Ishq Hai Sahib Novel By Sabahat Rafique Cheema – Episode 1

0
عشق ہے صاحب از صباحت رفیق چیمہ – قسط نمبر 1

–**–**–

باب ۱

نور سے دور ہوں ظلمت میں گرفتار ہوں میں
کیوں سیہ زور، سیہ بخت، سیہ کار ہوں میں

آج جوزفینا رسکارڈو کی اٹھارویں سالگرہ تھی، جوزفینا رسکارڈو بہت خوش تھی ایک تو ٹومس روبرٹو آج سارا دن اُس کے ساتھ تھا۔ اور اب وہ اُس کی رات خوبصورت بنانے کے لیے اُس کی پسندیدہ جگہ منڈالا بیچ کلب لے آیا تھا۔ یہ کلب میکسیکو کے خوبصورت کلبز میں سے ایک تھا۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں وزٹ کے لیے آتے تھے، اس نے ٹومس کے ساتھ کچھ دیر سوئمنگ کی اور پھر دونوں سمندر سے نکل آئے اور گیلی ریت پہ چلتے ہوئے بیچ چیئرز کے قریب آئے اور دونوں چیئرز پہ نیم دراز لیٹ گئے۔ منڈالا بیچ کلب رنگ برنگی روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ اویکنگ یور سینسز میں میوزک آن کر دئیے گئے تھے، کلب میں موجود سارے لوگ اس مد ہوش کر دینے والے ماحول میں مد ہوش ہو رہے تھے ویٹر ٹرے میں رنگ برنگے مشروب کے گلاس لیے اُن کے قریب آیا، کیا آپ وائن لینا پسند کریں گے؟ دونوں نے اپنے اپنے پسندیدہ مشروب کے گلاس اٹھا لیے اور گھونٹ گھونٹ اپنے اندر اُتارنے لگے، کچھ دیر بعد اُس نے ویٹر کو اشارہ کیا جس نے اُن سے خالی گلاس لے لیے۔ ’ٹومس۔۔۔‘ جوزفینا نے خمار آلود لہجے میں اُسے پکارا، ’یس سویٹ ہارٹ؟‘ ٹومس نے اُس کی طرف رُخ کر کے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تو اُس نے اُس کے نزدیک ہوتے ہوئے اپنا سر اُس کے سینے پہ رکھ دیا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں، جب اُسے ٹومس پہ زیادہ پیار آتا تھا۔ وہ ایسے ہی کرتی تھی یہ اس کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔ ٹومس نے مُسکراتے ہوئے اپنے دونوں بازو اُس کے گرد لپیٹ کے اُسے خود میں سمو لیا، اور وہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے میں مد ہوش ہونے لگے۔
٭٭
وعدہ کرتا ہوں تجھے رُلاؤں گا نہیں
حالات جو بھی ہوں تجھے بھلاؤں گا نہیں
چھُپا کے اپنی آنکھوں میں رکھوں گا تجھ کو
دُنیا میں کسی اور کو دکھاؤں گا نہیں

وہ بارہ سال کا تھا۔ جب اُس کی خالہ عزابیلا اور خالورسکارڈو اپنی چار سالہ بیٹی کے ہمراہ ڈنمارک سے میکسیکو آئے تھے وہ مزاٹلان کے سمندر کی سیر کرنا چاہتے تھے، جس کے لیے اُنہیں ال ایسپنازوڈیل ڈیابلو پہاڑ جسے شیطان کی ریڑھ کی ہڈی بھی کہا جاتا ہے جو میکسیکو میں ڈورینگو کے پاس ہے وہ کراس کر کے جانا پڑنا تھا۔ یہ ایک پانچ گھنٹے کا کراس ہے جو ڈورینگو اور مزاٹلان کو منسلک کرنے کی سڑک ہے، جب وہ جانے لگے تو اُس کے دل میں نجانے کیا آیا کہ اُس نے اپنی خالہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور اُن کی بیٹی کی طرف اشارہ کر کے بولا ’پیاری خالہ آپ اور خالو مزاٹلان سے ہو آئیں لیکن یہ ڈول میرے پاس رہنے دیں میں اس کے ساتھ کھیلوں گا اور اسے رونے بھی نہیں دوں گا‘ تو عزابیلا کو بھی اُس کی بات پسند آئی تھی کہ اس طرح وہ زیادہ بہتر انجوائے کر سکیں گے سو وہ اپنی بیٹی کو اُن کے پاس چھوڑ کے روانہ ہو گئے اور سفر کے دوران اُن کی کار حادثے کا شکار ہو گئی ال ایسپنازوڈ یلڈ یابلو کے پہاڑ نے اُن کو نگل لیا تھا۔ لیکن وہ اپنی کہی بات پوری کر رہا تھا۔ ، اُس کے ماں باپ نے اُسے بھی اُس کے سکول داخل کروا دیا وہ اُس کے ساتھ کھیلتا اور اُس کا ایسے خیال رکھتا جیسے ایک ماں اپنے بچے کا رکھتی ہے وہ اُس کے منہ سے نکلی ہر بات پوری کرتا چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہواس کی غلط باتیں بھی ماننے پر وہ اپنے ماں باپ سے بہت دفعہ ڈانٹ کھا چکا تھا۔ لیکن وہ بس اتنا کہتا ’سوری مام اینڈ ڈیڈ اس میں میری جان ہے میں اسے کبھی ناراض نہیں کر سکتامیں اس کی ہر خواہش پوری کروں گا چاہے اس کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے مجھے اپنی جان ہی کیوں نا دینی پڑے‘۔ ویسے تو اُس کے ماں باپ اور دونوں بہنیں وکٹوریہ اور نٹالیہ بھی اُس سے بہت پیار کرتی تھیں لیکن اُن کا پیارٹومس روبرٹو کے پیار کے آگے کچھ بھی نہیں تھا۔ ، اور جوزفینا رسکارڈو کو اُس کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ وہ اُس کے بغیر ایک دن بھی نہیں رہ سکتی تھی وہ اُس سے دس سال بڑا تھا۔ لیکن وہ اُس کا بہترین دوست تھا۔ جو اس کی ہر بات فوراً مان لیتا تھا۔ جو اُس کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ جو اُس کی آنکھ میں ایک آنسو تک نہیں آنے دیتا تھا۔ ، سال گزرتے گئے اور اُن کا پیار بھی دن بدن بڑھتا گیا۔ وہ اٹھائیس سال کا ہو گیا تھا۔ اور اُسے اپنی پریکٹیکل لائف شروع کیے چار سال ہو گئے تھے۔
٭٭
بنت حوا نے کھول رکھے ہیں بازار گناہ
ابن آدم ہے خریدار خُدا خیر کرے

دوپہر کے تین بجے کا وقت تھا۔ کہ ایک لڑکی بلیک عبایا پہنے ایک ہاتھ سے سکارف کے پلو کو پکڑ کے چہرے کو ڈھانپے دوسرے ہاتھ میں ہینڈ بیگ تھا۔ مے یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر نکلی تو ایک بلیو کلر کی کار اُس کے پاس آ کے رُکی تھی اور وہ فرنٹ ڈور اوپن کر کے بیٹھ گئی تو کار دوبارہ سڑک پہ فراٹے بھرنے لگی اُس نے چہرے سے نقاب ہٹا دیا اُس نے لمحہ بھر کے لیے اُس کی طرف دیکھا تھا۔ اور دوبارہ نظریں سڑک پہ مرکوز کر دیں اور بولا تم واقعی ہی خوبصورت ہو یا میری نظر کا قصور ہے؟۔ جناب آپ کی نظر کا قصور نہیں میں ہوں ہی خوبصورت۔ ایک ادا سے کہا گیا تھا۔ تو وہ مُسکرا کے بولا اچھا جی۔ اور کار کا رُخ دائیں سائیڈ پہ نظر آتی سُنسان گلی کی طرف موڑ دیا اور کچھ آگے جا کے اُس نے بریک لگائی تھی اور کار کا انجن بند کر کے اُس کی طرف متوجہ ہوا، اُس نے اُس کی گود میں رکھے ہاتھوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھا۔ م لیا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا اب ادھر تو کوئی نہیں دیکھ رہا نا میری جان۔ وہ اُس کی بات کا مطلب سمجھ کے اپنے آپ میں سمٹی تھی۔ احمر مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا۔ یار اس میں غلط ہی کیا ہے بس ایک کس ہی تو کرنی ہے ویسے تم کہتی ہو کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو اور یہ کیسی محبت ہے کہ تم میری ایک چھوٹی سی خواہش نہیں پوری کر سکتی؟ وہ اُسے لفظوں کے جال میں لپیٹ رہا تھا۔ اور وہ لپٹ رہی تھی میری محبت پہ شک نہ کرو محبت ہے تو تمہاری بات مان کے تمہارے ساتھ آئی ہوں نا۔ اگر آ گئی ہو تو پھر میری بات ماننے میں کیا حرج ہے میری جان؟۔ اُس نے اُس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے لبوں سے چھُوا تھا۔ اور دھیرے سے اُسے اپنے قریب کر لیا، وہ شیطان کے بہکاوے میں آ گئے تھے اور شیطان اپنی کامیابی پہ خوشی سے جھوم رہا تھا۔ پا گلوں کی طرح قہقہے لگا رہا تھا۔ ، ہمارے نبیﷺ نے پہلے ہی ہمیں بتا دیا تھا۔ کہ کوئی نامحرم مرد و عورت آپس میں تنہائی نا کریں کیونکہ اُن کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے لیکن وہ اپنے نبیﷺ کی بات نہ مان کے اپنے لیے دنیا اور آخرت کی تباہی خرید رہے تھے۔۔
تو تم اس دن کے منتظر رہو
جب آسمان ایک ظاہر دھُواں لائے گا
٭٭
جوزفینا رسکارڈو اپنی دوست میریم کے ساتھ کو کو بونگو شاپنگ کے لیے آئی تھی، شاپنگ کرنے کے بعد وہ میکسیکو کے سُہانے موسم کو انجوائے کرنے کے لیے پیدل مارچ کرنے لگیں کہ اُس کی نظریں سامنے سپائیڈر مین کے مجسمے کے پاس کھڑے تین مشرقی لڑکوں پہ پڑی تو اُس کے اُٹھتے قدم اُدھر ہی رُک گئے وہ بس درمیان والے کو دیکھتی ہی گئی اور ایک عجیب سے احساس نے اُسے گھیرنا شروع کر دیا اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کہ اُس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے وہ اُن دونوں لڑکوں سے منفرد تھا۔ بلکہ اس وقت کو کو بونگو میں موجود سب لوگوں سے۔ وہ بلیک شلوار قمیض میں ملبوس دائیں کندھے پہ کالی چادر ڈالے ہوئے تھا۔ اور کالی مونچھوں کے نیچے مُسکراتے لب بلا شبہ وہ دوسروں کو ہیپنوٹائز کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ سب لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ لیکن اُسے ہیپنوٹائز نہ تو اُس کی خوبصورتی کر رہی تھی نہ ہی خالص مشرقی سٹائل۔ یہ کچھ اور تھا۔ ایسے جیسے وہ اُس کے جسم کا حصہ ہو اور وہ ایک جادوئی کشش کی طرح اُسے اپنے پاس کھینچ رہا ہو جیسے ایک مقناطیس دوسرے مقناطیس کو کھینچتا ہے اُس کے قدم اُس کی طرف اُٹھنے لگے اُسے نہ تو میریم کی آوازیں سُنائی دے رہی تھیں اور نہ ہی اُس کے علاوہ کوئی دکھائی دے رہا تھا۔ جب وہ اُس کے بالکل سامنے جا کھڑی ہوئی تب اُس نے اُس کی طرف دیکھا تھا۔ ڈارک براؤن آنکھوں کا وہ اُس کی طرف دیکھنا اُس کے دل و دماغ میں ہلچل مچا گیا تھا۔ اور اُس کے دماغ میں ایک جھماکا ہوا تھا۔ اُسے یاد آ گیا تھا۔ آپ وہ ہی ہو نا؟۔ اُس نے گم صم انداز میں کنفرم کرنے کے لیے پوچھا تھا۔ اپنے سوال کے جواب میں اُسے اُس کے ساتھ کھڑے دونوں لڑکوں کا قہقہہ سُنائی دیا تھا۔ جبکہ اُس لڑکے نے اپنے قہقہے کو کنٹرول کر لیا تھا۔ لیکن وہ اپنی مُسکراہٹ کنٹرول نہیں کر سکا تھا۔ وہ کون میڈم؟۔ اُس نے مُسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔ وہ ہی جو پچھلے ہفتے مجھ سے ملا تھا۔ کدھر میڈم؟۔ اُس نے حیرانی سے پوچھا۔ ۔ خواب میں۔ اُس کے جواب نے اُسے بھی قہقہے لگا نے پہ مجبور کر دیا تھا۔ ایسے جیسے اُس نے بے تحاشہ مزاحیہ لطیفہ سُنایا ہو۔ جوزفینا۔۔ ۔ تم پاگل ہو گئی ہو، کیا بیوقوفوں والی حرکتیں کر رہی ہو؟‘ میریم نے اُسے بازو سے پکڑ کے اپنی طرف گھماتے ہوئے کہا تو اُس نے بازو چھڑواتے ہوئے کہا میریم میں مذاق نہیں کر رہی۔ اور وہ دوبارہ اُن کی طرف گھومی تھی۔ بائے گاڈ میں مذاق نہیں کر رہی میں سچ بول رہی ہوں میں نے خواب میں دیکھا تھا۔ میں راستہ بھول جاتی ہوں تب میں گلیوں میں بھٹک رہی ہوتی ہوں میں پُکارتی ہوں کوئی ہے کوئی ہے تب مجھے اپنے پیچھے سے آواز سُنائی دیتی ہے میں ہوں۔ میں دیکھتی ہوں تو آپ کھڑے ہوتے ہو آپ کہتے ہو۔ اس سے پہلے آسمان سے دُخان آئے اور تمہیں تباہ و برباد کر دے تم سیدھے راستے کو ڈھونڈ لو۔ میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ دُخان کیا ہے؟ اور مجھے کیوں تباہ و برباد کرے گا اور سیدھا راستہ کون سا ہے لیکن آپ اُدھر سے چلے جاتے ہو میں آوازیں بھی دیتی ہوں میں آپ کے پیچھے بھی جاتی ہوں لیکن آپ میری آواز ہی نہیں سُنتے اور نہ ہی رُکتے ہو اور میں بھاگ بھاگ کے تھک کے گر جاتی ہوں۔ اس سے پہلے کہ وہ اُسے پاگل سمجھ کے اُدھر سے چلا جاتا اُس نے جلدی سے اُسے بتایا تھا۔ اور اُن تینوں کے قہقہے بیک وقت تھمے تھے اور وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔
٭٭
میرا بھیا میری جان ہے
میری بہنا میرا مان ہے

امی ریاح سے میرا بیگ تیار کروا دیجیے گا میں کل پندرہ دنوں کے لیے دوستوں کے ساتھ سیر کے لیے میکسیکو جا رہا ہوں بابا جان سے میں نے اجازت لے لی ہے۔ اُس نے صحن میں صوفہ پہ بیٹھی عائشہ کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جو عصر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھنے میں مصروف تھیں۔ اچھا نماز پڑھ کے آتی ہے تو کہتی ہوں، تم مجھے یہ بتاؤ میکسیکو کدھر ہے؟۔ امی یہ شمال امریکہ کا ایک شہر ہے۔ اُس نے عائشہ کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے کہا۔ ۔ تو بیٹا پھر دفع کرو بے حیاؤں میں جا کر کیا کرنا ہے۔ امی جان اب بے حیاؤں کے لیے ہم قدرت کے نظارے دیکھنا چھوڑ دیں؟ یقین مانیں کیا شہر ہے میں انٹرنیٹ سے تصویریں دیکھی تھیں چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرا ہوا ہے اور لوگ تو خاص طور پہ سمندر دیکھنے جاتے ہیں۔ کدھر جانے کی بات ہو رہی ہے ویر جی؟۔ ریاح نے اُس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا پہلے تم غائب ہوتی ہو پھر اچانک چڑیلوں کی طرح حاضر ہو جاتی ہو۔ اُس نے اُس کے بنا آواز پیدا کیے آنے پہ کہا
امی دیکھ لیں آپ کے بیٹے نے مجھے چڑیل کہا ہے۔ صرف میرا بیٹا ہی نہیں تمہارا بھائی بھی ہے تم خود ہی نمٹو، پھر بھائی کا بیگ تیار کر دینا اُس نے صبح دوستوں ساتھ میکسیکو جانا ہے میں کچن کا باقی کام خود دیکھ لیتی ہوں۔ عائشہ نے اُٹھتے ہوئے کہا۔ ۔ جائیں میں نہیں بولنا آپ سے۔ ریاح نے اُس کے جانے کا سُن کے منہ پھلا کے کہا۔ ’کیوں نہیں بولنا میرے سوہنے نے‘ اُس نے اُسے بازو کے گھیرے میں لیتے ہوئے لاڈ سے کہا ’آپ ہر جگہ خود ہی چلے جاتے ہیں کبھی یہ نہیں کہا کہ بہن کو بھی ساتھ لے جائیں اور اوپر سے چڑیل کہتے ہیں۔ ’لو میں تو مذاق کر رہا تھا۔ میری بہن تو ملکہ ہے‘ ’سچ؟‘اُس نے خوش ہوتے ہوئے کہا ’ہاں۔۔ ۔ چڑیلوں کی‘ ریاح نے دونوں ہاتھوں سے اُس کے بال پکڑ لیے اور اُس سے اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا کچن کی کھڑکی سے عائشہ بھی دونوں بہن بھائی کو دیکھتے مُسکرا دیں دونوں کی چہکار سے ہی تو یہ حویلی آباد لگتی تھی ’بھیو آپ سچ میں بہت بُرے ہیں میں نہیں اب آپ سے بولنا‘ ’ٹھیک ہے نا بولنا بال تو چھوڑ دو میرے‘ تو اُس نے غصے سے زور سے کھینچ کے اُس کے بال چھوڑ دیے ’جب تمہاری بھابھی آئے گی نا تو پھر سب چلیں گے پھر تم اپنی بھابھی ساتھ خوب انجوائے کرنا‘ اُس نے اُس کی ناک دباتے ہوئے کہا ’مطلب آپ شادی کے لیے مان گئے؟‘وہ سب بھول بھال کے خوشی سے چیخی تھی ’ہاں نا اسی لیے تو بابا جان نے اجازت دی ہے جانے کی‘ وہ اُس کے ساتھ لپٹ گئی ’بھیا آپ بہت اچھے ہو‘ ابھی وہ بُرا کہہ رہی تھی اور اب اچھا، بہنیں بھی نا کتنی معصوم ہوتی ہیں بات بات پہ ناراض ہونا اور پھر فوراً مان بھی جانا وہ مُسکرا دیا اور اُس کا سر چوم کے کہا ’جاؤ میری جان میرا بیگ تیار کر دو میں بابا جان کو ڈیرے سے لے آؤں‘ تو ریاح نے اُس سے الگ ہوتے ہوئے کہا ’ویر جی سچ میں آج آپ نے دل خوش کر دیا ہے آج بیگ کیا آپ کی ہر بات مان لوں گی وہ بھی بنا رشوت کے‘ اُس نے اُٹھتے ہوئے شرارتی مُسکراہٹ کے ساتھ کہا اور اُس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی وہ بھی مُسکراتے ہوئے باہر کی طرف چل دیا۔
٭٭٭

Download Ishq Hai Sahib Novel By Sabahat Rafique Cheema in PDF

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: