Ishq ka Ain Novel by Aleem ul Haq Haqqi – Episode 11

0
عشق کا عین از علیم الحق حقی – قسط نمبر 11

–**–**–

“ہاں آنا تھا تو پہلے ہی آ جاتا”
“اب میں آپ کے سامنے کہہ رہی ہوں کہ مقررہ وقت پر میں نہ ملوں تو صرف پندرہ منٹ میرا انتظار کرے – پھر گاڑی لے کر چلا آئے” سادی الہیٰ بخش کی طرف متوجہ ہوئی “تم نے کھانا نہیں کھایا ہو گا”
“نہیں جی سادی بی بی، مجھے بھوک ہے بھی نہیں”
بیھم صاحبہ پاؤں پٹختی ہوئی اندر چلی گئیں- سادی نے کہا-“تم کھانا نہیں کھاؤ گے تو میں سمجھوں گی کہ تم مجھ سے ناراض ہو”
“میں آپ سے کہہ چکا ہوں کہ میں آپ سے ناراض ہو ہی نہیں سکتا”
“خیر دیکھیں گے” سادی نے بے نیازی سے کہا ” لیکن کھانا تمہیں کھانا پڑے گا۔میں جمیلہ کے ہاتھ بھجوا رہی ہوں”
“بہت شکریہ سادی بی بی” الہیٰ بخش نے کہا اور اپنے کوارٹر کی طرف چل دیا-
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے زیادہ اذیت ناک تھا-
ہر تیسرے چوتھے دن وہ خالی گاڑی لے کر واپس آتا- سادی کبھی عمر کے کبھی جمیل کے اور کبھی کسی اور کے ساتھ جا چکی ہوتی- گھر میں وہ یہی کہتی کہ اضافی پیریڈ کیوجہ سے دیر ہو گئی یا لائبریری میں مطالعہ کر رہی تھی- الہیٰ بخش اذیت میں تھا کہ سادی غلط راست پر جارہی ہے اور وہ محض تماشائی بنا سب کچھ دیکھ رہا ہے- عشق کا بھی تو کچھ فرض ہوتا ہے- عشق اپنے محبوب کو تباہ ہوتے ہوئے دیکھنے کا نام نہیں-
ایک روز الہیٰ بخش نے سادی سے بات کرنے کافیصلہ کر لیا- یونیورسٹی لے جاتے ہوئے اس نے عقب نما میں سادی کو دیکھا جو کسی سوچ میں گمتھی- “سادی بی بی، آپ کو یاد ہے آپ نے مجھے اختیار دیا تھا کہ غلط بات پر آپ کو ٹوک سکتا ہوں”
سادی نے عقب نما میں اسے دیکھا-“ہاں مجھے یاد ہے”
“وہ حق اب بھی میرے پاس ہے”
“کیوں نہیں ہو گا”
“میں نے سوچا، ممکن ہے آپ نے چپکے سے وہ حق مجھ سے واپس لے لیا ہو”
“یہ کیوں سوچا تم نے؟”
“آپ بہت بدل گئی ہیں سادی بی بی، میں آپ کو ٹوکنا چاہتا ہوں، کیونکہ آپ غلط راستے پر جا رہی ہیں”
“میں سمجھی نہیں”
“یہ لڑکوں کے ساتھ دوستی، ان کے ساتھ جانا، پڑھائی چھوڑ دینا یہ سب غلط ہے، آپ کے لئے نقصان دہ ہے”
سادی نے چونک کر اسے دیکھا “تمہیں کیسے معلوم ہوا؟”
الہیٰ بخش کی نظریں جھک گئیں- “میں نے کبھی کسی سے پوچھا نہیں- ہر بار کوئی نہ کوئی خود ہی بتا دیتا ہے”
“سنا تم نے سچ ہے” سادی نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا” لیکن اس میں حرج کیا ہے”
“بدنامی بھی ہوتی ہے اور عزت بھی کم ہو جاتی ہے- لڑکیوں کی عزت تو کانچ کے برتن کی طرح ہوتی ہے”
“تو تمہاری نظروں میں میری عزت کم ہو گئی ۔——- یا با لکل ہی ختمہو گئی ہے؟” سادی نے عقب نما میں اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا-
“میری بات اور ہے سادی بی بی، میرے لئے آپ اب بھی پہلے جیسی ہیں —– اور ہمیشی ایسی ہی رہیں گی- بلند اور پاکیزہ- میں دنیا کی بات کر رہا ہوں- پھر آدمی محبت تو بس ایک ہی آدمی سے کرتا ہے- ایک وقت میں اتنے لوگوں سے تو محبت نہیں ہو سکتی”
“تو میں ان سب سے محبت نہیں کرتی- محبت تو مجھے بھی بس ایک ہی شخص سے ہے اور ہمیشہ رہے گی البتہ دوستی میں حرج نہیں سمجھتی”
الہیٰ بخش کو یہ پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ وہ کون ہے- وہ جانتا تھا کہ شاہد کی بدتمیزی کے باوجود سادی نے اس سے ملنا نہیں چھوڑا ہے-
الہیٰ بخش جو کہنا چاہتا تھا- اس میں اسے حجاب آ رہا تھا لیکن وہ کہنا بھی ضروری تھا “سادی بی بی، مرد اور عورت کے درمیان دوستی ممکن نہیں- صرف ایک ہی رشتہ یا تعلق ہو سکتا ہے- غلط طریقے سے ہو یا صحیع طریقے سے”
“میں بہت پریشان اور دکھی ہوں الہیٰ بخش- امی اور پاپا کی زندگی میرے سامنے ہے- اور میں ایسی زندگی نہیں گزارنا چاہتی- میں اپنی زندگی کا فیصلہ امی اور پاپا پر نہیں چھوڑ سکتی- وہ تو اپنے لئے درست فیصلہ نہیں کر سکے، میرے لئے کیا کریں گے- الہیٰ بخش یہ درست ہے کہ میں کسی سے محبت کرتی ہوں- بلکہ ——–” وہ کہتے کہتے رکی- پھر بولی “الہیٰ بخش میں نے ایک بات سمجھ لی ہے- شادی اپنے اختیار میں ہوتی ہے محبت نہیں- مجھے جس سے محبت ہوئی، میں جانتی ہوں کہ اس کے ساتھ میری شادی کامیاب نہیں ہو سکتی- میرے بس میں ہوتا تو میں اس محبت کو دل سے نکال دیتی لیکن اس پر میرا اختیار نہیں- اب میں اتنے لڑکوں سے دوستی کرتی ہوں تو انہیں پرکھنے کے لئے، شاید کوئی ایسا مل جائے جو مجھے سمجھ سکے اور جسے میں سمجھ سکوں- ایسے شخص کے ساتھ محبت کے بغیر بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے- بس یہی جستجو ہے میری”
“آپ نے جو بات سمجھی، وہ بھی پوری نہیں سمجھی سادی بی بی” الہیٰ بخش نے کہا “انسان کا اختیار نہ محبت پر ہے نہ شادی پر- جوڑے تو آسمانوں پر طے ہوتے ہیں اور لڑکوں سے ملنے میں یہ برائی ہے کہ کسی بھی وقت کوئی آپ کے ساتھ بدتمیزی کر سکتا ہے- آپ کو نقصان پہنچ سکتا ہے سادی بی بی!”
“تم اس کی فکر نہ کرو” سادی نے سرد لہجے میں کہا “تم جسے بد تمیزی کہتے ہو وہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں- تھوڑا بہت تعلق تو کسی سے بھی رکھا جا سکتا ہے، اس سے عزت پر تو کوئی حرف نہیں آتا”
اس کے بعد کچھ کہنے کی گنجائش نہیں تھی- الہیٰ بخش خاموش ہو گیا-
اس رات الہیٰ بخش کو بہت دیر تک نیند نہیں آئی- وہ سادی کے بارے میں سوچتا رہا- سادی کے الفاظ اس کی سماعت میں گونجتے رہے——— کہا ‘تم جسے بد تمیزی کہتے ہو وہ کوئی ایسی بڑی بات نہیں- تھوڑا بہت تعلق تو کسی سے بھی رکھا جا سکتا ہے، اس سے عزت پر تو کوئی حرف نہیں آتا’
یہ کیا ہو گیا ہے سادی کو- وہ سوچتا رہا، اسے عزت اور آبرو کے فرق کا احساس نہیں رہا- وہ کن گہرائیوں میں گرتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کس حد تک گر چکی ہے- وہ اسے روک بھی تو نہیں سکتا تھا- اس کے پاس اختیار کوئی نہیں- وہ بس اس کے لئے دعا کر سکتا ہے- مسلسل دعا!
اس نے اپنے دل کوٹٹولا- وہاں سادی کا مقام و مرتبہ اب بھی وہی تھا- اس میں رتی بھر بھی فرق نہیں پڑا تھا- یہی تو عشق ہے- اس کے دل میں کسی نے کہا- عشق کی عزت غیر مشروط ہوتی ہے-
اس نے اپنے دل کوٹٹولا- وہاں سادی کا مقام و مرتبہ اب بھی وہی تھا- اس میں رتی بھر بھی فرق نہیں پڑا تھا- یہی تو عشق ہے- اس کے دل میں کسی نے کہا- عشق کی عزت غیر مشروط ہوتی ہے- اس کا عمل اور کردار سے کوئی تعلق نہیں ہوتا- اس میں صرف خوبیاں اور احسان یاد رکھے جاتے ہیں-
اس سے اس کی کروں شکایت کیا
شیشہ ء دل پہ بال بھی تو نہیں
اس کے بعد اس کے وجود میں عجیب سی طمانیت اتر گئی- وہ بے فکر اور پھر بے خود ہو گیا- بہت عرصے کے بعد اس رات سادی پہلے کی طرح اس کے پاس آئی اور وہ دیر تک اس سے باتیں کرتا رہا- اس کی سمجھ میں آ گیا کہ قربت کیسی کثافت پیدا کرتی ہےاور دوری میں کتنی لطافت اور سرشاری ہوتی ہے-
وہ عشق کے عین کو سمجھنے کے مرحلے میں داحل ہو رہا تھا-
——————-٭————-
اس روز الہیٰ بخش سادی کو چھوڑ کر واپس آ رہا تھا- وہ بہت مطمئن اور پر سکون تھا- اچانک نجانے کہاں سے گاڑی کے عین سامنے مجذوب نمودار ہو گیا- اس نے گھبرا کر پوری قوت سے بریک پر پیر مارا- گاڑی بروقت رک گئی-
الہیٰ بخش نے مجذوب کو حیرت سے دیکھا، جو بہت خوش نظر آ رہا تھا- مجذوب پہلی ملاقات کے بعد بھی دو تین بار اسے نظرآ چکا تھا-
“نیچے آ جا- ہوا کا گھوڑا بہت اڑا لیا” مجذوب نے اسے پکارا- “بس اب زمین پر آ جا”
الہیٰ بخش دروازہ کھول کر کار سے اترا- وہ بہت مودب تھا “جی بابا؟”
“یہ گھوڑا بہت اچھا لگنے لگا ہے نا؟” مجذوب نے کار کی طرف اشارہ کیا “عادی ہو گیا اس کا؟”
“اچھا تو لگتا ہے بابا- سواری جو اس کیہے”
“واپسی کا حکم آ گیا ہے- سنا تو نے؟ تیاری کر لے!”
الہیٰ بخش حیران رہ گیا “میں ۔ ۔ ۔ ۔ میں کیسے جا سکتا ہوں؟”
“جیسے آیا تھا”
“پر بابا، زنجیر تو ابھی ٹوٹی نہیں”
“میں نے واپسی کی بات کی ہے- رہائی کی نہیں”
“میں سمجھا نہیں بابا”
“زنجیر اب بھی موجود ہے- بس لمبی کر دی گئی ہے” مجذوب نے کہا “اور واپسی کا حکم ہو گیا ہے”
الہیٰ بخش گنگ ہو کر رہ گیا- ہونٹ لرزتے رہے- لیکن نہ سے کچھ نہ نکلا-
مجذوب کو غصہ آ گیا “سب معلوم ہے” اس نے گرج کر کہا “تو نافرمان ایسے نہیں جائے گا- خود بھی ذلیل ہو گا اور دوسرے کو بھی کرائے گا”
“میں ۔ ۔ ۔ میں ۔ ۔ ۔ ” الہیٰ بخش نے کہنے کی کوشش کی-
“مگر جانا تو ہے- تو چاہے یا نہ چاہے” مجذوب آگے بڑھ گیا “جا تیرا خدا حافظ” اس نے پلٹ کر کہا- پھر کڑک کر نعرہ لگانے والے انداز میں چلایا “جا ۔ ۔ ۔ چلا جا”
——————٭———
پھر ایک دن الہیٰ بخش کے لئے واپسی کا حکم ہو گیا!
ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ !
ﺳﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﻮﻻﺕ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﺗﮭﮯ – ﮨﻔﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﻻﺗﺎ ﺗﮭﺎ – ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺫﯾﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ – ﺍﺏ ﻭﮦ ﺭﺍﺿﯽ ﺑﺮﺿﺎ ﺗﮭﺎ – ﺷﺎﯾﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﮨﻠﮑﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ –
ﻭﮦ ﺍﺗﻮﺍﺭ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ – ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺗﮭﮯ – ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﮐﺴﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ – ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﺮﻣﻮ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﮯ ﮐﻮﺍﺭﭨﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ” – ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﻼ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﯿﭩﮯ
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼﮔﯿﺎ – ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ – ﻭﮦ ﺳﻨﮕﮭﺎﺭ ﻣﯿﺰ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ – ﺯﯾﻮﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﮐﺌﯽ ﺳﯿﭧ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﭘﺮ ﺑﮭﮑﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ – ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ” ﺁﺅ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻡ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ “
ﺣﮑﻢ ﮐﺮﯾﮟ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ “
” ﭘﮭﻮﻝ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﮯ ﻧﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ؟ ” ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﻧﮯ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﯾﺎ –
ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺠﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻮﻝ ﻻﻧﮯ ﮨﯿﮟ ” ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺱ ﺳﮯ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﺩﺋﯿﮯ –
” ﺍﺑﮭﯽ ﻻﯾﺎ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ “
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﭘﮭﻮﻝ ﻟﯿﻨﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ – ﻭﺍﭘﺲ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﮔﮭﺖ ﮐﯽ ﺿﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﺪﻟﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ – ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ – ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺁ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ – ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﺗﯿﺰ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ – ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﭼﻼﮔﯿﺎ –
ﺍﻧﺪﺭ ﮔﮭﺴﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ – ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﻮﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﮯ – ﻧﻮﮐﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻟﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﺮﺥ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ –
” ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ” ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ –
” ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ؟ “
ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ؟ “
” ﻭﮨﯽ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ “
ﺍﺏ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﻤﺘﻤﺎ ﺍﭨﮭﺎ ” ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮔﯿﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ” ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﺣﺘﺠﺎﺝ ﮐﯿﺎ ” ﻭﮨﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺯﯾﻮﺭﺍﺕ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﭘﺮ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ “
” ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﺑﺘﺎ ﺩﻭ ﺗﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﮨﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﭘﻮﺭﭦ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ – ﻭﮦ ﺳﭻ ﺍﮔﻠﻮﺍﻧﺎ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ “
” ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮﺭ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ؟ ” ﺍﻟﮩﯽٰ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﺗﮭﺎ –
” ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﯽ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ “
” ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻼﺯﻡ ﺭﮐﮭﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺗﮭﺎ “
” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ – ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ “
” ﺑﺲ ﺗﻮ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ – ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﺎﻧﮩﯿﮟ، ﻭﮦ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ” ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﻧﮯ ﮐﮩﺎﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ – ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﺗﮭﯽ – ﺳﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭧ ﻟﺮﺯ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ – ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ – ﺟﻤﯿﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻣﻮ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﮨﻮﺍﺋﯿﺎﮞ ﺍﮌ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ –
” ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ – ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ – ﻭﺍﭘﺴﯽ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﺌﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﺗﻢ ﺣﻮﺍﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ “
” ﺑﺲ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﺑﮩﺖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ “- ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﻮﻟﮯ – ” ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻼﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ – ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﺳﺎﺭﯼ ﺣﺪﯾﮟ ﭘﮭﻼﻧﮕﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ “-
” ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﮔﺌﯽ؟ “
” ﺍﭘﻨﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺁﺩﻣﯽ ﺧﻮﺩ ﺫﻣﮯﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ – ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﻮﺭ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ “
” ﺑﺲ ﺍﺏ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮨﯽ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺣﻞ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﯽ “
” ﺁﭖ ﺍﭘﻨﺎ ﯾﮧ ﺷﻮﻕ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ” ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺳﺮﺩ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ” ﻣﯿﮟ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺱ ﺷﺒﮯ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ ﭘﮭﻨﺴﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﺩﯼ ﮨﮯ “
” ﺁﭖ —— ﺁﭖ “—– ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮔﻨﮓ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ –
” ﺁﻭﺭ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮔﺎ، ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺁﭖ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﮨﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ – ﺩﻝ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﻮ ﺑﻼ ﻟﯿﮟ، ﻭﺭﻧﮩﺒﮩﺘﺮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﮐﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻟﯿﮟ ” ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﻮﮐﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺋﮯ ” ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺟﺎﺅ، ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ “
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ، ﮐﺮﻣﻮ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﯿﻠﮧ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ – ﺍﻧﺪﺭ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ” ﺳﻨﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ “
” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﯿﮯ – ﺍﺏ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺣﻞ ﮨﻮ ﮔﺎ – ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺁﭖ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﯾﮟ “
ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮩﺎﺏ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮩﯿﮟ ” – ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﯿﺘﮯ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﯿﺤﺮﮐﺖ ﮨﮯ “
ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﮈﺭﯾﺴﻨﮓ ﭨﯿﺒﻞ ﮐﯽ ﺩﺭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯼ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ – ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﺎ ﺑﺲ ﭼﻠﺘﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﭙﺎ ﺩﯾﺘﯿﮟ – ﻟﯿﮑﻦ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﻣﺴﻠﻂ ﺗﮭﮯ ” ﺍﺏ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﻮ ﺑﻼﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﮨﻮﺗﯽ ” ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺎﺗﺤﺎﻧﮧ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ –
” ﺍﯾﺴﯽ ﺧﺎﺹ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻏﻠﻄﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﯽ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ “- ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﻧﮯ ﺑﮯ ﭘﺮﻭﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ –
” ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﺗﮩﻤﺖ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﮐﺘﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﮯ؟ ” ﺳﺎﺩﯼ ﺑﻮﻟﯽ –
” ﺍﺏ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﺅ ” ﺑﯿﮕﻤﺼﺎﺣﺒﮧ ﻧﮯ ﺟﮭﻨﺠﻼ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ –
‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﭼﻞ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ” ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ –
” ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺁﭖ ﮨﯽ ﺳﻮﭺ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ “
” ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ – ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﺍﺅﮞ ﮔﺎ “- ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺯﻭﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ” ﻭﺭﻧﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﯿﮑﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ – ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﯿﮑﮯ؟ ” ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻟﮩﺠﮯ ﺳﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﺧﻮﺏ ﻭﺍﻗﻒ ﺗﮭﯿﮟ –
” ﭼﻠﯿﺌﮯ ” ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﮭﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻮﺍﺭﭨﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻟﺠﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ – ﺍﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻋﺸﻖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺩ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭘﯽ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ – ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﺧﻮﺭ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ – ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﺿﺎﺑﻄﮧ ﺍﺧﻼﻕ ﺗﮭﺎ – ﺱ ﮐﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻄﻠﻊ ﮐﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ – ﺍﺗﻨﺎ ﮐﭽﮫ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻧﻮﮐﺮﯼ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﺎﺋﮯ –
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺗﻨﺎ ﮐﭽﮫ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ – ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﻼﺷﺒﮧ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﯽ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺳﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﻗﻮﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﮨﻠﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﯽ –
ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ – ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ” ﺳﺮ ﺟﯽ ﺁُ؟ ” ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﻮ ﻧﻈﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ –
” ﮨﺎﮞ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ” ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﻭﺭ ﺭﺧﺴﺎﻧﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ –
” ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ “! ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ‘ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﺭﯾﺴﻨﮓ ﭨﯿﺒﻞ ﮐﯽ ﺩﺭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯽ “
” ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ” ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﻧﮯ ﺧﺸﮏ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ –
” ﺑﺲ؟ ” ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﮐﮍﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﺧﺴﺎﻧﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ” ﯾﮩﯽ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺁﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ؟
” ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ، ﺁﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﻮﮞ ﮔﯽ ” ﺭﺧﺴﺎﻧﮧ ﺑﯿﮕﻢ ﻧﮯ ﺍﮐﮍﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ –
ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﺑﻮﻝ ﺍﭨﮭﺎ – ” ﺳﺮ ﺟﯽ، ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ ﮔﺎ – ﺍﺱ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﻣﻌﺎﻑ، ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ “
” ﮐﮩﻮ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ “
” ﺳﺮ ﺟﯽ، ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺭﺯﻕ ﺣﻼﻝ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﺮﻭﺭﺵ ﮐﯽ، ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻠﻘﯿﻦ ﮐﯽ – ﺍﻟﻠﮧ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﮯ ﺳﺮ ﺟﯽ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﻮﺭﯼ، ﺑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻧﯽ، ﺣﺮﺍﻡ ﺧﻮﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ – ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﮞ، ﻻ ﻋﻠﻤﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻄﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﭽﺘﺎ ﺭﮨﺎ – ﯾﮏ ﺑﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﺮﺍﻡ ﺧﻮﺭ ﮐﮩﮧ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ – ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻧﻮﮐﺮﯼ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ – ﺁﭖ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ – ﺁﺝ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻼ ﻭﺟﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﯽ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮨﯿﮟ – ﺍﺏ ﺁﭖ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ، ﺍﺏ ﺁﭖ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﮨﮯ؟ “
ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻣﻼﻣﺖ ﺑﮭﺮﯼ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ” – ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟ “
ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﯽ ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺌﯽ – ” ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﮯ – ﺍﺱ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻮﮞ ﮔﯽ ” ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻭﮦ ﭘﻠﭩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯿﮟ –
ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﺠﺮﻣﺒﻨﮯ ﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﮯ – ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ” ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ، ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ – ﺍﻧﺸﺎﻟﻠﮧ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯽ “
” ﺳﺮ ﺟﯽ، ﻣﺠﮭﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ – ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ – ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﯾﮧ ﻣﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﮯ “
ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﺑﮭﯽ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ – ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﻮﺍﺭﭨﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺁﯾﺎ –
ﻭﮦ ﺷﺎﯾﺪ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﯽ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ – ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﮭﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﮨﻮﺋﯽ – ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﮐﺮﻣﻮ ﺗﮭﺎ ” ﺑﯿﭩﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ ﻧﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﮨﮯ “
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ – ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻣﻼﻣﺖ ﺑﮭﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ، ‘ ﺳﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﭨﺎﻟﮯ ﮔﺎ – ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮔﺎ؟ ‘
” ﺗﻢ ﺟﺎﺅ ﮐﺮﻣﻮ ﺑﺎﺑﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ ” ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﺑﻨﮕﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﻨﺎﭨﺎ ﺗﮭﺎ – ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﮭﯽ – ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺳﺎﺩﯼ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﯽ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺩﺳﺖ ﺩﯼ – ﺁ ﺟﺎﺅ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ “! ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺳﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﺑﮭﺮﺍﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ – ﺳﺎﺩﯼ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ – ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺘﻮﺭﻡ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ – ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﺎ ﺩﻝ ﮐﭩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ” – ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺣﻠﯿﮧ ﺑﻨﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ ” ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﻟﮕﺮﻓﺘﮕﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ” ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺷﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﯿﮟ
” ﺍﺗﻨﺎ ﮐﭽﮫ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ؟ ” ﺳﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﺭﻧﺪﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ –
” ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ، ﺩﯾﮑﮭﮟ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﮐﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﻠﮑﮧ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮞ “
” ﯾﮧ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﮍﺍﺋﯽ ﮨﮯ، ﺟﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺩﯼ ﮨﮯ – ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﮞ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ، ﻣﯿﮟ ﺍﻣﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮨﻮﮞ “
” ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ “
” ﺍﻣﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ “
” ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮐﮩﯿﮟ، ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮨﯿﮟ – ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ” ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ” ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ؟ “
” ﯾﮩﺎﮞ ﺁﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ “
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ –
” ﯾﮩﺎﮞ ﺑﯿﭩﮭﻮ ۔۔۔۔۔۔ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ” ﺳﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ –
” ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ، ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻘﺎﻣﻨﮩﯿﮟ “
” ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﺩﺷﻮﺍﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ – ﺑﮩﺮ ﺣﻼ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﮑﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﮯ “
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﭘﺮ ﭨﮏ ﮔﯿﺎ – ﺍﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﮯ –
” ﺗﻢ ﺁﺝ ﻧﻮﮐﺮﯼ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ؟ ” ﺳﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ –
” ﺑﺲ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ، ﺟﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ “
” ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ؟ “
” ﮐﭽﮫ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻋﺰﺕ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ، “
” ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﻮﮞ، ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ “-
” ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮍﯼ ﻟﮕﯿﮟ ﮔﯽ، ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﺑﮍﯼ ﮨﯽ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﯽ “
” ﭨﮭﯿﮏ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ ” ﺳﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﺁﮦ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ” ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﻼﯾﺎ ﮨﮯ؟ “
” ﻧﮩﯿﮟ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ، ﺟﺎﻧﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ “
” ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻭ “
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮔﮍﺑﮍﺍ ﮔﯿﺎ – ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ – ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺑﻠﯿﻮﮞ ﺍﭼﮭﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ – ﻭﮦ ﻋﺸﻖ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ” ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ “!
” ﺍﭘﻨﯽ ﯾﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ، ﻭﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﺟﻮ ﻋﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ” ﺳﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻟﺮﺯ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ” ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻭ ” ﺳﺎﺩﯼ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﮭﺴﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮭﺎﻡ ﻟﯿﺎ – ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﯾﻮﮞ ﺍﭼﮭﻞ ﮐﺮ ﻣﺴﮩﺮﯼ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ، ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮭﻮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﮨﻮ –
” ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ، ﺁﭖ ﺑﮩﺖ ﺑﻠﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﮨﯿﮟ “
ﺳﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮫ ﮐﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ” ﺟﯿﺴﺎ ﺗﻢ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﻣﯿﮟ ﻭﯾﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﻮﮞ – ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﺋﺸﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮨﯿﮟ – ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺷﺖ ﭘﻮﺳﺖ ﮐﯽ ﺑﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮﮞ “
” ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺁﭖ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ – ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮨﮯ “
ﺳﺎﺩﯼ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﯽ ” ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﮑﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﺘﮯ “
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﻧﮯ ﻧﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ – ” ﻭﮦ ﺣﮑﻢ ﻣﺎﻧﻮﮞ ﮔﺎ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮨﻮﺷﻤﻨﺪﯼ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﯽ – ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺗﺎﻭﺍﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ؟؟؟ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ “!
” ﯾﮧ ﻣﺤﺾ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﮯﻋﺰﺗﯽ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﺋﺶ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ” ﺳﺎﺩﯼ ﺑﭙﮭﺮ ﮔﺌﯽ ” ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ، ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮﮞ “
” ﻣﺤﺒﺖ ” ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﻧﮯ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ” ﺍﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ – ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻟﻔﻆ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻻ ﺳﮑﺘﺎ “
” ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ – ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻭﻗﺘﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮﮞ “
” ﺻﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ” ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮪ ﮔﯿﺎ –
” ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ “!
ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﻧﮯ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ” ﺟﯽ ﺳﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ “
” ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﮑﻢ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎ ﺩﻭﮞ ﮔﯽ – ﮐﮩﻮﮞ ﮔﯽ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﻤﯿﺰﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ “
” ﺻﺎﺩﯼ ﺑﯽ ﺑﯽ، ﺁﭖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ – ﺧﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ “!
ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﯾﺎ – ﺳﺎﺩﯼ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺋﺶ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﯽ ﻟﺮﺯﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﻭﺭ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺎ – ﻭﮦ ﯾﮧ ﺁﻭﺍﺯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ، ﺍﭘﻨﯽ ﯾﺎﺩﺍﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ –
ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻮﺍﺭﭨﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺳﻤﯿﭧ ﮐﺮ ﺻﻨﺪﻭﻕ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻣﻮ ﭼﺎﭼﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ” ﭼﺎﭼﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﻭﺍﻧﮕﯽ ﮎ ﺣﮑﻢ ﺁ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ” ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ –
” ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺑﯿﭩﮯ، ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﺎ – ﺑﯿﮕﻢ ﺻﺎﺣﺒﮧ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ “
” ﭼﺎﭼﺎ، ﺻﺒﺢ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ – ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ – ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﻏﻠﻄﯽ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ “
” ﺗﻮ ﮐﮩﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟ “
” ﮨﺎﮞ ﭼﺎﭼﺎ، ﺍﺏ ﯾﮩﺎﮞ ﺭﺍﺕ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ “
” ﮐﮩﺎﮞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺑﯿﭩﮯ؟ “
ﮐﯿﻨﭧ ﺟﺎﺅﮞ ﮔﺎ ﭼﺎﭼﺎ، ﺷﺎﯾﺪ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ “
” ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﭼﻠﻮﮞ ﮔﺎ “
” ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﭼﺎ، ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﻮﮞ “
” ﺑﯿﭩﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﺩﻋﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﻨﺎ – ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﮯ “
ﮐﺮﻡ ﺩﯾﻦ ﮔﯿﭧ ﺗﮏ ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﻧﮯ ﺁﯾﺎ –
ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺍﻭﭘﺮ ﮨﯽ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ – ﺍﻟﮩﯽٰ ﺑﺨﺶ ﮐﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﻞ ﮔﺌﯽ – ﺻﺒﺢ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﻭﮦ ﺣﯿﺪﺭ ﺁﺑﺎﺩ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ –
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺏ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ !

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: