Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 4

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 4

–**–**–

وشہ آپی آپ نے کھانا کھایا؟ ۔۔۔ ہاں بہت مزے کا تھا۔۔۔ ربیکا اسکے ساتھ آ کر بیٹھتی مسکرا کر پوچھنے لگی
جس کا جواب اسنے بھی مسکرا کر دیا۔۔۔۔۔۔ اتنے میں زیاف اپنے دوست کے ساتھ انکی طرف آتا دکھا۔۔۔۔
ہیلو پریٹی گرلز ۔۔۔زیاف نے قریب آکر دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔السلام عليكم۔۔۔۔ اوہ وعلیکم اسلام۔۔۔سلام کا جواب دیتا وہیں ان دونوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔۔
وشہ کو اسکے ساتھ بیٹھے شخص کی نظروں سے الجھن ہونے لگی۔۔
جو کب سے اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے سالم ہی نگل جائے گا۔۔۔۔
یہ بات زیاف نے بھی محسوس کی تو جھٹ بہانہ کر کے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
اوکے گرلز پھر ملیں گے۔۔۔ زیاف مسکرا کر کہتا باہر کی جانب بڑھنے لگا۔۔جاتے جاتے پھر اس لڑکے نے گردن گھما کر اسے دیکھا
زیاف نے روک کر سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھا۔۔ وہ انکے باپ کے دوست کا بیٹا تھا۔۔۔۔۔کافی رنگین مزاج کا۔۔۔
زیاف نے اسکے کندھے پر زور سے ہاتھ رکھا۔۔۔ چلو۔۔۔زیاف نے سرد لہجے میں کہا۔۔۔۔اسے خالد کا وشہ کو یوں دیکھنا کافی ناگوار گزرا تھا۔ ۔۔
خالد جیسے ہوش میں آیا۔۔ ہاں ہاں چلو۔۔
ان کے جاتے ہی واشہ نے سکون کی سانس لی۔۔۔۔ہنہ گھٹیا شخص ۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ !! ربیکا ملنے آئی ہے۔۔۔۔ نورین بیگم نے وشہ کو آواز دی جو گھاس پر بیٹھی ہاتھ اٹھائے دعا کرنے میں مشغول تھی۔۔۔
یا اللہ‎ بادل آگئے ہیں تو برسا بھی دیں۔۔ آپ تو جانتے ہیں بارش مجھے کتنی پسند ہے بس جلدی سے برسا دیں
تاکے میں پکوڑے اور چٹنی کھا سکوں۔۔۔۔
“ربیکا وہیں چلتے ہیں۔۔۔وہ ایسے سنیں گیں نہیں۔۔۔۔ پتہ نہیں کونسا چلہ کاٹ رہی ہیں اس وقت۔۔۔حنان کہتا آگے بڑھا
ربیکا ہنستی ہوئی اسکے پیچھے گئی۔۔۔
پلیز پلیز بس گرج چمک کے ساتھ شروع ہوجاؤ پیاری بارش۔۔۔ وشہ آنکھیں میںچیں ہاتھ اٹھائے دعا کرنے میں مشغول تھی۔۔
آج موسم کافی حسین تھا۔۔۔۔۔۔ دونوں اسکے پیچھے ہنسی ضبط کیے کھڑے رہے۔۔۔۔ ربیکا نے موبائل نکال کر
اس میں بادل گرجنے کی آواز سرچ کر کے اسکے کان کے قریب کی۔۔۔
بادل گرجنے کی آواز پر وشہ جھٹ آنکھیں کھولتی اچھل کر کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔ یاہوووو۔ ۔۔۔
وشہ کے یوں کرنے کی دیر تھی ربیکا حنان کے ساتھ پیچھے سے آتے ضامن اور زیاف کے قہقہے ابل پڑے۔۔۔
وشہ روک کر انہیں پہلے نا سمجھی سے دیکھنے لگی جب ربیکا کے ہاتھ میں پکڑے موبائل سے دوبارہ آواز آئی
ساتھ ہی انکے پاگلوں کی طرح قہقے لگانے کا سمجھ آیا۔۔
مجھے بیوقوف بنایا۔۔۔۔رک جاؤ زرا۔ ۔ وشہ ربیکا کو مارنے بھاگی۔۔دونوں بھاگ بھاگ کر تھک گئیں تو وہی گھاس پر گر نے کے انداز میں بیٹھ گئیں۔۔
تینوں بھی ہنستے ہوئے ساتھ آکر بیٹھے۔۔۔۔
ارے تم کب آئے۔۔۔ وشہ کی نظر زیاف پر پڑی تو ہنسی ضبط کرتی پوچھنے لگی۔۔۔۔۔
نظر آگیا میں؟ زیاف آنکھیں دکھاتا بولا۔۔۔
ہاہاہا!! سوری میں نے ابھی دیکھا تمہے۔۔۔ ہمم تو چلو مہمانوں کے لئے کچھ کھانے پینے کو منگواؤ۔۔
بڑے کوئی مہمان۔۔۔وشہ منہ چڑھا کر بولی۔۔۔
“نہیں زیاف بھائی آپ نے ابھی مجھے باہر کہا تھا کے امرود توڑنے جائیں گے ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے زیاف کوئی جواب دیتا
حنان اور ضامن دونوں پاس کھڑے بولے۔۔۔ افف اچھا چلو۔
“آجاؤ تم دونوں بھی۔۔۔۔۔ زیاف بیزارہت سے کھڑا ہوا پھر دونوں کو بھی ساتھ چلنے کی پیشکش کی۔۔۔۔
ہاں چلو۔۔۔۔۔ میں امی کو بتا کر ابھی آئی۔ ۔۔وشہ جلدی سے کھڑی ہوتی اندر کی جانب بھاگی ~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
تم لوگوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔۔حنان تم چڑھو۔۔۔ وشہ نے حنان کو کہا۔۔۔
میں نہیں چڑھ رہا۔۔۔۔۔ میں ابھی نہا کر آیا ہوں کپڑے گندے ہوگئے تو امی ڈانٹیں گی۔۔۔
حنان کی بات پر اسنے صرف گھورا۔۔۔۔۔۔ اگر کچھ کہتی تو
وہ لازمی ناراض ہو کر چلا جاتا۔۔۔
اچھا ہٹو تم سب میں چڑھتی ہوں۔۔ وشہ سب کو پیچھے کرتی درخت کی موٹی شاخ کو پکڑ کر چڑھنے لگی۔۔۔
زیاف تھوڑی دیر کے لیے اندر گیا تھا آتے ہوئے بولا
وشہ یہ کیا کر رہی ہو اترو میں دیتا ہوں اتار کر۔۔۔۔ زیاف پریشانی سے کہتا آگے آیا
مگر جب تک وہ اوپر چڑھ کر موتی سی شاخ پر بیٹھ کر ایک ہاتھ سے ٹہنی کو پکڑے دوسرے ہاتھ سے امرود توڑنے لگی۔۔۔۔
یکدم بادل جو صبح سے برسنے کو تیار تھے۔۔۔۔۔جس کے لئے وشہ صبح سے گھاس پر بیٹھی بقول حنان کے چلہ کاٹ رہی تھی
زور و شور سے گرجے جس کا نتیجہ یہ نکلا کے وشہ میڈم
چیخ مارتی درخت پے لٹک کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔
نیچھے کھڑے جو اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ ان سب کی بھی چیخیں بلند ہوئیں۔۔۔۔۔۔ آپی! !! وشہ!! ۔۔۔۔آآآ۔۔۔۔
کوئی بچاؤ میری آپی کو ورنہ نیچے گر کر سر پھٹ گیا تو ٹانکے لگنے کے لئے بال کاٹنے پڑیں گے۔۔۔۔۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔۔۔۔
حنان کی بات پر یکدم سنناٹا ہوا۔۔۔۔ وشہ نے نیچے اپنے بھائی کو دیکھنے کی کوشش کی۔۔۔۔
تم بیوقوف میرے گرنے کا انتظار کر رہے ہو ایک بار مجھے اتر جانے دو میں تمہے گنجا کر دونگی۔۔۔۔ وشہ صدمے سے باہر نکل کر یکدم پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولی۔۔۔
بیوقوف!! زیاف نے اسکے سر پر چپت لگائی اور سیڑی لینے بھاگا۔۔۔۔۔۔اتنے میں موٹی موٹی بوندیں گرنے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے تیز بارش میں تبدیل ہوگئی۔۔۔
وشہ آپی سمبھل کر۔۔۔۔۔،ربیکا گھبرا کر بولی بارش تیز ہونے کی وجہ سے وہ لوگ چہرہ اٹھا کر نہیں دیکھ پا رہے تھے. ۔۔
یا اللہ‎ یہ کیا ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔ بارش مانگی تھی یہ تو لگ رہا ہے جیسے مجھے موت کا فرشتہ لینے آ رہا ہے۔۔۔ پلیز مجھے بچا لیں ۔۔۔
کوئی بچاؤ میرے ہاتھ چھوٹ رہے ہیں۔۔۔ وشہ چیخ چیخ کر بول رہی تھی۔۔۔۔۔ جب گیٹ سے بلیک مرسیڈیز اندر آئی۔۔۔۔
رزم کار سے نکل کر اندر جانے لگا۔۔۔۔ جب نظر زیاف پر گئی جو دونوں ہاتھوں سے سیڑی کو تھامے بھاگنے کے انداز میں لان کے کونے پر جا رہا تھا
رزم نے دیکھا اسکی بہن نیچے کھڑی چہرہ اوپر کی جانب کیے کچھ کہ رہی تھی
رزم نے جب غور کیا تو کوئی لٹکا ہوا نظر آیا۔۔۔۔ تجسس کے ہاتوں بارش کی پرواہ کیے بغیر وہ وہاں پونھچا۔۔
وشہ کو لٹکے دیکھ اسکا قہقہہ چھوٹنے لگا۔ ۔ جو بہت مشکل سے ضبط کیے وہ آگے بڑھا۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔
رزم کی آواز پر سب نے گردن گھوما کر اسے دیکھا جو پورا بھیگ چکا تھا۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم کی آواز پر سب نے گردن گھوما کر اسے دیکھا… جو پورا بھیگ چکا تھا۔۔۔۔
وشہ تو اسے سامنے دیکھتے ہی رو دینے والی ہو گئی…اتنی شرمندگی پتہ نہیں کیا سوچ رہا ہو گا۔۔۔
وشہ سوچتی ہوئی آنکھیں بند کے نیچے رکھی سیڑی پر پیر رکھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
اسلام علیکم رزم بھائی…. سب نے یک زبان ہو کر سلام کیا
جس نے صرف سر ہلا اور سب کو اندر جانے کا حکم دیا۔۔۔
بارش کی وجہ سے سب بری طرح بھیگ چکے تھے۔۔۔ بھیگ تو وہ بھی رہا تھا۔۔۔۔ مگر اسے اپنی کوئی پرواہ نہیں تھی
سب نے وشہ کو دیکھا جو آنکھیں پٹ سے کھولتی انھیں جانے سے منا کر رہی تھی۔۔۔
سنا نہیں تم سب نے۔۔۔۔ جاؤ اندر اور زیاف لے کر جاؤ واپس سیڑی۔۔۔،۔ مجھے دوبارہ بات دوہرانی نہ پڑے ۔۔
رزم نے اپنی رعب دار آواز میں سب کو حکم صادر کیا۔۔۔
سب نے ترحم بھری نظروں سے وشہ کو دیکھا جو ہلکے ہلکے نفی سے سر ہلا رہی تھی۔۔۔۔۔ پھر رزم کو دیکھ کر سب ایک ایک کر کے جانے لگے۔۔۔۔
میں کیسے اترونگی۔۔۔ہاں۔۔۔ پلیز روکو سب۔۔۔۔وشہ غصے سے چیخی۔۔
وشہ کی آواز پر سب نے ایک بار پھر اسے دیکھا۔۔۔میری آپی کا اب اللہ‎ ہی حافظ ہے حنان بڑبڑاتا افسوس سے سر جھٹکتا چلا گیا۔۔۔۔
اف اللہ‎ میرے ہاتھ پھسل رہے ہیں۔۔۔۔ بچاؤ مجھے پلیز۔۔ وشہ چیخ رہی تھی۔۔۔ جب کے رزم سکون سے کھڑا رہا۔۔۔
چلاؤ مت اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔۔۔ رزم نے سکون سے کہاں۔۔۔۔۔زیاف سیڑی رکھ کر بھاگتا ہوا آرہا تھا۔۔۔۔
جب رزم نے اسے ہاتھ کے اشارے سے پلت جانے کو کہا۔۔۔۔
وشہ بےبسی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ جو بھائی کے اشارے سے چپ چاپ مڑ کر چلا گیا۔۔۔
یا اللہ‎ موت کا فرشتہ ہی بھیج دیں۔۔۔ یہ تو جللاد ہوگئے ہیں۔
وشہ روہانسی ہو رہی تھی۔۔۔۔ جب رزم کی آواز اسکے کانوں میں پڑی۔
باتیں کرتی تھکتی نہیں ہو۔۔۔ جو خود سے بھی باتیں کرتی رہتی ہو۔۔۔۔اس کی بات سن کر وشہ نے تپ کر جھٹکے سے پنیچے اسے دیکھنا چاہا۔۔۔ مگر برا ہوا ۔۔۔،۔۔۔ ہاتھ پھسل گیا۔۔۔
وشہ کے منہ سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔۔۔اس سے پہلے وہ زمین پر گر کر ہڈی تڑوا لیتی۔۔۔ رزم جو قریب ہی نیچے کھڑا تھا جلدی سے آگے بڑھ کر اسے گرنے سے بچایا۔۔۔
وشہ نے زور سے آنکھیں میچیں ہاتھوں کی مٹھیاں سختی سے بند کیے چیخنے مارنے لگی۔۔۔
رزم اسے دیکھنے لگا جو بلکل معصوم بیچی لگ رہی تھی۔۔۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
وشہ نے اسکا کورٹ اپنے ہاتھوں سے جکڑا۔۔۔۔ رزم یکدم ہوش میں آیا۔۔۔ وشہ کو جب لگا وہ بچ گئی ہے تو دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں۔۔
رزم کو اتنے قریب دیکھ کر سٹپٹا گئی۔۔۔ اتت اتریں نیچے مجھے۔۔ گرنے دیتے۔۔،۔۔وشہ جانے کیوں اس سے روٹھتی ہوئی دوسری جانب دیکھنے لگی
رزم نے اسے آہستہ سے اسے نیچے اتارہ اور جانے لگا۔۔۔
“افف بچ گئی نہ جانے کونسا عذاب نازل ہوگیا تھا مجھ پر۔۔ وشہ پھر بڑ بڑبڑاتی رزم کے پیچے چلنے لگی….
رزم ایک دم رک کر پلٹا۔۔ وہ جو ابھی تک بڑبڑاتی اپنا دوپٹہ سہی سے اوڑھتی تیزی سے آرہی تھی۔۔۔ رزم سے ٹکّر ہوتے ہوتے بچی۔۔۔
شکر ہے تم نے بروقت بریک لگائی ورنہ ایکسیڈنٹ میں تمہارا خاصا نقصان ہوجاتا۔۔۔۔ویسے ہی اتنی سے ہو تم۔۔۔رزم سنجیدگی سے بولا۔۔۔
یہ آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں؟ وشہ نے تیوری چرھائے دونوں ہاتھ کمر پر دائیں بائیں ٹیکا کر پوچھا۔۔۔
تم جو سمجھو۔۔۔خیر میں یہ کہنے کے لہے روکا ہوں۔۔۔کے تم درخت پر لٹکی ہوئی بلکل بھیگی بندریا لگ رہی تھی۔۔
رزم کہتا تیزی سے پلٹ کر چل دیا۔۔۔وشہ نے غصے سے اسکی پشت کو گھورا ۔۔
آپ خود کیا ہیں بھیگے ہوۓ کھڑوس ہنہ۔۔۔۔۔ وشہ گھاس پر زور سے پیر پٹختی اسکے پیچھے گئی۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
دیکھو ذرا یہ سب ہی بھیگتے ہوۓ آرہے ہیں۔۔۔ افشاں بیگم صوفے پر بیٹھی سب کی کلاس لے رہی تھیں۔۔۔جو لائن سے سر جھکے کھڑے کب سے ڈانٹ سن رہے تھے
جب رزم اور وشہ اندر آئے۔۔۔
آنٹی یہ سب آپ کے بڑے بیٹے کی وجہ سے ہوا ہے اگر یہ نہ آتے تو ہم سب ہلکے پھلکے گیلے ہوتے۔۔۔
وشہ کی بات سن کر سب کو ہنسی آگئی۔۔ افشاں بیگم کے بھی چہرے پر مسکراہٹ آ گئی
ہنسو مت تم سب غدار ہو۔۔۔۔ میں جارہی ہوں گھر۔۔۔ اچھا آنٹی اللہ‎ حافظ۔۔۔۔وشہ آگے بڑھ کر جھٹ پٹ افشاں بیگم کے گل پر پیار کرتی باہر نکل گئی۔۔
یہ لڑکی بھی نہ گھوڑے پر سوار ہے دیکھو ذرا اکیلے نکل گئی.۔۔۔۔۔جاؤ زیاف کار لیکر بارش دوبارہ تیز نا ہوجائے
انکے کہنے کی دکر تھی سب ہی باہرجانے لگے۔۔۔
زیاف نے کار کا دروازہ کھولا ہی تھا۔ ۔۔ جب اسکا موبائل بجنے لگا
زیاف نے روک کر موبائل نکال کر یس کا بٹن دبایا اور کان سے موبائل لگا لیا۔۔۔۔ ہمم۔۔۔۔ اوکے میں آ رہا ہوں۔۔۔
دوسرے طرف کی بات سن کر اسنے کال کٹ کی پھر اندر بڑھ گیا۔۔۔ “ہیں یہ واپس کیوں جا رہے ہیں۔۔۔
تینوں پیچھے سیٹ ہو کر بیٹھ چکے تھے۔۔،۔جب زیاف کو واپس جاتے دیکھا۔۔
کچھ دیر ہی گزری تھی جب زیاف رزم کے ساتھ آتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔رزم آتے ہی ڈرائیون سیٹ پر بیٹھا. ۔۔۔
زیاف نے پیچھے انکو بتایا”مجھے کہیں جانا ہے رزم بھائی لیجائیں گے۔۔۔۔۔ اوکے۔۔۔۔۔ زیاف کہتا کار سے پیچھے ہٹا۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم سڑک پر دیکھتے ہوئے آہستہ کار چلا رہا تھا شاید وہ کہیں مل جائے۔۔۔
یکدم ضامن کی نظر روڈ کنارے کھڑی وشہ پر پڑی جو ابھی تک وہیں تھی۔۔۔۔ رزم بھائی وہ رہیں آپی۔۔۔
ضامن جوش میں زور سے بولا۔۔۔۔ رزم پہلے ہی اسے دیکھ چکا تھا۔۔۔قریب جا کر کار روکی۔
تینوں کو “سب کار می رہنا۔۔۔ کہتا خود اتر کر اسکے قریب گیا۔۔۔۔ جو اسے دیکھ کر منہ بنا رہی تھی۔۔۔
چلو۔۔۔وہ جو سمجھ رہی تھی پہلے منائے گا۔۔۔ چلو۔۔۔۔سن کر ساری خوش فہمیاں ہوا ہوگئیں۔۔۔ ہنہ میں نہیں جا رہی۔
رزم جو کہ کر واپس جا رہا تھا۔۔۔ اسکی بات پر واپس اسکے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔ کیوں ؟ دوبارہ ایک لفظ۔۔۔۔۔
کیوں کا کیا مطلب مجھے نہیں بیٹھنا آپ کی کار میں۔۔۔ وشہ ناک چڑھا کر بولی۔۔
ٹھیک ہے گاڑی کے ساتھ باندھ دیتا ہوں۔۔۔ مسلئہ حل
کیاااا!! آپ ایک لڑکی کو گاڑی کے ساتھ باندھیں گے ترس نہیں اے گا آپ کو۔۔
رزم کی بات سن کر وشہ حیرت سے آنکھیں پھلائے بولی۔۔”
تم نے خود منا کیا ہے کے نہیں بیٹھنا۔۔۔
ہیں تو وہ میں ناراض ہوں اسلئے۔۔۔۔۔ خیر اگر آپ اتنا ہی انسس کر رہے ہیں تو بیٹھ جاتی ہوں۔۔ وشہ کہتی فرنٹ سیٹ پر جا بیٹھی
پیچھے رزم کا دل کیا زور زور سے قہقہے لگائے۔ اسنے پہلی لڑکی ایسی دیکھتی تھی۔۔۔۔ بھیگی بندریا۔۔۔۔ہلکے سے بڑبڑاتا وہ کار میں بیٹھا
اور گھر کی طرف جانے لگا۔۔۔ یکدم وشہ چیخی۔۔گھر نہیں پہلے آئی کریم کھلانے لے کر چلیں پلیز۔۔۔ وشہ معصوم شکل بنا کر بولی۔۔۔
پیچھے سے تینوں نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔
کس خوشی میں اور ٹھنڈ میں آیسکریم بیمار پڑنا ہے تم سب نے۔۔۔۔۔۔رزم نے بولتے آخر میں ڈانٹا۔۔۔
ہم پہلی بار اپ کی کار میں بیٹھے ہیں اور دوسری بات آپ کے پڑوسی ہیں۔۔ وشہ کی بات پر اسنے بھنویں اچکا کر اسے دیکھا
وشہ اسکے یوں دیکھنے پر گڑبڑا گئی۔۔۔ مم میرا مطلب تھوڑے سے دور کے مگر رہتے تو ہیں نہ۔۔۔۔
پھر بھی میں نہیں لے کر جا رہا۔۔۔ پلیز رزم بھائی۔۔۔ ضامن نے روہانسی آواز میں کہا۔۔۔اف کہاں پھس گیا۔۔۔۔ اوکے۔۔۔۔۔۔
خود سے بڑابڑاتے اسنے حامی بھری ۔۔۔۔۔۔یاہووووو۔۔۔۔۔رزم نے ایک نظر اسے دیکھا جو سب کے ساتھ بچوں کی طرح خوش ہو رہی تھی ۔۔ پاگل۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم نے آیسکریم بارلر کے سامنے کار روکی۔۔۔حنّان میرے ساتھ اؤ۔۔۔سب سے پوچھ لو کون سا فلیور چاہیے۔۔
رزم اسے آرڈر دیتا اترا۔۔۔۔۔پھر کاؤنٹر پر جا کر انتظر کرنے لگا۔۔۔۔ہنہ خود نہیں پوچھ سکتے تھے۔۔ وشہ بڑبڑاتی حنان کی جانب متوجہ ہوئی
جو سب سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں آیسکریم بھی آگئی۔۔۔ رزم گاڑی میں آکر بیٹھا۔۔۔ اپ نے نہیں لی۔۔۔
وشہ آیسکریم کھاتے ہوۓ اس سے پوچھنے لگی جو بیٹھا موبائل پر انگلیاں چلا رہا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ٹائپنگ کرتے ہوۓ اسنے جواب دیا پھر اچانک روک کر اسے دیکھا
وشہ کو لگا وہ اس سے مانگ لے گا۔۔۔ “میری خود ختم ہوگئی ہے کھانی ہے تو منگوالیں ۔۔ کپ کو مضبوطی سے پکڑے وہ ایسے بولی جیسے سچ میں وہ اس کے آیسکریم کا کپ چھین لے گا۔۔۔
نہیں چاہیے۔۔۔ ہونٹ کو دباتا وہ واپس موبائل کی طرف متوجہ ہوگیا۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وہ لوگ گھر جا رہے تھے جب یکدم رزم نے اسکی جانب دیکھ کر کہا جیسے جوش میں ہوش نہیں تھا بار بار اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتی۔۔۔۔
اگر چپ نہیں ہوئی تو گاڑی سے باہر ہوگی۔۔۔۔۔۔رزم نے تپ کر کہا جو کب سے سیٹ سے مڑ مڑ کر ان تینوں کے ساتھ زور و شور سے باتیں کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ ۔۔۔۔
وشہ نے اسکی بات سن کر اسے دیکھا جس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔۔۔ہیں!! آپ کو اب میرے بولنے سے کیا پرابلم ہے… میں اپنے منہ سے بول رہی ہوں…. میرا گلہ میری آواز۔۔۔
وشہ ناک چڑھا کر سیٹ پر سیدھی ہوئی وہ تو اس سے تھوڑی بات کر رہی تھی۔۔۔یکدم کچھ سوچتی وہ اسکی جانب دیکھنے لگی
پھر آنکھوں کو چھوٹا کرتی بولی ۔۔۔۔۔ ایک منٹ۔۔۔ آپ جیلس ہو رہے ہیں میری آواز سے؟ ہاہ۔۔۔۔ ویسے ہونا بھی چاہیے اتنی میٹھی آواز جو ہے میری۔۔۔۔۔ کیوں گائیز۔۔۔
وشہ کہتی کہتی دوبارہ گھومی جو رزم کی جانب دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے رزم بھائی اسے اب نکالیں گے یا پھیکیں گے۔۔۔۔۔۔
رزم نے جھٹکے سے کار روکی۔۔۔۔۔وشہ کا سر ڈیش بورڈ سے لگتے لگتے بچا۔۔۔۔تم اترو ابھی ۔۔۔
اف اللہ کون روکتا ہے ایسے گاڑی۔۔۔جھٹکے سے میرا سارا اسٹرکچر حل گیا
وشہ اسکی بات ان سُنی کرتی تپ کر بولی۔۔۔ جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گهور رہا تھا….ڈھیٹ لڑکی۔۔بڑبڑا کر جھٹکے سے دوبارہ کار اسٹارٹ کرتا
اب کی بار وہ وشہ کو نظر انداز کرتا گھر کی جانب بڑھ گیا.۔۔۔وشہ نے گھورا۔۔۔۔
جب کے ربیکا نے شکر کیا۔۔۔۔۔ کے بھائی نے غصہ کنٹرول کرلیا ورنہ ضرور کچھ غلط ہوجاتا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: