Ishq Ka Qaaf Novel By Sarfaraz Ahmad Rahi – Episode 14

0
عشق کا قاف از سرفراز احمد راہی – قسط نمبر 14

–**–**–

دن کے گیارہ بجے تھے جب طاہر، ملک بلال اور اس کے چند ملازم بابا شاہ مقیم کے مزار کے باہر پجارو سے اتری۔
اگر دس پندرہ منٹ پہلے آتے تو وہ حافظ عبداللہ، سکینہ اور باقی سب لوگوں سے بھی مل لیتے۔ نکاح کے فوراً بعد جو درویش مزار کے اندر گیا تو پھر باہر نہ آیا۔ وہ کچھ دیر اس کا انتظار کرتے رہے۔
پھر جب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ جلد باہر نہ آئے گا تو باہم مشورے سے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ طے یہ ہوا کہ سب لوگ پہلے نور پور چلیں۔ وہاں چوہدری حسن دین کے ہاں قیام کیا جائے۔ آج کا باقی دن اور آنے والی رات وہاں گزاری جائے۔ اگلے دن وہ سکینہ کو ساتھ لے کر سائیاں والے کو لوٹ جائیں گے۔
دو دن بعد چوہدری حسن دین سکینہ کو باقاعدہ جا کر سائیاں والا سے واپس نور پور لے آئے گا۔
تانگے میں وہ سب لوگ کسی نہ کسی طرح پھنس پھنسا کر بیٹھ گئے اور ایک چھوٹی سی بارات کی شکل میں نور پور کی طرف روانہ ہو گئی۔
برگد تلے بچھی دریاں دیکھ کر ملک بلال نے آنکھوں پر ہاتھ کا چھجا کیا اور ادھر ادھر نظر دوڑائی۔
دونوں کمرے دیکھے۔ کوئی نہ ملا تو وہ سب مزار کی طرف چلے۔
مزار کے باہر رک کر طاہر نے کھسہ اتارا۔ پھر کرتے کی جیب سے رومال نکال کر سر پر باندھا۔ ملک نے اپنی ٹوپی سر پردرست کی۔ ملازموں نے تب تک گاڑی سے اجناس کی دو بوریاں اور مٹھائی کا ٹوکرا اتار لیا تھا۔
مزار کا دروازہ اندر سے بند پا کر وہ رک گئے۔ پھر اس سے پہلے کہ ملک کچھ کہتا، ایک دم دروازہ کھلا اور درویش ان کے سامنے آ گیا۔
” آ گیا پگلے۔ “
اس نے اپنی چمکدار آنکھوں سے طاہر کی جانب دیکھا۔
طاہر، جیسے مسحور ہو گیا۔ اس کی زبان سے کچھ نکلا نہ ہونٹ ہلے۔ وہ تو بُت بنا درویش کی آنکھوں میں گم ہو گیا تھا۔
“بابا۔ ” ملک نے کہنا چاہا۔
” یہ میرے چھوٹے مالک۔۔۔ “
“جانتا ہوں۔ ” درویش نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید بولنے سے روک دیا۔
“تو یہیں رک ابھی۔ اور تو آ جا میرے ساتھ۔ “
اس نے طاہر کا ہاتھ تھام کر اسے اندر کھینچ لیا۔
دروازہ پھر بند ہو گیا۔ ملک اور باقی سب لوگ منہ پھاڑے رہ گئے مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ کچھ کہتا یا اندر جانے کی کوشش کرتا۔
طاہر اپنے حواس سے بیگانہ، کسی بے وزن شے کی طرح درویش کے ساتھ کھنچا چلا جا رہا تھا۔ اس کے دماغ میں ایک ہی لفظ ریت اڑا رہا تھا۔
“پگلے۔ پگلے۔ پگلے۔ “
درویش اسے لئے ہوئے بابا شاہ مقیم کے سرہانے اسی جگہ آ رکا، جہاں حافظ عبداللہ بیٹھا کرتا تھا۔
“بیٹھ جا۔ “
درویش نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
طاہر کسی معمول کی طرح اس کے سامنے دو زانو بیٹھ گیا اور کھوئی کھوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
“بابا کو سلام کر لے۔ “
پیار سے درویش نے کہا تو وہ چونکا۔ حواس میں آ گیا۔ ایک گہرا سانس لے کر اس نے بابا شاہ مقیم کے مزار کی جانب نظر جمائی اور سلام کیا پھر دعا میں محو ہو گیا۔ چند منٹ بعد آمین کہتے ہوئے اس نے ہاتھ چہرے پر پھیرے اور درویش کی جانب متوجہ ہوا جو سر جھکائے، آنکھیں بند کئے جیسے مراقبے میں گم تھا۔
طاہر کا جی چاہا، اس پُرسکون چہرے کو دیکھتا رہی۔ اسے درویش کے چہرے میں عجیب سا سحر دکھائی دے رہا تھا۔ دل کو مٹھی میں لے کر دھیرے دھیرے مسلنے والا سحر۔ جس کی لذت دل کو درد سہنے پر اکسائی۔ رگ و پے میں سرور بن کر تیر جانے والا درد۔ اس کا دل ہولے ہولے جیسے آہیں بھرنے لگا۔ وہ اس کیفیت میں ڈوب جانے کو تھا کہ درویش کی آواز نے اس کی سماعت میں خوشبو اتار دی۔
“عشق کا جام ہونٹوں تک نہیں پہنچا۔ یہی دُکھ لئے پھر تا ہے ناں تو؟”
آہستہ سے درویش نے سر اٹھایا اور آنکھیں کھول دیں۔ طاہران سرخ سرخ ڈوروں سے لبریز آنکھوں کی چمک سے خیرہ ہو گیا۔ اس کے ہونٹ کانپے، آواز نہ نکلی۔ نظر میں غبار سا پھیل گیا۔ درویش کا دمکتا چہرہ اس کی بصارت کے حلقے میں دھندلا گیا۔
“کوئی اَن چھُوا تجھے چاہے، یہی تمنا تجھے کُو بکو خوار کرتی پھرتی ہے ناں اب تک۔ “
“بابا۔ “
بمشکل طاہر کے لبوں سے نکلا اور اس سرگوشی کے بعد وہ بے زبان ہو گیا۔ کوشش کے باوجود کچھ اور نہ کہہ سکا۔ حلق میں اُگتے کانٹوں کا درد پیاس میں شدت پیدا کرتا چلا گیا۔
“پگلا ہے تو۔ “
درویش اس کی آنکھوں میں دیکھے جا رہا تھا۔
” شرط لگا رکھی ہے کہ اس سے عشق کرے گا جو پہلے تجھ سے عشق کرے، جو پہلے تجھے چاہے۔ جس نے تجھ سے پہلے کسی کو نہ چاہا ہو۔ اَن چھوا ہو۔ جس کے خیالوں میں سب سے پہلے تیرا عکس ابھرا ہو۔ تو خود کسی کے لئے ایساکیوں نہیں بن جاتا۔ اَن چھوا۔ سب سے پہلا تصور۔ سب سے پہلا خیال۔ سب سے پہلا عکس۔ “
طاہر بے جان بُت کی طرح سن رہا تھا۔ سمجھ رہا تھا۔ بولنے سے معذور نہیں تھا۔ بولنا نہیں چاہتا تھا۔ صرف سننا چاہتا تھا۔ اس پر ادراک کے در وَا ہو رہے تھے۔ پرت کھل رہے تھے۔ حقیقتیں بے نقاب ہو رہی تھیں۔ اس بے حجابی میں ایک اور ہی لطف تھا۔ ایک اور ہی مزا تھا جو اس کو بے صدا کئے ہوئے تھا۔
“عشق شرطوں سے نہیں کیا جاتا۔ عشق تو اس سے بھی ہو جاتا ہے جو ہر رات کسی نئے مرد کا بستر بنتی ہے مگر جو اس پر عاشق ہوتا ہے، اسے صرف وہ نظر آتی ہے، اس کے گاہک نظر نہیں آتے۔
وہ بستر بھی نظر نہیں آتا جس پر پڑی سلوٹیں شمار نہیں ہو پاتیں۔ اس کے لئے تو وہ اَن چھوئی ہو جاتی ہے۔ عشق، اسے ایسا بینا کرتا ہے کہ اس کے سوا سب کچھ دِکھنا ختم ہو جاتا ہے۔ جانتا ہے کیوں ؟”
درویش رکا۔ طاہر کی آنکھوں میں سوال ابھرا، زبان نہ ہلی۔ تب جواب نے پر کھولے۔
“اس لئے کہ عشق کا پہلا حرف عین، عاشقِ صادق پر نازل ہو جاتا ہے۔ عین، عبادت۔ عشق کا پہلا حرف عین، عبادت سے منور ہے۔ اور عبادت کیا ہے؟ عجز۔ عبودیت۔ عشق کا بندہ عاجز ہو جاتا ہے۔ عجز نہ ہو تو عبادت نہیں ہو سکتی۔ عجز نہ ہوتا تو عشق کا پہلا حرف نہ ہوتا۔ وہ جو سب سے پہلا عشق کرنے والا ہے ناں۔ “
درویش نے شہادت کی انگلی چھت کی طرف اٹھا دی۔
” اس نے جب آدم میں عشق کا عین ودیعت کیا تو ایک ایسی صفت کی شکل میں کیا، جسے اس نے اپنے لئے ممنوع قرار دے دیا۔ عجز۔ عبودیت۔ یہ آدم کے خمیر میں ڈالا۔ خود تکبر کے تخت پر بیٹھا اور استکبار کو آدم کے لئے شجرِ ممنوعہ قرار دے دیا۔
آدم کو بندہ، بنایا۔ اسے عبد کیا۔ اپنا عبد۔ عبداللہ۔ عین، عشق کا پہلا حرف۔ عبد میں عجز ہو گا تو وہ عبادت کے لئے عبودیت کے مرتبے پر فائز ہو گا اور عبادت جب عجز سے عبارت ہوتی ہے تو عشق کا پہلا حرف سمجھ میں آتا ہے پگلے۔ عبادت کر۔ عجز میں ڈوب کر۔ جیسے۔۔۔ “
درویش خاموش ہو گیا۔
طاہر کا سانس سینے میں رک سا گیا۔ بیتابی نے اسے شدت سے جکڑ لیا۔
“کہتے رہئے بابا۔ “
وہ نشے میں ڈوبی آواز میں بولا۔ اس نے پورا زور لگا دیا تب جا کر وہ یہ چند الفاظ کہہ پایا تھا۔ اسے لگا جیسے اس کی طاقت لڑکھڑا رہی ہو۔ بے خود ہو کر اپنا آپ چھوڑ گئی ہو۔
“جیسے۔۔۔ “
درویش نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
” کسی کو چاند کے داغ دکھائی نہ دئیے۔ اپنا عجز یاد رہا۔ چاند کا گرہن نظر نہ آیا۔ اپنی عبادت کے آگے سب کچھ ہیچ لگا۔ یاد آیا کچھ؟”
طاہر کے دماغ میں ریگستان سا جاگا۔ تصور میں امبر اور قمر کے ہیولے ابھرے اور معدوم ہو گئے۔
“ہاں بابا۔ ” وہ شرابیوں کے انداز میں جیسے کسی کنویں کی تہہ سے بولا۔
“یاد آگیا۔ “
“عشق کا پہلا حرف۔ عین عبادت۔ یاد رکھنا۔ عبادت میں عجز لازم ہے۔ عجز نہ ہو تو عبادت نہیں ہوتی۔ عجز نہ ہو تو انسان کو خود پر عبد کے بجائے معبود ہونے کا شبہ ہونے لگتا ہے۔ اپنے آپ کو چاہنا تو اس متکبر کے لئے ہے اور بس۔ کسی اور کے لئے یہ روا نہیں ہے۔
اس نے اپنے نور کو خود چاہا۔ اپنے نور سے عشق کیا۔ اپنے نور کو اپنا حبیب بنایا۔ اپنا محبوب بنایا۔ پھر ساری مخلوق کو اپنے حبیب سے عشق کا حکم دیا۔ کہا، جو مجھے پانا چاہے، وہ میرے حبیب کو چاہے۔ جو اس تک جانا چاہے۔ اسے اس کے حبیب کا منظورِ نظر ہونا پڑتا ہے۔ اس وسیلے کے بغیر وہ ہاتھ نہیں آتا۔۔۔
اور جو اس کی” اپنے آپ کو چاہنے کی صفت ” سے متصف ہونا چاہتا ہے ناں ، اس پر استکبار کا رنگ چڑھنے لگتا ہے۔ تکبر سے جُڑتے ہی انسان مشرک ہو جاتا ہے۔ اور وہ کہتا ہے کہ اس کے ہاں ہر گناہ کی معافی ہے، شرک کی معافی نہیں ہے پگلے۔ “
درویش نے اس کی جانب تنبیہ کے انداز میں انگلی اٹھائی۔
“بابا۔ ” طاہر ساری جان سے لرز کر رہ گیا۔
“ہاں۔ ” درویش نے سر ہلا کر کہا۔
” پگلا بن کر رہ۔ سیانا بننے میں جان کانٹوں پر گھسیٹی جاتی ہے۔ پگلے پن میں معافی مل جاتی ہے۔ آسانی پگلا بن کر رہنے میں ہے۔ سیانا وہ ہے جو چاہے جانے کی خواہش کا اسیر ہو جائے۔ پگلا وہ ہے جو کسی کو چاہنے لگے۔ عبد ہو جائے۔ ایک سیانا حافظ عبداللہ ہے جو چاہا گیا۔ ایک پگلی سکینہ ہے جس نے حافظ عبداللہ سے عشق کر لیا۔ اس کی عبادت میں محو ہو گئی۔ “
“بابا۔ عبد کی عبادت۔۔۔ ؟” طاہر نے حیرت سے کہا۔
“نہ نہ پگلے۔ ” درویش نے کانپ کر کانوں کو چھوا۔
” عبادت تو صرف اس کی ہے جو معبود ہے۔ مگر مجاز میں خدائی بھی تو چھپا رکھی ہے اس نے۔ خود ہی تو کہتا ہے کہ اگر اپنے سوا کسی اور کو سجدہ کرنے کی اجازت دیتا تو عورت اپنے مجازی خدا کو سجدہ کرتی۔ کہتا ہے کہ ماں کو ایک بار محبت سے دیکھنے کا ثواب بیٹے کو ایک حجِ مقبول کے برابر دیتا ہوں۔
عبادت نہیں کی، مگر کی ہے۔ حج نہیں کیا مگر ہو گیا۔ یہ استعارے ہیں۔ تشبیہیں ہیں۔ مثالیں ہیں۔ انہیں اسی طرح لینا چاہئے۔ عجز پیدا ہوتا ہے عبادت کی طرف رغبت سے۔ پگلی سکینہ نے حافظ عبداللہ کے سامنے عاجزی سے اقرار کیا کہ وہ اسے چاہتی ہے۔ سیانا حافظ عبداللہ اکڑ گیا کہ وہ اس کے قابل نہیں ہے۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر اس سیانے کو سمجھایاکہ پگلا بن۔ سیانا نہ بن۔ اللہ کی نعمت کا کفران نہ کر۔
شکر ہے اسے سمجھ آ گئی۔ اب سکینہ کو رغبت کے لئے راستہ مل گیا۔ عبادت میں عجز کے لئے چن لیا اس نے حافظ عبداللہ کو۔ وہ اس کی خدمت کرے گی اور عبادت کا ثواب پائے گی۔ یہ ہے عشق کے عین کی حقیقت۔ “
“بابا۔ ” طاہر کے اندر چراغ سے جل اٹھے۔
“اسی لئے کہتا ہوں تو پگلا ہے۔ “
درویش نے اس کی جانب پیار سے دیکھا۔
“اتنی جلدی پگلے ہی بات سمجھ بھی لیتے ہیں اور مان بھی لیتے ہیں۔ “
“اور عشق کا دوسرا حرف۔۔۔ “
“شین کی بات کر رہا ہے۔ “
درویش ہولے سے ہنسا۔
” ابھی نہیں۔ پہلے عین کو تو دیکھ لے۔ جان لے۔ “
“کیسے بابا؟”
طاہر اتاولے پن سے بولا۔
“صبر پگلے۔ صبر۔ “
درویش نے اس کے گال کو چھوا۔
“دکھائیں گے تجھے۔ چند دن ٹھہر جا۔ ابھی لوٹ جا۔ تیرے گھر میں بھی ایک پگلی ہے۔ ابھی اس کے پاس لوٹ جا۔ تجھے چند دن بعد دکھائیں گے کہ عین کے پرت کیسے کھلتے ہیں ؟”
“تب تک میرا کیا حال ہو جائے گا بابا؟”
طاہر نے درویش کے دونوں ہاتھ تھام کر سینے سے لگا لئے۔ اس کا دل یوں دھک دھک کر رہا تھا جیسے کوئی دھان کوٹ رہا ہو۔
“اچھا ہے۔ “
درویش نے مسکرا کر کہا۔ ایک اطمینان اس کی آنکھوں سے جھلکا۔
“بہت اچھا ہے۔ جوت جگ گئی ہے۔ اسے انتظار کی ہوا دے۔ اس الاؤ کو بھڑکنے دے۔ اس پر ہاتھ تاپ۔ اپنی آگ پر ہاتھ تاپنے کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے پگلے۔ اپنے الاؤ پر ہاتھ تاپ۔ کباب ہونے سے پہلے کی سوندی سوندی خوشبو لے۔ اشتہا کو بڑھنے دے۔ خوب چمک جائے تو بھوک لذت دیتی ہے۔۔۔ لذت۔۔۔ “
درویش نے سسکاری بھر کر آنکھیں بند کر لیں۔
” لذت سے عشق کا شین شروع ہوتا ہے پگلے۔ عشق کا شین۔۔۔ “
درویش ایک سلگتی ہوئی آہ بھر کر خاموش ہو گیا۔
طاہر کے سارے جسم میں پھریریاں سی چکر ا رہی تھیں۔ اسے لگ رہا تھا ابھی کے ابھی اس کے جسم میں پھلجھڑیاں چھوٹنے لگیں گی۔ وہ درویش کے چہرے میں گم ہو کر رہ گیا جہاں زردی چھا گئی تھی۔
سرسوں کے پھولوں جیسی۔ شفق کی ابتدا جیسی۔
کتنی ہی دیر گزر گئی۔ تب آہستہ سے درویش نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کی آنکھوں کی سرخی اور بڑھ گئی تھی۔ طاہر اس سرخی کی لپک کو سہہ نہ سکا اور گھبرا کر نظر ہٹا لی۔
“ارے۔ میں تو بھول ہی گیا۔ “
اچانک درویش کو جیسے کچھ یاد آ گیا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر قبر کے تعویذ پر رکھے دو میں سے ایک گلاب جامن اٹھایا اور ہتھیلی پر رکھ کر ہاتھ طاہر کی جانب دراز کر دیا۔
“لے۔ یہ تیرا حصہ ہے۔ “
طاہر نے بسم اللہ کہہ کر ایک گلاب جامن اٹھا لیا۔
“کھا لے۔ یہ بابے شاہ مقیم کا تبرک ہے جو سکینہ اور حافظ عبداللہ کے ایک ہو جانے کی خوشی میں تیرے لئے آیا رکھا ہے۔ “
طاہر نے آہستہ آہستہ گلاب جامن کھانا شروع کیا۔ اسے لگا، اس نے ایسی لذیذ مٹھائی آج سے پہلے کبھی نہیں کھائی۔ جوں جوں وہ گلاب جامن حلق سے اتارتا گیا، اس کے جسم میں تیرتی بے چینی دم توڑتی چلی گئی۔ اس کے رگ و پے میں ایک سکون اور صبر سا پر پھیلاتا چلا گیا۔
“اور یہ لے۔ اپنی پگلی کے لئے لے جا۔ یہ صرف اسی کو دینا۔ میں اپنا حصہ اسے بھجوا رہا ہوں۔ “
درویش نے دوسرا گلاب جامن ایک کاغذ میں لپیٹ کر اسے تھما دیا۔ طاہر نے سر سے رومال کھولا۔ کاغذ اس میں رکھ کر گانٹھ ماری اور کرتے کی جیب میں ڈال لیا۔
“اب جا۔ باہر وہ بونے تیرا انتظار کر رہے ہیں۔ جا۔ اللہ تیرا اندر آباد رکھے۔ “
درویش نے اس کا شانہ تھپکتے ہوئے کہا۔
طاہر اٹھ کھڑا ہوا۔ قبر کے تعویذ کو پیروں کی طرف سے چھوا۔ درویش کی جانب جھکا تو اس نے ہاتھ اٹھایا اور اسے خم ہونے سے روک دیا۔
“یہ صرف اس کا حق ہے۔ “
چھت کی جانب شہادت کی انگلی اٹھا کر مسکراتے ہوئے وہ بولا۔
” اس کے سوا کسی کے آگے سر جھکانا شرک ہے۔ “
سر اثبات میں ہلاتے ہوئے طاہر ایک دم سیدھا ہو گیا۔
“اللہ حافظ بابا۔ “
اس نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر آنکھیں جھکائیں۔
“اللہ حافظ۔ “
درویش نے ہاتھ کھڑا کیا۔
طاہر الٹے پاؤں باہر نکلا۔ چوکھٹ پر ایک پل کو رکا پھر دروازے پر چلا آیا۔ پٹ کھلے تو باہر بیتابی سے ٹہلتا ملک بلال نظر آیا۔
طاہر نے باہر قدم رکھا۔ مگر نہیں۔ یہ طاہر تو نہیں تھا۔ یہ اس کا چھوٹا مالک تو نہیں تھا۔ یہ تو کوئی اور تھا۔ کوئی اور۔۔۔ جس کے چہرے پر زردی اور آنکھوں میں آگ سی آباد تھی۔ طاہر کا چہرہ ایک عجیب سے جلال کے ہالے میں دمک رہا تھا۔ یہ کیسی زردی تھی جس پر سرخیاں نثار ہو رہی تھیں۔ یہ کیسی آگ تھی، جس میں خنکی کروٹیں لے رہی تھی۔
ملک بے اختیار دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ باقی کے ملازم بھی طاہر کی بدلی ہوئی حالت کو حیرت سے جانچ رہے تھے۔
“ملک۔ تم سب بھی سلام کر لو۔ میں گاڑی میں تم لوگوں کا انتظار کر رہا ہوں۔ “
طاہر کہہ کر پجارو کی طرف بڑھ گیا۔
ملک نے کچھ کہنا چاہا مگر اس کا حوصلہ نہ ہوا۔ آہستہ سے وہ ملازموں کی جانب مڑا۔ پھر انہیں اجناس کی بوریاں اور مٹھائی کا ٹوکرا اٹھا لانے کا کہتے ہوئے وہ مزار کی طرف چل دیا۔ اس کے آہستہ آہستہ اٹھتے ہوئے قدم اس کے کسی سوچ میں ڈوبے ہونے کے غماز تھے اور اس سوچ کا تعلق صرف اور صرف طاہر کی موجودہ حالت سے تھا۔
“کیا بات ہے؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟”
طاہر کمرے میں داخل ہوا تو صفیہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔
“ہاں۔ ” طاہر مسکرایا۔
“کیا ہوا میری طبیعت کو۔ “
“ٹھیک نہیں لگتی۔ ” وہ بیتابی سے اس کا ماتھا چھوتے ہوئے بولی۔
” رنگ دیکھئے کیسا زرد ہو رہا ہے اور جسم بھی تپ رہا ہے۔ “
اس نے اس کے رخسار پر ہاتھ کی پشت رکھ دی۔
“ارے نہیں۔ تمہیں وہم ہو رہا ہے۔ “
طاہر نے لاپروائی سے کہا۔ “میں بالکل ٹھیک ہوں۔ “
” آپ ٹھیک نہیں ہیں۔ “
صفیہ بے قرار ہو رہی تھی۔ اس کی آواز میں فکر عود کر آیا۔
“ٹھہرئیے۔ میں آپ کا ٹمپریچر چیک کرتی ہوں۔ ابھی پتہ چل جائے گا۔ “
وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف لپکی۔ دراز کھولا۔ اس میں سے تھرمو اسٹک نکالی اور واپس اس کی طرف آ گئی۔ طاہر تب تک بیڈ پر بیٹھ چکا تھا۔
صفیہ نے آتے ہی اسٹک اس کے ماتھے پر چپکا دی اور کسی ماہر نرس کی طرح رسٹ واچ پر ٹائم نوٹ کرنے لگی۔ طاہر نے اسے روکنا مناسب نہ سمجھا۔ ایک تو اسے یاد آ گیا کہ بابا نے صفیہ کے بارے میں پگلی کا لفظ استعمال کیا تھا اور دوسرے اسے علم تھا کہ صفیہ اس کے بارے میں کسی قسم کی رو رعایت سے کام نہیں لے گی۔ جب تک اس کا اطمینان نہ ہو جائے وہ اپنا کام جاری رکھے گی۔
“ارے۔ “
ایک منٹ بعد اسٹک ہٹا کر جب اس نے اس پر ٹمپریچر چیک کیا تو حیرت بھری آواز اس کے لبوں سے نکلی۔
“یہ کیا؟”
“کیا ہوا؟” طاہر نے نیم دراز ہوتے ہوئے پوچھا۔
“ٹمپریچر تو نارمل ہے۔ ” وہ سوچ میں ڈوب گئی۔
“مگرجسم اب بھی گرم ہے آپ کا۔ “
اس نے دوبارہ اس کی گردن چھو کر دیکھی۔
“کہہ تو رہا ہوں ، میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے۔ تمہیں وہم ہو رہا ہے۔ “
“ہو سکتا ہے یہ اسٹک خراب ہو گئی ہو۔ “
وہ اب بھی یقین نہ کر رہی تھی۔
” میں بازار سے تھرمامیٹر منگواتی ہوں۔ “
اس نے اسٹک تپائی پر ڈالی اور قالین پر اکڑوں بیٹھ کر طاہر کے پاؤں سے کھسہ اتارنے لگی۔
” آپ آرام سے لیٹ جائیں۔ میں آپ کے لئے کوئی ہلکی سی گولی اور چائے لے کر آتی ہوں۔ “
“پستول کی گولی کے بارے میں کیا خیال ہے؟”
طاہر نے اسے ستانے کے انداز میں کہا۔
تڑپ کر صفیہ نے اس کی جانب دیکھا۔ پھر اس کے لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ پا کر اس کا چہرہ نارمل ہو گیا۔
“میں جانتی ہوں ، آپ مجھے ایسی باتوں سے دُکھ دے کر خوش ہوتے ہیں طاہر۔ لیکن پلیز، کچھ اور کہہ لیا کیجئے۔ مجھے تھپڑ مار لیا کیجئے، اپنے بارے میں ایسی بات نہ کہا کیجئے۔ “
سر جھکا کر وہ اس کی جرابیں اتارتے ہوئے دھیرے سے بولی۔
“میں تو مذاق کر رہا تھا۔ “
طاہر ہنس پڑا۔
“جانتی ہوں۔ “
وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائی۔
” آپ کا مذاق کسی دن میری جان لے لے گا۔ تب آپ کو یقین آئے گا کہ۔۔۔ “
وہ خاموش ہو گئی۔ جرابیں اور کھسہ بیڈ کے نیچے سرکا کر اس نے طاہر کے پاؤں دونوں ہاتھوں سے سہلائے، پھر اس سے پہلے کہ طاہر کچھ سمجھ پاتا اس نے اس کے دونوں پیروں کو باری باری چوم لیا۔
“ارے ارے۔ ” اس نے پاؤں کھینچ لئے۔
” یہ کیا دیوانگی ہے بھئی۔ ” وہ گھبرا گیا۔
“عقیدت ہے یہ۔ ” صفیہ نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا۔
” اس سے آپ مجھے کبھی مت روکئے گا طاہر۔ ” وہ اٹھ گئی۔
“میں آپ کے لئے ڈسپرین اور چائے لاتی ہوں۔ “
“رکو۔ ” طاہر نے اٹھتے ہوئے کہا۔
“اپنا تحفہ تو وصول کر لو۔ “
“یہ کیا ہے؟” طاہر نے جیب سے نکال کر رومال کا گولہ صفیہ کے ہاتھ پر رکھا تو اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
“کھول کر دیکھو۔ ” طاہر نے کہا۔
صفیہ نے رومال کی گانٹھ کھولی۔ اندر سے کاغذ میں لپٹا ہوا خوشبو دیتا گلاب جامن نکلا تو اس نے حیرت سے طاہر کی جانب دیکھا۔
“بابا شاہ مقیم کے دربار کا تبرک ہے۔ وہاں کے درویش بابا نے خاص طور پر تمہارے لئے بھیجا ہے۔ کہہ رہے تھے کہ یہ صرف تمہیں دوں۔ یہ ان کا اپنا حصہ ہے جو انہوں نے تمہارے لئے رکھ چھوڑا تھا۔ “
“بسم اللہ۔ ” صفیہ نے ادب سے آنکھیں بند کر کے کہا۔
” میں قربان اس تحفے کی۔ “
ذرا دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو ان میں نمی سی چمک رہی تھی۔ وہ آگے بڑھی اور قالین پر، طاہر کے قدموں میں گھٹنے موڑ کر بیٹھ گئی۔
“لیجئے۔ ذرا اسے جھوٹا کر دیجئے۔ “
اس نے گلاب جامن انگلیوں میں تھام کر طاہر کے ہونٹوں کی جانب بڑھایا۔
“اوں ہوں۔ ” طاہر نے نفی میں سر ہلایا۔
” میں اپنا حصہ وہاں کھا آیا ہوں۔ “
“جانتی ہوں۔ ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
” مگر میں اپنا حصہ آپ کے بغیر کیسے کھا سکتی ہوں۔ لیجئے۔ ذرا سا ہی لے لیجئے۔ “
“مگر۔۔۔ ” طاہر نے کہنا چاہا۔
“طاہر۔ ” صفیہ نے گلاب جامن اس کے ہونٹوں سے لگا دیا۔
” آپ اسے جھوٹا کر دیں گے تو میرا حصہ مجھ پر حلال ہو جائے گا۔ مجھے حرام کھانے سے بچانا آپ پر فرض ہے یا نہیں ؟”
اور بے اختیار طاہر کے ہونٹ وَا ہو گئی۔ اس نے ذرا سا گلاب جامن دانتوں سے کاٹ لیا۔
“شکریہ۔ ” وہ کھل اٹھی۔ پھر اس نے ہاتھ واپس کھینچا اور بچوں کی طرح گلاب جامن کھاتی ہوئی اٹھ کر چل دی۔
“پگلی۔ ” بے ساختہ طاہر کے دماغ میں درویش بابا کی آواز گونجی۔ اسے بے طرح صفیہ پر پیار آ گیا، جو دروازے سے باہر قدم رکھ چکی تھی۔
اس کے جانے کے بعد طاہر بستر پر دراز ہو گیا اور ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر آنکھیں موند لیں۔ اس کے ذہن میں صبح کے واقعے کی فلم سی چلنے لگی۔ درویش کی ایک ایک بات اسے ازبر تھی۔ راستے بھر بھی وہ خاموش رہا۔ ملک بلال نے ایک دو بار کوئی بات کرنا چاہی مگر جب اس کی طرف سے کوئی خاص توجہ نہ ملی تو وہ بھی خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا۔
حویلی پہنچ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا آیا اور اب بستر پر لیٹا پھر انہی سوچوں میں ڈوب گیا جن سے رستے بھر اس کا دل اور دماغ الجھے رہے تھے۔۔
عشق کا فلسفہ آج ایک عجیب رنگ میں اس پر کھلا تھا۔ عشق کا ہر حرف اپنے اندر کیا وسعت رکھتا تھا، یہ تو اس کے لئے ایک اچنبھا تھا۔
ایک اسرار کا عالم تھا، جس میں اسے درویش نے داخل کر کے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ اب وہ تھا اور درویش کی باتیں۔ ہر ہر بات ہشت پہلو تھی۔ وہ جتنا ان پر غور کرتا گیا، اس کا ذہن فراخ ہوتا چلا گیا۔ سوچوں میں روشنی پھیلتی چلی گئی۔ حیرت کا ایک جہان تھا، جو اس کے لئے اپنی باہیں پسارے اسے عشق کا مفہوم سمجھانے کے لئے جھوم رہا تھا۔
عین سے عاشقِ صادق۔ عین عجز سے عبادت، عبودیت اور عبد کے بعد اب عین سے عقیدت نے اس کی سوچوں کو اور بہت کچھ عطا کر دیا تھا۔ کہیں امبر اور قمر تھے تو کہیں حافظ عبداللہ اور سکینہ۔ اور کہیں صفیہ اور۔۔۔
صفیہ پر آ کر اس کا دماغ رک گیا۔ صفیہ۔۔۔ جس نے اسے عین عقیدت کا احساس دلایا تھا۔۔۔ اس کے ساتھ طاہر کا نام جوڑا جاتا یا سرمد کا؟ وہ الجھ کر رہ گیا۔ سرمد کے بقول وہ صفیہ کے لئے دنیا تیاگ دینے کا فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔ اور وہ خود صفیہ کو دل کے تخت پر جو مقام دے کر بٹھا چکا تھا، کیا وہ سرمد کے جذبے سے کمتر نہیں تھا؟
اس کے لئے کوئی نتیجہ اخذ کرنا مشکل ہو گیا۔ درویش نے صفیہ کو پگلی اور اسے پگلا کہا تھا۔ یعنی ایک پگلی کے لئے ایک سیانا درکار تھا۔ کہیں وہ سیانا سرمد تو نہیں تھا؟وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ لگا جیسے اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے کر مسل دیا ہو۔
اسی وقت صفیہ ایک منی ٹرے میں چائے کا کپ اور ڈسپرین کی گولیاں رکھے اندر داخل ہوئی۔ طاہر نے خود پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو مسکراتے ہوئے اس کے قریب آ چکی تھی۔
“کیا بات ہے طاہر؟”
وہ جیسے اس کے دل تک پہنچ گئی۔
” دل گھبرا رہا ہے تو ڈاکٹر کو بلوا لیں۔ “
اس نے ٹرے تپائی پر رکھی اور اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیا جو برف کی طرح سرد ہو رہا تھا۔
“ارے۔ ” اب بالکل ہی ٹھنڈا ہو گیا آپ کا جسم۔ “
وہ پریشانی سے بولی۔
” یہ ہو کیا رہا ہے؟”
اس نے طاہر کی طرف تشویش سے دیکھا۔
“کچھ نہیں۔ ” طاہر نے سر کو ہلکاسا جھٹکا دیا۔
“تم چائے دو مجھے۔ میرا خیال ہے، ٹھنڈ لگ گئی ہے۔ ابھی ٹھیک ہو جاؤں گا۔ “
اس نے بہانہ بنایا۔
“چائے تو پی لیں آپ۔ “
اس نے کپ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
” مگر میں ڈاکٹر کو بلوا رہی ہوں۔ اسے چیک کر لینے دیجئے۔ “
“کیا ضرورت ہے۔ ” طاہر نے اسے روکا۔
“میں نے کہا ناں ، معمولی ٹھنڈ کا اثر ہے۔ چائے پینے سے دور ہو جائے گا۔ اگر فرق نہ پڑا تو پھر ڈاکٹر کو بلوا لیں گے۔ “
“چلئے۔ یونہی سہی۔ آپ چائے پی کر آرام کریں۔ میں آپ کے لئے یخنی بنواتی ہوں۔ “
صفیہ نے کمبل کھول کر اس کی ٹانگوں پر پھیلا دیا اور اس کی جانب فکر مندی سے دیکھتی ہوئی باہر نکل گئی۔
تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ کمرے میں لوٹی تو طاہر سینے تک کمبل اوڑھے بے خبر سو رہا تھا۔ وہ دبے پاؤں اس کے پاس آئی۔ آہستہ سے اس کا ماتھا چھو کر دیکھا۔ حرارت نارمل محسوس ہوئی تو بے اختیار اس کے لبوں سے ” یا اللہ تیرا شکر ہے” کے الفاظ نکل گئے۔ اس نے لائٹ آف کی اور چائے کا خالی کپ ٹرے میں رکھ کر کمرے سے نکل گئی۔
دروازہ بیحد آہستگی سے بند کر کے جاتی ہوئی صفیہ کب جانتی تھی کہ طاہر اب بھی جاگ رہا تھا اور اسکی محبت نے طاہر کی روح تک میں ایک سرشاری سی بھر دی تھی۔ سرمد کا خیال ایک دم اس کے دل و دماغ سے یوں محو ہو گیا جیسے اس کا کہیں وجود ہی نہ رہا ہو۔
ایک ہفتہ اور گزر گیا۔
عادل اور زبیدہ کی شادی ہو گئی۔ طاہر اور صفیہ خاص طور پر ان کی شادی میں شریک ہوئے۔ صفیہ بہت خوش تھی۔ گاؤں کی شادی اس نے پہلی بار دیکھی تھی۔ وہاں کے رسم و رواج اس کے لئے جہاں اچنبھے کا باعث تھے، وہیں دلچسپی بھی رکھتے تھے۔
زبیدہ کی رخصتی تک وہ دونوں ماسٹر محسن کے ہاں موجود رہے۔ پھر جب وہ اپنے ماں باپ، بھائی اور سہیلیوں کو آنسوؤں کے حوالے کر کے بلکتی ہوئی پیا کے گھر کو سدھار گئی تو اداس اداس صفیہ نم آنکھیں لئے طاہر کے ساتھ حویلی لوٹ آئی۔
رات وہ کتنی ہی دیر تک جاگتی رہی۔ اس کا جی چاہا وسیلہ خاتون سے بات کری۔ وقت دیکھا تو رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ وہ اس وقت سو گئی ہوں گی، اس نے سوچا۔ پھر صبح ان سے بات کرنے کا خیال دل میں لئے وہ سو گئی، طاہر آنکھیں موندے نجانے کیاسوچ رہا تھا۔
صبح اٹھ کر اس نے سب سے پہلے وسیلہ خاتون کو فون کیا۔ وہ اس کی طرف سے فکرمند تھیں۔ جب اس نے انہیں اپنے بارے میں خیریت کا بتایا تو ان کی جان میں جان آئی۔ دوپہر کے قریب بیگم صاحبہ کا فون آ گیا۔ وہ اعجاز اور ڈاکٹر ہاشمی اس وقت مدینہ منورہ میں تھے اور خوش تھی۔
طاہر نے ان کی واپسی کا جان بوجھ کر نہ پوچھا۔ ایسی مقدس جگہ سے لوٹ آنے کو کس کا جی چاہتا ہے؟ وہ ان سے واپسی کا پوچھ کر گستاخی کا مرتکب نہ ہونا چاہتا تھا۔ صفیہ اور طاہر کو بہت سی دعائیں دے کر انہوں نے فون بند کیا تو صفیہ کے ساتھ ساتھ طاہر کا موڈ بھی بہت اچھا ہو چکا تھا۔
“طاہر۔ آپ بتا رہے تھے کہ آپ کو پھر بابا شاہ مقیم کے مزار پر جانا ہے۔ “
وہ موبائل تپائی پر ڈالتے ہوئے بولی۔
“ہاں۔ جانا تو ہے مگر کل۔ “
دن کا حساب لگاتے ہوئے اس نے بتایا۔
“میں بھی آپ کے ساتھ چلوں ؟” وہ اشتیاق سے بولی۔
“تم؟” وہ سوچ میں پڑ گیا۔
“کیوں ؟ کیا کوئی دقت ہے؟”
اسے غور سے دیکھتے ہوئے صفیہ نے پوچھا۔
“نہیں۔ دقت کوئی نہیں۔ “
طاہر نے صاف گوئی سے کہا۔
“دراصل بابا نے مجھے اکیلے آنے کو کہا تھا۔ “
“اچھا اچھا۔ ” وہ مطمئن ہو گئی۔
“تو اس میں اتنا سوچنے کی کیا بات ہے۔ آپ اکیلے چلے جائیں مگر لوٹ جلدی آئیے گا۔ پھر ٹھنڈ نہ لگوا بیٹھئے گا۔ “
“تمہیں برا تو نہیں لگا؟”
طاہر نے اس کی جانب دیکھا۔
“اری۔ ” وہ ہنسی۔
” برا کیوں لگے گا۔ آپ نے کہہ دیا، میں نے مان لیا۔ بس۔ “
طاہر کے دل میں ہوک سی اٹھی۔ اتنا عجز۔ اتنی فرمانبرداری۔ اتنا خلوص۔ وہ اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتا رہ گیا۔
اسی وقت موبائل بول پڑا۔ طاہر نے جیب سے سیٹ نکالا اور سکرین پر امبر کا نمبر دیکھ کر جلدی سے بٹن دبا دیا۔
“ہیلو سر۔ مارننگ۔ میں بول رہی ہوں امبر۔ “
دوسری طرف سے وہ چہکی۔
“مارننگ۔ مارننگ۔ ” طاہر ہنسا۔
“کیا حال ہے لیڈی ؟”
“بالکل ٹھیک سر۔ آپ سنائیے۔ کیسی گزر رہی ہیں چھٹیاں ؟”
“فسٹ کلاس۔ “
وہ صفیہ کی جانب دیکھ کر بولا جو اس کے قریب کھڑی اشارے سے پوچھ رہی تھی کہ کس کا فون ہے۔
“امبر کا فون ہے۔ ” طاہر نے ہولے سے بتایا۔
“اچھا اچھا۔ “
صفیہ بھی مسکرائی اور اس کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ کر سر اس کے سر کے ساتھ جوڑ لیا۔ اب وہ بھی امبر کی باتیں سن سکتی تھی۔
“کیسا جا رہا ہے آفس؟” طاہر نے پوچھا۔
“میں نے آپ کو کسی قسم کی رپورٹ دینے کے لئے فون نہیں کیا سر۔ “
امبر نے خوش گفتاری سے کہا۔
” آپ کی رپورٹ لینے کے لئے کیا ہے۔ “
” وہ تو میں نے بتا دیا لیڈی۔ “
طاہر پھر ہنسا۔ امبر سے بات کرتے ہوئے اس کے ذہن میں درویش کا اس کے بارے میں “پگلی ” کا لفظ گونج رہا تھا۔ وہ اسی تناظر میں اسے دیکھ اور سن رہا تھا۔
“تم سناؤ۔ تمہارے پروفیسر صاحب کیسے ہیں ؟”
“بالکل ٹھیک سر۔ THE POROUD کے معاملات میں میرا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ “
“مفت کام نہ لیتی رہنا ان سے۔ گھر کے مرغے کو دال برابر سمجھو گی تو یہ ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ “
“اس کی آپ فکر نہ کریں سر۔ “
امبر اس کے کمنٹ پر ہنس ہنس کر بے حال ہو گئی۔
” آپ کی اس بات پر میں آپ کی چھٹی مزید کتنی ایکسٹنڈ کر دوں ؟”
“ابھی پہلی چھٹی ختم ہونے میں تین دن باقی ہیں بھئی۔ ” طاہر نے جلدی سے کہا۔
“اسی لئے تو کہہ رہی ہوں سر کہ آج میرا موڈ بہت اچھا ہے، فائدہ اٹھا لیجئے۔ “
“تو پھر یہ بھی تم پر رہا کہ تم ہمیں اور کتنی چھٹی دے سکتی ہو۔ ” طاہر شگفتگی سے بولا۔
“اگر میری مرضی پر بات ٹھہری ہے تو سر، آپ جب جی چاہے لوٹئے گا۔ آپ کے لئے کھلی آفر ہے۔ “
“واقعی؟” طاہر نے حیرت سے پوچھا۔
“یس سر۔ جب جی چاہے آئیے گا۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ “
“مگر امبر۔۔۔ “
“پروفیسر صاحب کو کالج سے تین ماہ کی چھٹی مل گئی ہے سر۔ اب میرے پاس وقت ہی وقت ہے۔ “
“اوہ۔ تو یہ بات ہے۔ میں بھی کہوں اتنی نوازش کا سبب کیا ہے؟”
“شکریہ امبر۔ ” اچانک بیچ میں صفیہ بول پڑی۔
” آپ نے بہت اچھا کیا جو انہیں مزید کچھ عرصے کے لئے ٹینشن فری کر دیا۔ “
“ارے۔ آپ بھی وہیں ہیں صفیہ جی۔ “
امبر کا موڈ اور خوشگوار ہو گیا۔
“بہرحال میں نے اکیلے سر کو نہیں ، آپ کو بھی ان کے ساتھ مزید انجوائے کرنے کا وقت دیا ہے۔ “
اور صفیہ نے جھینپ کر سر پیچھے ہٹا لیا۔
“اوکے۔ آلویز بی ہیپی اینڈ بائی۔ “
امبر نے ہنستے ہوئے رابطہ ختم کر دیا۔
طاہر نے موبائل جیب میں ڈالا اور انگڑائی لی۔ ایک نظر اس کی جانب دیکھا اور دروازے کی جانب چل پڑا۔
“میں ڈیرے پر جا رہا ہوں۔ دوپہر کا کھانا وہیں کھاؤں گا۔ ” کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔
صبح کے نو بجے تھے جب مقررہ دن طاہر اکیلا ہی پجارو میں بابا شاہ مقیم کے مزار پر جا پہنچا۔ اس نے ملک یا کسی اور ملازم کو ساتھ نہ لیا۔ ہاں ملک بلال کو اتنا بتا دیا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ ساتھ ہی منع کر دیا کہ کوئی اس کے پیچھے نہ آئے۔
درویش اسے مزار کے باہر ہی مل گیا۔ وہ گاڑی سے اترا اور اس کے پاس چلا آیا۔
” آ گیا پگلے۔ “
وہ اسے دیکھ کر معصومیت سے مسکرایا۔
“جی بابا۔ ” اس نے ادب سے جواب دیا۔
“چلیں ؟” درویش نے پوچھا۔
“ضرور بابا۔ “
یہ پوچھنے کو اس کا جی ہی نہ چاہا کہ کہاں جانا ہے؟
“مگر۔۔۔ ” اس نے مزار کی طرف دیکھا۔
“سلام کرنا چاہتا ہے؟” درویش مسکرایا۔
” بابا شاہ مقیم وہاں۔۔۔ ” درویش نے مزار کی جانب اشارہ کیا۔
” اندر موجود نہیں ہے۔ کہیں گیا ہوا ہے۔ اینٹ روڑوں کو سلام کرنا ہے تو یہیں سے کر لے۔ کیا خیال ہے؟ ” وہ ہنسا۔
” آ جا۔ چلیں۔ “
اور وہ سر جھکائے اس کے ساتھ چل پڑا۔ ان کا رخ نور پور گاؤں کی جانب تھا۔
گاؤں میں داخل ہوئے تو جگہ جگہ لوگوں نے درویش کو سلام کیا۔ وہ جواب دیتا ہوا، طاہر کو ساتھ لئے نور پور کی اکلوتی مسجد پر چلا آیا۔ مسجد کا دروازہ بھڑا ہوا تھا۔
درویش نے دروازہ کھول دیا۔ دونوں اندر داخل ہوئے۔ اب وہ جہاں کھڑے تھے وہ ڈیوڑھی نما جگہ تھی جو نمازیوں کے جوتیاں اتارنے کے لئے تھی۔ اس کے بعد سامنے مسجد کا صحن اور اس کے بعد مسجد کی عمارت۔ صحن میں دائیں ہاتھ وضو خانہ بنا ہوا تھا۔ جس کے آخر پر طہارت خانے کے بعد چھوٹی سی کھوئی کے اوپر چرخی اور اس میں رسی سے بندھا چمڑے کا ڈول دکھائی دے رہا تھا۔
بائیں ہاتھ حافظ عبداللہ کا حجرہ تھا، جس کی دیوار آگے کی جانب مسجد کے ساتھ جا ملی تھی۔ حجرے کی مسجد کے صحن میں کھلنے والی کھڑکی کے پٹ وَا تھے۔
“پگلے۔ “
درویش نے اپنے دائیں ہاتھ کھڑے طاہر کی طرف دیکھا۔
” عشق کے عین کا نظارہ کرنے کے لئے تیار ہو جا۔ “
طاہر کا دل زور سے دھڑکا اور رگوں میں خون کی گردش تیز ہو گئی۔ نجانے اس کے سامنے کیا آنے والا تھا۔ درویش نے قدم آگے بڑھایا اور کھلی کھڑکی کے قریب جا کھڑا ہوا۔ طاہر اس کے ساتھ تھا۔
اندر کا منظر دیکھ کر طاہر کو پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا۔ پھر نجانے کیوں اسے لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔ ایسا خواب جو دھند بن کر اس کی آنکھوں میں غبار اڑا رہا ہے۔ چمکیلا، رگوں میں سنسناہٹ دوڑاتا، دماغ کے بند دریچوں کو پُر شور آواز کے ساتھ کھولتا ہوا خواب۔
دلہن کے لباس میں ملبوس جواں سال خوبصورت گوری چٹی سکینہ، اپنے سامنے چٹائی پر بیٹھے باریش، سانولے اور واجبی سی شکل کے حامل حافظ عبداللہ کو اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرا رہی تھی۔ وہ روٹی کا لقمہ توڑتی۔ اسے سالن لگاتی اور حافظ عبداللہ کے ہونٹوں کی طرف بڑھا دیتی۔
بچوں کی طرح حافظ عبداللہ منہ کھول کر لقمہ لے لیتا۔ پھر وہ گود میں پڑے اپنے لنجے ہاتھ سے ہونٹ صاف کرنا چاہتا تو وہ بڑی نرمی سے اسے روک دیتی۔ پھر اپنے گوٹے کناری سے سجے سرخ دوپٹے کے پلو سے اس کے ہونٹوں کو ارد گرد سے صاف کرتی۔ طاہر نے صاف دیکھا کہ حافظ عبداللہ کی آنکھوں میں شبنم لبالب تھی۔ لگتا تھا وہ کسی وقت بھی چھلک پڑے گا۔ نجانے کیوں ؟
طاہر کو لگا جیسے اس کے سامنے جنت کے باسیوں کا کوئی منظر چل رہا ہو۔ ایک حور اپنے مالک کی خدمت کر رہی تھی۔
“یہ ہے عشق کا عین پگلے۔ عبادت، عجز، عقیدت۔ ” درویش کی بیحد آہستہ سی آواز نے طاہر کو ہوش و حواس کی دنیا میں کھینچ لیا۔
” وہ پگلی ایسا کیوں کر رہی ہے اور وہ سیانا کیوں اندر سے بلک رہا ہے؟ آ۔ تجھے عین کے ہجے کر کے بتاؤں۔ “
کھڑکی سے ہٹ کر وہ حجرے کے دروازے پر آ گئے۔ درویش نے ایک پل کو کچھ سوچا پھر آہستہ سے دستک دی۔
“کون؟” اندر سے حافظ عبداللہ کی آواز ابھری۔
“اللہ والیا۔ تیرے ہاں مہمان آیا ہے۔ “
درویش نے جواب میں کہا اور کوئی جیسے بڑی جلدی میں اٹھ کر دروازے کی طرف لپکا۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور درویش کے پیچھے کھڑے طاہر نے دیکھا، ان کے سامنے حافظ عبداللہ حیران حیران کھڑا تھا۔ پھر اس نے جلدی سے اپنی آستین سے آنکھیں خشک کر ڈالیں۔
“ارے بابا آپ۔۔۔ “
اسے جیسے یقین نہ آ رہا تھا۔ نظر طاہر پر پڑی تو وہ اور کھل گیا۔
” آئیے ناں بابا۔ آئیے۔ آپ بھی آئیے جی۔ باہر کیوں کھڑے ہیں۔ “
وہ انہیں راستہ دیتا ہوا ایک طرف ہٹ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: