Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 7

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 7

–**–**–

وشہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی جہاں ابھی تک بارش کا سلسلہ جاری تھا۔۔ کبھی کبھی بادل بھی گرج جاتے۔۔۔۔
باہر اندھیرا بھی ویسے ہی پھلا ہوا تھا
وشہ کو احساس ہوا۔۔۔وہ گھر جانے والی روڈ پر نہیں جا رہے۔۔۔ یہ یہ ہم کہاں جا رہے ہیں ؟
وشہ رزم کی جانب دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔۔
تمہاری ناراضگی ختم کرنے۔۔۔۔۔۔ گاڑی چلاتے رزم نے آرام سے کندھے اچکا کر کہا۔۔۔جب کے وشہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
اتنی آنکھیں مت کھولو کہیں نکل کر باہر ہی نہ گر جائیں۔۔۔رزم ہونٹ دبا کر بولا۔۔۔ اسے مزہ انے لگا تھا۔۔۔۔وشہ کو تنگ کرنے میں
وشہ اسکی بات پر ہوش میں آئی۔۔۔آپ۔۔۔۔بہت ہینڈسم ہوں جانتا ہوں.
اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتی رزم بیچ میں ہی بول پڑا۔۔۔ اپنے بارے میں بڑی خوش فہمی نہیں پال رکھی آپ نے۔۔
وشہ ناک چڑھا کر کہتی باہر بھیگی سڑک پر دیکھنے لگی.
نہ مانو۔۔۔۔لیکن یہ سچ ہے۔۔۔ بہت لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر۔۔۔
رزم کن اکھیوں سے اسکے غصے سے سرخ چہرے کو دیکھ کر بولا
آپ پر تو بہت مرتی ہونگی مگر مجھ پر تو بہت سے بھی زیادہ مرتے ہیں۔۔۔۔۔
بلکے کل ہی کالج میں ایک لڑکے نے مجھے کہا کے وہ مجھے پسند کرتا ہے اور تو اور شادی بھی کرنا چاہتا ہے۔۔۔
وشہ مرچ مسالا لگا کر جھوٹ بولتی رہی۔۔۔رزم نے جھٹکے سے کار روکی جس کی وجہ سے وشہ کا سر سامنے بونٹ پے جاکر لاگا۔۔۔
اففف ماں میرا سر…….وشہ سر سہلاتی اسکی جانب مڑی اور جہاں تھی وہیں سن ہوگئی۔۔۔
رزم کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور آنکھیں ایسی جیسی خون ٹپکا رہی ہوں ۔۔
رزم کو وشہ کی بات بہت ناگوار گزری جس سے وہ اپنا ضبط کھونے لگا۔۔۔ رزم اسی طرح دیکھتا اسکے چہرے کے بہت قریب آگیا
وشہ کو اپنی سانس روکتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔
کہ دو یہ مذاق تھا وشہ افنان۔۔۔۔ وشہ کانپ گئی اسکے لہجے پر۔۔۔
کہو وشہ۔۔ پھر وہی برف کی طرح ٹھنڈا لہجہ۔۔۔
وشہ پیچھے ہوئی۔۔۔گلہ خشک ہوگیا تھا۔۔۔ جواب کیا خاک دیتی۔۔۔
تم مجھے اور غصہ دلا رہی ہو وشہ افنان۔۔۔
ہاہ۔۔ہاں مم میں مذاق کر رر رہی تھی۔۔ وشہ ہمّت مجتمہ کرتی ہکلا کر بولی
رزم نے اسکی بات سنی تو اپنا ہاتھ اٹھا کر اسکے گال پر رکھ کر انگوٹھے سے سہلانے لگا۔۔۔
دونوں ابھی تک ایک دوسرے کو بینا پلک جھپکائے دیکھ رہے تھے۔۔۔ ریلیکس کچھ نہیں ہوا۔۔۔
سرگوشی میں بولتا وہ اسے ریلیکس کرنے لگا جو اس سے خوفزادہ ہونے لگی تھی۔۔۔۔اور رزم یہ کبھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔
رزم کی بات سن کر اسکا خوف جاتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ پرسکون ہوگئی۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
سوری مجھے غصّہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔دونوں آیسکریم پارلر میں کونے کی ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھے تھے
جب رزم گلا کھنکھار کر معذرت خواہانہ لہجے میں بولا۔۔۔۔جو خاموش نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔
رزم کی بات سن کر وشہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ جس کے چہرے پر شرمندگی تھی ۔۔
اپ نے میری جان نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔ میرا دل بند ہوجاتا پھر۔۔۔وشہ ناک چڑھا کر بولتی دوسری طرف دیکھنے لگی رزم کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑگئی۔۔۔
بہت بولتی ہو تم.۔۔۔۔میں تو چپ ہی بیٹھی تھی خود ہی معافی مانگ رہے تھے۔۔۔۔وشہ نے دوبارہ اسکی جانب دیکھ کر کہا۔۔
اور تم نے مجھے معاف بھی نہیں کیا۔۔۔ میں نے یہ کب کہا وشہ آنکھیں پھلا کر بولی۔۔۔۔رزم بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔۔
تو پھر تم نے معاف کیا۔۔۔۔رزم ٹیبل پر آگے ہو کر بیٹھتا وشہ کو دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔
معافی کے بدلے آپ کو دو کپ آیسکریم منگوانی ہوگی بولیں منظور؟ وشہ نے اپنا ہاتھ ملانے کے لئے بڑھایا۔۔
رزم کی نظر اچانک اسکی ہتھیلی پر پڑی جو سرخ ہو رہی تھی اور جگہ جگہ سے چھیلی ہوئی تھی ۔۔۔
رزم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ہتھیلی دیکھی۔۔۔۔وشہ جو کب سے جلن برداشت کر رہی تھی کے گھر جا کر دوائی لگا لےگی
رزم کے تیزی سے پکڑنے پر منہ سے کراہ نکل گئی۔۔۔
سوری چلو ڈاکٹر کے پاس۔۔ رزم ہاتھ چھوڑتا کھڑا ہوا۔۔۔ نن نہیں کچھ نہیں ہوا ایسا اور ہم آیسکریم کھانے آئے ہیں
میں کھائے بغیر نہیں جاؤں گی. رزم نے اسے دیکھا جو اٹھنے کے موڈ میں نہیں تھی پھر لمبی سانس لے کر واپس بیٹھ گیا.
ٹھیک ہے ایسا کرتے ہیں پارسل کروا لیتے ہیں گاڑی میں کھا لینا۔۔۔۔۔وشہ نے کچھ کہنے لے لئے منہ کھولا ہی تھا
جب رزم نے ہاتھ اٹھا کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔ ابھی میری بات پوری نہیں ہوئی ہے۔۔۔ اب اٹھو کوئی بحث نہیں چاہیے۔۔۔۔
رزم سپاٹ چہرے کے ساتھ کہتا کاؤنٹر کی جانب بڑھ گیا پیچھے وشہ برے برے منہ بناتی اٹھ کر اسکے پیچھے گی۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
انجکشن !! وشہ تیز آواز میں بولی ۔۔۔۔۔نن نہیں ڈاکٹر اتنی سی چوٹ پر کون انجکشن لگواتا ہے۔۔۔۔
گھبرائیں مت کچھ نہیں ہوگا اور اتنی کہاں ہے آپ کی دونوں ہتھیلیاں کافی چھلی ہوئی ہیں۔
ارے ڈاکٹر صاحب سہی ہوجائے گا دوائی سے مجھے یقین ہے آپ کافی اچھے ڈاکٹر ہیں۔۔۔۔ وشہ کی بات پر رزم اور ڈاکٹر مسکرا دیے۔۔۔
بہت ہوگئے ڈرامے جلدی سے انجکشن لگواؤ روڈ پر گری ہو ۔۔۔رزم آگے بڑھ کر کلائی پکڑ کر بولا۔۔
رزم پلیز مجھے ڈر لگتا ہے اللہ‎ نہ کرے اندر جا کر ٹوٹ جائے میں تو مر ہی جاؤنگی
اف لڑکی کتنا بولتی ہو۔۔۔تھکتی نہیں ہو کیا۔۔۔ رزم نے اسکا دیھان بٹانے کو جان کر یہ بات کی۔۔۔
جانتا تھا چپ ہونے کے بجائے پوری کہانی شروع کر دے گی اور ہوا بھی وہی۔۔۔۔
کب بولتی ہوں اتنا اور آپ تو جیسے بولتے ہی نہیں ہیں کبھی غصہ کبھی سوری کر رہے تھے اس وقت بھی میں چپ تھی
وشہ شروع ہو چکی تھی رزم نے جلدی سے آنکھ سے اشارہ کر دیا تھا ڈاکٹر کو جو مسکرا کر جلدی سے اسکے بازو پر انجکشن لگانے لگے۔ ۔۔
وشہ بولتے بولتے یکدم چپ ہوئی۔۔۔ اپنے بازو کو دیکھا جہاں روئی رکھی تھی۔۔ بازو پر ہاتھ رکھ کر سی کرتی دبانے لگی ۔۔۔
افف بہت غلط بات ہے کسی کو بنا اجازت انجکشن لگانا۔۔ وشہ انھ کر منہ پھولا کر روم سے نکل گئی ۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم نے گیٹ کے سامنے کار روکی ایک نظر اسے دیکھا جو دوبارہ سے ناراض ہو چکی تھی۔۔
گھر پونھنچ گئے رزم کی بھاری آواز کار میں گونجی۔۔ وشہ نے کوئی جواب نہیں دیا ویسے ہی دوسری طرف چہرہ کیے بیٹھی رہی۔
رزم گہری سانس لے کر سر سیٹ کی بیک سے ٹیکا کر بیٹھ گیا۔۔۔
کہیں تم میرے ساتھ میرے گھر جانے کا ارادہ تو نہیں رکھتی۔۔
وشہ نے رزم کی بات سن کر گردن گھما کر اسے دیکھا۔۔۔وشہ کے دیکھنے پر رزم نے ویسے ہی بیٹھے صرف گردن گھمائی
اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔۔ وشہ نظر نہ جھکا سکی۔۔۔
مم میں چلتی ہوں اللہ‎ حافظ۔۔وشہ سٹپٹا کر جلدی سے باہر نکل کر گیٹ سے اندر جانے لگی۔۔۔۔
جب پیچھے سے رزم نے اسے آواز دی۔۔۔۔ وشہ نے روک کر اسے دیکھا۔۔۔۔ جو گاڑی سے باہر نکل کر ٹیک لگائے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اپنا خیال رکھنا۔۔ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتا وہ وشہ کی ساری ناراضگی ختم کر گیا۔۔۔۔
یہ اتنا سج دھج کر کہاں جانے کی تیاری ہے ؟
زیاف یکدم اسکے پیچھے آکر بولا۔۔۔وہ جو شیشے میں اپنے آپ کو دیکھتی لییسٹک لگا رہی تھی۔۔۔۔۔
زیاف کی آواز پر اسکے عکس کو دیکھا۔۔۔ پارٹی میں۔۔۔کہ کر آرا نے لیپسٹک کا کیپ لگا کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا پھر
اسکی جانب پلٹی۔ ۔۔
ویسے ہی اتنی قیامت ہو یہ لال کلر لگا کر کس کی جان نکالنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔۔۔
زیاف اسکی آنکھوں میں دیکھتا قریب ہونے لگا جب آرا نے اسکے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ کر وہیں روک دیا۔۔۔
“Don’t t cross ur limit Mr Ziyaf Azmagan Mirza
سرگوشی میں کہتی اپنا ناخن اسکے سینے پر زور سے چبھایا۔۔ آہ چڑیل۔۔۔۔۔۔زیاف تڑپ کر پیچھے ہوا۔۔۔
جان سے مار دونگی مجھے چڑیل کہا تو۔۔۔ آرا غصے سے اسے گھور کر بولی۔۔۔ہاہ اتنا آسان ہے کیا۔۔۔
نہ میں خالد ہوں اور نہ ہی۔۔۔۔۔زیاف روک کر۔۔۔۔۔۔ پھر قریب ہوا اسکے کان کے قریب جھک کر ہلکی آواز میں بولا۔۔۔
نہ انسان۔۔۔۔
کہتے ساتھ ہی زیاف نے اسکے کان کی لو کو ہونٹوں سے چھوا۔۔۔۔آرا نے زور سے اسے ڈھکا دیا۔۔۔
ڈونٹ ٹچ می زیاف۔۔۔۔ ورنہ رزم سے تمہاری شکایات لگا دونگی۔۔۔
انگلی اٹھا کر آرا اسے دھمکا رہی تھی۔۔۔ زیاف گرا نہیں کیوں کے وہ بھی کافی مضبوط جسم کا مالک تھا۔۔۔
مجھ سے چھوٹی ہو پھر بھی میرے بھائی کا نام لیتی ہو۔۔۔۔چاچی کو بتادیا تو سوچو تمھارے یہ پیارے ناخن سزا کے طور پر کاٹ دیے جاینگے
اینڈ بیلیو می مجھے بہت دکھ ہوگا۔۔۔۔۔زیاف اسے چڑاتا بھاگ گیا۔۔۔ تم بچ جاؤ ذرا مجھ سے۔۔۔۔۔ پیچھے آرا غصے سے کھول کر رہ گئی۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
کہاں جا رہی ہو تم دونوں؟ رزم کی آواز پر دونوں نے ساتھ گردن موڑ کر رزم کو دیکھا۔۔۔۔ جو سپاٹ چہرے کے ساتھ کہتا انکے جواب کا منتظر تھا۔۔۔۔
آرا اور ربیکا دونوں چلتی اسکے سامنے آئیں۔۔۔ وہ ہم پارٹی میں جا رہے ہیں۔۔۔ مارلین نے سب دوستوں کو بلایا ہے۔۔۔۔
آرا نے ہچکچا کر بتایا۔۔۔ساتھ ہی کن اکھیوں سے گھور کر زیاف کو دیکھا جو مسکرا رہا تھا۔۔۔۔ضرور اس نے بتایا ہوگا رزم کو۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے مگر کوئی حرکت نہ سنو میں۔۔۔رزم نے وارن کرنے والے انداز میں کہا پھر جانے کی اجازت دیتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
تمہے تو آ کر بتاتی ہوں۔۔۔۔آرا نے زیاف کو کہا۔۔۔۔زیاف تو منہ بنا کر رہ گیا جس کے بتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا.۔۔
مجھے دھمکیاں کم دو اور چلتی بنو۔۔ زیاف جل کر کہتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے بال سلجھا رہی تھی۔۔۔۔ ساتھ ساتھ رزم کے ساتھ گزارا وقت یاد کر کے شرما کر سرخ ہو رہی تھی۔۔۔
اچانک شیشے میں رزم کا عکس نظر آیا۔۔۔اففف !! وشہ اتنا سر پے سوار کر لیا کے اب تمہے وہ نظر بھی آنے لگے۔۔
آنکھوں کو سختی سے بند کرنے کے بعد کھول کر دیکھا جہاں اب کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔
خود ہی اپنے سر پر چپت لگاتی مسکرا کر کمرے کی لائیٹ بند کرتی بیڈ پر جا لیٹی۔۔۔
وشہ کی آنکھیں بند ہوتے ہی کچھ دیر بعد کوئی ہیولہ کمرے سے بالکنی کی طرف جاتا غایب ہوگیا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم بیڈ پر چت لیٹا وشہ کے بارے میں سوچتا مسکرا رہا تھا یکدم وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔۔۔۔رزم کا دل اسے دیکھنے کو مچلنے لگا۔۔۔۔
ایسا کبھی نہیں ہوا تھا اسکے ساتھ وہ تو لڑکیوں سے دور بھاگتا تھا۔ ۔۔۔۔۔پر اب یہ کیا ہو رہا تھا اسے۔۔۔۔کیا وہ بدل رہا تھا۔۔۔۔
اسے کبھی محبت جیسی خرافت میں نہیں پڑنا تھا کیوں کے اسے ڈر تھا اپنے آپ سے……. جو ایک بار اسکا ہوجاتا وہ اسے کسی قیمت پر خود سے الگ نہیں ہونے دیتا تھا۔۔۔۔ رزم جتنا سنجیدہ تھا اندر سے اتنا ہی خطرناک بھی۔۔
کچھ دیر میں جھنجھلا کر اٹھ بیٹھا پھر کھڑا ہو کر سائیڈ ٹیبل سے سیگرٹ کا پیکٹ اور لائٹر اٹھا کر بالکنی میں چلا گیا۔۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ آپی آپ کو امی بولا رہی ہوں ربیکا اپی اور آرا اپی آئی ہیں۔۔۔
شام کا وقت تھا وشہ لان میں ہی جانے کے لئے نیچے آرہی تھی جب ضامن تیزی سے اوپر آکر بولا۔۔۔
اچھا کہاں ہیں۔۔۔لان میں ہی ہیں چلیں۔۔۔۔ضامن نے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔اچھا چلو بے صبر۔۔۔۔۔
دونوں لان میں آئے تو وہاں صرف آرا کھڑی تھی۔۔۔
اسلام علیکم۔۔ آرا پرجوش انداز میں آگے بڑھ کر وشہ کے گلے ملی۔۔۔
وعلیکم اسلام ربیکا کہاں ہے۔۔۔وشہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔۔ پتہ نہیں یہ یہاں سے کب جائے گی۔۔۔ وشہ بس سوچ کر رہ گئی۔۔
یہ نہیں تھا کے وہ پسند نہیں تھی جلنے کی وجہ تو صرف رزم تھا۔۔۔۔ مگر وہ جو سوچ رہی تھی ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔
آرا زیادہ تر وقت زیاف اور ربیکا کے ساتھ ہی ہوتی تھی اس لئے وشہ نے بھی اپنا رویہ تھوڑا بدلہ تھا۔۔۔۔
ربیکا اندر پانی پینے گئی ہے۔۔۔ آرا نے مسکرا کر بتایا۔۔۔ اچھا چلو ہم جب تک بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہیں۔۔۔
پھر ہمارے ساتھ چلنا شاپنگ پر۔۔۔آرا نے مسکرا کر آنے کی وجہ بتائی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: