Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 8

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 8

–**–**–

 

زر اس وقت ہسپتال کے کوریڈور میں کھڑا تھا
سب آچکے تھے بی جان تو مسلسل جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی تھی
جبکہ
لڑکیوں کا تو رو رو کر برا حال تھا
اور
سب مرد زر کو ایسے گھور رہے تھے جیسے اسی نے مشال کو گن کے آگے کھڑا کیا ہو
زر کی شرٹ خون سے بھری تھی زر
جی پاپا
جاؤ اپنی شرٹ چینج کر کے آؤ
لیکن پاپا
زر جاؤ لڑکیاں تمہاری شرٹ دیکھ دیکھ کر زیادہ پریشان ہو رہی ہیں
عمیر صاحب
مروہ لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے
اوکے
زر شیری کے ساتھ گھر آیا
شیری مکلمل طور پر خاموش تھا جیسے چپ کو روزہ رکھا ہو
یار تم بھی مجھ سے ناراض ہو زر شیری سے مخاطب ہوا
اب مشال نے میری جان بچائی ہے تو اس میں میری کیا غلطی ہے زر چڑ کر بولا
جی جی
واقعی میں آپکی غلطی کہا ہے
غلطی تو اس بے وقوف کی ہے جس نے اپنی جان پر کھیل کر آپکی جان بچائی ہے
ہے نا
شیری غصے سے چٹکھتا ہوا بولا
وہ بھی اس کی جس نے اسے ٹھکرا دیا تھا
شیری زہر خند لہجے میں بولا
زر ڈریس چینج کرکے واپس آچکا تھا
کچھ ہی دیر میں آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آیا
سب جلدی سے ڈاکٹر کی طرف بڑھیں
پیشنٹ اب خطرے سے باہر ہیں ہم انہیں روم میں شفٹ کر دیتے ہیں
پھر آپ ان سے مل لیجیے گا
سب کے چہروں سے ایک دم اطیمینان چھلکنے لگا
زر کو تو ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے کسی نے نئی زندگی کی نوید سنا دی ہو
اور آخر خوش کیوں نا ہوتا وہ لڑکی اس سے محبت کرتی ہے
اور
کوئی آپ سے محبت کرتا ہے آپکا خیال رکھتا ہے یہ احساس ہی بہت خوبصورت ہوتا ہے
زر کو محبت نا سہی پر مشال کی محبت سے محبت ہوجانی تھی زر کو خود پر یقین تھا
زر اسوقت ہواؤں مین اڑ رہا تھا
بس اب مشال مانیں یانا مانیں مشال کے ٹھیک ہوتے ہی میں اس سے شادی کر لوں گا
زر خود سے عہد کرتے ہوئے بولا
ﻭﮦ ﮐﻞ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﺗﻬﺎ ﻣﯿﺮﯼ
ﺍﮎ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﺎ
ﺟﻮ ﺑﻬﻮﮐﺎ ﺗﻬﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﺳﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﺎ
ﺟﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﻬﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ
ﮐﺎ ﺗﻢ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﮨﻮ
ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻤﮑﻦ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﻦ ﻣﯿﺮﺍ
ﺍﮎ ﭘﻞ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﮨﻮ
ﺍﺳﯽ ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﻬﻮ ﮐﯿﺎ
ﻣﺠﻪ ﺳﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺩﮮ ﮐﮧ ﻣﺠﻪ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ
ﮐﯽ ﭘﻬﺮ ﺩﻋﺎ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﻧﺌﮯ ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻭﮦ
ﻧﺎﻃﮧ ﺗﻮﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﮐﺒﻬﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﻧﮧ ﺗﻬﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮦ
ﻣﺠﻪ ﮐﻮ ﭼﻬﻮﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ
ﮐﯿﺴﮯ ﺑﻬﻮﻝ ﭘﺎﺅﮞ ﮔﺎ
ﻧﺌﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺳﻨﮓ ﻣﯿﮟ
ﻧﺌﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﺴﺎﺅﮞ ﮔﺎ
ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﻇﻠﻢ ﺳﮧ ﮐﺮ ﺑﻬﯽ
ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺁﮦ ﻧﮑﻠﯽ
ﮐﺒﻬﯽ ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﺑﻬﯽ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﻝ
ﺳﮯ ﯾﮧ ﺩﻋﺎ ﻧﮑﻠﯽ
ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﻣﺠﻪ ﮐﻮ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﻣﯿﺮﯼ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﺰﺍ ﮐﺮ ﺩﯼ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻮ ﯾﺎﺭﺍ ﭼﻠﻮ
ﻣﺠﻪ ﺳﮯ ﺟﻔﺎ ﮐﺮ ﺩﯼ
ﻣﻼ ﺗﻬﺎ ﮐﻞ ﻭﮦ ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ
ﺑﺪﺣﺎﻝ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﻬﺎ
ﮐﺒﻬﯽ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﻬﮍﺍﺗﺎ ﺗﻬﺎ ﮐﺒﻬﯽ
ﺭﻭﺗﺎ ﺳﺴﮑﺘﺎ ﺗﻬﺎ
ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﻬﺎ ﯾﺎﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ ﮐﯿﻮﮞ
ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﮨﻮ ﺗﻢ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﺗﻬﮯ ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺩ
ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﺧﻔﺎ ﮨﻮ ﺗﻢ
ﻟﮕﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮧ ﭘﺎﮔﻞ ﺗﻬﺎ ﻣﻨﮧ ﺗﻢ
ﺳﮯ ﻣﻮﮌ ﺑﯿﭩﻬﺎ ﺗﻬﺎ
ﻭﮦ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣﯿﮟ
ﺗﻢ ﮐﻮ ﭼﻬﻮﮌ ﺑﯿﭩﻬﺎ ﺗﻬﺎ
ﻭﮨﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺟﺲ ﭘﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ
ﺳﺐ ﮐﭽﻪ ﻟﭩﺎ ﺑﯿﭩﻬﺎ
ﻭﮨﯽ ﺍﮎ ﺷﺨﺺ ﺩﻫﻮﮐﺎ ﺩﮮ
ﮐﮧ ﻣﺠﻪ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﺑﯿﭩﻬﺎ
ﺧﺪﺍﺭﺍ ﺑﻬﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ
ﺳﺎﺭﯼ ﺟﻔﺎﺅﮞ ﮐﻮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﯼ
ﺳﺎﺭﯼ ﺧﻄﺎﺅﮞ ﮐﻮ
ﮐﺮﻭ ﺗﻢ ﯾﺎﺩ ﺁﺧﺮﯼ ﭘﻞ ﮐﮩﺎ ﺗﻬﺎ
ﻧﺎ ﮐﮧ ﻣﺖ ﺟﺎﻭ
ﻧﺎ ﻣﺎﺭﻭ ﻣﺠﻪ ﮐﻮ ﺟﯿﺘﮯ ﺟﯽ ﻧﺎ
ﻣﺠﻪ ﮐﻮ ﯾﺎﺭ ﺗﮍﭘﺎﺅ
ﮐﮩﺎ ﺗﻬﺎ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻦ ﻟﻮ ﺗﻮ ﭘﻬﺮ
ﺑﯿﺸﮏ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﻧﺎ
ﺳﻨﺒﻬﻞ ﺟﺎﺅﮞ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﻠﭧ
ﮐﺮ ﭘﻬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﺎ
ﻧﯿﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﮌ ڈﻫﻮﻧڈﻭ ﺗﻢ ﻧﺌﯽ
ﺩﻧﯿﺎ ﺑﺴﺎﺅ ﺗﻢ
ﻭﮦ ﮐﺐ ﮐﺎ ﻣﺮ ﭼﮑﺎ ﺍﺳﮯ
ﺍﺏ ﺑﻬﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﺗﻢ
زرش لان میں بیٹھی ناجانے کس سوچوں میں گم تھی
کہ وہاں زوہان آیا
لیکن زرش متوجہ ناہوئی
ذوہان نے زرش کو متوجہ کرنے کے لئے گلا کھنکھارا
تم.کب آئے زرش ذوہان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولی
اسی وقت جب آپ کسی اور جہان میں پہنچی تھی
زرش نے مسکراتے ہوئے ذوہان کی طرف دیکھا
نیکسٹ کیا پلان ہے ذوہان زرش سے تھوڑا فاصلے پر بیٹھتا ہوا بولا
زرش ملک کوئی بھی کام پلان کرکے نہیں کرتی
پلان کر کے تو سب کام کرتے ہیں
ڈو سم تھنگ ڈیفرینٹ
ذوہان نے زرش کی طرف دیکھتے ہوئے آبرو اچکائی جیسے کہہ رہا ہو سیریسلی
اچھا چھوڑو یہ بتاؤ
سبرینہ کیسی لگی تمہیں
کیا مطلب ذوہان نے پوچھا
مطلب کے خوبصورت ہے
ہے تو مین کیا کر سکتا ہوں
میں کونسا اسکا مقابلہ کروانا ہے ذوہان نے تپ کر جواب دیا
میرا مطلب تھا کہ گرل فرینڈ کے طور پر کیسی رہے گی
آر یو سیریس
ذوہان غصے سے بولا
تو میں مزاق کیوں کروں گی زرش نے الٹا سوال کیا
تو اس کی وجہ میں پوچھ سکتا ہوں
ہمم مجھے لگتا ہے اسکا ڈرگز سیلنگ میں ہاتھ ہے
ایسا تمہیں کس نے کہا ذوہان نے سوال کیا
میں نے کہا نا مجھے لگتا ہے
ہمم تو اب مجھے کیا کرنا ہے
محبت کا ناٹک کرنا ہے اور اس سے سچ اگلوانا ہے
ہمم اوکے ذوہان وہاں سے اٹھ کر چلا گیا.جبکہ زرش پھر سے اپنی سوچوں میں کھو چکی تھی
مشال کو کچھ دیر بعد ہوش آگیا
سب بہت خوش تھے
زر کی تو مانوں پاؤں زمیں پر نہیں ٹک رہے تھے
مشال باری باری سب سے ملی
لیکن
زر کی آنکھوں میں اسے عجیب سی چمک نظر آئی
لیکن وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی
زر کا ارد گرد منڈلانہ اب مشال کو کوفت میں مبتلا کر رہا تھا
اچانک مشال کے مائنڈ میں کچھ کلک ہوا
تو یہ محترم سمجھ رہے ہیں کہ میں ان سے محبت کرتی ہوں
اسلیئے انکی جان بچائی
مشال خود سے بڑبڑائی
مشال.کی زر پر نظر پڑی تو وہ بہت ہی محبت بھری نظروں سے مشال کو تکنے میں مصروف تھا
مشال مسکرائی
زر مجھے تم سے کچھ کہنا ہے مشال مسکرا کر بولی
ہاں بولو
سب لوگ کمرے سے باہر جانے لگے
بڑے پاپا آپ سب کہاں جارہے ہیں مجھے سب کے سامنے بات کرنی ہے
سب مشال.کی طرگ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے
بڑے پاپا مجھے لگ رہا زر بھائی سمجھ رہے ہیں کہ میں ان کے بنا رہ نہیں سکتی
اس لیِے اپنی جان پر کھیل انکی جان بچائی
پر میں تو یہ سوچ کر خود گولی کھائی تھی
کہ ہمارا اکلوتا بھائی ہے
سب لوگوں کے ہونٹوں پر مشال کی بات سن کر مسکراہٹ بکھری جبکہ
زر کو دماغ تو بھائی لفظ پر اٹک گیا
اس سے پہلے کے زر مراقبے سے باہر نکلتا
پولیس آفیسر روم میں آیا
سر ہمیں میم کے بیان لکھنے ہیں پولیس آفیسر مشال.کی طرف اشارہ کرتا ہوا عمیر سے مخاطب ہوا
زرش اور ذوہان اس وقت دوڈ پر چل رہے تھے
لیکن کوئی بھی کہہ نہیں سکتا تھا کہ دونوں ایک ساتھ جارہے ہیں
زرش بلیو جینز کے اوپر وائٹ شرٹ پہنے گلے میں مفرل پہنے پاؤں سینڈل مقید کیے
کندھے پر ہینڈ بیگ لٹکائے بے نیازی سے چل رہی تھی
اسکی یہ بے نیازی بہت سوں کو ٹھٹھکنے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجبور کر رہی تھی یہ سب دیکھ کر ذوہان کا خون کھل رہا تھا
ناجانے اسے کیوں غصہ آرہا تھا جبکہ ثانیہ بھی ایسی ہی ڈریسنگ کرتی تھی
غصہ آنے کے باوجود وہ کچھ کہہ نہیں سکتا تھا
کیونکہ وہ ایسا کوئی حق نہیں رکھتا تھا
اچانک ایک لڑکا زرش سے ٹکرایا
اور بیگ کھینچ کر بھاگنے لگا
زرش نے بیگ کو سٹریپ سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا
وہ لڑکا زرش کے قدموں میں آگرا
وہ پندرہ سے سولہ سال کا ایک ٹین ایج لڑکا تھا
پسماندہ حالت مین پھٹے کپڑے پہنے جوتوں سے بے نیاز پاؤن
ذوہان نے آگے بڑھ کر اس لڑکے کو گریبان سے پکڑا
سب لوگو اس تماشے کو دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے تھے
چھوڑو اسے زرش چیخی ذوہان نے پریشانی سے زرش کی طرف دیکھا
مین نے کہا چھوڑو اسے
ذوہان نے اس لڑکے کو چھوڑ دیا اور کھڑا ہو کر زرش کو دیکھنے لگا
زرش نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکال کر زرش کی طرف بڑھائی
اور خود گھٹنوں کے بل لڑکے کے پاس بیٹھ گئی
لڑکے ایک ہی سانس مین سارا پانی پی گیا
میڈم میرے پاس جوتے نہیں تھے اسلیِے میں نے آپکا بیگ چھیننے کی کوشش کی
لڑکا ڈبڈبائی آنکھوں سے بولا
زرش نے اپنے بیگ میں سے پیسے نکال کر اس لڑکے کی طرف بڑھائے
یہ لو ان پیسوں سے نئے کپڑے اور جوتے لے لینا
پر میڈم یہ تو بہت زیادہ ہیں
کوئی بات نہیں زرش مسکرا کر بولی
اور وہاں سے چل دی
تم نے ایسے ہی اس لڑکے کو اتنت زیادہ پیسے دے دیے ہوسکتا وہ جھوٹ بول رہا ہو
ذوہان غصے سے بولا
زرش نے ایک نظر ذوہان کو دیکھا
اور
واپس لڑکے کی طرف چل دی
ذوہان بھی زرش کے پیچھے ہو لیا
‏پولیس مشال کا بیان لے گئی تھی
مشال نے سب سچ بتا دیا. کہ اس نے زر کی شرٹ پر ریڈ سپاٹ دیکھا تھا
میں نہیں جانتی کے گوکی کس نے چلائی کیوں چلائی
اور کہاں سے چلائی
پولیس کے جانے کے بعد مروہ مشال کے پاس بیٹھ گئی
اس وقت روم مین مشال زر اور مروہ تھے
مشال ویسے بہت غلط کیا تم نے انتہائی احسان فراموش انسان کی جان بچائی
جسے اپنے علاوہ کسی سے محبت نہیں
جبکہ زر آنکھیں پھاڑے مروہ کو دیکھ رہا تھا
کہ
کیا وہ اسی کی بہن ہے
مروہ انسانیت بھی کسی چیز کا نام ہے
اور
وہاں زر کے علاوہ کوئی اور بھی ہوتا تو میں یہی کرتی
مشال کی بات پر مروہ خاموش ہوگئی
جبکہ زر لب بھینچ کر رہ گیا
اے حسن لالہ فام! ذرا آنکھ تو ملا
خالی پڑے ہیں جام، ذرا آنکھ تو ملا
کہتے ہیں آنکھ آنکھ سے ملنا ہے بندگی
دنیا کے چھوڑ کام! ذرا آنکھ تو ملا
کیا وہ نہ آج آئیں گے تاروں کے ساتھ ساتھ؟
تنہائیوں کی شام !ذرا آنکھ تو ملا
یہ جام، یہ سبو، یہ تصور کی چاندنی
ساقی! کہاں مدام! ذرا آنکھ تو ملا
ساقی مجھے بھی چاہیے اک جامِ آرزو
کتنے لگیں گے دام! ذرا آنکھ تو ملا
پامال ہو نہ جائے ستاروں کی آبرو
اے میرے خوش خرام !ذرا آنکھ تو ملا
ہیں راہِ کہکشاں میں ازل سے کھڑےہوئے
ساغر ؔترے غلام !ذرا آنکھ تو ملا
ذوہان یونی کی کینٹین میں ایک ٹیبل پر اکیلا بیٹھا چائے پی رہا تھا
کہ وہان سبرینہ آ گئی
کیا مین یہاں بیٹھ سکتی ہوں سبرینہ چیئر پر بیٹھتی ہوئی بولی
محترمہ اب تو آپ بیٹھ چکی ہیں
ذوہان مسکرا کر بولا
اوہ نائس سینس آف ہیومر
تھینکس مادام
ذوہان سر کو خم دیتا ہوا بولا
آپ یہاں اکیلے کیون بیٹھے ہین سبرینہ نے پوچھا
جی اب ہمارے ساتھ کوئی بیٹھتا نہین تو اکیلے ہی بیٹھیں گے
مین بیٹھون گی نا سبرینہ جلدی سے بولی
مادام یہ تو آپکی نوازش ہیں نا ذوہان مسکرا کر بولا
مائے نیم از سبرینہ
سبرینہ اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولی
بیوٹیفل نیم لائک ایز یو
ذوہان ہاتھ پکڑتے ہوئے مسکرا بولا
ٹھرکی انسان کل کہہ رہا تھا میں کیا کروں اور آج دیکھو کیسے ٹھرک جھاڑ رہا ہے
دوسرے ٹیبل پر بیٹھی زرش ذوہان کی باتیں سن کر بڑبڑائی
مشال سب کے ساتھ گاؤں آگئی تھی
زر بھی ساتھ تھا
نائمہ بھی آرہی ہین عمر صاحب نے بتایا
واؤ مشال خوشی سے بولی
فرحان بھی آرہا ہے ساتھ
زمان کو کچھ کام ہے اس لیے وہ کچھ دن بعد آئے گا
واؤ بہت مزہ آئے گا مشال چہکی
جبکہ زر نے ناگواری سے مشال کی طرف دیکھا
سب ڈرائینگ روم مین بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے
نائمہ آچکی تھی
فرحان اور شیری ساتھ بیٹھے باتین کررہے تھے
جبکہ سب لڑکیان مشال کے روم مین تھی
کیونکہ مشال زیادہ دیر بیٹھ نہیں سکتی تھی
چلو مشال کے روم مین چلیں
شیری فرحان سے بولا
ہاں چلو
جبکہ زر وہیں بیٹھا رہ گیا
زر اُٹھ کر اپنے روم کی طرف چل دیا
زر حیران تھا کیا وہ لڑکی سب کی زندگی میں اتنی خاصیت رکھتی تھی
نائمہ پھوپھو کا بہت چہیتا تھا زر
لیکن اس بار انہوں نے اسے زیادہ لفٹ نہیں کروائی تھی شاید یہ انکی طرف سے ناراضگی کا اظہار تھا
زرش اور ذوہان گھر جارہے تھے مشن کے کمپلیِٹ ہونے تک زرش بھی ذوہان کے اپارٹمںٹ مین شفٹ ہو چکی تھی
کہ اچانک زرش کسی سے ٹکرائی
سوری زرش جلدی سے بولی
زری تم ٹکرانے والا چلایا
جبکہ ذوہان نے تھوڑا حیرانگی سے ٹکرایا
بے وفا لڑکی تم نے تو کہا تھا تم انگلینڈ جارہی ہو
اور پاکستان آکر تم نے ملنا بھی ضروری ناسمجھا
اور وہان جاکر بھی کوئ رابط نہیں کیا
اور یہ جیجو ہین کیا
سامنے والا نان سٹاپ شروع ہو چکا تھا
سوری مین آپکو نہیں جانتی اور نا ہی میں زریں ہوں
زرش ذوہان کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گئی
جبکہ سرمد حیرانگی سے زرش کو دیکھ رہا تھا
زینیا یار یہ زرش تھی نا
ہان ہے تو وہی تھی پر شاید ہو سکتا اس نے اپنے ہسبینڈ کی وجہ سے ایسا بولا ہو
واٹ ربش ہسبینڈ اس نے مجھے اپنی شادی پر بلانا ضروری ناسمجھا
سرمد جل کر بولا
شاید کوئی پرابلم ہو زینیا بولی
شاید
زرش کون تھا وہ ذوہان نے پوچھا
اٹس پرسنل زرش یہ کہہ کر اپنے روم کی طرف بڑھ گئی
اور ہینڈ بیگ بیڈ پر پھینک دیا
اور ؤنڈو کھول کر کھڑی ہو گئی
زرش کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے
اب جب ہم تمہین بھول چکے تھے
تو تمہارا سامنے آنا ضروری تھا کیا
زرش اپنی آنکھون کو رگڑتے ہوئے واشروم کی طرف بڑھ گئی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: