Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 11

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 11

–**–**–

“کون۔۔۔ کون ہے تیسرا یہاں ؟”
لڑکی نے چونک کر پوچھا۔
“وہ۔۔۔ “
حافظ عبداللہ نے چھت کی جانب انگلی اٹھا دی۔
“وہ، جو ہر جگہ موجود ہے۔ صرف آپ کو اس کا یقین ہونا چاہئے، جیسے مجھے ہے۔ “
وہ مسکرا دیا۔
“اوہ۔۔۔ “
لڑکی خجل سی ہو گئی۔ اس نے شرمندہ شرمندہ سی نظروں سے حافظ عبداللہ کی طرف دیکھا اور سر جھکا کر پاؤں کے ناخن سے زمین کریدنے لگی۔
“صبح تک آپ کو یہیں ٹھہرنا ہو گا۔ “
حافظ عبداللہ نے پھر کہا۔
” کل کی بارش نے کیچڑ بہت کر دیا ہے۔ سواری کوئی موجود نہیں ہے اور گاؤں تک اس اندھیرے میں پیدل جانا نری مصیبت ہے۔ آپ نے نجانے کب سے کچھ نہیں کھایا۔ وہ طاق میں چنگیر رکھی ہے۔ کھانے کو اس وقت یہی میسر ہے۔ کھا لیجئے۔ پیالے میں پانی بھی ہے۔ “
اس نے چارپائی کے سرہانے زمین پر پڑے مٹی کے پیالے کی جانب اشارہ کیا۔ پھر چٹائی کے پاس آگیا۔
قرآن پاک کو چوم کر سینے سے لگایا۔ رحل اٹھائی اور لڑکی کی جانب دیکھا جو دیوار سے لگی کھڑی اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
حافظ عبداللہ کو لگا، اس کی نظروں میں عجب سحر سا کروٹیں لے رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈورے، گالوں پر بکھری دو تین لٹیں اور سینے کا زیر و بم، کسی بھی خیال، کسی بھی سوچ کو گمراہی کا راستہ دکھانے کے لئے کافی تھے۔
“اگر آپ کو اپنے اور میرے اللہ پر بھروسہ ہے تو بے فکر ہو جائے۔ کھانا کھائیے اور چارپائی پر آرام کیجئے۔”
اچانک حافظ عبداللہ کی آواز نے کمرے کی خاموشی میں ارتعاش پیدا کر دیا۔
“میں دوسرے کمرے میں جا رہا ہوں۔ آپ اندر سے کنڈی لگا لیجئے۔ صبح ہوتے ہی میں آپ کو نور پور لے چلوں گا۔ وہاں چوہدری حسن دین آپ کو آپ کے گھر بھجوانے کا انتظام کر دیں گے۔ “
دروازے کے قریب پہنچ کر وہ رک گیا۔ پلٹ کر لڑکی کی جانب دیکھا جو ابھی تک اپنی سابقہ حالت میں تھی۔
“اگر کوئی کام ہو تو اس کھڑکی پر دستک دے دیجئے گا۔ “
اس نے دونوں کمروں کی درمیانی دیوار میں بنی چار ضرب چار کی بند کھڑکی کی طرف اشارہ کیا اور دروازے سے نکل گیا۔
لڑکی خاموش کھڑی کتنی ہی دیر تک خالی دروازے کو گھورتی رہی۔ اس کے دل و دماغ میں ایک جنگ سی جاری تھی۔
حافظ عبداللہ کی باتیں اور اب تک کا رویہ اسے قائل کر رہا تھا کہ وہ اس پر اعتبار کر لے جبکہ ایک جوان مرد کے ساتھ، اس جگہ رات بھر رہنے کا فیصلہ کرنا اس کے لئے بڑا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ جہاں دو جوان موجود ہوں ، وہاں شیطان کو آتے دیر نہیں لگتی۔ اور وہ ایسی طاقتور بھی نہیں تھی کہ شیطان اور حافظ عبداللہ کا تنہا مقابلہ کر سکتی۔
اس نے سر جھکا لیا اور ایک ایک کر کے حافظ عبداللہ کی باتوں پر غور کرنے لگی۔ اس کی کسی بات میں کوئی ول چھل نہ تھا۔ اس کی نگاہوں میں اسے اپنے لئے کوئی ایسا تاثر نہ ملا تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا کہ وہ اس کے لئے خطرہ ہے۔
اگر وہ اس کے ساتھ کوئی الٹی سیدھی حرکت کرنا چاہتا تو وہ بقول حافظ عبداللہ کی، شام سے اس کے پاس اس کمرے میں بیہوش پڑی تھی۔ اس دوران اسے روکنے والا کون تھا مگر وہ محفوظ رہی۔ اور اب تو وہ جاگ رہی تھی۔ پورے ہوش و حواس میں تھی۔ اب وہ کم از کم اس کے کسی اقدام کے خلاف مدافعت تو کر ہی سکتی تھی۔
سوچ سوچ کر اس کا دماغ درد کرنے لگا۔ بدن میں تھکاوٹ سی در آئی تو اس نے خود کو اللہ کے آسرے پر موجودہ صورتحال کے سپرد کرنے کا ارادہ کر لیا۔
سر اٹھا کر اس نے کھلے دروازے کی جانب دیکھا۔ پھر اندر سے کنڈی لگانے کے خیال سے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی چلی۔ چراغ کے قریب سے گزرنے پر اس کی لو تھرتھرائی۔
وہ دروازے کے قریب پہنچی تو ایک خیال کے تحت ایک پل کو رکی۔ پھر دبے پاؤں باہر نکل آئی۔ ساتھ والے کمرے کے دروازے کے پاس ٹھہر کر اس نے ذرا سی گردن آگے نکالی اور بھڑے ہوئے دروازے میں سے اندر جھانکا۔
حافظ عبداللہ کی پشت کمرے کے دروازے کی جانب تھی اور وہ کھیس کی بکل مارے چٹائی پر بیٹھا تھا۔ قرآن پاک اس کے آگے رحل پر کھلا دھرا تھا۔ چراغ اس نے اپنے دائیں ہاتھ اینٹوں کی ایک ڈھیری پر رکھ چھوڑا تھا تاکہ اس کی روشنی قرآن پاک پر پڑتی رہی۔ وہ سر جھکائے ہولے ہولے آگے پیچھے ہل رہا تھا۔
غور سے سنا تو لڑکی کے کانوں میں قرآن پاک پڑھنے کی ہلکی سی آواز کسی خوشخبری کی طرح اترتی چلی گئی۔ سکون اور اطمینان نے اس کے حواس پرتسلی کی چادر تان دی۔
چند لمحے وہاں کھڑا رہنے کے بعد اس نے گردن پیچھے کھینچ لی۔ خاموش قدموں سے کمرے میں لوٹی۔ دروازہ بند کیا تو اس کا دل ایک بار پھر زور سے دھڑکا۔ یہ دیکھ کر کہ دروازے کے اندر کی جانب کنڈی کا نام و نشان ہی نہ تھا۔ لگتا تھا بہت دیر پہلے وہ ٹوٹی اور دوبارہ کسی نے اسے لگانے کی کوشش ہی نہ کی۔
خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے خود کو سنبھالا۔ دروازے کو اچھی طرح بند کیا مگر جب کنڈی ہی نہ تھی تو وہ بند رہتا یا کھلا، ایک برابر تھا۔
کچھ سوچ کر وہ کھڑکی کے قریب آئی۔ کھڑکی بند ضرور تھی مگر اس میں بھی کوئی کنڈی یا چٹخنی موجود نہ تھی۔ شاید دوسرے کمرے کی طرف ہو گی۔
ایک بار پھر غیر محفوظ ہونے کا خیال اندھیرے کی دبیز چادر کی طرح اس کے دماغ پر پھیلا۔ بے اختیار اس کا سر کھڑکی سے جا لگا۔ اسے چکر سا آ گیا مگر دوسرے ہی لمحے اس کے سارے اندیشے بند کھڑکی کی دوسری طرف سے آتی حافظ عبداللہ کی تلاوت کی آواز پر قربان ہو گئے۔ اس کا جی چاہا وہ اس آواز کو سنتی رہے جو اس کے جسم و جان میں عجب سکون بھری سرگوشیاں کر رہی تھی۔
اسے اپنے اللہ پر بھروسے کا سبق دے رہی تھی۔ اسے بتا رہی تھی کہ وہ وہاں اکیلی نہیں ہے۔ بقول حافظ عبداللہ کے، وہاں اس کا خالق و مالک موجود ہے۔ اور وہ تو ہر جگہ موجود ہے، بس ہمیں اس کا یقین نہیں آتا۔
اس خیال کا آنا تھا کہ اس کے جسم میں ایک طاقت عود کر آئی۔ یقین، بھروسے اور اعتبار کی طاقت۔ اس نے جھکا ہوا سراٹھایا۔ چند لمحوں تک بند کھڑکی کو گھورتی رہی۔ پھر دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی چارپائی کے پاس آ گئی۔
چنگیر پر نظر پڑی تو بھوک جاگ اٹھی۔ وہ چارپائی پر بیٹھ گئی۔ کمبل کے پلو کھولے۔ اسے اپنے شانوں پر دائیں بائیں پھیلایا۔ چنگیر اٹھا کر گود میں رکھی۔ رومال کی تہہ کھولی تو اندر مکئی کی دو روٹیوں پر سرسوں کا ساگ دیکھ کر پیٹ میں اینٹھن سی ہوئی۔ ایک نظر بند دروازے اور کھڑکی پر ڈالی، پھر اس کا ہاتھ بے اختیار روٹی کی طرف بڑھ گیا۔
طاہر حویلی واپس آیا تو رات کے ساڑھے نو بج رہے تھے۔
حویلی کے اندر اور باہر سکوت طاری تھا۔ ملازموں میں سے کچھ جاگ رہے تھے، زیادہ تر سونے کے لئے جا چکے تھے۔ ملک اس سے رخصت ہوا تو طاہر اندر چلا۔ اس کا رخ لیڈیز ڈرائنگ روم کی جانب تھا۔
“چھوٹے مالک۔ “
اچانک ایک آواز نے اسے کاریڈور میں روک لیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ حویلی کی ایک ملازمہ فہمیدہ اس کی طرف سر جھکائے چلی آ رہی تھی۔
“مالکن آپ کے کمرے میں ہیں۔ “
فہمیدہ نے اس کے قریب آ کر ادب سے کہا۔
“اچھا۔ “
اس نے موبائل جیب میں ڈالتے ہوئے کہا اور اس کے پیچھے چل پڑا۔ کاریڈور سے بائیں مڑتے ہی پہلا کمرہ اس کا تھا، جو اس کی عدم موجودگی میں شاذ ہی کھلتا تھا۔ فہمیدہ دروازے پر رک گئی۔
“کھانا لگا دوں چھوٹے مالک؟”
اس نے پوچھا۔
“تمہاری مالکن نے کھا لیا؟”
اس نے کھلے دروازے میں قدم رکھا۔
“جی نہیں۔ آپ کے انتظار میں تھیں۔ “
“تو کھانا یہیں لے آؤ۔ “
“جی بہتر۔ “
وہ لوٹ گئی۔
طاہر اندر داخل ہوا تو یہ دیکھ کر اسے کوئی حیرت نہ ہوئی کہ ابھی تک صفیہ کو چند عورتیں گھیرے بیٹھی تھیں۔ اسے آتا دیکھ کر وہ کپڑے سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئیں۔ پھر اسے باری باری سلام کر کے وہ کمرے سے نکل گئیں۔ آخر میں ایک نوجوان لڑکی اٹھی تو صفیہ نے اسے روک لیا۔
“تم رکو۔ “
“جی۔ “
لڑکی نے گھبرا کر طاہر کی جانب دیکھا۔
“بیٹھ جاؤ۔ “
صفیہ نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر دوبارہ قالین پر رکھے کشن پر بٹھا دیا۔ خود بھی وہ بیڈسے ٹیک لگائے ایک کشن پر شال اوڑھے بیٹھی تھی۔ کمرہ ایر کنڈیشنڈ ہونے کے باعث سردی کے اثرات سے مبرا تھا۔
“کیا بات ہے؟”
طاہر نے ایک نظر سر جھکائے بیٹھتی لڑکی کی جانب اور پھر سوالیہ انداز میں صفیہ کو دیکھا۔
” آپ نے کھانا کھا لیا؟”
اس کا سوال گول کرتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“نہیں۔ فہمیدہ یہیں لا رہی ہے۔ “
وہ گرم واسکٹ اتارتے ہوئے بولا۔
صفیہ نے اس کی واسکٹ تھام ایک طرف ڈال دی۔ وہ بیڈ کی پٹی پر ٹک گیا۔ صفیہ نے ہاتھ بڑھائے کہ اس کے پاؤں سے زرتار کھسہ نکال دے۔
“کیا کر رہی ہو؟”
طاہر نے اس کا ہاتھ تھام لئے۔
“اوں ہوں۔ “
صفیہ نے آنکھ کے اشارے سے اسے لڑکی کے کمرے میں ہونے کا احساس دلایا اور ہاتھ اس کے کھسے پر ڈال دئیے۔ وہ ایک طویل سانس لے کر رہ گیا۔
صفیہ اس کی کسی بات کا برا نہ مانتی تھی مگر کرتی وہی تھی جو اسے طاہر کے بارے میں اچھا لگتا تھا۔ کھسے کے بعداس نے طاہر کی جرابیں اتاریں اور چپل آگے کر دی۔
” آپ منہ ہاتھ دھو لیں۔ اتنی دیر میں کھانا لگ جائے گا۔ “
“تم نے تو کھا لیا ہوتا۔ خواہ مخواہ آدھی رات تک بھوکی بیٹھی ہو۔ “
وہ اٹھتے ہوئے بولا۔
“پہلے کبھی کھایا ہے جو آج آپ سے پہلے کھا لیتی۔ ” صفیہ نے مسکرا کر ہولے سے کہا۔ وہ خاموشی سے اٹیچ باتھ روم کی جانب بڑھ گیا۔
“چھوٹی بی بی۔ “
لڑکی نے اٹھنا چاہا۔
“مجھے جانے دیجئے۔ چھوٹے مالک کے سامنے میں۔۔۔ “
“خاموشی سے بیٹھی رہو۔ “
صفیہ نے آنکھیں نکالیں۔
“بی بی۔ دس بجنے کو ہیں۔ “
اس نے دیوار گیر کلاک کی طرف نگاہ اٹھائی۔
“گھر والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ “
“انہیں میں نے فہمیدہ کے ہاتھ پیغام بھجوا دیا تھا کہ تم میرے پاس ہو۔ دیر سے لوٹو گی۔ “
اب شاید اس کے پاس کوئی بہانہ نہ رہا۔ ہونٹ کاٹتے ہوئے وہ واپس کشن پر ٹک گئی مگر انداز ایسا تھا کہ بس صفیہ کی نظر چوکتے ہی بھاگ لے گی۔
جتنی دیر میں طاہر ہاتھ منہ دھو کر نکلا، فہمیدہ نے کمرے کے ایک گوشے میں موجود ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا دیا۔
“کھانا کھاؤ گی؟”
صفیہ نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔
“جی نہیں۔ “
وہ گھبرا کر بولی تو صفیہ بے اختیار مسکرا دی۔ اس نے اصرار نہ کیا اور طاہر کے ساتھ کھانے کی میز پر جا بیٹھی۔ صفیہ سمجھ گئی کہ طاہر سے حجاب اور شرم نے اس کا برا حال کر رکھا ہے۔
“کیا بات ہے؟ یہ لڑکی کون ہے؟”
طاہر نے نیپکن ڈالتے ہوئے پوچھا۔
“کھانا خاموشی سے کھانا چاہئے۔ “
صفیہ نے اس کی پلیٹ میں سالن نکالتے ہوئے کہا۔
طاہر نے اس کے بعد کوئی بات نہ کی۔ دونوں نے خاموشی سے کھانا کھایا۔ فہمیدہ برتن لے گئی۔ وہ طاہر کو ساتھ لئے واپس اس جگہ آ گئی جہاں وہ لڑکی ابھی تک سر جھکائے کسی سوچ میں گم بیٹھی اپنے ناخنوں سے قالین کرید رہی تھی۔
سر پر اس نے دوپٹہ اس طرح لے رکھا تھا کہ طاہر اس کے چہرے کے خد و خال بمشکل دیکھ پایا۔ وہ بیحد سادہ سے نقوش کی مالک تھی، مگر چہرے سے شرافت نمایاں تھی۔
“ہاں۔ اب بولو۔ “
طاہر نے ان دونوں سے کچھ پرے ایک کشن پر براجمان ہوتے ہوئے کہا۔
“میں نے آپ کو جو فون کیا تھا وہ اسی کے معاملے میں تھا۔ “
صفیہ نے لڑکی کی طرف اشارہ کیا جس کا سریہ سن کر کچھ اور جھک گیا۔ اضطراب کی حالت میں وہ اپنی انگلیاں مروڑنے لگی۔
“یہ آپ کے گاؤں کے ایک عزت دار شخص ماسٹر محسن کی بیٹی زبیدہ ہے۔ “
“زبیدہ۔ “
ایک دم طاہر چونک کر سیدھا ہو بیٹھا۔
“کیا ہوا؟”
صفیہ اس کے انداز پر حیران سی ہوئی۔
“کچھ نہیں۔ تم کہو، کیا کہہ رہی تھیں۔ “
وہ زبیدہ کو غور سے دیکھ کر بولا۔
“میں بتا رہی تھی کہ۔۔۔ “
صفیہ نے اس کی حالت پر غور کرتے ہوئے کہنا شروع کیا اور اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے وہ ساری بات بتائی جو طاہر چوپال میں سن چکا تھا۔ اس دوران زبیدہ مسلسل اضطراب کے عالم میں ہونٹ کاٹتی رہی۔ انگلیاں مروڑتی رہی اور پہلو بدلتی رہی۔ اس کا سر ایک بار بھی نہ اٹھا۔ طاہر کبھی کبھار اس پر نظر ڈال لیتا اور بس۔ اس نے ساری توجہ صفیہ کی آواز پر مرکوز رکھی۔
“اب صورتحال یہ ہے کہ زبیدہ کو اس کے والد ماسٹر محسن مستقل طور پر اس کے ننھیال بھجوانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا فیصلہ ہے کہ شادی تک یہ وہیں رہے گی اور شادی اگر نثار سے نہیں ہو گی تو عادل سے بھی نہیں ہو گی۔ کس سے ہو گی؟ یہ ابھی کسی کو نہیں معلوم۔ “
صفیہ نے جیسے بات ختم کر دی۔
“ہوں۔ “
طاہر نے ایک طویل ہنکارا بھرا۔ ایک بار زبیدہ کی جانب دیکھا جو شاید رو رہی تھی۔
” اری۔ “
صفیہ نے اس کی طرف توجہ کی اور اسے کھینچ کر ساتھ لگا لیا۔
“پگلی۔ رو کیوں رہی ہے؟ طاہر ہیں ناں۔ سب ٹھیک کر لیں گے۔ “
زبیدہ سسک پڑی۔ اس کے آنسو، ہچکیوں میں ڈوب گئی۔ صفیہ اس کا شانہ تھپک رہی تھی مگر اس کی تسلی زبیدہ کو اور بے کل کر رہی تھی۔
“چھوٹی بی بی۔ “
اس کی سرگوشی کراہ سی بن گئی۔
“میرے ابو نے مجھے کبھی سخت نگاہ سے نہیں دیکھا، مگر اس بات پر انہوں نے مجھے اس طرح مارا کہ۔۔۔ “
وہ بات پوری نہ کر سکی اور دوپٹے میں منہ چھپا کر بلکنے لگی۔
“ماں باپ اگر سختی کریں تو اس پر دل برا نہیں کیا کرتے زبیدہ۔ “
طاہر کی آواز میں سرزنش تھی۔ زبیدہ اس کی آواز پر ایک دم سُن سی ہو گئی۔
“جس باپ نے آج سے پہلے تمہیں پھول نہیں مارا، ذرا سوچو کہ اسے کتنی تکلیف ہوئی ہو گی تمہاری کسی بات سے جو وہ تم پر ہاتھ اٹھانے پر مجبور ہو گیا۔ “
صفیہ نے طاہر کی بات پر کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا۔ بس زبیدہ کو بازو کے حلقے میں لئے اس کا شانہ تھپکتی رہی، جو بالکل ساکت ہو گئی تھی۔ لگتا تھا اس کے جسم میں جان ہی نہیں رہی۔ آنسو، سسکیاں ، ہچکیاں سب تھم گئی تھیں۔
” میں بزرگوں کے لئے بھی گاؤں کا بڑا صرف اس لئے ہوں کہ اپنے والد کے بعد میں نے ان کی جگہ بیٹھ کر یہاں کے لوگوں کو کبھی چھوٹا نہیں سمجھا۔ میں ان کے دُکھ سُکھ کا ساجھی ہوں۔ میں وہاں چوپال میں ابھی تمہارا ہی قضیہ نمٹا کر آ رہا ہوں۔ “
“کیا مطلب؟”
صفیہ چونکی تو زبیدہ بھی سیدھی ہو بیٹھی۔ اس نے پلو سے آنکھیں خشک کیں اور دوپٹہ سر پر ٹھیک طرح سے لے لیا۔ طاہر نے دیکھا، رونے سے اس کا چہرہ نکھر سا آیا تھا۔ متورم آنکھوں نے اس کی سادگی کو سجا دیا تھا۔ وہ سر جھکائے خاموش بیٹھی کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر پھڑکتے ہونٹوں سے آواز نہ نکل رہی تھی۔
“کیا ہوا وہاں ؟ مجھے بھی تو بتائیے۔ “
صفیہ پوری طرح طاہر کی طرف متوجہ ہو گئی۔ یوں اس نے زبیدہ کی مشکل آسان کر دی۔ اس کے کان طاہر کی آواز پر لگ گئی۔
“پہلے زبیدہ سے یہ پوچھو کیا واقعی یہ عادل کو پسند کرتی ہے؟”
طاہر نے دھیرے سے کہا۔
“نہیں۔ ان دونوں کی آج تک ملاقات نہیں ہوئی۔ ” صفیہ نے جواب دیا۔
“زبیدہ مجھے سب بتا چکی ہے۔ “
“تو پھر اس نے کیسے عادل کے لئے ماسٹر صاحب کے سامنے زبان کھول دی؟”
طاہر حیرت سے بولا۔
“یہ ایک اتفاق ہے طاہر، جس سے زبیدہ نے فائدہ اٹھانا چاہا۔ ہوا یہ کہ جب نثار کے رشتے سے زبیدہ نے انکار کیا تواسی وقفے میں اسے اپنی ایک سہیلی سے پتہ چلا کہ عادل کے ماں باپ اس کے لئے زبیدہ کا رشتہ مانگنے ان کے گھر آنے والے ہیں۔
زبیدہ نے نثار سے جان چھڑانے کے لئے ماسٹر صاحب سے کہہ دیا کہ وہ عادل کو پسند کرتی ہے۔ ماسٹر صاحب سہہ نہ سکے کہ ان کی بیٹی اس معاملے میں ایسی بات زبان پر لائے۔ انہوں نے زبیدہ کو پیٹ ڈالا۔ غضب یہ ہوا کہ اس سے دوہی دن بعد عادل کے والدین زبیدہ کے رشتے کے لئے آن پہنچی۔
بس، یہ اتفاق ماسٹر صاحب کو یقین دلانے کے لئے کافی تھا کہ زبیدہ اور عادل ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ایک عزت دار باپ کے لئے یہ بات کسی گالی سے کم نہیں تھی۔ وہ اپنا ذی علم ہونا تو بھول گئے۔ صرف یہ یاد رہا کہ بیٹی نے ان کے اعتماد کو دھوکہ دیا ہے۔ اور یہ بات ایسی ناقابل برداشت تھی کہ وہ زبیدہ پر ہاتھ اٹھا بیٹھے۔ “
“بس بس۔ میں سمجھ گیا۔ “
طاہر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔
“اس مانو بلی نے اپنی جان تو چھڑا لی مگر باپ کو جو اذیت دی اس کا کیا ؟”
مانو بلی کا خطاب پا کر جہاں زبیدہ شرمائی وہیں ماسٹر صاحب کی تکلیف کا خیال آنے پر آبدیدہ ہو گئی۔
“میں۔۔۔ میں۔۔۔ ابو سے معافی مانگ لوں گی۔ “
اس کے ہونٹ پھڑکے اور بے اختیار وہ سسک پڑی۔
” میں نثار سے شادی کروں گی۔ نہیں چاہئے مجھے ایساسُکھ جو ابو کو دُکھ دے کر ملی۔ “
“یہ بات تو تمہیں پہلے سوچنا چاہئے تھی زبیدہ۔ اب تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ “
طاہر نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
“کیوں نہیں ہو سکتا۔ کیا ابو مجھ سے اتنے ناراض ہیں کہ معاف بھی نہیں کریں گے۔ “
وہ بلک کر بولی۔
“نہیں۔ اب ایسی بات بھی نہیں ہے۔ “
طاہر لاپروائی سے بولا اور صفیہ نے صاف دیکھا کہ وہ اپنی مسکراہٹ دبا رہا ہے۔ ایک پل میں ساری بات اس پر روشن ہو گئی۔ اسے لگا کہ طاہر کو روتی ہوئی زبیدہ پر لاڈ آ رہا ہے۔ وہ بلکتی ہوئی اسے اچھی لگ رہی ہے اور وہ اسے محض تنگ کر رہا ہے۔
“طاہر۔ “
زبیدہ کو ایک بار پھر ساتھ لگاتے ہوئے صفیہ نے طاہر کی جانب نگاہ کی۔
“کیا بات ہے؟ سچ سچ بتائیے۔ “
“کیا سچ سچ بتاؤں ؟”
طاہر بھولپن سے منہ بنا کر بولا۔
“کیا یہ بتاؤں کہ ماسٹر صاحب نے زبیدہ کی شادی۔۔۔” ایک پل کو وہ رکا۔ سر جھکائے آنسو بہاتی زبیدہ کی طرف دیکھا اور پھر کہا۔
“عادل کے ساتھ طے کر دی ہے۔ “
“کیا؟”
ایک جھٹکے سے زبیدہ نے سر اٹھایا اور بے یقینی سے طاہر کی جانب دیکھنے لگی۔
“ہوں۔۔۔ “
صفیہ نے معنی خیز انداز میں سر ہلایا۔
“تو میرا شک درست تھا۔ “
اس نے طاہر کو گھور کر دیکھا۔
” آپ خواہ مخواہ بچی کو اب تک رلا رہے تھے۔ “
“چھوٹی بی بی۔ “
زبیدہ نے اس کی جانب بے اعتباری سے دیکھا۔
” کیا۔۔۔ کیا یہ سچ ہے؟”
“سولہ آنے سچ ہے زبیدہ۔ “
طاہر کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے یقین سے سرشار لہجے میں صفیہ نے کہا۔
“تمہارے چھوٹے مالک کو جھوٹ بولنا آتا ہی نہیں۔ ورنہ میں اتنی آسانی سے انہیں نہ پکڑ پاتی۔ میں تو ان کے بات کرنے کے انداز سے سمجھ گئی تھی کہ یہ تمہارے رونے کا مزہ لے رہے ہیں۔ “
اور زبیدہ نے صفیہ کی بغل میں چہرہ چھپا لیا۔ وہ ایک بار پھر رو دی مگر یہ آنسو خوشی کے تھے۔ تشکر کے تھے۔
“کیا ہوا چوپال میں ؟مجھے سب کچھ تفصیل سے بتائیے۔ “
صفیہ نے زبیدہ کا شانہ تھپک کر اسے خود سے الگ کیا۔
جواب میں طاہر نے انہیں چوپال میں ہونے والی ساری بات سنا دی۔ وہ خاموش ہوا تو زبیدہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“چھوٹی بی بی۔ اب مجھے جانے دیجئے۔ بہت دیر ہو گئی۔ “
اس نے کلاک پر نظر دوڑائی جس پر رات کے گیارہ بجنے والے تھے۔
“اری۔ “
صفیہ نے وقت دیکھا تو حیرت سے بولی۔
” پتہ ہی نہ چلا وقت گزرنے کا۔ واقعی اب تمہیں جانا چاہئے۔ “
وہ بھی اٹھ گئی۔
“فہمیدہ کو بلاؤ۔ “
“بیل دے دو۔ “
طاہر نے بیڈ سوئچ کی طرف اشارہ کیا۔
صفیہ سر ہلا کر آگے بڑھی اور وہ بیڈ سوئچ دبا دیا، جس کے نیچے بیل کا نشان بنا تھا۔ دور کہیں گھنٹی کی آواز ابھری۔ چند لمحوں کے بعد فہمیدہ کمرے میں آ پہنچی۔
“فہمیدہ۔ کسی ملازم سے کہو زبیدہ کو اس کے گھر چھوڑ آئے۔ “
صفیہ نے کہا۔
“اس کا بھائی کتنی دیر سے آیا بیٹھا ہے جی۔ اسے لے جانے کے لئے۔ “
“اری۔ تو تم نے بتایا کیوں نہیں ؟”
صفیہ نے تیزی سے کہا۔ طاہر کو بھی یہ بات اچھی نہ لگی۔ وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔
“اس نے منع کر دیا تھا جی۔ “
فہمیدہ بولی۔
” اس کا کہنا تھا کہ جب چھوٹی بی بی اجازت دیں گی تب وہ زبیدہ کو لے جائے گا۔ اتنی دیر وہ مردانے میں انتظار کرے گا۔ “
“پھر بھی۔ “
صفیہ کو پشیمانی سی ہو رہی تھی۔
“محسوس نہ کرو۔ “
طاہر نے نام لئے بغیر صفیہ کو تسلی دینے کے انداز میں کہا۔
” یہ ان لوگوں کی محبت کی ایک جھلک ہے، جو یہ ہم سے کرتے ہیں۔ اس کا مزہ لو۔ پشیمان ہو کر اس کی لذت کو گرہن نہ لگاؤ۔ “
صفیہ نے نظر اٹھا کر طاہر کی جانب دیکھا۔ اس کی نظر میں کچھ ایسا تھا کہ طاہر نے اس سے نظریں چرا لیں۔ مسکرا کر صفیہ نے زبیدہ کی طرف دیکھا۔ پھر اسے سر کے اشارے سے جانے کی اجازت دے دی۔
زبیدہ نے آہستہ سے صفیہ کا دایاں ہاتھ تھاما اور سر جھکا کر پہلے چوما۔ پھر ماتھے سے لگا لیا۔ صفیہ نے اس کا سر تھپکا۔ وہ صفیہ کا ہاتھ چھوڑ کر پلٹی اور دھیرے دھیرے چلتی ہوئی طاہر کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ سر جھکائی۔ پلو سر پر ڈالی۔
طاہر چند لمحے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتا رہا پھر مسکرا دیا۔
“جاؤ۔ “
آہستہ سے اس نے کہا۔
” بس یہ یاد رکھنا کہ ماں باپ کبھی اولاد کا بُرا نہیں چاہتے۔ مجھے خوشی ہے کہ تم نے ماسٹر صاحب کے بھروسے میں نقب نہیں لگائی۔ اچھی بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ “
طاہر کا ہاتھ اس کے سر پر آ گیا۔
” خوش رہنا۔ اور اسے بھی خوش رکھنا جس نے تمہارے جھوٹ پر اپنی خاموشی کا پردہ ڈال کر اتنی ہی بدنامی سہی، جتنی تمہارے حصے میں آئی۔ نصیبوں والی ہو کہ ایسا بَر خدا نے تمہاری جھولی میں ڈال دیا۔ جاؤ۔ “
طاہر نے تھپکی دے کر ہاتھ اس کے سر سے ہٹا لیا۔
زبیدہ نے نچلا ہونٹ دانتوں میں داب لیا تھا۔ نمی اس کی آنکھوں سے ابلنے کو تھی مگر اس نے خود پر قابو پائے رکھا۔ پھر ایک دم جھکی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے روکتا اس نے طاہر کے دونوں پاؤں ہاتھوں کی انگلیوں سے چھوئے اور انگلیاں چومتی ہوئی سیدھی ہو گئی۔
طاہر محض “ارے ارے” کر کے رہ گیا، تب تک زبیدہ کمرے سے جا چکی تھی۔
“اوں ہوں۔۔۔ “
صفیہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔
” یہ احترام اور محبت کا اظہار ہے طاہر۔ اس کا مزہ لیجئے۔ “
مسکرا کر صفیہ نے کہا۔
طاہر کی آنکھوں میں اس کے لئے ایک رنگ سا لہرایا، جسے صفیہ کی نظروں نے اپنے دامن میں لپک لیا اس کا سانس ایک دم بوجھل سا ہو گیا۔ نظرسے وہ رنگ دل میں اتر رہا تھا، جو اس نے طاہر کی آنکھوں میں اپنے نام کھلتا ہوا پایا تھا۔ یہ کیسا احساس تھا؟
کیسی لذت تھی؟ کیسی سرشاری تھی جس نے اس کی روح کو ہلکا اور جسم کو ایسا وزنی کر دیا تھا کہ اس سے قدم اٹھائے نہ اٹھ رہے تھے۔ بمشکل وہ دو قدم چلی اور یوں بستر پر گر پڑی جیسے پھولوں سے لدی ڈال اپنی ہی خوشبو کا بوجھ نہ سہار سکی ہو۔
حافظ عبداللہ پوری طرح محو ہو کر منزل کر رہا تھا۔
قرآن پاک اس کے سامنے رحل پر کھلا پڑا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ ہولے ہولے جھومتا ہوا بڑی نرمی، آہستگی اور جذب کے ساتھ تلاوت کر رہا تھا۔
چودہ سطری قرآن پاک کا ایک ایک صفحہ سطر بہ سطر اپنے آغاز و اختتام کے الفاظ کے ساتھ اس کے ذہن پر نقش اور دل میں محفوظ تھا۔ جونہی صفحے کا آخری لفظ اس کی زبان سے ادا ہوتا، غیر ارادی طور پر اس کا دایاں ہاتھ حرکت میں آتا، ورق الٹ جاتا اور زبان اگلے صفحے کی عبارت کو چومنے لگتی۔
دوسرا پارہ اختتام کو پہنچا تو اس نے آنکھیں وا کیں۔ سر جھکا کر قرآن پاک کو بوسہ دیا۔ چند لمحے کچھ سوچتا رہا پھر قرآن پاک بند کر کے اٹھ گیا۔ کھیس اتار کر وہیں رکھا۔ دروازے میں پڑی چپل پہنی۔ باہر نکلا۔ چار قدم چلا اور ساتھ والے کمرے پر آ رکا۔ آہستہ سے ہاتھ دروازے پر رکھ کر دبایا۔
دروازہ ہلکی سی چرر کی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔ اس نے قدم اندر رکھا۔ چراغ کی لو تھرتھرائی۔ اس نے وہیں رک کر چارپائی کی طرف دیکھا۔ لڑکی کمبل میں سمٹی پڑی تھی۔ اس کا چہرہ دروازے ہی کی جانب تھا اور وہ سو رہی تھی۔
وہ چند لمحوں تک اس کے صبیح چہرے کو تکتا رہا۔ سوچوں کی پرچھائیاں اس کی آنکھوں میں تیر رہی تھیں۔ بلا آخر آہستہ سے پلٹ کر وہ باہر نکل گیا۔ دروازہ بند ہوا اور اس کے قدموں کی آواز دور ہوتی چلی گئی۔
آواز ختم ہوتے ہی ایک دم لڑکی اٹھ بیٹھی۔ اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہو چکا تھا۔ ایک طویل سانس سینے سے خارج کرتے ہوئے وہ چارپائی سے اتر آئی۔ اب اس کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔ اس نے اسی وقت سانس روک لیا تھا جب حافظ عبداللہ نے دروازہ کھولا تھا۔ پلکوں کی درز سے وہ اسے اس وقت تک بے حس و حرکت پڑی دیکھتی رہی، جب تک وہ واپس نہ لوٹ گیا۔
حافظ عبداللہ کا اس وقت کمرے میں آنا، اسے خاموش کھڑے ہو کر دیکھتے رہنا، آگے بڑھتے قدم کو روک لینا اور پھر جیسے مجبوراً لوٹ جانا۔ پھر حافظ عبداللہ کا باہر سے دروازے کی کنڈی لگا دینا۔ ان سب باتوں نے اس کے کانوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔
بے آواز قدموں سے چلتی ہوئی وہ دروازے تک آئی۔ کان لگا کر سننے کی کوشش کی۔ باہر مکمل خاموشی تھی۔ کمبل میں لپٹی وہ کھڑکی کے پاس آئی اور اس کے پٹ سے کان لگا دئیے۔ دوسری طرف سے کتنی ہی دیر تک جب کوئی آواز نہ سنائی دی تو اس کا حلق خشک ہو گیا۔ لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے اس نے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔
وہاں کوئی ایسی شے موجود نہ تھی جسے وہ کسی بھی خطرے کے وقت اپنی حفاظت اور مدافعت کے کئے استعمال کر سکتی۔
اضطراب کے عالم میں اس نے لکڑی کی کھڑکی کی ایک درز سے آنکھ لگا دی۔ دوسرے کمرے کا منظر اس کی آنکھ میں اترا اور وہ سُن ہو کر رہ گئی۔
حافظ عبداللہ کمرے میں شمالاً جنوباً بیتابی سے اس طرح چٹائی پر ٹہل رہا تھا کہ اس کے قدموں کی آواز نہ ابھر رہی تھی۔ کھڑکی سے دو فٹ دور سے وہ واپس لوٹ جاتا۔ اس کے ماتھے پر شکنوں کا جال تنا ہوا تھا۔ لگتا تھا وہ کسی گہری سوچ میں ہے اور کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہا۔ اس نے آنکھ درز سے ہٹا لی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔
“وہ کیا سوچ رہا ہے؟ “
اس نے اپنے دل سے پوچھا۔ فوراً ہی جواب اس کے ذہن میں اتر آیا۔ ظاہر ہے وہ بد نیتی سے اور اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اگر اس کی نیت ٹھیک ہوتی تو وہ چوروں کی طرح اس کے کمرے میں نہ آتا۔
اس کا خاموشی سے واپس لوٹ جانا اس کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا مگر اسے اس طرح بے چینی سے ٹہلتے دیکھ کر اسے یقین ہو گیا کہ وہ اسی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کی حالت سے دوچار ہے۔ شاید وہ کوئی ایسی ترکیب سوچ رہا تھا جس پر عمل کر کے وہ اس پر قابو پا لے اور۔۔۔۔
اس سے آگے کی بات کا خیال آتے ہی دونوں ہاتھ جوڑ کر اس نے پر نم آنکھوں سے کمرے کی چھت کی جانب دیکھا۔ “یا اللہ۔ ” بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا اور ماتھا جڑے ہوئے ہاتھوں پر ٹکا کر وہ سسک پڑی۔ اس وقت وہ بھاگ کر جاتی بھی کیسے اور کہاں؟
حافظ عبداللہ بیتابی سے چٹائی پر ٹہل رہا تھا۔ وہ ساتھ والے کمرے میں یہ دیکھنے گیا تھا کہ لڑکی کا حال کیا ہے؟ دوبارہ بخار نے تو اسے نہیں آ لیا؟ اسے پیاس نہ لگی ہو۔ لڑکی کا خیال رکھنا لازم تھا۔ وہ اسے اپنی ذمے داری لگنے لگی تھی مگر جس طرح وہ بے سدھ سو رہی تھی، اس کے پُر کشش چہرے کو دیکھ کر اس کے جذبات میں آگ سی لگ گئی۔
اکیلی لڑکی، رات کی تنہائی، کسی تیسرے کا وہاں نہ ہونا۔ ان سب نے مل کر اس کے دل و دماغ پر یلغار کر دی۔ جتنی دیر وہ وہاں کھڑا رہا، بڑے ضبط سے کھڑا رہا تھا۔ پھر خدا کے خوف سے دل کو تھپکتا ہوا وہ بڑی مشکل سے باہر نکلا۔ دروازے کی کنڈی لگائی تو اس خیال سے کہ اس کے کھٹکے سے لڑکی جاگ جائے اور وہ اپنے شہوانی خیالات کو لڑکی کے جاگ جانے کی لگام دے سکے۔
اپنے کمرے میں آ کر اس نے منزل کرنے کی بڑی سعی کی مگر دل تو کسی اور ادھیڑ بُن میں لگ گیا تھا۔ اسے سمجھ نہ آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے؟ حیوانی جبلت اسے شیطان کے ہاتھوں بِک جانے پر اکسا رہی تھی مگر اس کے اندر چھپا بیٹھا حافظِ قرآن خود کو مسلسل کمزور پڑتا دیکھ کر باقاعدہ ہاتھ پاؤں مارنے لگا تھا۔ کشمکش تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی۔ الاؤ تھا کہ اس کی تپش اسے جھلسائے دے رہی تھی۔
ٹہلتے ٹہلتے ایک دم وہ رک گیا۔ قدم قدم چلتا ہوا ننگے پاؤں باہر نکلا۔ گھور اندھیرے میں اسے سوائے مزار، دور دور تک پھیلی خاموشی، اکیلے پن اور سناٹے کے کچھ بھی نہ ملا۔ و ہ چند لمحے کھڑا سرد ہوا کو گھونٹ گھونٹ جذبات کے حلق سے نیچے اتارتا رہا۔ تپتا ہوا جسم باہر سے سرد ہونے لگا تو اسے اپنی کنپٹیوں میں سنسناہٹ سی دوڑتی محسوس ہوئی۔
ایسی سنسناہٹ، جس میں بے چینی کے بگولے ریت اڑا رہے تھے۔ بیتابی کا غبار سانسوں کو بوجھل کر رہا تھا۔ حلق میں کانٹے سے پڑ گئے تو اس نے تھوک نگلنے کی ناکام کوشش کی۔ درد بھری ایک ٹیس ابھری اور اس کے جبڑے اکڑ سے گئے۔ منہ کھول کر اس نے فضا میں رچی ٹھنڈک کو پی لینا چاہا۔
ایک دم اسے جھرجھری سی آ گئی۔ ایک نظر مزار پر ڈال کر وہ واپس جانے کے لئے پلٹا۔ اسی وقت پھر کسی نے اسے پکارا۔ اس نے آواز کی سمت کا اندازہ لگانا چاہا مگر کامیاب نہ ہوا۔ سر جھٹک کر اس نے خود کو قائل کرنا چاہا کہ یہ اس کا وہم تھا۔ پھر وہ کمرے کی جانب چل دیا۔
“حافظ۔ “
ایک دم اس کے قدم زمین میں گڑ گئے۔ اس نے پلٹ کر دیکھنا چاہا مگر گردن اکڑ گئی تھی۔ آواز کس کی تھی، اسے صاف پتہ چل گیا۔ اس کی آنکھیں یوں مند گئیں جیسے کسی نے زبردستی انہیں بند کر دیا ہو۔ ان پر کس کر پٹی باندھ دی ہو۔
“حافظ۔ “
درویش نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
” بُوٹی لینے باہر آیا ہے۔ نقل مارنا چاہتا ہے۔ فیل ہو جائے گا۔ یہ امتحان تجھے بغیر کسی کی معاونت کے دینا ہے۔ میں تجھے ایک موقع لے کر دینے میں بڑی مشکل سے کامیاب ہوا ہوں۔ دوبارہ اس کی امید نہ رکھنا۔ اندر جا اور پرچہ حل کر۔ جا۔ تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے۔ ہمت سے گزار لے۔ جا۔ “
اس کی آنکھیں کھل گئیں۔ سارا بوجھ، سارا وزن ختم ہو گیا۔ اس نے چاروں طرف دیکھا۔ وہ اکیلا کمرے کے باہر کھڑا تھا۔ درویش وہاں کہاں تھا؟ اس نے محسوس کیا کہ اس کا جسم ہوا کی طرح ہلکا ہو گیا ہے۔ کوئی تپش اب اسے جھلسا رہی تھی نہ کوئی الاؤ اس کے اندر دہک رہا تھا۔
ایک بار پھر اس نے درویش کی تلاش میں چاروں طرف دیکھا۔ پھر مزار کی جانب نگاہ کی۔ دل میں تشکر دھڑکا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا دوسرے کمرے کے دروازے پر پہنچا۔ آہستگی سے کنڈی کھولی اور لوٹ کر اپنے کمرے میں داخل ہو گیا۔
دروازہ اپنے پیچھے بھیڑ کر وہ سر جھکائے چٹائی پر آ بیٹھا۔ کھیس کی بُکل ماری اور چراغ کی جانب دیکھا۔ اس کی ہلکی ہلکی زرد روشنی اسے بڑی بھلی لگی۔ چند لمحے وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر ایک طویل سانس لے کر اس نے قرآن پاک کو بوسہ دے کر کھولا۔ تیسرے پارے کی پہلی سطر پر نگاہ ڈالی اور آنکھیں موند لیں۔
“اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ “
اس کے لبوں سے نکلا اور آواز بھرا گئی۔
“بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ “
زبان پر خوشبو پھیلی اور آنسو رخساروں پر آ گئے۔
“تلک الرسل۔۔۔ “
ایک ہچکی تھی جو اس کے حلق سے آزاد ہوئی اور وہ اپنے آپ سے جدا ہو گیا۔
آنسو وضو کراتے رہے۔ زبان، آیتوں کو بوسے دیتی رہی۔ حواس میں پاکیزگی اترتی چلی گئی اور وہ اس بات سے بے خبر ہلکورے لیتا اپنے معبود کی ثنا کرتا رہا کہ کوئی اسے کھڑکی کی درز سے مسلسل دیکھ رہا ہے۔ اس کی کیفیت پر انگشت بدنداں ہے۔ اس کی کیفیت کو سمجھنے کی ناکام سعی کر رہا ہے اور روح کو سیراب کرتی ہوئی نمی۔۔۔ وہ تو اس جھانکنے والے کی آنکھوں میں بھی ہے۔
“لن تنالو البر”
کے الفاظ اس کی زبان پر تھے کہ اسے لگاجیسے دونوں کمروں کی درمیانی کھڑکی پر “ٹھک” کی آواز ابھری ہو۔ ایک لمحے کو وہ رکا۔ پھر تلاوت کرتی اس کی آواز بلند ہو گئی۔ “ٹھک” کی آواز پھر ابھری۔ اس نے کان بند کرنے کے لئے ان پر ہاتھ رکھ لئے۔
تیسری بار آواز ابھری تو اس نے آنکھوں کو اور زور سے بند کر لیا۔ آنکھوں پر زور پڑنے کی دیر تھی کہ چارپائی پر بے سدھ پڑا وہ جوان سراپا اس کے سامنے نمایاں ہو گیا جو تنہائی اور موقع سے مزین تھا۔ گھبرا کر اس نے آنکھیں کھول دیں۔
قرآن پاک کے الفاظ پر دھیان جماتے ہوئے اس نے صفحہ پلٹا تو لگا جیسے الفاظ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ہوں۔ صفحہ اسے بالکل کورا دکھائی دیا۔ کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی۔ نظروں میں دھند سی پھیلی اور زبان مروڑا کھا گئی۔
دماغ ایک دم سکرین بن گیا جس پر ایک جوان بدن پڑا اسے صدائیں دے رہا تھا۔ اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنا چاہا مگر اس کے سامنے کھلے پڑے قرآن پاک کا سامنے کا صفحہ بالکل کورا بالکل صاف تھا۔ اس پر کچھ لکھا ہوا نہ تھا۔ اس نے حافظے پر زور دے کر یاد کرنا چاہا مگر کچھ یاد نہ آیا کہ وہ کیا اور کہاں سے تلاوت کر رہا تھا ؟
خوف کی ایک لہر اس کے سارے جسم میں دوڑ گئی۔ یہ کیا ہوا؟ مجھے یاد کیوں نہیں آ رہا کہ میں قرآن پاک کہاں سے دہرا رہا تھا؟ یہ۔۔۔ یہ صفحات کورے کیوں ہو گئے؟ قرآن پاک کے الفاظ کہاں غائب ہو گئے؟ سنا اور پڑھا تھا کہ قیامت کے قریب قرآن پاک کے الفاظ خود بخود صفحات سے اڑ جائیں گے۔
غائب ہو جائیں گے۔ تو کیا قیامت آ گئی؟ کیا۔۔۔ ؟
اور اس “کیا ” کے آگے سوچنا اس کے لئے محال تھا۔
سوچ پر تو وہ جوان جسم قابض تھا جو چارپائی پر پڑا اسے پکار رہا تھا۔
“میرے مالک۔ “
اس کے پھڑکتے لبوں سے ایک سرگوشی آزاد ہوئی۔
“میرے معبود۔ میری مدد فرما۔ اپنے حبیب کریم کے صدقے میں میری آزمائش نہ لے۔ میں تیری کسی آزمائش، کسی امتحان کے قابل نہیں ہوں۔ مجھے معاف فرما دے۔ مجھے معاف فرما دے۔ مجھے معاف فرما دے۔ “
اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھا ان پر رکھ دیا۔ سرگوشی مدھم ہوتے ہوتے ناپید ہو گئی۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ اس نے سراٹھایا۔ لڑکی کا سراپا ابھی تک اس کے ذہن میں رقصاں تھا۔ اس کی بھویں تن گئیں۔ دانت بھینچ کر اس نے ایک پل کو کچھ سوچا۔ پھر نجانے کیا ہوا۔ آہستہ سے اس نے گردن کو حرکت دی اور دایاں ہاتھ چراغ کی لو پر سائبان کر دیا۔ لو بھڑکی اور اس کی ہتھیلی چاٹنے لگی۔
اس کی آنسوؤں سے لبریز آنکھیں اپنے ہاتھ پر جم گئیں جو چراغ کی لو پر ساکت ہو چکا تھا۔
گوشت جلنے کی چراند کمرے میں پھیلی۔ درد کی ایک لہر اس کے سارے بدن میں دوڑ گئی مگر اس درد میں کیا لذت چھپی تھی کہ اسے نشہ سا ہونے لگا۔ اسے لگا جیسے ایک دم آنکھوں کے سامنے سے ساری دھند چھٹ گئی ہو۔ نظر جھکائی تو کورے کاغذ کا دامن گلاب رنگوں سے پُر دکھائی دیا۔
قرآن پاک کے الفاظ اس کی جانب سر اٹھائے مسکرا رہے تھے۔ قیامت ٹل گئی تھی۔ اسے توبہ کا وقت مل گیا تھا۔ زبان کی اینٹھن روانی میں بدل گئی۔ حافظ اسی مقام پر جا کھڑا ہوا جہاں پر وہ آیت سے جدا ہوا تھا
________________________________

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: