Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 14

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 14

–**–**–

وشہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے آپ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔وشہ آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔
جب روم میں اسکے دونوں بھائی آئے۔۔۔ وشہ کو عجیب سا احساس ہونے لگا۔۔۔۔جیسے آخری بار دیکھ رہی ہو۔۔۔۔
وشہ آپی آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔۔ضامن اسے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔
تم بھی بہت پیارے لگ رہے ہو بلے۔۔۔۔وشہ نے اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر پیار سے کہا۔۔
جب دروازے پر نورین بیگم آئیں۔۔۔ ماشاءالله بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔مولوی صاحب آرہے ہیں وشہ گھنگٹ کرلو۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
نکاح ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔سب مبارکباد دے کر روم سے چلے گئے لان میں ہی سب کے بیٹھنے کا انتظام کیا ہوا تھا۔۔۔
سب کے جانے کے بعد وشہ حنان اور ضامن کے ساتھ بیٹھی سو سو کر رہی تھی۔۔۔
جب ربیکا نے حنان کو میسج کر کے بلایا۔۔۔۔
وشہ آپی ہم آتے ہیں روئے گا مت ۔۔۔۔حنان اپنے موبائل پر میسج پڑھ کر وشہ سے بولا۔۔۔
ہمم۔۔وشہ سر جھکائے بولی ۔۔
حنان اور ضامن دونوں ہی روم سے چلے گئے۔۔۔۔
وشہ انکے جانے کے بعد کھڑی ہوئی جب کسی نے پیچھے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔۔وشہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا
جب کسی نے زور سے سر پر کچھ مارا۔۔۔۔وشہ زور سے چیخ مارتی دھڑام سے نیچے گری۔۔۔۔۔سر سے خون پانی کی طرح بہنے لگا۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~`
رزم بھائی کہاں جا رہے ہیں؟زیاف نے اسے اوپر جاتے دیکھا تو پوچھنے لگا۔۔۔
وشہ سے ملنے اور ہاں میں پوچھ چکا ہوں سب سے۔۔۔رزم کہ کر وشہ کے روم کے سامنے کھڑا نوک کر کے اندر گیا
سامنے ہی وشہ نکاح کے جوڑے میں خون سے لت پت کارپٹ پر پڑی تھی
پتہ نہیں کتنا وقت اسے یونہی پڑے گزرا تھا۔۔۔ رزم ایک دم چیخا۔۔۔۔ رزم کی چیخ اتنی بلند ضرور تھی کے زیاف جو باہر نکل رہا تھا تیزی سے آیا۔۔۔۔
وشہ کو خون میں دیکھ کر ساکت رہ گیا۔۔۔۔۔۔ رزم نے قریب جا کر اسے دیکھا جسکا صرف سر نہیں پھٹا تھا
اسے کافی زخمی کیا گیا تھا گردن پر ناخن سے کٹ لگے ہوۓ تھے جس سے خون نکل رہا تھا۔۔۔۔
مہندی لگے ہاتھوں میں شیشے کے ٹکڑے گھوپے یوئے تھے رزم نے تکلیف سے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔۔ زیاف ہھی تیزی سے قریب آیا . ۔۔۔
روم میں یکدم کوئی قہقے لگانے لگا۔۔۔۔۔دونوں بجلی کی سی تیزی سے اٹھے سامنے ہی کاھل کا باپ کھڑا تھا۔۔۔
کیسا محسوس کر رہے ہو ؟ رزم اسکی بات کو نظر انداز کرتا زیاف سے بولا۔ ۔۔۔۔۔ زیاف وشہ کو ہوسپیٹل لے کر جاؤ۔۔
رزم اسے کہتا آگے بڑھ کر اسے زور سے پنج مارا۔۔۔ رزم شدید تحش میں اسے مارنے لگا جو اپنے اصل روپ میں آکر رزم پر حاوی ہورہا تھاا
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
زیاف جیسے ہی اسے لیکر گیٹ کی طرف گیا (تاکے آرا کو رزم کے پاس مدد کے لئے بھج سکے)
وشہ کو دیکھتے ہی لان میں چیخ و پکار شروع ہوگئی۔۔۔
زیاف نے آزمغان صاحب کو دیکھا پھر آرا کو۔۔۔۔۔۔آزمغا صاحب اندر جانے لگے جب زیاف نے انہیں روک دیا۔۔۔۔ آپ ہمارے ساتھ۔ چلیں۔۔۔۔۔
آرا ہوا کی طرح روم میں پوھنچی جہاں رزم اپنے روپ میں آکر اسے ادھ موا کر چکا تھا۔۔۔
رزم اصل روپ میں کافی لمبا چوڑا اور کافی خطرناک ہوجاتا تھا۔۔۔۔۔ قبیلے کے سردار کا لاڈلا تھا مگر وہ اپنے اصولوں کا پکا تھا۔ ۔~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ کو آئی۔سی۔ یو میں لیجایا گیا ۔۔ سب باہر ہی بینچ پر بیٹھے رو رہے تھے جب افنان صاحب زیاف کے پاس آئے۔ ۔۔۔
وشہ کے روم میں کون تھا۔۔۔۔ضبط سے انکا لہجا بھاری ہو رہا تھا۔۔۔ کوئی چور تھا رزم بھائی وہیں ہیں۔۔۔زیاف نے کہانی گڑی۔ ۔۔۔
افنان صاحب ہونٹ بھنج گئے۔۔۔کس بے دردی سے مارا تھا انکی پھولوں سے نازک بیٹی کو۔۔۔۔
انکل وہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔سمبھالیں خود کو۔۔۔۔ زیاف نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی ۔۔۔
ہممم۔۔انشاللہ بیٹا۔۔۔افنان صاحب کہتے ہوۓ بینچ پر جا کر بیٹھ گئے۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم نے کاھل کے باپ کو آرا کے ساتھ مل کر جلا دیا اور پھر دونوں ہسپتال آگئے۔۔۔رزم نے پہلے زیاف کو دیکھا۔۔۔۔۔
سب ہی ہسپتال میں تھے۔۔۔۔ رزم نے افنان صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو اسے دیکھتے ہی اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے۔ ۔۔۔
رزم بیٹا کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔”میں نے سب سمبھال لیا ہے آپ فکر نہ کریں۔۔
رزم اور بھی کچھ کہتا۔۔۔۔ جب آئی سی یو کا دروازہ کھول کر ڈاکٹر باہر آئے۔ ۔۔۔
رزم تیزی سے ڈاکڑ کی طرح بڑھا۔۔۔
کیا ہوا ڈاکٹر؟ وشہ کیسی ہے؟ رزم نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔۔
ڈاکٹر نے سب کو دیکھا۔۔۔۔ پھر سنجیدگی سے ہلکی آواز میں بولے۔۔۔ آئی ایم سوری پیشنٹ کی حالت بہت نازک تھی
اور خون بھی بہت بہ چکا تھا۔۔۔۔سوری ہم پیشنٹ کو بچا نہیں سکے ۔۔۔۔ڈاکٹر کی بات سن کر رزم سکتے کی حالت میں چلا گیا۔۔۔۔۔
جب کے نورین بیگم پر غشی تاری ہوگئی ۔۔۔۔حنان ضامن الگ دھاڑے مار رہے تھے۔۔۔۔سب جیسے وشہ کی موت کے ساتھ ختم ہوگیا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
آئی سی یو سے اسٹریچر باہر لائے۔۔۔۔جس پر وشہ کی ڈیڈ باڈی کو سفید چادر میں ڈھکا ہوا تھا۔۔۔۔
نورین بیگم تڑپ کر اسکے چہرے سے چادر ہٹا کر چیخ رہی تھی کبھی اسکا چہرہ چوم رہی تھیں۔۔۔۔ ہر وقت کھل کہلاتا چہرہ ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرچکا تھا۔ ۔۔
رزم ساپٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ وہ کسے اتنے آرام سے اسے چھوڑ کر جا سکتی تھی۔۔۔ کاش اسکے بس میں ہوتا۔۔۔
وہ اسے چھو کر اسکا درد ختم کر سکتا تھا مگر موت۔۔۔۔ وہ اس کے بس میں نہیں تھا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ضامن کو تیز بخار چڑھ گیا تھا۔۔۔۔سب کی حالت خراب تھی۔۔۔ڈیڈ باڈی کو گھر لے آیا گیا تھا۔۔۔
ہر ایک کی آنکھوں میں آنسوں تھے۔۔۔۔خوشی کے گھر کو جانے کس کی نظر لگ گئی۔ ۔۔۔رزم بلکل چپ تھا کیا کہتا
سننے والی اسے تنہا چھوڑ گئی اب اسکا یہاں کچھ نہیں رہا تھا۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد جنازہ لے جایا گیا۔۔۔۔۔ کسے پتہ تھا وشہ ہمیشہ کے لئے یوں رخصت ہو کر چلی جائے گی۔۔
وقت جیسے تھم گیا تھا ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: