Ishq ka Ain Novel by Aleem ul Haq Haqqi – Episode 1

0
عشق کا عین از علیم الحق حقی – قسط نمبر 1

–**–**–

الہیٰ بخش کو پہلی نظر میں عشق ہوا تو یہ کوئی حیرت کی بات نہیں- اس کا خمیر ہی عشق کی مٹی سے اٹھا تھا-
بچپن ہی سے وہ عشق و محبت کی باتیں سنتا رہا تھا- اس وقت سے جب اسے محبت کے “م” اور عشق کے “ع” کی پہچان بھی نہیں تھی- محبت اور عشق کی تلقین اس کے باپ کا وظیفہ تھا- وہ ہر وقت اس عشق اور محبت کی بات کرتا، جو انسان ہونے کے ناتے اس پر اور اس کی آنے والی نسلوں پر فرض تھی اور یہ تعلیم اسے اس کے بزرگوں نے اسی طرح دی تھی- وہ نسلاٰ عاشق تھے-
الہیٰ بخش کی سمجھ میں اپنے باپ کا فلسفہء عشق کبھی نہیں آیا- ابتدا میں تو وہ سمجھنے کے قابل ہی نہیں تھا- باپ بھی عشق کی تلقین اسے گھٹی سمجھ کر پلاتا تھا کہ گھٹی کا اثر کبھی نہیں جاتا، بلکہ وہ بہت مضبوطاور دیر پا اثر ہوتا ہے- انسان اس سے کسی طرح لڑ ہی نہیں سکتا- مگر جب الہیٰ بخش سمجھداری کی حدود میں داخل ہوا، تب بھی ابا کا فلسفہء عشق اس کے حلق سے کبھی نہیں اترا- التا اس کے اندر ایک مزاحمت پیدا ہو گئی- اس کے مزاج میں عشق سے بغاوت آگئی-
مگر الہیٰ بخش کو معلوم نہیں تھا کہ باپ کی عشق کی تلقین یاداشت کے آغاز سے بھی بہت پہلے سے اس کے ساتھ ہے- اس کی سماعت کے ایوان کا دروازہ پہلی بار اسی دستک سے کھلا تھا- اسے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ جب اس نے لکھنا سیکھا تو پہلے اپنے رب کا نام لکھا تھا- ہاں، اس کے باپ پیر بخش کو یہ سب کچھ یاد تھا-
پیر بخش اس رات کو کبھی نہیں بھولا- وہ رات اس کی زندگی کی اہم ترین رات تھی- اس رات وہ بہت مضطرب تھا اور گھر کے صحن میں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا- کبھی وہ چارپائی پہ آبیٹھتا اور کمرے کے بند دروازے پر نظریں جما دیتا- جانے کتنی دیر یہ عمل دہرایا گیا، تب کہیں کمرے کا دروازہ کھلا اور دائی رشیدہ باہر آئی-
پیر بخش اٹھ کر اس کی طرف لپکا “آپا رشیدہ خیریت تو ہے نا’ ؟ اس نے دائی سے پوچھا-
پہلا پہلا بچہ ہے نا، معاملہ بگڑا ہوا ہے- بس تو دعا کر پیر بخش” دائی نے کہا-
“اللہ سب ٹھیک کرے گا آپا-” پیر بخش نے بڑے یقین سے کہا- پھر بے تاب ہو کر بولا “آپا تن نے روئی تو رکھ لی ہے نا؟”
رشیدہ نے اسے یوں دیکھا جیسے اس کے پاگل ہو جانے سے ڈر رہی ہو-
“دیکھو آپا بہت بڑی ذمہ داری ڈالی ہے تم پر”- پیر بخش نے گڑگڑا کر کہا- “پیدا ہوتے ہی اس کے کانوں میں روئی ٹھونس دینا-“
“وہ تو ٹھیک ہے میں یہ کر لوں گی- پر تو زینب کے لئے دعا کر-” رشیدہ نے کہا اور پلٹ کر کمرے میں چلی گئی-
پیر بخش پھرچارپائی پر بیٹھ گیا- مگر اب اس کے انداز میں اطمینان تھا- رات کے لمحہ چپکے چپکے دبے پاؤں گزرتے رہے- پیر بخش بیٹھا اپنے رب سے خیر و عافیت مانگتا رہا- اس کے ہونٹ ساکت تھے مگر دھڑکن دعا بن گئی تھی- پھر کمرے سے ابھرنے والی کرب ناک چیخوں نے اسے چونکا دیا- وہ پریشان ہو گیا- گھٹی گھٹی چیخوں کا وہ سلسلی رک نہیں رہا تھا- اس نے چہرہ آسمان کی طرف کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھٹی گھٹی چیخوں کا وہ سلسلہ رک نہیں رہا تھا- اس نے چہرہ آسمان کی طرف کیااور زیرِ لب دعا کرنے لگا
“مالک۔۔۔! جیسے تُو نے ہمیشہ میری مشکل آسان کی اس مرتبہ بھی کر دے”
اس نے اللہ کو پکارا۔۔۔
“ربـا۔۔!تجھے تو سب معلوم ہے،نسلوں سے ہماری ایک ہی آرزو ہے۔۔وہ آرزو میرے دادے نے میرے باپ کو دی،میرے باپ نے مجھے دی اور میں اپنی اولاد کو دوں گا۔۔۔تجھ سے اور تیرے پیارے نبی (ص) سے محبت کی آرزو۔۔
پر ہم تو اس قابل ہی نہیں تھے۔ہم تو تیری غلامی کے قابل بھی نہیں۔رہا میں۔۔۔! تیرا بھکاری۔۔۔ تیرے سامنے جھولی پھیلاتا ہوں۔مجھے نصیب والی اولاد دے مالک۔۔اسے وہ محبت دے جس کی تڑپ مجھے میرے پرکھوں سے ملی ہے۔۔جس کو میری نسلیں ترستی رہیں ہیں۔ ہمارے بھاگ جگا دے مالک۔۔۔میں اپنی اولاد کے لیئے دنیا نہیں مانگتا۔
اللہ بادشاہ۔۔۔!مجھے تو سب جہانوں کی سب سے بڑی نعمت چاہیئے۔۔۔۔۔”
وہ گٓڑگڑائے جا رہا تھا۔۔اس کا چہرہ آسمان کی طرف تھا اور آنکھیں فرطِ احترام سے بند تھیں اور اس کیفیت میں اسے یہ احساس بھی نہیں تھا کہ بند پلکوں سے راہ بنا کر بہنے والے آنسوؤں نے اس کا چہرہ دھو دیا ہے۔۔۔
پھر وہ کیفیت دو آوازوں سے ٹوٹی۔ وہ یہ نہیں کہ سکتا تھا کہ پہلی آواز کس کی تھی۔۔شائد دونوں ساتھ ہی شروع ہوئی تھیں۔،۔،
ان میں سے ایک تو فجر کی آذان تھی اور دوسری اس کے نومولود بیٹے کے رونے کی آواز۔۔۔وہ دنیا میں اپنی آمد کا اعلان کر رہا تھا۔۔
آنسوؤں سے وضو کرنے والا پیر بخش روتے روتے مسکرایا۔۔اس نے آنکھیں کھول کر دروازے کی طرف دیکھا۔وہ اس طرف پہلا بے تاب قدم بڑھانے ہی والا تھا کہ ٹھٹک گیا۔
وا رے ناشکرے۔۔اس نے خود کو ڈانٹا اور فوراً ہی قبلہ رخ ہو کر سجدہ ریز ہو گیا۔،۔،
اس وقت وہ سراپا شکر تھا۔۔ اس کی سانسیں۔۔ اسکی دھڑکن۔۔رواں رواں اللہ کا شکر ادا کر رہ تھا۔
دروازہ کھلا اور دائی رشیداں مسکراتی ہوئی باہر آئی۔۔”بیٹا مبارک ہو پیر بخش”۔۔۔
“خیر مبارک آپا رشیدہ”
پیر بخش نے کرتے کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور جو کچھ اس میں تھا نکال کر دائی رشیداں کو پکڑا دیا۔۔۔
“یہ لو آپا۔۔جو بھی ہے تمہارا نصیب”
دائی رشیدہ نے بند مٹھی کو کھول کر دیکھا اور بولی” یہ تو بہت زیادہ ہیں پیر بخش۔۔۔”
“میں نے کہا نا تمہارا نصیب۔۔” پیر بخش نے کہا اور پھر چونککر پوچھا۔
“بچے کے کانوں میں روئی تو لگا دی ہے نا؟”
“ہاں لگا دی ہے” پر تجھے بیوی کی نہیں روئی کی فکر ہے۔۔۔
پیر بخش نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں۔۔۔وہ بولا “بچے کو لپیٹ کر لاؤ آپا۔میں اسے لے کر جاؤں گا۔۔”
“کہاں لے کر جائے گا؟ اسے گھٹی دینی ہے ابھی،شہد چٹانا ہے”
“کچھ نہیں کرنا۔۔اسے پہلے جانا ہے” پیر بخش نے جھنجلا کر کہا” تم اسے جلدی سے لاؤ”
رشیدہ نے اسے یوں دیکھا جیسے وہ سچ مچ پاگل ہو گیا ہو۔۔۔اندر جا کر اس نے زینب سے بھی یہی کہا۔۔
زینب نے آنکھیں کھولیں اور گھبرا کر پوچھا “خیر تو ہے،کیا ہوا؟”
“بچہ مانگ رہا ہے،کہیں لے کر جائے
رشیدہ نے اسے یوں دیکھا جیسے وہ سچ مچ پاگل ہو گیا ہو۔۔۔اندر جا کر اس نے زینب سے بھی یہی کہا۔۔
زینب نے آنکھیں کھولیں اور گھبرا کر پوچھا “خیر تو ہے،کیا ہوا؟”
“بچہ مانگ رہا ہے،کہیں لے کر جائے گا”
زینب مسکرا دی۔۔اس مسکراہٹ میں طمانیت اور فخر تھا “لے جاؤ آپا۔۔ضروری ہو گا تبھی کہہ رہا ہے”
رشیدہ بچے کو لپیٹتے ہوئے بڑبڑائی “مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی تم لوگوں کی”
زینب مسکراتی رہی۔کچھ بولی نہیں۔۔رشیدہ بچے کو باہر لے گئی۔۔۔
پیر بخش نے سب سے پہلے بچے کے کان ٹٓٹولے۔روئی دیکھ کر اسے اطمینان ہوا۔اس نے بچے کو بڑی نزاکت سے اپنے ہاتھوں پر لیا اور تیزقدموں سے دروازے کی طرف بڑھا۔۔گلیوں سے گذرتے ہوئے اس کا شدت سے جی چاہا کہ بیٹے کا چہرہ دیکھے۔۔مگر اس نے خود کو ڈانٹ دیا۔۔۔
“نہیں پیرو۔ابھی نہیں۔ تُو کون ہوتا ہے اسے پہلے دیکھنے والا”
گلی سے نکل کر کھیت میں چلتے ہوئے وہ بچے کا چہرہ دیکھنے کی پاگل خواہش سے لڑتا رہا۔۔۔یہاں تک کہ وہ منصب شاہ کے دروازے پر پہنچ گیا۔اس نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔۔اندر سے ایک مردانہ آواز نے پوچھا “کون ہے بھئی؟”
“سلام علیکم با جی سرکر۔میں ہوں،پیر بخش”
دروازہ کھلا۔۔ منصب شاہ نے کہا “اندر آ جا پیر بخش”
“نا با جی سرکار۔میں یہیں ٹھیک ہوں،،آپ کو تکلیف دینے آیا ہوں”
منصب شاہ باہر نکل آئے۔۔”تکلیف کیسی،میں نے کہا تھا تُو آدھی رات کو بھی آ جانا۔۔تیرا بچہ کسی کو تکلیف دے گا بھلا۔۔دیکھ تو فجر کے وقت آیا ہے۔بیٹا ہے کہ بیٹی؟”
“اللہ پاک کی نعمت ہے با جی،بیٹا ہے”
منصب شاہ نے ہاتھ پھیلائے۔”لا۔۔۔اس کے کان میں اذان دوں”
“ایک منٹ با جی۔اس کے کانوں سے روئی نکال لوں”
منصب شاہ اسے کانوں سے روئی نکالتے حیرت سے دیکھتے رہے۔۔” یہ کیا؟ “
“تا کہ اذان سے پہلے کان میں کوئی آواز نہ پڑے”
منصب شاہ نے بچے کو اذان سنانے کے بعدپیر بخش کی طرف بڑھایا “یہ ایک اور احسان ہے شاہ جی سرکار آپ کا” پیر بخش بولا۔۔
“تُو کب کسی کا احسان لیتا ہے پیر بخش۔تُو تو کسی کو سعادت دلوائے تو اسے بھی خود پر احسان سمجھتا ہے۔جا پگلے۔۔اللہ خوش رکھے تجھے”
بوڑھے منصب شاہ اسے جاتے دیکھتے رہے۔۔ان کے ہونٹوں پہ محبت بھری مسکراہٹ تھی۔،۔،
کھیت کے پاس سے گذرتے ہوئے پیر بخش نے بچے کے کان سے ہونٹ ملا دیئے۔۔
“کہتے ہیں بچے کو کان میں پڑی پہلی بات کبھی نہیں بھولتی۔۔اذان تُو نے سن لی۔ اب میری بات بھی سن لے۔۔”وہ کہتے کہتے رکا ور توقف کے اس لمحے میں اس نے اپنے بیٹے کے نام کا فیصلہ بھی کر لیا۔۔۔
“دیکھ پتر الٰہی بخش۔۔۔!جو تیرے دادے نے مجھ سے کہا تھا میں تجھ سے کہتا ہوں۔۔ہم گنہگار اللہ اور اسکے پیارے رسول ﷺ سے محبت کے قابل تو نہیں۔۔پر اللہ کے تمام بندوں اور خاص کر آلِ رسول سے عشق تو کر سکتے ہیں نا۔۔بس پتر، عمر بھر اسی رسی کو پکڑے رہنا۔کیا پتا وہ خوش ہو کر اپنے قابل ہی بنا دے۔۔دیکھ الٰہی بخش۔۔۔ میری یہ بات کبھی نہ بھولنا پتر۔۔۔” اب اس سے صبر نہیں ہو رہا تھا۔۔ اس نے جلدی سے بچےکاا چہرہ دیکھا اور اس کی پیشانی چوم لی۔،۔،
وہ بیٹے میں اتنا گُم تھا کہ اسے درخت کے نیچے وہ ملنگ بھی نظر نہیں آیا۔۔اسے اس سے پہلے کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا۔۔پیر بخش کو یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ اسے دیکھ کر وہ ملنگ اختراماً کھڑا بھی ہوا ہے۔۔۔ملنگ نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیئے تھے۔۔وہ اُس وقت تک کھڑا پیر بخش کو احترام اور عقیدت سے دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا۔۔
————————————
پیر بخش کو ایک بہت بڑی خوشی اس وقت ملی جب الٰہی بخش نے پہلی بار اللہ کا نام لکھا۔۔حالانکہ اس وقت تک اسے لکھنا بھی نہیں آتا تھا۔۔وہ صرف تین سال کا تھا۔۔
پیر بخش کام سے واپس آنے کے بعد صحن میں چارپائی پر بیٹھا تھا کہ الٰہی بخش بھاگتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔۔اس کے ایک ہاتھ میں پنسل تھی اور دوسرے میں ایک کاپی۔۔جسے اس نے سینے سے لگایا ہوا تھا۔۔دوسری چارپائی پر بیٹھنے کے بعد اس نے کاپی کھولی اور تیزی سے اس پر پنسل چلانے لگا۔۔وہ بار بار دروازے کی طرف بھی دیکھ رہا تھا۔۔
اسی وقت دروازے سے دس سالہ بشارت لپکتا ہوا آیا۔۔اس کے پیچھے اس کا باپ۔پیر بخش کا چچیرا بھائی کریم تھا۔۔”او بشارت میری بات تو سن۔ہوا کیا ہے” کریم کہہ رہا تھا۔۔
پیر بخش اٹھ کھڑا ہوا۔۔بشارت اسے دیکھ کر رکا اور پھر شکائیت کرنے لگا۔۔۔”چاچا یہ الٰہی بخش روز میری سکول کی کاپی خراب کرتا ہے۔۔مجھے مار پڑتی ہے اسکول میں”۔۔۔۔
“تو کیا ہوا- بھائی ہے تیرا” کریم نے جلدی سے کہا-
“بھائی ہے تو میں اسے مار بھی سکتا ہوں- اسی کی وجہ سے میری مار لگتی ہے-” بشارت الہیٰ بخش کی طرف بڑھا، جس کے پینسل والے ہاتھ میں اور تیزی آگئی تھی-
باورچی خانے سے زینب بھی نکل آئی تھی- “کیا ہوا بشارت- کیا بات ہے بھائی جی-“
“او کچھ نہیں زینبے- تیرے بیٹے کو لکھنے پڑھنے کا بڑا شوق ہے-” کریم نے کہا، پھر الہیٰ بخش کی طرف مڑا- “دکھا تو پتر- کیا لکھتا ہے تو-“
“لکھنا کیا ہے، آڑھی ترچھی لکیریں ڈالتا ہے کاغذ پر-“
“اوۓ تو چپ کر جا بشارت-” کریم نے بیٹے کو ڈانٹا- پھر اس نے الہیٰ بخش سے کاپی لے کر اس کا معائنہ کیا- پھر وہ پیر بخش کو دیکھ کر مسکرایا- “لے پیرو، مٹھائی کھلا بھئی، تیرے بیٹے کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا، پھر بھی اس نے کچھ لکھ دیا ہے- لے خود پڑھ لے” کریم نے کاپی اس کی طرف بڑھائی-
مجھے پڑھنا کہاں آتا ہے بھائی کریم-“
نہیں آتا پر اس کا لکھا تو پڑھ لے گا”
پیر بخش نے کاپی لے کر دیکھا- پہلے تو اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا- صحفے پر بے شمار آڑی ترچھی بے معنی لکیریں تھیں- پھر اچانک اسے نظر آیا اور صاف نظر آیا- درمیان میں چند لکیروں نے جڑ کر لفظ “اللہ” کی شکل اختیار کر لی تھی- اس کا دل شکر سے بھر گیا- اس کے چہرے پر خوشی اور آنکھوں میں آنسو تھے- یہ دو ہی نام ایسے تھے جنہیں وہ پڑھ سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اور محمدﷺ۔،۔،
گزرے وقت نے الہیٰ بخش کو چار سال کی عمر کی چوکھٹ سے پار کرا دیا تھا- اس روز زینب صحن میں ٹنکی کے پاس بیٹھ کر برتن دھو رہی تھی کہ پیر بخش گھر میں داخل ہوا- اس کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا اور چہرہ تمتما رہا تھا- اندر گھستے ہی اس نے مسرت بھرے لہجے میں پکارا- “زینب ۔۔۔۔۔۔ او زینبے ۔۔۔۔ “
زینب نے سر اٹھا کر اسے دیکھا- “کیا ہے بخشے کے ابا یہ مٹھائی کیسی ہے؟”
برتن چھوڑ ادھر آ پھر بتاتا ہوں-“
زینب برتن چھوڑ کے ہاتھ دھونے لگی- پیر بخش نے پکارا- بخشے ۔۔۔۔۔۔ او پتر بخشے جلدی سے آ-“
“بتاؤ نا یہ مٹھائی کسیی ہے؟” زینب چارپائی کے پاس آکھڑی ہوئی تھی-
“صبر کر- ابھی بتاتا ہوں-“
الہیٰ بخش آیا تو پیر بخش نے زینب سے کہا “جا ۔۔۔۔۔۔ بیٹے کو وضو کرا جلدی سے- آج اس کی بسم اللہ ہے-“
پر آج ہی کیوں- بسم اللہ تو کسی دن بھی ہو سکتی ہے-“
“کیسے ہو سکتی ہے- جاہل نری- اللہ پاک نے بچے کی تعلیم شروع کرنے کے لئے ایک عمر مقرر کی ہے- چار سال، چار مہینے، چار دن-” پیر بخش نے جنجھلا کر کہا-
زینب الہیٰ بخش کا وضو کرا کے لائی اور اسے پیر بخش کے سامنے بٹھا دیا- الہیٰ بخش کے سر پر ٹوپی بھی رکھ دی- الہیٰ بخش حیران نظر آ رہا تھا-
“بول پتر، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم-” پیر بخش نے کہا-
الہیٰ بخش نے صاف آواز میں بلا اٹکے دہرا دیا-
“اس کا مطلب بھی سمجھ-” پیر بخش نے کہا “شروع اللہ کے نام سے جو بہت مہربان اور نہایت رحم والا ہے-“
الہیٰ بخش نے یہ بھی دہرا دیا-
پیر بخش نے ڈبہ کھول کر مٹھائی کا ایک ٹکڑا بیٹے کے منہ میں رکھا- “اللہ مبارک کرے پتر- یہ کھا اور ماں کا منہ میٹھا کرا-“
یوں بسم اللہ ہو گئی- اس کے بعد پیر بخش نے کہا” اب بول پتر۔ الف سے اللہ”
“الف سے اللہ”
“اب بول م سے حضور پاک(ص)”
“م سے حضور پاک(ص)”
“اور یاد رکھنا- خالی حضور پاک کبھی نہیں کہتے- آگے بول صلی اللہ علیہ وسلم-“
پیر بخش ٹکڑوں میں یہ سبق یاد کراتا رہا- پھر اس نے کہا- “اب خود سے سنا پتر-“
“الف سے اللہ- م سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم-” الہیٰ بخش نے اٹکے بغیر دہرا دیا-
“شاباش پتر-” پیر بخش نے خوش ہو کر کہا- “ہمیشہ یاد رکھنا- یہ پہلا سبق بھی ہے اور آخری بھی- نہ اس س پیچھے کچھ ہے، نہ آگے کچھ- بیچ میں جو ہے سو ہے، پر ہیچ ہے- صبح اٹھ کر یہ سبق پڑھنا، رات کو یہ سبق پڑھ کر سونا-“
“ٹھیک ہے ابا-“
“سکول میں داخلے تک یہی سبق یاد کرتا رہ- روز سنانا مجھے-“
اور الہیٰ بخش وہ سبق کبھی نہیں بھولا۔۔۔۔۔!
————————————————–
اس روز گھر آتے ہوئے پیر بخش کو راستے میں کرم دین مل گیا۔۔دونوں بڑے تپاک سے ملے،کرم دین نے کہا “میں گھر ہی آ رہا تھا پیرو”
“کراچی سے کب آیا؟”پیر بخش نے پوچھا
“کل ہی آیا ہوں”
دونوں ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہوئے چلتے رہے۔درخت کے پاس سے گذرتے ہوئے کرم دین ٹھٹکا۔۔”یہ کون ہے پیرو؟”اس نے ملنگ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
“دیوانہ ہے کوئی”۔۔پیر بخش نے کہا۔۔”چار سے سال سے اوپرہو گئے۔آیا اور یہاں جم کر بیٹھ گیا”ملنگ نے اسی لمحے سر اٹھایا اور آسمان کو دیکھ کرکچھ بُدبدانے لگا۔۔
“سلام علیکم بابا جی” کرم دین نے بلند آواز میں کہا۔۔
ملنگ اب سر جھکا کر بیٹھ گیا تھا۔پیر بخش نے کہا ” آج تک کسی نے اس کی آواز نہیں سنی۔سلام کا جواب بھی نہیں دیتا”
“جلالی معلوم ہوتا ہے”
“ایسا بھی نہیں ہے۔۔شروع میں بچوں نے پتھر مارے پر اس نے اُف بھی نہیں کی۔۔لوگوں نے کھانا بھی رکھا پر اس نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔۔کبھی کسی سے بات نہیں کی،کسی کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔۔بس پھر لوگوں نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔۔آندھی ہو یا بارش ہو،سردی ہو،یہ یہیں رہا،کبھی اس درخت کے نیچے سے نہیں ہٹا۔۔”
وہ دونوں آگے بڑھ گئے تھے۔۔انہوں نے نہیں دیکھا کہ ملنگ اٹھ کھڑا ہوا۔۔اس کے چہرے پر اضطراب تھا۔۔اس نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایااور مضطربانہ لہجے میں بڑبڑایا “پھر میں کیا کروں؟ تُو جان،تیرے کام میں کون دخل دے سکتا ہے۔” پھر وہ پرسکون ہو کر بیٹھ گیا۔،
الٰہی بخش باپ کا دیا ہو سبق دہراتا رہا۔۔۔پیر بخش سنتا اور سن کر اسے دعا دیتا۔۔” اللہ تجھے علم سے نوازے۔خوش رہ پُتر۔۔”
ایک دن الٰہی بخش نے کہا” ابا۔۔آگے بھی پڑھاؤ نا۔ کتنے دن ہو گئے یہی پڑھتے،روز یہی سنتے ہو۔۔”
“یہ تو ساری حیاتی پڑھنا ہے پتر۔۔”پیر بخش نے جواب دیا۔۔”بولا تھا نا یہی پہلا سبق ہے اور یہی آخری۔۔اسے کبھی نہ بھولنا۔۔”
“نہیں بھولوں گا ابا پر۔۔۔۔۔”
“کل سے تُو اسکول جائے گا پُتر۔۔” پیر بخش نے اس کی بات کاٹ دی۔۔”آگے وہ پڑھا دیں گے۔پر میں کہتا ہوں آگے کچھ ہے ہی نہیں۔”
سو الٰہی بخش اسکول چلا گیا۔۔وہاں اسے ماسٹر جی ملے۔۔یہ تو اس نے بعد میں جانا کہ ابا عشق کے معلم تھے اور ماسٹر جی علم کے۔۔۔
ماسٹر جی نے بچوں کو قاعدہ کھولنے کا حکم دیا اور کہا۔۔” بولو الف۔ ۔ ۔”
الٰہی بخش تیزی سے کھڑا ہوا “میں بتاؤں ماسٹر جی؟ “
“بتاؤ۔” ماسٹر جی نے شفقت سے کہا۔۔
“الف سے اللہ”
“بالکل ٹھیک” ماسٹر جی بولے۔۔
“لیکن ماسٹر جی کتاب میں تو انار بنا ہے۔”ایک بچے نے اعتراض کیا۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔ اس لیئے کہ اللہ کو کسی نے دیکھا نہیں ہے۔” ماسٹر جی نے نہایت سکون سے کہا۔۔” الف سے آم بھی ہوتا ہے،انار بھی اور انگور بھی۔۔لیکن سب سے پہلے اللہ ہے۔پڑھو الف سے اللہ۔۔۔۔۔”
وہ بچہ ضدی تھا۔۔بولا “میں تو کتاب سے ہی پڑھوں گا ماسٹر جی۔۔”
“تو پڑھ لو بیٹے۔۔یہ تو اپنا اپنا نصیب ہے۔۔ہاں بچو پڑھو۔۔الف سے اللہ۔۔۔ الف سے انار۔۔”
اسکول کا سلسلہ چلتا رہا۔۔اسکول میں ماسٹر جی پڑھاتے مگر الٰہی بخش باپ کا دیا ہوا سبق دہرانا کبھی نہیں بھولا۔۔۔اسکول جاتے اور واپس آتے ہوئے وہ اس درخت کے پاس سے گذرتا۔۔جس کے نیچے ملنگ بیٹھا ہوتا تھا۔۔الٰہی بخش کو کبھی پتا نہ چلا کہ اسے دیکھ کر ملنگ ہمیشہ کھڑا ہو جاتا ہے اور اس وقت تک کھڑا رہتا ہے جب تک وہ اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتا۔۔۔
کلاس میں ماسٹر جی حروفِ تہجی پڑھاتے رہے۔۔کلاس ل سے لٹو تک پہنچ گئی۔۔۔اس رات الٰہی بخش کو تیز بخار ہو گیا۔۔پیر بخش نے بیوی سے کہا ” آج اسے اسکول نہ بھیج زینب۔۔کل تک ٹھیک ہو جائے گا۔۔”
اس دن گاؤں کے لوگوں نے ملنگ کو پہلی بار مضطرب دیکھا۔۔۔
درخت کے سامنے سے گذرتے ہوئے بچے اسکول جاتے رہے۔۔لیکن ان میں الٰہی بخش نہیں تھا۔۔معمول کا وقت بھی گذر گیا تو ملنگ اضطراب کے عالم میں اٹھ کھڑا ہوا “کیا بات ہے۔۔سرکار آئے نہیں۔۔”اس نے سرگوشی میں خود کلامی کی۔۔پھر خود ہی جواب دیا۔۔”آ جائیں گے۔۔آ جائیں گے۔۔”
سورج نصف النہار پر آ گیا۔۔بچے اسکول سے واپس آنے لگے۔۔ملنگ اسی طرح کھڑا تھا۔۔وہ پہلا موقع تھا کہ لوگوں نے اسے کھڑے دیکھا۔۔وہ بڑبڑا بھی رہا تھا لیکن آواز اتنی دھیمی تھی کہ کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔۔۔
سورج نصف النہار پر آ گیا۔۔بچے اسکول سے واپس آنے لگے۔۔ملنگ اسی طرح کھڑا تھا۔۔وہ پہلا موقع تھا کہ لوگوں نے اسے کھڑے دیکھا۔۔وہ بڑبڑا بھی رہا تھا لیکن آواز اتنی دھیمی تھی کہ کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔۔۔
شام ہوئی،سورج ڈھلا،رات ہو گئی،مگر ملنگ اسی طرح سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا رہا۔۔دیکھنے والوں نے بس یہیں تک دیکھا۔یہ کسی کو نہیں معلوم ہوا کہ ملنگ نے پوری رات اسی طرح گذاری ہے۔۔
صبح کے وقت الٰہی بخش کے جانے کے بعد وہ اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔۔اب وہ پرسکون تھا۔۔
اسکول میں ماسٹر جی نے الٰہی بخش سے پوچھا “کل تم اسکول کیوں نہیں آئے؟”
“مجھے بخار تھا ماسٹر جی” الٰہی بخش نے جواب دیا ” اماں نے روک لیا تھا۔”
“خیر ہے۔میں تمہیں پہلے کل کا سبق پڑھا دوں۔”
“وہ تو میں گھر پڑھ چکا ہوں”الٰہی بخش نے کہا۔۔۔”
“تو سناؤ۔۔”
الٰہی بخش نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اور خشوع و خضوع کے ساتھ باپ کا پڑھایا ہوا سبق دہرایا۔۔”م سے حضور پاک ﷺ۔۔”
ماسٹر جی حیران رہ مگر پوری کلاس ہنسنے لگ گئی۔۔الٰہی بخش حیرت اور پریشانی سے چاروں طرف دیکھتا رہا۔۔۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ہنسنے کی کیا بات ہے۔۔
ایک لڑکے نے الٰہی بخش سے کہا۔” بڑا قابل بنتا ہے پر ہے جاہل۔۔”
“م سے حضور پاک ﷺ نہیں ہوتا مور ہوتا ہے پاگل۔”دوسرے نے کہا۔۔۔
سب بچے ہنسے جا رہے تھے۔۔الٰہی بخش بے بسی سے اِدھر ادھر دیکھتا رہا۔۔اسکی آنکھوںمیں آنسو آ گئے تھے۔۔۔
الف سے اللہ کی بات اور تھی اس م کے معاملے میں ماسٹر جی بھی چکرا گئے۔۔چند لمحے تو وہ کچھ سمجھ ہی نہیں سکے۔۔پھر کلاس کی ہنسی نے انہیں اور کنفیوژ کر دیا۔۔مگر بات سمجھ میں آئی تو ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔۔انہوں نے بلند آواز میں کہا۔۔ “خاموش ہو جاؤ۔۔”
کلاس میں سناٹا چھا گیا۔۔
“الٰہی بخش۔۔! تم چھٹی کے بعد میرے پاس آنا۔۔” انہوں نے الٰہی بخش سے کہا پھر کلاس سے مخاطب ہوئے۔” پڑھو۔۔ن سے نارنگی۔۔۔و سے ورق۔۔۔۔”
بچے بلند آواز میں دہرانے لگے مگر الٰہی بخش بے آواز روئے جا رہا تھا۔۔۔
ہاف ٹائم میں بھی وہ اداس سا ایک طرف بیٹھا رہا۔۔ایوب شاہ اور نواز شاہ اس کی طرف چلے آئے۔۔ایوب شاہ نے استہزائیہ لہجے میں پوچھا۔۔”بخشو۔۔گھر میں کون پڑھاتا ہے تجھے؟”
مگر الٰہی بخش سے پہلے نواز شاہ بول پڑا۔۔ “او یہ جھوٹ بولتا ہے ایوب شاہ ۔۔اسے کون پڑھائے گا۔۔بس اسے ماسٹر جی سے زیادہ قابل بننے کا شوق ہے۔۔”
“میرا ابا پڑھاتا ہے مجھے۔” الٰہی بخش کے لہجے میں بے بسی تھی۔۔
وہ دونوں ہنسنے لگے۔۔” سن لیا نواز شاہ۔۔”ایوب شاہ نے اپنے ساتھی سے کہا۔۔
“او بخشو جھوٹے۔۔” نواز شاہ بولا۔۔” تیرا ابا تو جاہل ہے،وہ کیا پڑھائے گا۔۔”
الٰہی بخش کی برداشت جواب دینے لگی۔۔اس نے جھک کر پتھر اٹھایا تو وہ دونوں بھاگ گئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹی کے بعد الٰہی بخش ماسٹر جی کے کمرے میں گیا۔۔ماسٹر جی نے اسے بڑے پیار سے بٹھایا۔۔چند لمحے وہ خاموش رہے۔۔پھر بولے “بیتا الٰہی بخش۔۔جو آج تم نے کلاس میں پڑھا آئیندہ سب کے سامنے مت پڑھنا۔۔”
“کیا وہ غلط تھا ماسٹر جی۔۔؟”
ماسٹر جی سوچ میں پڑ گئے۔۔”توبہ ۔۔۔توبہ۔۔۔۔ یہ کون کہہ سکتا ہے۔”بالآخر انہوں نے کہا۔۔ “تم شام کو میرے گھر آیا کرو۔۔وہاں میں تمہیں پڑھاؤں گا بھی اور تمہارے سوال کا جواب بھی دوں گا۔۔”
لیکن ماسٹر جی۔۔۔”
“اب تم جاؤ،،کل شام سے میرے گھر پر آنا۔ میرا گھر معلوم ہے نا۔۔؟”
“جی ماسٹر جی۔۔” الٰہی بخش کمرے سے نکل آیا لیکن وہ بہت ناخوش تھا۔۔۔اس کی تشفی نہیں ہوئی تھی۔۔
اس روز اسکول سے واپس آتے وقت الٰہی بخش مضمحل تھا۔۔ہمیشہ کی طرح اچھتا کودتا نہیں چل رہا تھا۔۔وہ ملنگ والے درخت کے پاس سے گذرا تو ملنگ ہمیشہ کی طرح اٹھا اور سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ایسے موقع پر اس کے چہرے پر احترام کا تاثر ہوتا تھا۔۔۔
اچانک ملنگ خود کلامی کرنے لگا۔۔”ہار گئے سرکار۔۔! انہیں پڑھاتے ہیں جو عشق کے عین سے بھی اتنا دور ہیں جتنا عرش سے زمین۔۔دل چھوٹا نہیں کرتے سرکار۔جو لکھا ہے وہ تو ہو گا نا۔۔۔”لیکن اس وقت تک الٰہی بخش دور جا چکا تھا۔۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس شام کام سے واپسی کے بعد چاۓ پیتے ہوۓ پیر بخش نے بیوی سے پوچھا-
“زینبے ۔۔۔۔ اپنا بخشو کدھر ہے؟”
“کمرے میں ہے- پتا نہیں کیوں، روئے جا رہا ہے- کچھ بتاتا ہی نہیں-“
پیر بخش نے پیار سے اس کا سر تھپتھپایا “کیوں پتر- کیا بات ہے؟”
الہیٰ بخش اٹھ کر بیٹھ گیا- اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں- “کچھ نہیں ابا-” اس نے آہستہ سے کہا-
“کچھ تو ہے- مجھے بتا-“
پیر بخش اصرار کرتا رہا- الہیٰ بخش اب اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا- اچانک بولا “ایک بات بتاؤ ابا- تم جاہل ہو؟”
پیر بخش کو صدمہ ہوا- لیکن اس نے خود کو تیزی سے سنبھال کر کہا ” ہاں پتر، جاہل تو میں ہوں-“
“تو پھر تم نے مجھے وہ سبق کیوں پڑھایا؟”
“کون سا سبق؟” پیر بخش نے حیرت سے پوچھا-
“وہی پہلا اور آخری سبق-“
پیر بخش مسکرا دیا- “او پتر، وہی ایک سبق تو مجھے آتا ہے-“
“وہ غلط ہے ابا-” الہیٰ بخش نے غصے سے کہا-
پیر بخش کے چہرے کا رنگ بدل گیا- “نا پتر، ایسا نہیں کہتے- وہ سب سے سچا سبق ہے-” اس نے بڑے تحمل سے کہا “وہ ایمان کا سبق ہے-“
“پر اسے ماسٹر جی نے بھی ٹھیک نہیں کہا-“
پیر بخش چند لمحے سوچتا رہا- پھر گہری سانس لے کر بولا- “یہ میرا حکم ہے پتر کہ وہ سبق کبھی نہیں بھولنا ہے- وہ تیرے دادے پر دادے کا سبق ہے- تیرے لئے ہے- دوسروں کا مجھے نہیں پتا-“
الہیٰ بخش نے اس کی بات کاٹ کی- “آج سب بچوں نے میرا مذاق اڑایا ہے-“
“تو پروا نہ کر پتر- بس اسے ہمیشہ یاد رکھنا- حرف کتنے ہیں، مجھے نہیں پتا، پر میں نے تجھے سب سے میٹھے حرف، سب سے پاک نام پڑھائے ہیں اور میں نے کہا تھا نا کہ ان سے پہلے کچھ ہے، نہ بعد میں۔۔۔۔ اور بیچ میں جو ہے سو ہے، پر ہیچ ہے-” پیر بخش کے لہجے میں تحکم تھا، مضبوطی تھی-
باپ بیٹے ایک دوسرے کو تولنے والی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے- اسی وقت زینب کی پکار سنائی دی- “سنو ماسٹر جی آئے ہیں-“
دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا- زینب اب سامنے آگئی تھی-“انہیں اندر بلایا؟” پیر بخش نے پوچھا-
“ہاں چارپائی پر بٹھا دیا ہے- چائے بنا رہی ہوں- روٹی کا بھی پوچھ لینا-“
“تو لیٹ، میں ماسٹر جی سے بات کرتا ہوں-” پیر بخش نے بیٹے سے کہا اور کمرے سے نکل آیا- ماسٹرجی پیر بخش کو دیکھ کر کھڑے ہونے لگے- پیر بخش نے جھپٹ کر ناہیں بٹھا دیا-” کیوں گناہگار کرتے ہیں ماسٹر جی اور آپ نے تکلیف کیوں کی، حکم کیا ہوتا، میں آپ ہی حاضر ہو جاتا-“
“نا پیر بخش- بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ “
“غلطی میری ہے ماسٹر جی-” پیر بخش نے جلدی سے کہا “میں نے اسے پڑھایا تھا۔۔۔۔”
“غلطی کیسی پیر بخش! تم نے تو اسے وہ پڑھایا، جو پڑھانا چاہئے-“
پیر بخش نے حیرت سے انہیں دیکھا- ” آپ ۔۔۔۔۔ آپ بخشے کی شکایت لے کر نہیں آئے؟”
“نہیں بھئی- میں تو یہ کہنے آیا ہوں کہ الہیٰ بخش کو ہر شام میرے گھر بھیج دیا کرو- بڑا ہونہار بچہ ہے- تم اس کی تعلیم کو مجھ پہ چھوڑ دو- میں سمجھ گیا ہوں کہ تم کیا چاہتے ہو-“
پیر بخش کا حوصلہ بڑھا- “میں نہیں چاہتا ماسٹر جی کہ وہ بیچ کے حرفوں میں الجھے-“
“تم بے فکر ہو جاؤ پیر بخش-“
اگلے روز سے الہیٰ بخش ماسٹر جی کے گھر پڑھنے لگا- ان کا گھر اسے بہت اچھا لگا- خاص کر ماسٹر جی کا کمرہ- وہاں الماری میں بہت ساری کتابیں تھیں- ماسٹر جی کی بیوی کو وہ خالہ کہتا تھا- وہ بھی اس پر بڑی شفقت کرتی تھیں-
الہیٰ بخش کو معلوم نہیں تھا کہ یہ بھی ایک کبھی نہ ٹوٹنے والا تعلق ہے-
الہیٰ بخش ہمیشہ ماسٹر جی سے اصرار کرتا کہ اسے سبق کے بارے میں بتائیں مگر وہ اسے ٹال دیتے- “وقت آنے پر سب سمجھا دوں گا-” وہ کہتے-
‘پر ماسٹر جی، یہ تو بتا دیں کہ ابا ٹھیک ہے یا غلط ہے-” وہ اصرار کرتا-
“تمہارا ابا ٹھیک کہتا ہے- پر اس نے تمہیں وہ بات سمجھائی ہے جو ابھی تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گی- اتنا آسان ہوتا تو میں سب بچوں کو نہ سمجھا دیتا- وقت آنے دو-“
اور جب الہیٰ بخش سات سال کا ہوا تو وہ وقت آ گیا- اس شام ماسٹر جی نے اسے وضو کرنا سکھایا- پھر انہوں نے اسے ادب سے دو زانو بٹھایا اور بولے “اب میں تمہیں تمہارے ابا کا سبق پڑھاتا ہوں- تمہاری سمجھ میں خود آ جائے گا کہ وہ درست ہے-“
الہیٰ بخش کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا- بھید کھلنے والا تھا-
“بولو الہیٰ بخش، م سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم”
اور الہیٰ بخش کو یوں لگا جیسے اس کا سینہ، اس کا دماغ روشن ہوگیا ہے- بات یک لخت سمجھ میں آگئی- مگر پھر ایک اعتراض نے سر ابھارا- “ابا نے یہ پڑھایا ہوتا تو لڑکے میرا مذاق تو نہ اڑاتے-” اس کے لہجے میں شکایت تھی-
“تمہارا ابا عاشق ہے- احترام کے اصولوں سے واقف ہے-” ماسٹر جی نے اسے سمجھایا- “یہ وہ مبارک نام ہے کہ اسے بے وضو زبان پر لانا گستاخی ہے اور جب یہ نام سنو تو درود شریف پڑھو- احترام سے کھڑے ہو جاؤ- احترام کی حد کر دو- کچھ سمجھے ؟”
الہیٰ بخش کچھ سمجھا اور کچھ نہیں سمجھا-
ماسٹر جی بہت سمجھدار تھے “یہ سبق ضروری تھا- اور تم بے وضو تھے- اس لئے تمہارے باپ نے نام لئے بغیر حضور پاک ﷺ کہہ کر تمہیں سکھایا-
الہیٰ بخش کو پتا بھی نہیں چلا کہ وہ احترام اس کی بے خبری میں اس کے وجود کی گہرائیوں میں بیٹھ گیا ہے- ہاں اس کی سمجھ میں یہ ضرور آگیا کہ باپ اور ماسٹر جی اس کی تعلیم کے دو ضلعے ہیں- باپ جو کچھ تھوپتا ہے، ماسٹر جی اسے آسان کر کے سمجھتے ہیں- وہ ترجمان ہیں-
اس وقت الہیٰ بخش کو معلوم نہیں تھا کہ تعلیم عشق کا ایک تیسرا ضلع بھی ہے۔۔۔!
—————————————-
پیر بخش کو فرمان شاہ نے کہا تھا کہ آ کر ان کی بھینس کے لئے چارہ کاٹ دے- اس شام پیر بخش ان کے ہاں کترا کرنے چلا گیا- وہاں بانڈی کے باہر لوگ جمع تھے- وہ صالح محمد کے متعلق باتیں کر رہے تھے- دو دن پہلے اس کے مکان کی چھت گر گئی تھی- پیر بخش سر جھکائے کترا کر رہا تھا-
دینو نے کہا- “یہ سب ملنگ کی وجہ سے ہوا ہے-“
“وہ کیسے-” کسی نے پوچھا-
“صالح محمد نے ملنگ سے کہا تھا، سردی آرہی ہے بابا، اس کی فکر بھی کر لے- تو ملنگ بولا۔۔۔۔۔۔۔ تو اپنے گھر کی فکر کر، مرمت کرالے، اور اسی رات صالح محمد کی چھت گر گئی-“
“مجذوبوں سے تو الجھنا ہی نہیں چاہئے-” فرمان شاہ بولے- “ان کے منہ سے نکلی بات ٹلتی نہیں-“
“باجی، وہ تو اللہ نے کرم کیا سب بچ گئے-“
“سب اللہ کے بھید ہیں- صالح محمد کو اس سے کہنا ہی نہیں چاہئے تھا- سب کو معلوم ہے کہ ملنگ نے اس پیڑ کے نیچے سات سردیاں اور بارشیں گزاری ہیں- وہ تو اللہ لوگ ہے، اسے کیا پروا موسم کی-“
“اور کیا”- خیر دین بولا- “اب یہی دیکھیں کہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کھاتا کیا ہے اور کھانا کہاں سے ملتا ہے اسے-“
“یہی دیکھو نا باجی- برسوں سے وہیں بیٹھا ہے-” مختار نے کہا- “ہلتا بھی نہیں کبھی- ایسے تو آدمی کا جسم ہی بےکار ہو جائے- چلنے پھرنے کے قابل بھی نہ رہے-“
“ایک بات بتاؤں باجی-” دینو نے کہا- “یہ اپنے پیر بخش کا پتر ہے نا ۔۔۔ الہیٰ بخش۔۔۔۔۔۔”
اس پر پیر بخش کے کان کھڑے ہوئے مگر وہ پہیہ گھماتا رہا-
‘کیا ہوا اسے؟” فرمان شاہ نے پیر بخش کو کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا-
“وہ جب بھی درخت کے پاس سے گزرتا ہے، ملنگ کھڑا ہو کر سینے پر ہاتھ باندھ لیتا ہے اور جب تک الہیٰ بخش دور نہ چلا جائے، ایسے ہی کھڑا رہتا ہے-” دینو نے بتایا-
“او یارا، اتفاق ہو گا-” فرمان شاہ نے کہا-
“نہیں باجی، میں نے بہت دفعہ دیکھا ہے-“
چھوڑو اس بات کو” فرمان شاہ نے ناگواری سے کہا-
موضوع بدل گیا- ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں- کترا کرتے ہوئے پیر بخش نے چند لمحے اس پر غور کیا- پھر فضول جان کر اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیا۔،۔،

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: