Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Last Episode 13

0

عشق دے گنجل از مریم دستگیر – آخری قسط نمبر 13

–**–**–

 

کچھ ماہ بعد
وقت کا کام ہے گزرنا
وہ گزرتا ہی چلا جاتا ہے کسی کیلئے رکتا نہیں ہے
یار اسمارہ پلیز نا نہیں جاؤ ابھی
میں کیسے رہوں گا تمہارے بنا زر اسمارہ کو پیکنگ کرتے دیکھ کر بولا
زر میں نے پہلے دن تمہیں بتایا تھا کہ ہماری زندگی ایسی ہی ہے
آج ہیں تو کل نہیں
آج یہاں ہیں تو کل ناجانے کہاں
ہمیں اپنی زندگی مین لانے کیلئے بہت بڑے دل کئ ضرورت ہوتی ہے
بی آ مین
تو یار مجھے بھی ساتھ لے چلو
دیکھو زر صرف دو ہفتوں کی بات ہے
اور
میں تمہیں وہاں نہیں لے کے جاسکتی
کیونکہ تمہاری وجہ سے میں اپنے فرض میں کوتاہی نہیں کرسکتی
پر اسمارہ میں کیسے رہوں گا تمہارے بنا
زر جیسے پہلے رہتے تھے
پر پہلے کی اور اب کی بات اور ہے
یہ بولتے ہوئے اسمارہ واشروم میں گھس گئی
تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی
تو بلیک پینٹ اور بلیک کوٹ میں ملبوس تھی
بالوں کو اچھی طرح کور کرکے اوپر کیپ لے رکھی تھی
وہ کسی بھی اینگل سے لڑکی نہین لگ رہی تھی
دیکھنے والون کو لڑکے کا ہی گمان ہوتا
اسمارہ نے ایک نظر اپنے روٹھے شوہر کو دیکھا
اور پاس آکر بیٹھ گئی
زر کیا تم مجھے دعاؤن کی بجائے ایسے رخصت کرو گے
مجھے تمہاری دعاؤن کی ضرورت ہے
اور مشن کے ختم ہوتے ہی مین لوٹ آؤں گی
مجھے آج ایسے لگ رہا کہ تم میری شوہر اور مین تمہاری بیوی
زر ہی بات پر اسمارہ کا قہقہ گونجا
اور سیریسلی تم اس وقت ٹیپیکل بیویوں کی طرح بی ہیو کر رہے ہو
اور خود تم اس وقت ٹیپیکل کھڑوس فوجی
زر جل کر بولا
اسمارہ ہنس کر زر کے کشادہ سینے سے لگ گئی
اور پھر ایک جھٹک سے اٹھ کر بیگ اٹھا کر باہر نکل گئ
کیونکہ وہ خود بھی کمزور پڑ رہی تھی
اور اب مزید کمزور نہیں ہونا چاہتی تھی
ہر کام سے پہلے اسے اپنا فرض پورا کرنا تھا
میں جب بھی اس سے کہتا ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
وہ مجھ سے پوچھتی ہے کہ
بتاؤ نا! کہ کتنی ہے؟
میں بازو کھول کر کہتا ہوں کہ
زمیں سے آسماں تک ہے
فلک کی کہکشاں تک ہے
میرے دل سے تیرے دل تک
مکاں سے لا مکاں تک ہے
وہ کہتی ھے، کہ بس اتنی!!!
میں کہتا ھوں
یہ بہتی ھے
لہو کی تیز حدت میں
میرے جذبوں کی شدت میں
تیرے امکاں کی حسرت کی
میرے وجداں کی جدت میں
وہ کہتی ہے
نہیں کافی ابھی تک یہ
میں کہتا ہوں
ہوا کی سرسراہٹ ہے
تیرے قدموں کی آھٹ ہے
کسی شب کے کسی پل میں
مجسم کھنکھناہٹ ہے
وہ کہتی ہے یہ کیسے محسوس ہوتی ھے؟؟
میں کہتا ہوں
چمکتی دھوپ کی مانند
بلوریں سوت کی مانند
صبح کی شبنمی رت میں
لہکتی کوک کی مانند
وہ کہتی ھے
مجھے بہکاوے دیتے ہو؟
مجھے سچ سچ بتاؤ نا
مجھے تم چاھتے بھی ہو
یا بس بہلاوے دیتے ہو؟
میں کہتا ہوں
مجھے تم سے محبت ہے
کہ جیسے پنچھی پر کھولے
ہوا کے دوش پر جھولے
کہ جیسے برف پگھلے اور
جیسے موتیا پھولے
وہ کہتی ھے
مجھے الو بناتے ہو!!
مجھے اتنا کیوں چاہتے ھو؟
میں اس سے پوچھتا ہوں اب
تمھیں مجھ سے محبت ہے؟
بتاؤ نا کہ، کتنی ہے
وہ بازو کھول کے
مجھ سے لپٹ کے
جھوم جاتی ہے
میری آنکھوں کو کر کے بند
مجھ کو چوم جاتی ھے
دکھا کے مجھ کو وہ چٹکی
دھیرے سے مسکراتی ھے
میرے کانوں میں کہتی ھے
فقط اتنی
بس اتنی سی…
زرش اور ذوہان بھی اچھی زندگی گزار رہے تھے
اور اب محبت بھی انکے درمیان اپنے پھن پھیلا چکی تھی
ذوہان آپ نے اپنی پیکنگ کر لی
زرش نے پوچھا
ہاں یار
اچھا پھر بازار چلین مجھے کچھ چیزیں خریدنی ہیں
صرف کچھ نا ذوہان نے کچھ لفظ پر زور دہا
ہاں بابا کچھ ہی
تمہارے کچھ چیزوں کے چکر مین میری پوری تنخواہ نکل جاتی ہے
قسم سے انتہائی کنجوس ہین آپ
کنجوس نہین ہوں بیگم پر اپنی جیب بھی تو دیکھنی پڑتی ہے
بھائی میرے لئے بھی لے آئیے گا اسفند چلایا
کیا ذوہان نے پوچھا
ایک عدد بیگم
اسفند کی بات پر زرش اور ذوہان دونون نے مڑ کر اسفند کو دیکھا
دیکھیں نا بھائی آپکی بھی بیگم ہے احمر بھی اپنی بیگم کے ساتھ مصروف رہتا ہے
تو میری بھی اگر ایک عدد بیگم آجائین گی
تو مین بھی مصروف ہوجاؤن گا
تمہارا تو واقعی مین کچھ کرنا ہی پڑے گا
زرش ہنس کربولی
یار اب بس کرو مین تھگ گیا
ذوہان کوئی پانچویں بار بولا
پر
زرش کی شاپنگ ختم ہونے کا نام نہین لے رہی تھی
ہائے زرش کوئی گرمجوشی سے بولا
زرش نے آواز کی سمت میں دیکھا
تو سرمد تھا
زرش مسکرا کر سرمد کی طرف بڑھی
کیسے ہو
میں ٹھیک تم بتاؤ
مین ٹھیک
میٹ ود مائے ہسبیںڈ زرش ذوہان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
ہیلو سر
ہیلو ذوہان نےمسکرا کر سرمد سے ہاتھ ملایا
ارینج میرج یا لو میرج سرمد نے پوچھا
لو میرج آفٹر ارینج میرج
ذوہان کےبولنے سے پہلے زرش بولی
اور ذوہان زرش کی بات پر اندر تک سرشار ہوگیا
آج اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے اپنی محبت کا صلہ مل گیا ہو
اوکے پھر ملین گے ابھی ہمیں ضروری کام ہے زرش مسکرا کر بولی
اوکے سرمد بولا
آج زمان اور مشال کی شادی تھی
سب موجود تھے سوائے اسمارہ کے
سب اسمارہ کے بارے میں زر سے پوچھ رہے تھے پر زر کو خود خبر نہین تھی زر کسی کو کیا بتاتا
مہندی بخیروعافیت گزر چکی تھی
سب خوش تھے
بس زر کو کسی کی کمی کا احساس تھا
اور
یہ کمی کمی ہی رہی
کیونکہ اسمارہ کے آنے کی ابھی کوئی خیر خبر نہییں تھی
اسمارہ دو ہفتوں کا وعدہ کرکے گئی تھی
پر آج تین ہفتے گزر چکے تھے
وہ تو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ اسکی اسمارہ زندہ بھی ہے یانہیں
انہی سوچوں میں ناجانے کب اسکی آنکھ لگ گئی
رات کے ناجانے کونسے پہر زر کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے پہلوں مین کسی وجود کا احساس ہوا
آج زر کو بچپن مین سنی سب چڑیلوں کی کہانیاں یاد آگئی
کہ
کیسے چڑیلیں خوبصورت مردوں پر عاشق ہوجاتی ہیں
اور پھر انکو اپنی دنیا مین لے جاتی ہیں
زر کچھ دیر ایسے ہی لیٹا رہا اور پھر ہمت کرلے موبائل کی لائٹ آن کی
اور ساتھ پڑے وجود کو دیکھ کے وہ ساکت ہو گیا
اور پھر ہوش مین آتے ہی اس وجود کو کسی قیمتی متاع کی طرح اپنی پناہوں میں چھپا لیا
صبح سب خوش تھے آج تو زر بھی چہک رہا تھا
زمان اور مشال کے نکاح کے ساتھ پروا اور شیری کی بھی منگنی ہو گئی
ذوہان آگے بڑھا اور مائیک لے کر بولا
بی جان میں اپنے بھائی اسفند کے لئے آپکی پوتی مروہ کو ہاتھ مانگنا چاہ رہا ہوں
کیونکہ وہ اسفند کی آنکھوں میں مروہ کیلئے پسندیدگی دیکھ چکا تھا
بی جان اسمارہ کے سامنے اسفند کی زندگی کھلی کتاب کی طرح ہے
کچھ دیر بعد بڑوں کی گفتگو کے بعد مروہ اور اسفند کا نکاح بھی طے پاگیا
بھائی ایک منٹ رکیے
اسفند اسٹیج پر آکر بولا
سب نے حیرانگی سے اسفند کی طرف دیکھا
بھائی مجھے صرف لڑکی کا ہاتھ نہیں چاہیے پوری کی پوری لڑکی چاہیے
اسفند کی بات پر ذوہان نے اسفند کا کان مڑوڑا اور باقی سب کے قہقے گونجے
ارے بھائی رکے صاحب چونکہ محفل گرم ہیں
اور اتنی خوشیاں بانٹی جارہی ہے
تو ہم بھی ایک اور خوشی کا اعلان کردیں
سب نے سوالیہ نظروں سے آئمہ بیگم کی طرف دیکھا
میں نے سوچا ہے کہ سب کی منگنیاں اور نکاح ہورہے ہیں
تو
ایک میرا بیٹا سب کو حسرت کی نگاہ سے کیوں دیکھیں
میں فرحان اور عروہ کی منگنی بھی آج ہی کرناچاہتی ہوں
سب نے مسکرا کر اس کار خیر میں حصہ ڈالا
یوں ایک ہنستی مسکراتی شام اپنے اختتام پر پہنچی
اور
سب ایک نئی اور نئی زندگی کا آغاز آج کے سورج کے ساتھ کر چکے تھے
اب ہر طرف صرف خوشیوں کی چہکار تھی

 

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: