Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 10

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 10

–**–**–

اسی وقت کھلے دروازے سے ہوا کا ہلکا سا جھونکا اندر داخل ہوا۔ ٹھنڈک کو کمرے کے ماحول کے سپرد کیا اور ناپید ہو گیا۔ پلٹ کر حافظ عبداللہ نے دروازہ بھیڑ دیا۔ فوراً ہی اسے کمرے کی یخ بستگی میں کمی کا احساس ہوا۔ یہ شاید اس کے محسوس کرنے کا اعجاز تھا، ورنہ اتنی جلدی سردی کا کم ہو جانا ممکن نہ تھا۔
وہ پاؤں جھاڑ کر صف پر کھڑا ہوا۔ ایک بار نظر گھما کر سارے کمرے کا جائزہ لیا۔ پھر قبلہ رخ ہو کر اس نے نماز کی نیت کی اور ہاتھ بلند کر دئیے۔
“اللہ اکبر۔ “
حافظ عبداللہ کے ہونٹوں سے سرگوشی بر آمد ہوئی اور سارا ماحول عجیب سے سکون میں ڈوبتا چلا گیا۔
اس نے ہاتھ ناف پر باندھے اور آنکھیں سجدے کی جگہ پر جما کر اتنی آہستہ آواز میں قرات شروع کر دی جسے وہ خود سن سکتا تھا یا پھر اس کا معبود، جو پہاڑ کی چوٹی پر چیونٹی کے رینگنے کی آواز سننے پر بھی قادر تھا۔ چراغ کی لو نے تھرتھرانا بند کر دیا۔ شاید وہ بھی حافظ عبداللہ کی قرات سننے میں محو ہو گئی تھی۔
رات کا کھانا عشاء کے فوراً بعد کھا لیا گیا۔ پھر دوبارہ سے صفیہ کو تو عورتوں نے گھیر لیا اور طاہر، ملک کے ساتھ چوپال میں چلا گیا۔
چوپال گاؤں کے مغربی کنارے پر قبرستان کے ساتھ ایک ایسی بے درو دیوار کی چھت کے نیچے نشست کی جگہ تھی، جو آٹھ مدور ستونوں پر قائم تھی اور اس کے نیچے تقریباً پانچ سو آدمیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔
اس کے مشرقی گوشے میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کے باہر چولہا بنا ہوا تھا۔ اس پر وہاں خدمت گار بابا شمسو روزانہ شام ہوتے ہی چائے کا بڑا سا پتیلا چڑھا دیتا جو گاؤں والوں اور اجنبی مہمانوں کی سیوا کے لئے لذتِ کام و دہن کا سبب بنتا۔ بید کے موڑھے اور بڑی بڑی چارپائیاں چوپال میں پڑی رہتیں ، جن پر رات کو گاؤں والوں کی بلا ناغہ محفل جمتی۔
سفید شلوار قمیض اور سیاہ گرم واسکٹ میں ملبوس، پاؤں میں زرتار کھسہ پہنے طاہر، بلال ملک کی معیت میں وہاں پہنچا تو گاؤں کے پچیس تیس بڑے بوڑھے اور جوان آدمی بیٹھے حقے گڑگڑاتے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔
طاہر کی آمد پر سب لوگ ایک بار کھڑے ہوئی، پھر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ وہ ان کے نیم دائرے میں ایک موڑھے پر بیٹھ گیا اور فرداً فرداً سب کا حال چال پوچھنے لگا۔ ہوتے ہوتے باتوں کا موضوع گاؤں کے سکول ماسٹر شیخ محسن کی بیٹی پر آ کر رک ساگیا۔
“ماسٹر کی بیٹی زبیدہ نے اپنے لئے آیا ہوا اپنی برادری کے ایک چالیس سالہ شخص نثار شیخ کا رشتہ صاف ٹھکرا دیا جی۔ “
ملک کہہ رہا تھا۔
“زبیدہ کی اپنی عمر کتنی ہے؟”
طاہر نے دلچسپی سے پوچھا۔
“بیس اکیس سال ہو گی جی۔ “
“پھر تو اس نے ٹھیک کیا۔ “
طاہر نے تائید کی۔
” دگنی عمر کے بندے سے وہ کیوں شادی کرے؟”
“وہ تو ٹھیک ہے جی مگر ۔۔۔ “
ملک نے دوسرے لوگوں کی طرف دیکھا۔ کسی نے بھی اس کی نظر کا ساتھ نہ دیا اور یوں ظاہر کیا جیسے وہ سب اس بات سے ناواقف ہوں۔
“مگر کیا ملک۔ بات پوری کیا کرو۔ ادھار کی رقم کی آدھی واپسی کی طرح درمیان میں وقفہ نہ ڈالا کرو۔”
“ایسی بات نہیں ہے چھوٹے مالک۔ “
ملک کھسیانا سا ہو گیا۔
” میں یہ کہہ رہا تھا کہ بات اس آدمی کی زیادہ عمر ہی کی نہیں تھی۔ بات کچھ اور بھی تھی۔ “
“وہ کیا؟”
“زبیدہ کسی اور کو پسند کرتی تھی جی۔ “
ملک نے کہا اور اس کے سر سے جیسے بہت بڑا بوجھ اتر گیا۔
” تو۔۔۔۔ ؟”
طاہر نے اس کے چہرے پر جما دیں۔
“ماسٹر محسن نے اس بات کا علم ہونے پر زبیدہ کی وہ دھنائی کی کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ “
“کیا مطلب ؟”
طاہر بری طرح چونکا۔
“ظاہر ہے جی۔ جوان بیٹی جب منہ سے بر مانگ لے تو غیرت مند باپ تو اسے جان سے ہی مار دے گا۔ “
ملک نے گردن اکڑا کر کہا۔
” وہ تو شکر ہے کہ زبیدہ کی ماں نے اسے بچا لیا ورنہ ماسٹر محسن تو شاید اس کی گردن اتار دیتا۔ “
“اس کے بعد کیا ہوا؟”
طاہر نے اضطراب سے پوچھا۔
” ہونا کیا تھا چھوٹے مالک۔ “
ملک بلال نے لاپروائی سے کہا۔
” یہ پندرہ دن پہلے کی بات ہے۔ زبیدہ کا رشتہ ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ ماسٹر نے اسے مار مار کر ادھ موا کر دیا۔ اب وہ چارپائی پر پڑی ہے۔ “
“اور جس سے وہ خود شادی کرنا چاہتی تھی۔۔۔ “
“وہ۔۔۔ وہ بے غیرت کا بچہ گھر میں منہ چھپائے بیٹھا ہے۔ “
“کون ہے وہ؟”
طاہر کا اضطراب اب بھی باقی تھا۔
“لالو تیلی کا بیٹا عادل۔ “
“عادل۔ “
طاہر پھر چونکا۔
“وہی عادل، جس نے پچھلے سال وظیفے کے امتحان میں ٹاپ کیا تھا اور جو آج کل محکمہ زراعت میں نوکری کر رہا ہے۔ “
“وہی جی۔ وہی بے غیرت عادل۔ “
ملک نے نفرت سے کہا۔
“اس نے اس معاملے میں کچھ نہیں کیا؟”
طاہر نے سر جھکائے، پاؤں سے زمین کریدتے اور غیر محسوس آواز میں حقے گڑگڑاتے ان مٹی کے مادھوؤوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جن کی غیرت اور بے غیرتی کا اپنا ہی معیار تھا۔
“کیا تھا جی۔ اس نے اپنے ماں باپ کو ماسٹر کے ہاں زبیدہ کے رشتے کے لئے بھیجا تھا۔ جواب میں ماسٹر نے انہیں بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا اور ایک بار پھر بیٹی کی خوب دھلائی کی۔ “
“لاحول ولا قوة۔ “
بے اختیار طاہر کے لبوں سے نکلا۔ پھر اس نے بڑی کڑی نظروں سے ملک کو دیکھا۔
“میرا خیال تھا کہ تعلیم اور بدلتے ماحول نے وجاہت آباد کے لوگوں کو فراخ دل اور وسیع النظر بنا دیا ہے مگر لگتا ہے اس کے لئے ابھی وقت لگے گا۔ “
“کیا مطلب چھوٹے مالک۔ “
بلال ملک نے گھبرا کر اس کی جانب دیکھا۔ باقی سب لوگوں نے بھی چونک کر سر اٹھائے اور طاہر کی طرف متوجہ ہو گئے۔
“اس کا جواب میں تھوڑی دیر بعد دوں گا۔ تم فوری طور پر ماسٹر محسن، لالو اور عادل کو یہاں بلاؤ۔ “
” آپ کیا کرنا چاہتے ہیں چھوٹے مالک؟”
ملک باقاعدہ گھبرا گیا۔
“جو کروں گا تم سب دیکھ ہی لو گے۔ فی الحال جو کہا ہے اس پر عمل کرو۔ ان تینوں کو بلاؤ یہاں۔ ابھی۔” طاہر کا لہجہ سخت ہو گیا۔
“جی چھوٹے مالک۔ “
ملک نے بیچارگی سے یوں کہا جیسے خود کو ماں بہن کی گالی دے رہا ہو کہ اس نے طاہر کے سامنے یہ بات کی ہی کیوں ؟ پھر اس نے بائیں ہاتھ چارپائی پر بیٹھے ایک ادھیڑ عمر آدمی کو ہاتھ کے اشارے سے اٹھ جانے کو کہا۔
“اوئے شکورے۔ جا۔ لالو، ماسٹر محسن اور عادل کو بلا کر لا۔ کہنا چھوٹے مالک نے بلایا ہے۔ “
“جی ملک صاحب۔ “
شکورا اٹھا اور چل پڑا۔
“اور سن۔ “
ملک نے اسے روکا۔
” تینوں کو اکٹھا نہ کر لینا۔ کہیں یہاں پہنچنے سے پہلے خون خرابہ کر بیٹھیں۔ لالو کا گھر پہلے ہے۔ اسے جاتے ہوئے پیغام دے جا۔ پھر ماسٹر کے گھر جانا۔ اور دونوں میں سے کسی کو نہ بتانا کہ دونوں کو یہاں اکٹھے بلایا گیا ہے۔ “
“جی ملک صاحب۔ “
شکورا سر ہلا کر چل دیا۔
“تم اچھے بھلے عقلمند آدمی ہو ملک۔ “
طاہر نے اس کی بات سے متاثر ہو کر کہا۔
“مگر میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ روایتی معاملوں میں تمہاری عقل کس جنگل میں گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔ “
“یہ غیرت کے معاملے میں کسی کے قابو نہیں آتے چھوٹے مالک۔ “
ملک خجل ہو گیا۔
“میں نے ان دونوں خاندانوں کو بہت سمجھایا مگر سب بے سود۔ “
” آئندہ یاد رکھنا۔ ایسا کوئی بھی معاملہ ہو، اگر تمہارے قابو میں نہ آئے تو مجھے فوراً خبر کرنا۔ میں گاؤں میں کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتا۔ “
“جی چھوٹے مالک۔ “
ملک نے سر جھکا لیا۔
اسی وقت موبائل گنگنا اٹھا۔ طاہر نے سائڈ کی جیب سے سیٹ نکالا۔ سکرین پر صفیہ کا نام دیکھ کراس نے یس کا بٹن دبا دیا۔
“ہیلو۔ “
اس نے موبائل کان سے لگا لیا۔
“کیا بات ہے؟”
” آپ کب تک لوٹیں گے؟”
صفیہ نے پوچھا۔
“خیریت؟”
“جی ہاں۔ بالکل خیریت ہے۔ ایک ضروری معاملہ آپ کے گوش گزار کرنا تھا۔ “
“کوئی ایمرجنسی ہے کیا؟”
طاہر نے چونک کر پوچھا۔
“ایسی ایمرجنسی بھی نہیں مگر میں چاہتی تھی کہ یہ بات آپ کے علم میں جتنی جلدی آ جائے، اس کا کوئی حل نکل آئے گا۔ “
“میں بھی یہاں ایک خاص معاملے میں الجھا ہوا ہوں۔ اس وقت آٹھ بجے ہیں۔ نو بجے تک لوٹوں گا۔ کیا اتنی دیر۔۔۔ “
“یہ کوئی دیر نہیں۔ “
صفیہ نے جلدی سے کہا۔
” میں نے بتایا ناں کہ بہت زیادہ ایمرجنسی کی بات نہیں ہے۔ آپ نو بجے تک آ جائیے گا۔ پھر بات کریں گے۔”
“اگر معاملہ زیادہ سیریس ہے تو۔۔۔ “
“جی نہیں۔ موبائل پر کرنے کی بات نہیں ہے۔ آپ گھر آ جائے۔ تسلی سے بات کریں گے۔ “
“او کے۔ میں جلدی آنے کی کوشش کروں گا۔ اللہ حافظ۔ “
“اللہ حافظ۔ “
صفیہ نے رابطہ کاٹ دیا۔
“خیریت ہے چھوٹے مالک۔ “
ملک، ہونے والی گفتگو سے کچھ اندازہ نہ لگا پایا تو پوچھا۔
“ہاں۔ حویلی جاؤں گا تو پتہ چلے گا۔ ویسے خیریت ہی ہو گی۔ ورنہ تمہاری مالکن مجھے فوراً آنے کو کہتی۔ “
ملک جواب میں محض سر ہلا کر رہ گیا۔ چوپال میں خاموشی چھا گئی۔ کبھی کبھی حقے کی گُڑ گُڑ اس میں ارتعاش پیدا کر دیتی اور بس۔
نماز سے فارغ ہو کر حافظ عبداللہ کچھ دیر چٹائی پر سر جھکائے بیٹھا رہا۔ وہ اب تک کی صورتحال پر غور کر رہا تھا۔ درویش کی باتیں اس کے دل و دماغ میں بھونچال سا پیدا کر رہی تھیں۔ اس کی کئی باتوں کا مفہوم اسے اب سمجھ آ رہا تھا۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ پھر وہ اس وقت چونکا جب لڑکی کے ادھ کھلے ہونٹوں سے ایک ہلکی سی کراہ خارج ہوئی۔ وہ آہستہ سے اٹھا اور چارپائی کے پاس چلا آیا۔ لڑکی غنودگی ہی کے عالم میں کراہی تھی۔ ابھی تک اس کے ہوش میں آنے کے آثار واضح نہیں تھے۔ اس نے تو اب تک کروٹ بھی نہ لی تھی۔ چت پڑی تھی۔
حافظ عبداللہ نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں۔ وہ اچھی خاصی قبول صورت تھی۔ عمر بیس بائیس سے زیادہ نہ ہو گی۔ شادی شدہ بھی نہ لگتی تھی۔ کانوں میں سونے کی بالیاں تھیں۔ ناک میں لونگ نے اس کی کشش کو بڑھا دیا تھا۔
اس کے ہونٹوں کی نیلاہٹ اب تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ کمبل میں اس کے بدن کا گداز حافظ عبداللہ کو یاد آیا تو وہ تھرا کر رہ گیا۔ “استغفر اللہ” کہہ کر اس نے لڑکی کی چہرے سے نظریں ہٹانا چاہیں ، مگر چونک کر رک گیا۔
نجانے کیوں اسے لگا کہ لڑکی بڑا کھینچ کر سانس لے رہی ہے اور اس کے چہرے پر نمایاں ہوتی ہوئی تمتماہٹ کمرے کے ماحول یا کمبل کی گرمی کی وجہ سے نہیں ہے۔
اپنا شک دور کرنے کے لئے اس نے اپنا ہاتھ لڑکی کے صبیح ماتھے پر رکھا اور گھبرا کر واپس کھینچ لیا۔ ماتھا تو آگ کی طرح تپ رہا تھا۔ اپنے اندیشے کی تصدیق کیلئے اس نے ذرا سا کمبل سرکایا اور لڑکی کا پہلو میں پڑا ہاتھ چھو کر دیکھا۔ ہاتھ بھی انگارہ بنا ہوا تھا۔
“کہیں اس پر نمونیہ کا حملہ تو نہیں ہو گیا؟”
اس کے ذہن میں ایک خیال سرسرایا۔
یہ ناممکن بھی نہیں تھا۔ وہ نجانے کب سے سیلاب کے یخ پانی میں بہ رہی تھی۔ پانی سرد، اوپر سے سردی کا موسم۔ اس کا اکڑا ہوا بدن تو اب نرمی پکڑ رہا تھا مگر سردی یقیناً اس پر اپنا اثر دکھا چکی تھی۔
لڑکی کا ہاتھ کمبل کے اندر کر کے وہ سیدھا ہو گیا۔ اس وقت، اس جگہ وہ اس کی کوئی بھی مدد نہیں کر سکتا تھا۔ دوا کے نام پر وہاں پھانکنے کو دھول تک نہ تھی۔ اور اس صورتحال میں وہ اس کے لئے کیا احتیاطی اور طبی تدبیر کرتا، اس سے وہ نابلد تھا۔
کچھ سوچ کر وہ باہر نکلا، دروازہ بھیڑ دیا اور ساتھ والے کمرے میں چلا آیا۔ یہ وہ کمرہ تھا جس کے اندر سے اسے درویش کے نماز میں قرات کرنے کی آواز سنائی دی تھی۔ کمرے کے قبلہ رخ طاق میں چراغ جل رہا تھا۔
مغربی دیوار کے پاس آگے پیچھے دو چٹائیاں بچھی تھیں۔ آگے والی چٹائی پر عین درمیان میں رحل پر سبز جزدان میں ملفوف قرآنِ حکیم دھرا تھا۔ اس کے علاوہ کمرے میں اور کوئی سامان نہ تھا۔ وہ چاروں طرف نظر دوڑا کر باہر نکل آیا۔ اب اس کا رخ مزار کی جانب تھا۔ مزار کے باہر چپل اتار کر اس نے سبز دروازہ وا کیا اور اندر داخل ہو گیا۔
صحن کے پار سامنے سبزمنقش چادروں اور پھولوں سے ڈھکی بابا شاہ مقیم کی قبر پر چند اگر بتیاں سلگ رہی تھیں ، جن کی بھینی بھینی خوشبو سے وہاں کا ماحول اس اکیلی رات میں عجیب پُراسرار سا ہو گیا تھا۔ صحن کے بائیں ہاتھ بنے کمرے کو دیکھتا ہوا وہ بابا شاہ مقیم کے گنبد میں داخل ہو گیا۔
گنبد کے اندر شمالی جانب ایک لکڑی کی الماری میں اَن گنت قرآن پاک کے نسخے، سیپارے اور دوسری وظائف کی کتب پڑی تھیں۔ چھت کے درمیان کسی چاہنے والے نے قندیل لٹکا دی تھی۔ دیواروں پر پھولدار ٹائلیں جڑی تھیں۔
قبر کے ارد گرد دیواروں تک کی تقریباً چار چار فٹ کی جگہ پر کھجور کی صفیں ترتیب سے بچھی تھیں۔ مشرقی سمت میں ایک بڑی کھڑکی تھی جو اس وقت بند تھی۔ قبلہ رخ محراب بنی تھی تاکہ اگر کوئی وہاں نوافل وغیرہ پڑھنا چاہتا تو اسے دقت نہ ہوتی۔
حافظ عبداللہ آہستہ قدموں سے چلتا ہوا بابا شاہ مقیم کے چہرے کی جانب آیا اور دو زانو ہو کر بیٹھ گیا۔ بے اختیار اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔ سر جھک گیا اور ہاتھ گود میں آ پڑے۔ کچھ دیر اسی عالم میں گزری تو غیرمحسوس انداز میں اس کے دل کی دھڑکن مدھم سی ہو گئی اور وہ ارد گرد سے بے خبر ہو گیا۔
بڑی آہستگی سے ایک انجانی سی مہک کا ایک جھونکا جاگا اور حافظ عبداللہ کے گرد ہالہ سا تن گیا۔ مہک نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ اسے لگا، اس کے بالوں میں بڑی نرمی سے کوئی اپنی انگلیاں پھیر رہا ہے۔ اسے دلاسہ دے رہا ہے۔ تشفی دے رہا ہے۔ پیار کر رہا ہے۔ ہمت بندھا رہا ہے اس کی۔ حوصلہ دے رہا ہے اسی۔
کتنی دیر گزری، اسے پتہ نہ چلا۔ جب یہ احساس مدھم پڑا تو دھیرے سے اس نے سر اٹھایا، تب اسے علم ہوا کہ اس کی داڑھی آنسووں سے تر تھی۔ شبنم، اس کے گود میں دھرے ہاتھوں پر قطرہ قطرہ گر رہی تھی۔ گریبان بھیگا ہوا تھا اور اندر جیسے دھُل سا گیا تھا۔
آہستہ سے اس نے ہاتھ چہرے پر پھیرے۔ اشک سارے چہرے پر ملتے ہوئے لگا جیسے اس نے وضو کر لیا ہو۔
“بابا۔ “
اس کے نہاں خانہ دل سے بے اختیار ایک سرگوشی ایک بار پھر آنسوؤں کی برسات لئے نکلی اور ماحول میں رچی مہک کے ساتھ ہو لی۔ ہچکیاں لیتے ہوئے اس نے قبر کے تعویذ پر سر ٹیک دیا۔
وہ کیوں رو رہا تھا؟ اسے خود معلوم نہ تھا لیکن اسے تو سب معلوم تھا جو اسے رُلا رہا تھا۔ نہیں۔ رُلا نہیں رہا تھا، اسے پاکیزگی کا غسل دے رہا تھا۔ اس پانی سے وضو کرا رہا تھا جو ہر ایک کے اندر تو ہوتا ہے، باہر نصیب والوں ہی کے آتا ہے۔
ماسٹر محسن، لالو تیلی اور اس کا بیٹا عادل، تینوں آ چکے تھے۔ ماسٹر محسن ان دونوں کو بار بار بڑی کینہ توز نظروں سے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ باپ بیٹا سر جھکائے بیٹھے تھے۔
ماحول پر ایک تناؤ سا طاری تھا۔ طاہر نے ملک کی جانب دیکھا۔ اس نے اس کا عندیہ جان کر چاچا شمسو کو ہاتھ اٹھا کر دور ہی سے اشارہ کیا۔ اسی وقت دو تین آدمی اپنی جگہوں سے اٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد وہ آدمی چاچا شمسو کے ساتھ سب لوگوں کو چائے کے پیالے تھما رہے تھے۔
ملک نے طاہر کے بائیں ہاتھ موڑھے پر بیٹھے لالو اور عادل اور دائیں ہاتھ بیٹھے ماسٹر محسن کو خود چائے کے پیالے پیش کئے، جو خاموشی سے لے لئے گئے۔ طاہر اور ملک نے سب سے آخر میں چائے لی اور ہولے ہولے چسکیاں لینے لگے۔
پھر جب لالو اور ماسٹر محسن نے خالی پیالے زمین پر رکھے تو طاہر نے بھی اپنا پیالہ ملک کے حوالے کر دیا۔ پہلو بدلا۔ سنبھل کر بیٹھا اور ماسٹر محسن کی طرف متوجہ ہوا۔
“ماسٹر صاحب۔ میں نے آپ کو جس مقصد سے یہاں بلایا ہے، وہ تو آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ “
اس نے بڑے ناپ تول کر الفاظ زبان سے نکالے۔
“جی۔ “
ماسٹر محسن نے اس کی جانب نظریں اٹھائیں۔
” پھر بھی میں آپ کی زبان سے سننا چاہوں گا۔ “
اس کی آواز بالکل سپاٹ تھی۔
“میں آپ سے عمر میں بھی چھوٹا ہوں اور منصب میں بھی ماسٹرصاحب۔ آپ خیر بانٹتے ہیں۔ علم کی آبیاری کرتے ہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ میری کسی بات سے آپ کی دل آزاری نہ ہو اور اگر ایسا ہو جائے تو وہ سہواً” ہو گا۔ پھر بھی اس کے لئے میں پیشگی آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔ “
طاہر کے لہجے میں جو ادب تھا اس نے ماسٹر محسن کی پیشانی پر ٹوٹی ٹھیکریوں میں نمایاں کمی کر دی۔ کچھ دیر رک کر اس نے پھر زبان کھولی۔
“میں اس جھگڑے کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا جو ہو چکا ہے۔ صرف یہ چاہوں گا کہ اس جھگڑے کے اثرات مٹ جائیں۔ “
“کیسے؟”
ماسٹر محسن کا لہجہ بڑا تلخ تھا۔
“اس کا حل تو موجود ہے ماسٹر صاحب مگر اس کے لئے آپ کی رضامندی بنیادی شرط ہے۔ “
طاہر نے اس کڑواہٹ کو نظر انداز کر دیا۔
“اور اگر میں اس پر راضی نہ ہوں تو؟”
ماسٹر نے بڑے ضبط سے کہا۔
“میں پھر بھی کوشش ضرور کروں گا ماسٹر صاحب۔ یہ میرا حق ہے اور مجھ پر فرض بھی۔ اپنے والد کے بعد گاؤں کے دُکھ سُکھ کی ذمہ داری مجھ پر سب سے پہلے اور سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے۔ “
“کیا مجھے کھل کر کچھ کہنے کی اجازت ہے چھوٹے مالک؟”
اچانک ماسٹر محسن کا پیمانہ صبر جیسے لبریز ہو گیا۔ اس کے لہجے میں ٹیس سی محسوس کر کے طاہر کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔
” آپ جو کہنا چاہیں ، جیسے کہنا چاہیں ، آپ کو اس کے لئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ماسٹر صاحب۔ یہاں آپ کی کسی بات کا برا منانے والا میرے سمیت کوئی ایک فرد بھی موجود نہیں ہے۔ “
“تو مجھے صرف یہ بتائیے کہ اگر میری جگہ۔۔۔ ” ماسٹر محسن ایک ثانئے کو رکا، طاہر کی جانب دیکھا اور انگلی اس کی طرف اٹھا دی۔
” آپ ہوتے تو۔۔۔ “
“ماسٹر۔۔۔ “
بلال ملک نے تیزی سے کہنا چاہا۔ باقی کے سب لوگ بھی ہکا بکا رہ گئے۔ ماسٹر سے اتنی بڑی بات کی توقع کسی کو بھی نہ تھی۔ لالو اور عادل بھی پہلو بدل کر رہ گئے۔
“ملک۔ “
طاہر نے ہاتھ اٹھا کر اس کی بات کاٹ دی اور مزید کچھ کہنے سے تحکمانہ اشارے سے روک بھی دیا۔ ملک با دلِ نخواستہ واپس اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ تاہم اس کے انداز سے ناراضگی واضح تھی۔
” آپ گھبرائیے نہیں ماسٹر صاحب۔ “
طاہر کا لہجہ پھر نرم ہو گیا۔
” میں نے کہا ناں ، آپ کو جو کہنا ہے اور جس طرح کہنا ہے، کہئے۔ میں نے آپ کا دُکھ سننے ہی کے لئے آپ کو یہاں بلایا ہے۔ “
“مجھے زیادہ نہیں کہنا۔ “
ماسٹر محسن کا لہجہ شکستگی سے کٹ گیا۔ ہاتھ نیچے ہو گیا۔
“صرف یہ پوچھنا ہے کہ اگر میری جگہ آپ ہوتے تو کیا کرتے؟”
اس کا سر جھک گیا۔
“ماسٹر صاحب۔ “
طاہر نے اس کے چہرے پر نگاہیں جما دیں۔
” آپ کے سوال کا جواب میرے ان چند چھوٹے چھوٹے سوالوں میں پوشیدہ ہے جو میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں ، اگر آپ کو برا نہ لگے تو۔۔۔ “
“جی۔ پوچھئے۔ “
ماسٹر محسن نے دونوں بازو سینے پر باندھ لئے اور خاک آلود اینٹوں کے فرش کو گھورنے لگا۔
“اتنا تو آپ بھی جانتے ہیں ماسٹر صاحب کہ ہمارے مذہب نے شادی میں پسند اور ناپسند کے جو حقوق مرد کو دیے ہیں وہی عورت کو بھی حاصل ہیں۔ “
“جی۔ “
ماسٹر نے مختصر سا جواب دیا۔
“زبیدہ نے نثار کے رشتہ سے کیوں انکار کیا؟”
طاہر نے ہولے سے پوچھا۔
“وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ “
ماسٹر محسن مضطرب سا ہوا۔
“مجھے معلوم ہے کہ اس نے انکار کیوں کیا ماسٹر صاحب اور یہی بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم بیٹے کو اس کی پسند کے بارے میں پوچھ کر، کبھی کبھار اسے لڑکی دکھا کر بھی شادی کے بارے میں اس کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں تو زندگی کے اس سب سے بڑے فیصلے کے بارے میں بیٹی کو زبان کھولنے کی اجازت کیوں نہیں دیتی_
جبکہ ہمارا دین اس کے لئے بیٹی کو بھی یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی پسند سے آگاہ کر سکتی ہے۔ جس سے اس کا نکاح کیا جا رہا ہے، اسے نکاح سے پہلے دیکھ سکتی ہے اور ہاں یا نہ کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ جب زبیدہ نے آپ کے مجوزہ رشتے سے انکار کرتے ہوئے آپ کو اپنی پسند سے آگاہ کیا تو آپ نے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بجائے اس کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا۔ اسے مارا پیٹا۔ کیوں ؟” طاہر کی آواز بلند ہو گئی۔
” آپ کو یہ حق تو ہے کہ اگر اس کے لئے عادل کا رشتہ موزوں نہ تھا تو اس کی اونچ نیچ سے زبیدہ کو آگاہ کرتی۔ اسے سمجھاتے۔ مگر اس پر ہاتھ اٹھانا کیا مناسب تھا؟دوسرے جب عادل کے گھر والے اس کا رشتہ لے کر آپ کے دروازے پر پہنچے تو آپ کو پورا حق تھا کہ آپ اس رشتے سے انکار کر دیتے، جیسا کہ آپ نے کیا بھی لیکن اس کے بعد آپ نے ایک بار پھر زبیدہ ہی کو کیوں پیٹا؟”
” باتیں کرنا بہت آسان ہیں چھوٹے مالک۔ “
ایک دم ماسٹر محسن کی زبان کا تالا کھلا۔
“سمجھانے کے نام پر نصیحتیں کرنا بھی کوئی مشکل کا م نہیں۔ مجھے علم کی روشنی تقسیم کرنے والا خیال کر کے میری اس جاہلانہ حرکت پر مجھ سے جواب طلبی بھی کی جا سکتی ہے لیکن خاندان اور گاؤں والوں کی باتوں کے زہریلے نشتر، ان کے طعنوں کا پگھلا ہوا سیسہ قطرہ قطرہ کانوں میں اتارنا کتنا مشکل ہے، اس کا آپ کو علم نہیں ہے۔
اس کیفیت سے گزر کر دیکھئے چھوٹے مالک، جس سے قسمت نے مجھے دوچار کر دیا ہے۔ پھر آپ کو احساس ہو گا کہ جس پھول سی بیٹی کو میں نے کبھی جھڑکی نہیں دی، اس پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے میرے دل کے کتنے ٹکڑے ہوئے ہوں گی۔ “
ماسٹر محسن کی آواز بھرا گئی۔
” میں ایک عام سا، کمزور آدمی ہوں چھوٹے مالک، جس کے سر پر استاد ہونے کا تاج ہے تو دامن میں صرف عزت کے چند ٹکڑے، جن کے چھن جانے کے احساس نے مجھے اپنی بیٹی کے ساتھ قصائیوں کا سا سلوک کرنے پر مجبور کر دیا۔
میں دین کے بارے میں وہ بھی جانتا ہوں جو اس چوپال میں بیٹھے سب لوگوں کے لئے شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے مگر مجھے انہی کے درمیان رہنا ہے۔ انہی کے ساتھ رشتے اور تعلقات نبھانے ہیں۔ نثار کا رشتہ میں نے کیوں قبول کیا، اس کے پیچھے میری صرف ایک مجبوری تھی۔
میرے پورے خاندان میں زبیدہ کے لئے ایسا کوئی لڑکا موجود نہیں ہے جس کے ساتھ میں اس کی شادی کر سکوں۔ لڑکے اَن پڑھ ہیں یا زبیدہ سے عمر میں چھوٹے ہیں۔ میری بیٹی ایف اے پاس ہے۔ میں دل کا مریض ہوں چھوٹے مالک۔ کب زندگی کی شام ہو جائے، نہیں جانتا۔
مجھے دور دور تک اس کے لئے جب مناسب رشتہ نظر نہ آیا تو دل پر جبر کر کے میں نے نثار کے رشتے کے لئے ہاں کہہ دی۔ “
“ایک منٹ ماسٹر صاحب۔ “
طاہر نے اس کی بات روک دی۔
” یہاں تک میں آپ کی ہر بات سے پوری طرح متفق ہوں۔ آپ نے جو کیا، درست کیا لیکن جب زبیدہ نے انکار کیا اور اس کے بعد عادل کا رشتہ بھی اس کے لئے آیا تب آپ نے خدا کا شکر ادا کرنے کے بجائے انکار اور مار پیٹ کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ میرا خیال ہے عادل، ہر طرح سے زبیدہ کے لئے موزوں ہے۔ “
“مگر وہ ہماری برادری سے نہیں ہے چھوٹے مالک۔ “
“لاحول ولا قوة الا باللہ۔ “
بے اختیار طاہر کی زبان سے نکلا۔
” ماسٹر صاحب۔ اب آپ کی سوچ پر مجھے افسوس نہ ہو تو یہ میری اپنے ساتھ زیادتی ہو گی۔ آپ پڑھے لکھے ہو کر بھی ذات برادری کے چکر میں غوطے کھا رہے ہیں ؟ “
“یہ معمولی بات نہیں ہے چھوٹے مالک۔ “
ماسٹر محسن نے سر اٹھایا۔
” میں نے شروع میں پوچھا تھا کہ اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟ اس سوال کا جواب دینے کا یہ بہت اچھا موقع ہے۔ آپ نے بھی تو ابھی ابھی شادی کی ہے۔ آپ نے خاندان، ذات برادری دیکھ کر ہی تو نکاح کیا ہو گا؟”
طاہر کے ہونٹوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ نے ہلکورا لیا۔
“ماسٹر صاحب۔ اگر میرے جواب نے ذات برادری کی نفی کر دی تو؟”
اس نے ماسٹر محسن کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔
“تو میں وعدہ کرتا ہوں چھوٹے مالک کہ مجھے آپ کا۔۔۔ ” ماسٹر صاحب نے پورے عزم سے کہا۔
” ہر فیصلہ منظور ہو گا۔ “
“سوچنے کی مہلت نہیں دوں گا میں آپ کو۔ “
طاہر نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔
“میں ایک سیکنڈ کا وقت نہیں مانگوں گا۔ “
وہ بھی آخری داؤ کھیلنے کے سے انداز میں بولے۔
“تو سنئے ماسٹر صاحب۔ میری بیوی اور آپ کی چھوٹی مالکن نہ تو میرے خاندان سے ہے، نہ میری ذات برادری سے اور نہ ہی کسی کروڑ پتی گھرانے سے۔ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک یتیم لڑکی ہے جس کی شرافت اور خوب سیرتی نے مجھے اسیر کر لیا اور اس اسیری کی بھی وضاحت کر دوں۔
میں نے اسے شادی سے پہلے دیکھا تک نہ تھا۔ آپ کی بڑی مالکن نے اسے پسند کیا اور ہم دونوں کو نکاح کے بندھن میں باندھ دیا۔ اب کہئے کیا کہتے ہیں آپ؟”
ماسٹر محسن منہ کھولے طاہر کو دیکھے جا رہا تھا۔ وہاں موجود گاؤں والوں کو بھی اس حقیقت کا شاید آج ہی علم ہوا تھا، اس لئے وہ بھی حیران حیران سے تھے۔
“میں آپ کی حیرت ختم ہونے کا منتظر ہوں ماسٹر صاحب۔ “
کتنی ہی دیر بعد طاہر نے ماسٹر محسن کو مخاطب کیا تو وہ دھیرے سے چونکے۔
“جی۔۔۔ “
ماسٹر صاحب نے پلکیں جھپکیں تو نمی رخساروں پر ڈھلک آئی۔
” میں حیران کم اور شرمندہ زیادہ ہوں چھوٹے مالک۔” انہوں نے چشمہ اتار کر آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا۔
” آپ کو شرمندہ کرنا میرا مقصد نہیں تھا ماسٹر صاحب۔ “
طاہر نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہلکے سے دبایا۔
“میں تو اس مسئلے کا حل چاہتا ہوں جس نے آپ جیسے ذی علم انسان کو کانٹوں کے بستر پر لا پھینکا۔ “
“اب کوئی چبھن نہیں چھوٹے مالک۔ “
ماسٹر محسن نے چشمہ دوبارہ آنکھوں پر چڑھا لیا۔ “میرا دل مطمئن ہے۔ آپ جو فیصلہ کریں گے مجھے منظور ہے۔ “
“نہیں ماسٹر صاحب۔ “
طاہر نے اس کے کندھے سے ہاتھ اٹھا لیا۔
“فیصلہ اب بھی آپ ہی کا ہے۔ میں تو صرف مشورہ دے سکتا ہوں۔ “
“میرے لئے وہ بھی حکم ہو گا چھوٹے مالک۔ آپ فرمائیے۔ “
ماسٹر محسن کا لہجہ بیحد پُرسکون تھا۔
“عادل بہت اچھا لڑکا ہے ماسٹر صاحب۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔ “
طاہر نے آہستہ سے کہا اور ہونٹ کاٹتے لالو کی جانب دیکھا جو کسی بھی لمحے رو دینے کو تھا۔ عادل سر جھکائے فرش کو گھور رہا تھا۔
” آپ تاریخ مقرر کر دیجئے چھوٹے مالک۔ میری طرف سے کوئی دیر نہیں ہے۔ “
ماسٹر محسن سب کچھ نبٹا دینے پر تلے بیٹھے تھے۔
“کیوں لالو چاچا؟”
طاہر نے اس کی جانب دیکھا اور ایک دم لالو کندھے پر پڑے رومال کے کونے میں منہ چھپا کر بلک پڑا۔ اس کی ہچکی سی بندھ گئی۔ وہ بچوں کی طرح روئے جا رہا تھا۔
ملک نے ایک دم اٹھ کر اس کی طرف بڑھنا چاہا مگر طاہر نے اسے روک دیا اور ماسٹر محسن کی جانب دیکھا۔ ایک دم ماسٹر صاحب اٹھے اور دو قدم بڑھ کر لالو کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔
“لالو۔ “
ان کے ہونٹوں سے نکلا اور لالو نے ان کے دونوں ہاتھ تھام کر برستی آنکھوں سے لگا لئے۔ ماسٹرصاحب نے چند لمحے انتظار کیا۔ پھر ہاتھ اس کی گرفت سے نکال کر اسے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا اور سینے سے لگا لیا۔
کتنی ہی آنکھیں نم نظر آ رہی تھیں۔ ملک ہنسا تو اس کے ہونٹوں کے گوشے لرز رہے تھے۔ رہا طاہر۔۔۔ تو وہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے ان دونوں کو ایسی فتح مندانہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھ رہا تھا جس میں گاؤں کا بڑا ہونے کا غرور چھلکا پڑ رہا تھا۔
رات آدھی سے زیادہ جا چکی تھی۔
حافظ عبداللہ چٹائی پر بیٹھا تھا۔ جو قرآن پاک رحل پر اس کے سامنے کھلا رکھا تھا، یہ وہی تھا جو اسے دوسرے کمرے میں ملا تھا۔ مزار سے نکل کر جب وہ لڑکی والے کمرے میں آیا تو لڑکی ابھی تک بے سدھ تھی۔
تاہم مزار سے واپسی پر جب اس نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر حرارت کی شدت جاننا چاہی تو حیرت انگیز طور پر اس میں نمایاں کمی آ چکی تھی۔ اس کا دل تشکر اور ممنونیت سے لبالب ہو گیا۔ یہ صاحبِ مزار کی کرامت ہی تو تھی جو اللہ کے فضل سے ظاہر ہوئی تھی۔
اس نے لڑکی کو ہوش میں لانے کا خیال ترک کر دیا۔ ساتھ والے کمرے میں گیا اور وہاں سے قرآن پاک اور رحل اٹھا لایا۔ کمرے کا دروازہ بھیڑ دیا۔ کھیس کی بکل ماری۔ طاق میں رکھے چراغ کے قریب، چٹائی پر دو زانو بیٹھ کر قرآن پاک کو بوسہ دیا۔ کھولا اور منزل کرنے میں لگ گیا۔
کبھی کبھی وہ آہستہ سے گردن گھما کر لڑکی کا طائرانہ سا جائزہ لے لیتا اور دوبارہ دہرائی میں محو ہو جاتا۔
وقت گزرنے کا اسے احساس تو ہو رہا تھا مگر کتنا گزر گیا، یہ اسے علم نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جلد سے جلد صبح ہو جائے تاکہ وہ گاؤں جا سکے۔ گاؤں کا خیال آیا تو اس کا دھیان مسجد کی جانب چلا گیا۔
مغرب اور عشاء کے وقت وہ وہاں موجود نہ تھا۔ نمازیوں کو بڑی دقت ہوئی ہو گی اور ساتھ ہی وہ فکرمند بھی ہوئے ہوں گے کہ آج حافظ کہاں چلا گیا؟ کسی کو بھی پتہ نہ تھا کہ وہ عصر کے بعد روزانہ کہاں جاتا ہے؟ ورنہ اب تک اسے کوئی نہ کوئی تلاش کرتا یہاں تک آ ہی چکا ہوتا۔
قرآن پاک کے الفاظ زبان سے ادا ہو رہے تھے اور دماغ ایسی ہی ادھر ادھر کی سوچوں میں بار بار الجھ رہا تھا۔ ایک آیت ختم کرتے ہوئے اس نے لڑکی کا جائزہ لینے کے لئے آہستہ سے گردن گھمائی اور الفاظ لڑکھڑا گئی۔ وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی۔ شاید اسے پیاس لگی تھی۔
لڑکی کی پیاس کا خیال جب تک حافظ عبداللہ کے دل میں آتا، تب تک برانگیختہ کر دینے والی کتنے ہی سوچیں اس پر یلغار کر چکی تھیں۔ لڑکی کا لبوں پر زبان پھیرنے کا انداز اتنا دلفریب تھا کہ حافظ عبداللہ کا دل بے قابو ہو گیا۔
“پانی۔۔۔ “
اسی وقت لڑکی کے لبوں سے بڑی مہین سی آواز نکلی۔
حافظ عبداللہ چونک کر اپنی دگرگوں کیفیت سے باہر آیا۔ کھیس کو بدن سے الگ کیا۔ چنگیر کے پاس پڑا مٹی کا پیالہ اٹھا یا اور کمرے سے نکل گیا۔ چند لمحے بعد لوٹا تو پیالے میں پانی تھا۔ ساتھ ہی اس کے چہرے پر وضو کے اثرات نمایاں تھے۔ سرد پانی نے اسے اپنی غیر ہوتی ہوئی حالت کو سنبھالنے میں بڑی مدد دی تھی۔
وہ چارپائی کے قریب آ کھڑا ہوا۔ لڑکی کے پپوٹے لرز رہے تھے۔ اب بھی وہ ہونٹوں پر زبان پھیر رہی تھی اور “پانی۔۔۔ پانی”
کے الفاظ وقفے وقفے سے ادا کرتے ہوئے آہستہ آہستہ سر کو دائیں بائیں حرکت دے رہی تھی۔
“لیجئے۔ پانی پی لیجئے۔ “
حافظ عبداللہ نے اسے پکارا۔
لڑکی نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہ تھی۔ حافظ عبداللہ نے اسے چار پانچ بار پکارا مگر وہ تو نیم بیہوشی کے عالم میں پانی مانگ اور سر دائیں بائیں مار رہی تھی۔
حافظ عبداللہ تھوڑی دیر پیالہ ہاتھ میں لئے کچھ سوچتا رہا پھر اس نے جیسے کوئی فیصلہ کر لیا۔ پانی کا پیالہ دائیں ہاتھ میں لے کر اس نے دل کڑا کیا اور بایاں ہاتھ لڑکی کی گردن میں ڈال دیا۔ پھر اسے اوپر اٹھاتے ہوئے ذرا سا جھکا اور جگہ بنتے ہی چارپائی کی پٹی پر ٹک گیا۔
جسم کی کپکپی پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے پیالہ لڑکی کے ہونٹوں سے لگا دیا۔ چھوٹے چھوٹے تین چار گھونٹ بھر نے کے بعد لڑکی نے منہ ہٹا لیا تو حافظ عبداللہ نے اٹھتے ہوئے اسے واپس چارپائی پر لٹا دیا اور خود پھولے ہوئے سانس کے ساتھ پرے ہٹ گیا۔
سردی کی رات میں ابھی چند منٹ پہلے وہ یخ پانی سے وضو کر کے آیا تھا۔ اس کے باوجود اس کی پیشانی پسینے کے گرم قطروں سے یوں بھیگ چکی تھی جیسے وہ اب تک دہکتے تندور پر جھکا رہا ہو۔ لڑکی اب اتنی بے سدھ نہ تھی۔
حافظ عبداللہ کو لگا، تھوڑی دیر میں وہ ہوش میں آ جائے گی کیونکہ اس کی آنکھوں پر جھکے پپوٹے ہولے ہولے پھڑک رہے تھے اور وہ بار بار گلا تر کرنے کے انداز میں تھوک بھی نگل رہی تھی۔
پیالے میں ابھی کچھ پانی باقی تھا۔ حافظ عبداللہ نے چاہا کہ پانی پی لے تاکہ اس کے حواس میں بھڑکتی آگ میں کچھ تو کمی آئے۔ پھر نجانے کیا سوچ کر رک گیا۔
اس نے پیالہ چارپائی کے سرہانے فرش پر رکھا اور کمرے سے نکل گیا۔ ہینڈ پمپ پر جا کر اس نے ایک بار پھر چہرے پر سرد پانی کے چھینٹے ماری۔ اوک میں لے کر حلق تک پانی پیا۔ پھر کرتے کے دامن سے چہرہ اور ہاتھ خشک کرتا ہوا واپس لوٹ آیا۔
کمرے میں داخل ہوا تو چونک پڑا۔
لڑکی ہوش میں آ چکی تھی۔ اس نے کمبل ایک طرف ڈال دیا تھا اور لرزتی کانپتی چارپائی سے اتر چکی تھی۔ حافظ عبداللہ پر نظر پڑی تو وہ ٹھٹکی۔ گھبرا کر اس نے کمبل سے اپنے نیم برہنہ جسم کو چھپایا اور دیوار کی طرف الٹے پاؤں سرکتے ہوئے متوحش ہرنی کی طرح اسے دیکھنے لگی۔
“گھبرائیے نہیں۔ “
حافظ عبداللہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید پیچھے ہٹنے سے روک دیا۔
“مجھ سے آپ کو کوئی خطرہ نہیں۔ “
اس نے دروازے کے اندر آتے ہی اپنے قدم روک لئے۔ اتنی دیر میں وہ دیوار کے بالکل ساتھ جا لگی۔
“میں اس وقت کہاں ہوں ؟”
کچھ دیر تک حافظ کو بغور گھورتے رہنے کے بعد اس نے آہستہ سے پوچھا۔
“نور پور گاؤں یہاں سے کچھ ہی دور ہے۔ “
حافظ عبداللہ نے جواب دیا اور ایک قدم آگے بڑھ آیا۔
“نور پور؟”
حیرت سے اس کا منہ کھل گیا۔
“جی ہاں۔ “
حافظ عبداللہ نے چٹائی پر پڑا کھیس اٹھا کر اپنے جسم کے گرد لپیٹتے ہوئے کہا۔
” میں نور پور کی اکلوتی مسجد کا امام ہوں۔ یہ جگہ بھی نور پور ہی کی حد میں آتی ہے۔ بابا شاہ مقیم کے مزار کا ایک کمرہ ہے جہاں آپ اس وقت موجود ہیں۔ “
“بابا شاہ مقیم۔ “
لڑکی بڑبڑائی۔
” مگر میں اتنی دور۔۔۔ “
” آپ ایک درخت کے ساتھ چمٹی ہوئی سیلابی ریلے میں بہتی جا رہی تھیں۔ میں اتفاق سے وہاں ٹبے پر موجود تھا۔ اللہ نے ہمت دی اور میں آپ کو پانی سے نکال لایا۔ “
“یہ کب کی بات ہے؟”
لڑکی اب بھی پریشان تھی۔
” آج شام کے قریب کا وقت تھا۔ تب سے آپ بیہوش پڑی تھیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے آپ نے پانی مانگا تو میں نے چند گھونٹ آپ کو پلائے۔ پھر میں۔۔۔ “
حافظ عبداللہ کہتے کہتے رک گیا۔ ایک پل کو اس کے بدن میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔ پھر وہ نظر اس کے سراپے سے ہٹا کر بولا۔
“وضو کرنے چلا گیا۔ واپس آیا تو آپ شاید بھاگنے کی تیاری میں تھیں۔ “
ہلکی سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر کھیلنے لگی۔
“نن۔۔۔ نہیں۔ بھاگنے کی نہیں۔ “
وہ گڑبڑا گئی اور ہونٹوں پر زبان پھیر کر حافظ عبداللہ کی طرف دیکھا۔
“میں آپ کی کیفیت سمجھ سکتا ہوں۔ “
حافظ عبداللہ نے کہا۔
” اس صورتحال میں آپ کا کوئی بھی اقدام اپنی حفاظت اور مجھ پر بد گمانی کے لئے جائز ہے۔ “
اس نے دروازہ آدھا بھیڑ دیا۔
“یہ دروازہ کیوں بند کر دیا آپ نے؟”
وہ جلدی سے دو قدم آگے آ گئی۔
“ہوا بہت سرد ہے۔ “
حافظ عبداللہ نے نرمی سے کہا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
” آپ کا بخار شاید اب کم ہو گیا ہے۔ تاہم جب میں آپ کو پانی سے نکال کر لایا تھا تو آپ انگارے کی طرح دہک رہی تھیں۔ ابھی ٹھنڈی ہوا آپ کے لئے نقصان دہ ہے۔ پھر میں نے دروازہ بند نہیں کیا، صرف بھیڑ دیا ہے۔ آپ خود کو سنبھالئے۔ شک اور اندیشہ اس وقت آپ کا حق ہے مگر ہم دونوں کے علاوہ بھی ایک ہستی یہاں موجود ہے، جس کے ہوتے ہوئے آپ کو ہر اندیشے سے بے نیاز ہو جانا چاہئے۔ “
“کون۔۔۔ کون ہے تیسرایہاں ؟”
لڑکی نے چونک کر پوچھا
__________________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: