Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 1

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 1

–**–**–

وہ ٹریڈمل پے دوڑتا ساتھ ساتھ ماتھے پر آئے پسینے کو گلے میں لٹکے تولیے سے پونچھتا گھڑی کو ایک نظر دیکھتا۔۔پھر ٹریڈمل کو بند کرتا نیچے اترا۔ ۔۔۔۔
شیشے کے بنے سلائیڈ ڈور کو کھولتا باہر نکلتا اپنے بیڈروم کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔۔۔
بیڈروم کا ڈور کھولتا اندر گیا۔ ۔۔۔۔ ڈریسنگ روم سے استری شدہ کپڑے لے کر واشروم چلا گیا۔۔۔ دس پندرہ منٹ بعد گیلے بال تولیے سے رگڑتا باہر نکلا ۔۔۔
صوفے پر تولیہ اچھالتا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا اپنے بالوں کو بررش سے سیٹ کرنے لگا۔۔۔ جب دروازہ نوک ہوا۔۔۔۔
کم ان۔۔۔۔ بھاری رعب دار آواز یکدم پورے کمرے میں گونجی۔۔۔ باہر کھڑا ملازم جھرجھری لے کر اندر آیا۔۔۔
السلام عليكم صاحب آپ کا ناشتے پر انتظار ہو رہا ہے۔۔۔۔ملازم سر جھکا کر بولا۔۔۔۔ ٹھیک ہے آرہا ہوں۔.
چند سیکنڈ کے لئے رک کر اسے جواب دیتا وہ واپس اپنے کام میں لگ گیا۔۔
جب کے ملازم کشمکش میں ہاتھ باندھے کھڑا رہا کے جائے یا اس سے اجازت مانگے۔۔۔
جاؤ۔۔۔۔ایک بار پھر کمرے میں اسکی آواز گھونجی۔۔۔ ملازم شکر کرتا جلدی سے باہر نکلا۔.
یہ ہے۔۔۔۔۔رزم ارمغان مرزا۔۔۔۔۔۔ارمغان مرزا کا بڑا بیٹا۔۔۔
ارمغان مرزا شہر کے مشہور بزنس ٹیکون ہیں
جسے مل کر ان کا بڑا بیٹا چلا رہا تھا۔۔۔۔
رزم ارمغان مرزا جس کی شخصیت میں ایک رعب تھا جو سنجیدہ غصے کا تیز۔۔۔ جس سے ہر کوئی بات کرتے وقت گھبراتا تھا
سوائے اسکے ماں باپ کے۔۔۔ رزم جتنا بھی غصے کا تیز سہی مگر اپنے ماں باپ کا لاڈلا تھا یہی وجہ تھی وہ انکے ساتھ بلکل چھوٹے بچے کی طرح تھا۔۔۔۔
اپنے بہن بھائیوں سے بھی اسکا رویہ زیادہ فریندلی نہیں تھا مگر اپنے بہن بھائیوں سے بہت پیار کرتا تھا۔۔
دیکھنے میں شہزادہ لگتا تھا۔۔۔۔۔۔لڑکیاں مرتی تھیں اس پر مگر کسی کی ہمت نا ہوتی تھی اس سے بات کرنے کی ۔۔
وہ تھا ہی ایسا۔۔۔۔ گورا رنگ۔۔۔۔مضبوط کسرتی جسم۔۔۔چوڑے شانے۔۔۔۔ چھ فٹ سے نکلتا قد۔۔۔۔ گہری کالی آنکھیں جن میں ذہانت کی چمک کے ساتھ ایک سرد پن بھی تھا۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
اسلام آباد کے پوش علاقے میں افنان ملک کا چھوٹا مگر خوبصورت سا بنگلہ تھا۔۔۔۔
افنان ملک کا اپنا امپورٹ اور ایکسپورٹ کا کاروبار تھا۔۔۔۔
نورین افنان جن سے انکی پسند کی شادی ہوئی تھی۔۔۔۔وہ ہاؤس وائف تھیں۔۔۔۔ انکے تین بچے تھے دو بیٹے اور ایک ہی بیٹی۔۔۔۔۔
ایک نائن میں اور دوسرا پانچوی جماعت کا طالب علم تھا۔۔۔۔۔جب کے سب سے بڑی بیٹی وشہ افنان فرسٹ ایئر میں تھی۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ افنان جو کے ایک خوبصورت نازک سی لڑکی تھی۔بیس سال عمر۔۔،۔ درمیانہ قد ۔۔۔ گوری رنگت۔۔۔۔۔۔ قدرتی سرخ ہونٹ۔۔۔گہری کالی آنکھیں اور کمر تک آتے گھنے بال
جنہیں وہ ہمیشہ اونچی پونی ٹیل بنا کر رکھتی تھی۔۔۔
میک اپ سے پاک چہرہ اسے دوسری لڑکیوں سے بہت خاص بناتا تھا
وشہ افنان ایک نرم دل کی لڑکی ہے۔۔۔۔ ہر کسی کی مدد کو ہر وقت تیار ریتی تھی۔۔ اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر شرارتیں کرتی۔۔
بچوں کی طرح بھائیوں سے لڑتی بعد میں افنان صاحب سے ڈانت بھی ان دونوں کو ہی پڑتی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ لاڈلی بیٹی جو تھی۔۔۔۔
یہی کہ کر دونوں بھائیوں کو چڑاتی تھی اور وہ چڑ بھی جاتے تھے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ آپی چلیں کونے والا جو بنگلہ ہے نہ میں ابھی دیکھ کر آرہا ہوں ۔۔۔ سب شاید کہیں گئے ہیں چوکیدار بھی ابھی گیٹ پر نہیں ہے . جلدی اٹھیں ہم امرود توڑ کر لاتے ہیں
وشہ جو لیپ ٹاپ پر ہارر مووی دیکھ رہی تھی حنّان کے دھاڑ سے دروزہ کھول کر آنے سے ڈر کر اچھل گئی۔۔۔
افففف!!! اللہ خیر۔۔۔‎ کیا بدتمیزی ہے کبھی تو انسانوں کی طرح نوک کر کے آیا کرو ہر وقت جنگلی حرکتیں کرتے ہو۔۔۔
وشہ اسکی بات کو نظر انداز کرتی تپ کر بولی جو اپنی ہی ہانک رہا تھا۔۔۔
بعد میں ڈانٹ لیجئے گا ابھی چلیں۔۔۔ حنان نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑا ور باہر لیجانے لگا۔۔۔
روک جاؤ مجھے چپپل تو پہننے دو جذباتی۔۔۔ جب تک تم چھوٹے بلے کو بلا کر لاؤ ۔۔۔وشہ ہاتھ چھڑوا کر حکم صادر کرتی چلی گئی۔۔۔۔
پیچھے وہ بھی ضامن کو بلانے بھاگا۔۔۔۔
^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^^
تینوں گیٹ سے قدرے دور کھڑے تھے۔۔۔۔۔یہ بنگلہ کم محل زیادہ لگتا تھا۔۔،۔سوسائیٹی کا سب سے بڑا بنگلہ ہی یہی تھا۔ ۔۔۔
جہاں کوئی نہیں رہتا تھا سوائے گارڈ اور اسکی فیملی کے ۔۔۔۔۔مگر کچھ دن پہلے ہی یہاں نئی فیملی آئی تھی کافی امیر فیملی تھی۔
اتنی معلومات بھی اسے حنان سے ہی پتہ چلی تھیں۔۔۔۔
کئی دفع وہ تینوں بہن بھائی خاموشی سے امرود توڑنےیہاں آچکے ہیں ۔۔۔۔۔۔دونوں بھائی اندر کود جاتے تھے
جب کے وشہ باہر کھڑی اپنے بھائیوں کا پہرا دیتی تھی۔ ۔۔۔۔
دوپہر کا وقت تھا اس لئے جگہ بلکل سنسان تھی ورنہ اکا دکا لوگ چلتے پھرتے نظر آجاتے تھے۔۔۔۔۔
تینوں دبے قدموں کھلے گیٹ سے اندر گئے۔دائیں بائیں لان تھا بائیں جانب لان کے بیچ وبیچ بڑا سا فوارا بنایا گیا تھا
جس میں آبشار کی طرح پانی گر رہا تھا۔۔۔ دائیں جانب دیکھیں تو بہت خوبصورت سا باغیچہ بنایا گیا تھا
جہاں پھول ہی پھول تھے وشہ ویسے ہی پھولوں کی دیوانی تھی خاص کر گلاب اور موتیے کی۔۔۔۔
وہ وہیں کھڑی بس باغیچے کو دیکھنے میں محو ہو گئی تھی۔ جیسے قدرت کی ہر چیز کو آنکھوں میں قید کر لے گی۔۔۔۔
آپی چلیں کہیں چوکیدار نہ آجائے۔۔۔ حنان اسکا ہاتھ کھچتا ہوا بولا۔،وشہ کا دل کیا وہ وہیں رہ جائے یا سب ساتھ لے جائے
حنّان میرے بھائی ایک کام کرو تم دونوں امرود توڑو۔۔
جب تک میں باغیچہ دیکھ کر آتی ہوں پلیز ۔۔۔۔۔وشہ مسکین شکل بنا کر بولی ۔
حنان اوکے کہتا ضامن کو لے کر دوسری طرف چلا گیا۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ چلتی ہوئی پھولوں کے قریب پوھنچ گئی ۔۔ نرمی سے اپنی گلابی مخروطی انگلیوں سے پھولوں کو چھونے لگی
یہ جانے بغیر کے کوئی اسے نظروں کے زریے دل میں اتار رہا تھا۔۔۔۔۔۔اس کی نظروں میں ایک جنونیت سی چھانے لگی تھی۔
وشہ کو اپنی پشت پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی۔۔ پلٹنے ہی لگی تھی جب اسے اپنی پشت سے بھاری سرد آواز سنائی دی
کون ہو تم ؟؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: