Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 13

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 13

–**–**–

انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر درویش اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ سکینہ نے اسے دیکھا اور جیسے بھاگ کر اس کے قریب چلی گئی۔
” آ گئی تو۔ “
درویش نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“جیون جوگئی۔ رو کیوں رہی ہے؟”
اس نے آہستہ سے کہا اور اسے ساتھ لگا لیا۔
“کیا اپنا بھید سب کو بتائے گی۔ چُپ ہو جا۔ روک لے اس نمکین پانی کو۔ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ “
سکینہ نے اس کے کندھے سے لگے لگے بڑے غیر محسوس انداز میں پلو سے آنکھیں خشک کر لیں اور الگ ہو گئی۔
” آؤ جی بھاگاں والیو۔ “
درویش نے ان سب کو دونوں ہاتھ اٹھا کر دور سے کہا اور ساتھ ہی اپنے گھٹنے چھونے سے صاف منع کر دیا۔ اس طرح اس نے ان سے مصافحہ کرنے سے بھی جان بچا لی۔
“بابا۔ “
چوہدری حسن دین نے اس سے دو قدم دور رک کر ہاتھ جوڑ دئیے۔
“ہم آپ کا اور حافظ عبداللہ کا شکریہ ادا کرنے آئے ہیں۔ “
“شکر ادا کر اس کا چوہدری۔ جس نے یہ سارا کھیل رچایا ہے۔ “
درویش نے آسمان کی جانب انگلی اٹھا دی۔
” میں نے کیا ہی کچھ نہیں تو شکریہ کس بات کا قبول کروں۔ باقی رہا حافظ، تو وہ بیٹھا ہے۔ وہ جانے اور تم جانو۔ تم جتنا چاہو اسے شرمندہ کر لو۔ “
“نہیں بابا۔ شرمندہ کیوں کریں گے ہم اسی؟ ہم تو اس کے احسان کا بدلہ نہیں چکا سکتے۔ ہماری بیٹی کی جان بچا کر اس نے ہمیں خرید لیا ہے۔ “
میاں نذرو نے ممنونیت سے کہا۔
“تو کیا کہتا ہے میاں ؟”
درویش نے سلیم کا رخ کیا جو کبھی اسے اور کبھی حافظ عبداللہ کو دیکھ رہا تھا۔
“میں۔۔۔ میں کیا کہہ سکتا ہوں جی۔ میرے لئے تو وہ دنیا کا سب سے عظیم انسان ہے جس نے میری بہن کو مرنے سے بچا لیا۔ “
“بس۔ ” اچانک درویش بھڑک اٹھا۔
“مرنے سے تیری بہن کو میرے اللہ نے بچایا ہے، حافظ عبداللہ کون ہوتا ہے اسے بچانے والا۔ تم لوگ شرکیہ الفاظ زبان سے نکالتے ہوئے ذرا نہیں سوچتے۔ “
“معافی چاہتا ہوں بابا۔ ” سلیم سہم سا گیا۔
“میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ “
“پتہ ہے۔ پتہ ہے۔ “
درویش ایک دم ٹھنڈا ہو گیا اور بیزاری سے بولا۔
“شرک کی نیت نہیں ہوتی، اسی لئے بچ جاتے ہو تم لوگ۔ پھر بھی بولنے سے پہلے سوچا کرو۔ سوچا کرو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ “
“جی بابا۔ “
سلیم کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگ بھی متاثر نظر آ رہے تھے۔
“لے بھئی حافظ۔ بابا شاہ مقیم نے تیرے مہمان بھیجے ہیں۔ ان سے باتیں کر۔ میں ان کے لئے تبرک لے آؤں۔ ” درویش نے وہیں سے کہا اور سکینہ کے سر پر پیار دے کر پلٹ گیا۔
وہ سب لوگ حافظ عبداللہ کی طرف چل پڑے جو اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا تھا۔ میاں نذرو، سلیم اور چوہدری حسن دین نے اس سے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔ اس کا حال چال پوچھا۔ تاج بی بی نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں۔ سکینہ، ماں کے عقب میں سر جھکائے کھڑی کنکھیوں سے بار بار حافظ عبداللہ کے پٹی میں ملفوف ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔ پھر وہ سب اس کے پاس ہی دری پر بیٹھ گئے۔
“حافظ صاحب۔ ہم آپ کا شکریہ ادا کر کے اس نیکی کا درجہ نہیں گھٹانا چاہتے جو آپ نے سکینہ ہمیں زندہ سلامت لوٹا کر ہمارے ساتھ کی ہے۔ “
سلیم نے حافظ عبداللہ کا بایاں ہاتھ بڑی محبت سے تھام کر کہا۔
“میں سکینہ کا بھائی ہوں جی۔ زندگی میں کبھی میری جان کی ضرورت بھی پڑ جائے تو مانگ لینا۔ رب کی قسم۔ انکار کروں تو کافر ہو کر مروں جی۔ “
“کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔ “
حافظ عبداللہ نے گھبرا کر ہاتھ کھینچ لیا۔
“میں نے کیا کیا ہے۔ یہ تو میرے سوہنے اللہ کا کرم ہے کہ سکینہ بی بی کی جان بچ گئی۔ میں تو ایک حیلہ بن گیا اور بس۔ میں نہ ہوتا تو کوئی اور ہوتا میری جگہ۔ سکینہ بی بی پھر بھی بچ جاتیں۔ “
“سچ ہے بیٹا۔ “
میاں نذرو نے سر ہلا کر کہا۔
” مگر اب تو تم ہی ہمارے لیے اس نیکی کا سبب بنے ہو ناں۔ زبان سے تمہارے شکریے کے الفاظ ادا کر نے سے دل کو ذرا تسلی ہو جائے گی۔ باقی اس نیکی کا نہ کوئی بدل ہے نہ انعام۔ “
“بس کرو یار اَب۔ “
ایک دم چوہدری حسن دین بول پڑا۔
“تم تو اپنے شکریے کے بوجھ تلے میرے حافظ صاحب کا سانس روک دو گی۔ بس اب مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ “
اس نے حافظ عبداللہ کو مزید مشکل میں پڑنے سے بچا لیا۔
“پھر بھی ابا جی۔ ہمیں حافظ صاحب کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔ زبانی جمع خرچ سے کیا فائدہ۔ ” سلیم نے باپ کی طرف دیکھا۔
“کیا کریں پتر۔ تو بتا ؟”
میاں نذرو بیٹے کی طرف متوجہ ہوا۔
“دیکھئے۔ آپ لوگوں نے میرا شکریہ ادا کر لیا۔ اس سے زیادہ کچھ کرنے کے بارے میں آپ لوگ سوچیں بھی مت۔ اس سے مجھے تکلیف ہو گی۔ “
حافظ عبداللہ نے ان کی نیت بھانپ کر جلدی سے کہا۔ اسی وقت اس کی نگاہ سکینہ پر پڑی جو اسے بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے فوراً ہی چہرہ دوسری جانب پھیر لیا۔
“اماں۔ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ “
اچانک سکینہ نے زبان کھولی تو سب لوگ چونک پڑی۔ اس کے وجود سے تو وہ جیسے بے خبر ہی ہو گئے تھی۔
“ہاں ہاں بیٹی۔ تو کہہ۔ “
تاج بی بی کے ساتھ میاں نذرو بھی بول اٹھا۔
” شاید تیری ہی بات کچھ ایسی ہو کہ ہمارے دل اطمینان پا سکیں۔ “
“رک جا ؤ بیٹی۔ ” چوہدری حسن دین نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“ادھر آ۔ پہلے چاچا بھتیجی صلاح کر لیتے ہیں۔ پھر انہیں بتائیں گے۔ آ جا۔ “
وہ دری سے اٹھا اور جوتے پہننے لگا۔
سکینہ نے ایک پل کو کچھ سوچا۔ ایک نگاہ بھر حافظ عبداللہ کی جانب دیکھا۔ لگتا تھا وہ اسے کچھ بھی کہنے سے روکنا چاہتا ہے مگر پھر نجانے کیوں اس نے سکینہ سے نظر ملتے ہی نچلا ہونٹ دانتوں میں داب کر سر جھکا لیا۔ سکینہ، چوہدری حسن دین کے ساتھ ان لوگوں سے تیس پینتیس قدم دور کھیتوں کے کنارے چلی آئی۔
“اب بتا بیٹی۔ کیا کہنا چاہتی ہے تو؟”
چوہدری حسن دین یوں کھڑا ہو گیا کہ اس کا رخ باقی لوگوں کی طرف تھا اور سکینہ کی پشت۔
“چاچا۔ “
سکینہ نے زبان پھیر کر اپنے ہونٹوں کو تر کیا۔
” میں۔۔۔ میں۔۔۔ “
اس نے نظر جھکا لی۔
“دیکھ بیٹی۔ بات تو حافظ عبداللہ کا شکریہ ادا کرنے کی ہے۔ وہ اسے روپیہ پیسہ، مکان وغیرہ دے کر ادا کیا جا سکتا ہے۔ اب تیرے ذہن میں کیا ہے، تو وہ بتا دے۔ “
“کسی کی جان بچانے کی قیمت کیا یہی کچھ ہے چاچا؟”
سکینہ نے اس کی جانب دیکھا۔
“نہیں۔ “
خلاف معمول چوہدری حسن دین اس وقت بالکل سنجیدہ تھا۔
“مگر ہم اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں بیٹی؟”
“جان میری بچائی ہے اس نے چاچا۔ تو کیا اس کا شکریہ ادا کرنے کا موقع مجھے نہیں ملنا چاہئے؟” اچانک سکینہ نے جیسے حوصلہ پکڑ لیا۔
“بالکل ملنا چاہئے بیٹی۔ “
چوہدری حسن دین نے اس کی آنکھوں میں بڑے غور سے دیکھ کر کہا اور اس بار سکینہ نے نظر نہ جھکائی بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتی رہی۔ “تو بتا۔ کیا کرنا چاہتی ہے تو؟”
اور جواب میں اس نے جو کہا اسے سن کر چوہدری حسن دین کے پاؤں تلے سے زمین سرک گئی۔ اس نے جیسے لڑکھڑانے سے بچنے کے لئے دونوں ہاتھ سکینہ کے شانوں پر رکھ لئے۔ اس کا رنگ فق ہو گیا اور دل سینے میں دھڑکنا بھول گیا۔
“ہاں چاچا۔ ” سکینہ نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
“یہی میرا شکریہ ہے حافظ عبداللہ کے حضور۔ “
“مگر کیوں بیٹی؟ اتنا بڑا فیصلہ۔۔۔ “
“میں نے یہ فیصلہ خوب سوچ سمجھ کر کیا ہے چاچا۔ نہ یہ اچانک ہے اور نہ کسی دباؤ کے تحت۔ یہ حتمی ہے۔ اس میں کوئی لچک ممکن نہیں۔ “
اس نے چوہدری حسن دین کی بات کاٹ دی۔
اس کی آواز میں نجانے کیا تھا کہ چوہدری حسن دین کا سانس سینے میں رک سا گیا۔ اس نے پلکیں زور سے جھپک کر نظر میں اڑتی دھول صاف کرنے کی کوشش کی۔ پھر آہستہ سے سکینہ کے کندھوں سے ہاتھ ہٹا لئے۔
“سکینہ بیٹی۔ میں تجھے وہاں ، ان لوگوں کے پاس سے یونہی اٹھا کر نہیں لے آیا تھا۔ جب سے ہم یہاں آئے ہیں ، میں محسوس کر رہا تھا کہ تو حافظ عبداللہ کو بار بار کنکھیوں سے دیکھ رہی ہے۔ میری بات کا برا نہ منانا۔ میں نے اس بات کو اچھا نہ سمجھا اور دل میں بدگمانی کا شکار بھی ہوا، کیونکہ حافظ عبداللہ کی میرے دل میں بڑی عزت ہے۔
وہ میرے بچوں کا استاد ہے۔ اس کی شرم مارتی ہے مجھے۔ جب تو نے کہا کہ تو حافظ عبداللہ کے لئے کچھ کہنا چاہتی ہے تو میں یہ سوچ کر تجھے وہاں سے اٹھا لایا کہ تو نادانی میں کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکال دے جسے بھگتنا ہمارے لئے مشکل ہو جائے مگر مجھے یہ اندازہ قطعی نہیں تھا کہ تو اتنی بڑی بولی لگا دے گی اپنی جان بچانے کی۔ ابھی تک میں یہ بھی نہیں جان پایا کہ تو نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟”
“وہ میں سب کے سامنے بتاؤں گی چاچا۔ “
سکینہ نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
“سب کے سامنے؟” چوہدری حسن دین چونکا۔
“مگر کیوں ؟ دیکھ بیٹی۔ مجھے یہیں بتا دے تاکہ میں وہاں بات کو سنبھال سکوں۔ “
“ایسی کوئی بات نہیں ہے چاچا، جس کے لئے مجھے کسی کی سفارش کی ضرورت پڑی۔ بات بالکل صاف، سیدھی اور سچی ہے جو میں سب کو ایک ساتھ بتانا چاہتی ہوں۔ “
“بیٹی۔۔۔ ” چوہدری حسن دین نے کہنا چاہا۔
“بس چاچا۔ اور کچھ نہیں۔ “
سکینہ نے جیسے بات ختم کر دی۔
” آئیے چلیں۔ سب لوگ نجانے کیا کیا سوچ رہے ہوں گے۔ “
وہ سر جھکائے آہستہ سے پلٹی۔ چوہدری حسن دین نے اسے روکنا چاہا، مگر وہ قدم اٹھا چکی تھی۔ بیچارگی سے ہونٹ کاٹتے اور دماغ میں اٹھتے بگولوں سے دامن بچانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔ آنے والے لمحات میں کیا طوفان جنم لینے والا تھا، اس کا احساس اسے بخوبی ہو رہا تھا۔
سکینہ لوٹی اور سر جھکائے اس طرح آ کر دری پر بیٹھ گئی کہ اب اس کے سب لوگ اس کے سامنے اور حافظ عبداللہ کچھ فاصلے پر بائیں ہاتھ پر تھا۔ چوہدری حسن دین لمبے لمبے ڈگ بھرتا آیا اور سکینہ کے ساتھ بیٹھ گیا۔ سب حیران تھے کہ سکینہ ان کے پاس بیٹھنے کے بجائے ان کے سامنے کیوں آ بیٹھی ہے؟ درویش ابھی تک نہ لوٹا تھا۔
التحیات پر جیسے عورتیں بیٹھتی ہیں ، اس انداز میں بیٹھ کر سکینہ نے بائیں ہتھیلی زمین پر بچھا کر جسم کا سارا بوجھ اس پر ڈال دیا اور دوپٹہ سر پر ٹھیک کر لیا۔
“چاچا۔ آپ بات کریں گے یا میں بولوں ؟”
اس نے اپنے ساتھ بیٹھے چوہدری حسن دین سے آہستہ آواز میں پوچھا، جس کی ساری شگفتگی ہوا ہو چکی تھی۔
“نہیں۔ تم ابھی خاموش رہو۔ “
چوہدری حسن دین نے بھی آہستہ سے جواب دیا اور کھنکار کر گلا صاف کیا۔
سب لوگ انہیں اشتیاق بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ آخر میاں نذرو رہ نہ سکا اور بول پڑا۔
“کیا بات ہوئی بھئی تم چاچے بھتیجی میں۔ اب بتا بھی دو۔ کیوں ہمارا ضبط آزما رہے ہو۔ “
“میاں۔ ” چوہدری حسن دین نے بجھی بجھی نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔
“سکینہ بیٹی۔۔۔ ” وہ رک گیا۔ اس کا حوصلہ نہ پڑ رہا تھا کہ بات ایک دم سے زبان سے نکال دی۔
“سکینہ بیٹی۔ ” اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔
” وہ چاہتی ہے کہ۔۔۔ “
“ارے بابا۔ کہہ دے جلدی سے۔ میرا دل تو ہول کھانے لگا ہے کہ نجانے کیا بات کہنے والا ہے تو؟”
میاں نذرو کی بیتابی شدید ہو گئی۔
” تو سن میاں۔ “
چوہدری حسن دین نے سر جھٹک کر کہا۔ اس نے سوچ لیا کہ اب جو ہو سو ہو، اسے بات کر دینی چاہئے۔
” مگر میری بات سننے سے پہلے یہ جان لے کہ اگر بات تم لوگوں کی عقل اور سمجھ سے اوپر کی ہوئی تو فوری طور پر کوئی جوابی اقدام کرنے سے گریز کرنا۔ بات اتنی ہی نازک ہے کہ میں بھی بڑی مشکل سے سمجھ پایا ہوں۔ “
سب لوگوں کے کان کھڑے ہو گئے۔ حافظ عبداللہ نے گھبرا کر سکینہ اور چوہدری حسن دین کی جانب دیکھا۔ سکینہ تو سر جھکائے بیٹھی تھی اور چوہدری حسن دین نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ضرور مگر وہاں اس کے لئے کوئی پیغام تھا نہ تسلی۔
“سکینہ بیٹی چاہتی ہے کہ اس کی شادی حافظ عبداللہ سے کر دی جائے۔ “
چوہدری حسن دین کے الفاظ تھے یا بجلی کا کڑاکا۔ انہیں یوں لگا جیسے ان کی سماعتیں انہیں دھوکا دے رہی ہوں۔ وہ کچھ اور سننا چاہتے تھے مگر سنائی کچھ اور دے رہا تھا۔
“کیا کہہ رہے ہو چوہدری؟”
میاں نذرو ایک دم ہتھے سے اکھڑ گیا۔ اس نے گھور کر حافظ عبداللہ کی جانب دیکھا جو اپنی جگہ پر دم بخود بیٹھا تھا۔ اسے خود سمجھ نہ آ رہی تھی کہ اس نے جو سنا وہ غلط تھا، یا جو سکینہ کی نظریں کہہ رہی تھیں ، وہ سچ تھا۔ سکینہ نے اسے ایک بار بھرپور نگاہوں سے دیکھا، پھر سر جھکا لیا۔
“میں درست کہہ رہا ہوں۔ مجھ سے سکینہ بیٹی نے یہی کہا ہے۔ “
چوہدری حسن دین نے سنبھالا لیا۔
” اور میاں۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ تمہیں بات کی باریکی کو سمجھنے سے پہلے کوئی بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ “
“اور بات کی باریکی کو سمجھا کیسے جائے گا چاچا؟”
اچانک سلیم کی زہریلی آواز ابھری۔ وہ اپنے غصے کو ضبط کی لگام دینے کی کوشش کر رہا تھا۔
“سکینہ بیٹی کی بات سن کر۔ اس نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟ یہ جاننے کے بعد ہی ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہمیں اس کی بات ماننا چاہئے یا نہیں ؟”
“مگر بھائی صاحب۔ یہ کیسے ممکن ہے؟”
تاج بی بی کی کمزور سی آواز ابھری۔ اسے سکینہ سے ایسے اقدام کی امید ہی نہ تھی۔ ویسے بھی وہ اپنے دیور کے رحم و کرم پر تھی۔ اسے زندگی کی ہرسہولت ضرور میسرتھی مگر ہر فیصلے کا اختیار صرف میاں نذرو کے پاس تھا۔ اب اسے یہ خوف ستا رہا تھا کہ سکینہ کی اس بات کے رد عمل کے طور پر ان ماں بیٹیوں کے ساتھ جوسلوک ہو گا، اس کی ابتدا کس ستم سے ہو گی۔
“ممکن اور ناممکن کا فیصلہ کرنے سے پہلے اگر آپ لوگ مجھے کچھ کہنے کا موقع دیں تو شاید میں آپ کو سمجھا سکوں۔ “
سکینہ نے بڑی مشکل سے بوجھل پلکیں اٹھائیں اور حافظ عبداللہ کی جانب دیکھاجس کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔ نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن کے مصداق وہ اپنی جگہ جیسے گڑ کر رہ گیا تھا۔
” پہلی بات یہ ہے کہ میں نے یہ فیصلہ اپنی ذات میں رہ کر، اپنے طور پر کیا ہے۔ اس میں حافظ صاحب کا کوئی دخل نہیں ہے، اس لئے انہیں کسی بھی طرح قصوروار نہ سمجھا جائے۔ “
“اور دوسری بات؟”
شعلہ بار انداز میں سلیم نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔
“دوسری بات یہ کہ میرے اس فیصلے کی، ایک عورت ہونے کے ناطے، میرے پاس بڑی معقول وجہ موجود ہے۔ “
“وہ بھی کہہ ڈالو۔ “
سلیم کا لہجہ اب بھی بڑا تلخ تھا۔
“ایک عورت کے لئے سب سے محترم وہ مرد ہوتا ہے جو سب سے پہلے اس کے جسم کو چھوتا ہے۔ “
“کیا مطلب؟”
ایک دم سلیم اور میاں نذرو کے ہونٹوں سے نکلا اور وہ آگ بگولہ ہو گئے۔ ان کے نظروں کا ہدف حافظ عبداللہ بنا مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتے، سکینہ کی آواز نے انہیں اپنی طرف متوجہ کر لیا۔
“میری بات کا غلط مطلب نہ لو سلیم بھائی۔ مجھے اپنی بات پوری کرنے دو۔ “
“یہ ٹھیک کہہ رہی ہے سلیم۔ “
چوہدری حسن دین نے دونوں باپ بیٹے کو تنبیہ کرنے کے انداز میں کہا۔ “اس کی بات پوری سن تو لو۔”
“سننے کے لئے رہا کیا ہے اب چاچا۔ سب کچھ تو صاف ہو گیا ہے۔ “
سلیم بھڑکا۔
“کچھ صاف نہیں ہوا۔ کچھ نہیں سنا ابھی تم نے۔ ” سکینہ کی آواز بلند ہو گئی۔
” مجھے بات پوری کر نے دو۔ غصہ نکالنے کے لئے تمہیں بہت وقت مل جائے گا۔ “
سلیم اور میاں نذرو نے اسے بڑی کڑی نظروں سے دیکھتے ہوئے بادل نخواستہ خاموشی اختیار کر لی اور حافظ عبداللہ نے ایک بار پھر امید بھری نظروں سے بابا شاہ مقیم کے مزار کی جانب دیکھا۔ ابھی تک درویش باہر نہیں آیا تھا۔ اس کے ہوتے شاید حالات وہ خراب رخ اختیار نہ کرتے، جس کی طرف وہ اب جا رہے تھے۔
“مجھے جب سیلاب سے حافظ صاحب نے نکالا تو یہ شام کے قریب کا وقت تھا اور میں اس وقت بیہوش تھی۔ میرے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھی۔ وہ مجھے چادر میں لپیٹ کر اپنے کندھے پر اٹھا کر اس کمرے میں لے گئے اور چارپائی پر ڈال دیا۔ “
سکینہ نے اس کمرے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا جس میں اس نے رات گزاری تھی۔ سب نے پلٹ کر اس جانب دیکھا اور پھر اس کی طرف متوجہ ہو گئی۔ وہ کہہ رہی تھی۔
“میں جب ہوش میں آئی تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ مجھے بتایا کہ میں بابا شاہ مقیم کے مزار پر ہوں۔ مجھے کھانے کو روٹی دے کر وہ دوسرے کمرے میں چلے گئے اور قرآن پاک کی تلاوت میں محو ہو گئی۔ “میرے ساتھ میرا اللہ موجود ہے۔”
یہ بات مجھے بے خوف کرنے کے لئے حافظ صاحب نے کہی تھی، مگر ایک اجنبی جوان مرد کے ساتھ انجان جگہ پر موجود ہونے کا احساس مجھے پلک نہ جھپکنے دیتا تھا۔ میرا جسم پانی کے تھپیڑے کھا کھا کر چور ہو چکا تھا۔ میں تھکن سے بے حال تھی۔ سو جانا چاہتی تھی۔ جاگ جاگ کر جب حواس میرا ساتھ چھوڑنے لگے تو میں نے کمرہ اندر سے بند کیا اور لیٹ گئی۔ تب، حافظ صاحب چپکے سے آئے۔
مجھے سوتا دیکھ کر چند لمحے کھڑے رہے پھر لوٹ گئے۔ میں نے ان کے جانے کے بعد اٹھ کر کھڑکی کی درز سے دیکھا۔ وہ بے تابی سے کمرے میں ٹہل رہے تھے۔ شاید وہ بھی اسی کیفیت کا شکار تھے جو مجھے نہ سونے دے رہی تھی۔ میں گھبرا گئی اور اپنے اللہ سے رو رو کر مدد مانگنے لگی۔ “
سکینہ رکی۔ اس نے سر جھکائے بیٹھے حافظ عبداللہ پر ڈالی۔ پھر میاں نذرو، سلیم اور اپنی ماں کی جانب دیکھا، جو خاموشی سے اس کی بات سن رہے تھے۔ ان کی حالت میں ایک ٹھہراؤ تو آیا تھا مگر ماتھے اب بھی شکن آلود تھے۔
“کافی دیر بعد میں نے دوبارہ ڈرتے ڈرتے کھڑکی کی درز سے جھانک کر دیکھا اور میرا سانس رک گیا۔ میرے حواس میرا ساتھ چھوڑ گئی۔ جب صورت حال میری سمجھ میں آئی تو مجھے لگا، میں کسی اور ہی دنیا میں ہوں۔ حافظ صاحب مجھے اس دنیا کے فرد نہ لگے۔ میں ان کے سامنے خود کو حقیر ترین محسوس ہوئی۔ آپ جانتے ہیں ، میں نے کیا دیکھا؟”
سکینہ نے بات روک کر دھندلائی ہوئی نظروں سے ان سب کو باری باری دیکھا۔ وہ سب اس کی بات مکمل ہونے کے انتظار میں اسی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کوئی جواب دیتا بھی تو کیا، خود چوہدری حسن دین تک تو حیرت میں گم یہ قصہ عجب شب سن رہا تھا۔
“میں نے دیکھا۔ “
سکینہ کی آواز بھیگتی چلی گئی۔
” حافظ صاحب تلاوت میں اس طرح منہمک ہیں کہ انہیں یہ تک ہوش نہیں کہ شیطان کو اپنے خیالوں سے، اپنی سوچوں سے نکال پھینکنے کے لئے انہوں نے اپنا جو ہاتھ جلتے چراغ کی لو پر رکھا تھا، وہ خشک لکڑی کی طرح آگ پکڑ چکا ہے۔ جل رہا ہے۔ پگھل رہا ہے۔ میں بھاگی۔ ان کے کمرے میں پہنچی۔ ان کے قریب پہنچی تو درویش بابا نے مزار کے باہر اللہ اکبر کی صدا بلند کی۔
میں نے حافظ صاحب کا ہاتھ جلتے چراغ سے ہٹایا۔ وہ سر سے پاؤں تک پسینے میں ڈوبے ہوئے تھی۔ درد اور تکلیف کا احساس انہیں تب ہوا جب میں نے ان کا ہاتھ کمبل کے پلو میں لپیٹا اور انہوں نے مجھے دیکھا۔ ایک کراہ کے ساتھ وہ غش کھا گئے۔ اسی وقت درویش بابا اذان ختم کر کے اندر آئے اور انہوں نے حافظ صاحب کو لے جا کر اسی چارپائی پر ڈال دیا جس پر ساری رات میں کروٹیں بدلتی رہی تھی۔ یہ ہاتھ۔۔۔ “
سکینہ نے سسکی لی اور حافظ عبداللہ کے جلے ہوئے ہاتھ کی جانب اشارہ کیا۔
” خود بخود جلتے ہوئے چراغ پر نہیں جا پڑا تھا۔ حافظ صاحب نے اسے خود آگ کے حوالے کر دیا تھا، تاکہ ان کے خیالوں میں بار بار نقب لگاتا شیطان جل کر خاک ہو جائے۔ درد اور اذیت کی جس منزل سے وہ گزرے ہیں ، میں اور آپ اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔ اور یہ سب انہوں نے صرف اس لئے کیا کہ ان کا دھیان میری طرف سے ہٹا رہے۔ میں ان کی نفسانی گمراہی سے محفوظ رہوں۔ سکینہ کی عزت بچی رہی۔ سکینہ اپنے پچھلوں تک پہنچے تو اس کا دامن پاک ہو۔ “
وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے اپنی لرزتی آواز پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی۔ آنسو بہنے کا اسے کوئی ہوش نہ تھا۔
چوہدری حسن دین بُت بنا سب کچھ سن رہا تھا تو باقی لوگوں کا حال بھی اس سے مختلف نہ تھا۔ ان کے اذہان میں آندھیاں چل رہی تھیں۔ وہ سب کچھ سن رہے تھے اور تصور میں فلم سی چلتی دیکھ رہے تھے۔
“ایک جوان لڑکی کو اپنے نفس کی بھینٹ چڑھنے سے بچانے کے لئے حافظ صاحب نے خود کو جس امتحان میں ڈالا، کیا وہ کسی عام انسان کے بس کی بات ہے؟”
سکینہ نے چند لمحوں کے بعد آنکھیں خشک کرتے ہوئے ان سب سے سوال کیا۔
” ان کا ہاتھ زندگی بھر کے لئے ناکارہ ہو گیا۔ ایک دن میری شادی ہونا ہی ہے۔ جس طرح ہر لڑکی چاہتی ہے کہ اس کا ہونے والا شوہر خوبصورت ہو۔ خوبیوں میں ایسا ہو کہ دوسری لڑکیاں اس پر رشک کریں۔ اسی طرح میں بھی اپنے لئے ایسا ہی شوہر چاہتی ہوں۔۔۔ لیکن کیا مجھے حافظ صاحب جیسا مرد ملے گا؟
ایسا مرد جس نے اپنے نفس کو پچھاڑ کر ثابت کر دیا کہ مردانگی عزت لوٹنے کا نام نہیں ، عزت کی حفاظت کرنے کا نام ہے۔ میرے جسم کو صرف ایک غیر مرد نے اب تک چھوا اور وہ حافظ صاحب ہیں۔ انہوں نے جن حالات میں مجھے چھوا، وہ ان کی مجبوری تھی لیکن انہوں نے میری مجبوری سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔
میرا جسم میرے شوہر کی امانت ہے۔ میں چاہتی ہوں ، چار کلمے پڑھ کر جس انسان کو میرے جسم کا مالک بننا ہے، وہ وہی ہو جس نے پہلی اور آخری بار میرے جسم کو چھُوا اور اس میں اس کی بدنیتی کو کوئی دخل نہ تھا۔۔۔ ہاں مگر اس کے لئے میں حافظ صاحب کی رضا کی مکمل پابند ہوں۔ اگر وہ نہیں چاہتے تو میں انہیں اس کے لئے مجبور نہیں کروں گی کہ وہ مجھ سے شادی کے لئے ہاں کریں۔ “
سکینہ خاموش ہو گئی۔
چوہدری حسن دین نے ہاتھ بڑھایا اور اسے بازو کے کلاوے میں لے کر اس کا ماتھا چوم لیا۔ وہ سسکتی ہوئی اس کے سینے سے لگ گئی۔
سب لوگ سر جھکائے بیٹھے تھے۔ انہیں فیصلہ کرنے میں دقت ہونا ایک قدرتی امر تھا۔ یہ کوئی گڈے گڑیا کا بیاہ نہیں تھا جس کے لئے بغیر سوچے سمجھے ہاں کر دی جاتی۔
حافظ عبداللہ نے ایک بار پھر مزار کی طرف نظر اٹھائی اور یہ دیکھ کر چونکا کہ مزار کے بجائے درویش گاؤں کی طرف سے آنے والے رستے پر چلا آ رہا تھا۔ اس کے سر پر مٹھائی کی ٹوکری تھی جسے وہ ایک ہاتھ سے سنبھالے ہوئے تھا۔
اسے آتا دیکھ کر حافظ عبداللہ نے بڑا حوصلہ محسوس کیا۔ درویش نے چوہدری حسن دین کے قریب پہنچ کر مٹھائی کی ٹوکری اسے تھما دی۔
“بابا۔ یہ کیا ہے؟”
وہ حیرت سے بولا۔
“بابے شاہ مقیم کی طرف سے تبرک بھی ہے اور منہ میٹھا کرنے کے لئے مبارک بھی۔ “
درویش نے دھیرے سے کہا۔ پھر باقی لوگوں کی طرف متوجہ ہوا جو اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے تھے۔
“بیٹھو بیٹھو اللہ والیو۔ کھڑے کیوں ہو گئے۔ بیٹھ جاؤ۔ لگتا ہے ابھی بات تم لوگوں کے حلق سے نہیں اتری۔ میرے حافظ کو تول رہے ہو ابھی۔ “
وہ رکا تو حافظ عبداللہ اٹھا اور تیزی سے چلتا ہوا اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔ سکینہ اب درویش کے دائیں اور حافظ عبداللہ بائیں طرف تھا۔ باقی سب لوگ اس کے سامنے تھے۔ حافظ عبداللہ نے کچھ کہنا چاہا مگر درویش نے اسے ہاتھ اٹھا کر خاموش کرا دیا۔ اس کے بیٹھنے پر سب لوگ پھر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔
“ہاں۔ تو ابھی تک حافظ کا تول پورا نہیں ہوا۔ یہی بات ہے ناں ؟”
درویش نے میاں نذرو اور سلیم کی طرف دیکھا۔
“بات یہ ہے بابا۔۔۔ “
میاں نذرو نے زبان کھولی۔
“حافظ عبداللہ کا رنگ سانولا ہے۔ چہرہ مہرہ بھی واجبی سا ہے۔ مال دولت پلے ہے نہیں۔ مسجد کے حجرے میں رہتا ہے۔ آگے پیچھے رونے والا بھی کوئی نہیں۔ سکینہ جیسی پڑھی لکھی، خوبصورت، اچھے اور اونچے گھرانے کی لڑکی کے قابل نہیں ہے وہ۔ یہی بات ہے ناں میاں ؟”
درویش نے میاں نذرو کی بولتی بند کر دی۔
“مگر اس سے شادی کا فیصلہ تو سکینہ نے کیا ہے۔ وہ بالغ ہے۔ اپنی پسند کا نکاح کر سکتی ہے۔ پھر تم لوگوں کو کیا اعتراض ہے اس پر؟”
“اعتراض ہے بھی اور نہیں بھی بابا۔ “
اس بار سلیم نے کہا۔
“جو میں نے گِنوائے ہیں ، ان کے علاوہ کوئی اور اعتراض ہو تو کہو۔ “
درویش نے اسے مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا۔
“لڑکی کی ماں سے بھی تو پوچھ لینا چاہئے۔ “
“ہاں۔ یہ جائز بات ہے۔ “
درویش نے تاج بی بی کا رخ کیا۔
“تو بول۔ تو کیا کہتی ہے بی بی۔ تجھے کیا اعتراض ہے اس انہونی پر؟”
“مجھے؟” تاج بی بی نے گھبرا کر میاں نذرو اور پھر سلیم کی طرف دیکھا جو اسے سرد سی نظروں سے تک رہے تھے۔
“مجھے کیا اعتراض ہو گا بابا جی۔ جو فیصلہ کرنا ہے سکینہ کے چاچا اور سلیم پتر نے کرنا ہے۔ “
“مطلب یہ ہے کہ تجھے اس نکاح پر کوئی اعتراض تو نہیں ناں ؟”
“میں کیا کہہ سکتی ہوں جی؟”
تاج بی بی نے بیچارگی سے کہا اور سر جھکا لیا۔
“ہاں۔ تو کیا کہے گی بیچارئیے۔ تیری زبان پر تو بیوگی نے تالا ڈال رکھا ہے۔ بولے گی تو بے گھر ہو جائے گی اس عمر میں۔ اپنا کیا ہے تیرے پاس، سوائے سکینہ کی۔۔۔ “
درویش نے طنز بھری نگاہوں سے میاں نذرو اور سلیم کی جانب دیکھا جنہوں نے سر جھکا لئے تھی۔
” آپ ہماری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کریں بابا۔ ” سلیم نے آہستہ سے کہا۔
“لوگ کیا کہیں گے۔ برادری کیا کیا باتیں نہ بنائے گی؟ہم کس کس کا منہ بند کرتے پھریں گے۔ “
“باقی سب کی فکر چھوڑ۔ صرف اپنا منہ بند کر لے۔ ” درویش نے اس کی جانب انگلی اٹھائی۔
“تو نہ چاہے گا تب بھی یہ نکاح تو ہو گا۔”
“کوئی زبردستی ہے؟” سلیم ہتھے سے اکھڑ گیا۔
“نہیں۔ ” درویش مسکرایا۔
“زبردستی نہیں۔ فیصلہ ہے اس کا۔ “
اس نے آسمان کی جانب دیکھا۔
” اور اس کے فیصلے تیرے میرے چاہنے سے نہیں بدلتے۔ تو زور لگا کر دیکھ لے۔ ہو گا وہی جو اس کی مرضی ہے۔ “
“ابا۔ اٹھ جا۔ چلیں اب۔ بہت ہو گئی۔ چل تائی۔ سکینہ کو ساتھ لے اور گھر چل۔ “
سلیم نے اچانک اپنی جگہ چھوڑ دی۔
میاں نذرو نے اس کی جانب دیکھا۔ پھر دوپٹے میں منہ چھپائے بیٹھی آنسو بہاتی تاج بی بی پر نگاہ ڈالی۔ آخر میں اس کی نظر سر جھکائے بیٹھی سکینہ پر جم گئی۔ چند لمحے وہ انگلیاں مروڑتی سکینہ کو دیکھتا رہا۔ پھر حافظ عبداللہ کی طرف نگاہ اٹھائی، جو اپنے جلے ہوئے ہاتھ کو گھور رہا تھا۔
“ابا۔۔۔ ” سلیم نے اس کا شانہ ہلایا۔
میاں نذرو نے آہستہ سے اس کا ہاتھ شانے سے ہٹا دیا اور درویش کی طرف متوجہ ہوا۔
“بابا۔ آپ نے فیصلہ تو سنا دیا مگر اب تک حافظ عبداللہ سے نہیں پوچھا کہ اس کی کیا مرضی ہے؟”
“تواب پوچھ لیتے ہیں اللہ والیا۔ “
درویش نے حافظ عبداللہ کی طرف دیکھا۔
“کیوں حافظ۔ تجھے سکینہ سے نکاح منظور ہے یا نہیں ؟ دل سے جواب دینا۔ کوئی زبردستی ہے نہ دباؤ۔ تو اپنے فیصلے میں آزاد ہے۔ “
“بابا۔ ” حافظ عبداللہ نے ایک نظر سکینہ پر ڈالی جو اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نجانے کیا تھا کہ حافظ عبداللہ ان میں کھو کر رہ گیا۔ پھر چند لمحوں کے بعد اس نے سر جھکا لیا۔
” میں خود کو اس قابل نہیں پاتا۔ “
“سیانا نہ بن۔ “
درویش نے اسے جھڑکی سی دی۔
“جو نعمت اللہ تجھے دے رہا ہے اس کا کفران کر رہا ہے۔ شرم کر شرم۔ “
“بابا۔۔۔ میں۔۔۔ ” حافظ ہکلا کر رہ گیا۔
“سکینہ۔ پگلئے، یہ تو بڑا بزدل نکلا۔ ڈرتا ہے۔ امتحان سے نہیں ڈرا۔ نتیجے سے ڈر گیا۔ “
درویش نے سکینہ کی جانب گردن جھکائی۔
” اب بول۔ کیا کرے گی تو؟”
“کچھ نہیں بابا۔ “
سکینہ نے بڑے سکون سے کہا۔
” میں نے کہا ناں۔ مجھے جس نے ایک بار چھو لیا، وہی میرا صاحب ہے۔ یہ میرے قابل نہیں ، بات یہ نہیں۔ اصل میں ، مَیں ان کے قابل نہیں ہوں۔ یہ مجھے نہ اپنائیں۔ ان کی مرضی۔ میں ساری زندگی ان کے نام پر بیٹھ کر گزار دوں گی۔ لوگوں کے سائیں پردیس بھی تو چلے جاتے ہیں بابا۔ “
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟”
حافظ عبداللہ نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا۔
“ٹھیک کہہ رہی ہوں حافظ صاحب۔ “
اس کے لبوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ ابھری۔
“میں نے آپ کا رنگ ڈھنگ، آپ کا نام نسب، آپ کا خاندان اور مال و دولت نہیں دیکھی۔ آپ نے یہ سب کچھ دیکھا۔ فیصلہ آپ کا رہا۔ آپ نے مجھے ٹھکرا دیا مگر میں نے آپ کو اپنا لیا ہے۔ اپنا مان لیا ہے۔ “
” آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔ “
حافظ کا لہجہ بھرا گیا۔
” میں اس قابل نہیں ہوں کہ آپ کو کوئی سُکھ دے سکوں۔ لوگوں کے دیے ہوئے پر دو وقت کی روٹی چلتی ہے۔ مسجد کے حجرے میں رہتا ہوں۔ آپ نازوں کی پلی میرے ساتھ رُل جائیں گی۔ “
“رُل جانے دیجئے مجھے۔ میں مرضی سے رُل جانے کو تیار ہوں۔ آپ مجھے نہ رُلنے پر مجبور کرنے والے کون ہوتے ہیں ؟”
سکینہ کی آواز ڈوب گئی۔
“بابا۔ ” اچانک چوہدری حسن دین نے درویش کی جانب دیکھا۔
“مجھے کچھ کہنے کی اجازت ہے۔ “
“ہاں ہاں۔ سب اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں۔ تو بھی بول۔ مجھے پتہ ہے تو اچھا ہی بولے گا۔ بول۔ “
“اگر بات اتنی ہی سی ہے تو۔۔۔ “
اس نے جیب سے چابیوں کا گچھا نکالا۔ اس میں سے ایک چابی نکالی اور دری پر رکھ دی۔
“یہ میرے آبائی مکان کی چابی ہے۔ میں ابھی اسی وقت یہ مکان اور اپنے چار کھیت جو اس مکان کے ساتھ جڑے ہیں ، حافظ عبداللہ کے نام کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے اب انہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ “
سب لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ سلیم کا حال سب سے برا تھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ حقیقت میں ہو رہا ہے۔
“یہ کی ناں پگلوں والی بات۔ “
درویش قلقاری مار کر ہنسا۔
” اب بول حافظ۔ اب کیا کہتا ہے۔ اب تو تو بھی ساہوکار ہو گیا۔ اب کیسے ہچر مچر کرے گا؟”
“بابا۔ ” حافظ عبداللہ کی آواز حلق میں پھنس گئی۔ درد کی ایک لہر آنسوؤں میں بھیگ کر پلکوں سے اتری اور رخساروں پر پھیل گئی۔ وہ بایاں ہاتھ چہرے پر رکھ کر سسک پڑا۔
“مبارک ہو سکینہ۔ تیرا پگلا پن کام آ گیا۔ “
درویش نے مسکراتے ہوئے سکینہ کی جانب دیکھا۔ وہ سرخ سرخ آنکھوں سے اسے دیکھ کر ہولے سے ہنس دی۔
“پگلے۔ اٹھا لے یہ رسید۔ اس پر قبولیت کے دستخط ہو گئے ہیں۔ “
درویش نے چابی کی طرف اشارہ کیا تو چوہدری حسن دین نے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں بابا۔ میں نے خالی خولی صلح نہیں ماری تھی۔ یہ سب اب حافظ۔۔۔ “
“پتہ ہے۔ پتہ ہے۔ “
درویش نے چابی اٹھا کر اس کی جیب میں ڈال دی۔
” تو نے جس نیت سے کہا تھا، وہی تو قبول ہوئی ہے پگلے۔ رہے یہ دونوں۔ تو ان کے لئے میرا اللہ اور اس کا پیارا حبیب کافی ہیں۔ “
چوہدری حسن دین خاموش ہو گیا۔
” ہاں بھئی چھوٹے میاں۔ اب کیا خیال ہے تیرا؟” درویش نے سلیم کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ جواب میں وہ خاموشی سے اٹھا اور ایک طرف سر جھکا کر جا بیٹھا۔
“بابا۔ ” چوہدری حسن دین کی آواز پر وہ سب ایک دم چونکی۔
“اگر اجازت ہو تو میں حافظ عبداللہ کے لئے میاں نذرو سے سکینہ بیٹی کا ہاتھ باقاعدہ مانگ لوں۔ “
“تو بھی مانگنا چاہتا ہے چوہدری۔ “
درویش بڑے اچھے موڈ میں تھا۔
” مانگ لے۔ مانگ لے۔ تو بھی نام لکھوا لے۔ جلدی کر۔ “
اور چوہدری حسن دین نے آگے سرک کر اپنی اچکن کا پلہ میاں نذرو کے سامنے پھیلا دیا۔
“میاں۔ اپنی بیٹی میرے حافظ صاحب کے لئے میری جھولی میں ڈال دے یار۔ “
“اس کا اختیار میری بھوجائی کو ہے چوہدری۔ “
میاں نذرو نے تاج بی بی کی طرف اشارہ کر دیا۔
چوہدری نے اس کی طرف رخ کیا تو تاج بی بی نے گردن گھما کر نم آنکھوں سے سلیم کی طرف دیکھا۔
“سلیم پتر۔ تیری بہن کا ہاتھ مانگ رہے ہیں چوہدری صاحب۔ کیا ہاں کر دوں بیٹا؟”
“تائی۔ ” سلیم اٹھ کر آیا اور تاج بی بی سے لپٹ گیا۔ وہ بچوں کی طرح رو رہا تھا۔
“واہ بھئی واہ۔ آج تو یہاں سب ہی اللہ والے اکٹھے ہو گئے۔ “
درویش جھومتے ہوئے بولا۔
” آج تو سب کے اندر دھوئے جا رہے ہیں۔ سب کا میل نکالا جا رہا ہے۔ واہ میرے مالک۔ آج تو کیا دکھانا چاہتا ہے؟”
وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
“میری ایک درخواست ہے چوہدری صاحب۔ “
حافظ عبداللہ نے جھجکتے ہوئے چوہدری حسن دین سے کہا۔
” آپ حکم دیں حافظ صاحب۔ درخواست کیوں کرتے ہیں آپ۔ “
وہ بڑے خلوص سے بولا۔
“اگر یہ بات طے ہو ہی گئی ہے تو میں چاہوں گا کہ نکاح بڑی سادگی اور خاموشی سے ہو۔ کوئی ہلا گلا نہ کیا جائے۔ “
“مگر۔۔۔ ” سلیم نے کہنا چاہا۔
“حافظ صاحب ہمارے سر کے صاحب ہیں سلیم پتر۔ یہ جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی کرو۔ “
میاں نذرو نے سلیم کی جانب دیکھ کر کہا۔
” اگر ہم اسے روایتی شادی کے طور پر کریں گے تو شرعی پابندیوں کا تماشا ضرور بنے گا اور میرا خیال ہے، حافظ صاحب چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔ “
“جی ہاں۔ ” حافظ عبداللہ نے نظر اٹھائی۔
“میرا یہی مطلب تھا۔ “
“تو ٹھیک ہے۔ ” چوہدری حسن دین نے دخل دیا۔
“اگر معاملہ اسی طرح توڑ چڑھنا ہے تو دیر کس بات کی۔ ابھی نکاح پڑھاؤ اور دھی رانی کو وداع کر دو۔ “
“اتنی جلدی اور اس حالت میں ؟”
اب کے تاج بی بی بولی۔
“ارے بہن میری۔ نیک کام میں دیر کی جائے تو شیطان سو سو حیلے رکاوٹیں پیدا کر دیتا ہے۔ یہاں داج وری کا جھگڑا تو ہے کوئی نہیں۔ اللہ کا دیا میرے پاس حافظ صاحب کے لئے سب کچھ موجود ہے۔ میں تو کہتا ہوں بابا شاہ مقیم کی دعاؤں کی چھاؤں میں یہ کام آج ابھی کر کے سرخرو ہو جاؤ۔ “
بابا شاہ مقیم کا نام آیا تو سب کے منہ بند ہو گئے۔ حافظ عبداللہ کے سر پر چوہدری حسن دین نے اپنا پٹکا ڈالا اور سکینہ کا گھونگھٹ نکال کر اس کی ماں کے پاس بٹھا دیا گیا۔ حافظ عبداللہ نے اپنا نکاح خود پڑھایا۔ حق مہر کی ادائیگی اسی وقت چوہدری حسن دین نے اپنی انگلی سے سونے کی انگوٹھی اتار کے کر دی۔ حافظ عبداللہ نے خود سکینہ کو انگوٹھی پہنائی۔
نکاح ہو گیا تو درویش نے مبارک مبارک کا شور مچا دیا۔
“لاؤ بھئی لاؤ۔ مٹھائی لاؤ۔ بابا شاہ مقیم انتظار میں ہو گا۔ چلو چوہدری۔ سب کا منہ میٹھا کراؤ بھئی۔ ” وہ بچوں کی طرح خوش تھا۔ سب سے پہلے اس نے مٹھائی کا ٹکڑا اٹھا کر سکینہ کے منہ سے لگایا۔ پھر حافظ عبداللہ کو برفی کھلائی۔ اس کے بعد ہاتھ چوہدری حسن دین کے آگے پھیلا دیا۔
“لاؤ چوہدری۔ میرا حصہ؟”
“بابا۔ ” چوہدری حسن دین حیرت سے بولا۔
” آپ کا حصہ کیسا؟ یہ سب آپ ہی کا تو ہے۔ “
اس نے مٹھائی کا ٹوکرا درویش کے آگے کر دیا۔
“نہیں بھائی۔ میرا حصہ دیتا ہے تو دے۔ ورنہ میں چلا۔ “
وہ جیسے ناراض ہو گیا۔
چوہدری حسن دین نے جلدی سے ایک بڑا گلاب جامن اٹھا کر درویش کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
“میرے پگلے کا حصہ بھی دے۔ “
اس نے دوسرا ہاتھ آگے کر دیا۔
“پگلا؟”
چوہدری حسن دین کے ساتھ باقی سب بھی حیران ہوئی۔
” وہ کون ہے بابا؟”
“تجھے اس سے کیا کہ وہ کون ہے؟ تو اس کا حصہ دے دے۔ لا جلدی کر۔ “
چوہدری حسن دین نے اس کی ناراضگی کے ڈر سے فوراً ہی دوسرا گلاب جامن اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
درویش ایک دم پلٹا اور یوں تیز تیز قدموں سے مزار کی جانب چل دیا، جیسے وہ ان میں سے کسی کا واقف ہی نہ ہو۔ پھر مزار کے اندر جا کر اس نے دروازہ بند کر لیا۔
سکینہ اور حافظ عبداللہ نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور ان کے سر جھک گئے۔ خاموشی۔ سناٹا۔ چُپ۔ ہر طرف ہُو کا عالم طاری تھا۔ انہیں صرف اپنے اپنے دل دھڑکنے کی صدا سنائی دے رہی تھی اور بس۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: