Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 6

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 6

–**–**–

کیا بات ہے وشہ……جب سے آئی ہو خاموش ہو۔۔۔۔کسی نے کچھ کہا ہے؟
وہ جو ابھی تک خالد کا سن کر چپ تھی۔۔۔۔۔ لان میں گھاس پر بیٹھی تھوڑی گٹھنے پر ٹکاِئے
ایک ہاتھ سے گھاس کو نوچتی کسی غیر مرئی نکتے پر سوچتی ارد گرد سے گافل بیٹھی تھی۔۔۔
جب نورین بیگم نے کندھے پر ہاتھ کا دباؤ دے کر پوچھا۔۔۔
وشہ بری طرح چونکی۔۔۔۔ اپنی ماں کو دیکھ کر اسنے لمبی سانس لی۔۔۔ نورین بیگم کو تشویش ہوئی
وہ کبھی اس طرح چپ نہیں رہتی تھی۔۔۔ وشہ کیا ہوا گڑیا؟
نورین بیگم اسکے ساتھ ہی گھاس پر بیٹھیں۔۔۔
وشہ نے ایک خاموش نظر اپنی ماں پر ڈالی۔۔۔۔ ہلکا سا مسکرا کر انکا ہاتھ تھاما۔۔۔پھر نظریں گھاس پر مرکوز کر دیں ۔
کچھ نہیں ہوا.۔۔۔۔ بس سوچ رہی تھی انسان کی کیا اوقات ہے۔۔۔۔کچھ بھی نہیں۔۔
کسی کو نہیں پتہ وہ کب مٹی ہو جائے گا
پھر بھی اسے گھمنڈ ہے کے وہ کسی کو بےبس کر کے اذیت دینا چاہتا ہے
کیوں امی ایسے لوگوں کو آخرت کا خوف نہیں؟
وہ بھی ایک انسان ہی ہیں۔۔۔۔ اسے بھی تو مٹی ہوجانا ہے۔۔۔
وشہ گھاس پر نظریں مرکوز کیے آہستہ آہستہ بول رہی تھی
جب کے نورین بیگم اپنی بیٹی کا یہ روپ دیکھ کر حیرت کے ساتھ فکرمند ہو رہی تھیں۔۔
وشہ تم مجھے ڈرا رہی ہو. ۔۔۔۔کیوں ایسی باتیں کر رہی ہو ۔۔۔
وشہ نے دوبارہ انہں دیکھا۔۔
پھر گہری سانس لیکر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ کچھ نہیں بس دل کیا تھوڑا ایموشنل ہونے کا۔۔۔
وشہ انکے فکرمند چہرے کو دیکھ کر سر جھٹک کر مطمئین کر رہی تھی۔۔۔
نورین بیگم نے کھڑی ہوکر اسکے سر پر پیار سے چپت لگائی جھلی بیٹی میری۔۔۔ مسکرا کر کہتی وہ جانے لگیں۔۔۔۔
پیچھے ہی رزم سینے پر دونوں ہاتھ لپیٹے جانے کب سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ افنان صاحب سے ملنے کسی کام سے آیا تھا۔۔۔۔
السلام عليكم آنٹی۔۔ وعلیکم اسلام بیٹا
وشہ رزم کی آواز پر جھٹکے سے گھومی۔۔جو نورین بیگم سے بات کر رہا تھا۔۔۔
کیا انہونے ہماری بات سن لی۔۔۔ وشہ کو سوچ کر عجب لگا جانے وہ کیا سوچے۔۔۔۔
نورین بیگم بات کرنے کے بعد اندر جانے لگیں۔۔۔
وشہ دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے قریب گئی۔۔۔۔ رزم کو سامنے دیکھ کر اسے اچھا لگتا تھا۔۔۔
حادثے کے بعد سے وہ اور اچھا بھی اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔۔۔ایک لڑکی کو عزت سے بڑھ کر اور کیا چاہیے ہوتا ہے۔۔۔۔رزم نے اس غزت ہی تو بچائی تھی۔۔۔
اسلام علیکم سرگوشی میں بولتی وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
وعلیکم اسلام کیا تم اداس ہو ؟ رزم نے اسکے چہرے کو بغور دیکھتے استفسار کیا۔
نہیں۔۔میں اداس کیوں ہونے لگی۔۔۔ وشہ گڑبڑا کر بولی۔۔۔رزم اسکی بات سن کر ایک قدم آگے بڑھا۔۔۔
تم اچھی لڑکی ہو۔۔۔۔۔ مگر بولتی بہت ہو۔۔۔ وشہ جو اسکی پہلی بات سن کر سرخ ہو گئی تھی۔۔۔
آخری بات سن کر گھورنے لگی (کھڑوس ہی رہیں گے ہنہ) دل میں کہتی وہ بنا کچھ بولے گھر کے اندر چلی گئی ۔
پیچھے رزم مسکراتا گیٹ سے باہر نکل گیا
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
آپی مجھے فرینچ فرائز بنا دیں بہت دل کر رہا ہے. ضامن وشہ کے پاس آکر منت کے سے انداز میں بولتا
اسکے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔ جو صوفے پر بیٹھی سیلفی لینے میں مصروف تھی۔۔۔
ضامن کی بات سن کر وہ جھٹ اٹھی۔۔۔” اچھا چلو۔۔۔۔
ہیں اتنی جلدی مان گئیں۔۔۔۔ ضامن حیرت سے بڑبڑاتا
اسکے پیچھے گیا۔۔۔ جو باسکٹ سے الو نکال کر سلیپ پر رکھ رہی تھی۔۔۔۔
ضامن کچن میں رکھی ٹیبل کرسی کے پاس جا کر ایک کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
وشہ نے الو چھیل کر کٹینگ کی۔ چولے پر کڑائی رکھ کر تیل ڈالا۔۔۔۔ تلنے سے پہلے یکدم وشہ نے اسے پاس بلایا۔۔۔۔ جی۔۔۔۔
ایک کام کرو یہ میرا موبائل لو اور ویڈیو بناؤ۔۔۔ مگر بنانا اس طرح جیسے مجھے پتہ نہیں ہو رینڈم لگے۔۔۔۔اوکے۔۔۔
چلو سٹارٹ کرتے ہیں۔۔۔اور ہاں تم دروازے سے بناتے ہوۓ آؤ۔۔۔
وشہ کہ کر اپنے کام میں لگ گئی۔۔۔۔ جب کے ضامن کو سمجھ نہ آیا ہنسے یا روئے۔۔۔
چپس بنانا کونسا اتنا بڑا کام تھا ضامن کو وشہ اپی کا دماغی توازن ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔
کیا ہوگیا چلو۔۔۔۔”وہ وشہ اپی میں آیا ابھی میرے پیٹ میں بہت زور کا درد ہونے لگا۔۔
ضامن نے موبائل سلیپ پر رکھا۔۔۔پیٹ کو دونوں ہاتھوں سے دباتا تیزی سے بھاگ گیا۔۔۔ وشہ روکو روکو ہی کرتی رہ گئی۔۔۔۔
افففف!! جیلس لوگ۔۔۔۔ خیر میں خود بنا لیتی ہوں۔۔۔وشہ نے موبائل اٹھا کر ویڈیو سٹارٹ کی اور دیوار کے ساتھ کھڑا کرنے لگی۔۔۔
ہممم۔۔۔ یہ سہی ہے۔۔۔ اپنے کارنامے پے خوش ہوتی وہ چپس تلنے لگی۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رات کے پہر آرا روم میں۔۔۔۔۔ کھڑکی کے پاس کھڑی باہر اندھیرے میں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔کمرے میں بھی اندھیرا کیا ہوا تھا۔۔۔
جب کوئی دروازہ نوک کر کے اندر آیا۔۔۔کیا کر رہی ہو۔۔۔ زیاف اندر اتے پوچھنے لگا۔۔۔
آرا نے اسکی آواز پر چہرہ موڑ کر اسے دیکھا۔۔۔۔ اندھیرے میں آرا کی گرین آنکھیں چمک رہی تھیں۔۔۔۔
کچھ خاص نہیں آؤ بیٹھو۔۔۔زیاف اسے دیکھتا قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا۔۔۔میں تمہے شاباشی دینے آیا تھا۔۔۔
زیاف کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ پھلی ۔۔۔۔ آرا اسکی بات پر قریب ہوئی۔۔
تم بھی یہ کام بہت اچھے سے کر سکتے تھے۔۔۔ آرا آنکھ دبا کر بولی۔۔۔۔۔۔۔یکدم اندھیرے کمرے میں دونوں کے قہقے گونجے۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
موسم صبح سے ہی بہت حسین ہو رہا تھا وقفے وقفے سے بوندا باندی بھی جاری تھی۔۔۔۔ ساتھ ہی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا۔۔
اسکا موڈ کافی خوش گوار کر چکی تھی… ایسے میں اپنا درخت پر لٹکنا یاد آیا تو ہنستی چلی گئی۔۔۔۔
انہیں کیا ہوا ہے اکیلے اکیلے ہنس رہی ہیں۔۔۔حنّان نے ہلکی آواز میں ضامن کے کان میں جھک کر کہا۔۔۔
ضامن بیچارہ تو کل سے ہی وشہ اپی کی حرکتیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
ضامن نے حنان کا بازو ہلایا۔۔۔حنان کے دیکھنے پر اسنے اپنی کنپٹی پر انگلی رکھ کر گھومائی جیسے کہ رہا ہو دماغ کا سکروو ڈھیلا ہوگیا ہے۔۔ حنان یکدم ہنسا پڑا۔۔۔
وشہ نے جو گھاس پر کھڑی اپنا دوپٹہ ہاتھوں سے لہراتی گھومنے والی تھی۔۔۔ ہسنے کی آواز پر یکدم سیدھی ہوتی
دیکھنے لگی جہاں حنان اور ضامن کھڑے ہنس رہے تھے۔۔۔۔
وشہ تپ کر انکی جانب بڑھی۔۔۔ بھنوے اچکا کر دونوں کو گھور کر دیکھا جو اسے سامنے دیکھ کر ہنسی ضبط کرنے لگے۔۔۔
نہیں نہیں ہنسو۔۔۔یہاں تو سرکس چل رہا ہے نہ۔۔۔ “نہیں وشہ اپی وہ۔۔۔۔
بس بس سب سمجھتی ہوں۔۔۔۔ شرم تو آتی نہیں بڑی بہن پر ہنستے ہوۓ۔۔۔اور تم دونوں جاؤ اپنی آرا اپی کے پاس ہنہ
وشہ نے دونوں کو کچھ بھی بولنے کا موقعہ دیے بنا ہاتھ اٹھا کر چپ رہنے کا اشارہ کرتی۔۔۔
بھڑاس نکال کر تیز تیز قدم اٹھاتی چپل پہنی جو کچھ فاصلے پر خود اتاری تھی۔۔۔۔۔
گیٹ کے پاس پونھنچ کر گارڈ کو یہ کہ دیا امی کو بتا دو میں قریب ہی پارک جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ کہی باہر نکل گئی۔۔۔۔
میں کیوں مانوں کھڑوس کی بات۔۔۔۔۔ اپنی اس گرین آنکھوں والی کزن کو منہ کریں جسے گھومانے لیکر گئے تھے۔۔۔۔
وشہ اونچِی آواز میں بڑبڑاتی تیز تیز قدم اٹھائے چل رہی تھی یکدم موسم نے کروٹ بدلی۔۔۔۔۔ آسمان پر کالے بادل چھا گئے۔۔۔
وشہ چلتے چلتے رکی آسمان کی جانب دیکھا جہاں کالے بادلوں کی وجہ سے رات کا گمان ہونے لگا اس پر بادلوں کی گرج چمک۔ ۔۔
یکدم۔ ہی بوندا باندی تیز بارش میں تبدیلی ہوئی۔۔۔وشہ بری طرح بھیگ گئی۔۔۔ صبح کا وقت اوپر سے یہ موسم وشہ کو خود پر غصہ انے لگا
کیا ضرورت تھی باہر نکلنے کی۔۔۔ روڈ بھی سنسان تھی۔۔۔کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو ایسے خطرناک موسم میں اکیلے باہر نکلے گا۔۔۔۔
(فلحال تو سب سے بڑی بیوقوف وشہ تم ہی ہو ) خود سے کہتے دونوں ہاتھ اپنے گرد لپٹے وہ گھر کی جانب بڑھنے لگی
کے اچانک ہی بہت زور سے بجلی کڑکی وشہ کی چیخ نکل گئی۔۔۔
لگاتار موسلادھار بارش میں بھیگنے کی وجہ سے وہ کانپنے لگی۔۔۔
وشہ نے شلوار قمیض پہنا ہوا تھا. بارش کی وجہ سے کپڑے چپک گئے تھے یہ شکر تھا اس نے ڈارک پرپل سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔۔
وشہ نے بھاگنے کے انداز میں چلنا شروع کر دیا
جب پیچھے سے گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔۔ وشہ کو وہی سب یاد آنے لگا جو اس رات ہوا تھا۔۔۔۔
پیچھے دیکھے بنا اسنے بھاگنا شروع کردیا۔۔۔۔جب پانی کی وجہ سے پھسل کر منہ کے بل گری۔۔۔۔۔۔
رزم جو ہونٹ بھیجے اس کے پیچھے ہی آرہا تھا
جو آج پھر اکیلے بیوقوفوں کی طرح سر جھاڑ منہ پھاڑ گھر سے نکلی ہوئی تھی۔۔۔ رزم کو غصہ دلا گیا۔۔۔
آگ بگولہ تب ہوا جو پیچھے دیکھنے کے بجائے محترمہ نے بھاگنا شروع کردیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وشہ کو گرتے دیکھا تو جھٹکے سے گاڑی کو بریک لگاتا تیزی سے باہر نکلا۔۔۔
وشہ کا سر زمین پر لگتے لگتے بچا مگر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں چھل گئیں۔۔
رزم نے جھک کر اسے بازو سے دبوچ کر اٹھایا۔۔وشہ لڑکھڑاتی اسکے چوڑے سینے سے جا لگی
آہ۔ ۔۔ تڑپ کر اس سے پیچھے ہوتی اپنے سر کو پکڑ کر چیخی۔۔۔۔ ایسا لگا جیسے کسی پتھر سے سر جا لگا ہو۔۔
رزم نے پرواہ کیے بغیر دونوں ہاتھوں سے اسکے بازو دبوچ کر جھٹکے سے اپنے قریب کیا۔۔ کیا جہالت۔۔۔۔اس سے پہلے وہ اپنا جملہ مکمل کرتی
اسکی نظر رزم کے چہرے کی جانب اٹھی تو باقی کے الفاظ جیسے منہ میں ہی رہ گئے۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
دونوں بارش میں بھیگتے ایک دوسرے کے بہت نزدیک کھڑے تھے۔۔۔۔
اتنا کے وشہ کو اسکی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی.۔۔۔ یکدم رزم کی پکڑ سخت ہوئی۔۔۔
وشہ کو تکلیف ہوئی۔۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے۔۔ وشہ کانپتے ہونٹوں کے ساتھ سرگوشی میں بولی
اور جو تم دے رہی ہو۔۔۔۔۔۔ میری بات نہ مان کر اسکا کیا؟
رزم سرد لہجے میں بولتا اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔ اسے وشہ کی فکر ہونے لگی تھی۔۔۔۔
پپ پلیز مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔۔وشہ اسکی بات کو نظر انداز کرتی ایک بار پھر اپنی بات کو دوہرانے لگی۔۔۔
رزم نے دیکھا اسکی آنکھوں میں آنسو جما ہوگئے۔۔۔ یہ کیا وہ اسے رولانا تو نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔
رزم نے ہاتھ ہٹا کر ایک قدم پیچھے لیا۔۔۔
وشہ نے اپنے دونوں بازوں کو سہلایا۔۔ پھر اسے دیکھ کر ناراضگی سے بولی۔۔۔
۔میں ناراض ہوں آپ سے۔۔۔۔ نہ چاھتے ہوۓ بھی اسے اپنے دل کی بات بتانی پڑی۔۔۔۔
جو جینس اور ٹی شرٹ پہنے اوپر بلیک جیکٹ پہنے وشہ کو اپنے دل کے قریب لگا۔۔
اچھا پھر ؟ وشہ نے اسکے جواب پرحیرت سے دیکھا۔۔کیا مطلب ہے اس تو پھر کا؟
آپ کو پوچھنا چاہیے میں کیوں ناراض ہوں۔۔۔۔
اچھا بتاؤ کیوں ناراض ہو ؟ رزم ادھر ادھر دیکھ کر بولا
خود کو ہوش ہی نہیں ہے کپڑے بھیگنے سے چپک گئے ہیں۔ دیکھو نگا تو محترمہ کا ریڈیو بج جائے گا۔۔ رزم نے تپ کر سوچا۔ ۔۔
میں کیوں بتاؤں۔وشہ اترا کر کہتی فاصلے پر کھڑی اسکی کار میں جا کر بیٹھ گئی۔۔۔
اچھی ملی ہے رزم تجھے بھی۔۔۔ہلکے سے کہتا خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
واہ آرا اپی آپ کے نیلز کتنے لمبے ہیں۔۔۔۔حنّان اسکا ہاتھ دیکھ کر بولا۔۔۔ تھنک یو۔۔۔۔ آرا نے اسکے گال پر چٹکی کاٹی۔۔۔
وشہ اپی کے اتنے لمبے نیلز نہیں ہیں۔۔۔ضامن نے وشہ کے بارے میں بتانا ضروری سمجھا۔۔۔ ہاہاہا۔۔ چلو میرے تو ہیں نہ
اور کیا میں تمہاری آپی نہیں ہوں۔۔۔آرا کی بات پر ضامن نے جھٹ سر اثباب میں ہلایا۔۔
آرا نے اسکے یوں کرنے پر ضامن کے گال پر پیار کیا۔۔۔ آپ کے نیلز بہت شارپ ہیں نہ؟
حنان ابھی تک اسکا ہاتھ دیکھ رہا تھا۔۔ ہاں بہت شارپ ہیں یہ انسان کے جسم کو چیر بھی سکتے ہیں
آرا مسکرا کر بتانے لگی۔۔۔۔اسکی بات پر دونوں کی آنکھیں اور منہ کھول گیا۔۔ کک کیا سچ میں؟ حنّان نے اسی حالت میں استفسار کیا ۔۔
نہیں یہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔لڑکی سدھر جاؤ ورنہ تمہاری شکایات لگانی پڑے گی۔۔۔ زیاف جانے کہاں سے آیا تھا۔ ۔۔
اتے ساتھ ہی اسے گھور کر دونوں سے بولا۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔میں تو مذاق کر رہی تھی وہ خود ہی سیریس ہو گئے۔۔ آرا ہنستی ہوئی بولی۔۔۔۔۔زیاف اسی کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: