Ishq Hai Sahib Novel By Sabahat Rafique Cheema – Episode 2

0
عشق ہے صاحب از صباحت رفیق چیمہ – قسط نمبر 2

–**–**–

باب ۲

تقدیر نے ہمیں آپ سے ملوایا
خوش نصیب تھے ہم؟
یا وہ پل تھا۔ حسین؟

وہ تینوں دوست ہوسٹل کانکون نیوٹرا میں ٹھہرے تھے جو کوکو بونگو سے تین سو میٹر کے فاصلے پہ تھا۔ وہ رات کے دس بجے پہنچے تھے سو وہ اگلا دن سوتے رہے اور پھر چار بجے وہ فریش ہونے اور کھانا کھانے کے بعد ہوسٹل سے نکلے تھے اور ٹیکسی لے کے کوکو بونگو پہنچے اُنہوں نے منڈالا بیچ کلب کی رات کی ٹکٹس بُک کروائی تھیں جس کی ٹائمنگ شام چھ بجے سے شُروع ہو کے صبح چھ بجے تک تھی ابھی ایک گھنٹہ رہتا تھا۔ چھ ہونے میں تو وہ سڑکوں پہ چکر لگانے لگے، ابھی دس منٹ ہی گُزرے تھے کہ عمیر بولا ’یار اب بس رُک جاؤ ایک جگہ مجھ سے نہیں چلا جا رہا‘ اُن دونوں نے قہقہہ لگایا اور علی بولا ’بس یہ ہی تو موٹے لوگوں کا مسئلہ ہوتا اس لیے تو کہتا ہوں کم کھایا کرو‘ ’ہاں تمہیں بس موقع چاہیے ہوتا میری سمارٹنیس پہ چوٹ کرنے کا دیکھو لڑکیاں کیسے مجھے دیکھ رہی ہیں‘ ’وہ بس تمہیں ہی نہیں ہم تینوں کو دیکھ رہی ہیں واقع سچ ہی سُنا تھا۔ مشرقی لڑکوں پہ یہ لڑکیاں مرتی ہیں لیکن ہم نے ان غیر مسلموں کا اچار ڈالنا ہے کیا؟ کیوں چوہدری صاحب؟‘ ’ہاں بالکل ٹھیک کہا‘ وہ اثبات میں گردن ہلا کے بولا ’وہ دیکھو لگتا چوہدری صاحب کی پرسنلٹی نے اُس لڑکی کو ہیپنوٹائز کر دیا ہے دیکھو کیسے دیکھتی جا رہی ہے‘ عمیر نے کہا تو علی بھی اُس کی نظروں کی سمت دیکھ کے بولا ’ہاں یار‘ ’تو دیکھنے دو مجھے کیا‘ اُس نے کہا لیکن جب وہ اُن کی جانب آنے لگی تو علی بولا ’یار وہ ایسے تمہیں دیکھ کے تمہاری طرف آ رہی ہے جیسے پچھلے جنم میں تم اُس سے مل چُکے ہو،‘ وہ تینوں ہنسنے لگے اور جب اُس نے پاس آ کے بولا کہ آپ وہ ہی ہو نا؟ تو علی اور عمیر نے بے ساختہ قہقہہ لگایا تھا۔ علی اُس کے کان میں بولا دیکھ لو میں ٹھیک کہا تھا۔ تم کہیں سچ میں تو نہیں مل چکے؟ وہ اُسے ان سُنا کر کے اُس لڑکی سے بولا وہ کون میڈم؟ اور اُس کے جواب سُن کے اُسے لگا کہ وہ پاگل ہے اس لیے وہ اپنے قہقہے نہ روک سکا لیکن اُس کا خواب سُن کے اُسے لگا کہ وہ سچ کہہ رہی ہے کیونکہ اُس کا اپنا نام دُخان تھا۔ اس لیے اُس نے پوچھا کہ پھر کیا ہوا اور اُس کی بات سُن کے باری باری دونوں کی طرف دیکھا اور پھر اُس کی طرف دیکھ کے بولا ’میڈم کل میں ادھر ہی چار بجے آپ کا انتظار کروں گا اور پھر مطلب بتا دوں گا ابھی میں کلب جا رہا ہوں۔ ‘ ’میں کیسے مان لوں کہ تم آؤ گے؟‘ ’میڈم یہ کارڈ رکھ لیجیئے اگر میں نہ آؤں تو آپ اس ایڈریس پہ آ جائیے گا‘ اُس نے والٹ سے ایک کارڈ نکال کے اُسے دیا اور آگے کی طرف قدم بڑھا دئیے علی اور عمیر بھی اُس کے پیچھے چل دیے اور جوزفینا رسکارڈو تب تک اُسے مڑ کے دیکھتی رہی جب تک وہ منڈالا بیچ کلب میں داخل نہیں ہو گئے۔
٭٭
دونوں پاگل، دونوں وحشی، دونوں کو اک جیسا روگ
اک دوجے کو کیا سمجھائیں گے اک دوجے کو کیا منائیں گے

ٹومس روبرٹو آفس کے کام کے سلسلے میں ایک ہفتے کے لیے دوسرے شہر گیا ہوا تھا۔ جب واپس آیا تو سٹروگری کو پریشان پایا، کیا ہوا ہے مام آپ پریشان کیوں ہیں؟۔ اس نے ڈائیننگ ٹیبل پہ سٹروگری کے سامنے والی کُرسی پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔ آج کل جوزفینا بہت عجیب برتاؤ کر رہی ہے۔ اُس نے منہ تک لے جاتا جوس کا گلاس اُدھر ہی ٹیبل پہ رکھا تھا۔ ’کیا مطلب مام وہ ٹھیک تو ہے؟‘اُس نے پریشانی سے پوچھا تھا۔ ’تمہارے جانے کے اگلے دن رات کو میں نے اُس کے کمرے سے چیخ کی آواز سُنی تھی تو میں اور روبرٹو اُس کے کمرے کی طرف بھاگے تھے جب اُسے دیکھا تو وہ پسینے سے شرابور تھی اور کانپ رہی تھی اور یہی بولتی جا رہی تھی مجھے بتاؤ دُخان کیا ہے؟ یہ مجھے کیوں تباہ و برباد کرے گا؟ ہم سے تو سنبھا لی ہی نہیں جا رہی تھی پھر میں اُسے نیند کی گولی دے کے سُلا دیا، اور پھر اگلے دن بھی اُس نے اُٹھتے ہی پوچھا تھا۔ کہ کوئی اُس سے ملنے تو نہیں آیا تھا۔ میں نے پوچھا کس نے آنا تھا۔ تو کہتی وہ ہی جو رات کو آیا تھا۔ میں نے اُسے سمجھایا بھی کہ وہ خواب تھا۔ لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں اُٹھتے ہی اُس کا پوچھتی ہے، اب تم آ گئے ہو تو تم اُسے سنبھال لو گے، ناشتہ کر لو اور آج جوزفینا کے ساتھ وقت گُزارو میں آفس کے لیے نکلتی ہوں‘ سٹروگری نے اُٹھتے ہوئے کہا۔ ’ٹھیک ہے آپ جائیں میں دیکھتا ہوں اُس کو‘ اُس نے بھی اُٹھتے ہوئے کہا اور اُس کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ اُس نے اُس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک منٹ کے وقفے کے بعد دروازہ کھُل گیا تھا۔ اور اُس نے آنکھیں ملتے ہوئے جب سامنے دیکھا تو خوشی سے اُس سے لپٹ گئی ’کیسی ہے میری باربی ڈول؟‘ اُس نے اُس کا ماتھا۔ چومتے ہوئے کہا اور اُسے لیے کمرے میں آ گیا۔ ’میں ٹھیک ہوں، ٹومس میں تمہیں بہت زیادہ مس کیا‘ ’میں نے بھی بہت مس کیا اپنی جان کو‘اُس نے اُس کے ساتھ بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے کہا ’اس لیے میں سوچا ہے کہ آج کا دن ہم دونوں بار میں گُزاریں گے اپنے دوستوں کے ساتھ ڈانس پارٹی انجوائے کریں گے‘ ’نہیں آج نہیں‘اُس نے اُس سے الگ ہوتے ہوئے کہا۔ ’کیوں آج کہیں جانا ہے تم نے؟‘ اُس نے حیرانی سے پوچھا تھا۔ کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ کہ اُس نے اُس کی بات کے جواب میں نہیں کہا تھا۔ ’ہاں آج میں اُس سے ملنے جانا ہے‘ ’کس سے؟‘ اُس نے حیرانی سے پوچھا، ’جو اُس دن مجھے خواب میں ملا تھا۔ ‘ ’کیا نام ہے اُس کا؟ اور کون ہے وہ؟‘ ’نام نہیں پتہ، پاکستانی ہے وہ‘ ’تم اُس سے نہیں ملو گی‘ ’لیکن کیوں ٹومس؟‘ ’کیوں کہ وہ پاکستانی ہے تو ظاہری سی بات ہے مسلمان ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تم مسلمان لوگوں سے ملو، وہ جادوگر ہیں دوسروں پہ جادو کر کے اپنے مذہب میں داخل کر لیتے ہیں اور تمہیں نقصان پہنچے یہ میں برداشت نہیں کر سکتا‘ ’لیکن ٹومس میں صرف اُس سے پوچھنا ہے کہ اُس نے ایسا کیوں کہا تھا۔ ‘ اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’میں کہہ دیا نا کہ تم اُس سے ملنے نہیں جاؤ گی اگر تم گئی تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہو گا تم نے ابھی تک میرا پیار دیکھا غصہ نہیں اور وہ خواب تھا۔ خواب کو حقیقت کا رنگ نہ دو‘ اُس نے سخت لہجے میں کہا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔ اور وہ بے یقینی سے اُس کی طرف دیکھتی گئی اور اُس کی آنکھوں سے برسات شروع ہو گئی یہ پہلی دفعہ ہوا تھا۔ کہ ٹومس نے جوزفینا کی بات نہ مانی ہو اور تو اور پہلی دفعہ اُسے ڈانٹا تھا۔ ابھی اُس نے باہر جانے کے لیے قدم اُٹھایا ہی تھا۔ کہ جوزفینا نے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اُٹھ کے اُس کے سامنے آ کھڑی ہوئی ’پلیز ٹومس مجھے نہ روکو مجھے جانے دو میں مان لیتی ہوں کہ وہ خواب تھا۔ لیکن اُس خواب نے مجھے اپنے سحر میں لے رکھا ہے میں رات کو سو نہیں پاتی مجھے یقین تھا۔ کہ وہ ضرور آئے گا اور کل میں نے اُس کو دیکھا تھا۔ اور مجھے ایسا لگا میں اُس کے وجود کا ایک حصہ ہوں میں ایک انجانی کشش کے باعث اُس کی جانب کھینچتی چلی گئی پاس جا کے مجھے یاد آیا کہ یہ تو وہ ہی ہے تو میں اُسے بتایا تھا۔ تو اُس نے کہا تھا۔ وہ آج مجھ سے ملنے آئے گا اور بتائے گا کہ میری بات کا کیا مطلب ہے، تم نے آج تک میری ہر چھوٹی سے چھوٹی بات مانی ہے ٹومس، تو پھر آج جب میری زندگی اور موت کا سوال بن گیا ہے تو آج کیوں آنکھیں پھیر رہے ہو ٹومس؟‘ اُس نے دونوں ہاتھوں سے ٹومس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کے کہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو اُسے تکلیف دے رہے تھے وہ نرم ہو رہا تھا۔ ’مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ اگر میں آج تمہیں جانے دیا تو تمہیں کھو دوں گا چودہ سال سے اپنی سانسوں کی طرح تمہیں جی رہا ہوں میں، بتاؤ تمہیں کھونے کا حوصلہ کہاں سے لاؤں؟‘ بے بسی کی آخری حد پہ پہنچتے ہوئے وہ بولا تھا۔ ’اگر تم مجھے نہ جانے دو گے تو مجھے ہمیشہ کے لیے کھو دو گے میں مر جاؤں گی ٹومس میں مر جاؤں گی‘ اُس نے سسکتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان کہا تھا۔ اور اُسے لگا کسی نے اُس کا دل مٹھی میں لے لیا ہواُس نے اُسے اپنے بازوؤں میں بھینچ لیا تھا۔ ’جاؤ تم چلی جاؤ میں تمہیں نہیں روکوں گا تمہاری زندگی سے زیادہ مجھے کچھ عزیز نہیں‘اُس نے بے چارگی سے کہا تھا۔ اور دو آنسو اُس کی آنکھوں سے لڑھک کے جوزفینا کے سُنہری بالوں میں جذب ہو گئے تھے۔
٭٭
ہے قول خدا، قول محمد، فرمان نہ بدلا جائے گا
بدلے گا زمانہ لاکھ مگر، قرآن نہ بدلا جائے گا

وہ سپائیڈر مین کے سٹیچو کے پاس کھڑا اُس کا انتظار کر رہا تھا۔ کہ بلیک کار اُس کے پاس آ کے رُکی تھی اور اُس نے اُسے ہیلو بولا اور اُس کیلیے دوسری طرف کا دروازہ کھولا تھا۔ وہ بھی ہیلو کہتے بیٹھ گیا تو وہ کار اُسی سڑک پہ آگے لے گئی دس منٹ بعد اُس نے سائیڈ پہ کار روکی اور باہر نکل آئی وہ بھی اُس کے پیچھے باہر آیا تو سامنے ساحل سمندر تھا۔ جس کے ساتھ ریسٹورنٹ بنا ہوا تھا۔ وہ دونوں بھی ریسٹورنٹ میں ایک ٹیبل کے گرد آمنے سامنے بیٹھ گئے۔ ’جوس یا کافی؟‘ جوزفینا نے پوچھا تھا۔ ’نتھنگ‘اُس نے انکار کر دیا۔ ’پلیز‘اُس نے اصرار کیا تھا۔ ’کافی‘ ’تھینکس‘ اُس نے مُسکراتے ہوئے کہا تھا۔ اور ویٹر کو ایک کافی اور ایک پائن ایپل جوس کا گلاس لانے کے لیے کہا ’میڈم آپ کا مذہب کیا ہے؟‘ اُس نے بات کا آغاز کیا تھا۔ ’عیسائیت‘ اُس نے جواب دیا ’تو آپ اُس خواب کو اتنا خود پہ سوار کیوں کر رہی ہیں؟ آخر آپ کیوں مطلب جاننا چاہتی ہیں؟‘ ’مجھے نہیں پتہ کیوں اُس خواب نے مجھے اپنے سحر میں لے رکھا ہے اور مجھے یقین تھا۔ کہ آپ آؤ گے اور آپ مجھے بتاؤ گے کہ آخر دُخان کیا ہے؟ اور یہ کیوں مجھے تباہ و برباد کرے گا؟ اور کون سا سیدھا راستہ ہے جس کو ڈھونڈنے کے لیے آپ نے مجھے کہا تھا۔ ‘ اُسنے تفصیلاً پوچھا تھا۔ ویٹر جوس اور کافی لے آیا تھا۔ اُس نے کافی کا مگ تھام لیا تھا۔ اور وہ جوس میں پائپ ہلاتے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھنے لگی اُس نے کافی کا سپ لیا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ’دُخان کا مطلب ہے دھواں (سموک) یہ ہماری مقدس کتاب قرآن پاک کی ایک سورۃ کا نام ہے الدُخان اور یہ لفظ اُس کی دسویں آیت میں آیا ہے جس کا ترجمہ ہے تو تم اُس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک واضح دھواں لائے گا، یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور یہ دھُواں مومن کے لیے صرف ایک طرح کا زُکام پیدا کر دے گا اور کافر کے تمام بدن میں بھر جائے گا یہاں تک کے اُس کے ہر مسام سے نکلنے لگے گا، اور آپ کو اس لیے تباہ برباد کرے گا کیوں کہ آپ یہ غلط راستے پہ چل رہی ہو سیدھا راستہ اسلام ہے‘۔ وہ رُکا اور کافی پینے لگا، وہ جو تب سے اُس کا ایک ایک لفظ بہت دھیان سے سُن رہی تھی اور اُس کا ایک ایک لفظ اُس کے اندر سکون پیدا کر رہا تھا۔ وہ اُس کے لفظوں میں کھو رہی تھی اُس کے چُپ ہو جانے سے ایک دم چونکی تھی اُس کے چونکنے پہ اُس نے اُس کی طرف دیکھا تھا۔ اور دوبارہ گو یا ہوا، ’یہ آپ کے خواب کا مطلب تھا۔ جو میں نے بتا دیا ہے فار مور انفارمیشن آپ قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ سکتی ہیں خاص طور پہ اس سورۃ کا‘ ’آپ کے خیال میں مجھے یہ خواب کیوں آیا؟‘ ’میرے خیال میں اس لیے کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک موقع دے رہے ہیں کہ آپ صحیح راستے کو تلاش کر لو اس سے پہلے کہ قیامت آئے اور کافر لوگ پچھتائیں۔‘ ’آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اسلام سیدھا راستہ ہے؟ ہر انسان اپنے مذہب کو ہی سچا بولے گا‘ ’میڈم میں آپ سے بحث نہیں کرنا چاہتا اور رہی بات اسلام کی تو صرف اسلام ہی سچا مذہب ہے آپ جدھر سے بھی قرآن پاک لو گی انٹرنیٹ سے پڑھو گی یا دنیا کے کسی بھی کونے سے جا کے کسی بھی مسلمان کا قرآن پاک پڑھو گی تو اُسے لفظ بہ لفظ ملتا پاؤ گی اس کے علاوہ تورات، زبور، یا انجیل کسی بھی کتاب کو لے لو یہ ہر انسان کے پاس مختلف ہو گی، آپ خود اب سرچ کرو جو ٹھیک لگے اُس راستہ کو اپنا لینا، اب مجھے اجازت دیجئیے میڈم‘ وہ اُٹھتے ہوئے بولا تھا۔ ’شکریہ آپ میرے لیے آئے‘ اُس نے بھی اُٹھتے ہوئے کہا تھا۔ اور اُس کے ساتھ چلنے لگی وہ بس مُسکرا دیا تھا۔ ’آپ وزٹ کے لیے آئے ہیں؟‘ اُس نے پوچھا تھا۔ ’جی ہاں! میں پہاڑوں اور سمندروں کا دیوانہ ہوں‘ ’کب تک ہیں ادھر؟‘ ’دس دن تک‘ تو اُس نے کار کے پاس پہنچ کے کہا ’آئیے میں آپ کو چھوڑ دوں‘ ’نہیں میڈم میں چلا جاؤں گا‘ اُس نے انکار کرتے ہوئے ایک ٹیکسی کو روکا تھا۔ اور اُسے بائے بول کے بیٹھ گیا تو اُس نے بھی گھر کی راہ لی۔
٭٭
مکمل دو ہی دانوں پر یہ تسبیح محبت ہے
جو آئے تیسرا دانہ یہ ڈوری ٹوٹ جاتی ہے

وہ گھر آتے ہی ٹومس کے کمرے میں گئی تھی وہ آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹا ہوا تھا۔ وہ خاموشی سے واپس جانے لگی ’آ جاؤ جوزفینا کیا تم اُس سے مل آئی ہو؟‘ اُس کی آواز سُن کے وہ آگے بڑھ آئی اور اُس کے پاس بیٹھ گئی وہ بھی اُٹھ بیٹھا تھا۔ ’تھینک یو ٹومس تم بہت اچھے ہو، اگر میں گھر میں کسی اور سے کہتی تو وہ مجھے کمرے میں ہی بند کر دیتے کبھی جانے نہ دیتے، اُس کے لفظوں میں ایک سحر تھا۔ جب تک وہ بولتا رہا میں اُس کے سحر میں ہی کھوئی رہی تھی مجھے یہ بھی بھول گیا کہ وہ کسی اور مذہب کو ماننے والا ہے بس مجھے ایسا لگا کہ وہ میرا خیر خواہ ہے اُسے گاڈ نے میرے لیے ادھر بھیجا ہے‘ وہ ابھی بھی اُس کے سحر سے نہیں نکل پائی تھی ٹومس نے بغور اُسے دیکھا تھا۔ اُس کے اندیشے صحیح ثابت ہوئے تھے اُن دونوں کے درمیان ایک تیسرا انسان آ گیا تھا۔ ، جس محبت کی ڈوری میں وہ چودہ سالوں سے بندھے ہوئے تھے آج وہ ڈوری ٹوٹ گئی تھی ’اب تو میری گڑیا خوش ہے نا؟‘اُس نے اپنی تکلیف چھُپاتے ہوئے مُسکرا کے پوچھا تھا۔ ’بہت زیادہ، ٹومس میں قرآن کو پڑھنا چاہتی ہوں‘ ’اب یہ کیا ڈرامہ ہے؟‘ ’پلیز ٹومس میں اٹھارہ سال کی ہو چُکی ہوں میں اپنی چوائس سے کوئی بھی مذہب چوز کر سکتی ہوں، میں کسی کے دباؤ میں آ کے نہیں کچھ کر رہی نا ہی ایسا ہے کہ مجھے اُس شخص سے محبت ہو گئی ہے یہ کچھ اور ہے جو مجھے اپنے سحر میں جکڑ رہا ہے اس لیے میں تفصیل سے جاننا چاہتی ہوں کہ آخر یہ کیا ہے جو مجھے سکون نہیں لینے دے رہا، دُخان کیا ہے یہ تو پتہ چل گیا ہے اب اس نام کا ٹاپک میں پورا پڑھنا چاہتی ہوں، ٹومس اگر کسی نے مجھ پہ سختی کی تو میں خود کو نقصان پہنچا لوں گی اس لیے بہتر ہے کہ میں جو کرنا چاہتی ہوں مجھے کرنے دیا جائے اور مجھے پتہ ہے تم گھر والوں کو سنبھال لو گے‘اُس نے آنکھوں میں یقین لیے اُسے کہا تھا۔ ’تو ٹومس کا سر خود بہ خود اثبات میں ہل گیا تھا۔ ’اوکے تم آرام کرو میں چلتی ہوں‘ اُس نے کہا اور اُٹھ کھڑی ہوئی وہ چاہنے کے باوجود بھی اُسے کچھ دیر اپنے پاس رُکنے کا نہ کہہ سکا اور اُسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
٭٭
کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے؟
منہ کے بل گر کر ہو اللہ ہو احد کہتے تھے

اُس نے پاپ کارن کا باؤل اور مشروب کا گلاس بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پہ رکھا اور لیپ ٹاپ اپنے سامنے بیڈ پہ رکھ کے بیٹھ گئی اُس نے لیپ ٹاپ آن کر کے سورۃ دُخان ان انگلش ٹرانسلیشن سرچ کیا اور ساتھ مشروب کو گھونٹ گھونٹ اپنے اندر اُتارنے لگی اُس نے ایک لنک اوپن کی اور پڑھنے لگی ’اللہ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحم والا، حٰم، قسم اس روشن کتاب کی‘ اس کا مشروب کو منہ تک لے جاتا ہاتھ اُدھر ہی رُک گیا تھا۔ اُس نے واپس ٹیبل پہ رکھ دیا ’بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اُتارا، بیشک ہم ڈر سُنانے والے ہیں، اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام، ہمارے پاس کے حکم سے بیشک ہم بھیجنے والے ہیں، تمہارے رب کی طرف سے رحمت بیشک وہی سُنتا جانتا ہے، وہ جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تمہیں یقین ہو، اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں وہ جلائے اور مارے تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا رب‘ ایک خوف اور کپکپی اُس پہ طاری ہو چُکی تھی اس کے باوجود ایک سحر نے اُسے لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اُس نے پڑھنا جاری رکھا ’بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھُواں لائے گا اور لوگوں کو ڈھانپ لے گا یہ ہے درد ناک عذاب‘ اُس پہ وحشت سی طاری ہونے لگی ایسے جیسے ابھی آسمان سے دھُواں آئے گا اور اُسے بھسم کر دے گا اُس نے جلدی سے اُٹھ کے اپنے کمرے کی کھڑکیاں بند کی تھیں اور بیڈ پہ بیٹھ کے لمبے لمبے سانس لینے لگی اور مشروب کے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا۔ اور ایسے پیچھے کھینچا جیسے گلاس میں مشروب کی جگہ کوئی زہریلی چیز ہو وہ اُٹھی اور روم فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور منہ سے لگا لی اُس نے خود کو ریلیکس کیا اور پھر پڑھنے لگی ’اس دن کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں‘ وہ پڑھتی گئی اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بہتے گئے ’تو تم انتظار کرو وہ بھی کسی انتظار میں ہیں‘ آخری لائن پڑھ کے اُس نے اپنے آنسو صاف کیے تھے اُسے سیدھا راستہ مل گیا تھا۔ اُس نے بے خودی کے عالم میں اللہ کو پُکارا تھا۔ ایک عجیب سا سکون اُسے ملا تھا۔ ’اے اللہ مجھے سمجھ آ گئی ہے مجھے خواب میں اُس لڑکے کو دکھانا اور پھر اُس کا مجھے یہ الفاظ کہنا اور پھر اُس کا پاکستان سے میکسیکو آنا اور مجھ سے ملنا، آپ نے مجھے چُن لیا ہے ہدایت کے لیے آپ نے مجھے اُن لوگوں سے نکال لیا ہے جن پہ تیرا عذاب نازل ہو گا اے میرے اللہ میں تجھ پہ ایمان لاتی ہوں میں تیری اس کتاب پہ ایمان لاتی ہوں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، بے شک میں گُمراہی کے راستے پہ چل رہی تھی میں گُناہوں میں لتھڑی ہوئی ہوں میرے سارے گُناہ معاف کر دے‘ وہ سسکتے ہوئے اللہ کو پُکار رہی تھی اُس نے اُٹھ کے کھڑکیاں کھول دیں اب اُسے کوئی خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ وہ مُسکراتے ہوئے ایسے اندھیرے میں ڈوبے آسمان کو دیکھنے لگی جیسے اُسے یقین ہو کہ اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔
٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: