Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 9

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – قسط نمبر 9

–**–**–

 

آج کی رات تو آنکھوں میں ہی کٹنے والی تھی
زرش اور سرمد بچپن سے دوست تھے
لیکن ناجانے یہ دوستی کب زرش کی طرف سے محبت کا روپ دھار گئ
لیکن سرمد نے زرش کو ہمیشہ دوست ہی سمجھا
کیونکہ اسکی پسند زینیا تھی وہ جانتا تھا کہ زرش ملک سرمد سے محبت کرتی ہے پر وہ کیا کرتا اس دل کا جو زینیا ملک کے نام سے دھڑکتا تھا
اسلیِے اس نے زرش سے زینیا کی ملاقات کروائی
تاکہ زرش اس راستے سے ہمیشہ کے لئے ہٹ جائے
لیکن
زرش نے تو سرمد کی زندگی سے ہی ہٹ جانا مناسب سمجھا
بھلا وہ کیسے اپنی مجبت کو کسی اور کے پاس دیکھ سکتی تھی
آرزو ہے وفا کرے کوئی
جی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی
گر مرض ہو دوا کرے کوئی
مرنے والے کا کیا کرے کوئی
کوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیا
اپنے حق میں دعا کرے کوئی
ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیں
میرا مطلب ادا کرے کوئی
چاہ سے آپ کو تو نفرت ہے
مجھ کو چاہے خدا کرے کوئی
اس گلے کو گلہ نہیں کہتے
گر مزے کا گلا کرے کوئی
یہ ملی داد رنج فرقت کی
اور دل کا کہا کرے کوئی
تم سراپا ہو صورت تصویر
تم سے پھر بات کیا کرے کوئی
کہتے ہیں ہم نہیں خدائے کریم
کیوں ہماری خطا کرے کوئی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کو کیا کرے کوئی
اس جفا پر تمہیں تمنا ہے
کہ مری التجا کرے کوئی
منہ لگاتے ہی داغؔ اترایا
لطف ہے پھر جفا کرے کوئی
مشال کا زخم کافی حد تک ٹھیک ہو چکا تھا
لیکن ابھی مکمل مندمل ہونے میں کچھ وقت تھا
اس وقت سب کزنز لان میں بیٹھے خوش گپیون مین مصروف تھے
کہ فرحان دھپ سے آکر مشال کے پاس بیٹھ گیا
مشال
ہوں
یار میں سوچ رہا ہون فرحان سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا
اب بکو بھی
لڑکی تھوڑی تمیز سے بات کیا کرو دو ماہ بڑا ہوں تم سے
اوہ مشال ہونٹوں کو گول گھماتے ہوئے بولی
بکیں بھی مشال معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولی
مشال کی بات پر سب نے قہقہ لگایا جبکہ فرحان بھی کھسیانی ہنسی ہنسنے لگا
یار تم نے کیا کرنا پڑھ کے مجھ سے شادی کر لو
ویسے تو مجھ غریب سے کسی نے کرنی نہیں
مشال نے فرحان کو گھورا
دیکھو یار میں یہ آفر صرف تمہیں کروا رہا ہوں
سوچنا ضرور ایک بار
ہاں مشی سوچنا ساری عمر کے لئے رن مرید مل جائے گا
شیری فرحان کو چڑھاتا ہوا بولا
جبکہ
زر غصے سے آگ بگولہ ہو کر رہ گیا
مشی ویسے اگر فرحان کا پرپوزل پسند نا آئے تو آپ میری طرف بھی نظر ثانی کر سکتی ہیں
شیری کی بات پر ایک بار پھر سے سب کے قہقے گونجے
مس زرش
زرش نے سوالیہ نظروں سے ذوہان کی طرف دیکھا
چیف کا پیغام ہے تین بجے انہوں نے ملنے کو کہا ہے
کہاں پر
چیف کے آفس میں
اوکے تم چلے جانا
واٹ ڈویو مین
تم نہیں جاؤ گی
جاؤ گی میں خود ہی چلی جاؤں گی
اوہ مطلب آپ میرے ساتھ جانا نہیں چاہ رہی
زرش نے کندھے اچکائے
جیسے کہہ رہی ہو جو بھی کہو مجھے فرق نہیں پڑتا
تین بجنے میں ابھی پانچ منٹ تھے اور ذوہان چیف کے آفس کے سامنے کھڑا تھا
کیونکہ چیف صاحب وقت کے بہت پسند تھے اور ابھی انسلٹ کروانے کا اسکا کوئی موڈ نہیں تھا
اچھا یہ زرش بی بی لیٹ ہے انسلٹ ہو گی تو پتا چلے گا ذوہان خود سے ہی مخاطب ہوا
ویسے اسکی میرے سامنے انسلٹ ہو تو دل کو سکون سا مل جائے
ذوہان امیج میں ان زرش کو ڈانٹ کھاتا ہوا دیکھ رہا تھا
ذوہان جیسے ہی اندر داخل ہوا سامنے ہی زرش بیٹھی چیف کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی
آئیے موصوف صاحب
آپ کا ہی انتظار تھا
چیف کی آواز میں طنز شامل تھا
سر میں تو وقت پر آیا ہوں
آپکے تین ابھی بجے ہیں
جبکہ
میرے پاس تو چار بج چکے ہیں چیف کی بات پر زرش نے مسکراہٹ سمیٹی
ذوہان نے وقت دیکھا تو چار بج چکے تھے
ذوہان کے تو مانو سر پر لگی اور تلوؤن بجھی
ذوہان نے مشکوک نظروں سے زرش کو دیکھا
تو زرش کی آنکھوں میں شرارت تھی
سر مجھے لگتا میری کسی دشمن نے میری گھڑی کا ٹائم خراب کر دیا
اس لئے تو میرے ساتھ آنے سے انکار کر دیا
لیکن سر ایجینٹ تو دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا نام ہے زرش جلدی سے بولی
جی بالکل
اوکے اب پوائنٹ کی طرف آتے ہیں چیف صاحب ذوہان کی کلاس لیتے ہوئے بولے
جی سر
ہمارا نیکسٹ مشن صرف تم دونوں کے لئے ہے کیونکہ اس معاملے میں ہم کسی پر یقین نہیں کر سکتے ہمیں بس تم دونوں پر یقین ہے
جی سر دونوں یک زبان ہو کر بولے
لیکن اس مشن کو مکمل کرنے کی ایک شرط ہے
کیا سر
شرط سننے کے بعد دونوں آنکھیں پھاڑے چیف کو دیکھ رہے تھے
لیکن سر یہ کیسے ہو سکتا ہے زرش بولی
فرحان سیٹی بجاتا ہوا ہال میں داخل ہوا
پتر یہ گھر ہے بی جان کرخت آواز میں بولی
جبکہ باقی سب کے قہقے گونجے اور فرحان کی سیٹی گم ہوئی
نانو پیاری نانو
آج میں بہت خوش ہوں اس لئے تو خود بخود سیٹیاں بج رہی ہیں
فرحان جلدی سے خود کو کمپوز کرتا ہوا بی جان کے پاس بیٹھ کر بولا
کیوں کس کو رُلا کے آئے ہو
اب کی بار مشال نے اسکی ٹانگ کھینچی
دیکھ لیں نانو یہ مجھے تنگ کر رہی ہیں
تو بچے وہ کونسا جھوٹ بول رہی ہے اب تم جھوٹ سے تنگ ہورہے ہو تو اس میں کسی کی کیا غلطی اب میں انہیں سچ بولنے سے تو منع نہیں کرسکتی
ہال میں ایک بار پھر سے سب کے دبے دبے قہقے گونجے
نانو
اچھا اچھا بولو کیا بتانا ہے
زمان بھائی آرہے ہیں صبح
صبح نہیں آج اور آ بھی چکے ہیں
سب نے اس آواز پر مڑ کر دیکھا تو سامنے زمان کھڑا تھا
بھیا آپ
ہاں میں
لیکن
میں صبح آنے ولا تھا سوچا تھوڑا سرپرائز ہو جائےاوہ بھیا بہت اچھا سرپرائز تھا
فرحان زمان کے گلے لگ کر بولا
سب باری باری اُٹھ کر زمان سے ملے
مس آپ یہاں زمان مشال کی طرف دیکھ کر بولا
زمان کے یوں کہنے پر سب نے حیرت سے مشال کو دیکھا جبکہ مشال نے نظریں چرائی
بیٹا یہ تمہاری کزن مشال ہے
اوہ
تو آپ مشال ہیں
زمان بولا
جبکہ مشال بامشکل مسکرائی
گم سم لہجہ ,بہکی باتیں
قلم کتابیں, تنہا راتیں ۔۔
کیوں
کیا مسئلہ ہے کیوں نہیں ہو سکتا سر
دیکھیں زرش ملک جب آپ کو ایز آ ایجنٹ ہائر کیا جاتا ہے اس وقت آپ کو بتا دیا جاتا ہے
کہ
آپکی پرسنل.لائف علیحدہ نہیں ہے اور آپ کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف اس ملک اور قوم کی خدمت ہے
ہم جیسا چاہیں آپ.کے لئے فیصلہ لے سکتے ہیں
مسٹر ذوہان آپکو کوئی پرابلم ہے تو آپ بھی بتادیں
نو سر مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے میں تیار ہوں
تو مس زرش ملک آپکے کیا خیال ہیں
سر مجھے تھوڑا وقت چاہیے
سوری مس
اگر آپکو منظور نہیں تو اس لیٹر پر سائن کر دیں
سر اس لیٹر میں کیا ہے
اس لیٹر میں لکھا ہے کہ آپ اپنی پرسنل لائف علیحدہ رکھنا چاہتی ہیں اس لئے آپ ریزائن کر رہی ہیں
زرش نے وہ لیٹر پکڑا اور اس دو ٹکرے کر دے
آئی ایم ریڈی سر
چیف یہ بات سن کر مسکرایا
مجھے امید تھی
بس کچھ ہی وقت لگا تھا زرش ملک کی زندگی بدلنے میں
وہ جو تھوڑی دیر پہلے زرش ملک تھی اب زرش ذوہان بن چکی تھی
یہ اسکی جاب کی ریکوائر مینٹس تھی
زرش یوں ہی گاڑی کو سڑک پر گھما کر اپنے اندر ہی فرسٹریشن کم کر رہی تھی
کوئی دوگھنٹے گزر چکے تھے اب تو اندھیرا بھی چاروں طرف اپنے پر پھیلا چکا تھا
اچانک زرش کا فون بجنے لگا
زرش نے فون دیکھا تو ویمپائر کالنگ لکھا آرہا تھا
زرش نے کال کو اگنور کر کے گاڑی اپائٹمنٹ کی طرف موڑ لی
ہائے مس کیسی ہیں آپ
مشال جو اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی زمان اسکے سامنے آتا ہوا بولا
ممم میں ٹھیک ہوں
ایکچوئیلی میں نے آپکا نام نہیں لیا
مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آپکو مس مشال بولوں یا مس دعا
زمان آئی بروز کو چکاتے ہوئے بولا
اس سے پہلے کے مشال کوئی جواب دیتی وہاں پر فرحان آگیا.
بھیا آپ یہاں میں آپکو آپکے روم میں ڈھونڈ رہا تھا
میں اپنی سویٹ کزن کا حال پوچھنے آگیا تھا
بھائی سویٹ کے ساتھ کیوٹ بھی ہیں
لیکن ایک بات یاد رکھیں یہ آپ کی بھابھی ہیں فرحان شرمانے کی ایکٹینگ کرتے ہوئے بولا
فرحان بکواس نہیں کرو
مشال آنکھیں دکھاتے ہوئے بولی
واہ جی واہ. تم کرو تو صحیح ہم کریں تو بکواس.
بس کزن بہت اچھی جارہی ہوں
فرحان اپنے مصنوعی آنسو پونجھتا ہوا بولا
اوکے کزن بعد میں ملتے ہیں زمان یہ کہہ کر فرحان کو لے کر وہاں سے چلا گیا
جبکہ مشال کو پریشانیوں کے پتال میں چھوڑ گیا
تو مشال اب وہ وقت آگیا ہے جس سے تمہیں ڈر لگتا تھا لیکن ایک نا ایک دن تو ایسا ہونا ہی تھا
عقیدت توڑ آیا ہوں ،،عبادت چھوڑ آیا ہوں ،
محبت میں وفاؤں کی روایت چھوڑ آیا ہوں
کسی نے خواب کے بدلے میں حرمت مانگ لی مجھ سے
میں زندہ آنکھ میں، مرتی وہ حسرت،،،،،، چھوڑ آیا ہوں
یہ ایسے زخم تھے مجھکو جو اپنی جا ں سے پیارے تھے
سدا رستے رہیں ،،،،،،،،،،،،،، بھرنے کی نیت چھوڑ آیا ہوں
خودی کو بیچ دیتا تو مسرت مل بھی سکتی تھی
اٹھا کے درد کی گٹھڑی میں،، راحت چھوڑ آیا ہوں
لگی تھی آگ جب دل میں تو دامن کو بچاتا کیا
بہت انمول رشتوں کی بھی قربت چھوڑ آیا ہوں
کبھی ایسا بھی تھا اس کی مجھکو ضرورت تھی
مگر رو رو منانے کی،،،،،،، وہ عادت چھوڑ آیا ہو
۔
زرش دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو سامنے
ذوہان ثانیہ احمر اور اسفند بھی موجود تھے
زرش نے ایک نظر سب کو دیکھا
اور
روم کی طرف بڑھ گئی
لیکن پھر واپس آکر سب کے ساتھ بیٹھ گئی
اسفند کیا نیوز ہے
میم وہ اس جمعے کو ڈرگز امپورٹ کر رہے ہیں
اب کی بار زرش نے سوالیہ نظروں سے ثانیہ کی طرف دیکھا
میم وہاں ایک لڑکی زینیا ملک ہے مجھے اس پر شک ہے کہ وہ لڑکیاں کڈنیپ کرواتی ہے
صرف شک ہے
میم میری اس سے بہت اچھی دوستی ہو چکی ہے اور کل میں اس کے ساتھ اس کے گھر جارہی ہوں اس نے خود دعوت دی تھی اپنا فون دو
زرش نے ثانیہ کا فون پکڑ کر اس کے ساتھ کچھ چھیڑ چھاڑ کی اور واپس ثانیہ کی طرف بڑھا دیا
اب کی بار زرش نے احمر کی طرف دیکھا
احمر نے ذوہان کی طرف دیکھا
زرش نے بھی ذوہان کی طرف دیکھا
سبرینہ کا باپ ایک بزنس مین ہے بقول سبرینہ
لیکن وہ لڑکیوں کو بزنس کرتا ہے اور سبرینہ کو بھی یہ کام بہت پسند ہے
وہ مجھ پر ٹرسٹ کرنے لگی ہے
لیکن
اَبھی مجھے اسکے اڈے کا پتہ نہیں چلا
لیکن اس نے اپنے اڈے پر لے کے جانے کا وعدہ کیا ہے
ہمم زرش بالکل نارمل بی ہیو کررہی تھی
جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو
اوکے
سی یو ٹو مارو
گڈ نائٹ ود سویٹ ڈریمز زرش یہ کہتے ہوئے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی
زرش کے اٹھنے کے کچھ دیر بعد ذوہان بھی اپنے روم کی طرف بڑھ گیا
ہائے کیا ٹکر کی ملی ہے بھائی کو میں مرجا
اسفند بھر پور ڈرامائی انداز میں بولا
فکر نا کرو تمہیں بھی ٹکر کی لا کر دیں گے
اسفند کے ہیچھے سے زرش کی آواز آئی
اسفند نے پیچھے مڑ کر دیکھا
سسس سوری بھابھی
بھابھی کس کو بولا
ممم میرا مطلب سوری میم
ہوں زرش واپس اپنے روم کی طرف بڑھ گئی
زرش کے وہاں سے جاتے ہی اسفند کا رکا ہوا سانس باہر نکلاجبکہ ثانیہ اور احمر کے قہقہے گونجے

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: