Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 11

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 11

–**–**–

واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز۔۔۔!! آآج اس خوبصورت جنی نے کیسے مجھے یاد کرلیا۔۔۔۔آرا کو دیکھتے ہی کاھل صوفے سے اٹھتا قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا
پھر آرا کے چہرے پر آئی لٹ کو پکڑتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔آرا نے اسکا ہاتھ جھٹکے سے پیچھے کیا۔۔
اپنی حد میں رہو ورنہ تم تو جانتے ہی ہو رزم کو ایک سیکنڈ نہیں لگے گا تم جیسے کمزور اور بزدل جن کو ختم کرنے میں
آرا کے چہرے پر تمسخرانہ مسکراہٹ آئی۔۔ کاھل نے غصے میں اسکی گردن دبوچی پھر چہرہ قریب کر کے غرایا ۔۔۔
تم لوگ کیا سمجھتے ہو بہت طاقت ہے۔۔۔۔۔ کمزور تو رزم ہے جو ایک انسان سے محبت کی پتنگے لڑا رہا ہے۔۔۔
پورے خاندان کو ختم کروا دونگا۔۔۔۔ آج ہی سردار کو بتا کر آیا ہوں۔۔۔ ایک انسان سے عشق کیا جا رہا ہے۔۔۔۔
کہتے ہی اسنے آرا کو زور سے پیچھے کی طرح پھینکا۔۔۔۔مگر وہ کوئی کمزور نہیں تھی۔۔۔۔
اٹھ کر اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگی۔۔۔آرا کا بس نہیں چل۔ رہا تھا اسے چیر کر رکھ دے۔۔۔
میں تم سے لڑنے نہیں آئی ہوں رزم نے بلایا ہے تمہے۔۔۔ آجانا رات تک ورنہ وہ خود آئے گا تو تمھارے لئے اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔
آرا اسے وارن کرتی چلی گئی پیچھے کاھل کھول کر رہ گیا۔ ۔۔ بچ!!
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ آپی تیز تیز چلیں۔۔۔۔اوفو اور کتنا تیز چلوں بھاگنا شروع کردوں۔۔ وشہ اپنے دونوں بھائیوں کے ساتھ ازمغان ولا جا رہی تھی۔۔۔
کل ضامن کی برتھڈے ہے اس لئے خود جا رہا تھا انوائٹ کرنے۔۔۔۔جوش و خروش میں باتیں کرتا۔۔۔۔جلدی پہنھچنے کے چکر میں بھاگنے لگا۔۔۔۔
جب جانے کہاں سے گلی سے تیز رفتار میں گاڑی آرہی تھی وشہ جو مسکراتی ہوئی اسے تو کبھی حنان کر کچھ کہ رہی تھی
اچانک اسنے یونہی پیچھے دیکھا تو اوشہ کی سانس روک گئی۔۔۔۔ گاڑی بہت سپیڈ میں آرہی تھی۔۔۔۔
ضامن روکو ۔۔۔۔۔۔وشہ زور سے چیخی مگر ضامن بھاگے جا رہا تھا۔۔۔گاڑی قریب آنے لگی وشہ گھبرا کر بھاگنے ہی والی تھی
مگر تب تک گاڑی ہٹ کرتی ہوئی بنا رکے چلی گئی۔۔۔ضامن اچھل کر روڈ کی سائیڈ پر گرا۔۔وشہ ساکت سی اپنے چھوٹے بھائی کو خون میں لت پت دیکھتی رہی۔۔۔۔
ضامن !! حنّان کے چیخنے کی آواز پر جیسے وہ ہوش میں آتے ہی پاگلوں کی طرح بھاگی۔۔۔۔
زمین پر نیچے بیٹھ کر کانپتے ہاتھوں سے اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا۔۔چھوٹا سا بھائی جس کا چہرہ خون سے بھر گیا گیا تھا
وشہ کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔ ضامن!! ضامن مم میرا بھائی کوئی ہے ہیلپ می۔۔۔۔۔حا حنّان کسی کو بلاو۔۔۔
وشہ ہچکیوں سے روتی ضامن کا سر دبائے زور زور سے چیخ رہی تھی۔۔۔ حنان ساتھ بیٹھا رو رہا تھا
وشہ کی بات پر کھڑا ہوکر ازمغان ولا کی جانب بھاگنے لگا کے وہ زہادہ دور نہیں تھا۔۔۔
ضامن اٹھو چچ چلو کتنی تیاریاں کرنی ہیں اٹھو بلے۔۔ وشہ اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
جب سپیڈ میں کار قریب آکر رکی۔۔۔۔ رزم زیاف دونوں تیزی سے گاڑی سے نکلے۔۔حنان بھی ساتھ ہی تھا۔۔۔
چھوڑو وشہ۔۔،۔” زیاف جلدی گاڑی میں ڈالو ہری اپ۔۔۔ رزم وشہ کے ہاتھ پکڑتا زیاف کو جلدی سے بولا۔۔۔۔
جیسے کوئی ہوش ہی نہیں تھا۔۔۔ میرا بھائی۔۔۔۔ وشہ رزم کو دیکھ کر زور زور سے رونے لگی
رزم کو تکلیف ہوئی اسے یوں دیکھ کر۔۔۔ وشہ وہ ٹھیک ہے سمبھالو خود کو چلو اٹھو۔۔۔ رزم نے زبردستی اسے گاڑی کے قریب لایا۔
وشہ زیاف کو سائیڈ پر کرتی خود پیچھے اسکے ساتھ بیٹھتی دوبارہ اسکا سر اپنی گود میں رکھا۔۔
بب بلے اٹھو نہ۔۔۔۔دد دیکھو۔۔۔تم تمھارے۔۔ دد دونوں۔۔ بب بھائی آ آگئے۔۔۔ “مم میرا بب بھائی اٹھ نہیں رہا۔۔۔ وشہ نے روتے ہوۓ معصومیت سے دونوں کو کہا۔۔۔۔۔
رزم اور زیاف دونوں ضبط کے بیٹھے رہے۔۔۔ کیسے تسّلی دیتے۔۔۔رزم کی گاڑی کی رفتار بہت تیز تھی
دس منٹ ہی لگے تھے ہسپتال پوھنچنے میں۔۔۔۔تیزی سے ضامن کو گود میں اٹھا کر اندر بھاگے۔۔۔
ایمرجنسی میں ڈاکٹر نے اسکا ٹریٹمنٹ شروع کردیا۔۔۔۔ سر پھٹا تھا یہ شکر تھا کے کوئی پتھر نہیں لگ گیا۔۔۔
مگر خون بہت بہنے اور خوف سے بیہوش ہوچکا تھا۔۔۔
رزم زیاف اور حنان کو وہیں چھوڑ کر وشہ کے پاس آیا
جو رویے جا رہی تھی۔۔۔ رزم نے اسے کندھوں سے تھام کر بینچ پر بٹھایا
خود اسکے سامنے دوزانوں بیٹھا۔۔۔۔وشہ کے کپڑے اور ہاتھ خون سے بھرے تھے۔۔۔۔ جنہیں دیکھ دیکھ کر اسے ہول اٹھ رہے تھے۔۔۔
رزم نے اسکے دونوں ہاتھ تھامے۔۔۔۔”ٹھیک ہے وہ اب خوف کی وجہ سے بیہوش ہوگیا ہے۔۔۔۔ وشہ نے رزم کی بات پر اسکی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔رو رو کر اسنے اپنا حشر کرلیا تھا
رزم کے دل میں ٹیس اٹھی۔۔۔ کک کیا آپ سہی کہ رہے ہیں مم۔۔میرا بھائی ٹھیک ہے نہ۔۔۔ “ہاں وہ ٹھیک ہے مجھ پر بھروسہ ہے نہ۔۔۔۔
رزم کی بات پر اسنے اثباب میں سر ہلایا۔۔۔مم مگر میری
نظروں سے چچ چھوٹا سا میرا بھائی اچھل کر گرا کک کتنا درد ہوا ہوگا اسے
شششش !! بس چپ اب ایک آنسوں نا نکلے ورنہ مار پڑے گی۔۔۔ رزم نے ہاتھ بڑھا کر اسکے آنسوں صاف کیے۔۔۔تم روتے ہوۓ بلکل اچھی نہیں لگ رہی۔۔۔
جانتی ہوں۔۔۔وشہ گہری سانس لیکر بولی۔۔رزم اٹھ کر اسکے ساتھ بیٹھا۔۔۔ کیا جانتی ہو ۔۔۔۔۔ رزم تھوڑا سا اسکی جانب جھک کر پوچھنے لگا
وہ اسے باتوں میں لگانا چاہ رہا تھا تاکے پھر نہ رونا شروع کردے۔۔۔۔
یہی کے میں اچھی نہیں لگتی۔۔۔ وشہ نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔۔اچھا مگر تم تو مجھے بہت اچھی لگتی ہو۔۔
رزم نے ایک جذب سے کہا وشہ نے گردن موڑ کر آنکھیں پھلا کر اسے دیکھا
جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ “کیا ہوا ایسے کیوں دیکھ رہی ہو کیا میں تمہے پسند نہیں کر سکتا۔۔۔ اسکی بات پر وشہ نے گڑبڑا کر نظریں جھکا لیں ۔۔۔۔
رزم نے مسکرا کر بینچ پر رکھےاسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔وشہ نے چونک کر ہاتھ کو پھر اسے دیکھا۔۔۔۔
یکدم وشہ نے اپنے دوسرے ہاتھ سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی آنکھوں سے لگایا۔۔۔۔”شکریہ اپکا اگر آپ نہ آتے تو۔۔۔
ایک منٹ!!! اس سے پہلے وہ آگے کچھ کہتی رزم نے بیچ میں ہی ٹوکا۔۔۔۔ “میں نے ابھی کچھ کہا ہے تم سے۔۔۔۔رزم نے مصنوئی گھوری کے ساتھ کہا۔۔۔۔
جانتی ہوں۔۔۔ وشہ سر جھکا کر بولی۔۔۔ “اور ابھی تھوڑی دیر پہلے جو کہا وہ کیا تھا ؟ رزم حیرت سے دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔
اف تنگ مت کریں وہ ایسے ہی کہ دیا تھا۔۔۔۔ وشہ جھنجھلا کر بولتی دروازے کو دیکھنے لگی
اسے رزم سے شرم آرہی تھی۔۔۔۔
رزم نے مسکرا کر اب کی بار اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
سب کو ہسپتال آنے سے رزم نے منع کر دیا تھا۔۔۔۔ کیوں کے گھر ہی جا رہے تھے۔۔۔۔۔ سر میں ٹانکے آئے تھے اور بازو کی ہڈی تھوڑی متاثر ہوئی تھی۔۔۔ باقی گرنے سے جسم میں درد۔ تھا۔۔۔۔ ابھی بھی غنودگی میں ہی تھا۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچ کر ضامن کو روم میں جاکر لیٹایا۔۔۔ رزم سب کو تسلی دے کر روم سے نکل کر لان میں چلا گیا۔۔۔۔۔
جب پیچھے ہی آرا اور زیاف اسکے پاس آئے۔۔۔
کیا ہوا؟
کاھل منع کر رہا ہے ملنے سے۔۔۔۔ اور دھمکی دے رہا ہے قبیلے کے سردار کو سب بتا چکا ہے۔۔۔۔۔ آرا نے بتایا رزم کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔۔۔۔
ایک اور بات یہ اسی کا کام ہے ضامن کا ایکسیڈنٹ اسنے کیا ہے
تم اتنے یقین سے کیسے کہ سکتی ہو۔۔۔۔زیاف نے اچانک پوچھا۔۔۔
کیوں کے اسنے خود بتایا ہے۔
مجھے خود جانا پڑے گا۔۔رزم غصے سے بولتا اندر چلا گیا۔۔۔اسے وشہ کو دیکھنا تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: