Ishq ka Ain Novel by Aleem ul Haq Haqqi – Episode 2

0
عشق کا عین از علیم الحق حقی – قسط نمبر 2

–**–**–

ملنگ نے پہلی بار الہیٰ بخش سے رابطہ کیا تو اس وقت الہیٰ بخش بارہ سال کا تھا-
ایوب شاہ اور نواز شاہ کو الہیٰ بخش سے ابتدا ہی سے بیر تھا- ۔ اللہ واسطے کا بیر- اس روز الہیٰ بخش اسکول سے واپس آ رہا تھا- ایوب شاہ اور نوز شاہ اس کے پیچھے پیچھےتھے- ان کے ہاتھوں میں درختوں سے ٹوٹی ہوئی ٹہنیاں تھیں اور وہ سازشی انداز میں ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے تھے-
الہیٰ بخش ملنگ والے درخت کے پاس سے گزرا- ملنگ ہمیشہ کی طرح اپنے مخصوص انداز میں سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا- اسی وقت ایوب شاہ اور نواز شاہ پیچھے سے دوڑتے ہوۓ آئے اور الہیٰ بخش کو سونٹی مارتے ہوئے تیزی سے آگے نکل گئے-
الہیٰ بخش کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا- اس نے ادھر ادھر دیکھا اور جھپٹ کر ایک پتھر اٹھا لیا- اس نے انہیں مارنے کے لئے پتھر والا ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ کانوں میں باپ کی آواز بازگشت بن کر ابھری- “نا پتر۔۔۔۔ پھینک دے” لہجے میں تحکم تھا-
الہیٰ بخش زور لگاتا رہا لیکن اس کا ہاتھ جیسے پتھر کا بن گیا- وہ دانتوں سے ہونٹ چبانے لگا- بے بسی اور جنجھلاہٹ سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے- وہ اسی طرح بے بس کھڑا رہا اور جب ایوب شاہ اور نواز شاہ دور نکل گئے تو اس کا ہاتھ آزاد ہوا- مگر وہ اب بھی غضب ناک ہو رہا تھا- اس نے قریب کی کچی دیوار پر پتھر مارا کہ اچھی خاصی مٹی جھڑ گئی-
اسی وقت کسی نے بے حد حلیمی سے اسے پکارا-“غصہ نہ کریں سرکا-“
اس نے چونک کر دیکھا- ملنگ ہاتھ باندھے، نظریں جھکائے کھڑا تھا- الہیٰ بخش کو یقین نہیں آیا کہ ملنگ نے اسے پکارا ہے- وہ تو کسی سے بولتا ہی نہیں تھا- مگر اس لمحے ملنگ کے ہونٹ پھر ہلے-
“آئیں سرکار، کبھی غریب خانے پر بھی عنایت کر دیں- میرے پاس بیٹھیں نا پل دو پل-“
الہیٰ بخش سحر زدہ سا اس کی طرف بڑھ گیا- ملنگ نے اس کا ہاتھ چوما اور بولا- “تشریف رکھیں سرکار- غصہ نہ کیا کریں-“
الہیٰ بخش کی آنکھوں میں آنسو آگئے- “یہ دونوں بہت ستاتے ہیں مجھے-“
“راستہ کھوٹا کرنے کی کوشش کرتے ہیں سرکارجی- پر نہیں کر سکیں گے-“
“تم تو کسی سے بات نہیں کرتے بابا جی-” الہٰی بخش کو اچانک خیال آیا-
“سرکار آپ کی بات اور ہے-“
اب کے الہیٰ بخش کو احساس ہو گیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے- اس نے غصے سے کہا- “مذاق اڑاتے ہو میرا- یہ کیسے بات کر رہے ہو مجھ سے؟”
ملنگ اپنے رخسار پیٹنے لگا- “توبہ سرکار- میری مجال ہے-“
“تو پھر یہ آپ۔۔۔۔۔ یہ سرکار”
“آپ کا مرتبہ جانتا ہوں نا-“
“میرا مرتبہ ۔۔۔۔ “
“سرکار، آپ عاشق ہیں، میں بھی ہوں، پر دل کی زبان گھس گئی نام جپتے جپتے- قبولیت نہیں ہوئی- آپ تو سرکار نصیب والے ہیں-“
الہیٰ بخش بپھر کر کھڑا ہو گیا- باپ تلقین کرتا تھا عشق کی ۔۔۔۔۔ اور اب ملنگ اعلان کر رہا تھا- “میں عاشق نہیں بنوں گا- مجھے نہیں کرنا عشق- مجھے نفرت ہے عشق سے ۔۔۔ محبت سے-“
“اس کا حکم کہاں ٹلتا ہے سرکار-” منگ نے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-
الہیٰ بخش پر وحشت طاری ہوگئی- وہ وہاں سے بھاگا- اس کی زبان پر بس یہی تھا ۔۔۔۔ نہیں کرنا مجھے عشق ۔۔۔۔ وہ یہ دہراتا ہوا اندھا دھند بھاگتا رہا-
“وہ جن کے پیروں میں بھنور باندھ دے، وہ نہیں بھاگ سکتے سرکار جی-” ملنگ نے سرگوشی میں کہا اور بیٹھ گیا-
———————————————–
یہ عشق سے نفرت اور باپ کی ۔۔۔۔ نہ پتر، پتھر پھینک دے ۔۔۔ کی پکار ایک حوالے سے تھی- اس سلسلے میں الہیٰ بخش کی پہلی یاد ہی ایسی تھی، جو اس کے ذہن سے کبھی محو نہیں ہوئی- وہ اس وقت ساڑھے پانچ سال کا ہو گا- وہ گندم کے کھیت کے سامنے چھ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا- ان میں تین بچے سادات کے بھی تھے- کھیل کھیل میں ایوب شاو اور نواز شاہ نے بے ایمانی شروع- اس نے اس پر احتجاج کیا دونوں نے مل کر اس کی پٹائی کر دی- ایک تھپڑ ایسا لگا کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی- تکلیف کا احساس تو نہیں لیکن اس کی نظر دھار کی شکل میں گرتے خون پر پڑ گئی- اس نے آستین سے ناک صاف کرنے کی کوشش کی تو آستین خون میں تر بہ تر ہو گئی- بس پھر کیا تھا، اس پر جنون طاری ہو گیا- ان نے نظریں جھکا کر زمین پر ادھر ادھر دیکھا- پھر وہ زمین پر پڑے ایک پتھر کی طرف جھپٹا-
ادھر وہ دونوں بھی بہتا ہوا خون دیکھ کر دم بخود رہ گئے تھے- وہ خوف زدہ نظروں سے خون کو دیکھے جا رہے تھے- انہوں نے اسے پتھر اٹھاتے دیکھا۔۔۔۔۔۔ لیکن در حقیقت نہیں دیکھا- وہ بت بنے کھڑے تھے کہ پتھر لگنے تک تو ان کی سحر زدگی ٹوٹنے والی نہیں تھی-
مگر پتھر لگنے کی نوبت ہی نہیں آئی!
الہیٰ بخش کا پتھر والا ہاتھ بلند ہوا، نیم قوس کی شکل میں پیچھے کی طرف گیا اور آخری مرحلے میں آگے کی سمت لپک ہی رہا تھا کہ جیسے پتھر کا سا ہو گیا- اس کے پورے جسم کی قوت اس وقت تک استعمال میں آچکی تھی، چنانچہ شدید جھٹکا لگا- اس کا پورا جسم ہل کر رہ گیا- ۔۔۔۔ سوائے پتھر والے ہاتھ کے، کہ وہ بڑی مضبوط گرفت میں تھا- اس کا جسم آگے کی طرف گیا اور پھر رد عمل کے طور پت پیچھے ہٹا- ذرا سنبھلنے کے بعد اس نے سر گھما کر دیکھا- اس کا پتھر والا ہاتھ ابا کی گرفت میں تھا-
وہ ہاتھ چھڑانے کے لئے زور لگاتا رہا- لیکن ابا کی نگاہوں میں جتنی نرمی تھی، گرفت میں اس سے زیادہ سختی تھی-
“ابا ۔۔۔۔ چھوڑ دو مجھے-” وہ چلایا- “میں ان کا سر پھاڑ دوں گا-“
“نا بالکے- پتر پھینک دے-” ابا نے بہت شیریں لہجے میں کہا-
“ابا، انہوں نے مجھے مارا ہے- یہ خون دیکھو” اس نے فریاد کی- پتھر اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا-
“میں دیکھ رہا ہوں- تو پتھر تو چھوڑ- پھر میں کچھ کرتا ہوں-“
کچھ کرتا ہوں، سے الہیٰ بخش کی آس تو بندھی لیکن وہ ہچکچا رہاتھا- پتھر اس نے اب بھی نہیں چھوڑا-
“تو میری بات نہیں مانے گا؟؟” باپ نے اس پر آنکھیں نکالیں-
اس بار ننھے الہیٰ بخش نے پتھر ہات سے چھوڑ دیا- باپ نے فوراٰ ہی اسے گود میں اٹھایا اور گھر کی طرف دوڑ لگا دی- گھر میں گھستے ہی وہ صحن میں لگے ہینڈ پمپ کی طرف لپکا- اس نے الہیٰ بخش کو بٹھایا اور خود ہینڈ پمپ چلانے لگا- ٹھنڈا پانی الہیٰ بخش کے سر پر گرا تو وہ اچھلا- وہ بھاگنے ہی والا تھا کہ باپ نے ڈپٹ کر کہا- “بیٹھا رہ- ابھی خون رک جائے گا-“
ماں آوزیں سن کر کمرے سے نکلی تو یہ منظر دیکھ کر ان کی طرف جھپٹی – “کیا ہوا ۔۔۔ یہ کیا ہوا؟”
کچھ نہیں- کھیل میں چوٹ لگ گئی ہے- نکسیر پھوٹی ہے، تم چلو میں پانی لے کر اس کی ناک میں ڈالو-“
ذرا دیر میں خون رک گیا مگر اس وقت تک الہیٰ بخش کے کپڑے بھیگ چکے تھے- اور اسے سردی لگ رہی تھی “چل اند چل” باپ نے اس کا ہاتھ تھاما اور کمرے کی طرف چلا “تم اس کے کپڑے نکالو-” اس نے بیوی کی طرف دیکھے بغیر کہا-
الہیٰ بخش کو کپڑے بدلوانے کے بعد ماں نے اس سے پوچھا- “اب یہ تو بتا، ہوا کیا تھا؟”
“اماں وہ کھیل میں بے ایمانی کر رہے تھے- میں نے منع کیا تو دونوں نے مل کر مجھے مارا-” الہیٰ بخش نے بسورتے ہوئے کہا- وہ دکھ اور شرمندگی سے شل ہو رہا تھا- دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ اسے چوٹ لگی- دکھ یہ تھا کہ وہبدلہ نہیں لے سکا- اس کی آنکوں میں پھر آنسو آگئے-
“وہ کون تھے- وہ دونوں تو مجھے بتا- میں ان کی خبر لوں گی-” مں بپھر گئی-
“ایوب شاہ اور نواز شاہ-” اس نے بتایا-
نام سنتے ہی ماں کو بھی سانپ سونگھ گیا- پھر وہ سنبھل کر بولی ” تو بیٹھ- میں تیرے لئے دودھ لاتی ہوں-“
ننھے الہیٰ بخش کی مایوسی کی کوئی حد نہیں تھی- باپ نے تو اسے مایوس کیا ہی تھا لیکن ماں تو ان کی خبر لینے جا رہی تھی- پھر اسے کای ہو گیا! ان کا نام سنتے ہی اس کا رویہ بدل کیوں گیا- اس سوچ کے ساتھ ہی اسے غصہ آنے لگا- اس نے سوچا کہ اسے ہی کچھ کرنا ہو گا اور یہ مشکل بھی نہیں تھا- موقع تو ضرور ملے گا- بس پھر وہ پتھر اٹھائے گا اور ۔۔۔۔۔
“بیٹے یہ خیال دل سے نکال دے-” باپ کی آواز نے اسے چونکا دیا- وہ جیسے اس کی سوچیں پڑھ رہا تھا-
:کیا ابا ۔۔۔ ؟”
“وہی جو تو سوچ رہا ہے-“
اتنی دیر میں ماں دودھ کا پیالہ لے آئی تھی- “لے یہ پی لے –
الہیٰ بخش نے پیالہ لینے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھایا- “میں دودھ نہیں پیوں گا اماں-” اس نے جواب دیا- وہ اس وقت کچھ پینا چاہتا تھا تو صرف ان دونوں لڑکوں کا خون، جنہوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی تھی-
“پی لے بیٹا-” ماں کے لہجے میں اصرار تھا-
الہیٰ بخش نے جیسے ماں کی بات سنی ہی نہیں- میں انہیں چھوڑوں گا نہیں اماں- میں بدلہ ضرور لوں گا-“
“بالکے، میں نے کہا نا یہ خیال دل سے نکال دے-” اس بار باپ کا لہجہ بہت سخت تھا-
“نہیں ابا میں نہیں چھوڑوں گا انہیں- آج تو تم نے مجھے روک دیا لیکن میں ۔۔۔ ‘
باپ کا ہاتھ اٹھا لیکن ماں نے روک دیا- وہ اسے مستفسرانہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی-
“یہ پتھر اٹھا کر انہیں مارنے والا تھا- وہ تو میں پہنچ گیا، ورنہ غضب ہو جاتا-“
الہیٰ بخش کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا غضب ہوجاتا- انہین نے اس کا خون نکالا تھا- وہ پتھر مارتا تو ان کا بھی خون بہتا- اس میں غضب کی کون سی بات تھی!
تم اسے پیار سے سمجھاؤ نا-” ماں نے بہت دھیرے سے کہا-
پیر بخش کی سمجھ میں بیوی کی بات آگئی- سختی سے تو نفرت پیدا ہونی تھی اور پھر وہ ہر وقت، ہر پل تو اس کی چوکیداری نہیں کر سکتا تھا- پیار سے سمجھانے ہی میں بہتری تھی- اس نے الہیٰ بخش کو کھینچ کر سینے سے لگایا، خوب پیار کیا اور پھر اسے گود میں بٹھا لیا “دیکھ میرا بیٹا، تو پہلے دودھ پی لے- پھر میں تجھے بسمجھاؤں گا-“
بپھرے ہوئے شیر جیسا الہیٰ بخش باپ کے بوسوں سے بھیگ کر ایک دم بکری بن گیا- دودھ پینے کو اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا لیکن باپ کے اصرار پر اس نے پی لیا- ماں خالی پیالہ واپس لے گئی تو باپ نے بات شروع کی “دیکھ بیٹا، یہ باجی لوگ ہیں نا یہ ہمارے پیارے نبی صہ کی اولاد ہیں اور پیارے نبی صہ پر جان، مال اور اپنا سب کچھ قربان کر دینا ہم پر فرض ہے- ہماری زندگی کا مقصد ان سے محبت کرنا ہے- تو سمجھ رہا ہے نا؟؟”
الہیٰ بخش نے سر کو تفہیمی جنبش دی- یہ تو وہ اب تک سمجھ چکا تھا، باپ اسے یہ باتیں بہت پہلے سے سمجھاتا رہا تھا-
“تو باجی لوگوں کی اور ان کی اولاد کی عزت کرنا، ان سے محبت کرنا ہمارا فرض ہے-“
“چاہے وہ ہمارے ساتھ زیادتی کریں؟” الہیٰ بخش نے حیرت سے پوچھا-
“ہاں” باپ نے مستحکم لہجے میں کہا “یوں ہمعزت کریں تو کون سا کمال ہو گا- ہاں زیادتی سہہ کر بھی ان کی عزت کریں تو اللہ بھی خوش ہو گااور اس کا رسول صہ بھی ۔۔۔۔۔ اور اللہ خوش ہو تو انعام بھی دے گا-“
“ابا ۔۔۔۔باجی لوگوں کو پولیس بھی نہیں پکڑ سکتی؟” الہیٰ بخش کے معصوم ذہن نے ایک اور سوال اٹھایا-
“تو ان چکروں میں نہ پڑ بیٹے- ہمیں تو صرف اپنی دیکھنی چاہئے- دنیا کی باتیں دنیا جانے ہم تو بس نبی صہ کی اولاد کے خادم ہیں- اب تو سوچ کہ ان پر ہاتھ اٹھائیں گے تو گستاخی ہو گی نا- اسیلئے میں نے تیرا ہاتھ پکڑا تھا- ۔۔۔۔ دیکھ بیٹے، اللہ اور اس کے رسول صہ کو کبھی ناراض نہ کرنا-“
الہیٰ بخش خاموش بیٹھا رہا- بات اب بھی اس کے حلق سے نہیں اتری تھی-
“وعدہ کر کہ اب کبھی ایسا نہیں کرے گا- بدلہ لینے کا خیال بھی دل میں نہیں لائے گا–“
الہیٰ بخش ہچکچاتا رہا- وہ اپنے دل کو ٹٹول رہا تھا جس میں سختی ہی سختی تھی- پھر اچانک ایک حیرت انگیز تبدیلی آئی- اس ننھے سے دل میں درگزر کی نمی پھوٹی اور لمحوں میں جیسے پتھر موم ہو گیا- “ٹھیک ہے ابا! پھر میں انہیں معاف کر دیتا ہوں-‘
باپ کے چہرے کی رنگت متغیر ہو گئی- “یہ بھی گستاخی ہے بالکے- ایسی بات زبان پر نہیں لاتے- دل میں بھی نہیں سوچتے- بس بات ختم کر دیتے ہیں-“
باپ کے لہجے کی سختی نے اسے ڈرا دیا- “ٹھیک ہے ابا” اس نے آہستگی سے کہا-
اس وقت وہ چھوٹا تھا- اسے بحث کرنی نہیں آتی تھی- بڑا ہوا تو وہ بحث کرنے لگا- اس کا باپ پڑھا لکھا تو نہیں تھا لیکن جواب دینے اسے خوب آتے تھے- اس کے پاس وہ دانش تھی جو صرف عشق سے آتی ہے-
ایسی ہی ایک بحث کے دوران الہیٰ بخش نے کہا “ابا، یہ سادات کچھ کرتے ہوئے اپنے نام و نسب کا لحاظ کیوں نہیں کرتے؟”
باپ نے نظریں اٹھا کر اسے گھورا “کیا مطلب ہے تیرا؟”
میں یہ کہہ رہا ہوں ابا کہ زیادہ تر ان کا عمل لائق احترام نہیں ہوتا- وہ برے کام کیوں کرتے ہیں- برائی میں کیوں ملوث ہوتے ہیں؟”
“دیکھ بیٹے! آدمی اپنے اعمال پر نظر رکھے تو اسے کبھی دوسروں کی طرف نظر اتھا کر دیکھنے کی ہہمت بھی نہیں ہوتی- تو اپنےا عمال پر نظر رکھ بیٹے- قیامت کے دن کیا اللہ سے یہ کہے گا کہ مجھ سے زیادہ گناہ تو فلاں شخص نے کئے تھے- دیکھ حساب تو آدمی کو صرف اپنا دینا پڑے گا-” ایک اور موقع پر الہیٰ بخش نے کہا “ابا ۔۔ تم عشق کی بات بہت کرتے ہو، کہتے ہو زندگی کا مقصد عشق ہونا چاہئے- عشق اللہ سے اس کے رسول صہ سے- یہ تو بتاؤ، یہ عشق کیا چیز ہے- مشکل ہے کہ آسان ہے- مجھے محبت بہت ہی آسان لگتی ہے- کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، ہو جاتی ہے تو ہو جاتی ہے- نہیں ہوتی تو نہیں ہوتی- مگر اتنا بڑا مسئلہ تو نہیں لگتا یہ، جتنا تم اسے بتاتے ہو-“
باپ کے چہرے پہ نرمی ہی نرمی بکھر گئی- آنکھوں میں جیسے گہری سوچ اتر آئی- “میں تو جاہل آدمی ہوں بیٹے، پر آپ ہی آپ یہ باتیں سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہون- اس کو سمجھنے کے لئے کتابیں پڑھنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی- یہ عشق تو آدمی کے اندر ہوتا ہے نا- بس اس کے لئے خود کو سمجھنا اور تبدیل کرتے رہنا ہوتا ہے-” وہ کہتے کہتے رکا اور بظاہر سامنے والی دیوار پر کچھ دیکھنے لگا لیکن لگتا تھا کہ وہ بہت دور دیکھ رہا ہے- “عشق تو بیٹے آسان ہے- بہت ہی آسان- یہ تو ہو جاتا ہے- پر عشسق کرتے رہنا، عشق کئے جانا بہت مشکل ہے- عشق کے تقاضے پورے کرنا بلکل آسان نہیں- اس کے لئے تو اپنا آپ مارنا پڑتا ہے-“
“تم ہمیشہ مجھے اللہ اور رسول صہ سے عشق کی نصیحت کرتے ہو ابا-تم خود بھی تو کرتے ہو نا؟”
“ہاں، کرتا ہوں-” باپ نے گہری سرد آہ بھرتے ہوئے کہا- “لیکن جیسے کرنا چاہئے، ویسے نہیں کر پاتا- بس خلوص سے، سچے دل سے کوشش کئے جاتا ہوں-“
“پر یہ کیسے ہوتا ہے ابا- اس سے عشق کیسے ہو سکتا ہے جسے دیکھا ہی نہ ہو-“
“بیٹے اپنے وجود سے غور کرنا شروع کر- پیدا ہوا تو، تو کیڑے جیسا تھا- اپنے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا- نہ اپنی حفاظت، نہ زندگی کا اہتمام ۔۔۔۔ رب نے تیری حفاظت کی، تجھے پالا، تجھے دو ہاتھ دئیے، دو ٹانگیں دیں- کام کرتی ہوئی دو آنکھیں دیں، بینائی دی، عقل دی، تجھے ایک مکمل انسان بنایا ۔۔۔ کوئی کمی، کوئی محرومی تیرے لئے نہیں چھوڑی، سب سے بڑھ کر یہ کہ تجھے مسلمان پیدا کیا تا کہ تجھے حق کی تلاش میں بھٹکنا نہ پڑے- یہ سب احسان تجھ پر اس نے کئے جو بے نیاز ہے- جسے کسی سے غرض نہیں، اسے کسی سے کچھ نہیں چاہئے اور اتنے احسانوں کے بعد اس نے بھلائی کا راستہ دکھا کر تجھ پر احسان کیا- اب یہ بتا کہ جواب میں تو کیا کرے گا؟”
الہیٰ بخش کچھ دیر سوچتا رہا- سوال مشکل تھا- سوچتے سوچتے ذہن منتشر ہوا جا رہا تھا- وہ اپنی سوچوں کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہا تھا- “میں اللہ کے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا- نماز پڑھوں گا، عبادت کروں گا، اس کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر چلوں گا- اس کا شکر ادا کروں گا-“
“یہ بھی تو اللہ کا احسان ہو گا تجھ پر-” باپ نے کہا “آس لئے کہ یہ سب کچھ کرنا تیرے ہی لئے فائدہ مند ہو گا- پھر بتا کہ تو نے کیا کیا- کچھ بھی تو نہیں، یاد رکھ، توفیق بھی اللہ ہی دیتا ہے-“
“تو اور میں کیا کرسکتا ہوں؟” الہیٰ بخش نے بے بسی سے کہا-
“محبت کر- محبت کے سوا کیا کر سکتا ہے- اللہ کی غلامی تو فرض ہے- اس کا حکم بجا لانے میں تو اپنی ہی فلاح ہے- ہاں، محبت اس کے لئے ہے ۔۔۔۔ سمجھا کچھ؟”
سمجھ تو گیا ابا، پر محبت کی تو نہیں جاتی، ہو جاتی ہے-
“ٹھیک کہتا ہے، لیکن محبت بھی بےسبب کبھی نہیں ہوتی- کبھی ہمدردی کی وجہ سے ہوتی ہے، کبھی اس کا سبب کوئی خوائش ہوتی ہے، کبھی آدمی محبت کی طلب میں محبت کرتا ہے، یہ سوچ کر کہ اس جواب میں محبت ملے گی اور کبھی آدمی کسی کے احسانات کی وجہ سے محبت کرتا ہے- تیرے پاس محبت کا سبب تو موجود ہے- محبت کا سامان تو کر-“
“کیسے کروں ابا؟”
“ہر وقت خدا کے احسانات یاد کی اکر- غور کیا کر کہ ہر سانس خدا کی عنایت ہے- یوں دل میں شکر گزاری پیداہو گی- پھر تو بے بسی محسوس کرے گا کہ اتنے احسانات کا شکر کیسے ادا کیا جا سکتا ہے- وہ بے بسی تیرے دل میں محبت پیدا کرے گی- تو سوچے گا کہ مالک نے بغیر کسی غرض کے تجھے اتنا نوازا، تجھ سے محبت کی- تو غور کر کہ اتنی بڑی دنیا میں کروڑوں انسانوں کے بیچ بھی تجھے یاد رکھتا ہے، تیری ضروریات پوری کرتا ہے، تیری بہتری سوچتا ہے اور تجھے اہمیت دیتا ہے- ان سب باتوں پر غور کرتا رہے گا تو تیرے دل میں خدا کی محبت پیدا ہوگی- اس محبت کے ساتھ بھی یہ کچھ سوچتا رہے گا تو محبت میں گہرائی پیدا ہو گی- اور تجھے خدا سے عشق ہا جائے گا-“
“لیکن ابا، اللہ سے محبت کا طریقہ کیا ہے؟” الہیٰ بخش نے پوچھا ” کیا اس سے یہ کہتا رہوں کہ مجھے تجھ سے محبت ہے-“
“یہ تو انسانوں سے کہنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ کیونکہ وہ کچھ نہیں جانتے لیکن وہ تو سب کچھ جانتا ہے- اس سے دل کا حال چھپا نہیں- صرف محبت کرتے رہو، وہ جان لے گا- جہاں تک طریقے کا تعلق ہے تو ہم جیسے حقیر بندوں کے لئے اس نے فرمایا ہے کہ مجھ سے محبت کرنی ہے تو میرے بندوں سے محبت کرو- یعنی بغیر کسی غرض کے ہر انسان سے صرف اس لئے محبت کرو کہ وہ بھی اللہ کا بندہ ہے-” باپ کہتے کہتے رکا اور مسکرایا “اب تو سمجھ رہا ہے نا- اللہ کو اپنے آخری رسول صہ خاتم الانبیا سے خاص محبت ہے- بے پناہ محبت ہے- ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں تو ہم پر عشق رسول صہ بھی لازم ہوا نا- عشق نہ نہیں رکتا ہے، نہ کبھی ختم ہوتا ہے-“
“اور رسول صہ سے ہم عشق کیسے کریں گے؟”
“ہم نے اللہ سے محبت کی تو ہمیں اس سے عشق تو کرنا پڑے گا، جو اللہ کو سب سے پیارا ہے۔۔۔ اور اس سے عشق کرنے کے لئے ہمیں اس کا احترام کرنا ہو گا- اسے درود بھیجتے رہو، اس کے اسم مبارک پر احتراماٰ کھڑے ہو جاؤ- اس کی سنت طیبہ کی پیروی کی کوشش کرو اور آخری بات یہ اصول کہ جو بھی اسے پیارا ہو، اسے اپنئ جان سے پیارا سمجھو، اسی بنیاد پر تو ہم اللہ کے عشق سے رسول صہ کے عشق تک پہنچیے ہیں-“
الہیٰ بخش نے سر کو تفہیمی جنبش دی- بات اب اس کی سمجھ میں آ رہی تھ-
“اب یہ بتا کہ انسان کو سب سے پیارا کون ہوتا ہے ؟” باپ نے سوال اٹھایا-
“اپنے ماں باپ” الہیٰ بخش نے بلا ججھک کہا-
“ٹھیک کہا تو نے-” باپ مسکرایا”لیکن جس چیز کا تجربہ نہیں ہے وہ تو کیسے کہہ سکتا ہے- وہ میں تجھے بتاتا ہوں- ماں باپ کے علاوہ انسان کو اپنی اولاد سب سے پیاری ہوتی ہے- یہ تو خود اللہ نے ہمیں بتایا ہے-“
“کیسے ابا؟”
“حضرت ابراہیم عہ اللہ کے بہت عظیم عاشق تھے- آپ سے اللہ تعالیٰ نے عزیز ترین چیز کی قربانی طلب فرمائی اور آخر میں ثابت ہوا کہ وہ آپ کے فرزند حضرت اسماعیل عہ تھے-“
“ٹھیک ہے ابا-“
:تو ہم پیارے رسول صہ سے عشق کرنا چاہیں تو ضروری ہوا نا کہ ان کی اولاد کو اپنی جان سے زیادہ چاہیں اور یہ باجی لوگ رسول صہ کی اولاد ہیں بیٹے-“
الہیٰ بخش حیران رہ گیا
الہیٰ بخش حیران رہ گیا- اس کا باپ زیادہ بولنے والا نہیں تھا- وہ تو بہت کم بات کرتا تھا- پڑھا لکھا بھی نہیں تھا مگر کہاں سے گھما پھرا کر اسے اپنے مطلب کی بات پر لے آیا تھا- بات مدلل تھی لیکن الہیٰ بخش کے دل اور ذہن نے قبول نہیں کی- وہ سوچ رہا تھا کہ اللہ اور رسول صہ سے بلا واسطہ عشق بھی تو کر سکتا ہے- لیکن یہ بات اس نے ابا سے نہیں کہی- وہ لیکچر سننے کے موڈ میں نہیں تھا-
“میں جانتا ہوں کہ میں اولاد نبی صہ پر اپنی جان بڑی آسانی سے قربان کر سکتا ہوں-” باپ نے کچھ توقف کے بعد کہا- “لیکن میری دعا ہے کہ کبھی وقت آئے تو میں اولاد رسول صہ پر اپنی اولاد بھی قربان کر سکوں- مگر میں جانتا ہوں کہ اس کے لئے بڑا دل چاہئے اور وہ اللہ ہی دے سکتا ہے-” اس آخری جملے نے الہیٰ بخش کو اور باغی بنا دیا- اسے احساس ہونے لگا کہ باپ اس سے محبت نہیں کرتا اور قربانی کے جانور سے زیادہ اس کی وقعت بھی نہیں ہے- اسے لفظ عشق سے ہی چڑ ہو گئی- وہ سادات سے بچنے لگا- ان کے بچوں کے ساتھ کھیلنا تو اس نے بچپن سے ہی چھوڑ دیا تھا-
لیکن ایوب شاہ اور نواز شاہ نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا-
——————————————
ماسٹر جی کی بیٹی حاجرہ الہیٰ بخش سے چار سال چھوٹی تھی- وہ ابتدا ہی سے عجیب طبعیت کی تھی- چپ چپ، گم صم رہنے والی مگر آنکھوں سے لگتا کہ اندر روشنی بہت ہے- لطف یہ کہ وہ روشنی آگ کا تاثر نہیں دیتی تھی، بلکہ ٹھنڈک کا احساس دلاتی تھی-
اور حاجرہ الہیٰ بخش کو بہت کثرت سے تکتی تھی- اس کی نگاہوں میں وارفتگی ہوتی مگر وہ بولتی بہت کم تھی- اور بولتی تو لہجے میں احترام ہوتا- الہیٰ بخش اس وقت سے اس کی نگاہوں کا عادی تھا جب وہ بچی تھی، اسی لئے اسے حاجرہ کے انداز میں بھی کبھی کوئی غیر معمولی پن محسوس نہیں ہوا-
الہیٰ بخش ماسٹر جی کے گھر میں گھر کے فرد کی طرح آتا تھا- ماسٹر جی کا کمرہ اسے بہت پسند تھا- اس کا بڑا سبب کتابیں تھیں- اسے قدرتی طور پر کتابوں سے بڑی محبت تھی- جب پڑھنے کے قابل نہیں تھا تو وہ بیٹھا الماری نہیں سلیقے سے رکھی کتابوں کو محبت اور عقیدت سے تکتا- (بعد میں تو خیر اس نے تمام کتابیں چاٹ ڈالی تھیں-)
ایسے ہی ایک دن وہ سحر زدہ سا بیٹھا کتابوں کو دیکھے جا رہا تھا، اسے پتا بھی نہیں تھا کہ سات سالہ حاجرہ کمرے میں آتے آتے دروازے پر ہی رک گئی ہے اور اسے اپنے مخصوص والہانہ انداز میں تکے جا رہی ہے- مگر نگاہوں کی اپنی ایک تپش ہوتی ہے، جو احساس دلا کر رہتی ہے- الہیٰ بخش کو بھی احساس ہو گیا- اس نے سر گھما کر حاجرہ کو دیکھا “اندر آ جاؤ نا حاجرہ” اس نے کہا-
حاجرہ کی نظریں جھک گئیں “جی ۔۔۔۔ جی ۔۔۔۔ بس ٹھیک ہے”
“کیسی ہو تم ؟”
“جی ٹھیک ہوں”
اس کے بعد خاموشی چھا گئی- الہیٰ بخش پھر کتابوں کی طرف متوجہ ہو گیا- مگر چند لمحے بعد ہی حاجرہ کی آواز نے اسے چونکا دیا ” آپ کو کتابیں بہت اچھی لگتی ہیں؟”
“ہاں بہت زیادہ-” الہیٰ بخش نے دھیرے سے کہا-
“مجھے بھی-” حاجرہ نے شرمیلے لہجے میں کہا- ” میں الماری ہر روز صاف کرتی ہوں- کتابیں جھاڑتی ہوں ۔۔۔ خاص طور پر-“
الہیٰ بخش کو اس پر پیار آ گیا- واقعی اس نے الماری پر اور کتابوں پر کبھی گرد کا ایک ذرہ بھی نہیں دیکھا تھا-
ماسٹر جی بیٹی کو پڑھانا چاہتے تھے لیکن حاجرہ نے صاف انکار کر دیا- “ابا جی مجھے قران پاک اور دینیات کے سوا کچھ نہیں پڑھنا-“
ماسٹر جی متاسف ہو گئے- ان کی بیٹی اور پڑھنے سے انکار ۔۔۔ ” کتابوں سے اتنی محبت کرتی ہو اور پڑھنے سے انکار!!”
“”ابا جی میں بس ان سے محبت، ان کی عزت کرنا چاہتی ہوں- ان کا خیال رکھنا چاہتی ہوں- ان پر گرد نہیں جمنے دیتی بس-“
ماسٹر جی کی سمجھ میں یہ تو نہیں آیا کہ بیٹی اس انداز میں اپنی الہیٰ بخش سے محبت کی نوعیت بیان کر رہی ہے لیکن اتنا وہ سمجھ گئے کہ یہ کوئی اہم بات ہے- پھر انہوں نے اسے اس کے حال پہ چھوڑ دیا-
الہیٰ بخش حاجرہ کو گائے جیسا بے زبان اور سادہ سمجھتا تھا- مگر ایک دن اس کی غلط فہمی دور ہو گئی- حاجرہ تیز و طرار اور غصہ ور بھی تھی اور اس کی زبان کی کاٹ بھی بہت گہری تھی-
ان دنوں وہ میٹرک کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں تھا، جس کا ملنا نا ممکن ہی تھا- اس روز وہ ایک درخواست جمع کرانے کے بعد واپس آرہا تھا کہ اس کہ نظر حاجرہ پر پڑی- وہ نلکے پر بیٹھی گھڑا بھر رہی تھی- کچھ دور ایوب شاہ اور نواز شاہ بیٹھے تھے-
نواز شاہ نے بہتے ہوئے پانی میں شرارت سے کنکر اچھالا- چھینٹیں اڑ کر حاجرہ کے چہرے تک گئیں- اس نے غضب ناک نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے چہرے کو پونچھا-
پرانے حریفوں نے شائد الہیٰ بخش کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا، اسلی لئے وہ بلند آواز میں زبانی چھینٹے بازی کرنے لگے ” لے بھئی، نواز شاہ قسمت جاگ گئی اپنی-“
“ہاں بھئی ۔۔۔ آج تو پیار سے دیکھ رہی ہے” نواز شاہ بولا-
حاجرہ نے بڑی نفرت سے انہیں دیکھا اور بولی ” میں کنکر کے جواب میں پتھر مارتی ہوں- اور پانی میں نہیں سر پر مارتی ہوں-“
“ہمیں تو وہ بھی پھول بن کر لگے گا-” ایوب شاہ نے کہا-
“لو کمشنر صاحب بھی آگئے-” نواز شاہ نے الہیٰ بخش کی طرف اشارہ کیا-
اس پر حاجرہ نے بھی سر گھما کر الہیٰ بخش کو دیکھا- پھر نلکا بند کر دیا- گھڑا بھر چکا تھا- اس نے دونوں ہاتھوں سے گھڑا اٹھایا مگر اسے سر پر نہیں رکھا- ایسے ہی اٹھائے ہوئے ایوب شاہ اور نواز شاہ کی طرف بڑھی- وہ دونوں اٹھ کر کھڑے ہو گئے- “سر پر رکھوا دوں؟”
ایوب شاہ نے پیشکش کی-
“ضرور” حاجرہ نے کہا-
“گھڑا اٹھتا نہیں، بات پتھر کی کرتی ہے-” نواز شاہ نے اسے چھیڑا-
“گھڑا ہی تو نہیں اٹھتا، پتھر کا تم خود دیکھ لینا کسی دن-” حاجرہ نے سنجیدگی سے کہا اور پانی سے لبا لب بھرا گھڑا ہاتھ سے چھوڑ دیا- گھڑا دونوں لڑکوں کے پیروں پر گرا اور ٹوٹ گیا- دونوں لڑکے چیخنے اور ناچنے لگے- پیروں پر بہت زور کی چوٹ لگی تھی-
الہیٰ بخش اس وقت ان تک پہنچ گیا تھا- دونوں لڑکے اچھل رہے تھے اور حاجرہ اہیں ملامت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی- پھر وہ کاٹ دار لہجے میں بولی- ” چلو بھر پانی میں کیسے ڈوبو گے- گھڑے بھر پانی سے تو پاؤں بھیگتے ہیں تمہارے- تمہیں تو کنواں چاہئے ۔۔۔۔ اندھا کنواں” یہ کہہ کر وہ پلٹی اور چل دی-
دونوں لڑکے اب بھی اچھلے جا رہے تھے-
حاجرہ جاتے ہوئے پلٹی- ” کچا گھڑا تھا ٹوٹ گیا- کل سے گھڑیا لاؤں گی تانبے کی- کاش لوہے کی گھڑیا بھی ہوا کرتی-” پھر وہ چلی گئی-
الہیٰ بخش گھر جانے کے بجائے ماسٹر جی کے گھر چلا گیا- دروازے پر حاجرہ آئی- ماسٹر جی بھی کہیں گئے ہوئے تھے اور خالہ بھی- “ماسٹر جی سے ضروری بات کرنا تھی- چلو پھر آجاؤں گا-“
الہیٰ بخش نے کہا-
“آج پڑھنے نہیں آئیں گے؟” حاجرہ کے لہجے میں التجا تھی- الہیٰ بخش ہچکچایا-
حاجرہ نے اور لجاجت سے اصرار کیا ” آ جائیں نا، باہر دھوپ بہت ہے-“
اس کے لہجے کی التجا نے الہیٰ بخش کا دل چھو لیا ” ہاں اندر کتابوں کی چھاؤں بھی ہے-” اس نے کہا اور اندر چلا گیا-
وہ ماسٹر جی کے کمرے میں جا بیٹھا- حاجرہ بھی دروازے پر آکھڑی ہوئی “چائے لاؤں آپ کے لئے؟” اس نے پوچھا-
“رہنے دو- جی نہیں چاہ رہا ہے-” الہیٰ بخش نے کہا-
حاجرہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا “ایک بات پوچھوں”
“ضروری ہو تو پوچھو لو” الہیٰ بخش نے خشک لہجے میں کہا-
“ابا سے کیا ضروری بات کرنی ہے آپ کو؟”
“ہے ایک بات”
“مجھ سے نہیں کر سکتے؟”
“کر سکتا ہوں- کرنی بھی چاہئے-” الہیٰ بخش نے کہا پھر تند لہجے میں بولا “تم پانی بھرنے مت جایا کرو-“
“کیوں؟”
“میں ان باجی لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتا- ابا کو دکھ ہو گا-“
حاجرہ مسکرانے لگی “آپ کو اتنی فکر ہے میری؟”
الہیٰ بخش گھبرا گیا “صرف تمہاری نہیں، مجھے گاؤں کی ہر لڑکی کی فکر ہے-“
“تو سارے گاؤں کی لڑکیوں کو پانی بھرنے سے منع کرو-” اب کے حاجرہ کے لہجے میں بے تکلفی تھی-
“وہ کسی کے ساتھ ایسا کریں گے تو ضرور کروں گا- میرے لئے سب برابر ہیں-” الہیٰ بخش نے کہا پھر آہ بھر کر بولا “پر وہ صرف تمہارے ساتھ ایسا کرتے ہیں- کسی اور کو تنگ نہیں کرتے-“
“کیوں- کبھی یہ بھی سوچا؟” حاجرہ نے تیز لہجے میں کہا-
“کیوں” الہیٰ بخش نے حیرت سے دہرایا-
“وہ جانتے ہیں کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو-“
الہیٰ بخش کو غصہ آ گیا- وہ اور محبت کا قیاس ۔۔۔۔ اسے تو نفرت تھی محبت سے- اس کا لہجہ درشت ہو گیا “جو بھی یہ سوچے، وہ پاگل ہے- مجھے تو نفرت ہے عشق اور محبت سے-” وہ بولا “اور یہ بھی بتا دو کہ تمہارا کیا خیال ہے-“
“میرا بھی یہی خیال ہے-“
“تم غلطی پر ہو” الہیٰ بخش نے نرم لہجے میں کہا “دیکھو حاجرہ، میں تمہیں دکھ نہیں دینا چاہتا- مگر جو اپنے رب سے اس کے پیارے رسول صہ سے محبت نہ کر پائے وہ کسی اور سے کیا محبت کرے گا- تم دکھ کے راستے پر نہ چلو-“
حاجرہ کے ہونٹوں پر بجھی بجھی مسکراہٹ ابھری “میں ابا جی کی بیٹی ہوں- کوئی آرزو نہیں کرتی- میں محبت کرتی ہوں- یہ میرے لئے بہت کافی ہے-” یہ کہتے کہتے اس کی نظریں جھک گئی تھیں مگر پھر ایک ثانیے میں جیسے اس کے اندر کوئی کیمیاوی تبدیلی پیدا ہوئی- اس نے نظریں اٹھائیں اور مضبوط لہجے میں بولی “تم میری فکر نہ کرو- میں جو سمجھوں، سمجھنے دو- تم سے کچھ نہیں مانگوں گی کبھی- دینے والی بس اللہ کی ذات ہے اور جو وہ دے، وہ کوئی چھین بھی نہیں سکتا-“
“میں چاہتا ہوں کہ تم پانی بھرنے نہ جایا کرو-” الہیٰ بخش نے اپنی بات دہرائی-
‘تم میری فکر نہ کرو- میں تمہاری طرح ان کے احترام پر مجبور نہیں ہوں- ان سے اچھی طرح نمٹ سکتی ہوں”
“تمہاری مرضی-“
الہیٰ بخش کچھ دیربعد وہاں سے نکل آیا- اسے حاجرہ سے چڑ محسوس ہو رہی تھی- محبت سے نفرت کرنے والے پر محبت کا قیاس کرنے کی جراءت اس نے کی کیسے!
باپ کی یہ بات الہیٰ بخش کے دل میں پھانس بن کر چبھی تھی کہ وہ اسے آل نبی صہ پر قربان کرنا چاہتا ہے اور اس کے لئے دعا کرتا ہے- وہ باپ کے جذبے کو نہ سمجھ سکا اور اسے اپنی بے وقعتی پر محمول کیا- اس نے سمجھا کہ ابا کو اس سے ذرا بھی محبت نہیں ہے جبکہ وہ ابا سے بہت محبت کرتا ہے- حالانکہ محبت سے اسے نفرت ہے- لیکن اؐماں اور ابا سے محبت اس کی مجبوری ہے-
یہ باپ سے اس کی محبت ہی تھی جس نے اس کے دل میں موت کی خوائش پیدا کر دی- اس کا جی چاہتا کہ وہ سادات میں سے کسی کے ہاتھ مارا جائے تا کہ ابا خوش بھی ہو اور اللہ کے حضور سرخرو بھی- ماہر نفسیات یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس کے اندر خود کشی کا رحجان پیدا ہو گیا تھا-
دوسری طرف وہ میٹرک کرنے کے بعد پریشان تھا- ملازمت اسے مل نہیں رہی تھی- ابا کا کہنا تھا کہ رنگ کا کام شروع کر دے مگر اس میں اسے تعلیم کی توہین محسوس ہوتی تھی- ابھی دو دن پہلے ماسٹر جی نے اس سلسلے میں اسے سمجھایا تھا اور قائل بھی کر لیا تھا- یہ ماسٹر جی کا کمال تھا- ابا کی بات اس کی سمجھ میں نہ آتی لیکن ماسٹر جی اس بات کو اس طرح سمجھاتے کہ اس کی عقل اسے درست تسلیم کر لیتی-
عشق کے معاملے میں بھی یہی ہوا ھا- جو تلقین ابا کرتا، ماسٹر جی اسے درست ثابت کر دیتے چنانچہ اس کی عقل نے ابا کے فلسفہء عشق کو تسلیم کر لیا لیکن دل نہ مانا اور عشق اور محبت سے نفرت ختم نہ ہوئی- ہاں، کم ضرور ہو گئی-
اس شام اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب ابا کے ساتھ رنگ کے کام پر جائے گا- اس فیصلے کے بعد وہ پر سکون ہو گیا تھا- مگر عشق کے خلاف مزاحمت کا اضطراب بدستور موجود تھا- ایسی کیفیت میں اسے تنہائی اچھی لگتی تھی چنانچہ وہ پہاڑی پر چلا گیا اور چیڑ کے گھنے درخت کے نیچے جا بیٹھا- اپنی سوچوں میں گم وہ اپنے پیروں کے پاس سے گھاس کی پتیاں نوچ نوچ کر نیچے پھینکتا رہا- وہ ایسا گم تھا کہ اسے ایوب شاہ اور نواز شاہ کی آمد کا پتا بھی نہیں چلا- وہ آئے اور پتلی پکڈنڈی سے ذرا اوپر بیٹھ گئے- الہیٰ بخش اوپر بیٹھا تھا- دونوں نے عادتاٰ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی-
“آہ بھائی ایوب، یہ کمشنر ہر وقت پریشان کیوں رہتا ہے ؟” نواز شاہ نے تمسخرانہ انداز میں کہا-
“پریشان تو رہے گا-” ایوب شاہ نے کہا- “آخر فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کیا ہے اس نے-“
“ہونا تو یہ تھا کہ گورنر گھر پر آتا اور ہاتھ جوڑ کر اس سے کہتا ۔۔۔۔ سر اب کمشنر کا عہدہ آپ سنبھالیں- پر ایسا ہوا نہیں-“
“او یار، اسے کوئی چپراسی بھی نہیں بنئے گا-” نواز شاہ نے کہا- “پر ہے قابل بندہ”
“ہاں- عرضیاں اچھی لکھ لیتا ہے-“
“رائٹنگ بھی اچھی ہے- پر یارا، کچھ بولتا نہیں-“
“اونچا سنتا ہے- نہیں نیچا سنتا ہے- ۔۔۔۔” ایوب شاہ نے زہریلے لہجے میں کہا- “عزت کی بات سنائی نہیں دیتی- ہاں، ڈانٹ سن لیتا ہے-“
“ابھی تجربہ کر لیتے ہیں” نواز شاہ نے کہا اور سر اٹھا کر الہیٰ بخش کی طرف رخ کر کے چلایا “آو کمشنر، پھینکنا ہے تو ہم پر پھول پھینک- گھاس کیوں پھینکتا ہے-“
الہیٰ بخش نے چونک کر دیکھا- پہلی بار اسے ان کی موجودگی کا احساس ہوا تھا- لیکن اس نے جواب نہیں دیا- اسی لمحے دور سے پیر بخش کی پکار سنائی دی “الہیٰ بخش ۔۔۔ او بخشو”
الہیٰ بخش اٹھا- پکڈنڈی پر چل کر نیچے آیا- نچلی پگڈنڈی بہت پتلی تھی- اس کے نیچے کم از کم ہزار فٹ گہری کھائی تھی- اس کے عین اوپر ایوب شاہ اور نواز شاہ بیٹھے تھے- الہیٰ بخش کو ان کے پاس سے گزر کر جانا تھا- ان تک پہنچنے سے پہلے الہیٰ بخش نے ایک کنکر کو ٹھوکر ماری- کنکر نیچے لڑھکتا گیا- “اگر میں بھی ایسے ہی لڑھکوں تو نیچے پہنچنے تک زندہ بچوں گا؟” الہیٰ بخش نے دل میں سوچا- پھر اس نے ہزار فٹ نیچے کھڑے ابا کو دیکھا جو تنکا سا نظر آرہا تھا-
الہیٰ بخش پتلی پگڈنڈی پر چلتے ہوئے ایوب شاہ اور نواز شاہ کے لٹکے ہوئے پیروں کے پاس سے گزرا- اچانک وہ رکا اور اس نے سر اٹھا کر ان دونوں کو دیکھا “کیا بات ہے پیرو- ٹانگ نہیں اڑائی تھی تو ہلکا سا دھکا دے دیتے- قصہ مک جاتا-” اس نے انہیں چیلنج کیا “خیر اب بھی موقع ہے”
“پر تیرا باپ تو دیکھ رہا ہے-” نواز شاہ نے کہا-
الہیٰ بخش تمسخرانہ انداز میں ہنسنے لگا- “مجھے نہیں جانتے- میرے باپ کو بھی نہیں جانتے- ارے تم پر الزام آتا تو ابا خود تمہارے حق میں گواہی دیتا- کہتا کہ میں اس کے سامنے گرا ہوں پھسل کر اور تم بے قصور ہو-“
“کیوں بے کمشنر ، مرنا چاہتا ہے؟” ایوب شاہ نے پوچھا-
“ہاں، تمہارے ہاتھوں مرنا چاہتا ہوں- جانتا ہوں کہ یہ حرام موت ہو گی- پر ابا خوش ہو جائے گا کہ بیٹا قربان ہو گیا-“
“کیا بک رہا ہے؟” نواز شاہ نے گھبرا کر کہا-
:تم نہیں سمجھو گے- یہ دل کے معاملے ہیں-” الہیٰ بخش نے ہنس کر کہا-
اسی وقت پیر بخش کی پکار پھر ابھری “الہیٰ بخش ۔۔۔۔۔ او بخشو ۔۔۔ جلدی سے آ”
“چلتا ہوں، پر تمہاری بزدلی سے مایوسی ہوئی-” الہیٰ بکژ نے کہا اور پتلی پگڈنڈی پر دوڑنے لگا-
ایوب شاہ اور نواز شاہ اس کی بے پروائی کا مظاہرہ دیکھتے رہے- پھر نواز شاہ نے فکر مندی سے کہا “ایوب بھائی میری بات مان، اب اس کا پیچھا چھوڑ دے-“
ایوب شاہ کے لہجے میں گبھراہٹ تھی “ٹھیک کہتا ہے نواز- یہ تو دیوانہ ہوتا جا رہا ہے-“
“احتیاط نہیں کی تو یہ کسی دن خود مرکے ہمیں مروا دے گا-“
“ہاں بھائی- دیوانے تو خطرناک ہی ہوتے ہیں-“
نیچے پیر بخش نے الہیٰ بخش سے پوچھا “اتنی دیر کیوں لگائی- اور باتیں کس سے کر رہا تھا؟”
“ابا میں پلک جھپکتے میں تمہارے پاس پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا پر قسمت اور سادات نے ساتھ نہیں دیا-“
پیر بخش کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا “جلدی سے گھر چل- دیکھ میں تیرے لئے نئے برش لے کر آیا ہوں-“
الہیٰ بخش باپ کے ساتھ چل دیا- اسے پتا نہیں تھا کہ اب ایوب شاہ اور نواز شاہ ہمیشہ اس سے خوفزدہ رہیں گے- موت کی آرزو کرنے والوں سے سب ڈرتے ہیں-
——————————-
آنے والے چند برسوں میں الہیٰ بخش رنگ کا بہت اچھا کاریگر بن گیا مگر اس کے ذہن سے یہ خیال نہیں نکلا کہ ابا کے نزدیک اس کی حیثیت بس قربانی کے جانور جتنی ہے- یہاں تک کہ وہ واقعہ پیش آگیا- پہلے تو اسے لگا کہ ابا کی دعا قبول ہو گئی ہے لیکن بہرحال وہ بچ گیا- زند رہا، البتہ سر سے پیشانی کے وسط تک زخم کا وہ بدنما نشان اسے ہمیشہ اس واقعے کی یاد دلاتا اور بے وقعتی کا احساس جگاتا رہا-
اس واقعے کے بعد اس نے باپ سے کہا ” ابا ۔۔۔۔ میں کراچی جانا چاہتا ہوں-“
“تیری مرضی بیٹے” پیر بخش نے مختصراٰ کہا- وہ جانتا تھا کہ بیٹا ٹھیک کہہ رہا ہے- ہزارے میں روز گار کی بڑی فکر تھی کیونکہ روزگار تھا ہی نہیں- زیادہ تر لوگ اس سلسلے میں باہر جاتے تھے- کچھ ملک کے بڑے شہروں میں اور کچھ ملک سے باہر- اجازت دینے کے سوا وہ کیا کر سکتا تھا-
مگر الہیٰ بخش کا مسئلہ روزگار نہیں تھا- وہ تو باپ کے عشق سے گھبرا کر بھاگ رہا تھا- وہ رنگ و روغن کا بہت اچھا کاریگر بن چکا تھا- کام بھی ٹھیک ٹھاک مل جاتا تھا، اس لئے کہ وہ ایماندار بھی تھا- یہ الگ بات کہ ایبٹ آباد میں وہ ایمانداری ہی اس کے لئے جان لیوا ثابت ہوتے ہوتے رہ گئی لیکن اس دن کے بعد سے وہ باپ کے عشق سے خوفزدہ ہو گیا- موت کو جس کی وہ آرزو کرنے لگا تھا، اس نے بہت قریب سے دیکھ لیا تھا اور وہ اسے اچھی نہیں لگی تھی- اس کے لئے فرار ہونے میں ہی عافیت تھی-
کراچی کے لئے روانہ ہوتے وقت الہیٰ بخش ملنگ والے درخت کے پاس سے گزرا تو اس نے سر گھما کر اسے دیکھا- ملنگ سر جھکائے، سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا- اس سے پہلے کہ الہیٰ بخش سلام کرتا، ملنگ نے خود سے سلام کیا-
یہ پہلا موقع تھا کہ الہیٰ بخش خود ملنگ کی طرف متوجہ ہوا تھا- اس سے پہلے تین چار بار ملنگ نے خود اسے بلایا اور اس سے باتیں کی تھیں اور ہر بار الہیٰ بخش کسی آزمائش یا جذباتی خلفشار میں تھا- ملنگ نے ہمیشہ اس کی تسلی اس کی دلجوئی کی تھی- الہیٰ بخش کو اس کی باتیں اچھی لگتی تھیں ۔۔۔۔ دلچسپ پیرائے اور اشاریت کی وجہ سے، مگر اسے غصہ بھی آتا تھا- ملنگ ابا جیسی باتیں کرتا تھا، بلکہ وہ اور آگے کی چیز تھا-

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: