Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Last Episode 16

0
عشقِ غیظ از امرحہ شیخ – آخری قسط نمبر 16

–**–**–

کچھ منٹ بعد رزم نے اسکے کان کے قریب سرگوشی کی اوپن یور آئیز۔۔۔۔۔۔ رزم کے کہنے ہر اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔۔۔
وشہ نے دیکھا وہ لوگ کسی جنگل کے درمیان کھڑے تھے یہ حصّہ بلکل خالی تھا۔۔۔۔۔۔وہ اس سے الگ ہو کر خوشی سے چاروں طرف دیکھنے لگی۔۔۔ جب کے رزم اسے۔۔۔
بہت بڑے رقبے ہر پھلے پھول سبزہ ۔۔۔وہیں پھولوں کے بیچ خوبصورت سا گھر بنایا گیا تھا۔۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی الگ دنیا میں آگئے ہوں۔۔۔۔
رزم نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھاما۔۔۔وشہ نے اسکی جانب دیکھا۔۔۔۔یہ سب؟ وشہ اتنا بول کر چپ ہو کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
ہمارا گھر جہاں ہم رہیں گے۔۔۔ رزم ہاتھ کے انگوٹھے سے اسکے گال کو سہلا کر بولتے اسے محبت سے دیکھنے لگا۔۔۔۔
چلیں۔۔۔رزم نے اپنا ہاتھ اسکے سامنے کیا جسے اس نے مسکرا کر تھام لیا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
دونوں اندر آئے……..وشہ گھر کو دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔ باہر کے ملکوں کے گھر کیا ہونگے جو وہ تھا۔۔۔۔
لکڑی کا گھر جس کے دروازے شیشے کے تھے۔۔۔۔
سفید اور گرے کلر کا کومبینیشن تھا۔۔۔۔۔ ہر چیز کی سہولت تھی۔۔۔۔ وشہ تو آنکھیں جھپکائے بنا ہر چیز کو دیکھ رہی تھی
اسے یقین نہیں آرہا تھا اتنا خوبصورت گھر اسکا اپنا ہے۔۔۔
رزم نے ٹیک لگا کر دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر اسکی پشت کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ جب یکدم اسکے ذہن کے پردوں پر آوازیں گڈمڈھ ہونے لگیں
رزم نے آنکھیں بند کردی جب آوازوں کے ساتھ کچھ منظر گھومنے لگے۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
حنان اور ضامن دونوں ہی روم سے چلے گئے۔۔۔۔
وشہ انکے جانے کے بعد کھڑی ہوئی جب کسی نے پیچھے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔۔وشہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا
جب کسی نے زور سے سر پر کچھ مارا۔۔۔۔وشہ زور سے چیخ مارتی دھڑام سے نیچے گری۔۔۔۔۔سر سے خون پانی کی طرح بہنے لگا۔۔۔۔۔
رزم بھائی کہاں جا رہے ہیں؟زیاف نے اسے اوپر جاتے دیکھا تو پوچھنے لگا۔۔۔
وشہ سے ملنے اور ہاں میں پوچھ چکا ہوں سب سے۔۔۔رزم کہ کر وشہ کے روم کے سامنے کھڑا نوک کر کے اندر گیا
سامنے ہی وشہ نکاح کے جوڑے میں خون سے لت پت کارپٹ پر پڑی تھی
پتہ نہیں کتنا وقت اسے یونہی پڑے گزرا تھا۔۔۔ رزم ایک دم چیخا۔۔۔۔ رزم کی چیخ اتنی بلند ضرور تھی کے زیاف جو باہر نکل رہا تھا تیزی سے آیا۔۔۔۔
وشہ کو خون میں دیکھ کر ساکت رہ گیا۔۔۔۔۔۔ رزم نے قریب جا کر اسے دیکھا جسکا صرف سر نہیں پھٹا تھا
اسے کافی زخمی کیا گیا تھا گردن پر ناخن سے کٹ لگے ہوۓ تھے جس سے خون نکل رہا تھا۔۔۔۔
مہندی لگے ہاتھوں میں شیشے کے ٹکڑے گھوپے یوئے تھے رزم نے تکلیف سے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔۔ زیاف ہھی تیزی سے قریب آیا . ۔۔۔
روم میں یکدم کوئی قہقے لگانے لگا۔۔۔۔۔دونوں بجلی کی سی تیزی سے اٹھے سامنے ہی کاھل کا باپ کھڑا تھا۔۔۔
کیسا محسوس کر رہے ہو ؟ رزم اسکی بات کو نظر انداز کرتا زیاف سے بولا۔ ۔۔۔۔۔ زیاف وشہ کو ہوسپیٹل لے کر جاؤ۔۔
رزم اسے کہتا آگے بڑھ کر اسے زور سے پنج مارا۔۔۔ رزم شدید تحش میں اسے مارنے لگا جو اپنے اصل روپ میں آکر رزم پر حاوی ہورہا تھا
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم کاھل کے باپ کو ختم کر کے ہوسپٹل آیا ۔۔۔ جب زیاف تیزی سے اسکی جانب آیا۔۔۔۔ کیا ہوا تم کہاں جا رہے ہو۔۔۔۔
رزم اسے دیکھتا پریشانی سے گویا ہوا۔۔۔۔میں اپکا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔ قبیلے کے سردار کو پتہ چل گیا ہے
وہ اپنا کوئی ساتھی بھیج رہے ہیں تاکے دیکھ سکیں لڑکی زندہ ہے یا نہیں۔۔۔۔
کھاہل کی موت کا سن کر وہ پاگل ہو رہے ہیں۔.۔۔۔ زیاف تیز تیز بول رہا تھا۔۔۔ جب کے رزم کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔۔۔۔۔
رزم کو دیکھ کر زیاف نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
ریلیکس یہ وقت ابھی لڑنے کا نہیں ہے وشہ بھابھی کو بچانے کا ہے۔۔۔
ہمیں وشہ بھابھی کو یہاں سے لے کر جانا ہے وہ بھی چھپا کر ۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔رزم خود پر ضبط کر کے ماتھا مسلنے لگا۔۔۔جب آرا بولی
جو کب سے دونوں کی بات چپ ہو کر سن رہی تھی۔۔۔۔
میرے پاس ایک پلان ہے۔۔۔۔۔۔ اگر سہی لگے تو۔۔۔ ارا کی بات سن کر دونوں نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
زیاف نے نظر بچا کر آئی سی یو کا ڈور آسانی سے کھولا سب اتنے اپ سیٹ تھے کے کسی نے اسے نہیں دیکھا۔۔۔۔
زیاف نے اندر جا کر ڈاکڑ کو بولایا۔۔۔سب حیرت سے اسے دیکھنے لگے وہ کیسے اندر آیا۔۔۔
آپ۔۔۔آپ کیسے اندر آگئے۔۔۔۔ڈاکٹر نے حیرت سے زیاف کو دیکھ کر استفسار کیا۔۔۔۔
جی وہ ڈور کھولا ہوا تھا۔۔۔۔ شاید لاک خراب ہوگیا۔۔۔ زیاف نے جھوٹ بول کر ڈاکٹر کو بتا کر وشہ کی کنڈیشن پوچھی۔۔
جو ٹھیک تھی۔۔۔۔ زیاف نے ڈاکٹر کو کونے میں لے جا کر ساری بات بتادی۔۔۔۔۔۔۔کے لڑکی کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر اس کی بات مان گئے۔۔۔۔وشہ ویسے بھی اتنی جلدی ہوش میں نہیں آنے والی تھی۔۔۔۔۔۔۔ شاید پانچ چھ گھنٹے لگ جاتے۔ ۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
سب پلان کے مطابق ہو رہا تھا۔۔۔رزم کو شدید تکلیف ہوئی وشہ کے گھر والوں کو دیکھ کر۔۔۔۔ کاش ایسا کچھ نہ ہوتا۔۔۔۔لیکن کیا کر سکتے ہیں۔۔۔
وشہ کو گھر لایا گیا۔۔۔۔ مگر قبرستان جانے سے پہلے ہی رزم نے سب سے کہا۔۔۔۔۔وہ وشہ کے پاس اکیلا بیٹھنا چاہتا ہے
اس لئے سب اٹھ کر لان میں چلے گئے کے اب جنازہ ہی لےکر جانا ہے۔۔۔۔رزم نے سب کے جانے کے بعد زیاف کو کال ملائی۔۔۔۔
جو فورن ہی آرا کے بھائی کے ساتھ ایک ڈیڈ باڈی لے کر آگیا ۔۔۔۔۔
رزم بھائی آرا اور بدح بھائی وشہ بھابھی کو لے کر جا رہے ہیں۔۔۔۔
رزم نے وشہ کو دیکھا جو بیہوش تھی سر پر سفید پٹی۔۔ دونوں ہاتھوں میں بھی سفید پٹی تھی۔۔۔۔
رزم نے جانے کی اجازت دی تو اسکی جگہ ڈیڈ باڈی رکھ دی گئی۔۔
وہ جانتے تھے اب کوئی چہرہ نہیں دیکھے گا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ کا اب حویلی میں ہی علاج ہورہا تھا۔۔۔۔۔ رزم کو اسکے پاس جانے کی جلدی تھی۔۔۔ اگر وہ ہوش میں آگئی تو کیسے سمبھالیں گے اسے۔۔۔۔
سب سے فارغ ہو کر رزم حویلی آیا۔۔۔۔ وشہ ہوش میں تھی
اور آرا کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔
السلام عليكم۔۔۔۔۔ رزم سے زور سے سلام کیا۔۔۔۔ وشہ نے اسے دیکھا تو مسکرا دی۔۔۔وعلیکم اسلام۔۔
رزم کو تھوڑا جھٹکا لگا۔۔۔ پتہ نہیں آرا نے کیا کہا ہوگا اس سے جو وہ یوں مسکرا رہی ہے۔۔۔۔
آرا رزم کے چہرے کو دیکھ کر اپنی ہنسی دبانے لگی۔۔۔
رزم چلتا ہوا بیڈ پر اسکے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔ اب کسی طبیت ہے تمہاری۔۔۔رزم نے بیڈ پر رکھے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
اب ٹھیک ہوں۔۔۔ وشہ ہلکی آواز میں بولی۔۔۔۔ بہت کمزور سی لگ رہی تھی اسے۔۔۔۔
اہمم۔۔۔آپ دونوں بات کریں میں چلی ہوں۔۔آرا اٹھ کر وشہ سے ملی۔۔۔رزم نے اسکا شکریہ ادا کیا کیوں کے۔۔۔ سارا پلان اس ہی کا تھا۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
آرا کے جاتے ہی وشہ کی آواز اسکے کانوں میں پڑی جو کہ رہی تھی.
آرا نے مجھے سب بتا دیا ۔۔۔ آپ کے دشمن مجھے مارنا چاہتے تھے تاکے آپ کو تکلیف پوھنچا سکیں۔۔۔
تبھی آپ مجھے یہاں لائے میری جھوٹی موت بنا کر۔۔۔ لیکن اس سے میرے گھر والے؟ آپ کو انھیں بتا دینا چاہیے تھا۔۔۔۔۔
میرے امی ابّو میرے دونوں بھائی وہ۔۔اس سے آگے جیسے سارے الفاظ کھو گئے۔۔۔۔وشہ یکدم سسک اٹھی۔۔۔۔ کیا حال کرلیا ہوگا سب نے۔۔۔
وشہ پلیز سمبھالو خود کو۔۔۔۔یہ ضروری تھا وہ فیملی کو بھی نقصان پوھنچا سکتے ہیں۔۔۔
اس لئے یہ سب کیا پلیز ادھر دیکھو میری طرف۔۔ رزم نے دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ قریب کر کے
بےبسی سے کہا وہ اس سے اب دسترس نہیں ہوسکتا۔۔۔۔ وشہ روتی ہوئی۔۔۔۔اسکے سینے سے لگ گئی۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وقت یونہی گزرتا گیا رزم اسکے پاس آتا جاتا رہتا۔ ۔۔۔۔ وشہ کے زخم ٹھیک ہو رہے تھے۔۔۔
رزم آج کل بہت کچھ سوچ رہا تھا وہ اپنا اور اپنی فیملی کا سچ بتانا چاہتا تھا مگر ڈر رہا تھا کہیں وہ اس سے دور نہ چلی جائے۔۔۔۔
لیکن آخر کب تک۔۔۔۔ اسے انتظار تھا اسکے ٹھیک ہونے کا۔۔۔کئیں بار وشہ کو اپنی فیملی کے لئے روتا دیکھتا تھا
مگر وہ جانتا تھا کسی کو بھی پتہ چلا تو اسکی جان کے پیچھے پڑھ جائیں گے۔۔۔۔
اگر لڑ بھی لیتا تو کب تک۔۔۔ ایک کو مارا تو دوسرا آجائے گا۔ ۔۔۔۔۔اسے اپنی نہیں اپنے سے جڑے رشتوں کی پرواہ تھی۔۔۔۔
کسی بھی اپنے کا دکھ وہ برداشت نہیں کر سکے گا۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
رزم آج میں ٹھیک ہوں اس لیے چلیں مجھے حویلی دیکھنی ہے۔۔۔
اف میں اکتا گئی ہوں روم میں۔۔ صرف گیلری میں جانے دیتی ہے وہ آپ کی کزن ۔۔۔
وشہ ناک چڑھا کر بیڈ سے اتر کر دوپٹہ سہی کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہوئے ظام کا بتانے لگی
رزم اسکی بات پر مسکرا کر قریب آیا۔۔۔
پھر ماتھے پر پیار کر کے اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔ جب کے وشہ اپنی پیشانی جلتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔شرم سے وہ لال ہوگئی۔ ۔۔
دونوں ساتھ نیچے آئی۔۔وشہ اشتیاق سے اتنے بڑے رقبے پر پھلی حویلی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
وشہ نے اب دیکھا تھا ورنہ تو روم میں ہی رہتی تھی۔۔۔
رزم مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ جب اچانک وشہ کو اپنی طرح متوجہ کیا۔۔۔
وشہ سنو۔۔۔۔۔۔وہ دو قدم اسکی جانب بڑھا
وشہ آواز پر اسکی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔جی بولیں۔ ۔۔۔
مجھے تمہے کچھ بتانا ہے وہ نہ محسوس انداز میں اسکے نزدیک اتا ہے اتنا نزدیک کے اگر ہوا بھی اسے چھوتی تو رزم سے ٹکرا کے وزشہ تک گزر کر پونھنچنا پڑھتا۔ ۔۔۔
میری طرف دیکھو وشہ۔۔۔۔۔ رزم اسکے قریب اپنا چہرہ کیے اسک آنکھوں میں انکھیں گاڑھتا بولا ۔۔۔
وشہ جو پہلے ہی اتنی نزدیکی پر بوکھلائی ہوئی تھی اسکے
آنکھیں ملانے پر سٹپٹا گئی۔۔۔
پر یہ کیا رزم کی آنکھیں لال کیوں ہو رہی تھیں یہ کوئی عام لال رنگ تو نہیں تھا ان آنکھوں میں تپیش تھی کسی کو بھی جھلسا دینے والی۔۔۔
رزم۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔ یہ۔۔۔۔ آ۔۔۔۔ آپ۔۔کی آنکھوں کو کیا ہو رہا ہے کیا آپ ٹھیک ہیں ؟ وشہ گھبرا گئی تھی رزم کی آنکھیں کبھی اس طرح لال انگارہ نہیں ہوئی تھیں۔۔۔۔
وشہ تم جو دیکھ رہی ہو یہی میرا سچ ہے ۔میں نے کوشش کی تھی تم سے دور رہنے کی پر میری ہر کوشش تمہاری معصومیت تمہاری شرارتوں نے ناکام بنا دی۔۔۔
میں دور بھاگتا تھا انسانوں سے خاص کر لڑکیوں سے پر تم نے میری زندگی میں آکر وہ سب بھی ختم کر دیا۔۔۔
وشہ تم نے مجھے سر تا پیر بدل دیا۔۔۔۔۔۔رزم گھمبھیر لہجے میں بولتا وہ وشہ کو الجھا گیا۔۔۔
یہ۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔ سب کیا ہے وہ اٹک اٹک کر بولتی چند قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔ پر رزم اسی تیزی سے اس تک پوھنچا تھا
وشہ میں تمہے سب بتا دینا چاہتا تھا پر تمہے کھونے کے ڈر سے کبھی بول ہی نہیں پایا
لیکن اگر اب بھی نہیں بولتا تو شاید کبھی نہیں بول پاتا۔۔۔
میں۔۔۔۔میں انسان نہیں ہوں اشرافل مخلوقات میں سے نہیں ہوں بلکے ایک انسان نہیں ہوں
مگر اسی کی بنی ہوئی مخلوق میں سے ایک ہوں
ایک ایسا جن جو لوگوں کی بھلائی کے لئے انسانوں کا ساتھ دیتا ہوں۔۔۔
میں نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پونھنچایا
ہا۔آ ۔۔۔آپ ہاہاہا۔۔۔۔آپ کیا بولنے میں لگے ہیں اپریل تو نہیں ہے ہاہاہا۔۔۔ اچھا مذاق کر لیتے ہیں۔
وشہ اسکی باتوں کو مذاق سمجھ کر ہنسنے لگی۔۔۔میں مذاق نہیں کر رہا۔۔۔ اور خاص کر تب بلکل نہیں جب یہ ہم دونوں کی زندگیوں سے جڑا ہو۔۔۔
وشہ اسکی بات سن کر چپ ہوکر اسے دیکھنے لگی جو اسکے متوجہ ہونے پر دوبارہ بولا۔۔۔۔
میں ایک جن ہوں پر اسی اللہ‎ کی عبادت کرتا ہوں جس کی تم لوگ کرتے ہو۔۔۔
وشہ یکدم اسکے بازوں کو جھٹکتے ہوئے ڈر کر پیچھے ہوئی۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ اب ڈر محسوس کر رہی تھی رزم کو اسکا ڈر صاف نظر آرہا تھا۔۔اسی چیز کا تو ڈر تھا کے کہیں وہ کچھ غلط نہ سمجھ ہبیٹھے
وشہ میری بات سنو پلیز۔۔۔وہ جتنا آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا وہ اتنا ہی اس سے دور ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
مطلب۔۔مطلب آپ کی فیملی سب ایک دھوکہ تھا۔۔اٹک اٹک کر بولتی وہ کپکپانے لگی تھی۔۔۔۔۔۔
تم ریلیکس ہو جاؤ پھر بات کریں گے ہم۔۔۔۔رزم اسے یوں دیکھ کر اسے ریلیکس کرنے لگا۔۔۔۔اسے خود پر غصہ آنے لگا
کیوں اس نے جذبات میں آکر اسے سب بتانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ۔۔اگر وہ اس سے دور ہوگئی تو؟ نہیں وہ ایسے سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ بلکل چپ ہوگئی تھی۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔کیا جو رزم نے کہا وہ سب سچ تھا۔۔۔۔
وشہ خاموش کھڑی اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔اس نے کہا تھا وہ ہم
انسانوں کی طرح اللہ‎ کی عبادت کرتا ہے۔۔۔۔وہ اچھا ہے۔۔۔۔۔
ہاں سچ کہا تھا اسنے کے وہ اچھا ہے۔۔۔۔۔اس نے پہلے وشہ کے چھوٹے بھائی کی جان بچائی تھی۔۔۔
اب بھی وہ اور اسکا بھائی اسے اور اسکے گھر والوں کو محفوظ کر رہے ہیں۔۔۔۔
رزم اسے بلکل چپ دیکھ کر اپنے ماتھے کو دو انگلیوں سے مسلنے لگا تھا۔ ۔۔۔
وشہ جب کافی دیر چپ رہی تو رزم سر جھکائے چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اسکے پاس سے گزرنے لگا۔۔۔
وہ اب کیا فیصلہ کرتی ہے۔۔۔۔کیا وہ اسے چھوڑ دے گی۔۔۔ رزم کے دماغ میں یہی سوال گردش کر رہے تھے۔۔۔
جب وشہ نے اپنے کانپتے ڈھنڈے ہاتھوں سے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا۔۔۔۔۔۔
رزم کو شدید حیرت ہوئی اتنا کچھ سننے کے بعد وشہ نے خود سے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔ ۔۔۔
رزم اسکے سامنے آتا اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کک کیا وجہ تھی ایسی جج۔۔۔ جو۔۔ آپ لوگ انسانوں کے درمیان انہی کی طرح رہتے تھے؟
وشہ کی بات پر رزم کو ہنسی آنے لگی۔۔۔۔ وشہ افنان سے ایسے سوالوں کی توقع کی جا سکتی تھی۔۔۔۔
تمہے کیا لگتا ہے صرف ہم ہی ایسے جن ہیں جو انسانوں کے درمیان رہتے ہیں؟ بہت سے ایسے جن ہیں جو ہر روپ میں انسانوں کے ہی درمیان ہیں۔۔۔۔۔
یہاں تک کے جانوروں کیڑے مکوروں کے روپ میں بھی اور جہاں تک ہماری بات ہے۔۔۔۔۔تو ہم لوگ انسانوں کی مدد کرتے ہیں
اور ہمارے قبیلے والے اور سردار کو یہ بات نہیں پسند تھی وہ انسانوں کو ستاتے اور مشکلیں بڑھانے میں خود پر فخر کرتے ہیں۔۔۔
انسان کو جان سے مارنا بھی انکے لئے کبھی مشکل نہیں ہوا۔۔۔۔۔
تبھی ہمیں قبیلے سے بے دخل کردیا اور پھر ہم تم لوگوں کے ایریا میں آگئے۔۔۔رزم نے بات مکمل کر کے ایک قدم آگے بڑھایا۔۔۔
میں تمہے نہ بتا کر بھی تمھارے ساتھ رہ سکتا تھا لیکن میں نے یہ نہیں کیا۔۔۔کیوں کے میں تمہے کوئی دھوکہ نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
وشہ کے ہاتھ ابھی تک ٹھنڈے تھے۔۔۔۔رزم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر قریب کرتے اسکے ہاتھ کی پشت پر اپنے ہونٹوں سے چھوا۔۔۔۔
میں تمہے تکلیف نہیں دے سکتا۔۔۔کیا تم سب بھول کر میرے ساتھ رہ سکتی ہو۔۔۔۔ رزم کی آواز ضبط سے بھاری ہو رہی تھی۔۔۔
وشہ کو تکلیف ہوئی اسے یوں دیکھ کر اسے کچھ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کہے۔۔۔۔
وشہ کو حیرت ہو رہی تھی سامنے کھڑا اسکا کھڑوس شخص اانسان نہیں ہے۔۔۔
کیا ہم اب خوش رہ سکتے ہیں رزم ؟ میرے گھر والے سب؟مجھے آپ سے نفرت محسوس نہیں ہو رہی
حالانکے مجھے یہ سن کر آپ کو چھوڑ کر بھاگ جانا چاہیے۔۔۔وشہ اپنی بے بسی پر رو دی۔۔۔۔
اسے خود پر حیرت تھی ایک ایسا مذاق ہوا تھا اسکی زندگی کے ساتھ وہ ہنسے رویے یا اپنا مذاق اڑائے۔ ۔۔
رزم وشہ کو یوں دیکھ کر فاصلہ مٹا کر زور سے اپنے سینے میں بھیج لیا وشہ آواز کے ساتھ رونے لگی۔۔۔۔
اگرحقیقت پہلے پتہ چلتی تو کبھی دوستی کیا رخ نہ کرتی۔ ۔۔
پر اب دل نے اسکے ساتھ دھوکا کر دیا۔ ۔۔۔اسکے نکاح میں بھی تھی ۔۔۔ وشہ کو لگا اب رزم سے الگ ہوئی تو مر جائے گی۔۔۔۔
ایک جن سے عشق کر بیٹھی تھی وہ جو ہر طرح سے وشہ کے لیے پرفیکٹ تھا۔۔۔۔
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~
وشہ پلیز رونا بند کرو۔۔۔۔رزم اسکی کمر سہلانے لگا۔۔۔ششش ریلیکس۔ ۔۔
کچھ ہی دیر بعد وشہ کا رونا بند ہوا۔۔۔۔
وہ اسے کچھ کہ رہی تھی اپنی سو سو کرتی لال ناک کو رگڑتی بلکی چھوٹی بچی لگ رہی تھی۔۔۔۔
رزم نے مسکرا کر اسکے سر پر پیار کیا۔۔۔۔
آپ۔۔آپ وعدہ کریں کبھی مجھے ڈرائیں گے نہیں۔۔۔
وشہ کی بات پر رزم کو خوش گوار حیرت ہوئی۔۔۔۔
وشہ تم تم مطلب۔۔۔میرا مطلب۔۔۔ رزم خوشی میں بوکھلا گیا تھا۔۔۔
وشہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے پیچھے ہوئی۔۔۔۔
جی میں نے وہی کہا جو آپ نے سنا ہے۔۔۔
اب اگر میری قسمت میں جن ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔۔۔
وشہ ناک چڑھا کر وعدے لینے کے لیے اپنا دایاں ہاتھ اسکے سامنے پھلا کر انتظار کرنے لگی۔ ۔۔
رزم نے ہنس کر اسکا ہاتھ تھاما پھرکھنچ کر اسے اپنے قریب کھنچا۔۔۔۔۔
یہ۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔وشہ آنکھیں پھلا کر پوچھنے لگی رزم نے جواب دیے بغیر اسے اٹھایا۔۔۔۔۔
اور روم میں لے جانے لگا۔۔۔۔۔ کک کیا۔۔۔۔آپ آپ مجھے کھا جاہیں گے؟
ہاں بلکل۔۔۔۔اسکے بعد تمہاری ہڈیاں کی دعوت کرونگا۔۔۔رزم اپنا قہقہ ہونٹ بھنچ کر سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔۔
وشہ کا ہلک سوکھ کر کانٹا ہوگیا۔ ۔۔
رزم نے اسے روم میں لاکر بیڈ پر لٹایا۔۔۔جو جھٹ بیٹھ گئی۔ ۔۔ظاہر ہے اگر لیٹا کر اس نے حملہ کردیا تو وہ تو گئی۔۔۔ ہڈیوں کی دعوت ہائے۔۔۔۔
وشہ سوچ کر جھرجھری لے کر رہ گئی۔۔۔ رزم نے پاس بیٹھ کر ہاتھ تھاما وشہ کچھ کہٹی۔۔۔۔ جب رزم کے اشارے پر چپ ہوگئی۔۔۔۔
تمہے لگتا ہے میں انسانوں کو کھا جاتا ہوں ؟ رزم کے پوچھنے پر وشہ نے کندھے اچکائے۔ ۔۔
اف۔۔ تم کبھی نہیں سدھر سکتی خیر میں انسان کا گوشت نہیں کھاتا سمجھی۔۔۔
اچھا۔۔۔وشہ نے سر جھکا کر کہا۔۔۔۔۔رزم نے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کی۔۔۔۔آئی لو یو۔۔۔۔۔
وشہ مسکرا کر اسکے سینے میں منہ چھپا گئی۔۔۔۔
حال :
رزم!!۔۔۔۔رزم کہاں کھوگئے؟ کب سے آوازیں دے رہی ہوں چلیں اندر دروازے پر کیا کر رہے ہیں۔۔۔
وشہ کی آواز پر رزم جیسے نیند سے جاگا۔۔۔۔
سارے خیال جھٹک کر وہ اندر بڑھ گیا۔۔۔۔۔ جہاں اب صرف وہ دونوں تھے اور انکی محبت۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: