Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 10

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 10

–**–**–

رزم مسکرا کر اندر بڑھنے لگا جب پیچھے وشہ کے درد سے کراہنے کی آواز سنتا تیزی سے اسکے قریب آیا۔۔۔
کیا ہوا تم ٹھیک ہو ؟
تھوڑا درد ہو رہا ہے۔۔۔رزم کے پوچھنے پر وشہ منہ بنا کر بتانے لگی جیسے اس میں رزم کی غلطی ہو۔۔۔
رزم نے مسکرا کر دھیرے سے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔ تمہارا علاج ابھی کر دیتا ہوں
رزم نے کہتے ساتھ لان میں رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھایا۔۔۔ خود اسکے پاس دوزانوں بیٹھ کر پیر پکڑ کر زور سے موڑا ۔۔۔
وشہ جو ڈر کر آنکھیں میچیے ہوئے تھی یکدم سارا درد ختم ہونے پر پٹ سے آنکھیں کھولیں
وشہ نے حیرت سے آنکھیں کھول کر پہلے اسے پھر اپنے پیر کو دیکھا جہاں درد تھا ہی نہیں۔۔۔
یہ یہ کیسے کیا۔۔۔۔وشہ ابھی تک حیران تھی۔۔۔۔رزم نے اسے دیکھا۔۔
جادو سے۔۔۔رزم مذاق سے کہتا مسکرا کر کھڑا ہو گیا
وشہ بھی جھٹ کھڑی ہوئی۔۔۔حیرت تھی درد غائب وشہ ابھی تک حیران تھی۔۔۔
رزم گہری سانس لے کر اسکے قریب ہوا۔۔۔۔پھر اسکے گال کو اپنے انگوٹھے سے سہلانے لگا۔۔۔اتنا مت سوچا کرو۔۔
وشہ کو اسکی آنکھوں کا رنگ بدلتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔
آپی!! اس سے پہلے وشہ کچھ کہتی ضامن پھر بھاگتا ہوا انکے قریب آیا۔۔۔رزم تیزی سے پیچھے ہوا.
وشہ سر جھٹک کر اپنے بھائی کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ جو بلانے آیا تھا۔۔۔ضامن پیغام دے کر واپس چلا گیا۔۔۔۔۔
وشہ نے جاتے جاتے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔۔۔ چلیں
رزم مسکرا کر اسکے قریب آیا پھر ہاتھ تھام کر اندر جانے لگا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رات کے وقت ان کی واپسی ہوئی۔۔۔۔ کھانا بھی آج افنان ہاؤس پر ہی کھایا گیا تھا۔۔۔۔
رزم اتے ساتھ ہی روم میں گیا۔۔۔۔جب دروازہ نوک کر کے آرا اور زیاف دونوں اندر آئے۔۔۔
کیا بات ہے۔۔۔ “کچھ بتانا ہے آپ کو۔۔ زیاف سنجیدگی سے بولتا قریب آیا ۔۔۔
وشہ کے روم میں کل کوئی تھا زیاف کی بات پر رزم چونکا۔۔۔ کیا مطلب؟
مطلب یہ کسی نے وشہ کو نقصان پوھنچانے کے لئے پنکھا گرایا۔۔۔۔مگر وشہ کی پھرتی نے اسے بچا لیا۔۔۔
رزم کی آنکھوں نے یکدم رنگ بدلہ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے کوئی ہمارا دشمن ہی آیا ہے اور آپ تو بہت اچھے سے جانتے ہیں ہمارا ایک ہی دشمن ہے۔۔
زیاف کے کہنے پر رزم کی آنکھیں لہو رنگ ہوگئیں۔۔۔ کاھل ۔۔۔۔ سرسراتی آواز روم میں گونجی۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ بال بنا کر بیڈ پر لیٹی۔۔۔۔ جب یکدوں لائیٹ چلی گئی وشہ اٹھ بیٹھی۔۔۔ اففف کیا مصیبت ہے۔۔۔۔ بڑبڑا کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا۔۔۔۔
جنریٹر ابھی چل جائے گا یہ سوچ کر موبائل لیکر دوبارہ لیٹ گئی۔۔۔۔ واٹس ایپ اوپن کر کے رزم کو میسج کرنے کا سوچ ہی رہی تھی جب موبائل اوف ہوگیا۔۔۔
اسے کیا ہوگیا اب۔۔۔ جھنجھلا کر موبائل کے سائیڈ کے بٹن پریس کرنے لگی۔۔۔
جب زور سے کسی نے اسکے بال مٹھی میں لے کر پیچھے کی جانب کھنچے۔۔ وشہ چیخیتی اس سے پہلے ہی
کسی نے وشہ کو بیڈ پر گرا کر تکیہ منہ پر رکھ دیا۔۔۔۔۔
اسکی چیخیں اندر ہی دب کر رہ گئیں۔۔۔وشہ کی سانس اکھڑنے لگی ہاتھ پاؤں مار رہی تھی
یکن چھڑوا نہیں پارہی تھی ۔۔۔ یکدم اسکا موبائل روشن ہوکر رزم کے نمبر پر کال جانے لگی۔۔۔
رزم جو روم میں غصے سے ٹہل رہا تھا کال انے پر تیزی سے موبائیل اٹھایا۔۔۔
سکرین پر انجان نمبر اتا دیکھا تو سمجھ گیا وشہ ہوگی
مگر اسے محسوس ہو رہا تھا کچھ غلط ہو رہا ہے ۔۔
تیزی سے کال پک کی دوسری جانب وشہ کے خوف سے کانپتی آواز اور تیز سانسوں کی آواز آئی۔۔۔
رزم نے موبائیل پھنکا اور تیزی سے باہر نکلا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم کے موبائل پک کرنے پر دوسری طرف وشہ کے چہرے سے تکیہ اسکے منہ سے ہٹ گیا.۔۔۔
کمرہ بھی روشن ہوگیا۔۔۔
وشہ پسینے سے شرابور تیز تیز سانس لے رہی تھی جب بالکنی کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔۔۔
وشہ کو لگا کوئی بالکنی سے اسکے روم میں آیا تھا۔۔۔
وشہ رونے لگی پتہ نہیں کون تھا کس نیت سے آیا تھا۔۔۔۔یہ سوچ آتے ہی وہ لرز گئی۔۔۔ تیزی سے دوپٹہ اوڑھتی باہر نکلی۔۔۔
اس وقت تو سب سو گئے ہونگے۔۔۔۔ وشہ کو گھبراہٹ ہونے لگی تو لان میں آ گئی۔۔۔۔ لان کی ایک ہی لائیٹ اون کی ہوئی تھی
باقی چاند کی چاندنی ہر سو پھلی ہوئی تھی۔۔۔۔ وشہ کو تھوڑا سکون ملا
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ اندر جانے لگی جب کوئی کار گیٹ سے اندر آئی۔۔۔۔
وشہ کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ دوڑگئی۔۔۔۔
رزم کار روک کر اسے دیکھ کر تیزی سے اسکے قریب آیا خود پر کنٹرول کر کے سلام کیا۔۔
وعلیکم اسلام آپ اس وقت خیریت؟ ہاں وہ میں۔۔۔رزم اپنی گردن سہلاتا کوئی بہانا ڈھونڈ رہا تھا
جب وشہ ہنس دی۔۔ ہاہاہا. جب آرہے تھے تو کوئی بہانہ سوچ کر آتے۔۔ وشہ کی بات سن کر رزم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
ہمم اوکے میں تم سے ملنے آیا تھا۔۔۔رزم نے لمبی سانس لیکر اسے سچ کہ ہی دیا۔۔۔
وشہ شرم سے سرخ پڑھ گئی۔۔۔ کھڑوس کو میری یاد آرہی تھی۔۔ وشہ کے منہ سے بےساختہ نکلا رزم کے گھور کر دیکھنے پر وشہ نے زبان دانتوں تلے دبا لی۔۔۔
رزم ایک دم قریب آیا۔۔۔ جھک کے اسکے کان کے پاس ہلکی آواز میں بولا۔۔۔ اگر میں کہوں ہاں پھر۔۔۔۔ وشہ کی دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔۔۔
رزم نے اسکے گرد ہاتھ لیجا کر تھوڑا اور قریب کیا۔۔۔یکدم اسکی آنکھوں لال انگارہ ہوگئیں۔۔۔۔۔ کوئی آیا تھا جس نے اسے ہرٹ کرنے کی کوشش کی۔۔۔
رزم نے خود پر ضبط کیا پھر پیچھے ہوکر سرگوشی میں بولا۔۔وشہ ادھر دیکھو۔۔۔ عجب لہجہ تھا اسکا۔۔۔
وشہ جیسے کسی ٹرانس میں چلی گئی سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ کچھ ہوا ہے۔۔۔ دوسرے ہاتھ سے اسکے گال کو سہلا کر بولا۔۔وشہ نے صرف اثباب میں سر ہلایا۔۔۔
رزم کو یقین ہوگیا کوئی آیا ہے جو وشہ کو نقصان پوچھنا کر اسے تکلیف دینا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔ مگر وہ بھول گیا ہے
رزم ازمغان مرزا سے پنگا لینا اپنی موت کو دعوت دینے کے متعارف تھا
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم وشہ سے مل کر گھر آیا لاؤنج میں ہی زیاف اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔رزم کو آتا دیکھ تیزی سے اسکے قریب پونھچا۔۔
تمہارا شک سہی ہے۔۔۔اچھا کیا جو کل تم روم دیکھ آئے۔۔۔
رزم سپاٹ چہرے کے ساتھ بولا۔۔۔
مگر وہ یہاں کیا کرنے آگیا ؟ زیاف پریشانی سے پوچھنے لگا
جیسے بھی آیا بچ کر واپس نہیں جائے گا۔۔
اور جس کی شہ پر وہ اتنی دیدہ دلیری سے وشہ کے روم میں اکر اسے ہرٹ کر رہا ہے انکو چیر کے رکھ دونگا۔۔۔۔۔
رزم سخت لہجے میں بول رہا تھا۔۔ زیاف تھوڑا گھبرا گیا۔۔۔
ایک اور بات آرا کو بولو کاھل کو ملنے کے لئے بلاہے۔۔۔۔ رزم حکم صادر کرتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
مجھے افسوس ہوگا کاھل تم نے اب کی بار بھائی کے دل پر وار کیا ہے
اب تو تمہارا بچنہ ناممکن ہے۔۔۔زیاف خود کلامی کرتا آرا کے روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: