Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 8

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 8

–**–**–

تم لوگ اندر نہیں آوگی ؟ وشہ کار سے اتر کر ان دونوں سے بولی جو اترنے کے موڈ میں نہیں تھیں۔۔۔۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے تینوں ابھی شاپنگ کر کے ہی گھر لوٹیں تھیں۔۔۔۔
وشہ آپی اب گھر جائیں گے امی بھی انتظر کر رہی ہونگی۔۔۔ کل ملتے ہیں آپ گھر آئیے گا امی بھی یاد کر رہی تھیں
اوکے۔۔۔۔ربیکا کی بات پر یکدم اسے رزم یاد آیا۔۔۔۔
وہ بھی تو کل گھر پر ہونگے سنڈے جو ہے کل ورنہ تو آفس گئے ہوۓ ہوتے ہیں۔۔۔
کہاں کھو گئیں۔۔ربیکا بے چہرے کے سامنے چٹکی بجائی۔۔۔ وشہ ایک دم ہوش میں آئی۔۔۔۔۔
ہا۔ہاں ٹھیک ہے کل ملتے ہیں اللہ حافظ۔۔۔۔
اوکے۔۔۔اللہ‎ حافظ۔۔۔۔
وشہ مسکرا کر گیٹ سے اندر چلی گئی۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ اندر آئی تو جانے کس کی کار پورج میں کھڑی تھی۔۔۔
کون آگیا اس وقت۔۔۔۔ یہی سوچی وشہ اندر گئی
لاؤنج میں ہی اسکی فیملی کے ساتھ ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا
جس کی عمر تیس بتیس ہوگی۔۔ دیکھنے میں کافی لمبا چوڑا تھا۔۔۔ اچانک ہی اسنے وشہ کی طرف دیکھا۔۔وشہ گڑبڑا گئی۔۔۔
حنّان کی بھی نظر اس پر پڑی تو اٹھ کر اسکے پاس آیا۔۔۔ آپی یہ ابو کے نئے بزنس پارٹنر ہیں۔۔ابو نے دعوت دی ہے۔۔
حنّان نے قریب آکر ہلکی آواز میں اسے بتایا۔۔۔ وشہ نے حنان کی بات سن کر دوبارہ اسے دیکھا۔۔
دیکھنے کا انداز ہی بہت پراسرار تھا وشہ کو وہ پسند نہیں آیا۔۔۔اسلئے ناک چڑھا کر واپس باہر نکل گئی۔۔۔
وہ شخص جائے تو پھر اپنے کمرے میں چلی جائے گی۔۔۔
وشہ کے ناک چڑھا کر باہر نکلنے پر صوفے پر بیٹھےشخص کی آنکھوں کا رنگ بدل کر دوبارہ پہلے کی طرح ہو گیا۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ لان میں آکر ٹہلنے لگی۔۔۔ افف کیا مصیبت ہے ایک تو ابو بھی نہ کیا ضرورت تھی گھر بلانے کی۔۔
وشہ اچانک ہی چڑچڑی ہوگئی تھی اسے دیکھ کر۔۔۔۔جب اسکا موبائل بجا۔۔۔
وشہ چلتے چلتے رکی پھر ہاتھ میں پکڑا موبائل دیکھا جہاں سکرین پر ربیکا کالنگ نام جگمگا رہا تھا۔۔۔
وشہ نے مسکرا کر یس کا بٹن دبایا۔۔۔ پھر کان سے لگا کر دوسرے کو بولنے کا موقع دیے بغیر ہی شروع ہو چکی تھی۔۔
شکر ہے تم نے کال کر دی ورنہ میں خود کرنے کا سوچ رہی تھی۔۔۔اففف میں نے سوچا تھا گھر پونھنچ کر سب سے پہلے اپنی شاپنگ تسلی سے دکھوں گی۔۔۔۔ مگر یہاں تو۔۔۔۔۔
بریک پر پاؤں رکھو لڑکی دوسرے کی بھی سن لو۔۔۔۔۔رزم کی آواز سنتے ہی اسکی بولتی خود بہ خود بند ہوگئی۔۔۔
ایک دم ہی ساری تھکن اور بیزاری اڑن چھو ہوگئی۔۔
ایک بار کان سے ہٹا کر موبائل کی سکرین کو دیکھا دوبارہ کان سے لگا کر حیرت سے گویا ہوئی۔۔
کیا آپ ہیں ؟ وشہ کی بات سن کر رزم۔ کو ہنسی انے لگی
میں ہی ہوں۔۔۔۔ کیوں میں نہیں ہوسکتا۔۔۔
نن نہیں میں نے ایسا کب کہا۔۔۔۔ مگر یہ تو ربیکا کا نمبر ہے۔۔۔ وشہ ابھی تک حیران ہو کر پوچھ رہی تھی۔۔۔۔۔بھلا رزم نے کیا بات کرنی تھی اس سے۔۔۔
ہاں پتہ ہے اسکا ہے۔۔ تم سے کچھ بات کرنی تھی اسلئے بہانہ کر کے لے لیا۔۔
اوہ۔۔ مجھ سے کیا بات کرنی ہے؟ وشہ بالوں کی لٹ ہاتھ سے کان کے پیچھے کرتی دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھنے لگی
(اف رزم کو اس وقت کونسی بات کرنی ہے) سوچتی ہوئی بولی۔۔۔ اچھا تو بتائیں کیا بات ہے۔۔۔
یہی کے اب تمہارا ہاتھ کیسا ہے؟ پوچھنا تو کچھ اور چاہتا تھا مگر کچھ اور کہ گیا۔۔۔۔
وشہ تو رو دینے کو ہوگئی۔ ۔۔۔ بیچاری پتہ نہیں کیا کیا سوچ رہی تھی رزم نے اس کی سوچ پر ٹھنڈا پانی ہی ڈال دیا۔۔۔
یہ بات کرنی تھی آپ کو ؟ وشہ ہر لفظ چبا کر بولی۔۔۔رزم نے اپنی پیشانی دو انگلیوں سے مسلی۔۔۔۔ا
ب تو محترمہ کا میٹر گھما دیا ہے اب رزم سنتے رہو۔۔۔ رزم سوچتا کچھ کہنے ہی لگا تھا۔۔۔۔۔
جب وشہ نے غصے میں بائے کہ کر کال ڈسکنیکٹ کر دی۔۔ رزم نے کان سے موبائل ہٹا کر گھورا۔۔۔۔ شٹ۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
ہنہ یہ بات کرنی تھی اور میں سٹوپڈ پتہ نہیں کیا کیا سوچ لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وشہ غصے میں اندر جانے لگی
جب کسی سے بہت زور سے ٹکر ہوئی۔۔ اس سے پہلے وہ گرتی کسی نے اسکی کمر کے گرد ہاتھ سے پکڑ کر جھٹکے سے اپنے قریب کیا۔۔۔۔۔
آہ۔۔۔وہ جو بھی تھا بہت سخت گرفت تھی اسکی اسے لگ رہا تھا ہاتھ کمر میں دھنس گیا ہو۔۔۔۔
وشہ نے کراہ کر ٹکرانے والے کو دیکھا تو سانس ہی روک لی۔۔
غصے میں وہ بھول ہی گئی تھی کوئی انجان شخص گھر پر ہے
بیوٹیفل۔۔۔ سرسراتی آواز اسکے کانوں میں گونجی۔۔۔ “کاھل اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
بہت حسین ہو تم۔۔۔اسکی بات پر وشہ نے غصے سے پیچھے ہٹنا چاہا مگر چھڑوا نہ سکی۔۔۔۔صرف تڑپ کر رہ گئی۔۔۔
چھ چھوڑو مجھے ذلیل انسان۔۔۔ وشہ نے غصے سے غرا کر کہا۔۔۔۔کیسا بیہودہ انسان تھا جو پہلی بار آیا اور اپنی اوقات دکھانے لگا۔۔۔
شش۔۔۔بدتمیزی مت کرو۔۔۔میرا غصہ سہ نہیں پاؤ گی۔۔۔۔جھٹکے سے اسے چھوڑتا وہ آگے بڑھ گیا۔۔
وشہ بہت زور سے زمین پر گری۔۔۔آہ۔۔۔ شدید کمر میں درد کی ٹیس اٹھی۔۔۔ ہونٹ بھنج کر اسنے پیچھے دیکھا جہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
ابھی ابو کو بتاتی ہوں کس جانور کو گھر پر بولا لیا ہے۔۔۔
وشہ کمر پر ہاتھ رکھتی لاؤنج میں گئی اور وہیں ساکت رہ گئی۔۔۔۔
لاؤنج میں ابھی بھی سب بیٹھے باتھوں میں مشغول تھے۔ وشہ کی نظر اس شخص پر ٹہر گئی جو ابھی کچھ وقت پہلے اس سے بیہودہ باتیں کر رہا تھا
بار بار پلکیں جھپک کر دیکھا مگر وہ شخص وہیں بیٹھا تھا۔۔۔
ارے وشہ او۔۔۔ نورین۔ بیگم اسے دیکھتے ہی قریب بلانے لگیں۔۔۔۔۔۔۔ “نن۔۔۔۔ نہیں امی بہت نیند آرہی ہے سوری گڈ نائیٹ وشہ ہمت متمجہ کرتی بول کر تیزی سے اپنے روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
تھک گئی ہے بچی ورنہ ایسے نہیں کرتی ہے۔۔۔ نورین بیگم مسکرا کر کاھل سے بولیں۔۔ جو کوئی بات نہیں کہتا کن اکھیوں سے اسے جاتا دیکھ کر دھیرے سے بولا “بیوٹیفل۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
روم میں اتے ہی اسنے اپنی کمر کو دونوں ہاتھوں سے دبایا۔۔۔
یہ یہ کیا تھا وہ وہ تو گیٹ کی جانب گیا تھا۔۔۔ ہوسکتا ہے واپس اندر چلا گیا ہو۔۔۔ وشہ سوچتی بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔
ہاں یہی ہوا ہوگا۔۔۔ اف میری کمر کل ضرور بتاونگی ابو کو پتہ نہیں کہاں سے نازل ہوگیا ہے۔۔۔
وشہ خود سے عہد کرتی واشروم چلی گئی۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
دوپہر کا وقت تھا۔۔۔۔مگر آج بھی موسم برسنے کے موڈ میں لگ رہا تھا۔ ۔۔۔۔ ٹھنڈی سرد ہوا جو کپکپانے پر مجبور کر رہی تھی
ایسے میں وشہ نے دو دو سوئیٹر پہنے ہوئے تھے ساتھ بڑی سی شال لپیٹے سرخ گال اور ناک کے ساتھ حنّان اور ضامن کے ساتھ ازمغان ولا آئی۔۔۔۔
حنّان اور ضامن دونوں ہی اسے بار بار دیکھ کر کھی کھی کر رہے۔ تھے۔۔۔۔ زیادہ ہی ہنسی آرہی ہے بتاؤں دونوں کو۔۔۔
وشہ کپکاتے ہونٹوں کے ساتھ بولی آج سردی کچھ زیادہ تھی یا شاید اسکی طبیت سہی نہیں تھی۔
دونوں کو ڈپٹ کر وہ لاؤنج میں آئی جہاں صوفے پر رزم بیٹھا گود میں لیپ ٹاپ رکھے کوئی کام کر رہا تھا۔۔۔۔
احساس تو اسے پہلے ہی ہوگیا تھا وشہ کے انے کا پھر بھی انجان بنا لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔۔۔
دوسری طرح وشہ اسے دیکھتے ہی کھل اٹھی مگر حنّان اور ضامن جو اسی کو وقفے وقفے سے دیکھ کر اپنی بتیسی کی نمائش کر رہے تھے
انکی وجہ سے مسکراہٹ کو ضبط کرتی دونوں کو گھورنے لگی ۔۔۔ بس کر دو تم دونوں مجھے نظر لگوانا چاہتے ہو۔۔۔
وشہ اپنی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی کوشش کرتی مصنوئی غصے سے ڈانٹنے لگی۔۔۔
رزم نے اسکی آواز پر سر اٹھا کر اسے دیکھا تو دیکھتا ہی رہا۔۔۔ ہوش میں تب آیا جب اسکے چلنے میں لڑکھڑاہٹ محسوس کی (بیچاری نازک سے گری ہی اتنی زور سے تھی )
رزم نے لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ پر رکھا پھر اٹھ کر انکے قریب آگیا
جو ربیکا اور آرا سے مل رہی تھی۔۔۔۔
السلام عليكم۔۔۔ لگتا ہے آج ساری سردی مس وشہ افنان پر اکر گری ہے۔۔رزم سنجیدہ سا بولا مگر آنکھوں میں شرارت واضع تھی۔۔۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔بلکل سہی کہا آپ نے ۔۔زیاف بھی انکے پاس آتے ہنستے ہوۓ بولا
وشہ جو رزم کو گھور رہی تھی اب زیاف کو گھورنے لگی
تم مجھے ڈرا رہی ہو ایسے مت گھورو۔۔۔۔ زیاف ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا ہوا بولا۔۔۔
تم ڈرنے والے ہو بھی نہیں خود ہی جن ہو۔۔۔۔وشہ تپ کر بولی۔۔۔۔جس پر سب نےایک ساتھ اسے سپاٹ چہرے کے ساتھ دیکھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: