Ishq Hai Sahib Novel By Sabahat Rafique Cheema – Last Episode 5

0
عشق ہے صاحب از صباحت رفیق چیمہ – قسط نمبر 5

–**–**–

باب ۵

تم میرا عشق ہو میری جان ہو
تم اللہ کی طرف سے میرا انعام ہو

وہ صبح سے مائدہ سے بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہا تھا۔ لیکن موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔ اور وہ بات کرنے کے لیے بے چین ہو رہا تھا۔ وہ اُس کی ہونے والی دُلہن تھی اُس سے نکاح تک پردہ کروا دیا گیا تھا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ سب کمروں میں آرام کر رہے تھے اور عائشہ کچھ خواتین کے ساتھ بازار گئی تھیں مائدہ کے شادی کے کپڑے اور زیور خریدنے کے لیے۔ اُس کی نظر دیوڑھی کی طرف جاتی ریاح پہ پڑی تو اُس نے اُسے جا لیا ’میری بلی میرا ایک کام کرو گی؟‘ ’نہیں ابھی میں بہت مصروف ہوں‘ وہ جانے لگی تو اُس نے اُس کا بازو پکڑ لیا ’میرا چندا میرا سوہنا میری جان بھائی کی بات نہیں مانو گی؟‘ ’اوئے ہوئے خیر نہیں لگ رہی اچھا بتائیں کام‘ ’اپنی بھابھی سے ملوا دو در اصل میں ایک دفعہ اُسے دیکھنا چاہتا ہوں یہ نا ہو شادی کے بعد پچھتانا پڑے‘ اُس نے چہرے پہ معصومیت طاری کرتے ہوئے کہا ’اچھا تو یہ بات ہے جتنے شریف بن رہے ہیں نہ اتنے شریف آپ ہیں نہیں‘ اُس نے آنکھیں گھُماتے ہوئے کہا۔ ’بھائی کو ایسا کہتے شرم نہیں آتی تمہیں‘اُس نے مصنوعی غصے سے کہا ’چلو جاؤ اور اُسے کچن کے دروازے سے حویلی کی پچھلی طرف چھوڑ جاؤ، جاؤ شاباش بعد میں فرمائشیں کر لینا‘ اُس نے اُسے منہ کھولتے دیکھ کے کہا تو وہ منہ چڑاتی مُسکراتی ہوئی کمرے کی طرف بڑھ گئی اور وہ حویلی کے پچھلی طرف جا کے جامن کے درخت سے ٹیک لگا کے اُس کا انتظار کرنے لگا۔ ’دُخان‘ اپنا نام پُکارے جانے پہ اُس نے مُسکراتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا تھا۔ ’جی جان دُخان‘ اُس نے آنکھوں میں بے شُمار محبت لیے کہا تو وہ بلش ہوئی تھی تو وہ اُس کے چہرے پہ بکھرے دھنک رنگ دیکھنے لگا اور مائدہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کنفیوز کیوں ہو رہی ہے اور وہ اُسے کنفیوز ہوتے دیکھ کے ہنسنے لگا اور اُس کی پیلی اور سبز چوڑیوں سے سجی کلائی تھام کے بولا ’سب کچھ تو لے لیا تم نے اب ان قاتل اداؤں سے جان لو گی کیا؟‘ اُس نے نفی میں گردن ہلائی تھی اور کھنکتے لہجے میں بولی ’میں نے کہا تھا۔ نا اللہ نے آپ کو صرف میرے لیے بنایا ہے تو اللہ آپ کو کسی اور کو کیسے سونپ سکتے تھے؟ اللہ نے اپنی طرف لوٹنے پر مجھے آپ کی صورت میں انعام سے نوازا ہے آپ اللہ کی طرف سے میرا انعام ہیں‘ وہ محبت سے اُسے دیکھنے لگا بے شک اللہ نے اُسے ایک پاکیزہ عورت سے نوازا تھا۔ اُسے اُس کے کل سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اُس نے اُس کے ساتھ اپنا آج گُزارنا تھا۔ اور آنے والا کل۔ ’آپ نے مجھے یاد کیا تھا۔ ؟‘ ’یاد؟ تمہاری ان نیلی آنکھوں نے مجھے راتوں کو سونے نہیں دیا اور تم یاد کی بات کر رہی ہو؟‘ اُس کی آنکھوں میں نظر آتی سچائی کو دیکھتے ہوئے اُس نے اللہ کا شُکر ادا کیا تھا۔ یہ احساس ہی بہت فرحت بخش ہوتا ہے جس سے ہم محبت کرتے ہوں وہ بھی ہم سے اُس سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اُس کو یوں اپنی طرف دیکھتا پا کے دُخان نے شرارت سے پوچھا تھا۔ ’کیا ہے؟‘ ’عشق ہے صاحب‘ وہ بھی کھلکھلاتی ہنسی ہنستے ہوئے بولی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی گُستاخی کرتا اپنا بازو چھڑوا کے بھاگی تھی ’بھاگ لو بھاگ لو گن گن کے بدلے لوں گا‘ دُخان نے اُسے بھاگتے دیکھ کے کہا اور دلآویزی سے مُسکرا دیا اور آسمان کی طرف منہ کرے بولا ’پیارے اللہ جی تھینک یو فار ایوری تھنگ‘۔
٭٭
کسی کا دیکھ کے دھیمے سے مُسکرا دینا
کسی کے واسطے کُل کائنات ہوتی ہے

ریاح، مائدہ کو کچن کے دروازے سے حویلی کی پچھلی طرف چھوڑ کے اپنے دھیان میں مگن چہرے پہ ہلکی سی مُسکان سجھائے برآمدے سے گزرنے لگی کے اُس کا سر کسی دیوار سے ٹکرایا تھا۔ اور پھر اُس کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی تھیں تو اُس نے آہ کی آواز کے ساتھ اوپر دیکھا تو ہیزل گرین آنکھوں کو اپنی طرف دیکھتے پا کے وہ تیزی سے پیچھے ہٹی اور گڑبڑاتے ہوئے بولی ’سوری میں سمجھی کہ کوئی دیوار ہے‘ اُس کی بات پہ پہلے تو وہ حیران ہوا اور پھر مطلب سمجھ کے ہنس دیا اور اُسے ہنستے دیکھ کے اُسے احساس ہوا کے اُس نے کیا بولا ہے تو منہ پہ ہاتھ رکھے اُلٹے پاؤں پیچھے کی طرف چلنے لگی تو وہ بولا ’دھیان سے اب کہیں سچ میں نہ دیوار سے ٹکرا جانا‘ اُس نے شرارت سے کہا تو وہ اُس کے اس طرح دیکھنے پہ شرما کے رُخ پھیر کے بھاگ گئی، مھد کو پتہ چل گیا تھا۔ کہ اللہ کیا چاہتا ہے اور اُس نے اللہ کا فیصلہ دل و جان سے قبول کر لیا تھا۔
٭٭
اے بنت حوا یہ ابن آدم
ہوس کو چاہت کا نام دے کے
پیاس اپنی بُجھا رہا ہے
تیرا دامن جلا رہا ہے
مگر تو پیکر وفا بنی ہے
وفا ہی تیری خطاء بنی ہے
تو کتنی سادہ تو کتنی پاگل
تو کس کی باتوں میں آ رہی ہے
مقام اپنا گنوا رہی ہے
یہ چاہتوں کا فریب دے کے
تمہارے جذبوں سے کھیلتے ہیں
اپنی خواہش مٹانے تک یہ
تمہاری چاہت کو جھیلتے ہیں
مگر یہ اپنی ہوس مٹا کر
تمہیں بھُلا کر
شکار اگلا تلاشتے ہیں
اے بنت حوا
سنبھال خود کو
احمر شادی کا جھانسا دے کے افشاں کو گھر سے بھگا کے لے گیا تھا۔ اور افشاں کو تھا۔ کے اُس کے گھر والے نہیں مانیں گے اس لیے اُس نے احمر کی بات مان لی۔ لیکن احمر اُسے اپنے دوست کے فلیٹ پہ لے گیا۔
اور اُسے کہا کے وہ صبح کورٹ میں جا کے میرج کر لیں گے لیکن آدھی رات کو اُس نے اُسے لوٹ لیا تھا۔ اور اُدھر سے بھاگ گیا تب اُسے احساس ہوا کے وہ کیا کر بیٹھی ہے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت۔ اب وہ اس حالت میں نہ تو گھر جا سکتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اُس کے گھر والے اُسے قتل کر دیں گے اس لیے اُس نے کچن میں جا کے چاقو پکڑا اور اپنی نبض کاٹ لی وہ صبح تک تڑپتے ہوئے مر گئی تھی، ایسی لڑکیوں کا یہ ہی حال ہوتا جو اللہ کو بھول جاتی ہیں اور اپنے ماں باپ کی عزتوں کو روند ڈالتی ہیں۔ اگر ہمارے ماں باپ ہم پہ اعتبار کر کے ہمیں یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں تو ہمیں بھی چاہئیے کہ ہم اُن کا اعتبار قائم رکھیں، اُن کا فخر بنیں تا کہ وہ سر اُٹھا کے چل سکیں نہ کے اُن کے سر جھُکانے کی وجہ۔
٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: