Ishq Hai Sahib Novel By Sabahat Rafique Cheema – Episode 3

0
عشق ہے صاحب از صباحت رفیق چیمہ – قسط نمبر 3

–**–**–

باب ۳

یہ نرم لہجے میں تم سے کوئی
باتوں باتوں میں کھیل جاتا ہے
تم سمجھتی ہو پیار کرتے ہیں
حقیقت میں وہ وار کرتے ہیں
یہ میٹھے بول بولنے والے اکثر
دلوں میں مرض رکھتے ہیں
سُنو باتوں میں نہ آنا
نہ لہجہ اپنا شیریں کرنا
رویہ سب سے تم اپنا
بالکل ایک سا رکھنا
یہاں نرمی ذرا سی دکھلائی
وہاں دل میں خیال آیا
یہ تو پگھل گئی جلدی
یعنی پہلا زوال آیا
محرم کے سوا
کوئی اپنا نہیں تمہارا
ادائیں دکھاؤ گی
پیار چھلکاؤ گی
ہر ہر بات کہہ جاؤ گی
موقع خود ہی دے جاؤ گی
مکھیوں کی طرح جھپٹیں گے
الفاظ کی صورت لپٹیں گے
ہنسی مذاق سے گرد سمٹیں گے
بچ نہ پاؤ گی
گھل مل جاؤ گی
مقام اپنا گنواؤ گی
بُرائی تک نہ سمجھو گی
کہ یہ تو میرے اپنے ہیں
کتنے سچے مخلص ہیں
دھوکہ میں آ جاؤ گی
مقصد اپنا بھُلاؤ گی
گھیرے میں نہ آنا
خُدا کو یاد تم کرنا
قرآن کو ذرا پڑھنا
رب کہتا کیا ہے غور سے تم سُننا
سورۃ الاحزاب میں فرمایا
لہجہ نرم نہ تم اپنا کرنا
بات مختصر با مقصد ضروری کرنا
ورنہ مرد کا مرض ہے بڑھنا
یہ منہ بولے رشتے کوئی حقیقت نہیں
اصل میں تو یہ اک حجاب ہونا چاہئیے تھا۔
مگر اس میں تو کوئی حجاب باقی نہیں رہتا
خطاء ہے فطرت انسانی
توبہ ہے شیوۂ مُسلمانی
جو جب پلٹے رب ڈھانپ لے اس کو
اے کاش کوئی جلد بھانپ لے اس کو

وہ یونیورسٹی کے لیے نکلنے لگی کے آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور بغور اپنے نظر آتے عکس کو دیکھنے لگی وائٹ سگریٹ پینٹ پہ فُل فیٹنگ کے ساتھ ڈارک بلیو لانگ شرٹ پہنے سفید جالی دار ڈوپٹہ گلے میں ڈالے سٹیپ کٹے بال کھُلے چھوڑے ہوئے تھے کانوں میں بلیو کلر کے ٹاپس اور ایک ہاتھ میں وائٹ کلر کی واچ اور دوسرے ہاتھ پہ بلیو ہی بریسلٹ (جو احمر نے اُس دن کار میں اُسے گفٹ کیا تھا۔) آنکھوں میں کاجل کی لکیر اور پلکوں پہ مسکارا اور ہونٹوں پہ گُلابی لپ اسٹک لگائے بلا شُبہ وہ بہت حسین لگ رہی تھی اس کے ذہن میں لاشعوری طور پہ اپنی چار سال پہلے کی لُک آئی تھی بڑی سی چادر میں لپٹی سادہ سی ایک لڑکی کی، اُس نے نفرت سے سر جھٹکا بھلا وہ بھی کوئی زندگی تھی اُسے اپنی اُس زندگی سے یہ والی زندگی پسند تھی جو وہ اپنوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کے گزار رہی تھی آج اُس کا یونیورسٹی میں آخری دن تھا۔ کاش یہ لمحے ادھر ہی تھم جائیں، اس نے دل سے دُعا کی تھی۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو ہمیشہ کی طرح اس لیے اب آ جاؤ احمر انتظار کر رہا ہو گا تمہارا۔ زینب نے اُسے آئینے کے سامنے کھڑا ہوا دیکھ کے کہا، تو وہ مُسکراتے ہوئے اُس کے ساتھ چل دی۔ وہ یونیورسٹی میں ابھی فرنٹ لان کے آگے سے گُزر رہی تھی کہ اُس کی کلاس فیلو زوبیہ نے اُسے پُکارا تھا۔ وہ اپنی فرینڈز سے بولی ’آپ لوگ جاؤ میں زوبیہ کی بات سُن کے کیفے میں آ جاؤں گی‘ وہ لان میں رکھے بینچ پہ زوبیہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولی ’ہیلو کیسی ہو؟‘
’الحمدُ للہ میں ٹھیک، آج ہمارا لاسٹ ڈے ہے تو میں سوچا تم سے بات ہی کر لی جائے‘ زوبیہ نے مُسکراتے ہوئے کہا۔ ’ہاں یار پتہ ہی نہیں چلا کیسے چار سال گُزر بھی گئے ہیں‘ اُس نے افسردہ ہوتے ہوئے کہا۔ ’یاد ہے جب اورینٹیشن پہ تم میرے ساتھ ہال میں بیٹھی تھی تم نے بلیک ڈریس پہ بلیک بڑی سی چادر لی ہوئی تھی تب تمہارے چہرے پہ نمازوں کا نور تھا۔ ایک کشش تھی تب تم زیادہ حسین تھی لیکن جب کلاسز کے لیے تم فرسٹ ڈے آئی تھی تو میں یقین ہی نہ کر پائی کے یہ تم ہو تم نے غلط لڑکیوں کی روش اختیار کر لی تھی اور آج تک تم اُسی روش پہ چل رہی ہو، تم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہی ہو اپنے والدین کو دھوکہ دے رہی ہو اور تم سراب کے پیچھے بھاگ رہی ہو احمر ایک کرپٹ انسان ہے وہ اور بھی بہت سی لڑکیوں کو دھوکہ دے چکا ہے وہ تم سے جھوٹے شادی کے وعدے کر رہا ہے وہ کبھی بھی اپنے ماں باپ کو تمہارے گھر رشتہ لینے نہیں بھیجے گا وہ شادی اپنے ماں باپ کی پسند سے ہی کرے گا، یہ لڑکے ایسے ہی کرتے ہیں انہوں نے چار سال یونیورسٹی میں گزارنے ہوتے ہیں اس لیے یہ ٹائم گزارنے کے لیے معصوم لڑکیوں کو تفریح کا سامان بنا لیتے ہیں۔ ابھی بھی وقت نہیں گزرا تم اللہ سے توبہ کر لو اور تم بھی اپنے والدین کی پسند پہ سر جھُکا دینا احمر کا انتظار نہ کرنا ایسا کر کے تم اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرو گی، بکواس بند کرو اپنی میں تم سے کوئی مشورہ نہیں مانگا اور احمر ایسا نہیں ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ویسے ہی تم سے ہمارا پیار برداشت نہیں ہوا اس لیے مجھے احمر کے خلاف کرنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی پر افسوس تمہاری کوشش نا کام گئی، وہ غصے سے کہتی اُدھر سے چلی گئی اور زوبیہ بس افسوس سے سر ہلا کے رہ گئی۔
٭٭
نیلی نیلی آنکھوں والے ساحل پر جب آتے ہوں گے
چیخ کے لہریں کہتی ہوں گی لو آج سمندر ڈوبے گا

آدھی رات تک وہ میکسیکو کی سڑکوں پہ آوارہ گردی کرتے رہے تھے اور اب بے ہوش پڑے سو رہے تھے مسلسل ہوتی دستک سے آخر علی نے اُٹھ کے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے وجود کو دیکھ کے وہ حیران ہوا تھا۔ ’کیا میں آپ کے دوست سے مل سکتی ہوں؟‘ وہ ابھی سو رہا ہے میں اُٹھاتا ہوں اُس کو ’اوکے میں ہوسٹل کے باہر گاڑی میں اُن کا انتظار کر رہی ہوں‘ وہ کہہ کے چلی گئی تو علی نے دُخان کو ہلایا تھا۔ ’کیا تکلیف ہے تمہیں؟ سونے دو مجھے‘ اُس نے علی کا بازو جھٹک کے کہا تھا۔ ’یار وہ تم سے ملنے آئی ہے باہر گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہی ہے‘ ’کون؟‘ ’وہ ہی جس سے تم خواب میں ملے تھے‘ علی نے مُسکراتے ہوئے کہا تو وہ اُٹھ بیٹھا اور بیگ سے اپنا سوٹ نکال کے واش روم چلا گیا تو علی نے عمیر کو بھی اُٹھا دیا اور جب وہ شاور لے کے باہر نکلا تو وہ دونوں سر جوڑے نجانے کون سے راز و نیاز کر رہے تھے کہ اُسے دیکھ کے چُپ ہو گئے، ’خیریت ہی ہے نا جناب؟‘ عمیر بولا تو اُس نے تولیے سے بال رگڑتے ہوئے اُسے دیکھا ’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘ ’اتنا تیار شیار ہو کے جا رہے ہو اس لیے پوچھا ہے‘ ’تو تمہارا کیا خیال تھا۔ اسی طرح بنیان پہن کے ہی چلا جاتا؟‘ ’ہائے ان مشرقی اداؤں پہ میں مر نہ جاؤں‘ علی نے بھی لقمہ دیا تو وہ مُسکراتے ہوئے باہر چلا آیا ہوسٹل کے سامنے ایک لڑکی گھٹنوں تک آتی وائٹ شرٹ ساتھ بلیو فُل ٹراؤزر پہنے اور گلے میں بلیو مفلر لپیٹے کار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی نجانے کن خیالوں میں کھوئی تھی وہ اُسے اس طرح فُل ڈریس میں دیکھ کے حیران ہوا تھا۔ اُس نے اُسے متوجہ کرنے کے لیے ہیلو میڈم کہا تو وہ ایسے جیسے اچانک کسی خواب سے جاگی تھی ’امم مم سوری میں دیکھا نہیں تھا۔‘ اُس نے کہا اور اُس کے لیے فرنٹ ڈور اوپن کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پہ جا بیٹھی اور کار سٹارٹ کی کچھ دیر بعد وہ بولی تھی ’میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہوں‘ اُس نے چونک کے اُس کی طرف دیکھا۔ تو وہ اُس کے اس طرح دیکھنے پہ بولی ’ہاں میں اللہ پہ ایمان لاتی ہوں اس سے پہلے کے آسمان سے دُخان آئے اور مجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے‘ ’تم بہت خوش قسمت ہو‘ وہ دھیرے سے بولا تو اُس نے سڑک کے ایک طرف گاڑی روک دی اور اُس کی طرف دیکھ کے بولی ’ہاں میں خوش قسمت ہی تو ہوں کہ اللہ نے اتنے سارے لوگوں میں سے مجھے ہدایت کے لیے چُنا ہے جب وہ مجھے اپنی طرف بُلا رہا ہے تو میں کیوں نہ اُس کی طرف اپنے قدم بڑھاؤں؟ آپ کا خواب میں مجھے نظر آنا اور پھر آپ کا میکسیکو آنا اور مجھ سے ملنا اور مجھے میرے خواب کا مطلب بتانا، یہ سب ایک معجزہ ہی تو ہے‘ پھر اُس نے آنکھوں میں آنسو لیے دُخان کے ساتھ ساتھ کلمہ کے الفاظ دہرائے تھے اور ایک گھنٹہ دُخان کے ساتھ باتیں کی تھیں جس سے وہ اسلام کی بہت سی باتیں جان گئی تھی اور اُس نے کچھ اسلامک ویب سائیٹ بھی بتائیں تھیں اُس نے ہوسٹل کے گیٹ کے آگے کار روکی تو اُس کی طرف دیکھ کے بولی ’سوری سر میں آپ کا نام ہی نہیں پوچھا ابھی تک‘اُس نے مُسکراتے ہوئے کہا ’میرا نام آپ جانتی ہیں میڈم اس لیے میں آپ کو نہیں بتایا تھا۔ ‘ اُس کو سوالیہ انداز میں اپنی طرف دیکھتے پا کے بولا ’دُخان‘۔ ’دُخان‘ یہ لفظ مجھے کبھی نہیں بھولے گا‘ اور میرا اسلامی نام؟ آپ مجھے بتاؤ اللہ کی کتاب میں سے کوئی‘اُس نے کچھ پا لینے کی سرشاری سے کہا تھا۔ مائدہ۔ اُس نے اپنا پسندیدہ نام بتایا ’یہ قرآن پاک کے پانچویں سپارے کی سورۃ کا نام ہے اس کا مطلب ہے دی ٹیبل سپریڈ‘ ’بہت اچھا نام ہے‘ اُس نے اُسے کہا اور وہ اُس کی طرف دیکھ کے بولا ’اوکے مائدہ میڈم اب مجھے اجازت دیجیئے‘ تو اُس نے الوداعی مُسکراہٹ اُس کی طرف اُچھالی اور اُسے جاتے ہوئے دیکھنے لگی اور پھر روزانہ وہ دو گھنٹے ساتھ گُزارنے لگے وہ اپنا اسلام کے بارے میں نالج اُس سے شیئر کرتا اور وہ نیٹ سے سرچ کیا گیا ڈیٹا اُس سے شیئر کرتی۔ ٹومس کے علاوہ ابھی گھر میں کسی کو اُس کے اسلام قبول کرنے کا نہیں پتہ تھا۔ البتہ وہ حیران ضرور ہوئے تھے اُسے فُل ڈریسسز پہنتے دیکھ کے لیکن ٹومس نے یہ کہہ کے اُنہیں چُپ کروا دیا اُس کا دل کر رہا ہے تو پہننے دیں نا۔ اور پھر اُس کے جانے کا دن بھی آ پہنچا۔ وہ ساحل سمندر پہ آیا تھا۔ اُسے ملنے، وہ جنگلے پہ ہاتھ رکھے پانی کی لہروں کو ہوا کے ساتھ مستیاں کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی وہ بھی اُس کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اُس نے بھی اپنے ہاتھ جنگلے پہ ٹکا دئیے ’تم جا رہے ہو؟‘ ’ہاں‘ اس کا ہاں سُن کے نجانے کیوں آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ’نہ جاؤ نا‘ مائدہ نے کہا تو اُس نے اُس کی طرف دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا جھیل سی نیلی آنکھوں سے برسات ہو رہی تھی اور ایسا لگ رہا تھا۔ جیسے نیلے آسمان سے پانی برس رہا ہو، آپ روتے ہوئے اتنی حسین لگتی ہو مجھے اندازہ نہیں تھا۔ ، اُس نے آنکھوں میں شرارت لیے اُسے کہا تو وہ مُسکرا دی اُسے لگا جیسے بارش میں پھول کھلے ہوں وہ ان نیلی آنکھوں میں ڈوب رہا تھا۔ وہ بس اس لیے اُس سے ملتا رہا تھا۔ کیوں کہ اُسے اُس کا خواب سُن کے لگا تھا۔ کہ اللہ اُسے ہدایت دینا چاہتا ہے اور اس کے لیے اُسے منتخب کیا ہے اس لیے اُس نے اُسے اسلام کے بارے میں جتنا ہو سکا گائیڈ کیا تھا۔ اور اب اُسے اللہ حافظ بولنے آیا تھا۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا۔ کہ آخری لمحے میں وہ اُس کی جھیل سی نیلی آنکھوں میں ڈوب جائے گا، اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور بولا ’مجھے یہ بھی اندازہ نہیں تھا۔ کہ تم ہنستے ہوئے قیامت لگتی ہو‘ وہ ایک لمحے میں آپ سے تم پہ آیا تھا۔ وہ اور کھل کے ہنسی تھی۔ ’ایک مہینے تک شادی ہے میری آؤ گی میری شادی پہ؟‘ نجانے کیوں اُس نے پوچھا تھا۔ تو اُس نے بے یقینی سے اُسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو ایسے کیسے ہو سکتا ہے ’پچپن سے میری کزن کے ساتھ میری بات طے ہے ابھی وہ بھی پڑھائی میں مصروف تھی اور میں بھی کچھ مصروف تھا۔ خود کو سٹیبلش کرنے میں اس لیے انکار کرتا رہا تھا۔ لیکن اب بابا جان نے اس شرط پہ میکسیکو آنے کی اجازت دی تھی کہ میں شادی کے لیے مان جاؤں‘ اُس نے وضاحت کی تو اُس کی آنکھوں سے دوبارہ برسات شروع ہو گئی ’ایسا کیسے ہو سکتا اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے اللہ نے آپ کو صرف میرے لیے بنایا ہے پھر اللہ کیسے آپ کو کسی اور کو سونپ سکتے ہیں بتائیں کیسے؟‘وہ دونوں ہاتھوں سے اُس کے گریبان کو پکڑ کے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی اُس نے اپنی نظریں چُرائی تھیں کہیں وہ اُس کی آنکھوں سے اُس کے دل کا حال نہ جان لے ’چُپ کیوں ہیں آپ بتائیں مجھے آپ کسی اور کے کیسے ہو سکتے ہیں‘ اُس نے اُس کے سینے پہ پاگلوں کی طرح مارتے ہوئے پوچھا اُس نے کوئی مزاحمت نہ کی بس خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا میرے بس میں ہوتا تو میں ابھی تمہیں اپنا بنا لیتا لیکن میں وعدہ خلافی کرنے والوں میں سے نہیں ہوں میں اپنے بابا جان سے کیا وعدہ نہیں توڑ سکتا اُس نے سوچا تھا۔ مائدہ نے خود ہی تھک کے اپنا چہرہ اُس کے سینے میں چھُپا لیا اور دُخان نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اُٹھا کے دُعا کی تھی ’اے اللہ اگر یہ تیرا امتحان ہے تو مجھے اس میں سرخُرو کرنا۔‘
٭٭٭
–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: