Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 3

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 3

–**–**–

شام کا وقت تھا وہ لوگ اس پاس کے گھروں میں تقریبن خود جا کے دعوت دے آئے تھے۔۔۔۔ بس کچھ اور گھر رہتے تھے۔
جہاں جانا باقی تھا اسی لئے دونوں میاں بیوی جلدی جلدی تیار ہوتے باہر کی جانب بڑھنے لگے
تاکے آس پڑوس کے باقی گھروں میں بھی دعوت دے دیں۔۔وہ لوگ نئے آئے تھے اسلئے یہ سب ایک دوسرے کو جاننے کے لئے یہ موقع اچھا تھا۔۔۔۔۔
موم ڈیڈ روکیں میں بھی چلتی ہوں ویسے بھی گھر پر بور ہو رہی ہوں۔۔۔۔ زیاف بھائی بھی گھر پر نہیں اور رزم بھائی اپنے روم میں ہیں۔
کیا پتہ کوئی دوست ہی بن جائے یہاں۔۔۔۔۔۔ربیکا بولتی ان تک آئی جو گیٹ سے باہر نکل رہے تھے۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وہ تینوں ابھی باہر نکلے تھے جب ربیکا نے چلتے چلتے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔موم وہاں چلتے ہیں پہلے۔۔
چلو بھئی جہاں ہماری پرنسس کہ رہی ہے وہی چلتے ہیں۔۔
وہ تینوں گھر کے باہر کھڑے تھے جب چوکیدار نے پوچھا۔۔۔
جی کس سے ملنا ہے آپ کو ؟
جی ہم یہاں نئے آئے ہیں اور ایک دعوت دینی تھی آس پڑوس والوں کو اسی سلسلے میں ہے ہیں۔۔
اوہ آپ باہر والی بیٹھک میں بیٹھیں میں سر کو بتاتا ہوں۔
ان لوگوں کو گھر کے باہر بنی بیٹھک جو کے حنان اور ضامن کے دوستوں کے لئے تھی وہاں بیٹھا کر خود اندر اطلاع دینے چلا گیا۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
حنان اور ضامن جو ٹیرس پر تھے گیٹ سے اندر آتی فیملی کو دیکھ کر نیچے آئے۔ ۔۔
السلام عليكم۔۔۔۔۔ دونوں نے قریب آکر ساتھ سلام کیا۔۔ازمغان
صاحب جو مسکراتے ہوۓ ربیکا کو کچھ کہ رہے تھے
دونوں کی آواز پر تینوں نے ساتھ گردن موڑ کر انھیں دیکھا
جہاں دو پیارے سے بچے کھڑے تھے۔۔۔۔
وعلیکم اسلام بھئی یہ پیارے پیارے بچے کس کے ہیں ا
ازمغان صاحب نے ضامن کے سے پر ہاتھ رکھتے پوچھا جو شرماتا اپنے بھائی کو دیکھنے لگا تھا۔۔
انکل ہم یہیں رہتے ہیں۔ حنان نے معصومیت سے جواب دیا
جیسے اس سے زیادہ معصوم اور کوئی نہیں۔۔۔
اچھا اچھا۔
ہائے۔۔ میں ربیکا ہم یہاں نئے آئے ہیں۔۔ ربیکا جو اتنی دیر سے چپ تھی ہاتھ آگے بڑھاتی بول پڑی ۔۔۔
ہیلو۔۔ دونوں نے باری باری ہاتھ ملایا۔۔اتنے میں چوکیدار بھی آگیا۔۔۔۔ انھیں لے کر ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔۔
ربیکا باجی چلیں گارڈن میں آپ کو اپنی بلی دکھاتا ہوں۔
ضامن ربیکا کے قریب آ کر دھیمی آواز میں بولا۔۔۔۔ ہاں چلو۔۔۔
موم ڈیڈ میں جاؤں ربیکا جھٹ کھڑی ہوتی اجازت لینے لگی۔۔۔ ہاں جاؤ۔۔ ازمغان صاحب نے مسکرا کر اجازت دی۔۔۔
دونوں آگے پیچھے باہر نکل گئے۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
افنان صاحب اور نورین بیگم اندر آئے۔۔۔۔
السلام عليكم۔۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔ تشریف رکھیں افنان صاحب مسکرا کر مصافہ کر کے بیٹھے۔۔۔
ہمارے چوکیدار بے بتایا آپ لوگ یہاں نئے آئے ہیں۔۔۔ جی
سہی سنا۔۔ دراصل یہاں کسی کو جانتے نہیں اسلئے میری بیٹی کی برتھڈے پارٹی پر دعوت دینے اے ہیں تاکے کچھ جان پھچان بن سکے۔۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔افنان صاحب مسکرا کر گویا ہوۓ
آپ سب لازمی آئیے گا۔۔افشاں بیگم نے مسکرا کر iانویٹیشن کارڈ نورین بیگم کو دیا۔۔۔ جی انشاءلله
چلیں پھر کل ملاقات ہوتی ہے۔۔۔
ارے ایسے کیسے چائے پی کر جائیں۔۔
پھر سہی ابھی اور بھی جگہ جانا ہے۔۔ دونوں اٹھ کھڑے ہوۓ۔۔۔
چلیں پھر دوبارہ ضرور آئے گا۔۔۔ انشاءلله۔
وہ لوگ ڈرائنگ روم سے نکل کر باہر آئے جہاں تینوں گھاس پر بیٹھے بلی کے ساتھ کھیل رہے تھے۔۔۔ ربیکا چلو بیٹا۔۔
افشاں بیگم کی آواز پر تینوں جلدی سے انکی جانب آئے
السلام عليكم۔۔ ربیکا نے جھٹ دونوں کو مشترکہ سلام کیا۔
وعلیکم اسلام ۔۔۔۔۔یہ آپ کی بیٹی ہے؟ نورین بیگم نے آگے بڑھ کر ربیکا کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا
جس پر سب مسکرا دئے۔۔جی۔۔۔۔۔ماشاءالله بہت پیاری ہے
ہماری بھی ایک بیٹی ہے مگر اس وقت گھر پر نہیں ہے قریب ہی اپنی فرینڈ کے گھر گئی ہے ورنہ مل لیتے اسے بھی۔۔
نورین بیگم مسکرا کر گویا ہوئیں
کوئی بات نہیں کل مل لیں گے آپ سب نے ضرور آنا ہے آپ کی بیٹی سے بھی کل ہی ملاقات ہو جائے گی
جی ضرور۔۔۔۔۔۔۔ اللہ‎ حافظ۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
آپی کیا آپ ہمارے ساتھ چل رہی ہیں؟ ضامن روم میں آکر جوش سے گویا ہوا۔۔۔۔۔۔
جو سڑے سڑے منہ بناتی اپنے الماری میں ہینگ کیے کپڑے نکل نکل کر دیکھتی اور واپس تانگ دیتی۔۔.
(وہ جب گھر آئی تب حنان اور ضامن نے بتایا تھا انویٹیشن کا )
مجھے ابھی تنگ مت کرو بہت گھمبیر مسلئہ ہے جو اسی وقت حل کرنا ہے۔۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا افف !! میرے پاس کوئی برتھڈے پارٹی ڈریس کیوں نہیں ہے ؟
وشہ کی بات پر ضامن نے الماری میں ٹنگے کپڑوں کو دیکھا
جہاں کپڑوں سے الماری لدی ہوئی تھی۔۔۔
کچھ سوچتا وہ آگے بڑھا۔ ۔ ایک منٹ روکیں۔۔۔ میں آپ کی ہیلپ کرتا ہوں۔۔۔ ہٹیں زرا۔۔
ضامن اپنے گال پر انگلی رکھ کر سوچتا سائیڈ پر ہونے کا کہ کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے پڑی چیئر اٹھا کر اس نے الماری کے سامنے رکھی
اور چڑھ کر ہینگ کئے سارے کپڑے اتر اتر کر اسے پکڑنے لگا۔
جو بیزار ہو کر خاموش کھڑی اسکی ساری کاروائی دیکھ رہی تھی۔ ۔۔
ضامن اسٹاپ۔۔۔۔۔ تم نے میری ساری الماری خالی کردی۔۔ وشہ نے سارے ڈریس بیڈ پر پھینک کر اسے گھورا
جو چئیر سے اتر کر سکون سے چلتا وشہ کو اگنور کرتا بیڈ کے قریب آ کر ایک بار پھر ڈریس سلیکٹ کرنے لگا۔۔
یہ کام تم ویسے بھی کر سکتے تھے۔۔
جی لیکن آپ بار بار نکال رہی تھیں اس لیے میں نے سوچا ایک بار ہی نکال کر دیکھ لیتے ہیں
ضامن مصروف سا بول کر ایک ایک ڈریس کو ہاتھ میں لے کر غور کرتا پھر دوبارہ رکھ دیتا۔۔۔۔
بیس پچیس منٹ بعد جا کر ضامن کو پرپل اینڈ بلیک کنٹراسٹ کا اسٹئیلش سا شلوار قمیض پسند آیا۔۔۔
زبردست !! میں بھی پہلے یہی پہننے کا سوچ رہی تھی ۔ وشہ نے اسکے ہاتھ سے ڈریس جھپٹے کے انداز میں لیا
اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے ساتھ لگا کر ہر زاویے سے دیکھنے لگی۔۔
جب کے ضامن صدمے میں چلا گیا۔۔۔ اتنی خواری کے بعد یہ صلا ملا تھا ایک تھنک یو تک نہیں۔۔۔
ضامن اسے اپنے آپ میں مصروف دیکھتا باہر نکل گیا۔۔۔(دل ہی ٹوٹ گیا تھا)
ویسے تھنکس بلے۔۔۔ وشہ مسکرا کر پیچھے مڑی مگر یہ کیا روم تو پورا خالی تھا۔۔۔
یہ کہاں چلا گیا۔۔ بڑبڑا کر کہتی وہ دوبارہ شیشے میں ڈریس لگا کر دیکھنے لگی۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ تیار ہوگئی بیٹا؟۔۔۔ نورین بیگم دروازے پر کھڑی اپنا دوپٹہ سہی کرتیں پوچھنے لگیں۔۔۔۔۔ جو اپنے بالوں میں بینڈ باندھ رہی تھی۔۔۔۔
جی ہوگئی چلیں۔۔۔۔۔۔۔ وشہ نے جلدی سے دوپٹہ لیا
پھر نورین بیگم کے ساتھ لاؤنج میں آئی جہاں پہلے سے ہی ابّو اور دونوں تیار بیٹھے انکا ہی انتظات کر رہے تھے
ماشاءالله میری بیٹی تو بہت پیاری لگ رہی ہے۔۔۔۔ افنان
صاحب نے مسکرا کر اسکے سر پر پیار کیا۔۔تھنک یو ابّو ۔۔۔۔
بس آپ کو تو صرف اپی ہی پیاری لگتی ہیں۔۔۔ ہم تو جیسے جمعدار دیکھتے ہیں۔۔۔ حنان ناک چڑھا کر بولا۔۔۔۔
بیچارہ کب سے انتظار میں تھا کب کوئی تعریف کرے۔۔۔۔ مگر کسی نے توجہ ہی نہیں دی۔۔۔
کیا واقعی حنان تم جمعدار ہو ؟ وشہ اسے چڑھانے کو ہنسی ضبط کرتی پوچھنے لگی۔۔۔
ہاں تو آپ کا ہی بھائی ہوں نہ میں جمعدار تو آپ جمعدار کی بہن جمعدارنی۔۔۔۔۔ حنان نے زبان چڑھا کر کہا۔۔
ضامن زور سے ہنسا۔۔۔۔۔۔جب کے دونوں اپنے بچوں کی نوک جھونک سے محضوظ ہورہے تھے۔۔
بہت زبان لمبی ہوتی جا رہی ہے تمہاری۔۔ وشہ نے مصنوئی غصے میں کہا۔۔
اس سے پہلے جنگ شروع ہوتی۔۔۔ نورین بیگم نے بیچ میں جھڑک دیا۔۔۔ بس کرو تم لوگ چلو ویسے ہی اتنی دیر ہوگئی ہے۔۔۔۔
سب آپی کی وجہ سے دیر ہوئی۔۔۔۔
ہاں تم تو جیسے رات کو ہی تیار ہو کر سوئے تھے۔۔۔
یونہی نوک جھونک کرتے سب کار میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
سوا آٹھ بجے وہ لوگ ازمغان ولا پوھنچے۔۔ کار سے اتر کر سب اندر بڑھنے لگے
جب کے وشہ کو گھبراہٹ ہونے لگی۔۔۔ کن اکھیوں سے باغیچے کو دیکھا۔۔۔ ہر طرف لائٹننگ تھی۔۔۔۔۔ ہر چیز روشنی میں نہائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔ ظاہر ہے اکلوتی بیٹی کی سالگرہ تھی۔۔۔
سب اندر بڑھے۔۔۔ وشہ سب سے پیچھے تھی۔۔۔ بنگلہ جتنا باہر سے خوبصورت تھا اس سے کہیں زیادہ اندر سے شاندار تھا۔۔۔
وشہ ادھر ادھر دیکھتی اندر بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔سفید اور گلابی غباروں کے امتزاج سے سارا حال سجایا گیا تھا
ایک جانب میوزک سسٹم کے ساتھ ڈی جے بیٹھا تھا۔۔۔ جو برتھڈے سونگز چلانے میں مصروف تھا۔۔
ملازم مستعدی سے مہمانوں کو جوس اور ڈرنکس سرو کررہے تھے۔
سارا حال مہمانوں سے بھرا تھا۔۔۔۔ وشہ دیکھنے میں اتنی مگن تھی کے اسے پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔۔ سب رزم کی فیملی سے مل ملا کر ٹیبل کی جانب بڑھ گئے
جہاں کیک کاٹنے کے لئے صرف رزم کا ہی انتظار تھا۔۔۔۔ جو صوفے پر اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔۔
میں بلا کر لاتی ہوں بھائی کو۔۔۔۔۔۔ ربیکا چھری واپس رکھتی تیزی سے اسے بلانے بھاگی۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
آگئے بھائی !! ربیکا رزم کا ہاتھ پکڑتی مسکرا کر قریب آئی۔۔۔۔
“رزم پہلے ان سے ملو۔۔۔۔ افنان ملک یہیں قریب میں ہی انکا گھر ہے۔۔۔۔۔۔ ازمغان صاحب نے رزم سے ان کا تعارف کروایا۔۔
السلام عليكم انکل۔۔۔۔۔ وعلیکم اسلام بیٹا۔۔۔۔ رزم کے سلام کرنے پر افنان صاحب نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
افنان صاحب یہ میرا بڑا بیٹا ہے رزم ازمغان مرزا۔۔۔۔۔
ماشاءالله۔۔۔۔۔
ڈیڈ کم۔۔ ربیکا ضامن کو دیکھتی مسکراہٹ دباتی زور سے بولی۔۔۔۔۔۔جو کیک کو دیکھ کم گھور زیادہ رہا تھا۔۔۔۔
کمینگ بیٹا۔۔ آجائیں افنان صاحب۔۔، آجاؤ رزم تم بھی۔۔۔
ازمغان صاحب رزم کو کہتے افنان صاحب کو لیتے آگے بڑھ گئے۔۔۔۔
رزم نے آگے بڑھنے سے پہلے پورے حال میں نظریں دوڑائیں مگر اسے وہ کہیں نہیں دیکھی۔۔۔،۔سر جھٹکتا وہ ربیکا کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کیک کتنے کہ بعد سب کو سرو کیا جانے لگا۔۔۔ حنان تم لوگوں کی آپی نہیں آئیں؟ ربیکا چیئر پر بیٹھتی پوچھنے لگی۔۔۔
جو کیک کھا رہے تھے۔۔ کیا تم نہیں ملی؟ ابھی یہیں تو تھیں تمھارے پرنٹس سے مل رہی تھیں۔۔ حنان نے کیک کھاتے ہوئے بتاہا۔۔
ہیں۔۔۔۔! مجھے تو نہیں ملیں۔۔،۔چلو مل کر آتے ہیں۔۔۔ ربیکا کہتے ساتھ ہی چیئر پیچھے کرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
یار تم چلی جاؤ وہ یہاں نہیں تو ضرور باہر باغیچے کے پاس ہونگی ویسے بھی انہیں پھول بہت پسند ہیں تبھی۔۔۔۔ میں کیک کھا رہا ہوں
حنان نے دوبارہ چمچ بھر کر منہ میں ڈالا۔۔
بھوکے نیتتے بعد میں کھانا ابھی شرافت سے اٹھ جاؤ۔۔ ربیکا گھور کر بولو۔۔۔۔۔۔ضامن جو اسکی پلیٹ سے کیک اٹھانے لگا تھا۔۔۔۔ ربیکا کی تیوریاں دیکھ کر شرافت سے کھڑا ہوگیا۔۔۔
چلیں ربیکا باجی میں چلتا ہوں۔۔۔
ٹھیک ہے چلو۔۔۔۔۔۔۔ اور تم کیک ہی کھانا صرف یہ نہ ہو پلیٹ بھی نگل گئے
ربیکا جل کر کہتی ضامن کا ہاتھ پکڑتی چلی گئی۔۔۔
پیچھے حنان نے اسکی پلیٹ کا کیک بھی اپنی پلیٹ میں رکھا اور اٹھ کر انکے پیچھے بھاگا۔۔ ویٹ گائیز میں بھی آرہا ہوں
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
السلام عليكم۔۔۔میرا نام ربیکا ہے۔۔”آپ حنان اور ضامن کی سسٹر ہیں نہ؟؟ سب سے مل ملا کر وہ ان دونوں کے ساتھ وشہ سے ملنے آئی۔۔
وشہ اپنے سامنے پندرہ سولہ سال کی لڑکی کو دیکھ کر مسکرا بھی نہ سکی۔۔۔
وشہ کی نظر ان سے کچھ فاصلے پر کھڑے رزم پر گئی۔۔۔
جو اپنے بھائی سے کچھ بات کر رہا تھا۔۔۔۔
یکدم رزم نے اسے دیکھا اس کے دیکھنے پر وشہ گڑبڑا کر نظر جھکا گئی
”مطلب یہ ربیکا ہے افففف !! وشہ اس دن کی کہی باتوں کو
یادکرکے شرمندہ ہونے لگی۔۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔ تم ربیکا ہو ؟ وشہ نے زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجا کر پوچھا
(کہیں کھڑوس یہاں نہ آجائے ورنہ اجھی خاصی بے عزتی ہوجائے گی)
جی میں ہی ربیکا ہوں۔۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔ ۔۔
کیا میں آپ کو ان دونوں کی طرح آپی کہ سکتی ہوں۔۔ ربیکا خوش ہوتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔۔ وشہ کو وہ اچھی لگی
خوش مزاج اور گھل ملنے والی۔۔۔۔ مگر اسکا بھائی اف! وشہ سوچتی ایک بار پھر رزم کو دیکھنے لگی۔۔۔جو ایسے کھڑا تھا جیسے سب پر احسان کر ررہا ہے ہنہ
منہ بناتی وہ دوبارہ انکی طرف متوجہ ہوئی۔۔
ہاں ضرور بول سکتی ہو۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک شرط پر
اگر منظور ہے تو۔۔۔ کیا ؟؟ وشہ کی بات پر تینوں نے ساتھ کہا۔۔۔
وشہ کو ہنس آگئی۔۔۔ ہاہاہا !! یہی تمہے مجھ سے دوستی کرنی پڑے گی۔۔۔۔ بولو منظور ؟ وشہ نے ہاتھ ملانے کے لئے بڑھایا۔۔۔۔۔۔نڈریڈ پرسینٹ چہک کر کہتی اس نے وشہ سے ہاتھ ملایا۔ ۔
رزم جو کچھ فاصلے پر کھڑا سرسری سا انہیں دیکھ اور ساتھ سن بھی رہا تھا۔۔۔ ہاتھ ملانے پر انکی طرف
دیکھنے لگا۔۔۔۔
پھر ایکسیوز کرتا انکی جانب بڑھا۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ربیکا !! وہ جو باتِں کرنے میں مصروف تھے۔۔۔۔ رزم کی آواز پر خاموش ہوتے گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگے
وشہ اسے دیکھ کر فرار ہونے کا بہانہ سوچنے لگی۔۔۔۔۔جی بھائی۔۔۔ تمہے اندر زیاف بلا رہا ہے روم میں۔۔۔۔جاؤ۔۔
رزم ایک نظر اسے دیکھتا سنجیدہ سا بولا۔۔۔ اچھا۔۔ میں آتی ہوں وشہ آپی۔۔۔ ربیکا اسے کہتی اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
رزم نے حنان اور ضامن کو دیکھا۔۔۔ جاؤ تم دونوں بھی اندر ڈنر لگ رہا ہے۔۔۔
کھانے کا سن کر دونوں اندر کی جانب بھاگے۔۔۔ وشہ بھی پیچھے جانے لگی جب رزم نے اسکا راستہ روکا۔
یہ یہ کیا بدتمیزی راستہ کیوں روکا۔۔۔ وشہ اسے گھورتی ہوئی بولی۔۔ جو دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
میں تو صرف یہ جاننا چاہ رہا ہوں یہ چوری کرنے کا شوق کب سے ہے؟
رزم کے سوال پر وشہ غصے میں ایک قدم اسکی جانب بڑھی ۔۔ میں کوئی چور نہیں ہوں۔۔
نہ ہی میں پھول توڑنے کے ارادے سے آئی تھی اور میں کیوں بتاؤں کے کیوں آئی تھی ہنہ۔۔۔۔۔۔
وشہ تیز تیز کہتی اسکی سائیڈ سے نکل کا بھاگی۔۔۔۔ رزم نے اسے دیکھا۔۔۔
چپڑ چپڑ کروالو بس اس لڑکی سے۔۔۔۔ آہستہ سے کہتا وہ خود بھی اندر کی جانب بڑھ گیا۔ ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: