Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 13

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 13

–**–**–

آپ کب آئے رزم بھائی؟
رزم وشہ کے ساتھ لان میں آیا جہاں ربیکا اور نورین بیگم کھڑی ہوئی تھیں۔۔۔
ربیکا نے رزم کو دیکھ کر حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔ وشہ کو ہنسی آنے لگی جب کے رزم نے اپنی بہن کو گھورا۔۔۔
ضامن کو دیکھنے آیا تھا تم کیا گھر جا رہی ہو۔۔۔ رزم نے ایسے کہا جیسے واقعی وہ ضامن سے ہی ملنے آیا تھا۔۔۔۔
جب کے وشہ سے ملنے کے بعد ضامن سے ملا وہیں نورین بیگم سے بھی ملاقات ہوگئی.
جی گھر ہی جا رہی ہوں۔۔۔لیکن آنٹی آپ نے بھی نہیں بتایا رزم بھائی کا۔۔۔ربیکا رزم کو جواب دیتی نورین بیگم سے پوچھنے لگی۔۔۔
وشہ بہت ضبط سے اپنا قہقہ روک رہی تھی۔۔۔
تمہے کیا کرنا تھا جان کر اتنی تفتیش کیوں کر رہی ہو۔
نورین بیگم کے بولنے سے پہلے ہی رزم نے سخت لہجہ میں کہا۔۔۔ربیکا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔ سوری بھائی۔۔۔
ارے کوئی بات نہیں رزم بیٹا چھوٹی بہن ہے پوچھ ہی رہی ہے بس۔۔۔
نورین بیگم ربیکا کو ساتھ لگا کر رزم کو بولیں۔۔۔
ربیکا تم کار میں بیٹھو ساتھ چلتے ہیں۔۔ اب کی بار رزم سے نرمی سے کہا ربیکا وشہ سے مل کر کار میں جا کر بیٹھ گئی
اونٹی وہ کل میں اپنے والدین کو لانا چاہتا ہوں رزم ہچکچا کر بولا۔۔۔ نورین بیگم نے پہلے وشہ کی طرح دیکھا جو سر جھکائے کھڑی تھی۔۔ پھر رزم کو دیکھا۔۔۔
وہ سب سمجھ رہی تھیں۔۔اس لیے مسکرا کر بولیں۔۔ کیوں نہیں اپنا ہی گھر ہے جب دل چاہے سب کو لیکر او۔
ویسے بھی افشاں سے ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔
جی ٹھیک ہے پھر چلتا ہوں انشاءلله کل ملاقات ہوتی ہے۔
رزم نے کن اکھیوں سے اسے دیکھا جو کھل اٹھی تھی۔۔۔ پھر مسکرا کر اجازت لیتا چلا گیا۔ ۔۔۔
نورین بیگم نے آگے بڑھ کر وشہ کے سر پر پیار کیا ۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
اگلے دن افشاں بیگم کی کال آئی نورین بیگم نے انہیں رات کے کھانے پر دعوت دے دی۔۔۔۔
وشہ بہت خوش تھی۔۔۔۔۔۔ رزم اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اور آج وہ اسکے ماں باپ سے اسے ہمیشہ کے لئے اپنا بنانے کے لئے آرہا تھا۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔ بالوں کو بال پن سے سیٹ کر کے باقی کھولے چھوڑ دیے۔۔۔ آنکھوں میں کاجل لگا کر شیشے میں خود کو دیکھ کر شرمانے لگی۔۔۔
جب حنان نے آکر بتایا کے رزم کی فیملی آگئی ہے۔۔۔ وشہ ڈوپٹہ جلدی سے سیٹ کرتی نیچےآئی۔۔۔۔
سب ڈرائنگ روم میں تھے۔۔۔۔ وشہ دھڑکتے دل کے ساتھ شیشے کا دوڑ سلائڈ کرتی اندر گئی۔۔۔۔سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔
وشہ نے سب کو سلام کیا۔۔۔ وشہ کو دیکھ کر سب مسکرا رہے تھے۔۔۔
افشاں بیگم نے اسے ساتھ بیٹھایا۔۔۔رزم اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وشہ پزل ہونے لگی۔۔۔
اف بہت بےشرم ہیں کیسے دیکھ رہے ہیں مجھے۔۔۔۔ خود سے کہتی رزم کو نظر اٹھا کر آنکھیں دکھائیں۔۔۔۔
مگر کوئی اثر ہی نہیں ہوا الٹا اسکے دیکھنے پر اسکی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ ۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم نے اپنے ماں باپ کو اشارہ کیا۔۔۔ جو بات کرنے آئے ہیں وہ تو کریں ۔۔۔
رزم کے اشارے پر ہنسی ضبط کرتے بات شروع کی وشہ اٹھ
کر بھاگنے کے چکّر میں تھی۔۔۔
مگر افشاں بیگم نے پیار سے اسکا ہاتھ پکڑے رکھا۔۔۔۔ حنان ضامن سب خوش تھے رزم اور اسکی فیملی تو سب کو ہی پسند تھی۔۔۔
افنان صاحب نے سوچنے کا وقت مانگا مگر وہ تو رشتہ پکا کرنے ہی آئے تھے۔۔۔ رزم نے پہلے ہی ماں باپ کو بول دیا تھا۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کچھ ہی دیر میں رشتہ پکا کر کے۔۔۔۔سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔۔۔وشہ موقع ملتے ہی اپنے روم میں چلی گئی۔۔۔۔
سب بھی وشہ کے روم میں اسے چھیڑنے کے لئے ڈرائنگ روم سے چلے گئے۔۔۔ پیچھے رزم اور وشہ کے پیرنٹس کے ساتھ رزم ہی بیٹھا رہ گیا۔۔۔۔۔
یہ کیا ظلم ہے رشتہ میرا ہوا ہے مجھے جاکر اپنی ہونے والی بیوی سے ملنا چاہیے مگر مجھے یہاں بیٹھا کر سب فرار
ملنے دو زرا سب کو بتاؤنگا۔۔۔۔رزم جل کر بڑبڑانے لگا۔۔۔ جب ازمغان صاحب کی آواز پر انکی جانب متوجہ ہوا جو کہ رہے تھے.
جانتا ہوں بیٹی کے باپ ہو ہر طرح کی فکر ہوگی۔۔۔۔۔ میری بھی بیٹی ہے سب سمجھتا ہوں۔۔۔۔ابھی صرف نکاح ہوجاے رخصتی جب تم کرنا چاہو۔۔۔
ٹھیک ہے ذرا میں مشورہ کرلوں کیوں کے اتنی جلدی سب۔۔خیر ذرا آتے ہیں۔ افنان صاحب کہ کر کھڑے ہو کر نورین بیگم کو لئے ڈرائنگ روم سے باہر نکل گئے۔۔۔
پیچھے ازمغان صاحب نے رزم کو مسکرا کر دیکھا۔۔۔ فکر مت کرو رشتہ پکا ہوگیا ہے نکاح کے لئے بھی مان جائیں گے۔۔
رزم انکی بات پر صرف مسکرا دیا ۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
آپ دلہن بن کر چلی جائیں گی؟ ضامن وشہ کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔اچانک ہی وشہ کا ہاتھ پکڑ کر پوچھنے لگا۔۔۔۔
وشہ کو رونا آنے لگا۔۔۔۔۔پھر بھی خود پر ضبط کرتی۔۔۔ہاں کہا۔۔۔۔
تو پھر آپ کا روم خالی ہوجائے گا۔۔۔ضامن کے دوبارہ پوچھنے پر سب کو دکھ ہونے لگا۔۔۔ ہاں۔۔۔۔وشہ نے آنکھ کا کونہ صاف کر کے کہا۔۔۔
اسکا مطلب میں اپکا روم لے لوں۔۔۔۔ضامن کے ایک دم چہک کر بولنے پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
وشہ جو ایموشنل ہورہی تھی ضامن کی بات پر سارا ایموشن جھاگ کی طرح بیٹھ گیا.
ضامن نے وشہ کو دیکھا جو اسے گھور رہی تھی۔۔۔۔
وشا اپی پلیز میں اب اکیلے روم میں رہ سکتا ہوں۔۔ حنان تو خراٹے لیتا ہے بھوتوں کی طرح۔۔
ضامن نے ماتھے پر بال ڈال کر منہ پھولا کر کہا سب کو ہنسی آگئی۔۔۔۔۔جب کے حنان غصے سے اسے دیکھ رہا تھا.
وشہ آپی ابھی نہیں جا رہیں تم اب یہیں رہو۔۔۔حنان ناراض ہوتے باہر نکل گیا۔۔۔
ضامن یہ کیا حرکت تھی ایسے کہتے ہیں۔۔۔۔ وشہ نے گھورا ضامن بیڈ سے نیچے اترا۔۔۔۔ سوری میں ابھی منا کر آتا ہوں ۔۔
ضامن منمنا کر کہتا باہر نکل گیا۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔ربیکا جاؤ ذرا صلح کروادو دونوں کی زیاف ہنس کر ربیکا کو بول کر خود بھی جانے لگا۔۔۔
جب روم میں وشہ کے امی ابو آئے آرا بھی اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔ دونوں کے باہر نکلتے ہی افنان صاحب نے شفقت سے وشہ کے سر پے ہاتھ رکھا۔۔۔۔
پھر جو پوچھنے آئے تھے پوچھ کر وشہ کے سر پر پیار اور دعائیں دے کر چلے گئے۔۔۔۔
جب کے وشہ سوچ رہی تھی اتنی جلدی نکاح بھی۔۔۔مگر وہ خوش تھی اور دکھی بھی۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
نکاح گھر پر ہی سادگی سے ہونا تھا۔۔۔ دو دن بعد۔۔۔۔
نکاح کا جوڑا رزم اپنی پسند سے لایا تھا۔۔۔۔سب خوش تھے
مگر رزم کو بہت دکھ تھا۔۔۔۔ اسے ازمغان صاحب نے ملنے سے سختی سے منع کیا تھا ورنہ اسکے لئے کوئی مشکل نہیں تھا۔۔۔۔
یہ تم دونوں ایسے شاپنگ کر رہی ہو جیسے تم لوگوں کا نکاح ہے ۔۔۔
زیاف لاؤنج میں اتے ہی بولا جہاں آرا۔۔۔۔ربیکا اپنی شوپنگ افشاں بیگم اور آمنہ بیگم (آرا کی ماں ) کو دکھا رہی تھی۔۔۔
رزم کے نکاح کے لئے آئے تھے ۔۔۔۔
( آرا بھی اب واپس ساتھ ہی جائے گی کیوں کے وہ رزم کے بلانے پر یی تھی۔۔۔۔۔خالد کو مروانے۔۔۔۔ کیوں کے جو اسنے کیا تھا رزم نے اس رات خالد کا سر پھاڑ کر اسے وہیں پھینک دیا تھا)
زیاف کی بات پر آرا نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔
لگتا ہے کوئی آج بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہے چلو کوئی بات نہیں ۔۔۔۔زیاف زور سے بولتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
پاگل۔۔۔۔۔زیاف کے جاتے ہی آرا ہلکے سے بولی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: