Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 2

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 2

–**–**–

کون ہو تم؟
بھاری سرد آواز اسکے کانوں میں پڑی تو وہ وہیں ٹہر گئی۔۔۔
“اففف وشہ لگتا ہے آج تو تم گئی.. کہیں یہ مجھے جیل نہ بھجوا دیں اور اگر میں جیل چلی گئی تو؟؟
گھر والے تو رو رو کر ہی ختم جائیں گے۔۔۔۔ ہلکی آواز میں بڑبڑاتی وہ اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے کے بہانے کن اکھیوں سے گیٹ کی طرف دیکھنے لگی
جہاں کوئی گارڈ نہیں تھا۔۔۔
یا اللہ‎ میرے بھائی جانے کہاں لٹکے ہوں گے۔۔۔۔ہوسکتا ہے بھاگ گئے ہوں؟ اسکا مطلب غددار بھائی مجھے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ منہ میں انگلی دبائے وہ خود سے ہی سوال جواب کرنے لگی۔۔
رزم ہونٹ بھنچے اسکی پشت کو گھور رہا تھا جو جانے خود کو کونسی کہانیاں سنا رہی تھی۔۔
کیا تمہے سنائی نہیں دے رہا لڑکی۔۔۔ رزم چبا چبا کر بولتا اسے غصہ دلا گیا جو اب بھاگنے کی تیاری کر رہی تھی۔۔۔
مجھے تو سنائی دے رہا ہے اور میں کیا کوئی چور ہوں جو آپ یوں مجھ سے سوال جواب کرنے لگ گئے
دوسرا یہ میرا نام وشہ افنان ہے آپ اس طرح کیسے مخاطب ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔جھٹکے سے مڑ کر غصے سے تیز تیز بولتی وہ اپنا نام بھی بتا چکی تھی۔۔۔
ٹھیک ہے مس وشہ افنان تو بتائیے آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟ رزم نے چبا چبا کر سرد لہجے میں دوبارہ اپنا سوال دوہرایا۔۔
ہاں تو میں مہمان ہوں اپنی دوست سے ملنے آئی ہوں اسکے گھر۔۔ وشہ نے گڑبڑا کر جو سمجھ آیا کہ دیا۔۔
اوہ آئی سی۔۔۔۔ تو آپ ربیکا کی دوست ہیں رزم ایک آئی برو اچکا کر پوچھنے لگا
جب کے وشہ کا دل کیا کوئی چیز اٹھا کر سامنے کھڑے ہینڈسم کمینے کے سر پر مار کر رفو چکّر ہو جائے۔۔۔
خود پر کچھ بھی کرنے سے روکتی وہ ضبط سے گویا ہوئی جی بلکل۔۔۔۔۔وہ آرہی ہے ابھی میسج کیا ہے میں نے۔۔۔
رزم نے اسکی بات پر صرف سر ہلانے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ بھی بہت تھا وہ اتنی بات کر گیا وہ بھی ایک لڑکی سے۔۔۔
رزم ایک نظر اسے دیکھتا کچھ بھی کہے بغیر کار پورج کی طرف بڑھ گیا
اسکے جاتے ہی وشہ شکر کا کلمہ پڑھی باہر کی جانب دوڑ لگا چکی تھی۔۔
رزم کار کا دروازہ کھولتے کھولتے روکا گردن موڑ کر اسے دیکھا جو دوڑتی باہر نکل گئی تھی۔۔۔
چورنی۔۔۔ سپاٹ چہرے کے ساتھ کہتا وہ کار میں بیٹھ گیا..
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
افف گھر جاتے ہی شکرانے کے نفل پڑھونگی
وشہ گھر کی جانب پیدل ہی جاتی خود سے کہ رہی تھی (گھر قریب ہی تھا)
یکدم اسے اپنے غدار بھائی یاد آئے تو تیز تیز قدم اٹھاتی چلنے لگی ساتھ ہی بڑبڑہٹ بھی جاری تھی۔
دونوں کو تو جا کر بتاتی ہوں۔۔۔۔۔ اکیلی جوان بہن کو انجان جگہ۔۔۔انجان گھر چھوڑ کر بھاگ گئے وہ بھی ایک مرد کے سامنے
اگر وہ مجھے چھیڑنے کی کوشش کرتا تو کون بچاتا مجھے۔۔۔ بلکے نہیں ہاتھ تو لگا کر دکھاتا پھر بتاتی ہنہ
خود سے باتیں کرتی وہ گھر کا داخلی دروازہ کھول کر لان اور پورچ عبور کرتی گھر کے اندر آئی
حنان اور ارمغان دونوں صوفے پر بیٹھے مووی کے ساتھ پوپ کورن کھانے میں مگن تھے۔ وشہ سلگ کر ہی تو رہ گئی۔۔۔۔
ضبط کرتی آگے بڑھی جھک کر ٹیبل پے رکھے ریموٹ کو اٹھا کر نیوز چینل لگا کر ریموٹ لے کر اپنے روم کی جانب بھاگی۔۔۔
دونوں جو ایکشن مووی بڑے انہماک سے دیکھ رہے تھے یکدم چنبیل چینج ہونے پر ہوش میں آئے۔
آپی!!!! دونوں ساتھ چیخے۔۔۔۔۔وشہ جب تک اپنے روم کے سامنے پوھنچ چکی تھی۔۔ ۔میرے ساتھ غدداری کرنے کی پہلی قسط ہے یہ۔ ۔
شام کو آنے دو ابو کو دونوں کو ڈانٹ پڑواونگی ۔۔ وشہ زبان چڑاتی روم می چلی گئی
پیچھے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور سوری آپی کرتے منانے دوڑے۔ ۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیا چل رہا ہے اینگری بوائے۔۔۔ ارمغان صاحب آفس کا ڈور کھول کر اندر آتے بولے۔۔۔۔ جو اپنی سیٹ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔۔
رزم نے باپ کی آواز سن کر ہاتھ روکا پھر گردن موڑ کر انہیں دیکھا جو مسکراتے سائیڈ پر پڑے صوفے پر بیٹھ گئے۔۔۔۔
ای میلز چیک کر رہا تھا۔۔رزم ہلکا سا مسکرا کر گویا ہوا۔۔۔
کیا ابھی تک کمپلیٹ نہیں ہوا کام؟۔۔۔ “نہیں لگ بھگ کام کمپلیٹ ہوچکا ہے
جب تک آپ کوفی پیجیے پھر ساتھ ہی چلتے ہیں گھر
“رزم ہاتھ بڑھا کر ٹیبل کے سائیڈ پر رکھے انٹرکام کا ریسیور اٹھا کر کان سے لگا کر بولا۔
ہمم۔۔۔۔۔۔اوکے منگواؤ جب تک تمہاری ماں کو کال کر کے بتا دوں کھانا تیار رکھے ۔۔۔ارمغان صاحب نمبر ملاتے بولے۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
شام کا وقت تھا جب وشہ اپنے روم میں بیٹھی دونوں بھائیوں کو پڑھا رہی تھی
(یہ نہیں تھا کے وہ ٹیچر افورڈ نہیں کر سکتے تھے وجہ یہ تھی کے حنان اور ضامن اس سے شوق سے پڑھتے تھے)
وشہ نے رشوت( گول گپپے) انکی پاکٹ منی سے منگوائے تھے پھر جا کر دونوں کو معاف کیا تھا۔۔۔۔
کتنے کوئی کوڑھ مگز ہو تم کتنی بار سمجھا رہی ہوں ایک ہی سوال لیکن تمھارے اس خالی ڈبے میں کچھ بیٹھ ہی نہیں رہا۔۔۔۔۔۔
وشہ پندرہ منٹ سے ضامن کو سوال سمجھا رہی تھی جو سن کر سمجھداری سے سر ہلاتا مگر جب پوچھو تو معصومیت سے کہ دیتا۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آیا آپی۔۔۔۔
وشہ کے صبر کا پیمانہ بھی اب لبریز ہوچکا تھا۔۔۔۔۔ وہ ویسے ہی بہت ڈسٹرب تھی۔ صبح جو ہوا اسے لے کر۔۔
جب بھی آنکھیں بند کرتی ہینڈسم کھڑوس نظروں کے سامنے کھڑا گھورتا نظر آتا
اسکے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔۔۔ مگر وہ نہ جانے کیوں دماغ پر سوار ہو رہا تھا۔۔۔
حنان نے اپنی کتاب سے سر اٹھا کر ضامن کو دیکھا جو رو دینے کو تھا۔۔۔یکدم بھائی کے لیے جذبات امڈ کر آئے
چھوڑو ضامن میں تمہے سمجھا دیتا ہوں چلو میرے ساتھ اپنے روم میں۔۔۔۔۔
حنان اپنی کتابیں سمیٹتا اسکا ہاتھ پکڑتا روم سے لے گیا۔۔ وشہ دروازے کی آواز پر ہوش میں آئی۔
ہیں یہ دونوں کہاں چلے گئے ؟ پورے کمرے میں نظر دوڑاتی خود سے بولی۔۔ پھر کندھے اچکا کر موبائیل یوز کرنے لگی۔ ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: