Ishq ka Ain Novel by Aleem ul Haq Haqqi – Episode 5

0
عشق کا عین از علیم الحق حقی – قسط نمبر 5

–**–**–

ادھر نثار سوچ رہا تھا کہ اب کیا کرے- پیسے تو اس کی جیب میں اس وقت بھی تھے اور وہ الہیٰ بخش کو دے سکتا تھا لیکن یہ ٹھیک نہیں تھا ۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے ضرورت مند بن کر بات نہ کی ہوتی تو الہیٰ بخش کبھی سچ نہ اگلتا- اب وہ اسے یوں پیسے نہیں دے سکتا تھا- آئندہ کے لئے بات خراب ہو جاتی- نثار جانتا تھا کہ الہیٰ بخش کی طرح اکیلا ہونا کتنی خوفناک بات ہے- آدمی دکھ سے یا بھوک سے سسک سسک کر مر جائے لیکن کسی طرح اظہار کرے- وہ الہیٰ بخش کے دکھ اور مصائب بانٹنا چاہتا تھا-
“لیکن نثار بھائی، تم تو مجھ سے زیادہ پریشان ہو، تم تو بال بچوں والے ہو” الہیٰ بخش کہہ رہا تھا-
نثار نے چونک کر اسے دیکھا “تو فکر نہ کر- مجھے اپنے لئے بھی کچھ پیسوں کا بند و بست کرنا ہے- تیرے لئے بھی کر لوں گا- تو بیٹھ، میں ابھی آتا ہوں”
یہ کہہ کر نثار اپنی بات کا بھر رکھنے یعنی پیسوں کا بند و بست کرنے چلا گیا- پانچ منٹ بعد وہ آیا تو الہیٰ بخش اپنی جگہ موجود نہیں تھا- نثار نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا- اسے الہیٰ بخش اپنی طرف آتا دکھائی دیا- اس کے بائیں ہاتھ میں وہ تھیلا تھا جس میں وہ اپنے برش وغیرہ رکھتا تھا- اس کے ساتھ ایک خوش لباس آدمی بھی تھا-
الہیٰ بخش نثار کے پاس آ کر رکا “نثار بھائی- مجھے کام مل گیا ہے- اب میں چلتا ہوں- کل ملاقات ہو گی-” اس نے چہک کر کہا اور نثار سے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا- ہاتھ ملانے کے دوران اس کے ہاتھ سے کوئی کاغذ کی چیز نثار کے ہاتھ میں منتقل ہو گئی- پھر الہیٰ بخش تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا-
نثار نے حیرت سے اپنے ہاتھ کو دیکھا- وہ دس کا نوٹ تھا جو الہیٰ بخش بہت خاموشی سے اسے تھما گیا تھا- چند لمحے تو نثار سناٹے کی سی کیفیت میں ساکت کھڑا رہا، پھر اس نے الہیٰ بخش کو پکارنے کے لئے ہونٹ کھولے مگر ایک احساس نے اسے روک دیا- کسی کو مدد مانگنا سکھانے کے لئے ضروری ہے کہ اس سے مدد لی جائے- نثار نے دس کا وہ نوٹ جیب میں رکھ لیا- یہ نوٹ وہ اگلے روز واپس بھی کر سکتا تھا اور یہ جتا سکتا تھا کہ بھائی کو بھائی سے مدد لینے میں عار نہیں ہونی چاہئے-
ادھر تیز قدم بڑھاتے ہوئے الہیٰ بخش بہت خوش تھا- رزق دینے والے نے اس کی شرم رکھ لی تھی- اس نے کسی سے مدد نہیں مانگی تھی لیکن نثار کے سامنے اعتراف کرنے بعد وہ نثار سے کچھ لینے سے منع نہیں کر سکتا تھا اور وہ کچھ لینا بھی نہیں چاہتا تھا- اللہ نے اس کے دل سے نکلی ہوئی دعا سن لی تھی- نثار کے جاتے ہی وکیل صاحب آ گئے تھے- وکیل صاحب نے ایکبار پہلے بھی اس سے کام کرایا تھا اور اس سے بہت متاثر ہوئے تھے- قریب ہی وکیل صاحب کا بہت بڑا دو منزلہ مکان تھا- پہلی بار انہوں نے اپنی تین دکانوں میں رنگ کرایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ اگلی بار وہ اسے پورے بنگلے کا یکام دیں گے-
وکیل صاحب نے اس سے کام کی بات کی تو اس نے کہا-” وکیل صاحب، ایک بات کہوں، برا تو نہیں مانیں گے؟”
وکیل صاحب چونکے- انہوں نے سوچا شاید یہ زیادہ مزدوری کی بات کرے گا- پھر بھی انہوں نے کہا- “بولو، کیا بات ہے”
“صاحب جی، مجھے پندرہ روپے پیشگی دے سکتے ہیں-“
وکیل صاحب نے جیب سے بیس روپے نکال کر اسے دے دیئے- یوں عزت رہ گئی-
سو اب الہیٰ بخش کا رواں رواں اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا- شکر گزاری کے بعد توبہ کا وقت آیا- الہیٰ بخش کی سمجھ میں آیا کہ پچھلے دنوں اس نے کام ٹھکرا ٹھکرا کے بہت نا شکرا پن کیا ہے- ورنہ اس پر یہ وقت ہی نہیں آتا اور اللہ نے تو اس نا شکرے پن کے باوجود اس کی حاجت روائی فرمائی ہے-
بےشک، وہ بڑا رحم والا، نہایت مہربان ہے اور اب تو سب تعریفیں اس کے لئے ہین-
—————————
وکیل صاحب کا کام دس دن میں ختم ہوا اور الہیٰ بخش کے سارے دلدر دور ہو گئے- ہوٹل کا حساب چکتا ہو گیا اور جیب بھاری ہو گئی مگر اسے ایک بڑا سبق مل گیا- اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب کام کو کبھی نہیں ٹھکرائے گا-
لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے بارے میں اوپر کچھ اور فیصلہ ہو چکا ہے-
اس روز وہ معمول کے مطابق سوا بارہ بجے اٹھا- کھانا کھا کر وہ سادی کے گھر کی طرف چل دیا جہاں وہ گزشتہ دس دن سے نہیں جا سکا تھا- شاید اسی لئے اس روز اس کے قدموں میں دھمال کی سی کیفیت تھی-
شیخ مظہر علی کے بنگلے سامنے سے گزرے ہوئے اسے خیال آیا کہ اگر کبھی اس بنگلے کا گیٹ اس کے لئے کھل جائے تو کیا ہو- اس نے فوراٰ ہی اس فضول خیال کو ذہن کے کسی نہاں خانے میں دھکیل دیا- نہ کبھی ایسا ہونا تھا اور نہ ہی اسے ایسی کوئی خوائش تھی-
معمول کے مطابق وہ اس موڑ تک گیا جہاں سڑک زاویہ قائمہ بناتے ہوئے دونوں جانب مڑ جاتی تھی- وہاں سے وہ واپسی کے لئے پلٹا ۔۔۔۔ وہ پلٹا تو ہمیشہ کی طرح شیخ صاحب کے بنگلے کے سامنے والے فٹ پاتھ پر تھا- یعنی اس کے اور بنگلے کے درمیان سڑک حائل تھی-
وہ کوئی بیس گز چلا ہوگا- وہاں آئس کریم اور ٹھنڈی بوتلوں کی ایک چھوٹی سی دکان تھی- وہ وہاں سے گزر رہا تھا- اسی وقت پانچ چھ سال کا ایک لڑکا ایک بڈھے شخص کے ساتھ سڑک پار کرنے کے ارادے سے فٹ پاتھ سے سڑک پر اترا- بچے نے بڈھے کی انگلی تو نہیں تھامی ہوئی تھی لیکن انداز بتاتا تھا کہ دونوں ساتھ ہیں-
اسی لمحے موڑ کی طرف سے کسی گاڑی کے ٹائر سڑک سے رگڑنے اور چرچرانے کی آواز سنائی دی- کچھ چرچراہٹ بریکوں کی وجہ سے بھی تھی-
الہیٰ بخش نے پلٹ کر دیکھا- ایک سرخ رنگ کی کار موڑ مڑ کر اسی سڑک پر آ رہی تھی- گاڑیاں نوے درجے کے موڑ ایسی رفتار سے نہیں کاٹتیں- یہ ایک غیر معمولی بات تھی- موڑ کاٹتے ہوئے گاڑی سڑک کی دوسری سایئڈ تک پہنچ گئی تھی اور اب وہ یوں سنبھل رہی تھی، جیسے کوئی شرابی گرنے کے بعد اٹھ کر لڑکھڑاتے ہوئے سنبھلتا ہے- اس کی رفتار اب بھی بہت زیادہ تھی-
الہیٰ بخش کی نظریں سڑک کی طرف اٹھیں- بڈھا اور بچہ اس وقت سڑک کے عین وسط میں تھے- انہوں نے گاڑی کی آواز بھی سن لی تھی اور بے قابو گاڑی کی طرف متوجہ تھے- پھر ناہوں نے سڑک پار کرنے کے بجائے واپس آنے کا فیصلہ کرلیا تھا، اس لئے کہ گاڑی رانگ سائیڈ پر آتی دکھائی دے رہی تھی- وہ پلٹے اور اسی طرف لپکے جہاں الہیٰ بخش کھڑ تھا-
ادھر گاڑی سنبھل کر اب درست سائیڈ کی طرف آ رہی تھی!
الہیٰ بخش کو صورت حال کی سنگینی کا احساس ہو گیا تھا- گاڑی کی جو رفتار تھی، اس سے ان تک پہنچنے میں گاڑی کو ایک سیکنڈ کا وقت بھی نہ لگتا- ان دونوں کے پاس نہ اب پلٹنے کی مہلت تھی اور نہ وہ گاڑی سے بچ کر ادھر آ سکتے تھے-
فیصلہ کرنے کی مہلت بھی نہیں تھی- گاڑی اسی رفتار کے سے جھپٹی چلی آ رہی تھی- ان دونوں نے بھی دیکھ لیا تھا اور اب خوف سے اپنی جگہ جم کت رہ گئے تھے- الہیٰ بخش نے تیزی سے جست لگائی- اس کے دونوں ہاتھ آگے کی طرف پھیلے ہوئے تھے- اسے صرف احساس ہوا کہ گاڑی بالکل اس کے سر پر آ پہنچی ہے- آخری کوشش کے طور پر اس نے ہاتھ پھیلا کر دھکیلے اس کے ہاتھ دو جسموں سے ٹکڑائے- ساتھ ہی گاڑی اس کئ جسم سے ٹکرائی- اس نے خود کو فضا میں اڑتا محسوس کیا- سڑک پر گرنے تک وہ اپنے حواس میں تھا مگر پھر اسے کسی بات کا ہوش نہیں رہا ۔۔۔
آنکھ کھلی تو وہ جنت میں تھا!
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا- وہ لیٹا ہوا تھا- سادی روئی سے اس کی پیشانی صاف کر رہی تھی- اچانک اسے احساس ہوا کہ اس کی پیشانی پر زخم ہے جس سے خون رس رہا ہے، لیکن یہ احساس فوراٰ ہی معدوم ہو گیا- خوشی تکیف سے زیادہ بڑی تھی- پھر بھی اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ک وہ کہاں ہے اور یہاں تک کیسے پہنچا ہے- اتنا اسے یاد تھا کہ اس نے ایک بڈھے اور بچے کو بے قابو کار سے بچانے کی کوشش کی تی اور خود گاڑی کی لپیٹ میں آ گیا تھا-
“تم بہت من مانی کرتی ہو سعدیہ-‘ کسی نے کہا “ڈاکٹر آنے والا ہے- وہ دیکھ لے گا- تم خوامخواہ ڈاکٹری دکھا رہی ہو-“
الہیٰ بخش نے سر گھما کر دیکھا اور اس خاتون کو بھی پہچان لیا- اس نے پہلی بار سادی کو دیکھا تو یہی اس کے ساتھ تھی- وہ یقیناٰ اس کی ماں تھی- پھر اسے ایک اور خیال آیا- سادی کا نام سعدیہ ہے- پیارا نام ہے سعدیہ ۔۔۔۔۔ لیکن سعدی کتنا اچھا لگتا ہے-
“آپ بھی کمال کرتی ہیں امی” سادی نے کہا- “ڈاکٹر کے انتظار میں یونہی چھوڑ دیا جائے- کم از کم زخم کی صفائی تو کی ہی جا سکتی ہے-“
“اچھا بھئی ۔۔۔۔۔ جو جی چاہے کرو”
الہیٰ بخش لیٹے لیٹے یہ سوچنے کیکوشش کر رہا تھا کہ وہ کس حد تک زخمی ہے- اس نے ہاتھ ہلائے- ٹانگوں کو حرکت دی- گھٹنوں کے نیچے کچھ تکلیف ہو رہی تھی- اس کے علاوہ سر اور پیشانی بھی دکھ رہے تھے- اور کہیں کوئی تکلیف نہیں تھی- یہ حیرت انگیز بات تھی کیونکہ وہ گاڑی کے عین سامنے تھا- اصولاٰ گاڑی کو اس کے اوپر سے گزرجانا چاہئے تھا- ایک ہی بات سمجھ میں آئی تھی کہ آخری ثانیئے میں ڈرائیور گاڑی کو اس سے دور کاٹنے میں کامیاب ہو گیا ہو گا- وہ گاڑی کی سائیڈ سے ٹکرایا ہو گا، اس لئے وہ فضا میں اچھلا تھا اور سر کے بل گرا تھا- یعنی خدا نے کرم کیا تھا- بہت سستے میں جان چھوٹ گئی تھی-
جان چھوٹ گئی تھی اور انعام کتنا بڑا تھا! یہ طے تھا کہ اس وقت وہ سادی کے گھر میں ہے جس کے گیٹ سے گزرنے کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا-
“لو ڈاکٹر بھی آ گیا، اب ہٹ جاؤ” سادی کی ماں کی آواز نے اسے چونکا دیا-
وہی بڈھا شخص ڈاکٹر کا بیگ اٹھائے ہوئے تھا جسے اس نے دھکیلا تھا، اس کے پیچھے ڈاکٹر تھا- سادی اٹھ کر کھڑی ہو گئی- اب الہیٰ بخش نے دیکھا کہ وہ پلنگ کی سائیڈ میں ایک کرسی پر بیٹھی تھی- “بیٹھئے ڈاکٹر صاحب” اس نےمترنم آواز میں کہا-
ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ تکلیف کہاں کہاں ہو رہی ہے- پھر اس نے اسے چیک کیا- “تشویش کی کوئی بات نہیں بیگم صاحبہ” اس نے سادی کی ماں سےکہا “معمولی چوٹیں ہیں، البتہ سر کی اندرونی چوٹ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے- میں دوائیں لکھ رہا ہوں منگوا لیں- مریض کو آرام کی ضرورت ہے- ہاں اسے قے ہو یا متلی کی شکایت کرے تو مجھے فوراٰ بلوا لیجئے گا-” بیگم صاحبہ نے ڈاکٹر کو فیس دی، ڈاکٹر چلا گیا- بیگم صاحبہ نے ڈاکٹر کا لکھا ہوا نسخہ بڈھے شخص کو دیا “جاؤ کرمو چاچا، یہ دوائیں لے آؤ”
کرمو کے جانے کے بعد وہ الہیٰ بخش کی طرف مڑیں- “تو الہیٰ بخش ہے تمہارا نام”
“جی۔۔۔۔”
“رہتے کہاں ہو؟”
“اعظم بستی میں “
“یہ کہاں ہے؟” انہوں نے پوچھا، پھر بے نیازی سے کہا “خیر ۔۔۔۔ ہو گی کہیں- یہ بتاؤ ماں باپ کے ساتھ رہتے ہو”
“جی نہیں، وہ سب تو ایبٹ آباد میں رہتے ہیں- میں یہاں اکیلا رہتا ہوں”
“یہ اور بھی اچھا ہے کیونکہ تمہیں کل تک تو یہاں رہنا ہو گا- ماں باب ہوتے تو اور پریشانی ہوتی-“
الہیٰ بخش کو ان کا لہجہ اور انداز اچھا نہیں لگا لیکن اسے اس کی کوئی پروا نہیں تھی-
“تم کرتے کیا ہو؟” اس بار سوال سادی نے کیا تھا-
“رنگ و روغن کا کام کرتا ہوں” اس نے سادی کے چہرے پہ نظریں جماتے ہوئے کہاـ “یہاں قریب ہی فٹ پاتھ پر بیٹھتا ہوں ۔۔۔۔۔ کیفے لبرٹی کے سامنے”
سادی کی آنکھیں ایک پل کو چمکیں “ہاؤ ویری رومینٹک” اس نے سنسنی آمیز لہجے میں کہا-
“ٹھیک کہتی ہیں آپ، زندگی ہے ہی بہت رومانوی چیز-” الہیٰ بخش نے سادگی سے کہا-
سادی کی آنکھیں پھیل گئیں “پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو!”
“جی نہیں، میٹرک کے بعد تعلیم چھوڑ کے زندگی کی رومانویت کھوجنے کے لئے نکل کھڑا ہوا تھا-“
بیگم صاحبہ کی پیشانی کی شکنیں گہری ہوگئیں “اب چلو بھی سادی!” انہوں نے ترش لہجے میں کہا “ہر ایک سے باتیں کرنے کھڑی ہو جاتی ہو”
سادی بیگم صاحب کے ساتھ چل دی- دروازے پر پہنچنے کے بعد اس نے پلٹ کر الہیٰ بخش کو دیکھا- اس کی نگاہوں میں معذرت تھی- بیگم صاحبہ اس وقت تک باہر نکل چکی تھیں-
“سنو الہیٰ بخش، کرمو چاچا تمہارا خیال رکھے گا ۔۔۔۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا، اگر متلی محسوس ہو تو فوراٰ کرمو چاچا کو بتا دینا، یہ بہت ضروری ہے-“
وہ دونوں چلی گئیں- الہیٰ بخش نے آنکھیں موند لیں- سادی واپس آ گئی- اس نے آنکھیں کھول دیں “یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ” اس نے خود کلامی کی-
“عشق کی تربیت دی جا رہی ہے تمہیں” اس کے اندر سے کسی نے کہا-
“یہ کیسا عشق ہے کہ میں کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا”
“عشق میں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی”
اس نے پھر آنکھیں موند لیں- سادی پھر آ گئی- اس نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ دیا- نہ جانے کیسے ۔۔۔۔۔ لیکن زندگی میں پہلی بار وہ دن میں ہی سو گیا-
——————–٭————-
اس بار اس کی آنکھ کھلی تو کرمو چاچا اس کے پاس بیٹھے تھے- ان سے بات ہوئی تو اسے اندازہ ہوا کہ وہ درحقیقت اتفاقات کا اسیر ایک ایسا شخص ہے جسی کوئی انجانی قوت کسی خاص سمت میں لئے جا رہی ہے-
یہ بات کھلنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ بڈھا کرم دین بھی ایبٹ آباد کا رہنے والا ہے- “تو ایبٹ آباد میں کہاں رہتا ہے بیٹے؟”
“بانڈہ بٹنگ میں چاچا، اور تم؟”
“میں شیخا بانڈی کا ہوں-” کرم دین کا لہجہ سوچ میں ڈوبا ہوا تھا- ‘باپ کا تیرے کیا نام ہے؟”
“پیر بخش”
پتا چلا کہ کرم دین اس کے باپ کو بہت اچھی طرح جانتا ہے- برسوں ۔۔۔ برسوں پہلے دونوں ایک ہی سکول میں پڑھے تھے- دیر تک کرم دین پیر بخش کے بارے میں معلوم کرتا اور اپنے اور اس کے لڑکپن کی باتیں کرتا رہا- پھر اس نے بڑی شفقت سے کہا- “تو تو ویسے ہی میرے لئے بیٹے کی طرح ہے- میری جان بچا کر تو تو سگے بیٹے سے زیادہ عزیز ہو گیا ہے-“
“کیسی باتیں کرتے ہو چاچا” الہیٰ بخش نے شرمساری سے کہا-
“اور وہ بچہ جو میرے ساتھ تھا نا، وہ اس کا گھر اکلوتا بیٹا ہے ۔۔۔۔ بہت لاڈلا- دو ہی بچے ہیں ان لوگوں کے- سادی بیبی اور اظہر بیٹا”
“بچے کو چوٹ تو نہیں آئی؟”
“خراش بھی نہیں آئی- وہ تو اللہ نے تجھے رحمت کا فرشتہ بنا کر بھیج دیا، ورنہ میرے اور اس کے بچنے کا سوال ہی نہیں تھا-” کرم دین کہتے کہتے رکا، پھر بولا- “یہ اظہر بابا بڑی منتوں مرادوں کا بچہ ہے- تجھے اندازہ ہی نہیں کہ تو نے ان لوگوں پر کتنا برا احسان کیا ہے-“
“احسان کرنے والی تو اللہکی ذات ہے چاچا-” الہیٰ بخش نے سخت لہجے میں اس کی بات کاٹ دی-
“ٹھیک ہے لیکن عزت تو وسیلے کی بھی ہوتی ہے- یہ بہت اچھے لوگ ہیں- کسی کا احسان کبھی نہیں بھولتے-“
“پر بیگم صاحبہ تو ایسے بات کر رہی تھیں، جیسے میں کوئی مصیبت یا بوجھ ہوں- اگر مجھے ۔۔۔۔ “الہیٰ بخش نے بر وقت خود کو روک لیا- یہ حقیقت تھی کہ اگر اس گھر میں سادی نہ ہوتی تو فوراٰ ہی وہاں سے نکل جتا-
“بس بیگم صاحبہ ایسی ہی ہیں-” کرم دین نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا “کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہم جیسے انکی نظروں میں انسان ہی نہیں- پر صاحب بہت اچھے ہیں اور بچے بھی- بڑی عزت دیتے ہیں- بیگم صاحبہ کو شاید پیسے کا غرور ہے- سب نوکروں سے ایسے ہی بات کرتی ہیں”
“پر میں نوکر تو نہیں ہو ان کا”
“چھوڑو ان کی بات- صاحب آئیں تو دیکھنا- اب تو یہ دوا کھا لے-“
الہیٰ بخش نے پانی کے ساتھ گولی نگل لی “تو یہ ہے ان کا بنگلہ” وہ بڑبرایا-
“بنگلہ کہاں پگلے، یہ تو میرا کوارٹر ہے- ایک حصے میں نوکروں کے لئے کوارٹر بنوا دیئے ہیں- بنگلہ تو بہت بڑا ہے-کل دیکھنا-“
الہیٰ بخش نے ادھر ادھر دیکھا “میں یہاں سوؤں گا تو تم کیا کرو گے؟” اس نے پوچھا “چارپائی تو یہاں ایک ہی ہے”
“تو اس کی فکر نہ کر”
“چاچا ۔۔۔ میں گھر ہی نہ چلا جاؤں- اب تو میں بالکل ٹھیک ہوں”
“بے کار کی باتیں نہ کر- صاحب سے ملے بغیر تو نہیں جا سکتا- چلا گیا تو صاحب بہت خفا ہو گا مجھ سے- یہ بات نہ ہوتی تو بیگم صاحبہ نے ہی چلتا کر دیا ہوتا تجھے-“
الہیٰ بخش یہ سن کر مسکرایا “تو یہ بات ہے!”
“میں نے کہا نا کہ صاحب بہت اچھا آدمی ہے”
دیر تک وہ اس گھر کی، کراچی اور ایبٹ آباد کی باتیں کرتے رہے- پھر کرمو کھانا لے آیا- دونوں نے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا- کھانے کے دوران الہیٰ بخش نے پوچھا “تم یہاں کیا کرتے ہو چاچا”
“میں مالی ہوں اور باہر سے سودا سلف بھی لاتا ہوں- پورے پندرہ سال سے ہوں یہاں- صاحب بہت اعتبار کرتے ہیں مجھ پر- مجھے نوکری چھوڑ کر جانے ہی نہیں دیتے- وہاں میرے بیٹے اب اپنے پاؤن پہ کھڑے ہیں- وہ مجھے بلاتے ہیں کہ اب مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں- پر صاحب مجھے نہیں چھوڑتے- سال دو سال میں کچھ دن بچوں کے ساتھ گزار آتا ہوں-“
کھانے کے بعد الہیٰ بخش نے دوا لی اور تھوڑی دیر بعد ہی اسے نیند آ گئی
شیخ مظہر علی رات دس بجے گھر پہنچے۔شام کو انہوں نے گھر فون کر کے بتا دیا تھا کہ ایک اہم میٹنگ کی وجہ سے واپسی میں دیر ہو جائے گی۔۔کھانے پر انکا انتظار نہیں کیا جائے۔ وہ پہنچے تو سادی انہیں جاگتی ملی۔۔ س نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ “پاپا آپ تو جلدی آ گئے”
“کیا بات ہے بیٹی،واپس چلا جاؤں، تمہیں میرا آنا اچھا نہیں لگا” شیخ صاحب نے صوفے پر بیٹھ کے پاؤں پھیلاتے ہوئے کہا۔۔
“آپ جانتے ہیں پاپا کہ یہ بات نہیں۔۔”ٹھنک کر بولی۔۔۔”آپ نے کہا تھا کہ دیر سے گھر آئیں گے ہم نے کھانا کھا لیا ہے۔۔ انی دیر تو ہم انتظار کر سکتے تھے۔۔ ساتھ ہی کھا لیتے کھنا۔ صرف دس ہی تو بجے ہیں۔۔۔”
شیخ صاحب مشفقانہ انداز میں مسکرائے۔۔”مجھے اور دیر بھی ہو سکتی تھی۔ یہ تو اتفاق ہے کہ میں جلدی آیا”۔۔
“کھانا لگاؤں آپ کے لیئے۔۔”
“بھوک نہیں ہے، البتہ کافی پلوا دو۔۔”
سادی اٹھ کر گئی اور ملازمہ جمیلہ کو کافی کے لیئے کہہ آئی۔۔وہ پھر باپ کے پاس آ بیٹھی۔۔”تمہاری ممی کہاں ہیں؟” شیخ صاحب نے پوچھا۔۔
“اوپر اپنے بیڈ روم میں،سر میں درد ہو رہا تھا۔۔ نید کی گولیاں لے لی ہیں۔۔”
“سر کے درد کا علاج نیند کی دوا لے کر سو جانا تو نہیں۔۔”شیخ صاحب نے کہا۔ “مگر وہ بات کہاں سنتی ہیں”
سادی کو انکے لہجے کی بے بسی پر دکھ ہونے لگا۔۔ اس نے تو بچپن سے ہی ماں باپ کو لڑتے جھگڑتے دیکھا تھا۔۔ امی کے مزاج میں سرکشی بہت تھی۔۔ وہ پاپا کی کوئی بات نہیں مانتی تھیں۔۔ پاپا میں بھی برداشت کا مادہ نہیں تھا۔۔ شکر تھا کہ مار پیٹ کی نوبت نہیں آتی لیکن امی اور پاپا میں کئی کئی دنوں تک بات چیت بند رہتی۔۔پھر اظہر کی پیدائش کے بعد پاپا بہت متحمل مزاج ہو گئے اور امی اور چڑچڑی اور بد دماغ ہو گئی تھیں۔۔ شائد اس لیئے کہ پاپا اب ان سے لڑتے بھی نہیں تھے۔۔۔
“اظہر کہاں ہے؟ ” شیخ صاحب نے کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔۔ جمیلہ چند لمحے پہلے کافی کی پیالی ان کے سامنے رکھ گئی تھی۔۔
سادی نے انکی بات سنی ہی نہیں وہ اپنی سوچون میں گھری ہوئی تھی۔۔
“بیٹی اظہر کہاں ہے؟؟” شیخ صاحب نے دھرایا۔۔۔انہیں حٰرت ہو رہی تھی۔ اظہر ہر حال میں انکا انتظار کرتا تھا چاہے رات کے بارہ بج جائیں۔۔
“اظہر۔۔”سادی نے چونک کر سر اٹھایا۔۔”وہ سو رہا ہے پاپا۔۔ ڈاکٹر نے اسے ٹرینکولائیزر دیا تھا،،”
اب چونکنے کی باری شیخ صاحب کی تھی۔۔۔” کیوں بھئی کیا ہوا اسے؟؟” انہوں نے پر تشویش لہجے میں پوچھا۔۔
“تو کیا می نے آپ کو نہیں بتایا؟”
“کیا نہیں بتایا؟” شیخ صاحب سنبھل کر بیٹھ گئے۔۔
سادی کو اس بار امی کے رویے پر شدید غصہ آیا۔۔۔اسکا خیال تھا کہ امی نے پاپا کو فون پر حادثے کے متعلق بتا دیا ہو گا۔۔اسے تو حیرت ہوئی تھی کہ پاپا فوراً ہی دوڑے کیوں نہیں آئے۔۔پھر اس نے سوچا کہ شائد اس لیئے کہ اظہر کو خراش بھی نہیں آئی تھی۔۔
“پاپا اظہر آج ایک جان لیوا حادثے میں جان جان بچا ہے۔۔”شیخ صحب اچھل کر کھڑے ہو گئے۔۔وہ زینوں کی طرف لپکے مگر سادی انہیں پکار لیا۔۔ “پریشانی کی کوئی بات نہیں پاپا۔اسے خراش بھی نہیں آئی ہے۔۔ اس وقت وہ بے خبر سو رہا ہو گ۔ صبح دیکھ لیجیئے گا اسے۔۔
“تم سچ کہہ رہی ہو نا؟” شیخ صاحب کے لہجے میں التجا تھی۔۔
“ہاں پاپا آپ آرام سے بیٹھ کر کافی پیئں۔۔اظہر کو معمولی سی چوٹ بھی آئی ہوتی تو میں اتنے سکون سے بیٹحی ملتی آپ کو؟” سادی کے لہجے میں شکائت تھی۔۔
بات درست تھی۔۔ شیخ صاحب نے حجالت سے بیٹی کو دیکھا۔۔ وہ اپنی جگہ واپس آ بیٹھے۔۔”ہوا کیا تھا؟” انہیں نے پوچھا۔۔ کافی کی پیالی کو وہ بھول ہی گئے تھے۔۔
“تفصیل تو مجھے نہیں معلوم پاپا۔۔کرمو چاچا بتا سکتے ہیں۔ مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ ایک اجنبی انکو بچاتے ہوئے زخمی ہو گیا تھا۔۔ اس کو بھی معمعولیچوٹیں آئیں۔۔”
“اسے بھی تمہاری ممی نے کچھ احسان کر کے نکال دیا ہو گا۔۔” شیخ صاحب کے لہجے میں تلخی تھی۔۔
“ارادہ تو یہی تھا انکا لیکن میں نے انہیں روک دیا۔۔ وہ کرو چاچا کے کوارٹر میں ہے۔۔”
“تم بہت پیاری بیٹی ہو میری۔۔ “شیخ صاحب نے اٹھتے ہوئے کہا۔۔ میں ذرا اسے دیکھ آؤں۔۔
“پاپا میں جمیلہ کو بھیج کر انہیں یہیں بلوا لیتی ہوں۔۔”
“نہیں سادی بیٹی مجھے خود جانا چاہیئے۔۔” یہ کہہ کر شیخ صاحب باہر چلے گئے۔۔سادی پھر اپنی سوچوں میں گُم ہو گئی۔۔ امی اور پاپا کتنے مختلف ہیں ایک دوسرے سے۔۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔دو افراد جنہیں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گذارنی ہوتی ہے وہ خوفناک حد تک ایک دوسرے کے برعکس کیوں ہوتے ہیں،اسے شادی سے خوف آتا تھا،اسے یقین تھا کہ اس کے ساتھ بھی یہی ہو گا۔۔
ادھر ہلکی سی دستک پر کرم دین نے دروازہ کھولا تو شیخ صاحب کو دیکھ کر حیاران رہ گیا،۔
“صاحب جی آپ۔ مجھے بلوا لیا ہوتا۔۔ “
“میں اس سے ملنے آیا ہوں” شیخ صاحب نے کہا اور اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے سوئے ہوئے الٰہی بخش کو غور سے دیکھا۔۔وہ بہت خوش رو جوان تھا۔ پتلا ناک نقشہ۔۔ کشادہ پیشانی۔۔اور پیشانی پر بہت ہی گہرے زخم کا نشان۔انہیں حیرت ہوئی کہ وہ نشن بد نما نہیں لگ رہا تھا۔۔ بلکہ لگتا تھا کہ وہ اس کے وجود کا ایک حصہ ہے۔”ارے یہ تو سو رہا ہے۔” انہوں نے دھیمی آواز میں کہا۔
“جی صاحب جی۔۔”
“تم ذرا میرے ساتھ آؤ کرمو۔۔”
کرم دین دروازہ بھیڑ کر انکے پیچھے نکل آیا۔۔ وہ اسے باغیچے میں لے گئے۔ وہاں گارڈن چئیرز پڑی تھیں ۔۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھ گئے۔۔ “بیٹھو کرمو۔۔”کرمو نیچے گھاس پر بیٹھ گیا۔۔”اب مجھے سب کچھ بتاؤ”
کرم دین نے بتایا کہ کس طرح وہ اظہر کے ساتھ سڑک پار کر رہا تھا کہ وہ گاڑی اس طرف آئی۔۔آواز سے اندازہ ہو گیا تھا کہ گاڑی کی رفتار خطرناک ہے۔۔”گاڑی مڑتے ہوئے اپنی گھر والی سائڈ پر تھی صاحب جی۔ رفتار بہت تیز تھی ور فاصلہ کم۔۔ ہم اس وقت سڑک کے بیچ میں تھے۔۔اظہر بابا ڈر کر پلٹے کے دوسری طرف واپس چلے جائیں۔۔ میں بھی انکے ساتھ پلٹا۔۔ اتنی دیر میں گاڑی نے رُخ بدل لیا دوسری سائیڈ پر۔۔صاحب جی ہم دونوں ڈر کے مارے کھڑے کے کھڑے رہ گئے ۔۔ہل بھی نہیں سکے اور گاڑی تیزی سے ہماری طرف آ رہی تھی۔۔کھڑے رہنے میں تو پھر شائد بچت ہو جاتی مگر اظہر بابا آگے کی طرف جانے والے تھے اور میں انہیں روک نہیں سکت تھا،،بس صاحب اتنے میں یہ الٰہی بخش فرشتہ بن کر آیا۔اس نے جھپٹ کر ہم دونوں کو دجکا دیا۔۔ ہم گر گئے۔۔یہ گاڑی کی لپیٹ میں آ گیا۔۔ وہ تو شکر ہے کہ ڈرائیور نے عین وقت پر گاڑی کو دوسری طرف گھما دیا۔۔ ورنہ یہ کچلا جاتا صاحب جی۔۔پھر بھی یہ بے ہوش ہو گیا ۔۔ میں نوکروں سے اٹھوا کر اسے کوارٹر میں لے آیا۔۔ ڈاکٹر سے دکھوایا۔۔ وہ بولتا ہے معمولی چوٹیں ہیں کل تک ٹھیک ہو جائے گا۔۔”
شیخ مظہر علی کے جسم میں واضح تھرتھراہٹ نظر آئی۔۔”اور وہ گاڑی؟”
“وہ نہیں رکی صاحب۔۔ میرا خیال ہے بریک فیل ہو گئے تھے اس کے۔۔۔”
شیخ صاحب تصور میں کرم دین کا بیان کیا ہوا منظر دیکھ رہے تھے۔۔”واقعی اللہ نے بڑا کرم کیا۔ اس لڑکے کے لیئے کچھ کرنا چاہیئے۔۔” ان کا انداز خودکلامی کا سا تھا۔۔۔
“صاحب جی بعد میں پتا چلا کہ ایبٹ آباد کا ہی ہے۔۔ اس کے باپ کو میں جانتا ہوں برسوں سے۔۔”
“ہممم۔۔۔”شیخ صاحب نے پرخیال لہجے میں کہا۔۔ “تو پھر کیا ہونا چاہیے۔۔؟”
“صاحب جی آُ ایک ڈرائیور رکھنے کو کہہ رہے تھے۔۔”کرم دین نے یاد دلایا۔۔
شیخ صاحب نے سعدیہ سے اس کے لیئے کار خریدنے کا وعدہ کیا تھا۔۔ لیکن وہ کم از کم فی الحال یہ نہیں چاہتے تھے کہ سعدیہ ڈرائیو کرے اس لیئے ڈرائیور کی ضرورت تھی۔۔ڈرائیور رکھے بغیر وہ کار نہیں خریدنا چاہتے تھے۔۔اور یہ انکی فطرت تھی کہ اعتبار بہت دیکھ پرکھ کر کرتے تھے۔۔ اور جب کرتے تو اندھا اعتماد کرتے تھے۔۔۔
“تمہارا مطلب ہے کہ یہ لڑکا ڈرائیونغ جانتا ہے؟”
“ہزارے میں تو بچپن میں ہی ڈرائیونگ آ جاتی ہے صاحب۔۔۔”کرم دین نے فخریہ لہجے میں کہا۔۔
شیخ صاحب چند لمہے سوچتے رہے۔۔”نہیں ابھی یہ مناسب نہیں۔۔” انہوں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔ “یہ بتاؤ یہ کام کیا کرتا ہے؟”
“رنگ و روغن کا کافی اچھا کاریگر ہے صاحب”
“اور تم اسے ڈرائیر بنانا چاہتے ہو۔۔” شیخ صاحب کے لہجے میں ملامت تھی۔۔”خیر اسے جانے نہ دینا۔۔ ہر چرح سے اسکا خیال رکھنا۔۔کل ڈاکٹر کو بھی بلا لانا اگر وہ ٹھیک ہو گیا ہو تو کل شام اسے میرے پاس لے آنا۔۔میں جلدی گھر آؤں گا۔۔دیکھیں گے کچھ۔”شیخ صاحب اٹھ کھڑے ہوئے۔۔”اب تم آرام کرو
اگلی صبح ناشتے کی میز پر شیخ صاحب ننھے اظہر سے ملے- انہوں نے اظہر سے بھی حاثے کی روداد سنی- “بس پاپا گاڑی ہم پر چڑھنے والی تھی کہ انہوں نے ہمیں دھکا دے دیا”
اظہر نے جو نقشہ کھینچا وہ اور خوفناک تھا-
شیخ صاحب نے ملامت بھری نظروں سے بیوی کو دیکھا “اور آپ نے مجھے فون پر یہ بتانا ضروری بھی نہیں سمجھا”
“کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی- کچھ بھی تو نہیں ہوا تھا-” رخسانہ بیگم نے بے پروائی سے کہا-
“جب تک کوئی مر نہ جائے، آپ کے خیا میں حادثہ سنگین نہیں ہوتا!” شیخ صاحب نے سرد لہجے میں کہا “یہ تو بڑی خطرناک بات ہے ۔۔۔۔ اللہ کو ناراض کرنے والی”
“ارے یہ لوگ بڑھا چڑھا کر سنا رہے ہیں”
“چلئے ٹھیک ہے-” شیخ صاحب نے کہا- پھر چند لمحے کے توقف کے بعد بولے “میں بہت دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ اس گھر کو رنگ و روغن کی ضرورت ہے”
“صاف کیوں نہیں کہتے کہ اب فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے اس رنگ ساز کا احسان چکائیں گے!” رخسانہ بیگم نے تڑ سے کہا-
“تو احسان ماننا کوئی بری بات ہے؟”
“احسان کیسا! ٹھیک ٹھاک ہے وہ، ماتھے پر ذرا سی خراش آئی ہے بس”
“پھر وہی بات، وہ مر جاتا، اپاہج ہو جاتا تب آپ اس کا احسان مانتیں!” شیخ صاحب نے گہری سانس لے کر کہا “یہ بھی سن لیجئے کہ یہ کوئی احسان کا صلہ نہیں ہو گا- وہ کام کرے گا اور اجرت لے گا- احسان تو عمر بھر نہیں اتارا جا سکتا یہ سب چھوٹے پن کی باتیں ہیں”
“کرتے رہیں جو جی میں آئے- مجھے بتانے کی ضرورت نہیں- میرے خیال میں چھوٹے لوگوں کو ذرا سی بات پر سر پر بٹھا لینا چھوٹا پن ہے، جسے آپ بڑائی سمجھتے ہیں” رخسانہ بیگم نے پاؤں پٹختے ہوئے کہا اور ناشتے کی میز سے اٹھ گئیں-
شیخ صاحب نے بات کو بڑھانا مناسب نہیں سمجھا- جانتے تھے کہ اس سے تلخی کے سوا حاصل کچھ نہیں ہو گا-
—————————–
ناشتے کے بعد کرم دین ڈاکٹر کو بلا لایا- ڈاکٹر نے اچھی طرح معائنہ کر کے کہا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں- دن میں تین بار مرہم لگایا جائے- پیشانی کا زخم دو تین دن میں ٹھیک ہو جائے گا-
“چاچا، اب میں چلتا ہوں” ڈاکٹر کے جانے کے بعد الہیٰ بخش نے کہا-
“نہ بیٹے! صاحب جی سے ملے بغیر تو نہیں جا سکتا- وہ تو کل رات ہی تجھ سے ملنے آئے تھے- تو سو رہا تھا، تجھے دیکھا اور چلے گئے”
الہیٰ بخش کے دل میں ان دیکھے شیخ صاحب کی قدرو منزلت کا جذبہ پیدا ہوا “اچھا۔۔۔۔۔ تو مجھے جگا لیاہوتا”
“انہوں نے جگانے نہیں دیا- آج شام وہ تجھ سے ملیں گے”
“ٹھیک ہے چاچا، پر ابھی مجھے باہر جانا ہے” الہیٰ بخش نے کہا “ایک گھنٹے میں واپس آ جاؤں گا”
کرم دین نے بے اعتباری سے اسے دیکھا ” دیکھ تو ملے بغیر چلا گیا تو میری بڑی بے عزتی ہو گی”
“ارے چاچا، تم میرے لئے ابا جیسے ہو- میں تمہاری بے عزتی کرا سکتا ہوں ؟” الہیٰ بخش نے مسکراتے ہوئے کہا- “وہ جن لوگو کے ساتھ میں رہ رہا ہوں، کل سے میرے لئے پریشان ہو رہے ہوں گے- انہیں جا کر بتا تو آؤں کہ میری فکر نہ کریں- میں خیریت سے ہوں”
“تو چلا جا، پر دوپہر کا کھانا میرے ساتھ کھانا ہے” کرم دین نے کہا-
الہیٰ بخش کو نہیں معلوم تھا کہ اس کے ساتھ رہنے والے کہا کہا کام کرتے ہیں- اس نے سوچا، جا کر نثار کو بتا دے گا- کرامت اس کے پاس آتا رہتا ہے- نثار اسے بتا دے گا- وہ فٹ پاتھ پر پہنچا تو پتا چلا کہ اسی کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں- سب پریشان تھے- کرامت بھی آیا ہوا تھا- اب اسے خیال آیا کہ وہ تو گزشتہ دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے نکلا تھا اور اس کے بعد واپس ہی نہیں گیا- وہ لوگ تو کل سے اس کے لئے پریشان تھے- اسے ڈھونڈتے بھی پھرتے تھے- پھر نثار نے اس کے برش اور پینٹ کے خالی ڈبے سامنے پان والے کی دکان پر رکھ دیئے تھے- وہ سب الہیٰ بخش و گھیر کر بیٹھ گئے- الہیٰ بخش نے انہیں ماجرا سنایا- کرامت مطمئن ہو کر چلا گیا-
“بات تو جب ہے کہ تجھے اس بنگلے میں نوکری مل جائے” نثار نے کہا-
“کیسی باتیں کرتے ہو نثار بھائی” الہیٰ بخش بولا ” میں یہ فٹ پاتھ نہیں چھوڑنا چاہتا”
“بےوفوف نہین تو، ابے یہ بھی کوئی زندگی ہے- پگار کی بات ہی اور ہے- ایک تاریخ کو لگی بندھی رقم ہاتھ میں- یہاں کیا ہے- ایک دن کام مل گیا تو چار دن چھٹی اور ایک دن فاقہ”
“نہیں نثار بھائی، یہ فٹ پاتھ کی زندگی بڑی رومینٹک ہے” الہیٰ بخش نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا ” کسی کو یہ زندگی بڑی رومینٹک لگتی ہے”
“نثار کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا- ” تو کتابیں بہت پڑھنے لگا ہے” اس نے الہیٰ بخش کو آنکھیں نکالیں-
وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے- پھر الہیٰ بخش بنگلے کی طرف چل دیا- وہاں کرم دین باغیچے میں کیاریا ٹھیک کر رہا تھا- اس نے اسے اپنے پاس ہی بلا لیا- “بتا آیا اپنے ساتھیوں کو”
“ہاں چاچا”
“مجھے لگتا ہے کہ اب تو اس گھر سے نہیں جائے گا-“
“کیا بات کرتے ہو چاچا”
“میرا اندازہ تو یہی ہے بیٹے”
اتنے میں سادی گیٹ سے اندر آئی- وہ کالج سے واپس آئی تھی اور کالج کی سفید یونیفارم میں بہت پیاری لگ رہی تھی- انہیں بیٹھا دیکھ کر وہ ان کی طرف چلی آئی “کیسے ہو الہیٰ بخش” اس نے پوچھا ” تکلیف بڑھی تو نہیں؟”
الہیٰ بخش کو احساس ہوا کہ وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے- اس نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں “میں بالکل ٹھیک ہوں بی بی، ابھی باہر بھی گیا تھا”
“بہت اچھی بات ہے، مجھے تمہاری بڑی فکر تھی-” سادی نے سادگی سے کہا- پھر بولی “میرا نام سعدیہ ہے- سب سادی کہتے ہیں مجھے”
‘مجھے معلوم ہے بی بی” الہیٰ بخش نے کہا- اسے اپنا دل ڈھول کی طرح بجتا محسوس پو رہا تھا- جس کی آواز سب کو سنائی دے رہی ہو- کیسی بات تھی یہ! وہ کہہ رہی تھی کہ اسے اس کی فکر ہے! وہ اسے دعوت دے رہی تھی کہ وہ سعدیہ یا سادی کہہ کر اسے پکارے- ‘اے ۔۔۔ کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں’ اس نے اپنے دل کو ٹوکا-
“تو پھر ایسے ہی پکارا کرو مجھے”
الہیٰ بخش کہنا چاہتا تھا کہ وہ تو ایک ایسا پنچھی ہے جو سفر کے دوران تھک کر پل دو پل کے لئے اس شاخ پر بیٹھ گیا ہے اور اب اسے اڑ جانا ہے- یہاں یہ مسئلہ ہی کب ہے کہ اسے کیسے پکارا جائے لیکن اس نے کہا کچھ نہیں-
سادی کچھ اور کہنا چاہتی تھی کہ صدر دروازے سے امی نے اسے آواز دی-
“سعدیہ کالج سے آگئی ہو تم”
“جی امی، ابھی آئی ہوں” سادی نے کہا اور الہیٰ بخش سے مزید کچھ کہے بغیر اس طرف چلی گئی-
“سادی بی بی بہت اچھی ہیں” کرم دین نے کہا-
الہیٰ بخش نے اس پر بھی کچھ نہیں کہا- وہ یہ سوچ رہا تھا کہ کیا کرم دین کے اس جملے کو ہزار گناہ بہتر بنانے والے لفظ بھی وضع کئے گئے ہیں- کیا یہ بیان کیا جا ساکتا ہے کہ سادی بی بی کتنی اچھی ہیں!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: