آتے ہوئے بہت خوش تھا واپسی پر اسکا چہرہ اتنا ہی لٹکا ہوا تھا
اسکا پلین جو فیل ہو گیا تھا
جو دوسروں کے لئے گڑھا کھودتا ہے وہ خود اس میں گرتا ہے یہ محاورہ ذر نے پہلے کافی دفعہ سنا تھا
لیکن
آج اسے صحیح معنوں میں سمجھ آگیا تھا
زر گاڑی میں بیٹھا مشال کا انتظار کر رہا تھا
کہ مشال عمیر صاحب کے ساتھ آتی ہوئی نظر آئی
مشال بیٹا اپنا خیال رکھنا
عمیر صاحب مشال کو گاڑی میں بٹھاتے ہوئے بولے
زر نے سائیڈ مرر سے پچھلی سائیڈ پر بیٹھی مشال کو دیکھا جو ابھی بھی عمیر صاحب سے باتوں میں مصروف تھی
زر بیٹا اب کی بار عمیر صاحب زر سے مخاطب ہوئے
جی پاپا
بیٹا شہر جاکر سیلف ڈیفینس سیکھ لینا
عمیر صاحب کی بات سن کر جہاں مشال نے اپنی مسکراہٹ سمیٹی
وہی زر کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی
اس نے غصے سے کار آگے بڑھائی
مشال اور زوہان پھر سے یونی اسٹارٹ کر چکے تھے
دونوں اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہوچکے تھے دونوں میں بات نا ہونے کے برابر تھی
زر صبح ناشتہ کرنے میں مصروف تھا
کہ
مشال سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی بلیک کلر کی شرٹ اور بلیک کی کیپری پہنےساتھ ریڈ ڈوپٹے سے حجاب بنائے بلاشبہ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
مشال زر کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئی
بوا جوس لادیں پلیز
مشال.مسکراتے ہوئے عجلت سے بولی
بیٹا ناشتہ نہیں کرو گی
نہیں بوا یونی سے کچھ کھالوں گی ابھی دل نہیں ہے
مشال اپنے ناخنوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
لیکن بیٹا آپ نے رات کو بھی کھانا نہین کھایا
اور
رات دیر تک پڑھتی رہی ہو ایسے تو تمہاری صحت خراب ہو جائے گی بوا پریشانی سے بولی
ارے بوا جی آپ پریشان نا ہو کچھ نہین ہوتا مجھے
مشال جوس ہونٹوں کو لگاتے ہوئے بولی
بیٹا میرا دل بہت گھبرا رہا ہے آج یونی نہیں جاؤ
بوا کچھ نہیں ہو گا مجھے آپ پریشان نا ہو
ان دنوں میں مشال بوا کے ساتھ کافی اٹیچ ہو گئی تھی
اور بوا کو بھی مشال کے روپ مین بیٹی مل گئی تھی
اوکے بیٹا جاؤ خدا تمہاری حفاظت کرے
بوا مشال کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے بولی
جبکہ زر تو سلگ کے رہ گیا
وہ تین سال سے یہاں رہ رہا تھا لیکن بوا کے ساتھ اتنا اٹیچ نہین ہوا
اور
یہ لڑکی تین ہفتوں میں بوا پر اپنا جادو چلا چکی تھی
تمہارا یہ جادو اوروں پر ہی چل سکتا ہے مجھ پر
زر نے سلگ کر سوچا
جبکہ مشال یونی کے لئے جاچکی تھی
زر بھی اپنی گاڑی میں یونی کے لئے نکل گیا
مس زرش یہ کیا بے وقوفی ہے کیا میں اس حرکت کی وجہ پوچھ سکتا ہوں
ذوہان غصے سے بولا
زرش نے ایک نظر ذوہان کو دیکھا
اور
کند ھے اچکا دیے جیسے کہہ رہی ہو آپ اس سے زیادہ بے وقوفی کی توقع مجھ سے کرسکتے ہیں
ذوہان سلگ کر رہ گیا
اور قہر برساتی نظروں سے ذوہان کی طرف دیکھا
میں باؤنڈ نہیں رہ سکتی
اور ہاسٹل میں رہ کر انسان باؤنڈ ہو جاتا
ثانیہ اور اشہد وہی ہے کیا یہ کافی نہیں ہے
اور
سب ہی اب کیا ہاسٹل مین رہین گے
زرش ذوہان کو سمجھاتی ہوئی بولی
تمہارا کچھ نہیں بن سکتا ذوہان گردن کو نفی میں ہلاتے ہوئے بولا
سوٹ بن رہا ہے میرا زرش مزے سے بولی
سب نے زرش کی اس بات پر حیرانگی والی نظروں سے دیکھا
وہ میرا مطلب ہے کہ آپ نے کہا کہ میرا کچھ نہیں بن سکتا تو میں نے بتایا ہے کہ سوٹ بن رہا ہے میرا زرش جلدی سے وضاحت دیتے ہوئے بولی
زرش کی اس بات پر سب کے قہقے گونجے جبکہ ذوہان نے اپنی مسکراہٹ چھپا کر زرش کو گھورا
جس کا زرش نے کوئی خاطر خواہ اثر لینا ضروری نا سمجھا
تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد
اتنے چپ چاپ کے رستے بھی رہیں گے لا علم
چھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد
میں نے ایسے ہی گنہ تیری جدائی میں کیے
جیسے طوفاں میں کوئی چھوڑ دے گھر شام کے بعد
شام سے پہلے وہ مست اپنی اڑانوں میں رہا
جس کے ہاتھوں میں تھے ٹوٹے ہوئے پر شام کے بعد
رات بیتی تو گنے آبلے اور پھر سوچا
کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد
تو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ
تو کسی روز میرے گھر میں اتر شام کے بعد
لوٹ آئے نہ کسی روز وہ آوارہ مزاج
کھول رکھتے ہیں اسی آس پہ در شام کے بعد
مشال.کلاس لے کر فارغ ہوئی
مشال لائبریری چلیں صبا بولی
ہاں چلو مجھے بھی بک ایشو کروانی ہے
مشال مسکرا کر بولی
مشال اور صبا باتین کرتی ہوئی جارہی تھی کہ مشال کو سامنے زر اور ثنا نظر آئی
وہ دونوں کسی بات پر ہنس رہے تھے
مشال سر جھٹکتے ہوئے دوسری جانب دیکھنے لگی
لیکن پھر سرعت کے ساتھ مڑ کر اس نے زر کی طرف دیکھا
زر کی شرٹ پر ریڈ سپاٹ تھا اس سپاٹ کو تو وہ لمحوں میں پہچان سکتی تھی
مشال جلدی سے زر کی طرگ بھاگی
اور
زر کو دھکا دیا
زر پشت کے بل زمیں پر گرا جبکہ مشال زر کے اوپر
زر تو اس اچانک افتاد پر بوکھلا گیا
مشال یہ کیا بدتمیزی ہے
لیکن اگلے ہی پل وہ مشال کا سرخ پڑتا چہرہ اور آنکھوں میں آنسو دیکھ کر پریشان ہو گیا
مشال کیا ہوا
زر پریشانی سے بولا
جبکہ مشال زر کے کندھے پر سر رکھے آنکھیں موند گئیں
مشال زر نے مشال کو بازو سے پکڑ کر ہلایا
سب لوگ وہاں پر کھڑے حیرت سے مشال اور زر کو دیکھ رہے تھے
اور کچھ لوگ اس کنڈیشن کو انجوائے بھی کررہے تھے
زر مشال کے کمر سے بلڈ نکل رہا ہے ثنا جلدئ سے آگے بڑھ کر بولی
واٹ
زر نے جلدی سے مشال.کو اٹھایا
اور مشال کی کمر کو دیکھا
ساری بات زر کی سمجھ میں آچکی تھی
کسی دشمن کی گولی کا نشانہ مشال نے خود کو بنا لیا تھا
گاڑی نکالو زر ثنا سے بولا
اور
مشال کو بازوؤں مین اٹھا کر باہر کی طرف بڑھا

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: