Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 15

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 15

–**–**–

کہتے ہیں وقت جیسا بھی ہو گزر ہی جاتا ہے وہ کسی کے لیے نہیں رکتا۔۔۔۔کبھی وقت بے رحم تو بہت مہربان ہوتا ہے۔۔۔۔
افنان ہاؤس کے مکینوں نے بھی وقت کے بے رحم وقت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا۔۔۔مگر اکلوتی لاڈلی بیٹی جو ماں باپ کے ساتھ ساتھ بھائیوں کی بھی جان تھی۔۔۔۔
اسکی جدائی کا غم دل کو اب بھی تڑپہ دیتا تھا۔۔۔۔
اولاد کی تکلیف بہت اذیت ناک ہوتی ہے۔۔۔ جو وقت سے پہلے ہی ماں باپ کو بوڑھا اور کمزور کر دیتا ہے۔۔۔۔
اللہ‎ کبھی کسی کو اولاد کا دکھ نہ دیکھائے امین۔ ۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ کے روم کا دروازہ کھول کر حنان اندر آیا۔۔۔جہاں ضامن اپنی کتابیں پھلائے وشہ کے بیڈ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
حنان چلتا ہوا اسکے ساتھ آکر بیٹھا۔۔۔۔ حنان بڑا تھا اسلئے بہت حد تک خود کو سمبھال چکا تھا۔۔۔۔۔۔لیکن سب سے بڑی تبدیلی جو آئی۔۔۔ وہ انکے چہروں کی سنجیدگی تھی۔۔۔
وہ اپنی وشہ آپی کے ساتھ ہنستے شرارتیں کرتے تھے۔۔۔۔
حنان نے اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر متوجہ کیا۔۔۔
حنان بھائی دیکھیں وشہ آپی دلہن بنی میرے سر پر پیار کر رہی ہیں۔۔۔ یہ کمرہ بھی وشہ آپی نے مجھے دے دیا۔۔
ضامن سامنے نظریں جمائے بول رہا تھا۔۔۔۔حنان کی ضبط سے آنکھیں سرخ ہو گئیں۔۔۔
انکا چھوٹا بھائی اب بھی کمرے میں آکر یونہی ہر چیز دیکھتا۔۔۔۔ وہ تو اب اسکا کمرہ تھا۔۔۔ پڑھتا بھی وہ کمرے میں تھا۔۔۔
زیاف بھائی نے کہا وہ وقت کے ساتھ خود نارمل ہو جائے گا۔۔۔ اور یہ تو سچ ہی ہے وقت زخم دے کر خود اس پے مرہم رکھ دیتا ہے۔۔
اچھا تم نے یاد کر لیا ٹیسٹ ۔۔۔حنان نے اس کی بعد کو نظر انداز کر کے پوچھا۔۔۔
ضامن نے آنکھیں مسل کر حنان کو دیکھا پھر اپنی کاپی اٹھا کر اسے دکھانے لگا۔۔۔ یہ مجھ سے یاد نہیں ہو رہا آپ میری ہیلپ کردیں گے۔۔۔
ضامن کے معصومیت سے کہنے پر حنان نے آگے بڑھ کر اسے زور سے گلے لگایا۔۔۔
میں ہمیشہ تمہاری ہیلپ کرونگآ ضامن۔۔۔ تم اپنے بھائی کو ہمیشہ اپنے ساتھ پاؤگے۔۔۔ جو دل کی بات ہو مجھ سے کرو۔۔۔۔۔
حنان کہتے ساتھ بے آواز رو دیا۔۔۔۔ بہت مشکل تھا سب مگر جینا تو ہے ہی۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
افشاں بیگم رزم کے روم میں آئیں جو اندھیرا کیے کھڑکی کے پاس کھڑا اندھیرے میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
افشاں بیگم کو دکھ ہوا وشہ کی موت کے بعد سے وہ بلکل چپ ہو گیا تھا۔۔۔۔گھر میں ہوتا تو یونہی چپ چپ رہتا۔۔
آفس کے بعد تیں چار گھنٹے باہر گزر کر دیر سے گھر آتا۔۔۔۔
رزم بیٹا۔۔افشاں بیگم نے قریب آکر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
رزم نے گردن موڑ کر اپنی ماں کو دیکھا جو اسکے لئے پریشان تھیں۔۔۔۔
کب تک ایسا چلے گا میں یہ نہیں کہونگی کے بھول جاؤ۔۔۔ مگر تم بدلہ لے چکے ہو۔۔۔ مجھے سب بتایا زیاف نے قبیلے کا سردار۔۔۔۔۔۔اور کوئی نہیں چاہتا تھا
کے تم ایک انسان سے رشتہ رکھو کیوں کے انہیں اپنی بیٹی کے لئے پسند کیا تھا۔۔۔۔ ہمیں بھی یہ بات بعد میں بتائ ور ۔۔۔۔
پلیز موم میں اس بارے میں کوئی بات نہیں سننا چاہتا ۔۔۔
وہ کون ہوتا ہے فیصلے کرنے والا؟
ایک اور بات اگر اسکی بیٹی یہاں آئی تو اسکی موت کا زمیدار خود اسکا باپ ہوگا۔۔۔۔
وشہ میری تھی اسکی جگہ کوئی نہیں لے سکتا سن لیں آپ اور بتا دیں سارے قبیلے کو رزم ازمغان مرزا وشہ سے عشق کرتا ہے
اسکی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔۔ رزم آگ بگولہ ہہوتا دھاڑ رہا تھا۔۔۔۔۔
رزم۔۔۔
پلیز موم میں ابھی تنہائی چاہتا ہوں۔۔۔۔ رزم ہونٹ بھیج کر دوبارہ کھڑکی کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔
افشاں بیگم گہری سانس کھینچ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
انکے جاتے ہی رزم نے پاکٹ سے موبائل نکالا نمبر ملا کر کان سے لگایا۔۔۔تھوڑی دیر میں روم میں رزم کی بھاری آواز گونجی۔۔۔۔
ہاں میں کچھ دیر میں آتا ہوں۔۔۔ ہمم اوکے۔۔۔ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کال ڈسکنیکٹ کر کے واپس موبائل پاکٹ میں رکھا
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
آدھی رات کا وقت تھا۔۔۔۔۔۔سنسان سڑک پر بلیک مرسیڈیز فراٹے بھرتی جارہی تھی رزم ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا زیاف سے باتیں کر رہا تھا
دونوں اس وقت سنجیدہ تھے۔
کچھ ہی دیر میں کار اندھیرے میں ڈوبی پراسرار حویلی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔۔
یہ جگہ کافی دور اور سنسان ایریا میں تھی جہاں زیادہ آبادی نہیں تھی۔۔۔۔ دونوں بھائی کار سے نیچے اتر کر اندر کی جانب بڑھے۔ ۔۔۔
اندر سے حوہلی بہت روشن اور دیکھنے والے کی انکھوں کو خیرہ کر دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔۔۔۔
لیکن باہر سے جو بھی دیکھتا ایسا لگتا جیسے بہت سالوں سے یہ پراسرار حویلی میں ضرور جن بھوتوں کا بسیرا ہوگا ۔۔۔
رزم زیاف اوپر جانے والی سیڑیوں کی جانب بڑھے۔ ۔۔
اوپر پونھنچ کر ایک دروازے کے سامنے روک کر نوک کیا۔۔۔۔
اجازت ملتے ہی دونوں آگے پیچھے اندر داخل ہوئے ۔۔۔
کمرہ کافی بڑھا اور بہت خوبصورت تھا۔۔۔
السلام عليكم رزم ۔۔۔شکر ہے آپ آگئے اب سنبھالیں اپنی وائف کو کب سے کہ رہی ہوں سوپ پی لیں مگر نہیں شوہر کی یاد ستا رہی ہے کب سے۔۔۔۔
آرا نے اسے اندر اتے دیکھ کر بولنا شروع کردیا جب کے رزم کی نظر وشہ پر تھی جو بیڈ کراؤں سے ٹیک لگائے رزم کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔
کتنا بولتی ہو چپ ہو جاؤ اور اب میں آگیا ہوں تو سب یہاں سے نو دو گیارہ ہوجائیں۔۔۔
رزم نے آرا زیاف کے ساتھ بداح (آرا کا بڑا بھاِئی) کو کہا تینوں اسکی بات پر مسکرا کر باہر نکل گئے۔۔۔۔
انکے نکلتے ہی رزم نے روم کا دروازہ لاک کیا پھر قدم قدم چلتا اسکے نزدیک بیٹھا پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر ہونتھوں سے لگایا۔۔
وشہ خود میں سمٹ گئی۔۔۔۔ کچھ زیادہ ہی رومانٹک نہیں ہوگے ہیں۔۔۔
وشہ مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھ کر بولی جو اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں دبا کر اسکے اور قریب آیا۔۔۔
تم مجھے رومانٹک ہونے ہی کب ہونے دیتی ہو بلکے اور لڑاکا ہوگئی ہو۔۔۔
رزم نے اسے زچ کرنا چاہا۔۔وشہ نے اسے گھور کر ہاتھ سے پیچھے دکھیلا۔۔۔۔جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ۔۔
اف ظالم۔۔۔ رزم نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔وشہ کی آنکھوں میں یکدم آنسوں آگئے۔۔۔
رزم اسے دیکھتا فورن سہی ہوا پھر دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھام کر باری باری آنکھوں کو چوما۔
وہ جانتا تھا وشہ کو پھر اپنے گھر والے یاد آرہے ہیں . مگر وہ وشہ کو اب نہ چھوڑ سکتا ہے نہ اسکی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔۔۔
کاھل کا خاندان اور سردار وشہ کے پیچھے پڑھ گئے تھے کیوں کے انکی نظر میں ساری فساد کی جڑ وشہ ہے۔۔۔
انھیں صرف وشہ چاہیے تھی۔۔~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ اگر رونا بند نہیں کیا تو۔۔۔۔۔۔ رزم تو کو لمبا کھینچتا اس پر جھکنے لگا وشہ نے تیزی سے اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور کیا۔۔
فری ہونے کی کوشش مت کریں۔۔۔ ورنہ چلی جاؤنگی۔۔۔ وشہ ناک چڑھا کر بولتی اپنے ہاتھ کا زخم دیکھنے لگی جو اب کافی حد تک ٹھیک ہو گیا تھا۔۔
(وشہ کو رزم نے بتایا تھا جس نے اسے مارنے کی کوشش کی ہے وہ سمجھ رہے ہیں کے وشہ مر گئی ہے اگر وہ دوبارہ گئی تو شاید اسکی فیملی کو بھی جان کا خطرہ ہو)۔۔۔۔۔
رزم اسے دیکھنے لگا۔۔۔ پھر اسکے کان کے قریب جھک کر سرگوشی میں بولا۔۔۔ میں کل آونگا تمہے لینے…تیار رہنا۔۔۔
وشہ کی نظر ہاتھ سے ہوتے رذم کے چہرے کی جانب اٹھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ کیا ہم رہ لیں گے سب سے علیدہ ہو کر؟
وشہ کی بات پر رزم نے اپنا ہاتھ اسکے گال پر رکھا پھر انگوٹھے سے سہلانے لگا۔۔۔۔
اور کیا ہم ایک دوسرے سے الگ ہو کر خوش رہینگے؟ اب تو ویسے بھی تم میرے نکاح میں ہو میں تم سے کبھی الگ ہونا نہیں چاہونگا۔۔۔
رزم کی بات پر وشہ مسکرا کر اسکے سینے سے لگ گئی۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
یہ کیا بول رہے ہو تم ؟ کہاں جا رہے ہو ؟
لاؤنج میں اس وقت سب تھے جب رزم نے ان سے جانے کا کہا۔۔
میں اکیلے رہنا چاہتا ہوں فلحال۔۔۔آپ مجھے جانے دیں۔۔
رزم تم۔۔۔افشاں بیگم کچھ کہتیں جب ازمغان صاحب نے ہاتھ اٹھا کر خاموش رہنے کا اشارہ دیا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ مگر اپنا خیال رکھنا۔۔ ایک اور بات تم جب آنا چاہو آ سکتے ہو۔۔۔
ازمغان صاحب نے بول کر اسے گلے لگایا۔۔۔۔رزم سب سے مل کر باہر جاتے جاتے روک کر ایک نظر سب کو دیکھتا رہا پھر باہر نکل گیا۔۔۔
رزم کے جاتے ہی افشاں بیگم نے اپنے شوہر کو دیکھا جنہوں نے سکون کی سانس لی۔۔۔
آپ اسکے جانے پر اتنے سکون میں کیوں آگئے۔۔۔
افشاں بیگم کی بات پر ازمغان صاحب نے انہیں دیکھا پھر بولے۔۔۔ میں نہیں چاہتا دشمن اسے ختم کر دیں
میں اسکی جدائی برداشت نہیں کر سکتا۔۔ نظروں سے دور سہی مگر دل کو تسلی رہے گی کہ وہ جہاں ہے سہی سلامت ہے مگر دنیا سے رخصت ہونے والی اذیت میں وہ برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔
ازمغان صاحب اپنی بیوی کو لاجواب کر کے باہر نکل گئے۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم گاڑی سے اترا وشہ کو لان میں دیکھ کر وہیں آگیا
وشہ نے وائٹ کلر کا گھیردار فراک پہنا ہوا تھا۔۔۔ بال کھولے ہوۓ تھے جو اب کمر تک آتے تھے۔۔۔رزم مسکراتا قریب گیا۔۔۔
پھر پیچھے سے اپنے حصار میں لیکر اسکے سر پر پیار کیا۔۔۔ میڈم چلنے کے لئے تیار ہیں آپ ؟ رزم سرگوشی کر رہا تھا۔۔۔
وشہ اسکے بازؤں میں ہی گھومی۔۔۔ کہاں رہ گئے تھے۔۔۔ وشہ نے ناراضگی سے کہا
رزم نے اپنی پکڑ سخت کی۔۔۔ اب آگیا ہوں نہ کبھی نہ جانے کے لئے.۔۔۔۔۔رزم کی بات پر وشہ مسکرا کر اسکے سینے سے لپٹ گئی۔۔۔
یکدم اسے اپنے پیروں سے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔وشہ نے گہرا سانس لیکر اپنی گرفت مضبوط کردی۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: