Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 9

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 9

–**–**–

کیا ہوا سب ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ وشہ سب کو دیکھ کر سٹپٹا گئی۔۔
کچھ نہیں چلو۔۔ آرا نے جلدی سے کہا۔۔۔۔جب کے رزم ابھی تک اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
پھر گہری سانس لیتا ان کے پیچھے ہی سیڑیاں چڑھنے لگا۔۔۔ وشہ کے پاس سے گزرتے ہوئے اسنے اسکا ہاتھ پکڑ کر دبایا
اور دیکھے بنا پاس سے گزر گیا۔۔۔ وشہ جہاں تھی وہیں کھڑی رہ گئی۔۔۔
جسم میں یکدم سردی کا احساس کم ہوا۔۔۔
ہتھیلیوں میں رزم کے چھونے سے عجیب سا سکون اترا۔۔۔۔
“ہائے ظالم نے ایک بار بھی مڑکر نہیں دیکھا۔۔۔وشہ بڑبڑا کے رہ گئی۔۔۔۔۔
وشہ اپی چلیں۔۔۔”ہا۔۔ہاں۔ چلو۔۔۔ ضامن کے کہنے پر وہ ہوش میں آتی جانے لگی۔۔۔۔۔
وشہ کے دوسری جانب رخ موڑنے پر رزم نے اپنے کمرے کے دروازے سے جھانک کر جاتے ہوئے اسکی پشت کو دیکھ کر ہلکا سا مسکراتا دوبارہ اندر چلا گیا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ اپنے روم میں آئی۔۔۔لائیٹ اون کرتی الماری سے کپڑے نکال کر واش روم چلی گئی۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد واشروم سے نکل کر بیٹھ پر جا کر الٹا لیٹ کر موبائل پر گیم کھیلنے لگی۔۔۔
کمر کا درد اب کافی بہتر تھا۔۔۔۔ بیک کی وجہ سے اپنی کمر پر دیکھ نہ سکی۔۔۔۔ ورنہ کمر پر جلن ہو رہی تھی
ہاتھ سے چیک کیا مگر ایسا کوئی زخم نہیں تھا۔۔۔
تھوڑی ہی دیر گزری ہوگی جب کوئی عجیب سی آواز آنے لگی۔۔۔ گیم کو روک کر اسنے غور کیا۔۔۔۔۔یہ کیسی آواز ہے
خود سے کہتی اسنے جھٹکے سے سر اٹھا کر دیکھا اور بجلی کی سی تیزی سے چیخ مارتی ہوئی لیٹے لیٹے ہی گھومتی بیڈ سے نیچے گری
شکر تھا سر پر کچھ نہیں لگا تھا۔۔۔۔ وشہ کے گرتے ہی پنکھا دھڑم سے نیچے گرا . وشہ کانپ گئی اگر وہ نہ ہٹتی تو جانے کیا ہوجاتا اسکے ساتھ ۔۔۔
یَکدم روم کا دروازہ زور زور سے بجا۔۔۔ وشہ آپی کیا ہوا دروازہ کھولی۔۔۔ حنّان کی آواز پر وشہ ہمت کرتی اٹھنے لگی
مگر پیر ہلایا نہیں جا رہا تھا شاید مڑ گیا تھا۔۔۔ وشہ ہمت کرتی کھڑی ہوتی پیر گھسیٹتی دروازہ تک پونھچی
جو ابھی تک بج رہا تھا۔۔۔ باہر کھڑا حنان بھی اسے آوازیں دے رہا تھا۔۔۔۔وشہ نے دروازہ کھولا حنان جلدی سے اندر آیا۔ ۔
کیا ہوا آپی آپ کیوں چیخیں ؟ حنان فکرمندی سے اسے دیکھ کر بولا۔۔۔
وشہ نے کچھ بھی بولے بغیر ہاتھ سے بیڈ کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔حنان نے اسکے بتانے پر بیڈ کی جانب دیکھا جہاں بیڈ پر پنکھا گرا ہوا تھا۔۔۔۔
یہ کیسے گر گیا۔۔۔۔۔آپی آپ کو لگی تو نہیں حنان نے حیرت سے پہلے بیڈ کی طرف دیکھا پھر اسے دیکھنے لگا۔۔۔
میں ٹھیک ہوں پتہ نہیں کیسے گر گیا۔۔۔
میں ابو کو بتا کر آتا ہوں۔۔۔ حنان کہ کر جانے لگا وشہ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر جانے سے روکا۔۔۔
نہیں رہنے دو وہ سوگئے ہونگے ۔۔۔۔۔ تم ایسا کرو پنکھے کو نہچے رکھنے میں میری مدد کرو۔۔۔۔ اے سی تو ہے۔۔۔وشہ کے کہنے پر دونوں آگے بڑھ گئے
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
صبح ہی حنان نے سب کو پنکھا گرنے کا بتا دیا۔۔۔ گھر والوں کو کیا اسنے ربیکا کو بھی کال پر اطلاح دے دی۔۔۔
رزم بھی سب کے ساتھ ہی آگیا تھا۔۔۔۔وہ جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہیں لیتا کے وہ خیریت سے ہے تب تک اسے سکون نہیں ملنا تھا۔۔۔۔
وشہ کو تب پتہ چلا۔۔۔۔۔جب وہ لاؤنج میں آئی سب ہی بیٹھے اسی کے نیچے آنے کا انتظار اکر رہے تھے۔۔۔
رزم اسے ریلنگ پکڑ کر لڑکھڑا کر نیچے آتا دیکھ کر بے چین ہوگیا۔۔۔۔
وشہ نے نیچے لاؤنج میں آکر سب کو سلام کیا۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔وشہ سب سے مل کر صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔
وشہ کے سامنے ہی رزم بیٹھا اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔وشہ اسکے دیکھنے سے کنفیوسڈ ہورہی تھی۔۔۔
وشہ آپی آپ کا پیر کتنا سوج گیا ہے کیا آپ کو چوٹ لگی ہے اور حنان کے بچے تم نے یہ کیوں نہیں بتایا۔۔۔
ربیکا کی نظر اسکے پیر پر گئی تو فکر مند سی ہوگئی۔۔۔
ربیکا کے کہنے پر سب کی نظر اسکے پیر کی جانب گئی
جو کافی سوجا ہوا تھا۔۔۔ رزم بس ہونٹ بھنج کر رہ گیا سب کے سامنے وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
ہاں وہ میں بیڈ سے تیزی سے نیچے اتری تو پیر مڑ گیا۔۔وشہ منمنا کر بولی جیسے گناہ کر دیا ہو۔۔۔۔
کچھ لگایا۔۔۔افشاں بیگم کے پوچھنے پر اسنے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔لیکن میں نے پین کیلر لے لی تھی۔۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے مگر کچھ لگاو گی نہیں تو سوجن نہیں جائے گی۔۔۔۔
جی لگا لونگی۔۔۔وشہ نے مسکرا کر جواب دے کر رزم کی جانب دیکھا جو اسے گھور رہا تھا۔۔
افف گھور ایسے رہے ہیں۔ جیسے میں۔ نے خود یہ سب کیا ہو خود سے کہتی وہ ربیکا کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔
ربیکا چلو باہر لان میں چلتے ہیں۔۔۔۔۔ وشہ رزم سے نظر چرا کر ربیکا کو ہلکی آواز میں بولی۔۔۔۔ “مگر اپکا پیر۔۔۔
ٹھیک ہے اب چلو۔۔۔ ربیکا کی بات کو نظر انداز کرتی وشہ کھڑی ہوگئی۔۔۔ آرا تم بھی آجاؤ۔۔۔
تم کہاں جا رہی ہو پیر دیکھو اپنا۔۔۔ نورین بیگم اسے دیکھ کر بولیں جو باہر کی جانب جانے لگی تھی ۔۔۔۔
مڑ کر اپنی ماں کو دیکھا۔۔۔لان میں ہی جا رہی ہوں۔۔۔اور ٹھیک ہوں ابھی درد کم ہے ۔۔۔
وشہ کہ کر دونوں کے ساتھ لان کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
تینوں گھاس پر بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔کیوں کے وشہ کو شام ٹھنڈے موسم میں گھاس پر بیٹھنا بہت پسند تھا۔۔۔
آپ دونوں کو آنٹی اندر بلا رہی ہیں ۔۔۔۔۔ضامن بھاگتا ہوا انکے قریب اکر پھولی سانس کے ساتھ بولا۔۔۔۔
اچھا چلو۔۔۔ آتی ہیں۔۔۔ آرا نے جواب دیا جس پر ضامن سر ہلاتا واپس بھاگ گیا۔۔۔
آرا آپی چلیں ورنہ کہیں خود ہی نہ اجائیں ربیکا ہنستی ہوئی اٹھ کھڑی ہوں۔۔۔۔آرا نے بھی ہنستی ساتھ ہی کھڑی ہوئی۔۔۔۔
آپ یہیں انتظار کریں ابھی آتی ہیں ہم۔۔۔۔
ربیکا وشہ کو کہتی اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔وشہ جو اٹھنے لگی تھی کندھے اچکا کر واپس بیٹھ گئی۔۔۔
دو منٹ ہی گزرے تھے جب پیچھے سے رزم کی آواز آئی
وشہ نےمڑ کر اسے دیکھا۔۔۔۔جو دونوں ہاتھ پشت پر باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
وشہ جلدی سے کھڑی ہوئی مگر برا ہوا پیر دوبارہ مڑ گیا۔۔۔آہ۔!! اس سے پہلے وہ منہ کے بل گرتی رزم نے جلدی سے کمر سے پکڑ کر اسے تھاما۔۔۔
وشہ نے تکلیف سے ہونٹ بھنج کر اسے دیکھا جو بہت نزدیک کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وشہ کی آنکھوں میں تکلیف سے آنکھوں میں آنسوں جھلملا گئے۔۔۔۔
رزم کو دکھ ہوا اسے تکلیف میں دیکھ کر۔۔۔۔ دونوں خاموش کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
وشہ کو احساس ہوا رزم کی پکڑ مضبوط ضرور تھی مگر سخت نہیں۔۔۔۔
رزم نے ہاتھ بڑھا کر اسکے گال پر نرمی سے چھو کر سہلانے لگا۔۔۔۔ وشہ اسکے لمس سے یَکدم جھجھک کر پیچھے ہونے لگی۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں کوئی آجائے گا۔۔۔۔
وشہ کانپتے لہجے میں بولتی پیچھے ہونے لگی۔۔۔رزم نے بھی فورن اسے چھوڑا۔۔۔۔
ؓسوری۔۔۔ رزم نے آہستہ سے کہا۔۔۔ وہ میں بس تمہارا پیر دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
وشہ دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلتی اپنی سانس کو درست کر رہی تھی جو یکدم اسکے اتنے قریب آنے سے تیز ہو گئی تھی۔۔۔۔
وشہ نے اسکی بات سن کر خاموشی سے اپنا پیر آگے کیا۔۔۔۔
رزم نے ایک نظر اسکے پیر کو دیکھا پھر بولا۔۔ اگر سہی نہ ہو تو مجھے کال کر لینا۔۔رزم نے کہ کر اسکے ہاتھ میں دبا موبائل لیا
پھر اس پر نمبر لکھ کر سیوکرتا واپس جانے لگا۔۔۔ وشہ تو حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
رزم جاتے جاتے مڑا۔۔۔۔ کیا میں آج انتظار کروں تمہاری کال کا۔۔رزم نے مسکرا کر پوچھا
جس پر وشہ نے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ گردن جھکا دی۔۔۔۔رزم کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: