Ishq Hai Sahib Novel By Sabahat Rafique Cheema – Episode 4

0
عشق ہے صاحب از صباحت رفیق چیمہ – قسط نمبر 4

–**–**–

باب ۴

میرے خالق میں تیرے کُن کی طلب میں زندہ
ہر گھڑی ایک قیامت سے گُزر جاتی ہوں

ٹومس روبرٹو کو جب پتہ چلا کہ جوزفینا رسکارڈو نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ دو دن کمرہ بند کیے پڑا رہا اور تیسرے دن اُس نے بھی قرآن کا ترجمہ پڑھنے کے لیے لیپ ٹاپ آن کیا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا۔ کہ آخر اس کتاب میں ہے کیا؟ جو جوزفینا اس کتاب کے ایک لفظ کے پیچھے پاگل ہو کے اُس انسان کو بھول بیٹھی تھی جس نے چودہ سال اپنی سانسوں کی طرح اُسے جیا تھا۔ اُس نے چھ دن لگا کے قرآن کا ترجمہ پڑھا تھا۔ اور ساتوے دن وہ اس کتاب پہ ایمان لے آیا تھا۔ بھلا ایسا ہو سکتا کہ کوئی قرآن پڑھے اور اُس کی سچائی سے انکار کر سکے غیر مسلم لوگ ایسے ہی تو نہیں اپنے بچوں کو اس کتاب کے پاس بھی نہیں جانے دیتے اُنہیں حق کے غالب آ جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ بہت دنوں بعد جوزفینا کے کمرے میں آیا تھا۔ اُس نے اُس کا کمرے کا دروازہ ناک کیا اور انتظار کیا لیکن جب دروازہ نہ کھُلا تو اُس نے پھر ناک کیا تو دو منٹ بعد دروازہ کھُل گیا تو اُس نے جب نظر اُٹھا کے دیکھا تو اُس کی جان نکلی تھی اُس کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں اور ابھی بھی آنکھوں میں آنسو تھے وہ دوبارہ بیڈ پہ جا کے بیٹھ گئی تو ٹومس نے اندر آتے ہوئے بے چینی سے اُسے پُکارا ’جوزفینا‘ ’میں جوزفینا نہیں ہوں میرا نام مائدہ ہے‘ ’سوری مجھے بھول گیا تھا۔ لیکن تمہیں کیا ہوا ساری رات تم روتی رہی ہو‘ وہ اُس کی رگ رگ سے واقف تھا۔ ’وہ پاکستان چلا گیا ہے‘اُس نے چہرہ اُٹھا کے اُس کی طرف دیکھ کے سسکتے ہوئے کہا۔ تو وہ چاہنے کہ باوجود اُسے پہلے کی طرح اپنے ساتھ نا لگا سکا اب وہ مسلمان تھی اب وہ مائدہ تھی اُس کی جوزفینا نہیں تھی ’کیا تم پاکستان جانا چاہتی ہو؟‘ ٹومس نے کہا تو وہ بولی ’اُس کی ایک مہینے تک شادی ہے۔‘ ’ایک مہینے تک ہے نا؟ ابھی ہوئی تو نہیں نا؟ تو پھر تم اللہ کی رحمت سے کیوں مایوس ہو رہی ہو؟ اللہ کے لیے کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے بس کُن کہنے کی دیر ہے تو فیکون ہو جاتا ہے‘ اُسے منہ کھولے اپنی طرف دیکھتا پا کے اُس نے کہا ’ایسے نا دیکھو میں اللہ پہ اور اُس کی کتاب قرآن پاک پہ ایمان لے آیا ہوں اور اس بات پر بھی کہ حضرت عیسیٰ کو قتل نہیں کیا گیا تھا۔ اللہ نے اُن کی جگہ کسی اور کی شکل اُن جیسی بنا دی تھی اور اُنہیں اسی طرح آسمان پہ اُ ٹھا لیا گیا تھا۔ اور اب وہ قیامت کے قریب دُنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے، میں اس لیے ہی تمہارے پاس آیا تھا۔ میں پراپر اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں اور پھر ہم دونوں پاکستان شفٹ ہو جائیں گے اس کے لیے بس مجھے پندرہ دن دو ادھر سے بزنس وائنڈ اپ کرنے لیے اور باقی ضروری کام کے لیے اور پلیز رونا بند کر دو۔ ہم پندرہ دن بعد پاکستان میں ہوں گے تمہارے پاس اُس کا ایڈریس تو ہے نا؟‘ ’ہاں۔۔ ۔! لیکن خالو اور خالہ۔۔ ۔۔ ۔‘ وہ اُس کی بات کاٹ کے بولا ’اُن کی فکر نہ کرو میں اُن کو سنبھال لوں گا زیادہ سے زیادہ بریک اپ ہی کریں گے نا؟‘ تو اُس نے مُسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا اور مائدہ نے کلمہ کے الفاظ دہرائے اور اُس کے پیچھے ٹومس نے بھی کلمہ کے الفاظ ادا کیے اور ایک سچے دین کو پا لینے کی خوشی میں دونوں نے مُسکرا کے ایک دوسرے کو دیکھا۔
٭٭
اُن جھیل سی نیلی آنکھوں میں
اک شام کہیں آباد ہوئی تھی
اُس سمندرکنارے پل دو پل
اک خواب کا نیلا پھول کھلا تھا۔

ریاح، عائشہ اور حامد کے ساتھ شادی کی تاریخ لینے جانے لگی تو دُخان کو کہا ’بھیا جی۔۔ بھابھی کے لیے کوئی پیغام ہے تو بتا دیں پھر نہ کہیے گا میں آپ سے پوچھا نہیں‘ ’نہیں جی مجھے کوئی پیغام نہیں پہچانا‘ ’لے آپ کو کیا ہوا آپ کو تو خوش ہونا چاہئے‘ ’تو خوش ہی ہوں اب کیا ڈانس کروں؟‘ اُس نے چڑ کے کہا تو وہ کھی کھی کرنے لگی ’بھائی آپ ڈانس کرتے کیسے لگیں گے؟‘وہ خود بھی مُسکرا دیا اور باہر سے آتی آوازیں سُن کے بولا ’جاؤ بھی بابا جان بُلا رہے ہیں‘ ’ہاں ہاں جا رہی ہوں پتہ ہے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوں گے‘ وہ جاتے جاتے بولی تھی اور وہ اُداسی سے مُسکرا دیا اور اُسے وہ جھیل سی نیلی آنکھیں یاد آئی تھیں، ’اے اللہ تو جانتا ہے موت اور محبت پہ تیرے سوا کسی کا اختیار نہیں ہے تُو ہی دلوں میں محبتوں کا بیج بوتا ہے تو اے میرے پیارے اللہ کوئی معجزہ کر دے اُسے مجھے دے دے‘اُس نے سچے دل سے اللہ کو پُکارا تھا۔
٭٭
وہ اللہ سب کی سُنتا ہے

اُس نے پاکستان جانے کا سارا انتظام کر لیا تھا۔ اُس کی توقع کے مطابق اُس کے ماں باپ اور دونوں بہنوں نے بریک اپ کر دیا تھا۔ آج میکسیکو میں اُن کی آخری رات تھی وہ ساری رات اللہ کے آگے روتا رہا ’اے میرے اللہ تُو نے اُسے میرے لیے نہیں بنایا اس لیے اُس کی محبت بھی میرے دل سے نکال دے جو تیری چاہت ہے اُسے میری چاہت بنا دے مجھے در در بھٹکنے سے بچا لے مجھے ہدایت دے اے میرے اللہ جو میرے لیے نہیں ہے اُس کی خواہش بھی میرے دل سے نکال دے، میرے مالک مجھے مانگنا نہیں آتا بن مانگے عطاء فرما مجھے یقین ہے تُو میری دعا ضرور قبول فرمائے گا‘ وہ سسک رہا تھا۔ اللہ سے مانگ رہا تھا۔ اور اللہ نے اُس کی سُن لی تھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ جب اللہ سے اس یقین کے ساتھ مانگا جائے کہ وہ ہماری دُعا ضرور پوری کرے گا اور اللہ دُعا قبول نہ کرے؟
٭٭
یوں اچانک میں نے تجھے پایا
جیسے تاثیر دُعا میں آئے

آج اُس کی مہندی تھی سب گاؤں والے حویلی میں اکٹھے تھے آدھے خاندان کے لوگ اس طرف تھے اور آدھے ساتھ والے گاؤں میں لڑکی والوں کی طرف، آسمان پہ اندھیرا چھانے لگا تو لڑکیاں ڈھولک لے کے بیٹھ اور ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ فون کی گھنٹی بجھی تو حامد صاحب نے فون اُٹھایا ’اسلامُ علیکم‘ دوسری جانب سے نجانے کیا کہا گیا تھا۔ کہ رسیور اُن کے ہاتھ سے چھوٹ کے نیچے جا گرا، دُخان جو کسی کام سے اندر آیا تھا۔ اُس نے آگے بڑھ کے اُن کو تھاما اور صوفے پہ بٹھایا ’بابا جان آپ ٹھیک تو ہیں؟‘ اُس نے پریشانی سے پوچھا۔ ’افشاں اپنے کلاس فیلو احمر کے ساتھ بھاگ گئی ہے‘ اُس نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں اُس نے اس خاندان کی عزت مٹی میں ملا دی تھی اور اُس نے دُعا کی تھی کہ اب وہ کبھی اُس کے سامنے نہ آئے ورنہ وہ کچھ کر بیٹھے گا، حویلی میں یہ بات پھیل گئی تھی اور سب ہی افسردہ سے بیٹھے تھے جدھر کچھ دیر پہلے قہقہے گونج رہے تھے اُدھر اب اتنی خاموشی تھی کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سُنی جا سکتی تھی۔ ’دُخان میکسیکو سے تمہارے مہمان آئے ہیں‘اُس کے پھُوپھی زاد سیف نے برآمدے میں داخل ہو کے کہا تو سب نے ہی نظریں اُٹھا کے اُس کے پیچھے آتے لڑکے اور لڑکی کو دیکھا اور دُخان بے یقینی کے عالم میں اپنی جگہ سے اُٹھا تھا۔ اور اُن کی طرف بڑھا اور گرمجوشی سے لڑکے کو گلے لگایا تو مائدہ اُس کے کان میں بولی ’یہ میرا کزن اور بہترین دوست مھد ہے‘ تو وہ دونوں مُسکرا دیے اور دُخان نے اُن کا سب سے تعارف کروایا ’یہ میرا دوست ہے مھد اور یہ اس کی کزن ہیں‘ عائشہ اور حامد نے دونوں کو پیار دیا اور وہ بھی اُدھر ہی بیٹھ گئے سب اشتیاق سے نیلی آنکھوں والی لڑکی کو دیکھ رہے تھے جس نے کالا سٹولر لپیٹ رکھا تھا۔ اور معصوم سی نیلی آنکھوں والی باربی ڈول لگ رہی تھی۔ ریاح نے اُسے اپنے ساتھ بٹھایا تھا۔ ’کسی کا برتھ ڈے ہے آج؟‘ اُس نے سجھے ہوئے گھر اور اتنے لوگوں کی موجودگی کو دیکھ کے اندازہ لگایا تھا۔ اور ریاح سے پوچھا تو دُخان نے اُس کے اُردو بولنے پہ حیران ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ تو مھد نے اُس کے کان میں سرگوشی کی ’تمہارے لیے یہ اُردو کیا کسی بھی پہاڑ کو سر کر سکتی ہے‘ ریاح کی بجائے عائشہ نے اُسے مختصر سا بس یہ بتا دیا کہ لڑکی نے شادی سے انکار کر دیا ہے اس لیے اب دُخان کی شادی نہیں ہو رہی تو مائدہ کے چہرے پہ دھنک سے رنگ کھلے تھے ’کیا آپ دُخان کی شادی میری کزن مائدہ سے کریں گے؟‘ مھد نے عائشہ اور حامد کی طرف دیکھ کے پوچھا تھا۔ اور پھر ساری بات اسلام قبول کرنے سے پاکستان شفٹ ہونے تک بتا دی تو سب نے اُنہیں اسلام قبول کرنے کی مُبارک دی تھی اور پھر حامد نے دُخان سے پوچھا تھا۔ اور اُس نے فرمانبردار بیٹوں کی طرح کہا ’بابا جان جیسے آپ سب کی مرضی‘ اور پھر سب کی رضا مندی سے پرپوزل قبول کر لیا گیا تھا۔ اور حویلی میں دوبارہ ڈھولک بجنے لگی تھی مہندی کا فنکشن کل پہ شفٹ ہو گیا تھا۔ آج ہلدی کی رسم رکھ دی گئی تھی علی اور عمیر جو کچھ سامان لینے بازار گئے ہوئے تھے آئے تو دیکھا ساری بازی ہی پلٹی ہوئی تھی اُنہوں نے دُخان کو گلے لگا کے مبارکباد دی۔
٭٭٭
–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: