Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 1

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 1

–**–**–

موسم، طوفانِ باد و باراں کے اشاروں پر رقص کر رہا تھا۔
سپیڈ کم ہوئی اور کار رک گئی۔ اس نے ہا رن دبایا۔ تیسری آواز پر گیٹ کھل گیا۔
بادل ایک بار پھر بڑے زور سے گرجی۔ بارش میں اور شدت آ گئی۔ کار آگے کو سرکی مگر اس سے پہلے کہ کار گیٹ سے اندر داخل ہو تی، بجلی زور سے چمکی۔ فانوس سے روشن ہو گئی۔
وہ چونک اٹھا۔
اس کی تیز نظریں گیٹ کے باہر بائیں ہاتھ بنے چھوٹے سے سائبان تلے چھائے اندھیرے میں جم گئیں۔
“کیا بات اے صاب! ” پٹھان چوکیدار نے بارش میں بھیگتے ہوئے پوچھا۔
“خان۔۔۔ “لیکن اس سے پہلے کہ وہ فقرہ پورا کرتا، برق پھر کوندی۔ وہ تیزی سے کار کا دروازہ کھول کر باہر کو لپکا۔ اس دوران خان بھی گیٹ سے باہر نکل آیا۔
بارش اور تیز ہوا کی پرواہ کئے بغیر دو تین لمبے لمبے ڈگ بھر کر وہ اس اندھیرے کونے میں پہنچ گیا، جہاں دو بار برق نے اجالا کیا تھا۔
ایک سایہ تھا جو بیدِ مجنوں کی طرح لرز رہا تھا۔
“کون ہو تم؟” اس نے جلدی سے پوچھا اور ایک بار پھر اس کی نظریں چندھیا گئیں۔
“میں۔۔۔ ” ایک کمزور سی نسوانی آواز ابھری۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ اجنبی وجود زمین پر آ رہتا، اس کے مضبوط اور گرم بازوؤں نے اسے سنبھال لیا۔
“خان۔ ” اس نے پلٹ کر پکارا۔
“جی صاب۔ “قریب ہی سے آواز ابھری۔
“میں کمرے میں جا رہا ہوں۔ گاڑی گیراج میں بند کر کے وہیں چلے آؤ۔ جلدی۔ “
“جی صاب۔ “وہ تعمیل حکم کے لئے جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے اس نازک، برف سے زیادہ سرد اور لہروں سے زیادہ نرم وجود کو باہوں میں بھر لیا، جو اَب لکڑی کی مانند کھردرا اور پتھر کی مانند سخت ہوا جا رہا تھا۔ تیز تیز چلتا ہوا وہ پورچ پار کر کے برآمدے میں پہنچا۔ پاؤں کی ٹھوکر سے دروازہ کھولا اور مختصر سی راہداری کو طے کر کے ہال میں چلا آیا۔ ایک لمحے کو کچھ سوچا، پھر سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔
ایک کمرہ چھوڑ کر دوسرے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر اس نے پھر دائیں پاؤں سے کام لیا۔ اندر داخل ہوا اور بستر کی طرف بڑھ گیا۔
دھیرے سے اس نے اپنے بازوؤں میں بھرے اس ریشمیں خزانے کو احتیاط سے سمیٹ کر بیڈ پر رکھ دیا، پھر اسے گرم لحاف میں چھپا دیا۔ شاید اس لئے کہ کوئی اور دیکھ نہ لی۔ ایک لمحے کو اس کی نظریں اس سمٹے پڑے خزانے کے تر بتر چہرے پر جم گئیں ، جہاں سیاہ لانبی زلفیں کسی بادلوں میں چھپے چاند یا گھٹاؤں میں قید برق کا سماں پیش کر رہی تھیں۔ اسی وقت خان اندر داخل ہوا۔
“اوہ خان۔ ” اس نے جلدی سے کہا۔ کچھ سوچا پھر تیزی سے ٹیلی فون کی طرف بڑھ گیا۔
ڈاکٹر کو فون کر کے وہ حکم کے منتظر اور چور نظروں سے اس خوابیدہ حسن کو تکتے خان کی طرف متوجہ ہوا اور ہولے سے مسکرایا۔
“خان۔ “
“جی صاب۔ ” وہ گھبرا سا گیا۔
“تمام نوکر تو سوچکے ہوں گے۔ “
“جی صاب۔ ” اس نے اپنا مخصوص جواب دہرایا۔
“ہوں۔ “وہ کچھ سوچنے لگا۔ پھر کہا۔ “تم نیچے چلے جاؤ۔ اپنے ڈاکٹر صاحب آرہے ہیں۔ ان کو لے کر اوپر چلے آنا۔ “
“جی صاب!” اور خان ایک نظر بستر پر ڈال کر دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے آگے بڑھ کر سوئچ بورڈ پر ایک بٹن دبا دیا۔ ایر کنڈیشنڈ سسٹم گہری نیند سے جاگ گیا۔ پھر اس کی نادیدہ تپش نے دھیرے دھیرے کمرے کو گرم کرنا شروع کیا۔ اس نے مطمئن انداز میں سر ہلا کر بند کھڑکیوں کی جانب دیکھا اور کرسی گھسیٹ کر بستر کے قریب لے آیا۔ بیٹھتے ہوئے وہ قدرے جھک گیا اور نظریں اس خاموش گلاب پر جما دیں جس کی دو پنکھڑیاں اپنی سرخی کھونے لگی تھیں۔ نیلاہٹ ابھری چلی آ رہی تھی۔
وہ آہستہ سے لرزی تو بے چینی سے وہ کلائی پر بندھی رسٹ واچ پر نظر ڈال کر رہ گیا۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔
اس کی بے تاب نظریں اس غنچہ دہن پر جم گئیں ، جس میں اب پھر کوئی حرکت نہیں تھی۔ آہستہ سے اٹھا۔ جھکا اور لحاف کو اچھی طرح اس پر لپیٹ کر سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اب وہ بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ اسی وقت ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا چلا آ رہا ہو۔
” آئیے آیئے انکل۔ “وہ کمرے میں داخل ہوتے ادھیڑ عمر مگر مضبوط جسم کے مالک ڈاکٹر ہاشمی کی طرف بڑھا۔ ڈاکٹر ہاشمی نے رین کوٹ اتار کر اس سے مصافحہ کیا۔
“کیا بات تھی بیٹا۔ میں تو تمہارا فون سنتے ہی۔۔۔ “اور ان کی آواز حلق ہی میں اٹک گئی۔ حیرت زدہ نظریں بستر پر پڑی جوان اور نیلی پڑتی لڑکی کے وجود پر ٹھہر گئیں۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھے۔ چند لمحوں بعد ان کا تجربہ کار ہاتھ لڑکی کے ماتھے سے ہٹا تو وہ کچھ مضطرب سے نظر آ رہے تھے۔
“خان۔۔۔ میرا بیگ۔ ” وہ بولے اور خان کے ساتھ ہی وہ بھی ان کے قریب چلا آیا۔
بیگ کھلا اور ڈاکٹر اپنے فرض میں ڈوبتا چلا گیا۔ وہ خاموشی سے ڈاکٹر ہاشمی کی کوششوں کا جائزہ لیتا رہا۔ کتنی ہی دیر گزر گئی اور تب ڈاکٹر ہاشمی ایک طویل سانس لے کر بستر کی پٹی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“انکل!” وہ مضطربانہ انداز میں اتنا ہی کہہ سکا۔
“الحمد للہ۔ خطرہ ٹل چکا ہے۔ ” وہ آگے بڑھ کر کرسی پر بیٹھ گئے۔ “خان۔ کچن سے دودھ لے آؤ۔ “انہوں نے کہا اور خان کمرے سے نکل گیا۔ “ہاں۔ اب کہو۔ یہ سب کیا چکر ہے؟” ڈاکٹر ہاشمی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“چکر۔۔۔ ؟” وہ جھینپ گیا۔ “چکر تو کوئی نہیں ہے انکل! میں پکچر دیکھ کر لوٹا تو یہ باہر گیٹ کے پاس کھڑی نظر آئی۔ میں کار سے نکل کر اس کے قریب پہنچا مگر کچھ پوچھنے اور بتانے کی نوبت ہی نہ آئی اور یہ بے ہوش ہو گئی۔ میں اسے اٹھا کر اندر لے آیا اور آپ کو فون کر دیا۔ بس، یہ ہے ساری بات۔ “
“ہوں۔ ڈاکٹر ہاشمی کے ہونٹ شرارت سے پھڑکی۔ ” بیٹے۔ لڑکی تھی ناں۔ اگر صنف کرخت ہوتی تو۔۔۔ “
” آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں انکل۔ “وہ مسکرا کر بولا اور ڈاکٹر ہاشمی ہنس دئیے۔
“میں تو مذاق کر رہا تھا۔ ہاں۔۔۔ بیگم صاحبہ زمینوں سے نہیں لوٹیں ابھی؟”
“جی نہیں۔ ابھی کافی دن رکیں گی وہاں۔ “
اسی وقت خان دودھ کا بھر ا جگ اور گلاس لئے اندر داخل ہوا۔ “صاب۔ دودھ بہوت تا۔ ہم گرم کر لائی۔ “وہ جگ میز پر رکھتے ہوئے بولا۔
“یہ تو بہت اچھا کیا خان۔ “وہ دودھ گلاس میں انڈیلتا ہوا بولا۔
دودھ پی کر فارغ ہو گئے تو ڈاکٹر ہاشمی اٹھ کھڑے ہوئے۔ “اچھا بیٹے۔ میں چلتا ہوں۔ بارش کا زور کم ہو رہا ہے۔ کہیں پھر زور نہ پکڑ لے۔ “
“بہتر انکل۔ “وہ بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ خان نے ڈاکٹر کا بیگ تھام لیا۔
“صبح دس بجے سے پہلے ہوش نہیں آئے گا۔ پریشان نہ ہونا۔ “وہ پھر مسکرا دیے اور وہ جھینپ کران کی ہدایات کو ذہن نشین کرنے لگا۔ ” نیند کے انجکشن کا اثر کم از کم نو گھنٹے رہے گا۔ کیپسول تپائی پر پڑے ہیں۔ ہوش آنے پر ہر چار گھنٹے بعد گرم دودھ سے دو کیپسول دیتے رہنا۔ ” ڈاکٹر ہاشمی رخصت ہو گئے۔
کمرہ خاصا گرم ہو چکا تھا۔ نیلے ہونٹ اب کچھ کچھ گلابی نظر آ رہے تھے۔ اس نے مطمئن انداز میں سر ہلایا اور بستر کے قریب چلا آیا۔ سانس اب مناسب رفتار سے چل رہا تھا۔ چہرہ پُرسکون تھا۔ کتنی ہی دیر تک وہ اس محو استراحت حسنِ بے پرواہ کو تکتا رہا۔
“صاب۔ ” خان کی آواز اسے بچھو کے ڈنک ہی کی طرح لگی۔
وہ تیزی سے پلٹا۔ “تم ابھی تک یہیں ہو۔ “اس کے لہجے میں کچھ اکتاہٹ تھی مگر خان بھی مجبور تھا۔ اسے نیند نے تنگ کر رکھا تھا۔ وہ بلاوجہ اس کی محویت کو ختم کرنے کا قصور وار نہ ہوا تھا۔
“کوئی حکم صاب؟” وہ ڈر سا گیا۔
“کچھ نہیں۔ بس جاؤ۔ اور دیکھو۔ اس کمرے میں کوئی مت آئے۔ میں ساتھ والے کمرے میں آرام کروں گا۔ “
“جی صاب۔ “وہ سلام کر کے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
چند لمحے وہ بستر پر پڑے مصور کے اس حسین خیال کو گل پاش نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر پلٹ کر دھیرے دھیرے چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔
٭٭٭٭٭
بے پناہ دولت۔ لمبی چوڑی جائداد۔ بے اندازہ زمینیں۔ دو کوٹھیاں۔ ایک حویلی۔ کئی کاریں اور بے تحاشا عزت ان دو ماں بیٹے میں محدود ہو کر رہ گئی تھی۔
دونوں ہی کی تمنا تھی کہ کوئی تیسرا بھی ان کی ملکیت کا حصہ دار بنی۔ جو ان تین میں چند اور نفوس کا اضافہ کر سکی!مگر۔۔۔ امارت کی نظروں میں کوئی وجود جچ نہ رہا تھا۔ بوڑھی تجربہ کار نگاہیں صورت کے ساتھ سیرت اور خاندان کے ساتھ دولت و ثروت بھی چاہتی تھیں۔
ایک تصویر میں ضروری نہیں کہ مصور ہر ایک کے جذبات کی عکاسی کر سکے اور ہر کسی کے پسندیدہ رنگ بھر دی۔ اسے اپنی تصویر کو بہرصورت خوبصورتی اور حسن سے مرصع کرنا ہوتا ہے۔ اب اس کے لئے چاہے اسے کسی بھی قسم کے رنگ منتخب کرنا پڑیں۔
اور جوانی تھی کہ کسی اور ہی ڈگر پر چل نکلی تھی۔ اسے دولت نہیں چاہیے تھی کہ اس کے پاس بہت تھی۔
اسے خاندان نہیں چاہیے تھا۔ کہ ذات پات اس کی نظر میں بے اہمیت شے تھی۔
اسے صرف اپنے جذبات اور احساسات کی ترجمان تصویر کی تلاش تھی۔ وہ خواہ اسے آرٹ گیلری کے وسیع و عریض سجے سجائے قیمتی اور حسین ہال میں نظر آ جاتی، یا کسی فاقہ زدہ مصور کے ادھورے رنگوں سے بوسیدہ کاغذ پر ابھرتی نظر آ جاتی۔
اسے اور کچھ نہیں چاہیے تھا۔ چاہئے تھا تو صرف یہ کہ جو بھی آئے وہ صرف اسے چاہے۔ اس کے علاوہ ہر ایک سے بیگانہ ہو۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد وہ کسی کا خیال اپنے خانہ دل میں نہ سجاپایا ہو۔
بڑھاپا تجربہ کار تھا۔ اپنے اصولوں کا محافظ تھا۔
جوانی امنگوں بھری تھی۔ حسن اور محبت کی طلبگار تھی۔
اور آج۔۔۔ شاید اسے منزل مل گئی تھی۔ دل تو یہی کہہ رہا تھا۔ اور دل جھوٹ بھی تو بولا کرتا ہے۔
“صاب! آپ کا پون۔۔۔ “
وہ چونک پڑا۔ خیالات بکھر گئے۔ بستر سے نکلا اور گاؤن پہنتا ہوا دروازے کی طرف چل دیا۔ کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔
“خان۔ “وہ رک گیا۔
“جی صاب۔ “
“دیکھو۔ باباسیف آ چکا ہو گا۔ اسے اوپر بھیجو۔ “
“جی صاب۔ ” وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ وہ کچھ سوچتا ہوا ٹیلی فون کے پاس چلا آیا۔
“یس۔ طاہر اسپیکنگ۔ ” وہ ریسیور کان سے لگا کر بولا۔
“ہیلو طاہر۔ “دوسری طرف سے ڈاکٹر ہاشمی نے ہنس کر کہا۔
“اوہ آپ۔۔۔ آپ کا مریض ابھی تک “ہوش ندارد”ہے انکل۔ ” وہ مسکرایا۔
“مسیحا پاس رہے تو بیمار کا اچھا ہونے کو جی کب چاہتا ہے طاہر میاں !”وہ ڈاکٹر ہاشمی کی چوٹ پر خجل سا ہو گیا۔ رات بھی ان کی باتوں سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس کی نظروں کا بھید جان چکے ہیں۔ “بہرحال، اس وقت نو بجے ہیں۔ دس بجے تک ہوش نہ آیا تو مجھے فون کر دینا۔ ویسے میں گیارہ بجے کے قریب خود ہی چلا آؤں گا۔ “
“بس تو ٹھیک ہے۔ آپ آ ہی جائیے گا۔ “
“خدا حافظ۔ “ڈاکٹر ہاشمی نے ہلکے سے قہقہے کے ساتھ ریسیور رکھ دیا۔ فون بند کر کے وہ پلٹا اور بستر کے قریب پڑی کرسی پر جم گیا۔
“سلام صاحب۔ ” سیف کمرے میں داخل ہوا اور اس کی نظروں میں بھی حیرت سی امنڈ آئی۔
“سیف بابا۔ یہ ہماری مہمان ہیں اور بیمار بھی۔ “اس نے سیف کی حیرت کو نظر انداز کرتے ہوئے رسٹ واچ میں وقت دیکھا۔ “ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہلکے ناشتے کے تمام ضروری لوازمات یہاں ہونے چاہئیں !”
“بہتر صاحب!” وہ سوالیہ نظروں کے ساتھ بستر پر سوئی لڑکی کو دیکھتا ہوا پلٹا اور برتن اٹھائے باہر نکل گیا۔
وہ ایک طویل انگڑائی لے کر کرسی سے اٹھا اور کھڑکیوں پر سے صرف پردے ہٹا دئیے، پٹ نہ کھولے۔ ہوا سرد تھی۔ رات کی بارش کے بعد موسم کھل گیا تھا۔
سورج کافی بلند ہو چکا تھا۔ اس کی زرد کرنیں دھند اور ٹھنڈک کا سینہ چیر چیر کر ہر مقابل شے کو روشن اور گرم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ وہ کتنی ہی دیر کھڑکی کے شیشوں سے باہر دیکھتے ہوئے دور نیلے آسمان کی لامحدود وسعتوں میں نجانے کیا تلاش کرتا رہا۔
“امی۔۔۔ امی۔۔۔ آپ کہاں ہیں امی۔۔۔ امی۔۔۔ “دھیمی سی بڑبڑاہٹ نے اسے چونکا دیا۔ وہ تیزی سے پلٹ کر بستر کے قریب چلا آیا۔ نرم و نازک وجود متحرک تھا۔ لانبی سیاہ پلکیں دھیرے دھیرے کانپ رہی تھیں۔ چہرے پرسرخی دوڑنے لگی تھی۔ ہونٹوں کے گوشے لرز رہے تھے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ہولے سے اپنی پلکوں کی چلمن اٹھا دی۔
وہ بے چینی سے اس کی ایک ایک حرکت کا مشاہدہ کر رہا تھا۔ چند لمحوں تک وہ بے حس و حرکت، چت پڑی چھت کو گھورتی رہی۔ پھر جیسے چونک اٹھی۔ گردن گھما کر دائیں بائیں دیکھا۔۔۔ اور اسے سامنے دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی۔
” آپ۔۔۔ آپ کون ہیں ؟ میں کہاں ہوں ؟” روایتی سے الفاظ اس کے لبوں سے ابل پڑی۔
“گھبرائیے نہیں۔ لیٹی رہئے۔ “وہ مسکرا کر اس پر جھک آیا۔ شانوں سے تھام کر اس نے پھر اسے لٹا دیامگردوسرے ہی لمحے وہ پھر اٹھ بیٹھی۔
“میں۔۔۔ “
“دیکھئے۔ آپ کو میں بدمعاش نظر آتا ہوں یا آپ کو خود پر اعتماد نہیں ہے؟” وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا تو وہ گڑ بڑا گئی۔ بیباک مگر شریفانہ تاثر کی حامل نگاہوں نے اسے الجھن میں ڈال دیا۔
“میں جانا چاہتی۔۔۔ “
” آں ہاں۔ یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟ “وہ اسے بستر سے اترتا دیکھ کر تیزی سے بولا۔
“جی میرا۔۔۔ “
“ارے بابا، کیوں اپنا دماغ تھکا رہی ہیں آپ۔ اطمینان سے لیٹ جائے۔ کچھ مجھ سے پوچھئے۔ کچھ مجھے بتائیے۔ ” وہ ریشمی لحاف اس پر اوڑھاتا ہوا بولا۔ اور نہ جانے کیا سوچ کر اور کیوں وہ چپ چاپ لیٹ گئی۔ پھر اس کی سوالیہ نظریں کمرے کے درو دیوار کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعداس کے مسکراتے چہرے پر آ کر جم گئیں۔
“ویسے ایک بات تو بتائیے؟”وہ بے تکلفی سے کرسی گھسیٹ کر اس کے قریب ہو بیٹھا۔
“جی۔ ” وہ ہولے سے بولی اور نظریں چرا لیں۔
“کیا آپ کو بارش میں بھیگنے کا بہت شوق ہے ؟”
“جی۔۔۔ کیا مطلب؟” وہ بے ساختہ حیرانی سے بولی۔
“مطلب یہ کہ کل رات آپ بڑی بے تکلفی سے طوفانِ باد و باراں کا لطف اٹھا رہی تھیں۔ سردی بھی بلا کی تھی اور۔۔۔ “
ایک دم نہ جانے کیوں وہ بے چین سی ہو کر پھر اٹھ بیٹھی۔
“ارے ارے۔۔۔ یہ کیا۔۔۔ دیکھئے، میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔ اور آپ۔۔۔ “وہ اس کی پلکوں کو نم ہوتا دیکھ کر بری طرح سے گڑ بڑا گیا۔
“مجھے جانے دیجئے۔ خدا کے لئے۔ “وہ بستر سے نکل پڑی۔
“ارے۔ یہ آپ کو بار بار جانے کا دورہ کیوں پڑ جاتا ہے؟” وہ اٹھ کر اس کو بازو سے تھامتا ہوا بولا۔
“چھوڑیئے۔ میں اب یہاں نہیں ٹھہر سکتی۔ “وہ بازو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔
“مگر آپ کہاں جانا چاہتی ہیں ؟ یہ تو طے ہے کہ آپ کا گھر کوئی نہیں ہے۔ ویسے اگر آپ دارالامان جانا چاہتی ہیں تو بندہ حاضر ہے لیکن پہلے ناشتہ تو کر لیجئے۔ “
” آپ کو کیسے معلوم کہ۔۔۔ “
” جن کا کوئی گھر ہو، وہ ایسی طوفانی راتوں میں اس حالت میں تو باہر آنے سے رہی، جس حالت میں آپ پائی گئیں۔ “
وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر سسکنے لگی۔
٭٭٭٭٭
طاہر سنجیدہ ہو گیا۔ مذاق اور ایک اجنبی لڑکی سی، جواس کے نام تک سے ناواقف تھی، کافی ہو چکا تھا!وہ کتنی ہی دیر تک روتی رہی۔ سیف ناشتہ میز پر رکھ کر جا چکا تھا۔ وہ خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
“دیکھئے۔ خدا را اب یہ رونا دھونا بند کیجئے اور ناشتہ کر لیجئے۔ “وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولا۔
اس نے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں خشک کیں اور اس کی جانب دیکھا۔ ” آئیے۔ باتھ روم اس طرف ہے۔ “اس نے کمرے کے غربی گوشے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سے باتھ روم کی جانب چل دی۔ کچھ دیر بعد جب وہ منہ ہاتھ دھو کر باہر نکلی تو وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔ کچھ اتنی ہی نکھر آئی تھی وہ سوگوار ی میں نتھر کر۔
“چلئے۔ ناشتہ کیجئے۔ “اس نے طاہر کی جانب دیکھا اور سر جھکا کر بستر کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔
“ویسے ڈاکٹر صاحب نے بستر سے نکلنے سے منع کیا ہے۔ آپ نمونئے کے اٹیک سے بال بال بچی ہیں۔ “وہ ہولے سے بولا۔
وہ اس کی جانب دیکھ کر کوئی بحث کئے بغیر خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ کچھ دیر بعد وہ بستر میں بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی اور وہ کرسی پر بیٹھا چائے کی پیالی سے دل بہلا رہا تھا۔ اس نے بہت کم ناشتہ کیا۔ طاہر نے زیادہ پر اصرار نہیں کیا۔ سیف بابا برتن لے گیا۔ وہ پھر کسی سوچ میں کھو گئی۔ کتنی ہی دیر تک وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر ہولے سے کھنکارا تو وہ چونکی۔ نگاہیں ملیں۔ وہ مسکرادیا۔
“ہاں تو صاحب! مگر یہ صاحب کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ آپ کا نام کیا ہے؟” وہ بے تکلفی سے پوچھ بیٹھا۔
“زاہدہ۔ “وہ بے ساختہ دھیرے سے کہہ گئی۔
“مس زاہدہ؟” اس نے الٹا سا سوال کر دیا مگر تیزی سے!
“جی۔۔۔ جی ہاں۔ ” وہ کہتے کہتے رکی اور شرما گئی۔
“تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے مالک۔ ” وہ سمجھ میں نہ آنے والے لہجے میں آہستہ سے بڑبڑایا۔ “اچھا۔ اب یہ بتائیے کہ آپ کون ہیں ؟ کیا ہیں ؟ رات آپ اس حال میں کیوں تھیں وغیرہ وغیرہ۔ پھر میں آپ کو اپنے بارے میں سب کچھ بتاؤں گا۔ جی۔ ویسے میرا نام طاہر ہے۔ “
اور وہ اس باتونی، لا ابالی اور بے تکلف سے انسان کو بڑی گہری اور عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگی۔
“کیا دیکھ رہی ہیں ؟” اس نے کچھ دیر بعد یکا یک کہا۔
“جی۔ کچھ نہیں۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔ “وہ گھبرا گئی۔
“تو پھر کہئے ناں۔ “
“کیا کہوں ؟” وہ اداس سی ہو گئی۔
“پہلے تو یہ بتایئے۔۔۔ “وہ معاملے کی نزاکت کے پیش نظر بات بدل گیا۔ ” آپ کا کوئی۔۔۔ ” وہ کہتے کہتے رک گیا۔
“نہیں ہے۔ کوئی نہیں ہے میرا۔ ” اس نے گھٹے گھٹے لہجے میں کہہ کر آنکھیں بھینچ لیں۔
“اوہ۔۔۔ مگر ۔ صبح آپ نیم بیہوشی میں اپنی امی کو۔۔۔ “
“مرنے والے پکارنے سے لوٹ تو نہیں آیا کرتے۔ “وہ سسک پڑی۔
” معاف کیجئے گا۔ میں نے آپ کو دکھ دیا۔ “وہ افسردہ سا ہو گیا۔
وہ کتنی ہی دیر دل کی بھڑاس نکالتی رہی۔ طاہر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ چاہتا تھا اس کے دل کا غبار پوری طرح نکل جائے۔
“تو اب آپ کا کیا ارادہ ہے؟” وہ کچھ دیر بعد سنبھلی تواس نے دھڑ کتے دل کے ساتھ سوال کیا۔
“ارادہ؟” وہ طنز سے مسکرائی۔
“میرا مطلب ہے، آپ جہاں رہتی تھیں۔ وہیں واپس جانا چاہیں تو۔۔۔ “
“جی نہیں۔ وہاں تو اب میرے لئے صرف اور صرف نفرت باقی ہے۔ انہی کے احسان نے تو مجھے اس طوفانی رات کے حوالے کیا تھا۔”
“کیا مطلب؟” وہ حیرت زدہ رہ گیا۔
” آپ ضرور سننا چاہتے ہیں۔” اس نے درد بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
” آپ مناسب سمجھیں تو۔۔۔ “
“ٹھیک ہے۔ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات بھی نہیں ہے دنیا میں کہ میں اسے دل پر بوجھ بنائے لئے لئے پھروں۔۔۔ مگر مجھے کریدیے گا نہیں۔ “
پھر ایک لرزتی کانپتی، درد بھری آواز کے زیر و بم نے اسے جکڑ سا لیا۔ وہ کہتی رہی۔ طاہر سنتا رہا۔ بت بنا۔ ہمہ تن گوش۔….

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: